حدیث نمبر: 21368
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ ، حَدَّثَنَا شَهْرٌ ، حَدَّثَنِي ابْنُ غَنْمٍ ، أَنَّ أَبَا ذَرّ حَدَّثَهُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ : يَا عَبْدِي ، مَا عَبَدْتَنِي وَرَجَوْتَنِي ، فَإِنِّي غَافِرٌ لَكَ عَلَى مَا كَانَ فِيكَ ، وَيَا عَبْدِي إِنْ لَقِيتَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطِيئَةً ، مَا لَمْ تُشْرِكْ بِي ، لَقِيتُكَ بِقُرَابِهَا مَغْفِرَةً " .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21368
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، م: 2687، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 21369
. 20790 وَقَالَ أَبُو ذَرٍّ " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ : يَا عِبَادِي ، كُلُّكُمْ مُذْنِبٌ إِلَّا مَنْ أَنَا عَافَيْتُهُ " فَذَكَرَ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " ذَلِكَ بِأَنِّي جَوَادٌ وَاجِدٌ مَاجِدٌ ، إِنَّمَا عَطَائِي كَلَامٌ ".
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21369
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح مرفوعا، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر، وهو هنا موقوف
حدیث نمبر: 21370
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَامَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَكَلَتْنَا الضَّبُعُ يَعْنِي السَّنَةَ ، قَالَ : " غَيْرُ ذَلِكَ أَخْوَفُ لِي عَلَيْكُمْ الدُّنْيَا إِذَا صُبَّتْ عَلَيْكُمْ صَبًّا ، فَيَا لَيْتَ أُمَّتِي لَا يَلْبَسُونَ الذَّهَبَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک سخت طبیعت دیہاتی آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! ہمیں تو قحط سالی کھاجائے گی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے تمہارے متعلق ایک دوسری چیز کا اندیشہ ہے جب تم پر دنیا کو انڈیل دیا جائے گا کاش ! اس وقت میری امت سونے کا زیور نہ پہنے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21370
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد
حدیث نمبر: 21371
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أيوَب السَّخْتِياني ، وَخَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، كِلَاهُمَا ذَكَرَهُ خَالِدٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ ، وَأَيُّوبُ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّ أَبَا ذَرٍّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَجْنَبَ فَدَعَا لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ ، فَاسْتَتَرَ وَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ قَالَ لَهُ : " إِنَّ الصَّعِيدَ الطَّيِّبَ وَضُوءُ الْمُسْلِمِ وَإِنْ لَمْ يَجِدْ الْمَاءَ عَشْرَ سِنِينَ ، وَإِذَا وَجَدَ الْمَاءَ فَلْيُمِسَّهُ بَشَرَتَهُ ، فَإِنَّ ذَلِكَ هُوَ خَيْرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان پر غسل واجب ہوگیا وہ اسی حال میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے پانی منگوایا انہوں نے پردے کے پیچھے غسل کیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا پاک مٹی مسلمان کے لئے وضو ہے اگرچہ اس دس سال تک پانی نہ ملے جب پانی مل جائے تو اسے جسم پر بہا لے کہ یہ اس کے حق میں بہتر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21371
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21372
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ الْأَسْوَدُ ، قَالَ مُؤَمَّلٌ ، وَكَانَ رَجُلًا صَالِحًا ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الصِّدِّيقِ يُحَدِّثُ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّكُمْ فِي زَمَانٍ عُلَمَاؤُهُ كَثِيرٌ خُطَبَاؤُهُ قَلِيلٌ ، مَنْ تَرَكَ فِيهِ عُشَيْرَ مَا يَعْلَمُ هَوَى ، أَوْ قَالَ هَلَكَ ، وَسَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَقِلُّ عُلَمَاؤُهُ وَيَكْثُرُ خُطَبَاؤُهُ ، مَنْ تَمَسَّكَ فِيهِ بِعُشَيْرِ مَا يَعْلَمُ نَجَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم لوگ ایک ایسے زمانے میں ہو جس میں علماء کثیر تعداد میں ہیں اور خطباء بہت کم ہیں جو شخص اس زمانے میں اپنے علم کے دسویں حصے پر بھی عمل چھوڑے گا وہ ہلاک ہوجائے گا اور عنقریب لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا جس میں علماء کم اور خطباء زیادہ ہوجائیں گے اس زمانے میں جو شخص اپنے علم کے دسویں حصے پر بھی عمل کرلے گا وہ نجات پاجائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21372
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، مؤمل سيئ الحفظ، والراوي عن أبى ذر مبهم
حدیث نمبر: 21373
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْأَشْتَرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ ذَرٍّ ، قَالَتْ : لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا ذَرٍّ الْوَفَاةُ ، قَالَتْ : بَكَيْتُ ، فَقَالَ : مَا يُبْكِيكِ ؟ قَالَتْ : وَمَا لِي لَا أَبْكِي وَأَنْتَ تَمُوتُ بِفَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ وَلَا يَدَ لِي بِدَفْنِكَ ، وَلَيْسَ عِنْدِي ثَوْبٌ يَسَعُكَ فَأُكَفِّنَكَ فِيهِ ، قَالَ : فَلَا تَبْكِي وَأَبْشِرِي ، فإني سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا يَمُوتُ بَيْنَ امْرَأَيْنِ مُسْلِمَيْنِ وَلَدَانِ ، أَوْ ثَلَاثَةٌ فَيَصْبِرَانِ وَيَحْتَسِبَانِ فَيَرِدَانِ النَّارَ أَبَدًا " ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَيَمُوتَنَّ رَجُلٌ مِنْكُمْ بِفَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ يَشْهَدُهُ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ " وَلَيْسَ مِنْ أُولَئِكَ النَّفَرِ أَحَدٌ إِلَّا وَقَدْ مَاتَ فِي قَرْيَةٍ أَوْ جَمَاعَةٍ ، وَإِنِّي أَنَا الَّذِي أَمُوتُ بِفَلَاةٍ ، وَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو میں رونے لگی انہوں نے پوچھا کہ کیوں روتی ہو ؟ میں نے کہا روؤں کیوں نہ ؟ جبکہ آپ ایک جنگل میں اس طرح جان دے رہے ہیں کہ میرے پاس آپ کو دفن کرنے کا بھی کوئی سبب نہیں ہے اور نہ ہی اتنا کپڑا ہے جس میں آپ کو کفن دے سکوں، انہوں نے فرمایا تم مت رو اور خوشخبری سنو کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو آدمی دو یا تین مسلمان بچوں کے درمیان فوت ہوتا ہے اور وہ ثواب کی نیت سے اپنے بچوں کی وفات پر صبر کرتا ہے تو وہ جہنم کی آگ کبھی نہیں دیکھے گا۔ اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے ایک آدمی ضرور کسی جنگل میں فوت ہوگا جس کے پاس مؤمنین کی ایک جماعت حاضر ہوگی اب ان لوگوں میں سے تو ہر ایک کا انتقال کسی نہ کسی شہر یا جماعت میں ہوا ہے اور میں ہی وہ آدمی ہوں جو جنگل میں فوت ہو رہا ہے واللہ نہ میں جھوٹ بول رہا ہوں اور نہ مجھ سے جھوٹ بولا گیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21373
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 21374
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ نُعَيْمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ الْغِفَارِيَّ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ بِالْفُسْطَاطِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ تَقَرَّبَ إِلَى اللَّهِ شِبْرًا ، تَقَرَّبَ إِلَيْهِ ذِرَاعًا ، وَمَنْ تَقَرَّبَ إِلَى اللَّهِ ذِرَاعًا ، تَقَرَّبَ إِلَيْهِ بَاعًا ، وَمَنْ أَقْبَلَ عَلَى اللَّهِ مَاشِيًا ، أَقْبَلَ اللَّهُ إِلَيْهِ مُهَرْوِلًا ، وَاللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ ، وَاللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ ، وَاللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شخص ایک بالشت کے برابر میرے قریب آتا ہے میں ایک ہاتھ کے برابر اس کے قریب آتا ہوں اور جو ایک ہاتھ کے برابر قریب آتا ہے میں ایک گز اس کے قریب ہوجاتا ہوں اور جو میری طرف چل کر آتا ہے میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں اور اللہ تعالیٰ بزرگ و برتر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21374
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21375
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ الْحِمْصِيِّ ، عَنْ أَبِي طَالِبٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ زَنَّى أَمَةً لَمْ يَرَهَا تَزْنِي ، جَلَدَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِسَوْطٍ مِنْ نَارٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی باندی پر بدکاری کا الزام لگائے جسے اس نے خود بدکاری کرتے ہوئے نہ دیکھا ہو تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے آگ کے کوڑے مارے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21375
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، الحمصي وأبو طالب مجهولان
حدیث نمبر: 21376
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُهَاجِرٍ أَبِي الْحَسَنِ ، قَالَ : سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ ، قَالَ : جِئْنَا مِنْ جَنَازَةٍ ، فَمَرَرْنَا بِأَبِي ذَرٍّ ، فَقَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَرَادَ الْمُؤَذِّنُ أَنْ يُؤَذِّنَ لِلظُّهْرِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَبْرِدْ " ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُؤَذِّنَ ، فَقَالَ لَهُ : " أَبْرِدْ " وَالثَّالِثَةَ ، أَكْبَرُ عِلْمِي شُعْبَةُ ، قَالَ لَهُ حَتَّى رَأَيْنَا فَيْءَ التُّلُولِ ، قَالَ : " قَالَ : إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ، فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
زید بن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ کسی جنازے سے واپس آرہے تھے کہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذر ہوا وہ کہنے لگے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے مؤذن نے جب ظہر کی اذان دینا چاہی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا ٹھنڈا کر کے اذان دینا دو تین مرتبہ اسی طرح ہوا حتٰی کہ ہمیں ٹیلوں کا سایہ نظر آنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے اس لئے جب گرمی زیادہ ہو تو نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21376
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 539، م: 616
حدیث نمبر: 21377
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ ، يَقُولُ : " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : الْحَسَنَةُ عَشْرٌ أَوْ أَزِيدُ ، وَالسَّيِّئَةُ وَاحِدَةٌ أَوْ أَغْفِرُهَا ، فَمَنْ لَقِيَنِي ، لَا يُشْرِكُ بِي شَيْئًا ، بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطِيئَةً جَعَلْتُ لَهُ مِثْلَهَا مَغْفِرَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بیان کیا ہے کہ ایک نیکی کا ثواب دس گنا ہے جس میں میں اضافہ بھی کرسکتا ہوں اور ایک گناہ کا بدلہ اس کے برابر ہی ہے اور میں اسے معاف بھی کرسکتا ہوں اور اے ابن آدم ! اگر تو زمین بھر کر گناہوں کے ساتھ مجھ سے ملے لیکن میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو میں زمین بھر کر بخشش کے ساتھ تجھ سے ملوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21377
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، م: 2687
حدیث نمبر: 21378
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : يَقْطَعُ صَلَاةَ الرَّجُلِ إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ آخِرَةِ الرَّحْلِ الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ وَالْكَلْبُ الْأَسْوَدُ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي ذَرٍّ مَا بَالُ الْكَلْبِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْكَلْبِ الْأَحْمَرِ ؟ قَالَ : يَا ابْنَ أَخِي ، سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي ، فَقَالَ : " الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ شَيْطَانٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر انسان کے سامنے کجاوے کا پچھلا حصہ بھی نہ ہو تو اس کی نماز عورت، گدھے یا کالے کتے کے اس کے آگے سے گذرنے پر ٹوٹ جائے گی، راوی نے پوچھا کہ کالے اور سرخ کتے میں کیا فرق ہے ؟ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بھیتجے ! میں نے بھی اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا تھا جیسے تم نے مجھ سے پوچھا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کالا کتا شیطان ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21378
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 510
حدیث نمبر: 21379
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : قَالَ أَبُو ذَرٍّ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَعْمَلَ بِأَعْمَالِهِمْ ؟ قَالَ : " أَنْتَ يَا أَبَا ذَرٍّ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " ، قَالَ : قُلْتُ : فَإِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، يُعِيدُهَا مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! ایک آدمی کسی قوم سے محبت کرتا ہے لیکن ان جیسے اعمال نہیں کرسکتا اس کا کیا حکم ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوذر رضی اللہ عنہ تم جس کے ساتھ محبت کرتے ہو اسی کے ساتھ ہوگے میں نے عرض کیا کہ پھر میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں یہ جملہ انہوں نے ایک دو مرتبہ دہرایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21379
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21380
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الرَّجُلُ يَعْمَلُ الْعَمَلَ فَيَحْمَدُهُ النَّاسُ عَلَيْهِ ، وَيُثْنُونَ عَلَيْهِ بِهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تِلْكَ عَاجِلُ بُشْرَى الْمُؤْمِنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کوئی اچھا کام کرتا ہے لوگ اس کی تعریف وثناء بیان کرنے لگے ہیں (اس کا کیا حکم ہے ؟ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ان سے فرمایا یہ تو مسلمان کے لئے فوری خوشخبری ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21380
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2642
حدیث نمبر: 21381
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عِمْرَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : " أَوْصَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَبَخْتُ قِدْرًا أَنْ أُكْثِرَ مَرَقَتَهَا ، فَإِنَّهُ أَوْسَعُ لِلْجِيرَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ان سے فرمایا اے ابوذر ! جب کھانا پکایا کرو تو شوربہ بڑھا لیا کرو اور اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21381
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2625
حدیث نمبر: 21382
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ دَاوُدَ بْنَ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيْلِيِّ ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : أَتَانِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا نَائِمٌ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ ، فَضَرَبَنِي بِرِجْلِهِ ، فَقَالَ : " أَلَا أَرَاكَ نَائِمًا فِيهِ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، غَلَبَتْنِي عَيْنِي ، قَالَ : " كَيْفَ تَصْنَعُ إِذَا أُخْرِجْتَ مِنْهُ ؟ " قَالَ : آتِي الشَّامَ الْأَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الْمُبَارَكَةَ ، قَالَ : " كَيْفَ تَصْنَعُ إِذَا أُخْرِجْتَ مِنَ الشَّامَ ؟ " قَالَ : أَعُودُ إِلَيْهِ ، قَالَ : " كَيْفَ تَصْنَعُ إِذَا أُخرِجْتَ مِنْهُ " ، قَالَ : مَا أَصْنَعُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَضْرِبُ بِسَيْفِي ؟ ! فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ وَأَقْرَبُ رُشْدًا ؟ تَسْمَعُ وَتُطِيعُ ، وَتَنْسَاقُ لَهُمْ حَيْثُ سَاقُوكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مسجد نبوی میں سو رہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور مجھے پاؤں سے ہلایا اور فرمایا کیا میں تمہیں یہاں سوتا ہوا نہیں دیکھ رہا ؟ میں نے عرض کیا یا نبی اللہ ! میری آنکھ لگ گئی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس وقت کیا کرو گے جب تمہیں یہاں سے نکال دیا جائے گا ؟ میں نے عرض کیا کہ میں ارض مقدس و مبارک شام چلا جاؤں گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور اگر تمہیں وہاں سے بھی نکال دیا گیا تو کیا کرو گے ؟ میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی کرنا کیا ہے میں اپنی تلوار کے ذریعے لڑوں گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں اس سے بہترین طریقہ نہ بتاؤں ؟ تم ان کی بات سننا اور ماننا اور جہاں وہ تمہیں لے جائیں وہاں چلے جانا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21382
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، عم أبى حرب بن أبى الأسود لايعرف
حدیث نمبر: 21383
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنْتُ أَعْرِضُ عَلَيْهِ وَيَعْرِضُ عَلَيَّ فِي السِّكَّةِ ، فَيَمُرُّ بِالسَّجْدَةِ فَيَسْجُدُ ، قَالَ : قُلْتُ : أَتَسْجُدُ فِي السِّكَّةِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ ، يَقُولُ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِي الْأَرْضِ أَوَّلُ ؟ قَالَ : " الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ " قَالَ : قُلْتُ : ثُمَّ أَيٌّ ؟ قَالَ : " ثُمَّ الْمَسْجِدُ الْأَقْصَى " ، قَالَ : قُلْتُ : كَمْ بَيْنَهُمَا ؟ قَالَ : " أَرْبَعُونَ سَنَةً " قَالَ : " ثُمَّ أَيْنَمَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلَاةُ فَصَلِّ فَهُوَ مَسْجِدٌ " ، وَقَدْ قَالَ أَبُو عَوَانَةَ كُنْتُ أَقْرَأُ عَلَيْهِ وَيَقْرَأُ عَلَيَّ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ زمین میں سب سے پہلی مسجد کون سی بنائی گئی ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجد حرام، میں نے پوچھا پھر کون سی ؟ فرمایا مسجد اقصیٰ میں نے پوچھا کہ ان دونوں کے درمیان کتناوفقہ تھا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چالیس سال میں نے پوچھا پھر کون سی مسجد ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تمہیں جہاں بھی نماز مل جائے وہیں پڑھ لو کیونکہ روئے زمین مسجد ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21383
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3366، م: 520
حدیث نمبر: 21384
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ أَبِي ذَرٍّ فَخَرَجَ عَطَاؤُهُ وَمَعَهُ جَارِيَةٌ لَهُ ، فَجَعَلَتْ تَقْضِي حَوَائِجَهُ ، قَالَ : فَفَضَلَ مَعَهَا سَبْعٌ ، قَالَ : فَأَمَرَهَا أَنْ تَشْتَرِيَ بِهِ فُلُوسًا ، قَالَ : قُلْتُ لَهُ : لَوْ ادَّخَرْتَهُ لِحَاجَةٍ تَنُوبُكَ ، أَوْ لِلضَّيْفِ يَنْزِلُ بِكَ ، قَالَ : إِنَّ خَلِيلِي عَهِدَ إِلَيَّ ، " أَنْ أَيُّمَا ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ أُوكِيَ عَلَيْهِ ، فَهُوَ جَمْرٌ عَلَى صَاحِبِهِ حَتَّى يُفْرِغَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن صامت کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے کہ ان کا وظیفہ آگیا ان کے ساتھ ایک باندی تھی جو ان پیسوں سے ان کی ضروریات کا انتظام کرنے لگی اس کے پاس سات سکے بچ گئے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے اسے حکم دیا کہ ان کے پیسے خرید لے (ریزگاری حاصل کرلے) میں نے ان سے عرض کیا کہ اگر آپ ان پیسوں کو بچا کر رکھ لیتے تو کسی ضرورت میں کام آجاتے یا کسی مہمان کے آنے پر کام آجاتے انہوں نے فرمایا کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت کی ہے کہ جو سونا چاندی مہر بند کر کے رکھا جائے وہ اس کے مالک کے حق میں آگ کی چنگاری ہے تاوقتیکہ اسے اللہ کے راستہ میں خرچ نہ کر دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21384
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21385
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ يَحْيَى ، حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ ، وَيَعْلَى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ ذَكْوَانَ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ ، أَنَّ أَبَا ذَرٍّ أَخْبَرَهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَشَدُّ أُمَّتِي لِي حُبًّا قَوْمٌ يَكُونُونَ أَوْ يَخْرُجُونَ بَعْدِي ، يَوَدُّ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ أَعْطَى أَهْلَهُ وَمَالَهُ وَأَنَّهُ رَآنِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت میں مجھ سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے لوگ وہ ہوں گے جو میرے بعد آئیں گے اور ان میں سے ہر ایک کی خواہش ہوگی کہ اپنے اہل خانہ اور سارے مال و دولت کو دے کر کسی طرح وہ مجھے دیکھ لیتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21385
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل الأسدي
حدیث نمبر: 21386
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ الْأَجْلَحِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ أَحْسَنَ مَا غُيِّرَ بِهِ الشَّيْبُ الْحِنَّاءُ وَالْكَتَمُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بالوں کی اس سفیدی کو بدلنے والی سب سے بہترین چیز مہندی اور وسمہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21386
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات، الأجلح ضعيف، وقد توبع
حدیث نمبر: 21387
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ كَنْزٌ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لاحول ولاقوۃ الا باللہ جنت کا ایک خزانہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21387
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21388
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا قُدَامةُ الْعَامِرِيُّ ، عَنْ جَسْرَةَ بِنْتِ دَجَاجَةَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ فَرَدَّدَهَا حَتَّى أَصْبَحَ إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ سورة المائدة آية 118 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز شروع کی اور ساری رات صبح تک ایک ہی آیت رکوع و سجود میں پڑھتے رہے کہ اے اللہ " اگر تو انہیں عذاب میں مبتلا کردے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں معاف کردے تو تو بڑا غالب حکمت والا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21388
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 21389
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کو اپنے وقت پر پڑھ لیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21389
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21390
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ أَوَّلُ ؟ قَالَ : " الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ " ، قَالَ : قُلْتُ : ثُمَّ أَيٌّ ؟ قَالَ : " ثُمَّ الْمَسْجِدُ الْأَقْصَى " ، قَالَ : قُلْتُ : كَمْ بَيْنَهُمَا ؟ قَالَ : " أَرْبَعُونَ سَنَةً ، ثُمَّ أَيْنَمَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلَاةُ فَصَلِّ ، فَهُوَ مَسْجِدٌ " ، حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، فَذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : أَيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِي الْأَرْضِ أَوَّلُ ؟.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ زمین میں سب سے پہلی مسجد کون سی بنائی گئی ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجد حرام، میں نے پوچھا پھر کون سی ؟ فرمایا مسجد اقصیٰ میں نے پوچھا کہ ان دونوں کے درمیان کتنا وفقہ تھا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چالیس سال میں نے پوچھا پھر کون سی مسجد ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تمہیں جہاں بھی نماز مل جائے وہیں پڑھ لو کیونکہ روئے زمین مسجد ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21390
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3366، م: 520
حدیث نمبر: 21391
حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ فَذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: أَيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِي الْأَرْضِ أَوَّلُ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21391
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3366، م: 520
حدیث نمبر: 21392
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي ذَرٍّ لَوْ أَدْرَكْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْتُهُ ، قَالَ : عَنْ أَيِّ شَيْءٍ ؟ قُلْتُ : هَلْ رَأَيْتَ رَبَّكَ ؟ فَقَالَ : قَدْ سَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : " نُورٌ أَنَّى أَرَاهُ " يَعْنِي عَلَى طَرِيقِ الْإِيجَابِ .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ کاش ! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہوتا تو ان سے ایک سوال ہی پوچھ لیتا، انہوں نے فرمایا تم ان سے کیا سوال پوچھتے ؟ انہوں نے کہا کہ میں یہ سوال پوچھتا کہ کیا آپ نے اپنے رب کی زیارت کی ہے ؟ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ سوال تو میں ان سے پوچھ چکا ہوں جس کے جواب میں انہوں نے فرمایا تھا کہ میں نے ایک نور دیکھا ہے، میں اسے کہاں دیکھ سکتا ہوں ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21392
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 178
حدیث نمبر: 21393
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُؤْتَى بِالرَّجُلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيُقَالُ : اعْرِضُوا عَلَيْهِ صِغَارَ ذُنُوبِهِ ، قَالَ : فَتُعْرَضُ عَلَيْهِ وَيُخَبَّأُ عَنْهُ كِبَارُهَا ، فَيُقَالُ : عَمِلْتَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا كَذَا وَكَذَا ، وَهُوَ مُقِرٌّ لَا يُنْكِرُ وَهُوَ مُشْفِقٌ مِنَ الْكِبَارِ ، فَيُقَالُ : أَعْطُوهُ مَكَانَ كُلِّ سَيِّئَةٍ عَمِلَهَا حَسَنَةً " قَالَ : " فَيَقُولُ : إِنَّ لِي ذُنُوبًا مَا أَرَاهَا " ، قَالَ : قَالَ أَبُو ذَرٍّ : فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن ایک آدمی کو لایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ اس کے سامنے اس کے چھوٹے چھوٹے گناہوں کو پیش کرو چنانچہ اس کے سامنے صغیرہ گناہ لائے جائیں گے اور کبیرہ گناہ چھپا لئے جائیں گے اور اس سے کہا جائے گا کہ تم نے فلاں فلاں دن ایسا ایسا کیا تھا ؟ وہ ہر گناہ کا اقرار کرے گا کسی کا بھی انکار نہیں کرے گا اور کبیرہ گناہوں کے خوف سے ڈر رہا ہوگا اس وقت حکم ہوگا کہ ہر گناہ کے بدلے اسے ایک نیکی دے دو وہ کہے گا کہ میرے بہت سے گناہ ایسے ہیں جنہیں ابھی تک میں نے دیکھا ہی نہیں ہے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس بات پر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا ہنستے ہوئے دیکھا کہ دندان مبارک ظاہر ہوگئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21393
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 190
حدیث نمبر: 21394
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَحَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے ابوذر ! کیا میں جنت کے ایک خزانے کی طرف تمہاری رہنمائی نہ کروں ؟ لاحول ولاقوۃ الا باللہ کہا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21394
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: هذا الحديث له اسنادان، اما الاول فصحيح، واما الثاني: فضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 21395
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، انْظُرْ أَرْفَعَ رَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ " ، قَالَ : فَنَظَرْتُ ، فَإِذَا رَجُلٌ عَلَيْهِ حُلَّةٌ ، قَالَ : قُلْتُ : هَذَا ، قَالَ : قَالَ لِي : " انْظُرْ أَوْضَعَ رَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ " قَالَ : فَنَظَرْتُ ، فَإِذَا رَجُلٌ عَلَيْهِ أَخْلَاقٌ ، قَالَ : قُلْتُ هَذَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَهَذَا عِنْدَ اللَّهِ أَخْيَرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ مِلْءِ الْأَرْضِ مِنْ مِثْلِ هَذَا " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ابوذر ! مسجد میں نظر دوڑا کر دیکھو کہ سب سے بلند مرتبہ آدمی کون معلوم ہوتا ہے ؟ میں نے نظر دوڑائی تو ایک آدمی کے جسم پر حلہ دکھائی دیا میں نے اس کی طرف اشارہ کردیا پھر فرمایا کہ اب یہ دیکھو سب سے پست مرتبہ آدمی کون معلوم ہوتا ہے ؟ میں نے نظر دوڑائی تو ایک آدمی کے جسم پر پرانے کپڑے دکھائی دیئے میں نے اس کی طرف اشارہ کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ آدمی قیامت کے دن اللہ کے نزدیک اس پہلے والے آدمی سے اگر زمین بھی بھر جائے تب بھی بہتر ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21395
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21396
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَيَعْلَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، ارْفَعْ رَأْسَكَ ، فَانْظُرْ إِلَى أَرْفَعِ رَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21396
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21397
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَقَالَ : " خَيْرٌ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ قُرَابِ الْأَرْضِ مِثْلَ هَذَا " ، وَكَذَا قَالَ مُعَاوِيَةُ ، عَنْ زَيْدٍ . .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21397
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21398
وحَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ خَرَشَةَ ، فَذَكَرَهُ.
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21398
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21399
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْأَكْثَرُونَ هُمْ الْأَسْفَلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، إِلَّا مَنْ قَالَ : بِالْمَالِ هَكَذَا وَهَكَذَا ، وَهَكَذَا وَهَكَذَا ، وَقَلِيلٌ مَا هُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مال و دولت کی کثرت والے ہی قیامت کے دن ذلیل ہوں گے سوائے اس آدمی کے جو دائیں بائیں خرچ کرے لیکن ایسے لوگ بہت تھوڑے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21399
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1237، م: 94
حدیث نمبر: 21400
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ : سَمِعْتُ أَبَا عِمْرَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ابْنُ أَخِي أَبِي ذَرٍّ ، وَكَانَ أَبُو ذَرٍّ عَمَّهُ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَعْمَلُ الْعَمَلَ يُحِبُّهُ النَّاسُ عَلَيْهِ ؟ قَالَ : " تِلْكَ عَاجِلُ بُشْرَى الْمُؤْمِنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کوئی اچھا کام کرتا ہے لوگ اس کی تعریف وثناء بیان کرنے لگتے ہیں (اس کا کیا حکم ہے ؟ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تو مسلمان کے لئے فوری خوشخبری ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21400
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2642
حدیث نمبر: 21401
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ وَلَا بَقَرٍ وَلَا غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا ، إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْظَمَ مَا كَانَتْ وَأَسْمَنَهُ ، تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا ، وَتَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا ، كُلَّمَا نَفِدَتْ أُخْرَاهَا عَادَتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا ، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جو آدمی بھی مرتے وقت بکریاں اونٹ یا گائے چھوڑ کرجاتا ہے جس کی اس نے زکوٰۃ ادا نہ کی ہو وہ قیامت کے دن پہلے سے زیادہ صحت مند ہو کر آئیں گے اور اسے اپنے کھروں سے روندیں گے اور اپنے سینگوں سے ماریں گے یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کردیا جائے پھر ایک کے بعد دوسرا جانور آتا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21401
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 990
حدیث نمبر: 21402
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ الْكَلْبِ الْأَسْوَدِ الْبَهِيمِ ، فَقَالَ : " شَيْطَانٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہایت کالے کتے کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کالا کتا شیطان ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21402
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 510
حدیث نمبر: 21403
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ مَيْمُونٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوْصِنِي ، قَالَ : " اتَّقِ اللَّهَ حَيْثُمَا كُنْتَ ، وَأَتْبِعْ السَّيِّئَةَ الْحَسَنَةَ تَمْحُهَا ، وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ " ، وَكَانَ حَدَّثَنَا بِهِ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ عَنْ مُعَاذٍ ، ثُمَّ رَجَعَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اللہ سے ڈرو خواہ کہیں بھی ہو، برائی ہوجائے تو اس کے بعد نیکی کرلیا کرو جو اسے مٹا دے اور لوگوں سے اچھے اخلاق کے ساتھ پیش آیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21403
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد منقطع، ميمون بن أبى شبيب لم يسمع من أبى ذر، وقد اختلف على سفيان الثوري
حدیث نمبر: 21404
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ خَرَشَةَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ . ح وَالْمَسْعُودِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ، عَنْ خَرَشَةَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمْ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلَا يُزَكِّيهِمْ ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ هُمْ فَقَدْ خَابُوا وَخَسِرُوا قَالَ : " الْمَنَّانُ ، وَالْمُسْبِلُ ، وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْفَاجِرِ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین قسم کے آدمی ایسے ہوں گے جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات کرے گا نہ انہیں دیکھے اور ان کا تزکیہ کرے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہوگا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ کون لوگ ہیں ؟ یہ تو نقصان اور خسارے میں پڑگئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات تین مرتبہ دہرا کر فرمایا تہبند کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا جھوٹی قسم کھا کر اپنا سامان فروخت کرنے والا اور احسان جتانے والا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21404
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، و إسناداه صحيحان
حدیث نمبر: 21405
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ مُسْهِرٍ ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ : " الْمَنَّانُ بِمَا أَعْطَى ، وَالْمُسْبِلُ إِزَارَهُ ".
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21405
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 106
حدیث نمبر: 21406
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى : وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا سورة يس آية 38 ، قَالَ : " مُسْتَقَرُّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت " سورج اپنے مستقر کی طرف چلتا ہے " کا مطلب پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورج کا مستقر عرش کے نیچے ہے۔ حدیث نمبر (٢١٦٤٤) اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21406
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4803، م: 159
حدیث نمبر: 21407
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهُ : " انْظُرْ ، فَإِنَّكَ لَيْسَ بِخَيْرٍ مِنْ أَحْمَرَ وَلَا أَسْوَدَ إِلَّا أَنْ تَفْضُلَهُ بِتَقْوَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا دیکھو تم کسی سرخ و سیاہ سے بہتر نہیں ہو الاّ یہ کہ تقویٰ میں کسی سے آگے بڑھ جاؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21407
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف الضعف أبى هلال، وبكر لم يسمع من أبى ذر