حدیث نمبر: 21328
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنِي فُلَيْتٌ الْعَامِرِيُّ ، عَنْ جَسْرَةَ الْعَامِرِيَّةِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَقَرَأَ بِآيَةٍ حَتَّى أَصْبَحَ ، يَرْكَعُ بِهَا وَيَسْجُدُ بِهَا إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ سورة المائدة آية 118 ، فَلَمَّا أَصْبَحَ ، قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا زِلْتَ تَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ حَتَّى أَصْبَحْتَ تَرْكَعُ بِهَا وَتَسْجُدُ بِهَا ! قَالَ : " إِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي الشَّفَاعَةَ لِأُمَّتِي فَأَعْطَانِيهَا ، وَهِيَ نَائِلَةٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، لِمَنْ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز شروع کی اور ساری رات صبح تک ایک ہی آیت رکوع و سجود میں پڑھتے رہے کہ اے اللہ " اگر تو انہیں عذاب میں مبتلا کر دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں معاف کر دے تو تو بڑا غالب حکمت والا ہے " جب صبح ہوئی تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ صبح تک ساری رات رکوع و سجود میں مسلسل ایک ہی آیت پڑھتے رہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب سے اپنی امت کے لئے سفارش کا حق مانگا تھا جو اس نے مجھے عطاء کردیا ہے اور ان شاء اللہ یہ ہر اس شخص کو نصیب ہوگی جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21328
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 21329
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا سَالِمٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَفْصَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ . ومَنْصُورٍ ، عَنْ زَيْد بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، أَيُّ جَبَلٍ هَذَا ؟ " قُلْتُ : أُحُدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا يَسُرُّنِي أَنَّهُ لِي ذَهَبًا قِطَعًا أُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَدَعُ مِنْهُ قِيرَاطًا " ، قَالَ : قُلْتُ : قِنْطَارًا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " قِيرَاطًا " قَالَهَا : ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، إِنَّمَا أَقُولُ الَّذِي أَقَلُّ ، وَلَا أَقُولُ الَّذِي هُوَ أَكْثَرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبل احد کی طرف اشارہ کر کے مجھ سے پوچھا ابو ذر ! یہ کون سا پہاڑ ہے ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ احد پہاڑ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ یہ میرے لئے سونے کا بن جائے جس میں سے میں اللہ کی راہ میں خرچ کرتا رہوں اور ایک قیراط بھی چھوڑ دوں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! قنطار ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا ایک قیراط پھر فرمایا ابوذر ! میں تو کم از کم کی بات کر رہا ہوں، زیادہ کی بات ہی نہیں کر رہا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21329
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: هذا الحديث له اسنادان، اما الاول فضعيف لضعف سالم بن ابي حفصة، وسالم بن ابي الجعد حديثه منقطع عن ابي ذر. واما اسناده الثاني فصحيح
حدیث نمبر: 21330
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ ، فَإِنَّ الرَّحْمَةَ تُوَاجِهُهُ ، فَلَا يَمْسَحْ الْحَصَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو رحمت الہٰیہ اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے لہٰذا اسے کنکریوں سے نہیں کھیلنا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21330
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 21331
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " إِيمَانٌ بِاللَّهِ ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " أَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا ، وَأَغْلَاهَا ثَمَنًا " ، قَالَ : فَإِنْ لَمْ أَجِدْ ؟ قَالَ : " تُعِينُ صَانِعًا ، أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ " ، قَالَ فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ ؟ قَالَ : " كُفَّ أَذَاكَ عَنِ النَّاسِ ، فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ تَصَدَّقُ بِهَا عَنْ نَفْسِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے افضل عمل کون سا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سا غلام آزاد کرنا سب سے افضل ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اس کے مالک کے نزدیک سب سے نفیس اور گراں قیمت ہو عرض کیا کہ اگر مجھے ایسا غلام نہ ملے تو ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی ضرورت مند کی مدد کردو یا کسی محتاج کے لئے محنت مزدوری کرلو عرض کیا کہ اگر میں یہ بھی نہ کرسکوں تو ؟ فرمایا لوگوں کو اپنی تکلیف سے محفوظ رکھو کیونکہ یہ بھی ایک صدقہ ہے جو تم اپنی طرف سے دیتے ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21331
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2518، م: 84
حدیث نمبر: 21332
حَدَّثَنَا هَارُونُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ مَوْلَى بَنِي لَيْثٍ يُحَدِّثُنَا فِي مَجْلِسِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَابْنُ الْمُسَيَّبِ جَالِسٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا ذَرٍّ ، يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ ، فَإِنَّ الرَّحْمَةَ تُوَاجِهُهُ ، فَلَا يُحَرِّكْ الْحَصَى " أَوْ " لَا يَمَسَّ الْحَصَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو رحمت الہٰیہ اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے لہٰذا اسے کنکریوں سے نہیں کھیلنا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21332
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 21333
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِي الْأَرْضِ أَوَّلُ ؟ قَالَ : " الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ " قُلْتُ : ثُمَّ أَيٌّ ؟ قَالَ : " ثُمَّ الْمَسْجِدُ الْأَقْصَى " قُلْتُ : كَمْ بَيْنَهُمَا ؟ قَالَ : " أَرْبَعُونَ سَنَةً " قُلْتُ : ثُمَّ أَيٌّ ؟ قَالَ : " ثُمَّ حَيْثُمَا أَدْرَكْتَ الصَّلَاةَ فَصَلِّ ، فَكُلُّهَا مَسْجِدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ زمین میں سب سے پہلی مسجد کون سی بنائی گئی ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجد حرام، میں نے پوچھا پھر کون سی ؟ فرمایا مسجد اقصیٰ میں نے پوچھا کہ ان دونوں کے درمیان کتنا وفقہ تھا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چالیس سال میں نے پوچھا پھر کون سی مسجد ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تمہیں جہاں بھی نماز مل جائے وہیں پڑھ لو کیونکہ روئے زمین مسجد ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21333
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3366، م: 520
حدیث نمبر: 21334
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ سَمِعْنَاهُ مِنَ اثْنَيْنِ وَثَلَاثَةٍ ، حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ ابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ ، قَالَ عُمَرُ مَنْ حَاضِرُنَا يَوْمَ الْقَاحَةِ ؟ فَقَالَ أَبُو ذَرّ : أَنَا " أَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصِيَامِ الْبِيضِ الْغُرِّ ثَلَاثَ عَشْرَةَ ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ " یوم القاحہ " کے موقع پر تم میں سے کون موجود تھا ؟ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں موجود تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو ایام بیض یعنی تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کا روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21334
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف حكيم بن جبير ، وقد توبع، وابن الحوتكية مجهول، وقد اختلف فيه على موسى
حدیث نمبر: 21335
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا اثْنَانِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَة : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَحَكِيمُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " فَأَمَرَهُ بِصِيَامِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روزوں کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کا روزہ رکھنے کا حکم دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21335
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف
حدیث نمبر: 21336
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ السَّائِبِ بْنِ بَرَكَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : كُنْتُ أَمْشِي خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ ؟ " قُلْتُ : بَلَى ، قَالَ : " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل رہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں جنت کے ایک خزانے کے متعلق نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں فرمایا لاحول ولاقوۃ الا باللہ (جنت کا ایک خزانہ ہے )
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21336
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21337
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْأَجْلَحَ ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيْلِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنْ أَحْسَنِ مَا غَيَّرْتُمْ بِهِ الشَّيْبَ الْحِنَّاءَ وَالْكَتَمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بالوں کی اس سفیدی کو بدلنے والی سب سے بہترین چیز مہندی اور وسمہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21337
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات لأجل الأجلح، وقد توبع
حدیث نمبر: 21338
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَحْسَنِ مَا غُيِّرَ بِهِ الشَّيْبُ الْحِنَّاءَ وَالْكَتَمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بالوں کی اس سفیدی کو بدلنے والی سب سے بہترین چیز مہندی اور وسمہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21338
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21339
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ قَعْنَبٍ الرِّيَاحِيِّ ، قَالَ : أَتَيْتُ أَبَا ذَرٍّ ، فَلَمْ أَجِدْهُ ، وَرَأَيْتُ الْمَرْأَةَ فَسَأَلْتُهَا ، فَقَالَتْ : هُوَ ذَاكَ فِي ضَيْعَةٍ لَهُ ، فَجَاءَ يَقُودُ أَوْ يَسُوقُ بَعِيرَيْنِ قَاطِرًا ، أَحَدَهُمَا فِي عَجُزِ صَاحِبِهِ ، فِي عُنُقِ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا قِرْبَةٌ ، فَوَضَعَ الْقِرْبَتَيْنِ ، قُلْتُ : يَا أَبَا ذَرٍّ ، مَا كَانَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَلْقَاهُ مِنْكَ ، وَلَا أَبْغَضَ أَنْ أَلْقَاهُ مِنْكَ ! قَالَ : لِلَّهِ أَبُوكَ ، وَمَا يَجْمَعُ هَذَا ؟ ! قَالَ : قُلْتُ : إِنِّي كُنْتُ وَأَدْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، وَكُنْتُ أَرْجُو فِي لِقَائِكَ أَنْ تُخْبِرَنِي أَنَّ لِي تَوْبَةً وَمَخْرَجًا ، وَكُنْتُ أَخْشَى فِي لِقَائِكَ أَنْ تُخْبِرَنِي أَنَّهُ لَا تَوْبَةَ لِي ! فَقَالَ : أَفِي الْجَاهِلِيَّةِ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، فَقَالَ : عَفَا اللَّهُ عَمَّا سَلَفَ ، ثُمَّ عَاجَ بِرَأْسِهِ إِلَى الْمَرْأَةِ فَأَمَرَ لِي بِطَعَامٍ فَالْتَوَتْ عَلَيْهِ ، ثُمَّ أَمَرَهَا فَالْتَوَتْ عَلَيْهِ ، حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا ، قَالَ : إِيهًا دَعِينَا عَنْكِ ، فَإِنَّكُنَّ لَنْ تَعْدُونَ مَا قَالَ لَنَا : فِيكُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُلْتُ : وَمَا قَالَ لَكُمْ : فِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : " الْمَرْأَةُ ضِلَعٌ ، فَإِنْ تَذْهَبْ تُقَوِّمُهَا تَكْسِرْهَا ، وَإِنْ تَدَعْهَا فَفِيهَا أَوَدٌ وَبُلْغَةٌ " ، فَوَلَّتْ فَجَاءَتْ بِثَرِيدَةٍ كَأَنَّهَا قَطَاةٌ ، فَقَالَ : كُلْ وَلَا أَهُولَنَّكَ ، إِنِّي صَائِمٌ ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي ، فَجَعَلَ يُهَذِّبُ الرُّكُوعَ وَيُخَفِّفُهُ ، وَرَأَيْتُهُ يَتَحَرَّى أَنْ أَشْبَعَ أَوْ أُقَارِبَ ، ثُمَّ جَاءَ فَوَضَعَ يَدَهُ مَعِي ، فَقُلْتُ : إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ! فَقَالَ : مَا لَكَ ؟ فَقُلْتُ : مَنْ كُنْتُ أَخْشَى مِنَ النَّاسِ أَنْ يَكْذِبَنِي ، فَمَا كُنْتُ أَخْشَى أَنْ تَكْذِبَنِي ! قَالَ : لِلَّهِ أَبُوكَ إِنْ كَذَبْتُكَ كِذْبَةً مُنْذُ لَقِيتَنِي ، فَقَالَ : أَلَمْ تُخْبِرْنِي أَنَّكَ صَائِمٌ ، ثُمَّ أَرَاكَ تَأْكُلُ ؟ ! ، قَالَ : بَلَى ، إِنِّي صُمْتُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ هَذَا الشَّهْرِ ، فَوَجَبَ لِي أَجْرُهُ ، وَحَلَّ لِي الطَّعَامُ مَعَكَ .
مولانا ظفر اقبال
نعیم بن قعنب ریاحی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ نہیں ملے میں نے ان کی اہلیہ سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی زمین میں گئے ہیں تھوڑی دیر میں وہ دو اونٹوں کو ہانکتے ہوئے آگئے ان میں سے ایک اونٹ کا لعاب اپنے ساتھی کی سرین پر گر رہا تھا اور ان میں سے ہر ایک کی گردن میں ایک ایک مشکیزہ تھا انہوں نے وہ دونوں مشکیزے اتارے تو میں نے عرض کیا اے ابوذر ! مجھے آپ کی نسبت کسی دوسرے سے ملنے کی محبت تھی اور نہ ہی کسی سے اتنی نفرت تھی جتنی آپ سے ملنے کی تھی انہوں نے فرمایا بھئی ! یہ دونوں چیزیں کیسے جمع ہوسکتی ہیں ؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک بچی کو زندہ درگور کیا تھا مجھے آپ سے ملاقات کرنے میں یہ امید تھی کہ آپ مجھے توبہ اور بچاؤ کا کوئی راستہ بتائیں گے (اس لئے آپ سے ملنے کی خواہش تھی) لیکن آپ سے ملنے میں یہ خطرہ بھی تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہہ دیں کہ میرے لئے توبہ کا کوئی راستہ نہیں ہے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا یہ کام تم سے زمانہ جاہلیت میں ہوا تھا ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! انہوں نے فرمایا اللہ نے گزشتہ سارے گناہ معاف کردیئے ہیں۔ پھر انہوں نے اپنے سر کے اشارے سے اپنی بیوی کو میرے لئے کھانا لانے کا حکم دیا لیکن اس نے توجہ نہ دی انہوں نے دوبارہ اس سے کہا لیکن اس نے اس مرتبہ بھی توجہ نہ دی یہاں تک کہ ان دونوں کی آوازیں بلند ہوگئیں تو حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم سے پیچھے ہی رہو تم لوگ اس حد سے آگے نہیں بڑھ سکتیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے متعلق ہم سے بیان فرما دی تھیں میں نے ان سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے ان کے متعلق کیا فرمایا تھا ؟ انہوں نے یہ فرمان ذکر کیا کہ عورت ٹیڑھی پسلی کی طرح ہے اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو اسے توڑ دو گے اور اگر اسے یونہی چھوڑو گے تو اس ٹیڑھے پن اور بیوقوفی کے ساتھ ہی گذارہ کرنا پڑے گا۔ یہ سن کر وہ واپس چلی گئی اور تھوڑی دیر میں " قطاہ " کی طرح بنا ہوا ثرید لے آئی، حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا کھاؤ اور میری فکر نہ کرنا کیونکہ میں روزے سے ہوں پھر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے وہ اچھے لیکن ہلکے رکوع کرنے لگے میں نے دیکھا کہ وہ مجھے سیراب دیکھنا چاہتے ہیں لیکن تھوڑی ہی دیر بعد وہ آئے اور میرے ساتھ کھانے میں اپنا ہاتھ بھی شامل کرلیا میں نے یہ دیکھ کر " اناللہ " پڑھا انہوں نے پوچھا کیا ہوا ؟ میں نے کہا کہ عام آدمی کے متعلق تو مجھے یہ اندیشہ ہوسکتا تھا کہ وہ مجھ سے غلط بیانی کرسکتا ہے لیکن آپ کے متعلق یہ اندیشہ نہیں تھا انہوں نے فرمایا بخدا ! جب سے تمہاری مجھ سے ملاقات ہوئی ہے میں نے تم سے کوئی جھوٹ نہیں بولا میں نے کہا کہ کیا آپ ہی نے مجھے نہیں بتایا تھا کہ آپ روزے سے ہیں پھر میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ کھا بھی رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! میں نے اس مہینے میں تین روزے رکھ لئے تھے جن کا اجر میرے لئے ثابت ہوچکا اور اب تمہارے ساتھ کھانا میرے لئے حلال ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21339
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات
حدیث نمبر: 21340
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنِ ابْنِ الْأَحْمَسِي ، قَالَ : لَقِيتُ أَبَا ذَرٍّ ، فَقُلْتُ لَهُ : بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ تُحَدِّثُ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَمَا إِنَّهُ لَا تَخَالُنِي أَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا سَمِعْتُهُ مِنْهُ ، فَمَا الَّذِي بَلَغَكَ عَنِّي ؟ قُلْتُ : بَلَغَنِي أَنَّكَ تَقُولُ : " ثَلَاثَةٌ يُحِبُّهُمْ اللَّهُ ، وَثَلَاثَةٌ يَشْنَؤُهُمْ اللَّهُ " قَالَ : قُلْتُ : وَسَمِعْتَهُ ، قُلْتُ : فَمَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يُحِبُّ اللَّهُ ؟ قَالَ : " الرَّجُلُ يَلْقَى الْعَدُوَّ فِي الْفِئَةِ فَيَنْصِبُ لَهُمْ نَحْرَهُ حَتَّى يُقْتَلَ ، أَوْ يُفْتَحَ لِأَصْحَابِهِ ، وَالْقَوْمُ يُسَافِرُونَ فَيَطُولُ سُرَاهُمْ حَتَّى يُحِبُّوا أَنْ يَمَسُّوا الْأَرْضَ ، فَيَنْزِلُونَ فَيَتَنَحَّى أَحَدُهُمْ ، فَيُصَلِّي حَتَّى يُوقِظَهُمْ لِرَحِيلِهِمْ ، وَالرَّجُلُ يَكُونُ لَهُ الْجَارُ يُؤْذِيهِ جِوَارُهُ ، فَيَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُ حَتَّى يُفَرِّقَ بَيْنَهُمَا مَوْتٌ أَوْ ظَعْنٌ " ، قُلْتُ : وَمَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَشْنَؤُهُمْ اللَّهُ ؟ قَالَ : " التَّاجِرُ الْحَلَّافُ أَوْ قَالَ الْبَائِعُ : الْحَلَّافُ ، وَالْبَخِيلُ الْمَنَّانُ ، وَالْفَقِيرُ الْمُخْتَالُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابن احمس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے ملا اور عرض کیا کہ مجھے آپ کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کرتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا تمہارے ذہن میں یہ خیال پیدا نہ ہو کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی نسبت کروں گا جبکہ میں نے وہ بات سنی بھی ہو وہ کون سی حدیث ہے جو تمہیں میرے حوالے سے معلوم ہوئی ہے ؟ میں نے کہا کہ مجھے معلوم ہوا ہے آپ کہتے ہیں کہ تین قسم کے آدمی اللہ کو محبوب ہیں اور تین قسم کے آدمیوں سے اللہ کو نفرت ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! یہ بات میں نے کہی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی بھی ہے میں نے عرض کیا کہ وہ کون لوگ ہیں جن سے اللہ محبت کرتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا ایک تو وہ آدمی جو ایک جماعت کے ساتھ دشمن سے ملے اور ان کے سامنے سینہ سپر ہوجائے یہاں تک کہ شہید ہوجائے یا اس کے ساتھیوں کو فتح مل جائے دوسرے وہ لوگ جو سفر پر روانہ ہوں ان کا سفر طویل ہوجائے اور ان کی خواہش ہو کہ شام کے وقت کسی علاقے میں پڑاؤ کریں، چنانچہ وہ پڑاؤ کریں تو ان میں سے ایک آدمی ایک طرف کو ہو کر نماز پڑھنے لگے یہاں تک کہ کوچ کا وقت آنے پر انہیں جگا دے اور تیسرا وہ آدمی جس کا کوئی ایسا ہمسایہ ہو جس کے پڑوس سے اسے تکلیف ہوتی ہو لیکن وہ اس کی ایذاء رسانی پر صبر کرے تاآنکہ موت آکر انہیں جدا کر دے میں نے پوچھا کہ وہ کون لوگ ہیں جن سے اللہ نفرت کرتا ہے ؟ فرمایا وہ تاجر جو قسمیں کھاتا ہے وہ بخیل جو احسان جتاتا ہے اور وہ فقیر جو تکبر کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21340
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، أبن الأحمس مجهول، وقد اختلف على أبى العلاء فى إسناده
حدیث نمبر: 21341
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : أَتَيْتُ أَبَا ذَرٍّ ، قُلْتُ : مَا بَالُكَ ؟ قَالَ : لِي عَمَلِي ، قُلْتُ : حَدِّثْنِي ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ بَيْنَهُمَا ثَلَاثَةٌ مِنْ أَوْلَادِهِمَا لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ ، إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُمَا " ، قُلْتُ : حَدِّثْنِي ، قَالَ : نَعَمْ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُنْفِقُ مِنْ كُلِّ مَالٍ لَهُ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، إِلَّا اسْتَقْبَلَتْهُ حَجَبَةُ الْجَنَّةِ كُلُّهُمْ يَدْعُوهُ إِلَى مَا عِنْدَهُ " ، قُلْتُ : وَكَيْفَ ذَاكَ ؟ قَالَ : " إِنْ كَانَتْ رِجَالًا فَرَجُلَيْنِ ، وَإِنْ كَانَتْ إِبِلًا فَبَعِيرَيْنِ ، وَإِنْ كَانَتْ بَقَرًا فَبَقَرَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
صعصعہ بن معاویہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے پوچھا کہ آپ کے پاس کون سا مال ہے ؟ انہوں نے فرمایا میرا مال میرے اعمال ہیں میں نے ان سے کوئی حدیث بیان کرنے کی فرمائش کی تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جن دو مسلمان میاں بیوی کے تین نابالغ بچے فوت ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ ان میاں بیوی کی بخشش فرما دے گا۔ میں نے عرض کیا کہ مجھے کوئی اور حدیث سنائیے انہوں نے فرمایا اچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جو مسلمان اپنے ہر مال میں سے دو جوڑے اللہ کے راستہ میں خرچ کرتا ہے تو جنت کے دربان اس کے سامنے آتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک اسے اپنی طرف بلاتا ہے میں نے پوچھا کہ یہ مقام کیسے حاصل ہوسکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا اگر بہت سارے غلام ہوں تو دو غلاموں کو آزاد کر دے اونٹ ہوں تو دو اونٹ دے دے اور اگر گائیں ہوں تو دو گائے دے دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21341
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21342
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَامِتٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي ، فَإِنَّهُ يَسْتُرُهُ إِذَا كَانَ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ آخِرَةِ الرَّحْلِ ، فَإِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ آخِرَةِ الرَّحْلِ ، فَإِنَّهُ يَقْطَعُ صَلَاتَهُ الْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ وَالْكَلْبُ الْأَسْوَدُ " ، قُلْتُ : يَا أَبَا ذَرٍّ ، مَا بَالُ الْكَلْبِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْكَلْبِ الْأَحْمَرِ مِنَ الْكَلْبِ الْأَصْفَرِ ؟ قَالَ : يَا ابْنَ أَخِي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي ، فَقَالَ : " الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ شَيْطَانٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر انسان کے سامنے کجاوے کا پچھلا حصہ بھی نہ ہو تو اس کی نماز عورت، گدھے یا کالے کتے کے اس کے آگے سے گذرنے پر ٹوٹ جائے گی، راوی نے پوچھا کہ کالے اور سرخ کتے میں کیا فرق ہے ؟ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بھیتجے ! میں نے بھی اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا تھا جیسے تم نے مجھ سے پوچھا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کالا کتا شیطان ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21342
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 510
حدیث نمبر: 21343
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَمَّنْ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي أُوتِيتُهَا مِنْ كَنْزٍ ، مِنْ بَيْتٍ تَحْتَ الْعَرْشِ ، وَلَمْ يُؤْتَهُمَا نَبِيٌّ قَبْلِي " يَعْنِي الْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سورت بقرہ کی آخری دو آیتیں مجھے عرش کے نیچے ایک کمرے کے خزانے سے دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21343
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، رجاله ثقات غير الراوي المبهم الذى روي عنه ربعي، وقد اختلف عليه فى تسميته
حدیث نمبر: 21344
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، قَالَ مَنْصُورٌ : عَنْ زَيْدِ بْنِ ظَبْيَانَ ، أَوْ عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُعْطِيتُ خَوَاتِيمَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مِنْ بَيْتِ كَنْزٍ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ ، لَمْ يُعْطَهُنَّ نَبِيٌّ قَبْلِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سورت بقرہ کی آخری دو آیتیں مجھے عرش کے نیچے ایک کمرے کے خزانے سے دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21344
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، راجع ما قبله
حدیث نمبر: 21345
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُعْطِيتُ خَوَاتِيمَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مِنْ بَيْتِ كَنْزٍ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ ، وَلَمْ يُعْطَهُنَّ نَبِيٌّ قَبْلِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سورت بقرہ کی آخری دو آیتیں مجھے عرش کے نیچے ایک کمرے کے خزانے سے دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21345
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، راجع ما قبله
حدیث نمبر: 21346
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ ؟ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل رہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں جنت کے ایک خزانے کے متعلق نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں فرمایا لاحول ولاقوۃ الا باللہ (جنت کا ایک خزانہ ہے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21346
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21347
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرَّةِ الْمَدِينَةِ عِشَاءً وَنَحْنُ نَنْظُرُ إِلَى أُحُدٍ ، فَقَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ " ، قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " مَا أُحِبُّ أَنَّ أُحُدًا ذَاكَ عِنْدِي ذَهَبًا ، أُمْسِي ثَالِثَةً وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ إِلَّا دِينَارًا أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ ، إِلَّا أَنْ أَقُولَ بِهِ فِي عِبَادِ اللَّهِ هَكَذَا " وَحَثَا عَنْ يَمِينِهِ ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ ، وَعَنْ يَسَارِهِ ، قَالَ : ثُمَّ مَشَيْنَا ، فَقَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، إِنَّ الْأَكْثَرِينَ هُمْ الْأَقَلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا " وَحَثَا عَنْ يَمِينِهِ ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ ، وَعَنْ يَسَارِهِ ، قَالَ : ثُمَّ مَشَيْنَا ، فَقَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، كَمَا أَنْتَ حَتَّى آتِيَكَ " ، قَالَ : فَانْطَلَقَ حَتَّى تَوَارَى عَنِّي ، قَالَ : فَسَمِعْتُ لَغَطًا وَصَوْتًا ، قَالَ : فَقُلْتُ : لَعَلَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَضَ لَهُ ، قَالَ : فَهَمَمْتُ أَنْ أَتْبَعَهُ ، ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَهُ : " لَا تَبْرَحْ حَتَّى آتِيَكَ " فَانْتَظَرْتُهُ حَتَّى جَاءَ ، فَذَكَرْتُ لَهُ الَّذِي سَمِعْتُ ، فَقَالَ : " ذَاكَ جِبْرِيلُ أَتَانِي ، فَقَالَ : مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِكَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا ، دَخَلَ الْجَنَّةَ " ، قَالَ : قُلْتُ : وَإِنْ زَنَى ، وَإِنْ سَرَقَ ؟ قَالَ : " وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ میرے لئے احد پہاڑ کو سونے کا بنادیا جائے اور جس دن میں دنیا سے رخصت ہو کر جاؤں تو اس میں سے ایک یا آدھا دینار بھی میرے پاس بچ گیا ہو الاّ یہ کہ میں اسے کسی قرض خواہ کے لئے رکھ لوں بلکہ میری خواہش ہوگی کہ اللہ کے بندوں میں اس طرح تقسیم کر دوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ بھر کر دائیں بائیں اور سامنے کی طرف اشارہ کیا پھر ہم دوبارہ چل پڑے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن بکثرت مال رکھنے والے ہی قلت کا شکار ہوں گے سوائے اس کے جو اس اس طرح خرچ کرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ ہاتھوں سے دائیں بائیں اور سامنے کی طرف اشارہ فرمایا۔ ہم پھر چل پڑے اور ایک جگہ پہنچ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوذر ! تم اس وقت تک یہیں رکے رہو جب تک میں تمہارے پاس واپس نہ آجاؤں یہ کہہ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک طرف کو چل پڑے یہاں تک کہ میری نظروں سے اوجھل ہوگئے تھوڑی دیر بعد میں نے شور کی کچھ آوازیں سنیں میں نے دل میں سوچا کہ کہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی حادثہ پیش نہ آگیا ہو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے جانے کا سوچا تو مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات یاد آگئی کہ میرے آنے تک یہاں سے نہ ہلنا چنانچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرتا رہا یہاں تک کہ وہ واپس تشریف لے آئے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان آوازوں کا ذکر کیا جو میں نے سنی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جبرائیل علیہ السلام تھے جو میرے پاس آئے تھے اور یہ کہا کہ آپ کی امت میں سے جو شخص اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا، ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا کہ اگرچہ وہ بدکاری یا چوری ہی کرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! اگرچہ وہ بدکاری یا چوری ہی کرے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21347
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2388، م: 94
حدیث نمبر: 21348
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : كَانَ يَسْقِي عَلَى حَوْضٍ لَهُ ، فَجَاءَ قَوْمٌ فَقَالَ : أَيُّكُمْ يُورِدُ عَلَى أَبِي ذَرٍّ وَيَحْتَسِبُ شَعَرَاتٍ مِنْ رَأْسِهِ ؟ فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا ، فَجَاءَ الرَّجُلُ فَأَوْرَدَ عَلَيْهِ الْحَوْضَ فَدَقَّهُ ، وَكَانَ أَبُو ذَرٍّ قَائِمًا فَجَلَسَ ، ثُمَّ اضْطَجَعَ ، فَقِيلَ لَهُ : يَا أَبَا ذَرٍّ ، لِمَ جَلَسْتَ ، ثُمَّ اضْطَجَعْتَ ؟ قَالَ : فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَنَا : " إِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ قَائِمٌ فَلْيَجْلِسْ ، فَإِنْ ذَهَبَ عَنْهُ الْغَضَبُ وَإِلَّا فَلْيَضْطَجِعْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ اپنے ایک حوض پر پانی پی رہے تھے کہ کچھ لوگ آئے اور ان میں سے ایک آدمی کہنے لگا کہ تم میں سے کون ابوذر کے پاس جا کر ان کے سر کے بال نوچے گا ؟ ایک آدمی نے اپنے آپ کو پیش کیا اور حوض کے قریب پہنچ کر انہیں مارا حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کھڑے تھے پہلے بیٹھے پھر لیٹ گئے کسی نے ان سے پوچھا اے ابوذر ! آپ پہلے بیٹھے، پھر لیٹے کیوں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے اور وہ کھڑا ہوا ہو تو اسے چاہئے کہ بیٹھ جائے غصہ دور ہوجائے تو بہت اچھا ورنہ لیٹ جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21348
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات، لكن قد اختلف على داود بن ابي هند فى اسناده
حدیث نمبر: 21349
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ لَكَ فِي كَنْزٍ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل رہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں جنت کے ایک خزانے کے متعلق نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں فرمایا لاحول ولاقوۃ الا باللہ (جنت کا ایک خزانہ ہے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21349
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 21350
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَامٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ مِنْكُمْ صَائِمًا مِنَ الشَّهْرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، فَلْيَصُمْ الثَّلَاثَ الْبِيضَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے جو شخص مہینے میں تین دن روزے رکھنا چاہتا ہو، اسے ایام بیض کے روزے رکھنے چاہئیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21350
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 21351
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، الْمَعْنَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ ، فَقَالَ : " هُمْ الْأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ، هُمْ الْأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ " فَأَخَذَنِي غَمٌّ وَجَعَلْتُ أَتَنَفَّسُ ، قَالَ : قُلْتُ : هَذَا شَرٌّ حَدَثَ فِيَّ ، قَالَ : قُلْتُ : مَنْ هُمْ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ؟ قَالَ : " الْأَكْثَرُونَ ، إِلَّا مَنْ قَالَ فِي عِبَادِ اللَّهِ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا وَقَلِيلٌ مَا هُمْ ، مَا مِنْ رَجُلٍ يَمُوتُ فَيَتْرُكُ غَنَمًا أَوْ إِبِلًا أَوْ بَقَرًا لَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهُ ، إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْظَمَ مَا تَكُونُ وَأَسْمَنَ ، حَتَّى تَطَأَهُ بِأَظْلَافِهَا ، وَتَنْطَحَهُ بِقُرُونِهَا حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ ، ثُمَّ تَعُودُ أُولَاهَا عَلَى أُخْرَاهَا " ، وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ : " كُلَّمَا نَفِدَتْ أُخْرَاهَا عَادَتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ خانہ کعبہ کے سائے میں تشریف فرما تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا رب کعبہ کی قسم ! وہ لوگ خسارے میں ہیں مجھے ایک شدید غم نے آگھیرا اور میں اپنا سانس درست کرتے ہوئے سوچنے لگا شاید میرے متعلق کوئی نئی بات ہوگئی ہے چنانچہ میں نے پوچھا وہ کون لوگ ہیں ؟ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زیادہ مالدار، سوائے اس آدمی کے جو اللہ کے بندوں میں اس اس طرح تقسیم کرے لیکن ایسے لوگ بہت تھوڑے ہیں جو آدمی بھی مرتے وقت بکریاں اونٹ یا گائے چھوڑ کرجاتا ہے جس کی اس نے زکوٰۃ ادا نہ کی ہو وہ قیامت کے دن پہلے سے زیادہ صحت مند ہو کر آئیں گے اور اسے اپنے کھروں سے روندیں گے اور اپنے سینگوں سے ماریں گے یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کردیا جائے پھر ایک کے بعد دوسرا جانور آتا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21351
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 990
حدیث نمبر: 21352
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ حِينَ وَجَبَتْ الشَّمْسُ ، فَقَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، تَدْرِي أَيْنَ تَذْهَبُ الشَّمْسُ ؟ " ، قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " فَإِنَّهَا تَذْهَبُ حَتَّى تَسْجُدَ بَيْنَ يَدَيْ رَبِّهَا ، فَتَسْتَأْذِنَ فِي الرُّجُوعِ ، فَيُؤْذَنَ لَهَا وَكَأَنَّهَا قَدْ قِيلَ لَهَا ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ ، فَتَرْجِعَ إِلَى مَطْلَعِهَا ، فَذَلِكَ مُسْتَقَرُّهَا " ثُمَّ قَرَأَ وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا سورة يس آية 38 .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ غروب آفتاب کے وقت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مسجد میں تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوذر ! تم جانتے ہو کہ یہ سورج کہاں جاتا ہے ؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ جا کر بارگاہ الٰہی میں سجدہ ریز ہوجاتا ہے پھر وہ واپس جانے کی اجازت مانگتا ہے جو اسے مل جاتی ہے جب اس سے کہا جائے کہ تو جہاں سے آیا ہے وہیں واپس چلا جا اور وہ اپنے مطلع کی طرف لوٹ جائے تو یہی اس کا مستقر ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی " سورج اپنے مستقر کی طرف چلتا ہے۔ "
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21352
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3199، م: 159
حدیث نمبر: 21353
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ إِذْ قَامَ إِلَيْهِ أَعْرَابِيٌّ فِيهِ جَفَاءٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَكَلَنَا الضَّبُعُ ! فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " غَيْرُ ذَلِكَ أَخْوَفُ لِي عَلَيْكُمْ ، حِينَ تُصَبُّ عَلَيْكُمْ الدُّنْيَا صَبًّا ، فَيَا لَيْتَ أُمَّتِي لَا يَتَحَلَّوْنَ الذَّهَبَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک سخت طبیعت دیہاتی آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! ہمیں تو قحط سالی کھاجائے گی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے تمہارے متعلق ایک دوسری چیز کا اندیشہ ہے جب تم پر دنیا کو انڈیل دیا جائے گا کاش ! اس وقت میری امت سونے کا زیور نہ پہنے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21353
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف الضعف يزيد
حدیث نمبر: 21354
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهُ : " اتَّقِ اللَّهَ حَيْثُمَا كُنْتَ ، وَأَتْبِعْ السَّيِّئَةَ الْحَسَنَةَ تَمْحُهَا ، وَخَالِقْ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ " ، قَالَ وَكِيعٌ ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً عَنْ مُعَاذٍ ، فَوَجَدْتُ فِي كِتَابِي عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، وَهُوَ السَّمَاعُ الْأَوَّلُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اللہ سے ڈرو خواہ کہیں بھی ہو برائی ہوجائے تو اس کے بعد نیکی کرلیا کرو جو اسے مٹا دے اور لوگوں سے اچھے اخلاق کے ساتھ پیش آیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21354
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد منقطع، ميمون بن أبى شبيب لم يسمع من أبى ذر، وقد اختلف على سفيان الثوري فى إسناده
حدیث نمبر: 21355
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رِبْعِيَّ بْنَ حِرَاشٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ظَبْيَانَ ، رَفَعَهُ إِلَى أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " ثَلَاثَةٌ يُحِبُّهُمْ اللَّهُ ، وَثَلَاثَةٌ يُبْغِضُهُمْ اللَّهُ ، أَمَّا الثَّلَاثَةُ الَّذِينَ يُحِبُّهُمْ اللَّهُ فَرَجُلٌ أَتَى قَوْمًا فَسَأَلَهُمْ بِاللَّهِ وَلَمْ يَسْأَلْهُمْ بِقَرَابَةٍ بَيْنَهُمْ فَمَنَعُوهُ فَتَخَلَّفَ رَجُلٌ بِأَعْقَابِهِمْ فَأَعْطَاهُ سِرًّا لَا يَعْلَمُ بِعَطِيَّتِهِ إِلَّا اللَّهُ وَالَّذِي أَعْطَاهُ ، وَقَوْمٌ سَارُوا لَيْلَتَهُمْ حَتَّى إِذَا كَانَ النَّوْمُ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِمَّا يُعْدَلُ بِهِ نَزَلُوا فَوَضَعُوا رُؤُوسَهُمْ فَقَامَ يَتَمَلَّقُنِي وَيَتْلُو آيَاتِي ، وَرَجُلٌ كَانَ فِي سَرِيَّةٍ فَلَقَوْا الْعَدُوَّ فَهُزِمُوا فَأَقْبَلَ بِصَدْرِهِ حَتَّى يُقْتَلَ أَوْ يَفْتَحَ اللَّهُ لَهُ ، وَالثَّلَاثَةُ الَّذِينَ يُبْغِضُهُمْ اللَّهُ الشَّيْخُ الزَّانِي ، وَالْفَقِيرُ الْمُخْتَالُ ، وَالْغَنِيُّ الظَّلُومُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین قسم کے آدمی اللہ کو محبوب ہیں اور تین قسم کے آدمیوں سے اللہ کو نفرت ہے وہ لوگ جن سے اللہ محبت کرتا ہے ان میں سے ایک تو وہ آدمی جو ایک جماعت کے ساتھ دشمن سے ملے اور ان کے سامنے سینہ سپر ہوجائے یہاں تک کہ شہید ہوجائے یا اس کے ساتھیوں کو فتح مل جائے دوسرے وہ لوگ جو سفر پر روانہ ہوں ان کا سفر طویل ہوجائے اور ان کی خواہش ہو کہ شام کے وقت کسی علاقے میں پڑاؤ کریں، چنانچہ وہ پڑاؤ کریں تو ان میں سے ایک آدمی ایک طرف کو ہو کر نماز پڑھنے لگے یہاں تکہ کوچ کا وقت آنے پر انہیں جگا دے اور تیسرا وہ آدمی جس کا کوئی ایسا ہمسایہ ہو جس کے پڑوس سے اسے تکلیف ہوتی ہو لیکن وہ اس کی ایذاء رسانی پر صبر کرے تاآنکہ موت آکر انہیں جدا کر دے میں نے پوچھا کہ وہ کون لوگ ہیں جن سے اللہ نفرت کرتا ہے ؟ فرمایا وہ تاجر جو قسمیں کھاتا ہے وہ بخیل جو احسان جتاتا ہے اور وہ فقیر جو تکبر کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21355
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة زيد بن ظبيان، وقد توبع
حدیث نمبر: 21356
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ ثَلَاثَةً وَيُبْغِضُ ثَلَاثَةً يُبْغِضُ الشَّيْخَ الزَّانِيَ ، وَالْفَقِيرَ الْمُخْتَالَ ، وَالْمُكْثِرَ الْبَخِيلَ ، وَيُحِبُّ ثَلَاثَةً رَجُلٌ كَانَ فِي كَتِيبَةٍ ، فَكَرَّ يَحْمِيهِمْ حَتَّى قُتِلَ ، أَوْ يَفْتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، وَرَجُلٌ كَانَ فِي قَوْمٍ فَأَدْلَجُوا فَنَزَلُوا مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ ، وَكَانَ النَّوْمُ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِمَّا يُعْدَلُ بِهِ ، فَنَامُوا وَقَامَ يَتْلُو آيَاتِي وَيَتَمَلَّقُنِي ، وَرَجُلٌ كَانَ فِي قَوْمٍ فَأَتَاهُمْ رَجُلٌ يَسْأَلُهُمْ بِقَرَابَةٍ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ فَبَخِلُوا عَنْهُ ، وَخَلَفَ بِأَعْقَابِهِمْ فَأَعْطَاهُ حَيْثُ لَا يَرَاهُ إِلَّا اللَّهُ وَمَنْ أَعْطَاهُ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین قسم کے آدمی اللہ کو محبوب ہیں اور تین قسم کے آدمیوں سے اللہ کو نفرت ہے وہ لوگ جن سے اللہ محبت کرتا ہے ان میں سے ایک تو وہ آدمی جو ایک جماعت کے ساتھ دشمن سے ملے اور ان کے سامنے سینہ سپر ہوجائے یہاں تک کہ شہید ہوجائے یا اس کے ساتھیوں کو فتح مل جائے دوسرے وہ لوگ جو سفر پر روانہ ہوں ان کا سفر طویل ہوجائے اور ان کی خواہش ہو کہ شام کے وقت کسی علاقے میں پڑاؤ کریں، چنانچہ وہ پڑاؤ کریں تو ان میں سے ایک آدمی ایک طرف کو ہو کر نماز پڑھنے لگے یہاں تکہ کوچ کا وقت آنے پر انہیں جگا دے اور تیسرا وہ آدمی جس کا کوئی ایسا ہمسایہ ہو جس کے پڑوس سے اسے تکلیف ہوتی ہو لیکن وہ اس کی ایذاء رسانی پر صبر کرے تاآنکہ موت آکر انہیں جدا کر دے میں نے پوچھا کہ وہ کون لوگ ہیں جن سے اللہ نفرت کرتا ہے ؟ فرمایا وہ تاجر جو قسمیں کھاتا ہے وہ بخیل جو احسان جتاتا ہے اور وہ فقیر جو تکبر کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21356
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، ربعي بن حراش لم يسمع من أبى ذر
حدیث نمبر: 21357
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ يُبْغِضُ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21357
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، مؤمل سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 21358
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : لَقِيتُ أَبَا ذَرٍّ بِالرَّبَذَةِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ مِنْ مَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ابْتَدَرَتْهُ حَجَبَةُ الْجَنَّةِ " وَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ ، إِلَّا أَدْخَلَهُمْ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو مسلمان اپنے ہر مال میں سے دو جوڑے اللہ کے راستہ میں خرچ کرتا ہے تو جنت کے دربان تیزی سے اس کے سامنے آتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک اسے اپنی طرف بلاتا ہے۔ اور میں نے نبی کریم ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جن دو مسلمان میاں بیوی کے تین نابالغ بچے فوت ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ ان میاں بیوی کی بخشش فرما دے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21358
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21359
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنْ مَرَّ رَجُلٌ عَلَى بَابٍ لَا سِتْرَ لَهُ غَيْرِ مُغْلَقٍ ، فَنَظَرَ ، فَلَا خَطِيئَةَ عَلَيْهِ ، إِنَّمَا الْخَطِيئَةُ عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر کوئی آدمی کسی ایسے دروازے پر گذرتا ہے جہاں پردہ پڑا ہو اور نہ ہی دروازہ بند ہو اس کی نگاہ اندر چلی جائے تو اس پر گناہ نہیں ہوگا بلکہ گناہ تو اس گھر والوں پر ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21359
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ، وقد تفرد بهذا الحديث
حدیث نمبر: 21360
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : مَنْ عَمِلَ حَسَنَةً فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا أَوْ أَزِيدُ ، وَمَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً فَجَزَاؤُهَا مِثْلُهَا أَوْ أَغْفِرُ ، وَمَنْ عَمِلَ قُرَابَ الْأَرْضِ خَطِيئَةً ، ثُمَّ لَقِيَنِي لَا يُشْرِكُ بِي شَيْئًا ، جَعَلْتُ لَهُ مِثْلَهَا مَغْفِرَةً ، وَمَنْ اقْتَرَبَ إِلَيَّ شِبْرًا اقْتَرَبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا ، وَمَنْ اقْتَرَبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا اقْتَرَبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا ، وَمَنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ فرماتا ہے جو شخص نیکی کا ایک عمل کرتا ہے اسے دس گنا بدلہ ملے گا یا میں اس میں مزید اضافہ کردوں گا اور جو شخص گناہ کا ایک عمل کرتا ہے تو اس کا بدلہ اسی کے برابر ہوگا یا میں اسے معاف بھی کرسکتا ہوں جو شخص زمین بھر کر گناہ کرے پھر مجھ سے اس حال میں ملے کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، میں اس کے لئے اتنی ہی مغفرت کا فیصلہ کرلیتا ہوں اور جو شخص ایک بالشت کے برابر میرے قریب آتا ہے میں ایک ہاتھ کے برابر اس کے قریب آتا ہوں اور جو ایک ہاتھ کے برابر قریب آتا ہے میں ایک گز اس کے قریب ہوجاتا ہوں اور جو میری طرف چل کر آتا ہے میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21360
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2687
حدیث نمبر: 21361
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُنْذِرٍ ، حَدَّثَنَا أَشْيَاخٌ مِنَ التَّيْمِ ، قَالُوا : قَالَ أَبُو ذَرٍّ : لَقَدْ تَرَكَنَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا يُحَرِّكُ طَائِرٌ جَنَاحَيْهِ فِي السَّمَاءِ إِلَّا أَذْكَرَنَا مِنْهُ عِلْمًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہمیں چھوڑ کر گئے تو آسمان میں اپنے پروں سے اڑنے والا کوئی پرندہ ایسا نہ تھا جس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کچھ بتایا نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21361
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أشياخ منذر
حدیث نمبر: 21362
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَجْلَحُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيْلِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَحْسَنَ مَا غُيِّرَ بِهِ الشَّيْبُ الْحِنَّاءُ وَالْكَتَمُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بالوں کی اس سفیدی کو بدلنے والی سب سے بہترین چیز مہندی اور وسمہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21362
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات لأجل الأجلح، وقد توبع
حدیث نمبر: 21363
حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ذَهَبَ الْأَغْنِيَاءُ بِالْأَجْرِ ، يُصَلُّونَ وَيَصُومُونَ وَيَحُجُّونَ ! قَالَ : " وَأَنْتُمْ تُصَلُّونَ وَتَصُومُونَ وَتَحُجُّونَ " ، قُلْتُ : يَتَصَدَّقُونَ وَلَا نَتَصَدَّقُ ! قَالَ : " وَأَنْتَ فِيكَ صَدَقَةٌ رَفْعُكَ الْعَظْمَ عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ ، وَهِدَايَتُكَ الطَّرِيقَ صَدَقَةٌ ، وَعَوْنُكَ الضَّعِيفَ بِفَضْلِ قُوَّتِكَ صَدَقَةٌ ، وَبَيَانُكَ عَنِ الْأَرْتَمِ صَدَقَةٌ ، وَمُبَاضَعَتُكَ امْرَأَتَكَ صَدَقَةٌ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَأْتِي شَهْوَتَنَا وَنُؤْجَرُ ؟ ! قَالَ " " أَرَأَيْتَ لَوْ جَعَلْتَهُ فِي حَرَامٍ ، أَكَانَ تَأْثَمُ ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَتَحْتَسِبُونَ بِالشَّرِّ وَلَا تَحْتَسِبُونَ بِالْخَيْرِ ؟ ! .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! سارا اجروثواب تو مالدار لوگ لے گئے کہ نماز پڑھتے ہیں روزے بھی رکھتے ہیں اور حج بھی کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کام تو تم بھی کرتے ہو میں نے عرض کیا کہ وہ صدقہ خیرات کرتے ہیں لیکن ہم صدقہ خیرات نہیں کرسکتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تو تم بھی کرسکتے ہو، راستے سے کسی ہڈی کو اٹھا دینا صدقہ ہے کسی کو راستہ بتادینا صدقہ ہے اپنی طاقت سے کسی کمزور کی مدد کرنا صدقہ ہے زبان میں لکنت والے آدمی کے کلام کی وضاحت کر دینا صدقہ ہے اور اپنی بیوی سے مباشرت کرنا بھی صدقہ ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہمیں اپنی " خواہش " پوری کرنے پر بھی ثواب ملتا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بتاؤ کہ اگر یہ کام تم حرام طریقے سے کرتے تو تمہیں گناہ ہوتا یا نہیں ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم گناہ کو شمار کرتے ہو نیکی کو شمار نہیں کرتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21363
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1006، وهذا إسناد ضعيف، أبو البختري لم يدرك أبا ذر
حدیث نمبر: 21364
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ بَابِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، وَفِينَا أَبُو ذَرٍّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " صَوْمُ شَهْرِ الصَّبْرِ وَثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صَوْمُ الدَّهْرِ ، وَيُذْهِبُ مَغَلَةَ الصَّدْرِ " قَالَ : قُلْتُ : وَمَا مَغَلَةُ الصَّدْرِ ؟ قَالَ : " رِجْسُ الشَّيْطَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ماہ صبر (رمضان) اور ہر مہینے کے تین روزے رکھنا ایسے ہی ہے جیسے ہمیشہ روزے رکھنا اور اس سے سینے کا کینہ دور ہوجاتا ہے میں نے پوچھا کہ سینے کے کینے سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا شیطانی گندگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21364
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف الإبهام الرجل
حدیث نمبر: 21365
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ هِلَالٍ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الصَّوْمُ ؟ قَالَ : " فَرْضٌ مُجْزِئٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! روزہ کیا چیز ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فرض جسے ادا کیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21365
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن عوف بن مالك
حدیث نمبر: 21366
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ نَمُوتُ وَنَحْيَا " وَإِذَا اسْتَيْقَظَ قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت جب اپنے بستر پر آتے تو یوں کہتے اے اللہ ! ہم تیرے ہی نام سے جیتے مرتے ہیں اور جب بیدار ہوتے تو یوں فرماتے " اس اللہ کا شکر جس نے ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا اور اسی کے یہاں جمع ہونا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21366
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6325
حدیث نمبر: 21367
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدِ ابْنِ أُخْتِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : يَا عِبَادِي كُلُّكُمْ مُذْنِبٌ إِلَّا مَنْ عَافَيْتُ ، فَاسْتَغْفِرُونِي أَغْفِرْ لَكُمْ ، وَمَنْ عَلِمَ أَنِّي أَقْدِرُ عَلَى الْمَغْفِرَةِ فَاسْتَغْفَرَنِي بِقُدْرَتِي غَفَرْتُ لَهُ وَلَا أُبَالِي ، وَكُلُّكُمْ ضَالٌّ إِلَّا مَنْ هَدَيْتُ ، فَاسْتَهْدُونِي أَهْدِكُمْ ، وَكُلُّكُمْ فَقِيرٌ إِلَّا مَنْ أَغْنَيْتُ ، فَاسْأَلُونِي أُغْنِكُمْ ، وَلَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَحَيَّكُمْ وَمَيِّتَكُمْ وَرَطْبَكُمْ وَيَابِسَكُمْ اجْتَمَعُوا عَلَى أَشْقَى قَلْبٍ مِنْ قُلُوبِ عِبَادِي مَا نَقَصَ فِي مُلْكِي جَنَاحَ بَعُوضَةٍ ، وَلَوْ اجْتَمَعُوا عَلَى أَتْقَى قَلْبِ عَبْدٍ مِنْ عِبَادِي مَا زَادَ فِي مُلْكِي جَنَاحِ بَعُوضَةٍ ، وَلَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَحَيَّكُمْ وَمَيِّتَكُمْ وَرَطْبَكُمْ وَيَابِسَكُمْ اجْتَمَعُوا فَسَأَلَنِي كُلُّ سَائِلٍ مِنْهُمْ مَا بَلَغَتْ أُمْنِيَّتُهُ ، فَأَعْطَيْتُ كُلَّ سَائِلٍ مِنْهُمْ مَا سَأَلَ ، مَا نَقَصَنِي ، كَمَا لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ مَرَّ بِشَفَةِ الْبَحْرِ فَغَمَسَ فِيهِ إِبْرَةً ثُمَّ انْتَزَعَهَا ، كَذَلِكَ لَا يَنْقُصُ مِنْ مُلْكِي ، ذَلِكَ بِأَنِّي جَوَادٌ مَاجِدٌ صَمَدٌ ، عَطَائِي كَلَامٌ ، وَعَذَابِي كَلَامٌ ، إِذَا أَرَدْتُ شَيْئًا فَإِنَّمَا أَقُولُ لَهُ كُنْ ، فَيَكُونُ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو ! تم سب کے سب گنہگار ہو سوائے اس کے جسے میں عافیت عطاء کر دوں، اس لئے مجھ سے معافی مانگا کرو میں تمہیں معاف کر دوں گا اور جو شخص اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ مجھے معاف کرنے پر قدرت ہے اور وہ میری قدرت کے وسیلے سے مجھ سے معافی مانگتا ہے تو میں اسے معاف کردیتا ہوں اور کوئی پرواہ نہیں کرتا۔ تم میں سے ہر ایک گمراہ ہے سوائے اس کے جسے میں ہدایت دے دوں لہٰذا مجھ سے ہدایت مانگا کرو میں تم کو ہدایت عطاء کروں گا تم میں سے ہر ایک فقیر ہے سوائے اس کے جسے میں غنی کردوں، لہٰذا مجھ سے غناء مانگا کرو میں تم کو غناء عطاء کروں گا۔ اگر تمہارے پہلے اور پچھلے زندہ اور مردہ تر اور خشک سب کے سب میرے سب سے زیادہ شقی بندے کے دل کی طرح ہوجائیں تو میری حکومت میں سے ایک مچھر کے پر کے برابر بھی کمی نہیں کرسکتے اور اگر وہ سب کے سب میرے سب سے زیادہ متقی بندے کے دل پر جمع ہوجائیں تو میری حکومت میں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی اضافہ نہیں کرسکتے۔ اگر تمہارے پہلے اور پچھلے زندہ اور مردہ تر اور خشک سب جمع ہوجائیں اور ان میں سے ہر ایک مجھ سے اتنا مانگے جہاں تک اس کی تمنا پہنچتی ہو اور میں ہر ایک کو اس کے سوال کے مطابق مطلوبہ چیزیں دیتا جاؤں تو میرے خزانے میں اتنی بھی کمی واقع نہ ہوگی کہ اگر تم میں سے کوئی شخص ساحل سمندر سے گذرے اور اس میں ایک سوئی ڈبوئے اور پھر نکالے میری حکومت میں اتنی بھی کمی نہ آئیگی کیونکہ میں بےانتہا سخی، بزرگ اور بےنیاز ہوں میری عطاء بھی ایک کلام سے ہوتی ہے اور میرا عذاب بھی ایک کلام سے آجاتا ہے میں کسی چیز کا ارادہ کرتا ہوں تو " کن " کہتا ہوں اور وہ چیز وجود میں آجاتی ہے۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے ! تو جتنی عبادت اور مجھ سے جتنی امید وابستہ کرے گا میں تیرے سارے گناہوں کو معاف کردوں گا میرے بندے اگر تو زمین بھر کر گناہوں کے ساتھ مجھ سے ملے لیکن میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو میں اتنی ہی بخشش کے ساتھ تجھ سے ملوں گا میرے بندو ! تم سب کے سب گناہگار ہو سوائے اس کے جسے میں عافیت دے دوں۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21367
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث بن أبى سليم، وشهر بن حوشب