حدیث نمبر: 21289
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ حِمَازٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلْنَا ذَا الْحُلَيْفَةِ ، فَتَعَجَّلَتْ رِجَالٌ إِلَى الْمَدِينَةِ ، وَبَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِتْنَا مَعَهُ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ سَأَلَ عَنْهُمْ ، فَقِيلَ تَعَجَّلُوا إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَقَالَ : " تَعَجَّلُوا إِلَى الْمَدِينَةِ وَالنِّسَاءِ ! أَمَا إِنَّهُمْ سَيَدَعُونَهَا أَحْسَنَ مَا كَانَتْ " ، ثُمَّ قَالَ : " لَيْتَ شِعْرِي مَتَى تَخْرُجُ نَارٌ مِنَ الْيَمَنِ مِنْ جَبَلِ الْوِرَاقِ ، تُضِيءُ مِنْهَا أَعْنَاقُ الْإِبِلِ بُرُوكًا بِبُصْرَى كَضَوْءِ النَّهَارِ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر سے واپس آرہے تھے ہم نے ذوالحلیفہ میں پڑاؤ کیا کچھ لوگ جلد بازی کر کے مدینہ منورہ چلے گئے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ رات وہیں گذاری ہم بھی ہمراہ تھے جب صبح ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے متعلق پوچھا، بتایا گیا کہ وہ جلدی مدینہ چلے گئے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابھی تو یہ مدینہ منورہ اور عورتوں کی طرف جلدی سے چلے گئے ہیں لیکن ایک وقت ایسا ضرور آئے گا جب یہ مدینہ منورہ کو بہترین حالت پر ہونے کے باوجود چھوڑ جائیں گے پھر فرمایا عنقریب یمن کے جبل وراق سے ایک آگ نکلے گی جس سے بصرے کے جوان اونٹوں کی گردنیں دن کی روشنی کی طرح روشن ہوجائیں گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21289
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره لكن بلفظ: تخرج نار من الحجاز، وهذا إسناد ضعيف لأجل حبيب بن حماز
حدیث نمبر: 21290
.حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الْبَكْرِيِّ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ حَمَّازٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21290
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لأجل حبيب بن حماز
حدیث نمبر:
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 0
حدیث نمبر: 21291
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : كُنْتُ أَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ آتِي الْمَسْجِدَ إِذَا أَنَا فَرَغْتُ مِنْ عَمَلِي ، فَأَضْطَجِعُ فِيهِ ، فَأَتَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَأَنَا مُضْطَجِعٌ ، فَغَمَزَنِي بِرِجْلِهِ ، فَاسْتَوَيْتُ جَالِسًا فَقَالَ لِي : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، كَيْفَ تَصْنَعُ إِذَا أُخْرِجْتَ مِنْهَا ؟ " فَقُلْتُ : أَرْجِعُ إِلَى مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِلَى بَيْتِي ، قَالَ : " فَكَيْفَ تَصْنَعُ إِذَا أُخْرِجْتَ مِنْهَا ؟ " فَقُلْتُ : إِذًا آخُذَ بِسَيْفِي ، فَأَضْرِبَ بِهِ مَنْ يُخْرِجُنِي ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى مَنْكِبِي ، فَقَالَ : " غَفْرًا يَا أَبَا ذَرٍّ ثَلَاثًا ، بَلْ تَنْقَادُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَادُوكَ ، وَتَنْسَاقُ مَعَهُمْ حَيْثُ سَاقُوكَ وَلَوْ عَبْدًا أَسْوَدَ " ، قَالَ أَبُو ذَرٍّ : فَلَمَّا نُفِيتُ إِلَى الرَّبَذَةِ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ ، فَتَقَدَّمَ رَجُلٌ أَسْوَدُ كَانَ فِيهَا عَلَى نَعَمْ الصَّدَقَةِ ، فَلَمَّا رَآنِي أَخَذَ لِيَرْجِعَ وَلِيُقَدِّمَنِي ، فَقُلْتُ : كَمَا أَنْتَ ، بَلْ أَنْقَادُ لِأَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا تھا جب اپنے کام سے فارغ ہوتا تو مسجد میں آکر لیٹ جاتا، ایک دن میں لیٹا ہوا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور مجھے اپنے مبارک پاؤں سے ہلایا، میں سیدھاہو کر اٹھ بیٹھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوذر ! تم اس وقت کیا کرو گے جب تم مدینہ سے نکال دیئے جاؤ گے ؟ عرض کیا میں مسجد نبوی اور اپنے گھر لوٹ جاؤں گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور جب تمہیں یہاں سے بھی نکال دیا جائے گا تو کیا کرو گے ؟ میں نے عرض کیا کہ اس وقت میں اپنی تلوار پکڑوں گا اور جو مجھے نکالنے کی کوشش کرے گا اسے اپنی تلوار سے ماروں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر اپنا دست مبارک میرے کندھے پر رکھا اور تین مرتبہ فرمایا ابوذر ! درگذر سے کام لو وہ تمہیں جہاں لے جائیں وہاں چلے جانا اگرچہ تمہارا حکمران کوئی حبشی غلام ہی ہو، حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب مجھے ربذہ کی طرف جلا وطن کیا گیا اور نماز کھڑی ہوئی تو ایک سیاہ فام آدمی نماز پڑھانے کے لئے آگے بڑھا جو وہاں زکوٰۃ کے جانوروں پر مامور تھا اس نے مجھے دیکھ کر پیچھے ہٹنا اور مجھے آگے کرنا چاہا تو میں نے اس سے کہا کہ تم اپنی جگہ ہی رہو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر عمل کروں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21291
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، إسماعيل بن عياش ضعيف فى روايته عن غير أهل بلده، وهذه منها ، وشهر بن حوشب ضعيف، وقد اختلف عليه فى إسناده
حدیث نمبر: 21292
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ مُعَانِ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ أَبِي خَلَفٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " الْإِسْلَامُ ذَلُولٌ ، لَا يَرْكَبُ إِلَّا ذَلُولًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام طبعاً سہل دین ہے اور اس پر سہل آدمی ہی سواری کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21292
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا، معان بن رفاعة لين، وأبو خلف متروك
حدیث نمبر: 21293
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ الْبَخْتَرِيِّ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ سَلْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " اثْنَانِ خَيْرٌ مِنْ وَاحِدٍ ، وَثَلَاثٌ خَيْرٌ مِنَ اثْنَيْنِ ، وَأَرْبَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ ثَلَاثَةٍ ، فَعَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ ، فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَجْمَعَ أُمَّتِي إِلَّا عَلَى هُدًى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو آدمی ایک سے تین دو سے اور چار تین سے بہتر ہیں اس لئے تم پر جماعت کے ساتھ چمٹے رہنا لازم ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ میری امت کو ہدایت کے علاوہ کسی اور نکتے پر کبھی متفق نہیں کرسکتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21293
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا، البختري بن عبيد متروك الحديث وأبوه مجهول
حدیث نمبر: 21294
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ أَبَا سَالِمٍ الْجَيْشَانِيَّ أَتَى إِلَى أَبِي أُمَيَّةَ فِي مَنْزِلِهِ ، فَقَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ ، يَقُولُ : إِنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا أَحَبَّ أَحَدُكُمْ صَاحِبَهُ ، فَلْيَأْتِهِ فِي مَنْزِلِهِ ، فَلْيُخْبِرْهُ أَنَّهُ يُحِبُّهُ لِلَّهِ ، وَقَدْ جِئْتُكَ فِي مَنْزِلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر تم میں سے کوئی شخص اپنے کسی ساتھی سے محبت کرتا ہو تو اسے چاہئے کہ اس کے گھر جائے اور اسے بتائے کہ وہ اس سے اللہ کے لئے محبت کرتا ہے اور اے ابوذر ! میں اسی وجہ سے تمہارے گھر آیا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21294
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، يزيد بن أبى حبيب إن كان ثقة لكنه قد كان يرسل، ولم يبين هنا عمن رواه، وابن الهيعة سيئ الحفظ، وقد تفرد فى هذا الحديث بقوله: فليأته فى منزله
حدیث نمبر: 21295
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَعَفَّانُ ، المعنى ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ بُرْدٍ أَبِي الْعَلَاءِ قَالَ عَفَّانُ : قَالَ : أَخْبَرَنَا بُرْدٌ أَبُو الْعَلَاءِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّهُ مَرَّ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ : نِعْمَ الْفَتَى غُضَيْفٌ ، فَلَقِيَهُ أَبُو ذَرٍّ ، فَقَالَ : أَيْ أُخَيَّ اسْتَغْفِرْ لِي ، قَالَ : أَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنْتَ أَحَقُّ أَنْ تَسْتَغْفِرَ لِي ! فَقَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ : نِعْمَ الْفَتَى غُضَيْفٌ ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ضَرَبَ بِالْحَقِّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ " ، قَالَ عَفَّانُ : " عَلَى لِسَانِ عُمَرَ يَقُولُ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
غضیف بن حارث کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذرے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا غضیف بہترین نوجوان ہے پھر حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے ان کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ بھائی ! میرے لئے بخشش کی دعاء کرو غضیف نے کہا کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں اور آپ اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ آپ میرے لئے بخشش کی دعاء کریں انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ غضیف بہترین نوجوان ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان اور دل پر حق کو جاری کردیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21295
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21296
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ ، أَخْبَرَنِي أَبُو تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو ذَرٍّ ، قَالَ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " لَغَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُنِي عَلَى أُمَّتِي " ، قَالَهَا : ثَلَاثًا ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا هَذَا الَّذِي غَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُكَ عَلَى أُمَّتِكَ ؟ قَالَ : " أَئِمَّةً مُضِلِّينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ چہل قدمی کر رہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دجال کے علاوہ ایک اور چیز ہے جس سے مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ خطرہ محسوس ہوتا ہے یہ جملہ تین مرتبہ دہرایا میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! وہ کون سی چیز ہے جس سے آپ کو اپنی امت پر سب سے زیادہ خطرہ محسوس ہوتا ہے اور وہ دجال کے علاوہ ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گمراہ کن ائمہ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21296
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 21297
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةُ ، عَنِ ابْنِ هُبَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ ، يَقُولُ : كُنْتُ مُخَاصِرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا إِلَى مَنْزِلِهِ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " غَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُ عَلَى أُمَّتِي مِنَ الدَّجَّالِ " فَلَمَّا خَشِيتُ أَنْ يَدْخُلَ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ شَيْءٍ أَخْوَفُ عَلَى أُمَّتِكَ مِنَ الدَّجَّالِ ؟ قَالَ : " الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ چہل قدمی کر رہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دجال کے علاوہ ایک اور چیز ہے جس سے مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ خطرہ محسوس ہوتا ہے یہ جملہ تین مرتبہ دہرایا میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! وہ کون سی چیز ہے جس سے آپ کو اپنی امت پر سب سے زیادہ خطرہ محسوس ہوتا ہے اور وہ دجال کے علاوہ ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گمراہ کن ائمہ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21297
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 21298
حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ ؟ قُلْ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے ابوذر ! کیا جنت میں کے ایک خزانے کی طرف تمہاری رہنمائی نہ کروں ؟ لاحول ولاقوۃ الا باللہ کہا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21298
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 21299
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ أَبِي الْحَجَّاجِ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُوتِيتُ خَمْسًا لَمْ يُؤْتَهُنَّ نَبِيٌّ كَانَ قَبْلِي نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ ، فَيُرْعَبُ مِنِّي الْعَدُوُّ عَنْ مَسِيرَةِ شَهْرٍ ، وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا ، وَأُحِلَّتْ لِي الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ كَانَ قَبْلِي ، وَبُعِثْتُ إِلَى الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ ، وَقِيلَ لِي : سَلْ تُعْطَهْ ، فَاخْتَبَأْتُهَا شَفَاعَةً لِأُمَّتِي ، وَهِيَ نَائِلَةٌ مِنْكُمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا " ، قَالَ الْأَعْمَشُ فَكَانَ مُجَاهِدٌ يَرَى أَنَّ الْأَحْمَرَ الْإِنْسُ ، وَالْأَسْوَدَ الْجِنُّ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے پانچ ایسی خصوصیات دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں چنانچہ رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے اور ایک مہینے کی مسافت پر ہی دشمن مجھ سے مرعوب ہوجاتا ہے، روئے زمین کو میرے لئے سجدہ گاہ اور باعث طہارت قرار دے دیا گیا ہے میرے لئے مال غنیمت کو حلال کردیا گیا ہے جو کہ مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں ہوا مجھے ہر سرخ و سیاہ کی طرف مبعوث کیا گیا ہے اور مجھ سے کہا گیا کہ مانگیے آپ کو دیا جائے گا تو میں نے اپنا یہ حق اپنی امت کی سفارش کے لئے محفوظ کرلیا ہے اور یہ شفاعت تم میں سے ہر اس شخص کو مل کر رہے گی جو اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21299
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21300
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تَغِيبُ الشَّمْسُ تَحْتَ الْعَرْشِ ، فَيُؤْذَنُ لَهَا فَتَرْجِعُ ، فَإِذَا كَانَتْ تِلْكَ اللَّيْلَةُ الَّتِي تَطْلُعُ صَبِيحَتَهَا مِنَ الْمَغْرِبِ ، لَمْ يُؤْذَنْ لَهَا ، فَإِذَا أَصْبَحَتْ قِيلَ لَهَا : اطْلُعِي مِنْ مَكَانِكِ " ، ثُمَّ قَرَأَ هَلْ يَنْظُرُونَ إِلا أَنْ تَأْتِيَهُمُ الْمَلائِكَةُ أَوْ يَأْتِيَ رَبُّكَ أَوْ يَأْتِيَ بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ سورة الأنعام آية 158 .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سورج عرش کے نیچے غائب ہوتا ہے اسے اجازت ملتی ہے تو واپس آجاتا ہے جب وہ رات آجائے گی جس کی صبح کو سورج مغرب سے طلوع ہوگا تو اسے اجازت نہیں ملے گی اور جب صبح ہوگی تو اس سے کہا جائے گا کہ اسی جگہ سے طلوع ہو جہاں سے غروب ہوا تھا پھر یہ آیت تلاوت فرمائی " یہ لوگ کسی اور چیز کا انتظار نہیں کر رہے سوائے اس کے کہ ان کے پاس فرشتے آجائیں یا آپ کا رب آجائے یا آپ کے رب کی کوئی نشانی آجائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21300
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3199، م: 159، وهذا إسناد ضعيف لضعف مؤمل، وقد خولف
حدیث نمبر: 21301
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ صَامَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، فَقَدْ صَامَ الدَّهْرَ كُلَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ہر مہینے تین روزے رکھ لے یہ ایسے ہے جیسے اس نے ہمیشہ روزے رکھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21301
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف ، أبو عثمان لم يسمعه من أبى ذر
حدیث نمبر: 21302
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا دَيْلَمٌ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ أَبِي دُبَيٍّ ، عَنْ أَبِي حَرْبٍ ، عَنْ مِحْجَنٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْعَيْنَ لَتُولِعُ بِالرَّجُلِ بِإِذْنِ اللَّهِ ، حَتَّى يَصْعَدَ حَالِقًا ثُمَّ يَتَرَدَّى مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی مرضی سے انسان کو اس کی آنکھ کسی چیز کا اتنا گرویدہ بنا لیتی ہے کہ وہ مونڈنے والی چیز پر چڑھتا چلا جاتا ہے پھر ایک وقت آتا ہے کہ وہ اس سے نیچے گرپڑتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21302
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة محجن
حدیث نمبر: 21303
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَتَدْرُونَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ ؟ " قَالَ قَائِلٌ الصَّلَاةُ وَالزَّكَاةُ ، وَقَالَ قَائِلٌ الْجِهَادُ ، قَالَ : " إِنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ الْحُبُّ فِي اللَّهِ ، وَالْبُغْضُ فِي اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کو سب سے زیادہ کون سا عمل پسند ہے ؟ کسی نے نماز اور زکوٰۃ کا نام لیا اور کسی نے جہاد کو بتایا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل اللہ کے لئے کسی سے محبت یا نفرت کرنا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21303
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، يزيد بن عطاء و يزيد بن أبى زياد ضعيفان ولإبهام الراوي عن أبى ذر
حدیث نمبر: 21304
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ ، قَالَ : كُنْتُ كَافِرًا ، فَهَدَانِي اللَّهُ لِلْإِسْلَامِ ، وَكُنْتُ أَعْزُبُ عَنِ الْمَاءِ ، وَمَعِي أَهْلِي ، فَتُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ ، فَوَقَعَ ذَلِكَ فِي نَفْسِي ، وَقَدْ نُعِتَ لِي أَبُو ذَرٍّ ، فَحَجَجْتُ فَدَخَلْتُ مَسْجِدَ مِنًى فَعَرَفْتُهُ بِالنَّعْتِ ، فَإِذَا شَيْخٌ مَعْرُوفٌ آدَمُ ، عَلَيْهِ حُلَّةٌ قِطْرِيٌّ ، فَذَهَبْتُ حَتَّى قُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ وَهُوَ يُصَلِّي ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ ، ثُمَّ صَلَّى صَلَاةً أَتَمَّهَا وَأَحْسَنَهَا ، وَأَطْوَلَهَا ، فَلَمَّا فَرَغَ رَدَّ عَلَيَّ ، قُلْتُ : أَنْتَ أَبُو ذَرٍّ ؟ قَالَ : إِنَّ أَهْلِي لَيَزْعُمُونَ ذَلِكَ ! قَالَ كُنْتُ كَافِرًا فَهَدَانِي اللَّهُ لِلْإِسْلَامِ ، وَأَهَمَّنِي دِينِي ، وَكُنْتُ أَعْزُبُ عَنِ الْمَاءِ وَمَعِي أَهْلِي ، فَتُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ ، فَوَقَعَ ذَلِكَ فِي نَفْسِي ، قَالَ : هَلْ تَعْرِفُ أَبَا ذَرٍّ ؟ ! قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَإِنِّي اجْتَوَيْتُ الْمَدِينَةَ ، قَالَ أَيُّوبُ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا ، فَأَمَرَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَوْدٍ مِنْ إِبِلٍ وَغَنَمٍ ، فَكُنْتُ أَكُونُ فِيهَا ، فَكُنْتُ أَعْزُبُ مِنَ الْمَاءِ وَمَعِي أَهْلِي فَتُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ ، فَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنِّي قَدْ هَلَكْتُ ، فَقَعَدْتُ عَلَى بَعِيرٍ مِنْهَا ، فَانْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِصْفَ النَّهَارِ ، وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْمَسْجِدِ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَنَزَلْتُ عَنِ الْبَعِيرِ ، وَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلَكْتُ ، قَالَ : " وَمَا أَهْلَكَكَ ؟ " فَحَدَّثْتُهُ فَضَحِكَ ، فَدَعَا إِنْسَانًا مِنْ أَهْلِهِ ، فَجَاءَتْ جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ بِعُسٍّ فِيهِ مَاءٌ ، مَا هُوَ بِمَلْآنَ ، إِنَّهُ لَيَتَخَضْخَضُ ، فَاسْتَتَرْتُ بِالْبَعِيرِ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنَ الْقَوْمِ فَسَتَرَنِي فَاغْتَسَلْتُ ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ ، فَقَالَ : " إِنَّ الصَّعِيدَ الطَّيِّبَ طَهُورٌ مَا لَمْ تَجِدْ الْمَاءَ ، وَلَوْ إِلَى عَشْرِ حِجَجٍ ، فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَاءَ فَأَمِسَّ بَشَرَتَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
بنی عامر کے ایک صاحب کا کہنا ہے (وہ صاحب ابوالمہلب خرمی ہیں) کہ میں کافر تھا اللہ نے مجھے اسلام کی طرف ہدایت دے دی ہمارے علاقے میں پانی نہیں تھا اہلیہ میرے ساتھ تھی جس کی بناء پر بعض اوقات مجھے جنابت لاحق ہوجاتی، میرے دل میں یہ مسئلہ معلوم کرنے کی اہمیت بیٹھ گئی کسی شخص نے مجھے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کا پتہ بتادیا میں حج کے لئے روانہ ہوا اور مسجد منٰی میں داخل ہوا تو حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو پہچان گیا وہ عمر رسیدہ تھے انہیں پسینہ آیا ہوا تھا اور انہوں نے اونی جوڑا پہن رکھا تھا میں جا کر ان کے پہلو میں کھڑا ہوگیا وہ نماز پڑھ رہے تھے میں نے انہیں سلام کیا لیکن انہوں نے جواب نہ دیا خوب اچھی طرح مکمل نماز پڑھنے کے بعد انہوں نے میرے سلام کا جواب دیا میں نے ان سے پوچھا کہ آپ ہی ابوذر ہیں ؟ انہوں نے فرمایا میرے گھر والے تو یہی سمجھتے ہیں پھر میں نے انہیں اپنا واقعہ سنایا انہوں نے فرمایا کیا تم ابوذر کو پہچانتے ہو ؟ میں نے کہا جی ہاں ! انہوں نے فرمایا مجھے مدینہ کی آب وہوا موافق نہ آئی تھی یا فرمایا کہ مجھے پیٹ کا مرض لاحق ہوگیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کچھ اونٹوں اور بکریوں کے دودھ پینے کا حکم فرمایا حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں پانی (کے علاقے) سے دور رہتا تھا میرے ساتھ اہل و عیال بھی تھے جب مجھے غسل کی ضرورت پیش آتی تو میں بغیر پاکی حاصل کئے ہوئے نماز پڑھ لیا کرتا ایک مرتبہ جب میں خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوا تو وہ دوپہر کا وقت تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ مسجد کے سایہ میں تشریف فرما تھے میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میں ہلاک ہوگیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا بات ہوگئی ؟ میں نے عرض کیا کہ حضرت ! میں پانی (کے علاقے سے) دور تھا میرے ہمراہ میری اہلیہ بھی تھی مجھے غسل کی جب ضرورت پیش آجاتی تو میں بغیر غسل کئے ہی نماز پڑھ لیا کرتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے پانی منگوانے کا حکم فرمایا چنانچہ ایک کالے رنگ کی باندی میرے لئے بڑے پیالے میں پانی لے کر آئی۔ پیالہ کا پانی ہل رہا تھا کیونکہ پیالہ بھرا ہوا نہیں تھا میں نے ایک اونٹ کی اڑ میں غسل کیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پاک مٹی بھی مطہر ہوتی ہے جب تک پانی نہ ملے اگرچہ تم کو دس سال تک بھی پانی میسر نہ آسکے البتہ جب پانی مل جائے تو اس کو بدن پر بہا لو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21304
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21305
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي قُشَيْرٍ ، قَالَ : كُنْتُ أَعْزُبُ عَنِ الْمَاءِ ، فَتُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ ، فَلَا أَجِدُ الْمَاءَ ، فَأَتَيَمَّمُ ، فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ ، فَأَتَيْتُ أَبَا ذَرٍّ فِي مَنْزِلِهِ فَلَمْ أَجِدْهُ ، فَأَتَيْتُ الْمَسْجِدَ وَقَدْ وُصِفَتْ لِي هَيْئَتُهُ ، فَإِذَا هُوَ يُصَلِّي فَعَرَفْتُهُ بِالنَّعْتِ ، فَسَلَّمْتُ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ حَتَّى انْصَرَفَ ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيَّ ، فَقُلْتُ : أَنْتَ أَبُو ذَرٍّ ؟ قَالَ : إِنَّ أَهْلِي يَزْعُمُونَ ذَاكَ ! فَقُلْتُ : مَا كَانَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ أَحَبَّ إِلَيَّ رُؤْيَتُهُ مِنْكَ ، فَقَالَ : قَدْ رَأَيْتَنِي ! فَقُلْتُ : إِنِّي كُنْتُ أَعْزُبُ عَنِ الْمَاءِ فَتُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ ، فَلَبِثْتُ أَيَّامًا أَتَيَمَّمُ ، فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ ، أَوْ أُشْكِلَ عَلَيَّ ! فَقَالَ : أَتَعْرِفُ أَبَا ذَرٍّ ؟ ! كُنْتُ بِالْمَدِينَةِ فَاجْتَوَيْتُهَا ، فَأَمَرَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغُنَيْمَةٍ ، فَخَرَجْتُ فِيهَا فَأَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ ، فَتَيَمَّمْتُ بِالصَّعِيدِ ، فَصَلَّيْتُ أَيَّامًا ، فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنِّي هَالِكٌ ، فَأَمَرْتُ بِنَاقَةٍ لِي أَوْ قَعُودٍ ، فَشُدَّ عَلَيْهَا ثُمَّ رَكِبْتُ ، قَالَ : حَتَّى قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ ، فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ظِلِّ الْمَسْجِدِ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ وَقَالَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ ، أَبُو ذَرٍّ ؟ ! " فَقُلْتُ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ ، فَتَيَمَّمْتُ أَيَّامًا ، فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنِّي هَالِكٌ ، فَدَعَا لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ ، فَجَاءَتْ بِهِ أَمَةٌ سَوْدَاءُ فِي عُسٍّ يَتَخَضْخَضُ ، فَاسْتَتَرْتُ بِالرَّاحِلَةِ ، وَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا فَسَتَرَنِي فَاغْتَسَلْتُ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، إِنَّ الصَّعِيدَ الطَّيِّبَ طَهُورٌ مَا لَمْ تَجِدْ الْمَاءَ وَلَوْ فِي عَشْرِ حِجَجٍ ، فَإِذَا قَدَرْتَ عَلَى الْمَاءِ فَأَمِسَّهُ بَشَرَتَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
بنی عامر کے ایک صاحب کا کہنا ہے (وہ صاحب ابوالمہلب خرمی ہیں) کہ میں کافر تھا اللہ نے مجھے اسلام کی طرف ہدایت دے دی ہمارے علاقے میں پانی نہیں تھا اہلیہ میرے ساتھ تھی جس کی بناء پر بعض اوقات مجھے جنابت لاحق ہوجاتی، میرے دل میں یہ مسئلہ معلوم کرنے کی اہمیت بیٹھ گئی کسی شخص نے مجھے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کا پتہ بتادیا میں حج کے لئے روانہ ہوا اور مسجد منٰی میں داخل ہوا تو حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو پہچان گیا وہ عمر رسیدہ تھے انہیں پسینہ آیا ہوا تھا اور انہوں نے اونی جوڑا پہن رکھا تھا میں جا کر ان کے پہلو میں کھڑا ہوگیا وہ نماز پڑھ رہے تھے میں نے انہیں سلام کیا لیکن انہوں نے جواب نہ دیا خوب اچھی طرح مکمل نماز پڑھنے کے بعد انہوں نے میرے سلام کا جواب دیا میں نے ان سے پوچھا کہ آپ ہی ابوذر ہیں ؟ انہوں نے فرمایا میرے گھر والے تو یہی سمجھتے ہیں پھر میں نے انہیں اپنا واقعہ سنایا انہوں نے فرمایا کیا تم ابوذر کو پہچانتے ہو ؟ میں نے کہا جی ہاں ! انہوں نے فرمایا مجھے مدینہ کی آب وہوا موافق نہ آئی تھی یا فرمایا کہ مجھے پیٹ کا مرض لاحق ہوگیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کچھ اونٹوں اور بکریوں کے دودھ پینے کا حکم فرمایا حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں پانی (کے علاقے) سے دور رہتا تھا میرے ساتھ اہل و عیال بھی تھے جب مجھے غسل کی ضرورت پیش آتی تو میں بغیر پاکی حاصل کئے ہوئے نماز پڑھ لیا کرتا ایک مرتبہ جب میں خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوا تو وہ دوپہر کا وقت تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ مسجد کے سایہ میں تشریف فرما تھے میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میں ہلاک ہوگیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا بات ہوگئی ؟ میں نے عرض کیا کہ حضرت ! میں پانی (کے علاقے سے) دور تھا میرے ہمراہ میری اہلیہ بھی تھی مجھے غسل کی جب ضرورت پیش آجاتی تو میں بغیر غسل کئے ہی نماز پڑھ لیا کرتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے پانی منگوانے کا حکم فرمایا چنانچہ ایک کالے رنگ کی باندی میرے لئے بڑے پیالے میں پانی لے کر آئی۔ پیالہ کا پانی ہل رہا تھا کیونکہ پیالہ بھرا ہوا نہیں تھا میں نے ایک اونٹ کی اڑ میں غسل کیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پاک مٹی بھی مطہر ہوتی ہے جب تک پانی نہ ملے اگرچہ تم کو دس سال تک بھی پانی میسر نہ آسکے البتہ جب پانی مل جائے تو اس کو بدن پر بہا لو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21305
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21306
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، قَالَ : أَخَّرَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ الصَّلَاةَ ، فَسَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الصَّامِتِ فَضَرَبَ فَخِذِي ، قَالَ : سَأَلَتُ خَلِيلِي أَبَا ذَرٍّ فَضَرَبَ فَخِذِي ، وَقَالَ : سَأَلْتُ خَلِيلِي يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " صَلِّ لِمِيقَاتِهَا ، فَإِنْ أَدْرَكْتَ فَصَلِّ مَعَهُمْ ، وَلَا تَقُولَنَّ : إِنِّي قَدْ صَلَّيْتُ فَلَا أُصَلِّي " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالعالیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبیداللہ بن زیاد نے کسی نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کردیا میں نے عبداللہ بن صامت رحمہ اللہ سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے میری ران پر ہاتھ مار کر کہا کہ یہی سوال میں نے اپنے دوست حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا تو انہوں نے میری ران پر ہاتھ مار کر فرمایا کہ یہی سوال میں نے اپنے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نماز تو اپنے وقت پر پڑھ لیا کرو اگر ان لوگوں کے ساتھ شریک ہونا پڑے تو دوبارہ ان کے ساتھ (نفل کی نیت سے) نماز پڑھ لیا کرو یہ نہ کہا کرو کہ میں تو نماز پڑھ چکا ہوں لہٰذا اب نہیں پڑھتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21306
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 648
حدیث نمبر: 21307
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَحْسَنَ مَا غُيِّرَ بِهِ هَذَا الشَّيْبُ الْحِنَّاءُ وَالْكَتَمُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بالوں کی اس سفیدی کو بدلنے والی سب سے بہترین چیز مہندی اور وسمہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21307
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21308
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْمُخَارِقِ ، قَالَ : خَرَجْنَا حُجَّاجًا ، فَلَمَّا بَلَغْنَا الرَّبَذَةَ ، قُلْتُ لِأَصْحَابِي : تَقَدَّمُوا وَتَخَلَّفْتُ ، فَأَتَيْتُ أَبَا ذَرٍّ وَهُوَ يُصَلِّي ، فَرَأَيْتُهُ يُطِيلُ الْقِيَامَ ، وَيُكْثِرُ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : مَا أَلَوْتُ أَنْ أُحْسِنَ ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ رَكَعَ رَكْعَةً أَوْ سَجَدَ سَجْدَةً رُفِعَ بِهَا دَرَجَةً ، وَحُطَّتْ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
مخارق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حج کے ارادے سے نکلے جب ہم مقام ربذہ میں پہنچے تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ تم آگے چلو اور میں خود پیچھے رہ گیا میں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا وہ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے میں نے طویل قیام اور کثرت رکوع و سجود کرتے ہوئے دیکھا میں نے ان سے اس چیز کا تذکرہ کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں اپنی طرف سے بہتر سے بہتر میں کوئی کمی نہیں کرتا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص ایک رکوع یا ایک سجدہ کرتا ہے اس کا ایک درجہ بلند ہوتا ہے اور ایک گناہ معاف ہو کردیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21308
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة المخارق
حدیث نمبر: 21309
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْد الله ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى أَبِي هَذَا الْحَدِيثَ فَأَقَرَّ بِهِ ، حَدَّثَنِي مَهْدِيُّ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّمْلِيُّ ، حَدَّثَنِي ضَمْرَةُ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ السَّيْبَانِيِّ ، عَنْ قَنْبَرٍ حَاجِبِ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : كَانَ أَبُو ذَرٍّ يُغَلِّظُ لِمُعَاوِيَةَ ، قَالَ : فَشَكَاهُ إِلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، وَإِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ ، وَإِلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، وَإِلَى أُمِّ حَرَامٍ ، فَقَالَ : " إِنَّكُمْ قَدْ صَحِبْتُمْ كَمَا صَحِبَ ، وَرَأَيْتُمْ كَمَا رَأَى ، فَإِنْ رَأَيْتُمْ أَنْ تُكَلِّمُوهُ ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى أَبِي ذَرٍّ فَجَاءَ فَكَلَّمُوهُ ، فَقَالَ : أَمَّا أَنْتَ يَا أَبَا الْوَلِيدِ ، فَقَدْ أَسْلَمْتَ قَبْلِي ، وَلَكَ السِّنُّ وَالْفَضْلُ عَلَيَّ ، وَقَدْ كُنْتُ أَرْغَبُ بِكَ عَنْ مِثْلِ هَذَا الْمَجْلِسِ ، وَأَمَّا أَنْتَ يَا أبا الدَّرْدَاءِ ، فَإِنْ كَادَتْ وَفَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَفُوتَكَ ، ثُمَّ أَسْلَمْتَ ، فَكُنْتَ مِنْ صَالِحِي الْمُسْلِمِينَ ، وَأَمَّا أَنْتَ يَا عَمْرُو بْنَ الْعَاصِ ، فَقَدْ جَاهَدْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَمَّا أَنْتِ يَا أُمَّ حَرَامٍ ، فَإِنَّمَا أَنْتِ امْرَأَةٌ ، وَعَقْلُكِ عَقْلُ امْرَأَةٍ ، وَأَمَّا أَنْتَ وَذَاكَ ؟ ! قَالَ : فَقَالَ : عُبَادَةُ لَا جَرَمَ لَا جَلَسْتُ مِثْلَ هَذَا الْمَجْلِسِ أَبَدًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے تلخ باتیں کرتے تھے جس کی شکایت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ اور ابودرداء رضی اللہ عنہ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اور حضرت ام حرام رضی اللہ عنہ کے سامنے کی اور فرمایا کہ جیسے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت پائی ہے آپ لوگوں کو بھی یہ شرف حاصل ہے اور جس طرح انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے آپ نے بھی کی ہے آپ لوگ مناسب سمجھیں تو ان سے بات کریں انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو بلایا۔جب وہ آگئے تو مذکورہ حضرات نے ان سے گفتگو کی انہوں نے فرمایا اے ابو الولید ! آپ نے تو مجھ سے پہلے اسلام قبول کیا ہے آپ عمر اور فضیلت میں مجھ سے بڑھ کر ہیں میں ایسی مجلس سے آپ کو بچنے کی ترغیب دیتا ہوں اور اے ابودرداء آپ نے اسلام اس وقت قبول کیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کا زمانہ قریب آگیا تھا آپ نیک مسلمان ہیں اور اے عمرو بن عاص ! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ آپ سے جہاد کیا ہوا ہے اور اے ام حرام ! آپ ایک عورت ہیں اور آپ کی عقل بھی عورت والی ہے آپ اس معاملے میں نہ پڑیں حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ یہ رنگ دیکھ کر کہنے لگے یہ بات طے ہوگئی کہ آج کے بعد ایسی مجالس میں نہیں بیٹھوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21309
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، وفي بعض حروفه نكارة، قنبر مجهول
حدیث نمبر: 21310
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو ذَرٍّ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَخْلَصَ قَلْبَهُ لِلْإِيمَانِ ، وَجَعَلَ قَلْبَهُ سَلِيمًا ، وَلِسَانَهُ صَادِقًا ، وَنَفْسَهُ مُطْمَئِنَّةً ، وَخَلِيقَتَهُ مُسْتَقِيمَةً ، وَجَعَلَ أُذُنَهُ مُسْتَمِعَةً ، وَعَيْنَهُ نَاظِرَةً ، فَأَمَّا الْأُذُنُ فَقَمِعٌ ، وَالْعَيْنُ بِمُقِرَّةٍ لِمَا يُوعَى الْقَلْبُ ، وَقَدْ أَفْلَحَ مَنْ جَعَلَ قَلْبَهُ وَاعِيًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ شخص کامیاب ہوگیا جس نے اپنے دل کو ایمان کے لئے خالص کرلیا اور اسے قلب سلیم، لسان صادق، نفس مطمئنہ اور اخلاق حسنہ عطاء کئے گئے ہوں اس کے کانوں کو شنوائی اور آنکھوں کو بینائی دی گئی ہو اور کانوں کی مثال پیندے کی سی ہے جبکہ آنکھ دل میں محفوظ ہونے والی چیزوں کو ٹھکانہ فراہم کرتی ہے اور وہ شخص کامیاب ہوگیا جس کا دل محفوظ کرنے والا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21310
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، بقية لم يصرح بالتحديث فى جميع طبقات السند، وخالد بن معدان كان يرسل، ولم يصرح بسماعه من أبى ذر
حدیث نمبر: 21311
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَقُولُ اللَّهُ : يَا ابْنَ آدَمَ ، لَوْ عَمِلْتَ قِرَابَ الْأَرْضِ خَطَايَا وَلَمْ تُشْرِكْ بِي شَيْئًا ، جَعَلْتُ لَكَ قُرَابَ الْأَرْضِ مَغْفِرَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے بحوالہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم ! اگر تو زمین بھر کر گناہ کرے لیکن میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو میں زمین بھر کر بخشش تیرے لئے مقرر کردوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21311
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2687
حدیث نمبر: 21312
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ غَيْلَانَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الْحِمْصِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَزَالُ أُمَّتِي بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْإِفْطَارَ ، وَأَخَّرُوا السُّحُورَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت اس وقت تک خیر پر قائم رہے گی جب تک وہ افطاری میں جلدی اور سحری میں تاخیر کرتی رہے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21312
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ ، وسليمان بن أبى عثمان وعدي بن حاتم مجهولان
حدیث نمبر: 21313
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي ذَرٍّ لَوْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَسَأَلْتُهُ ، قَالَ : وَمَا كُنْتَ تَسْأَلُهُ ؟ قَالَ : كُنْتُ أَسْأَلُهُ هَلْ رَأَى رَبَّهُ ؟ قَالَ : فَإِنِّي قَدْ سَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : " قَدْ رَأَيْتُهُ نُورًا ، أَنَّى أَرَاهُ ؟ ! " ، قَالَ عَفَّانُ : وَبَلَغَنِي عَنْ ابْنِ هِشَامٍ يَعْنِي مُعَاذًا ، أَنَّهُ رَوَاهُ عَنْ أَبِيهِ كَمَا قَالَ هَمَّامٌ : " قَدْ رَأَيْتُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ کاش ! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہوتا تو ان سے ایک سوال ہی پوچھ لیتا، انہوں نے فرمایا تم ان سے کیا سوال پوچھتے ؟ انہوں نے کہا کہ میں یہ سوال پوچھتا کہ کیا آپ نے اپنے رب کی زیارت کی ہے ؟ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ سوال تو میں ان سے پوچھ چکا ہوں جس کے جواب میں انہوں نے فرمایا تھا کہ میں نے ایک نور دیکھا ہے، میں اسے کہاں دیکھ سکتا ہوں ؟ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21313
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 178
حدیث نمبر: 21314
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي بُعِثْتُ إِلَى الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ ، وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا ، وَأُحِلَّتْ لِي الْغَنَائِمُ ، وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ ، فَيُرْعَبُ الْعَدُوُّ وَهُوَ مِنِّي مَسِيرَةَ شَهْرٍ ، وَقِيلَ لِي سَلْ تُعْطَهْ ، وَاخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي ، فَهِيَ نَائِلَةٌ مِنْكُمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، مَنْ لَمْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے پانچ ایسی خصوصیات دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں چنانچہ رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے اور ایک مہینے کی مسافت پر ہی دشمن مجھ سے مرعوب ہوجاتا ہے، روئے زمین کو میرے لئے سجدہ گاہ اور باعث طہارت قرار دے دیا گیا ہے میرے لئے مال غنیمت کو حلال کردیا گیا ہے جو کہ مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں ہوا مجھے ہر سرخ و سیاہ کی طرف مبعوث کیا گیا ہے اور مجھ سے کہا گیا کہ مانگیے آپ کو دیا جائے گا تو میں نے اپنا یہ حق اپنی امت کی سفارش کے لئے محفوظ کرلیا ہے اور یہ شفاعت تم میں سے ہر اس شخص کو مل کر رہے گی جو اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21314
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21315
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، أَنَّ أَبَا ذَرٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرْوِي عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، أَنَّهُ قَالَ : " الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا أَوْ أَزِيدُ ، وَالسَّيِّئَةُ بِوَاحِدَةٍ أَوْ أَغْفِرُ ، وَلَوْ لَقِيتَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطَايَا ، مَا لَمْ تُشْرِكْ بِي ، لَقِيتُكَ بِقُرَابِهَا مَغْفِرَةً " ، قَالَ : وَقُرَابُ الْأَرْضِ مِلْءُ الْأَرْضِ ،
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صادق ومصدوق نے ہم سے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بیان کیا ہے کہ ایک نیکی کا ثواب دس گنا ہے جس میں میں اضافہ بھی کرسکتا ہوں اور ایک گناہ کا بدلہ اس کے برابر ہی ہے اور میں اسے معاف بھی کرسکتا ہوں اور اے ابن آدم ! اگر تو زمین بھر کر گناہوں کے ساتھ مجھ سے ملے لیکن میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو میں زمین بھر کر بخشش کے ساتھ تجھ سے ملوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21315
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2687، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21316
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : سَمِعْتُ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21316
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2687، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21317
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، قَالَ : قَعَدْتُ إِلَى نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَجَعَلَ يُصَلِّي يَرْكَعُ وَيَسْجُدُ ثُمَّ يَقُومُ ، ثُمَّ يَرْكَعُ وَيَسْجُدُ لَا يَقْعُدُ ، فَقُلْتُ وَاللَّهِ مَا أَرَى هَذَا يَدْرِي يَنْصَرِفُ عَلَى شَفْعٍ أَوْ وِتْرٍ ، فَقَالُوا : أَلَا تَقُومُ إِلَيْهِ فَتَقُولَ لَهُ ؟ ! قَالَ : فَقُمْتُ ، فَقُلْتُ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، مَا أَرَاكَ تَدْرِي تَنْصَرِفُ عَلَى شَفْعٍ أَوْ عَلَى وَتْرٍ ، قَالَ : وَلَكِنَّ اللَّهَ يَدْرِي ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ سَجَدَ لِلَّهِ سَجْدَةً ، كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا حَسَنَةً ، وَحَطَّ بِهَا عَنْهُ خَطِيئَةً ، وَرَفَعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةً " ، فَقُلْتُ : مَنْ أَنْتَ ؟ فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ : فَرَجَعْتُ إِلَى أَصْحَابِي ، فَقُلْتُ : جَزَاكُمْ اللَّهُ مِنْ جُلَسَاءَ شَرًّا ، أَمَرْتُمُونِي أَنْ أُعَلِّمَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
مطرف کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں قریش کے کچھ لوگوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی آیا اور نماز پڑھنے لگا وہ رکوع سجدہ کرتا پھر کھڑا ہو کر رکوع سجدہ کرتا اور درمیان میں نہ بیٹھتا، میں نے کہا بخدا ! یہ تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کچھ بھی نہیں جانتا کہ جفت یا طاق رکعتوں پر سلام پھیر کر فارغ ہوجائے لوگوں نے مجھ سے کہا کہ اٹھ کر ان کے پاس جاتے اور انہیں سمجھاتے کیوں نہیں ہو ؟ میں اٹھ کر اس کے پاس چلا گیا اور اس سے کہا کہ اے بندہ خدا ! لگتا ہے کہ آپ کو کچھ معلوم نہیں ہے کہ جفت یا طاق رکعتوں پر نماز سے فارغ ہوجائیں، اس نے کہا کہ اللہ تو جانتا ہے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اللہ کے لئے کوئی سجدہ کرتا ہے اللہ اس کے لئے ایک نیکی لکھ دیتا ہے اور ایک گناہ معاف کردیتا ہے اور ایک درجہ بلند کردیتا ہے میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کون ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ ابوذر ہوں تو میں نے اپنے ساتھیوں کے پاس واپس آکر کہا کہ اللہ تمہیں تمہارے ساتھیوں کی طرف سے برا بدلہ دے تم نے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ کو دین سکھانے کے لئے بھیج دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21317
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 21318
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ عَلِيُّ بْنُ مُدْرِكٍ : أَخْبَرَنِي ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمْ اللَّهُ ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ هُمْ ؟ خَسِرُوا وَخَابُوا ! قَالَ : فَأَعَادَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، قَالَ : " الْمُسْبِلُ ، وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ ، أَوْ الْفَاجِرِ ، وَالْمَنَّانُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین قسم کے آدمی ایسے ہوں گے جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات کرے گا نہ انہیں دیکھے اور ان کا تزکیہ کرے گا اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہوگا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ کون لوگ ہیں ؟ یہ تو نقصان اور خسارے میں پڑگئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات تین مرتبہ دہرا کر فرمایا تہبند کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا جھوٹی قسم کھا کر اپنا سامان فروخت کرنے والا اور احسان جتانے والا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21318
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 106
حدیث نمبر: 21319
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ حَصِيرَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو ذَرٍّ : لَأَنْ أَحْلِفَ عَشْرَ مِرَارٍ أَنَّ ابْنَ صَائِدٍ هُوَ الدَّجَّالُ ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَحْلِفَ مَرَّةً وَاحِدَةً أَنَّهُ لَيْسَ بِهِ ، قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنِي إِلَى أُمِّهِ ، فَقَالَ : " سَلْهَا كَمْ حَمَلَتْ بِهِ " ، قَالَ : فَأَتَيْتُهَا فَسَأَلْتُهَا ، فَقَالَتْ : حَمَلْتُ بِهِ اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا ، قَالَ : ثُمَّ أَرْسَلَنِي إِلَيْهَا ، فَقَالَ : " سَلْهَا عَنْ صَيْحَتِهِ حِينَ وَقَعَ " ، قَالَ : فَرَجَعْتُ إِلَيْهَا فَسَأَلْتُهَا ، فَقَالَتْ : صَاحَ صَيْحَةَ الصَّبِيِّ ابْنِ شَهْرٍ ، ثُمَّ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبْئًا " قَالَ : خَبَأْتَ لِي خَطْمَ شَاةٍ عَفْرَاءَ وَالدُّخَانَ ، قَالَ : فَأَرَادَ أَنْ يَقُولَ : الدُّخَانَ فَلَمْ يَسْتَطِعْ ، فَقَالَ : الدُّخُّ الدُّخُّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اخْسَأْ ، فَإِنَّكَ لَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے دس مرتبہ یہ قسم کھانا کہ ابن صیاد ہی دجال ہے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں ایک مرتبہ اس کے دجال نہ ہونے کی قسم کھاؤں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ مجھے اس کی ماں کے پاس بھیجا اور فرمایا اس سے پوچھ کر آؤ کہ وہ ابن صیاد سے کتنے عرصے تک حاملہ رہی ؟ چنانچہ میں نے اس سے جاکر پوچھا تو اس نے بتایا میں اس سے بارہ مہینے تک حاملہ رہی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دوبارہ اس کے پاس بھیجا اور فرمایا اس سے یہ پوچھو کہ جب وہ پیدا ہوا تو اس کی آواز کیسی تھی ؟ میں نے دوبارہ جا کر اس سے یہ سوال پوچھا تو اس نے بتایا جیسے ایک مہینے کے بچے کی آواز ہوتی ہے یہ اس طرح رویا چیخا تھا۔ پھر ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ میں نے تیرے لئے ایک بات اپنے ذہن میں سوچی ہے بتا وہ کیا ہے ؟ اس نے کہا کہ آپ نے میرے لئے ایک سفید بکری کی ناک اور دھواں سوچا ہے وہ " دخان " کا لفظ کہنا چاہتا تھا لیکن کہہ نہ سکا اس لئے صرف دخ دخ ہی کہنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا دور ہو تو اپنی حیثیت سے آگے ہرگز نہیں بڑھ سکتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21319
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث منكر لأجل الحارث بن حصيرة، وأما حديث صياد يعني أصل حديثه فقد رواه جماعة من أصحاب النبى عنه بأسانيد صحاح
حدیث نمبر: 21320
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَسْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْكَلَامِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " مَا اصْطَفَاهُ اللَّهُ لِعِبَادِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا کلام سب سے افضل ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہی ہے جو اللہ نے اپنے بندوں کے لئے منتخب کیا ہے یعنی سبحان اللہ وبحمدہ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21320
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2731
حدیث نمبر: 21321
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْرُوفٍ ، أَنَّ أَبَا ذَرٍّ حَدَّثَهُمْ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَوْ أَنَّ عَبْدِي اسْتَقْبَلَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطَايَا ، اسْتَقْبَلْتُهُ بِقُرَابِهَا مَغْفِرَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) اگر میرا بندہ زمین بھر کر گناہوں کے ساتھ میرے سامنے آئے تو میں زمین بھر کر بخشش کے ساتھ اس کے سامنے آؤں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21321
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2687، وهذا إسناد ضعيف، على بن زيد ضعيف، وأبو معروف مجهول
حدیث نمبر: 21322
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي أُحُدًا ذَهَبًا ، أَمُوتُ يَوْمَ أَمُوتُ وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ أَوْ نِصْفُ دِينَارٍ ، إِلَّا أَنْ أَرْصُدَهُ لِغَرِيمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ میرے لئے احد پہاڑ کو سونے کا بنادیا جائے اور جس دن میں دنیا سے رخصت ہو کر جاؤں تو اس میں سے ایک یا آدھا دینار بھی میرے پاس بچ گیا ہو الاّ یہ کہ میں اسے کسی قرض خواہ کے لئے رکھ لوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21322
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، سعيد بن الحارث خطأ، صوابه سويد بن الحارث، وسويد هذا مجهول
حدیث نمبر: 21323
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَقْطَعُ صَلَاةَ الرَّجُلِ ، إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ كَآخِرَةِ الرَّحْلِ الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ وَالْكَلْبُ الْأَسْوَدُ " ، قُلْتُ : مَا بَالُ الْأَسْوَدِ مِنَ الْأَحْمَرِ ؟ قَالَ : ابْنَ أَخِي ، سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي ، فَقَالَ : " الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ شَيْطَانٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر انسان کے سامنے کجاوے کا پچھلا حصہ بھی نہ ہو تو اس کی نماز عورت، گدھے یا کالے کتے کے اس کے آگے سے گذرنے پر ٹوٹ جائے گی، راوی نے پوچھا کہ کالے اور سرخ کتے میں کیا فرق ہے ؟ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بھیتجے ! میں نے بھی اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا تھا جیسے تم نے مجھ سے پوچھا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کالا کتا شیطان ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21323
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 510
حدیث نمبر: 21324
حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ، فَإِنْ أَتَيْتَ النَّاسَ وَقَدْ صَلَّوْا ، كُنْتَ قَدْ أَحْرَزْتَ صَلَاتَكَ ، وَإِنْ لَمْ يَكُونُوا صَلَّوْا ، صَلَّيْتَ مَعَهُمْ وَكَانَتْ لَكَ نَافِلَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے بوذر ! نماز کو اس کے وقت مقررہ پر ادا کرنا اگر تم اس وقت آؤ جب لوگ نماز پڑھ چکے ہوں تو تم اپنی نماز محفوظ کرچکے ہوگے اور اگر انہوں نے نماز نہ پڑھی ہو تو تم ان کے ساتھ شریک ہوجانا اور یہ نماز تمہارے لئے نفل ہوجائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21324
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 648
حدیث نمبر: 21325
حَدَّثَنَا مَرْحُومٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا وَأَرْدَفَنِي خَلْفَهُ ، وَقَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، أَرَأَيْتَ إِنْ أَصَابَ النَّاسَ جُوعٌ شَدِيدٌ لَا تَسْتَطِيعُ أَنْ تَقُومَ مِنْ فِرَاشِكَ إِلَى مَسْجِدِكَ ، كَيْفَ تَصْنَعُ ؟ " قَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " تَعَفَّفْ " ، قَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، أَرَأَيْتَ إِنْ أَصَابَ النَّاسَ مَوْتٌ شَدِيدٌ يَكُونُ الْبَيْتُ فِيهِ بِالْعَبْدِ يَعْنِي الْقَبْرَ كَيْفَ تَصْنَعُ ؟ " قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " اصْبِرْ " ، قَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا يَعْنِي حَتَّى تَغْرَقَ حِجَارَةُ الزَّيْتِ مِنَ الدِّمَاءِ ، كَيْفَ تَصْنَعُ ؟ " قَالَ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " اقْعُدْ فِي بَيْتِكَ ، وَأَغْلِقْ عَلَيْكَ بَابَكَ " ، قَالَ : فَإِنْ لَمْ أُتْرَكْ ؟ قَالَ : " فَأْتِ مَنْ أَنْتَ مِنْهُمْ ، فَكُنْ فِيهِمْ " ، قَالَ : فَآخُذُ سِلَاحِي ؟ قَالَ : " إِذًا تُشَارِكَهُمْ فِيمَا هُمْ فِيهِ ، وَلَكِنْ إِنْ خَشِيتَ أَنْ يَرُوعَكَ شُعَاعُ السَّيْفِ ، فَأَلْقِ طَرَفَ رِدَائِكَ عَلَى وَجْهِكَ حَتَّى يَبُوءَ بِإِثْمِهِ وَإِثْمِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے پر سوار ہوئے اور مجھے اپنا ردیف بنالیا اور فرمایا ابوذر ! یہ بتاؤ کہ جب لوگ شدید قحط میں مبتلا ہوجائیں گے اور تم اپنے بستر سے اٹھ کر مسجد تک نہیں جاسکو گے تو اس وقت تم کیا کرو گے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس وقت بھی اپنے آپ کو سوال کرنے سے بچانا پھر فرمایا ابوذر ! یہ بتاؤ کہ جب لوگ شدت کے ساتھ بکثرت مرنے لگیں گے اور آدمی کا گھر قبر ہی ہوگی تو تم کیا کرو گے ؟ عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس وقت بھی صبر کرنا، پھر فرمایا ابوذر ! یہ بتاؤ کہ جب لوگ ایک دوسرے کو قتل کرنے لگیں گے اور حجارۃ الزیت " خون میں ڈوب جائے گا تو تم کیا کرو گے ؟ عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں فرمایا اپنے گھر میں بیٹھ جانا اور اس کا دروازہ اندر سے بند کرلینا۔ انہوں نے پوچھا کہ اگر مجھے گھر میں رہنے ہی نہ دیا جائے تو کیا کروں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تم ان لوگوں کے پاس چلے جانا جن میں سے تم ہو اور ان میں شامل ہوجانا انہوں نے عرض کیا میں تو اپنا اسلحہ پکڑ لوں گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو تم بھی ان کے شریک سمجھے جاؤ گے اس لئے اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ تلوار کی دھار سے تمہیں خطرہ ہے تو تم اپنی چادر اپنے چہرے پر ڈال لینا تاکہ وہ اپنا اور تمہارا گناہ لے کر لوٹ جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21325
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21326
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهُ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، إِذَا طَبَخْتَ فَأَكْثِرْ الْمَرَقَةَ ، وَتَعَاهَدْ جِيرَانَكَ " أَوْ " اقْسِمْ بَيْنَ جِيرَانِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ان سے فرمایا اے ابوذر ! جب کھانا پکایا کرو توشوربہ بڑھا لیا کرو اور اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21326
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2625
حدیث نمبر: 21327
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا آنِيَةُ الْحَوْضِ ؟ قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَآنِيَتُهُ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ وَكَوَاكِبِهَا فِي اللَّيْلَةِ الْمُظْلِمَةِ الْمُصْحِيَةِ ، آنِيَةُ الْجَنَّةِ مَنْ شَرِبَ مِنْهَا لَمْ يَظْمَأْ آخِرَ مَا عَلَيْهِ ، يَشْخَبُ فِيهِ مِيزَابَانِ مِنَ الْجَنَّةِ ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ ، عَرْضُهُ مِثْلُ طُولِهِ ، مَا بَيْنَ عَمَّانَ إِلَى أَيْلَةَ ، مَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ حوض کوثر پر کتنے برتن ہوں گے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تاریک رات میں آسمان کے نجوم و کواکب کی تعداد سے بھی زیادہ اس کے برتن ہوں گے وہ جنت کے برتن ہوں گے جو شخص اس حوض کا پانی ایک مرتبہ پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا اس پر جنت کے دو پرنالے بہہ رہے ہوں گے جو اس کا پانی پی لے گا اسے دوبارہ کبھی پیاس نہ لگے گی۔ اس کی چوڑائی بھی لمبائی کے برابر ہوگی اور اس کی مسافت اتنی ہوگی جتنی عمان سے ایلہ تک ہے اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ شیریں ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21327
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2300