حدیث نمبر: 21181
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، قَالَ : قُلْتُ لِأُبَيٍّ ، إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ ، يَقُولُ : فِي الْمُعَوِّذَتَيْنِ ، فَقَالَ : سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمَا ، فَقَالَ : " قِيلَ لِي ، فَقُلْتُ : فَأَنَا أَقُولُ كَمَا قَالَ " . .
مولانا ظفر اقبال
زر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ معوذتین کے متعلق کہتے ہیں (کہ یہ قرآن کا حصہ نہیں ہیں اسی لئے وہ انہیں اپنے نسخے میں نہیں لکھتے ؟ ) حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان سورتوں کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ سے کہنے کے لئے فرمایا گیا ہے۔ ( "" قل "" کہہ دیجئے) لہٰذا میں کہہ دیتا ہوں چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو چیز کہی ہے وہ میں بھی کہتا ہوں۔
زر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی رضی اللہ عنہ سے معوذتین کے متعلق پوچھا حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان سورتوں کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ سے کہنے کے لئے فرمایا گیا ہے۔ ( "" قل "" کہہ دیجئے) لہٰذا میں کہہ دیتا ہوں چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو چیز کہی ہے وہ ہم بھی کہتے ہیں۔
زر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی رضی اللہ عنہ سے معوذتین کے متعلق پوچھا حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان سورتوں کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ سے کہنے کے لئے فرمایا گیا ہے۔ ( "" قل "" کہہ دیجئے) لہٰذا میں کہہ دیتا ہوں چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو چیز کہی ہے وہ ہم بھی کہتے ہیں۔
گزشتہ حدیث اس دوسری سند بھی مروی ہے۔
زر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی رضی اللہ عنہ سے معوذتین کے متعلق پوچھا حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان سورتوں کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ سے کہنے کے لئے فرمایا گیا ہے۔ ( "" قل "" کہہ دیجئے) لہٰذا میں کہہ دیتا ہوں چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو چیز کہی ہے وہ ہم بھی کہتے ہیں۔
زر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ معوذتین کے متعلق کہتے ہیں (کہ یہ قرآن کا حصہ نہیں ہیں اسی لئے وہ انہیں اپنے نسخے میں نہیں لکھتے ؟ ) حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان سورتوں کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ سے کہنے کے لئے فرمایا گیا ہے۔ ( «قل» کہہ دیجئے) لہٰذا میں کہہ دیتا ہوں چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو چیز کہی ہے وہ ہم بھی کہتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21181
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21182
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، قَالَ : سَأَلْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ عَنِ الْمُعَوِّذَتَيْنِ ، فَقَالَ : سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمَا ، فَقَالَ : " قِيلَ لِي ، فَقُلْتُ لَكُمْ ، فَقُولُوا " ، قَالَ أُبَيٌّ ، فَقَالَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَحْنُ نَقُولُ . .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21182
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21183
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمُعَوِّذَتَيْنِ ، فَقَالَ : " قِيلَ لِي ، فَقُلْتُ " قَالَ أُبَيٌّ ، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَحْنُ نَقُولُ . .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21183
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21184
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، بِمِثْلِهِ . .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21184
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21185
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرٍّ ، قَالَ : سَأَلْتُ أُبَيًّا عَنِ الْمُعَوِّذَتَيْنِ ، فَقَالَ : إِنِّي سَأَلْتُ عَنْهُمَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فَقِيلَ لِي ، فَقُلْتُ " فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَحْنُ نَقُولُ . .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21185
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21186
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، إِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ لَا يَكْتُبُ الْمُعَوِّذَتَيْنِ فِي مُصْحَفِهِ ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَنِي أَنَّ جِبْرِيلَ ، قَالَ لَهُ : " قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ سورة الفلق آية 1 ، فَقُلْتُهَا ، فَقَالَ : قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ سورة الناس آية 1 ، فَقُلْتُهَا ، فَنَحْنُ نَقُولُ : مَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21186
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21187
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ أُبَيٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21187
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21188
حَدَّثَنَا عَبْدُ الله ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَشْكَابٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مَعْنٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : " كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَحُكُّ الْمُعَوِّذَتَيْنِ مِنْ مَصَاحِفِهِ ، وَيَقُولُ : إِنَّهُمَا لَيْسَتَا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ ، قَالَ الْأَعْمَشُ وَحَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : سَأَلْنَا عَنْهُمَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " قِيلَ لِي ، فَقُلْتُ " .
مولانا ظفر اقبال
زر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ معوذتین کے متعلق کہتے ہیں (کہ یہ قرآن کا حصہ نہیں ہیں اسی لئے وہ انہیں اپنے نسخے میں نہیں لکھتے ؟ ) حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان سورتوں کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ سے کہنے کے لئے فرمایا گیا ہے۔ ( " قل " کہہ دیجئے) لہٰذا میں کہہ دیتا ہوں چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو چیز کہی ہے وہ ہم بھی کہتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21188
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21189
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدةَ ، وَعَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، قَالَ : قُلْتُ لِأُبَيٍّ ، إِنَّ أَخَاكَ يَحُكُّهُمَا مِنَ الْمُصْحَفِ ، قِيلَ لِسُفْيَانَ ابْنِ مَسْعُودٍ ؟ فَلَمْ يُنْكِرْ ، قَالَ : سَألتُ رَسُول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " قِيلَ لِي ، فَقُلْتُ " فَنحن نَقُولُ كَمَا قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ سُفْيَان يُحُكُّهُمَا المَعُوذِّتين ، وَلَيْسَا فِي مُصْحَفِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، كَانَ يَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَوِّذُ بِهِمَا الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ ، وَلَمْ يَسْمَعْهُ يَقْرَؤُهُمَا فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاتِهِ ، فَظَنَّ أَنَّهُمَا عُوذَتَانِ ، وَأَصَرَّ عَلَى ظَنِّهِ ، وَتَحَقَّقَ الْبَاقُونَ كَوْنَهُمَا مِنَ الْقُرْآنِ ، فَأَوْدَعُوهُمَا إِيَّاهُ .
مولانا ظفر اقبال
زر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ معوذتین کے متعلق کہتے ہیں (کہ یہ قرآن کا حصہ نہیں ہیں اسی لئے وہ انہیں اپنے نسخے میں نہیں لکھتے ؟ ) حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان سورتوں کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ سے کہنے کے لئے فرمایا گیا ہے۔ ( " قل " کہہ دیجئے) لہٰذا میں کہہ دیتا ہوں چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو چیز کہی ہے وہ ہم بھی کہتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21189
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21190
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ ، حَدَّثَنَا الْأَجْلَحُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : تَذَاكَرَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ، فَقَالَ أُبَيٌّ : " أَنَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ أَعْلَمُ أَيُّ لَيْلَةٍ هِيَ ، هِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَخْبَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ تَمْضِي مِنْ رَمَضَانَ ، وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّ الشَّمْسَ تُصْبِحُ الْغَدَ مِنْ تِلْكَ اللَّيْلَةِ تَرَقْرَقُ لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ ، فَزَعَمَ سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ أَنَّ زِرًّا أَخْبَرَهُ أَنَّهُ رَصَدَهَا ثَلَاثَ سِنِينَ ، مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ يَدْخُلُ رَمَضَانُ إِلَى آخِرِهِ ، فَرَآهَا تَطْلُعُ صَبِيحَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ ، تَرَقْرَقُ ، لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ " .
مولانا ظفر اقبال
زر سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شب قدر کا ذکر کرنے لگے تو حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں اس رات کے متعلق سب سے زیادہ مجھے معلوم ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس حوالے سے جس رات کی خبر دی ہے وہ رمضان کی ستائیسویں شب ہے اور اس کی نشانی یہ ہے کہ اس رات کے گذرنے کے بعد اگلے دن جب سورج طلوع ہوتا ہے تو وہ گھومتا ہوا محسوس ہوتا ہے اور اس کی شعاع نہیں ہوتی۔ سلمہ بن کہیل کہتے ہیں کہ زر کے بقول وہ تین سال سے مسلسل ماہ رمضان کے آغاز سے لے کر اختتام تک اسے تلاش کر رہے ہیں انہوں نے ہمیشہ سورج کو اس کیفیت کے ساتھ ستائیسویں شب کی صبح کو طلوع ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21190
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 792، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل مصعب والأجلح، فهما ضعيفان يعتبر بهما، لكنهما قد توبعا
حدیث نمبر: 21191
حَدَّثَنَا عَبْدُ الله ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ الْأَجْلَحِ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ، يَقُولُ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ هِيَ الَّتِي أَخْبَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ بَيْضَاءَ تَرَقْرَقُ " ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الله 22 ، وحَدَّثَنَاه عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ بِإِسْنَادِهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ ، وَزَادَ فِيهِ لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ.
مولانا ظفر اقبال
زر سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس حوالے سے جس رات کی خبر دی ہے وہ رمضان کی ستائیسویں شب ہے اور اس کی نشانی یہ ہے کہ اس رات کے گذرنے کے بعد اگلے دن سورج طلوع ہوتا ہے تو وہ گھومتا ہوا محسوس ہوتا ہے اور اس کی شعاع نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21191
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 792، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل الأجلح لكنه توبع
حدیث نمبر: 21192
حَدَّثَنَا عَبْدُ الله وحَدَّثَنَاه عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ بِإِسْنَادِهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ وَزَادَ فِيهِ لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21192
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 792، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل الأجلح، لكنه توبع
حدیث نمبر: 21193
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ مِنْ عَبْدَةَ ، وَعَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، قَالَ : سَأَلْتُ أُبَيًّا ، قُلْتُ : أَبَا الْمُنْذِرِ ، إِنَّ أَخَاكَ ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ : مَنْ يَقُمْ الْحَوْلَ ، يُصِبْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ! فَقَالَ : يَرْحَمُهُ اللَّهُ ، لَقَدْ عَلِمَ أَنَّهَا فِي شَهْرِ رَمَضَانَ ، وَأَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ ، قَالَ : وَحَلَفَ ، قُلْتُ : وَكَيْفَ تَعْلَمُونَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : بِالْعَلَامَةِ أَوْ بِالْآيَةِ الَّتِي أُخْبِرْنَا بِهَا أَنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ ذَلِكَ الْيَوْمَ لَا شُعَاعَ لَهَا .
مولانا ظفر اقبال
زر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آپ کے بھائی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو شخص سارا سال قیام کرے وہ شب قدر پاسکتا ہے ؟ حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ان پر نازل ہوں وہ جانتے ہیں کہ شب قدر ماہ رمضان میں ہوتی ہے اور اس کی بھی ستائیسویں شب ہوتی ہے (لیکن وہ لوگوں سے اسے مخفی رکھنا چاہتے ہیں تاکہ وہ اس پر بھروسہ کرکے نہ بیٹھ جائیں) پھر انہوں نے اس بات پر قسم کھائی (کہ اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب نازل کی شب قدر ماہ رمضان کی ستائیسویں شب ہوتی ہے) میں نے عرض کیا (اے ابو المنذر ! ) آپ کو کیسے پتہ چلتا ہے ؟ فرمایا اس علامت سے جو ہمیں بتائی گئی ہے کہ اس رات کی صبح کو جب سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کی شعاع نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21193
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 762
حدیث نمبر: 21194
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي عَاصِمٌ ، عَنْ زِرٍّ ، قَالَ : قُلْتُ لِأُبَيٍّ : أَخْبِرْنِي عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ، فَإِنَّ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ كَانَ يَقُولُ : مَنْ يَقُمْ الْحَوْلَ ، يُصِبْهَا ! قَالَ : يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَدْ عَلِمَ أَنَّهَا فِي رَمَضَانَ ، وَأَنَّهَا لِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ ، وَلَكِنَّهُ عَمَّى عَلَى النَّاسِ لِكَيْ لَا يَتَّكِلُوا ، فَوَاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ الْكِتَابَ عَلَى مُحَمَّدٍ ، إِنَّهَا فِي رَمَضَانَ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا أَبَا الْمُنْذِرِ ، وَأَنَّى عَلِمْتَهَا ؟ قَالَ : بِالْآيَةِ الَّتِي أَنْبَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَعَدَدْنَا وَحَفِظْنَا ، فَوَاللَّهِ إِنَّهَا لَهِيَ مَا يُسْتَثْنَى ، قُلْتُ لِزِرٍّ مَا الْآيَةُ ؟ قَالَ : " إِنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ غَدَاةَ إِذٍ كَأَنَّهَا طَسْتٌ ، لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ " .
مولانا ظفر اقبال
زر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ مجھے شب قدر کے متعلق بتائیے کیونکہ آپ کے بھائی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو شخص سارا سال قیام کرے وہ شب قدر پاسکتا ہے ؟ حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ان پر نازل ہوں وہ جانتے ہیں کہ شب قدر ماہ رمضان میں ہوتی ہے اور اس کی بھی ستائیسویں شب ہوتی ہے لیکن وہ لوگوں سے اسے مخفی رکھنا چاہتے ہیں تاکہ وہ اس پر بھروسہ کر کے نہ بیٹھ جائیں پھر انہوں نے اس بات پر قسم کھائی کہ اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب نازل کی شب قدر ماہ رمضان کی ستائیسویں شب ہوتی ہے میں نے عرض کیا اے ابوالمنذر ! آپ کو کیسے پتہ چلتا ہے ؟ فرمایا اس علامت سے جو ہمیں بتائی گئی ہے کہ اس رات کی صبح کو جب سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کی شعاع نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21194
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 762، وهذا إسناد
حدیث نمبر: 21195
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَةَ بْنَ أَبِي لُبَابَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، قَالَ : قَالَ أُبَيٌّ لَيْلَةُ الْقَدْرِ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُهَا ، قَالَ شُعْبَةُ : وَأَكْثَرُ عِلْمِي هِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقِيَامِهَا ، هِيَ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ ، وَإِنَّمَا شَكَّ شُعْبَةُ فِي هَذَا الْحَرْفِ هِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : وَحَدَّثَنِي صَاحِبٌ لِي بِهَا عَنْهُ .
مولانا ظفر اقبال
زر سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ واللہ شب قدر کے متعلق سب سے زیادہ مجھے معلوم ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس حوالے سے جس رات کی خبر دی ہے وہ رمضان کی ستائیسویں شب ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21195
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 762
حدیث نمبر: 21196
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، قَالَ : قَالَ لِي : أُبَيٌّ ، إِنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ ، وَإِنَّهَا لَهِيَ هِيَ مَا يُسْتَثْنَى بِالْآيَةِ الَّتِي حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَحَسَبْنَا وَعَدَدْنَا ، فَإِنَّهَا لَهِيَ هِيَ مَا يُسْتَثْنَى .
مولانا ظفر اقبال
زر کہتے ہیں کہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے شب قدر ماہ رمضان کی ستائیسویں شب ہوتی ہے اس علامت سے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتائی ہے ہم نے اس کا حساب لگایا اور اسے شمار کیا تو یہ وہی رات تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21196
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 762، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21197
حَدَّثَنَا عَبْدُ الله ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ زِرٍّ ، قَالَ : قُلْتُ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ : أَبَا الْمُنْذِرِ أَخْبِرْنِي عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ، فَإِنَّ صَاحِبَنَا يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ ، كَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْهَا ، قَالَ : مَنْ يَقُمْ الْحَوْلَ ، يُصِبْهَا ، فَقَالَ : يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمَ أَنَّهَا فِي رَمَضَانَ ، وَلَكِنْ أَحَبَّ أَنْ لَا يَتَّكِلُوا ، وَإِنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ لَمْ يَسْتَثْنِ ، قُلْتُ أَبَا الْمُنْذِرِ ، أَنَّى عَلِمْتَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : بِالْآيَةِ الَّتِي قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صُبِيْحَةَ لَيْلَةِ الْقَدْرِ تَطْلُعُ الشَّمْسُ لَا شُعَاعَ لَهَا كَأَنَّهَا طَسْتٌ حَتَّى تَرْتَفِعَ " ، وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ الْمُقَدَّمِيِّ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ زِرٍّ ، قَالَ : قُلْتُ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ : أَبَا الْمُنْذِرِ ، أَخْبِرْنِي عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، قَالَ : فَقُلْتُ : يَا أَبَا الْمُنْذِرِ ، أَنَّى عَلِمْتَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : بِالْآيَةِ الَّتِي أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
زر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ مجھے شب قدر کے متعلق بتائیے کیونکہ آپ کے بھائی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو شخص سارا سال قیام کرے وہ شب قدر پاسکتا ہے ؟ حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ان پر نازل ہوں وہ جانتے ہیں کہ شب قدر ماہ رمضان میں ہوتی ہے اور اس کی بھی ستائیسویں شب ہوتی ہے لیکن وہ لوگوں سے اسے مخفی رکھنا چاہتے ہیں تاکہ وہ اس پر بھروسہ کر کے نہ بیٹھ جائیں پھر انہوں نے اس بات پر قسم کھائی کہ اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب نازل کی شب قدر ماہ رمضان کی ستائیسویں شب ہوتی ہے میں نے عرض کیا اے ابو المنذر ! آپ کو کیسے پتہ چلتا ہے ؟ فرمایا اس علامت سے جو ہمیں بتائی گئی ہے کہ اس رات کی صبح کو جب سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کی شعاع نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21197
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 762، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21198
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ زِرٍّ قَالَ: قُلْتُ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: أَبَا الْمُنْذِرِ أَخْبِرْنِي عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا أَبَا الْمُنْذِرِ أَنَّى عَلِمْتَ ذَلِكَ؟ قَالَ: بِالْآيَةِ الَّتِي أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21198
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 762، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21199
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو يُوسُفَ يَعْقُوبُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ ، يَقُولُ : لَوْلَا سُفَهَاؤُكُمْ ، لَوَضَعْتُ يَدَيَّ فِي أُذُنَيَّ ، ثُمَّ نَادَيْتُ أَلَا إِنَّ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي رَمَضَانَ ، فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ، فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ ، قَبْلَهَا ثَلَاثٌ ، وَبَعْدَهَا ثَلَاثٌ ، نَبَأُ مَنْ لَمْ يَكْذِبْنِي ، عَنْ نَبَإِ مَنْ لَمْ يَكْذِبْهُ ، قُلْتُ لِأَبِي يُوسُفَ يَعْنِي أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : كَذَا هُوَ عِنْدِي .
مولانا ظفر اقبال
زر کہتے ہیں کہ اگر بیوقوف لوگ نہ ہوتے تو میں اپنے ہاتھ اپنے کانوں پر رکھ یہ منادی کردیتا کہ شب قدر ماہ رمضان کے آخری عشرے میں ہوتی ہے آخری سات راتوں میں خواہ پہلی تین راتیں ہوں یا بعد کی یہ اس شخص کی خبر ہے جس نے مجھ سے جھوٹ نہیں بولا اس شخص کے حوالے سے ہے جس سے بیان کرنے والے نے جھوٹ نہیں بولا (مراد حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں) ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21199
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة حال يزيد بن أبى سليمان
حدیث نمبر: 21200
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّه ، أَنَّهُ قَالَ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ مَنْ يَقُمْ الْحَوْلَ يُصِبْهَا ، فَانْطَلَقْتُ حَتَّى قَدِمْتُ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، وَأَرَدْتُ لُقِيَّ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ ، قَالَ عَاصِمٌ فَحَدَّثَنِي أَنَّهُ لَزِمَ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ ، فَزَعَمَ أَنَّهُمَا كَانَا يَقُومَانِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، فَيَرْكَعَانِ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ ، قَالَ : فَقُلْتُ لِأُبَيٍّ : وَكَانَتْ فِيهِ شَرَاسَةٌ اخْفِضْ لَنَا جَنَاحَكَ رَحِمَكَ اللَّهُ ، فَإِنِّي إِنَّمَا أَتَمَتَّعُ مِنْكَ تَمَتُّعًا ، فَقَالَ : تُرِيدُ أَنْ لَا تَدَعَ آيَةً فِي الْقُرْآنِ إِلَّا سَأَلْتَنِي عَنْهَا ! ، قَالَ : وَكَانَ لِي صَاحِبَ صِدْقٍ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا الْمُنْذِرِ ، أَخْبِرْنِي عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ فَإِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : مَنْ يَقُمْ الْحَوْلَ يُصِبْهَا ، فَقَالَ : وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمَ عَبْدُ اللَّهِ أَنَّهَا فِي رَمَضَانَ ، وَلَكِنَّهُ عَمَّى عَلَى النَّاسِ لِكَيْلَا يَتَّكِلُوا ، وَاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ الْكِتَابَ عَلَى مُحَمَّدٍ إِنَّهَا لَفِي رَمَضَانَ ، وَإِنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا الْمُنْذِرِ ، أَنَّى عَلِمْتَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : بِالْآيَةِ الَّتِي أَنْبَأَنَا بِهَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَعَدَدْنَا وَحَفِظْنَا ، فَوَاللَّهِ إِنَّهَا لَهِيَ مَا يُسْتَثْنَى ، قَالَ : فَقُلْتُ : وَمَا الْآيَةُ ؟ فَقَالَ : " إِنَّهَا تَطْلُعُ حِينَ تَطْلُعُ لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ حَتَّى تَرْتَفِعَ " ، وَكَانَ عَاصِمٌ لَيْلَتَئِذٍ مِنَ السَّحَرِ لَا يَطْعَمُ طَعَامًا ، حَتَّى إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ ، صَعِدَ عَلَى الصَّوْمَعَةِ ، فَنَظَرَ إِلَى الشَّمْسِ حِينَ تَطْلُعُ لَا شُعَاعَ لَهَا ، حَتَّى تَبْيَضَّ وَتَرْتَفِعَ .
مولانا ظفر اقبال
زر کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ جو شخص سارا سال قیام کرے وہ شب قدر پاسکتا ہے ؟ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا میرا ارادہ تھا کہ مہاجرین و انصار میں سے کسی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے ملوں چنانچہ میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے ساتھ چمٹا رہا یہ دونوں حضرات غروب آفتاب کے بعد اٹھتے اور مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے حضرت ابی رضی اللہ عنہ کے مزاج میں تھوڑی سی سختی تھی، میں نے ان سے کہا کہ اللہ کی رحمتیں آپ پر نازل ہوں میرے ساتھ شفقت کیجئے میں آپ سے کچھ فائدہ اٹھانا چاہتا ہوں انہوں نے فرمایا کیا تم چاہتے ہو کہ قرآن کریم کی کوئی آیت نہ چھوڑو گے جس کے متعلق مجھ سے پوچھ نہ لو ؟ میں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آپ کے بھائی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو شخص سارے سال قیام کرے وہ شب قدر کو پاسکتا ہے ؟ حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ان پر نازل ہوں وہ جانتے ہیں کہ شب قدر ماہ رمضان میں ہوتی ہے اور اس کی بھی ستائیسویں شب ہوتی ہے لیکن وہ لوگوں سے اسے مخفی رکھنا چاہتے ہیں تاکہ وہ اس پر بھروسہ کر کے نہ بیٹھ جائیں پھر انہوں نے اس بات پر قسم کھائی کہ اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب نازل کی شب قدر ماہ رمضان کی ستائیسویں شب ہوتی ہے میں نے عرض کیا اے ابو المنذر ! آپ کو کیسے پتہ چلتا ہے ؟ فرمایا اس علامت سے جو ہمیں بتائی گئی ہے کہ اس رات کی صبح کو جب سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کی شعاع نہیں ہوتی، چنانچہ عاصم اس دن کی سحری نہیں کرتے تھے جب فجر کی نماز پڑھ لیتے تو چھت پر چڑھ کر سورج کو دیکھتے اس وقت اس کی شعاع نہیں ہوتی تھی یہاں تک کہ وہ روشن ہوجاتا اور بلند ہوجاتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21200
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف حماد ابن شعيب، لكنه توبع
حدیث نمبر: 21201
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ أُبَيٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهَا ، وَيُفْرَغَ مِنْهَا ، فَلَهُ قِيرَاطَانِ ، وَمَنْ تَبِعَهَا حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهَا ، فَلَهُ قِيرَاطٌ ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَهُوَ أَثْقَلُ فِي مِيزَانِهِ مِنْ أُحُدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
زر سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جنازے کے ساتھ جائے اور نماز جنازہ میں شریک ہو اسے ایک قیراط ثواب ملے گا اور جو شخص دفن ہونے تک جنازے کے ساتھ رہے تو اسے دو قیراط ثواب ملے گا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے وہ ایک قیراط میزان عمل میں احد پہاڑ سے زیادہ وزنی ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21201
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، حجاج بن أرطاة مدلس، وقد عنعن، لكنه توبع
حدیث نمبر: 21202
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ ، قَالَ فَقَرَأَ لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ سورة البينة آية 1 " ، قَالَ : فَقَرَأَ فِيهَا " وَلَوْ أَنَّ ابْنَ آدَمَ سَأَلَ وَادِيًا مِنْ مَالٍ فَأُعْطِيَهُ لَسَأَلَ ثَانِيًا ، ولو سَأْلَ ثَانيًا فَأُعْطِيَهُ لَسَأَلَ ثَالِثًا ، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ ، وَإِنَّ ذَلِكَ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْحَنِيفِيَّةُ ، غَيْرُ الْمُشْرِكَةِ ، وَلَا الْيَهُودِيَّةِ ، وَلَا النَّصْرَانِيَّةِ ، وَمَنْ يَفْعَلْ خَيْرًا ، فَلَنْ يُكْفَرَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
زر سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قرآن پڑھ کر سناؤں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت البینہ پڑھ کر سنائی اور اس میں یہ آیات بھی پڑھیں اگر ابن آدم مال کی ایک وادی مانگے اور وہ اسے دے دی جائے تو وہ دوسری کا سوال کرے گا اور اگر دوسری کا سوال کرنے پر وہ بھی مل جائے تو تیسری کا سوال کرے گا اور ابن آدم کا پیٹ مٹی کا علاوہ کوئی چیز نہیں بھر سکتی اور جو شخص توبہ کرتا ہے اللہ اس کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے اور یہ دین اللہ کے نزدیک " حنیفیت " کا نام ہے جس میں شرک، یہودیت یا عیسائیت قطعًا نہیں ہے اور جو شخص نیکی کا کوئی بھی کام کرے گا اس کا انکار ہرگز نہیں کیا جائے گا، (بعد میں یہ آیات منسوخ ہوگئیں )
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21202
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 21203
حَدَّثَنَا عَبْدُ الله ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا سَلَمُ بْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ " ، قَالَ : فَقَرَأَ عَلَيَّ لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ مُنْفَكِّينَ حَتَّى تَأْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ رَسُولٌ مِنَ اللَّهِ يَتْلُو صُحُفًا مُطَهَّرَةً فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَةُ سورة البينة آية 1 - 4 ، " إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْحَنِيفِيَّةُ ، غَيْرُ الْمُشْرِكَةِ ، وَلَا الْيَهُودِيَّةِ ، وَلَا النَّصْرَانِيَّةِ ، وَمَنْ يَفْعَلْ خَيْرًا ، فَلَنْ يُكْفَرَهُ " ، قَالَ شُعْبَةُ ثُمَّ قَرَأَ آيَاتٍ بَعْدَهَا ، ثُمَّ قَرَأَ " لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ مِنْ مَالٍ ، لَسَأَلَ وَادِيًا ثَالِثًا ، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ " ، قَالَ : ثُمَّ خَتَمَهَا بِمَا بَقِيَ مِنْهَا .
مولانا ظفر اقبال
زر سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قرآن پڑھ کر سناؤں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت البینہ پڑھ کر سنائی اور اس میں یہ آیات بھی پڑھیں اگر ابن آدم مال کی ایک وادی مانگے اور وہ اسے دے دی جائے تو وہ دوسری کا سوال کرے گا اور اگر دوسری کا سوال کرنے پر وہ بھی مل جائے تو تیسری کا سوال کرے گا اور ابن آدم کا پیٹ مٹی کا علاوہ کوئی چیز نہیں بھر سکتی اور جو شخص توبہ کرتا ہے اللہ اس کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے اور یہ دین اللہ کے نزدیک " حنیفیت " کا نام ہے جس میں شرک، یہودیت یا عیسائیت قطعًا نہیں ہے اور جو شخص نیکی کا کوئی بھی کام کرے گا اس کا انکار ہرگز نہیں کیا جائے گا، (بعد میں یہ آیات منسوخ ہوگئیں )
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21203
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 21204
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ أُبَيٍّ ، قَالَ : لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلُ عِنْدَ أَحْجَارِ الْمِرَاءِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجِبْرِيلَ : " إِنِّي بُعِثْتُ إِلَى أُمَّةٍ أُمِّيِّينَ ، فِيهِمْ الشَّيْخُ الْعَاصِي ، وَالْعَجُوزَةُ الْكَبِيرَةُ ، وَالْغُلَامُ " قَالَ : فَمُرْهُمْ ، فَلْيَقْرَءُوا الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ أُبَيٍّ ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ ، وَقَالَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ : عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلُ عِنْدَ أَحْجَارِ الْمِرَاءِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
مولانا ظفر اقبال
زر سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے مقام " احجازالمراء " میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ مجھے ایک ایسی امت کی طرف مبعوث کیا گیا ہے جو امی ہے اس میں انتہائی بوڑھے مرد و عورت بھی ہیں اور غلام بھی تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا کہ آپ نے انہیں حکم دیجئے کہ وہ قرآن کریم کو سات حروف پر پڑھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21204
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21205
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ زِرٍّ عَنْ أُبَيٍّ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَقَالَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ: عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلُ عِنْدَ أَحْجَارِ الْمِرَاءِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21205
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21206
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الطَّحَّانُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : كَمْ تَقْرَءُونَ سُورَةَ الْأَحْزَابِ ؟ قَالَ : بِضْعًا وَسَبْعِينَ آيَةً ، قَالَ : لَقَدْ قَرَأْتُهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ الْبَقَرَةِ ، أَوْ أَكْثَرَ مِنْهَا ، وَإِنَّ فِيهَا آيَةَ الرَّجْمِ .
مولانا ظفر اقبال
زر سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے پوچھا تم لوگ سورت احزاب کی کتنی آیتیں پڑھتے ہو ؟ زر نے جواب دیا کہ ستر سے کچھ زائد آیتیں انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سورت جب پڑھی تھی تو یہ سورت بقرہ کے برابر یا اس سے بھی زیادہ تھی اور اس میں آیت رجم بھی تھی (کہ اگر کوئی شادی شدہ مرد و عورت بدکاری کا ارتکاب کریں تو انہیں لازماً رجم کردو یہ سزا ہے جو اللہ کی طرف سے مقرر ہے اور اللہ غالب حکمت والا ہے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21206
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد
حدیث نمبر: 21207
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرٍّ ، قَالَ : قَالَ لِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ : كَأَيِّنْ تَقْرَأُ سُورَةَ الْأَحْزَابِ ؟ أَوْ كَأَيِّنْ تَعُدُّهَا ؟ قَالَ : قُلْتُ لَهُ : ثَلَاثًا وَسَبْعِينَ آيَةً ، فَقَالَ : قَطُّ ، لَقَدْ رَأَيْتُهَا وَإِنَّهَا لَتُعَادِلُ سُورَةَ الْبَقَرَةِ ، وَلَقَدْ قَرَأْنَا فِيهَا " الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ إِذَا زَنَيَا فَارْجُمُوهُمَا الْبَتَّةَ نَكَالًا مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
زر سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے پوچھا تم لوگ سورت احزاب کی کتنی آیتیں پڑھتے ہو ؟ زر نے جواب دیا کہ ستر سے کچھ زائد آیتیں انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سورت جب پڑھی تھی تو یہ سورت بقرہ کے برابر یا اس سے بھی زیادہ تھی اور اس میں آیت رجم بھی تھی (کہ اگر کوئی شادی شدہ مرد و عورت بدکاری کا ارتکاب کریں تو انہیں لازماً رجم کردو یہ سزا ہے جو اللہ کی طرف سے مقرر ہے اور اللہ غالب حکمت والا ہے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21207
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، عاصم بن بهدلة له أوهام بسبب سوء حفظه، فلا يحتمل تفرده بمثل هذا المتن
حدیث نمبر: 21208
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَنْ زِيَادٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ : لَوْ مِتْنَ نِسَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّهُنَّ ، كَانَ يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَتَزَوَّجَ ؟ قَالَ : وَمَا يُحَرِّمُ ذَاكَ عَلَيْهِ ؟ قَالَ : قُلْتُ لِقَوْلِهِ : لا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ مِنْ بَعْدُ سورة الأحزاب آية 52 ، قَالَ : إِنَّمَا أُحِلَّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرْبٌ مِنَ النِّسَاءِ .
مولانا ظفر اقبال
زیاد انصاری کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری ازواج مطہرات کا انتقال ہوجاتا تو کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دوسری شادی کرنا جائز ہوتا ؟ حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اسے حرام کس نے کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آپ کے لئے اس کے بعد کسی عورت سے نکاح حلال نہیں ہے انہوں نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کئی قسم کی عورتیں حلال کی گئی تھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21208
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة زياد الأنصاري، ومحمد بن أبى موسى
حدیث نمبر: 21209
حَدَّثَنَا عَبْد الله ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، قَالَ : أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ ، فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ ، فَإِذَا أَنَا بِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، فَأَتَيْتُهُ ، فَقُلْتُ : يَرْحَمُكَ اللَّهُ أَبَا الْمُنْذِرِ ، اخْفِضْ لِي جَنَاحَكَ وَكَانَ امْرَأً فِيهِ شَرَاسَةٌ فَسَأَلْتُهُ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ، فَقَالَ : لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ ، قُلْتُ أَبَا الْمُنْذِرِ : أَنَّى عَلِمْتَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : بِالْآيَةِ الَّتِي أَخْبَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَعَدَدْنَا وَحَفِظْنَا ، وَآيَةُ ذَلِكَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فِي صَبِيحَتِهَا مِثْلَ الطَّسْتِ لَا شُعَاعَ لَهَا ، حَتَّى تَرْتَفِعَ .
مولانا ظفر اقبال
زر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ حاضر ہوا مسجد نبوی میں داخل ہوا تو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوگئی میں نے عرض کیا اے ابو المنذر ! اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ان پر نازل ہوں مجھ پر شفقت فرمائیے دراصل آپ کے مزاج میں تھوڑی سی سختی تھی، میں نے ان سے شب قدر کے متعلق پوچھا تو انہوں نے ستائیسویں شب کو قرار دیا میں نے عرض کیا کیا (اے ابوالمنذر ! ) آپ کو کیسے پتہ چلتا ہے ؟ فرمایا اس علامت سے جو ہمیں بتائی گئی ہے کہ اس رات کی صبح کو جب سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کی شعاع نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21209
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، م: 762، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21210
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْد الله ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ أُبَيٍّ ، قَالَ : " لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
زر کہتے ہیں کہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا شب قدر ستائیسویں رات ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21210
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، م: 762، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21211
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْد الله ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ الْمُقْرِئُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ أَخُو الْفُرَاتِ بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : " لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ لِثَلَاثٍ يَبْقَيْنَ " ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ .
مولانا ظفر اقبال
زر کہتے ہیں کہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا شب قدر ستائیسویں رات ہوتی ہے جبکہ تین راتیں باقی رہ جاتی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21211
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، م: 762، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الحجاج بن أبى الفرات، لكنه توبع