حدیث نمبر: 20962
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ السُّوَائِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ مَاضِيًا ، حَتَّى يَقُومَ اثْنَا عَشَرَ أَمِيرًا " ، ثُمَّ تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ خَفِيَتْ عَلَيَّ ، فَسَأَلْتُ أَبِي مَا قَالَ ؟ قَالَ : " كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ دین ہمیشہ اپنے مخالفین پر غالب رہے گا اسے کوئی مخالفت کرنے والا یا مفارقت کرنے والا نقصان نہ پہنچاسکے گا یہاں تک کہ میری امت میں بارہ خلیفہ گزر جائیں گے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کہا جو میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے وہ سب کے سب قریش سے ہونگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20962
حدیث نمبر: 20963
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى سورة الليل آية 1 ، وَفِي الْعَصْرِ نَحْوَ ذَلِكَ ، وَفِي الصُّبْحِ أَطْوَلَ مِنْ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز میں سورت والیل کی تلاوت فرماتے تھے اور نماز عصر میں بھی اس جیسی سورتیں پڑھتے تھے البتہ فجر کی نماز میں اس سے لمبی سورتیں پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20963
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، م: 459، وهذا إسناد صحيح
حدیث نمبر: 20964
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَقَالَ : " مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ ، كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ ، اسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ ؟ ! " ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَرَآنَا حِلَقًا ، فَقَالَ : " مَا لِي أَرَاكُمْ عِزِينَ ؟ " . ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا ، فَقَالَ : " أَلَا تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا ؟ " قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا ؟ قَالَ : " يُتِمُّونَ الصُّفُوفَ الْأُولَى ، وَيَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے اور کچھ لوگوں کو ہاتھ اٹھائے ہوئے دیکھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں کا کیا مسئلہ ہے وہ اپنے ہاتھوں سے اس طرح اشارہ کرتے ہیں جیسے دشوار خو گھوڑوں کی دم ہو۔ نماز میں پرسکون رہا کرو۔ پھر ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو فرمایا کہ کیا بات ہے میں تمہیں مختلف ٹولیوں کی شکل میں بٹا ہوا دیکھ رہاہوں ہوں (صحابہ کرام اس وقت اسی طرح بیٹھے ہوئے تھے) پھر ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو ہم سے فرمایا کہ تم اس طرح صف بندی کیوں نہیں کرتے جیسا کہ فرشتے اپنے رب کے سامنے صف بندی کرتے ہیں صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ فرشتے اپنے رب کے سامنے کس طرح صف بندی کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پہلے اگلی صفوں کو مکمل کرتے ہیں اور صفوں کے خلا کو پر کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20964
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 430
حدیث نمبر: 20965
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَنْتَهِي أَقْوَامٌ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ فِي الصَّلَاةِ ، أَوَ لَا تَرْجِعُ إِلَيْهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کیا تم میں سے کوئی شخص دوران نماز سر اٹھاتے ہوئے اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اس کی نگاہ پلٹ کر اس کی طرف واپس نہ آئے۔ (اوپر ہی کی طرف اٹھی رہ جائے)
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20965
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 228
حدیث نمبر: 20966
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ أَبِي أَوْ مَعَ ابْنِي ، قَالَ : وَذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ عَزِيزًا مَنِيعًا ، يُنْصَرُونَ عَلَى مَنْ نَاوَأَهُمْ عَلَيْهِ إِلَى اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيفَةً " ، ثُمَّ تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ أَصَمَّنِيهَا النَّاسُ ، فَقُلْتُ لِأَبِي أَوْ لِابْنِي : مَا الْكَلِمَةُ الَّتِي أَصَمَّنِيهَا النَّاسُ ؟ قَالَ : " كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ دین ہمیشہ اپنے مخالفین پر غالب رہے گا اسے کوئی مخالفت کرنے والا یا مفارقت کرنے والا نقصان نہ پہنچاسکے گا یہاں تک کہ میری امت میں بارہ خلیفہ گزر جائیں گے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کہا جو میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے وہ سب کے سب قریش سے ہونگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20966
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1821
حدیث نمبر: 20967
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي سِمَاكٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ كَذَّابِينَ " ، قَالَ أَخِي ، وَكَانَ أَقْرَبَ إِلَيْهِ مِنِّي ، قَالَ : سَمِعْتُهُ قَالَ : " فَاحْذَرُوهُمْ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت سے پہلے کچھ کذاب آکر رہیں گے تم ان سے بچنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20967
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2923، وهذا إسناد صحيح
حدیث نمبر: 20968
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي سِمَاكٌ يَعْنِي ابْنَ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا صَلَّى الْغَدَاةَ ، جَلَسَ فِي مُصَلَّاهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ حَسْنَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نماز فجر پڑھنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم طلوع آفتاب تک ہی بیٹھے رہتے تھے اور نماز فجر میں سورت ق جیسی سورتوں کی تلاوت کیا کرتے تھے اور مختصر نماز پڑھاتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20968
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 670
حدیث نمبر: 20969
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي سِمَاكٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ سَمَّى الْمَدِينَةَ طَابَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مدینہ منورہ کا ذکر ہوا تو فرمایا کہ اللہ نے مدینہ منورہ کا نام طابہ رکھا ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20969
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1385
حدیث نمبر: 20970
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ نَاصِحٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَأَنْ يُؤَدِّبَ الرَّجُلُ وَلَدَهُ ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَتَصَدَّقَ كُلَّ يَوْمٍ بِنِصْفِ صَاعٍ " ، وقَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : مَا حَدَّثَ أَبِي ، عَنْ نَاصِحٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ.
مولانا ظفر اقبال
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان اپنی اولاد کو اچھا ادب سکھلا دے یہ اس کے لئے روزانہ نصف صاع صدقہ کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20970
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف ناصح أبى عبدالله
حدیث نمبر: 20971
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَنْ زُهَيْرٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ بِ " ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ " ، وَنَحْوِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سماک کہتے ہیں کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر میں سورت ق اور اس جیسی سورتوں کی تلاوت کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20971
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، م: 458، وهذا إسناد صحيح
حدیث نمبر: 20972
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، قَالَ : كُنَّا نَقُولُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمْنَا السَّلَامُ عَلَيْكُمْ ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ ، يُشِيرُ أَحَدُنَا بِيَدِهِ عَنْ يَمِينِهِ ، وَعَنْ شِمَالِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا بَالُ الَّذِينَ يَرْمُونَ بِأَيْدِيهِمْ فِي الصَّلَاةِ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمْسِ ، أَلَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ ، ثُمَّ يُسَلِّمَ عَنْ يَمِينِهِ ، وَعَنْ شِمَالِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تھے تو ہم لوگ دائیں بائیں جانب سلام پھیرتے ہوئے ہاتھ سے اشارہ کرتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں کا کیا مسئلہ ہیں کہ وہ اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کرتے ہیں جس طرح دشوار خو گھوڑوں کی دم ہو کیا تم سکون سے نہیں رہ سکتے کہ ران پر ہاتھ رکھ ہوئے ہی اشارہ کرلو۔ دائیں بائیں جانب اپنے ساتھی کو سلام کرلو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20972
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 431
حدیث نمبر: 20973
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَخْطُبُ قَائِمًا ، وَيَجْلِسُ بَيْنَ الْخُطْبَتَيْنِ ، وَيَتْلُو آيَاتٍ مِنَ الْقُرْآنِ ، وَكَانَتْ خُطْبَتُهُ قَصْدًا ، وَصَلَاتُهُ قَصْدًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن دو خطبے دیتے تھے پہلے ایک خطبہ دیتے اور بیٹھ جاتے اور پھر کھڑے ہو کر دوسرا خطبہ دیتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ اور نماز معتدل ہوتے تھے اور وہ منبر پر قرآن کی آیات تلاوت کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20973
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر:
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يُصَلَّى فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ وَرَخَّصَ أَنْ يُصَلَّى فِي مُرَاحِ الْغَنَمِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سبرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے اور بکریوں کے ریوڑ میں اجازت دی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 0
حدیث نمبر: 20974
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ السَّلُولِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَنْ جَعْفَرٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنْ جَدِهِ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَوَضَّأَ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ ، وَأَنْ لَا نَتَوَضَّأَ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ ، وَأَنْ نُصَلِّيَ فِي مَبَاءَةِ الْغَنَمِ ، وَلَا نُصَلِّيَ فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ " حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْت حَجَّاجَ بْنَ الشَّاعِرِ يَسْأَلُ أَبِي ، فَقَالَ : أَيُّمَا أَحَبُّ إِلَيْكَ ، عَمْرٌو النَّاقِدُ ، أَوْ الْمُعَيْطِيُّ ؟ فَقَالَ : كَانَ عُمَرٌو النَّاقِدُ يَتَحَرَّى الصِّدْقَ . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ اونٹ کا گوشت کھا کر وضو کریں بکری کا گوشت کھا کر وضو نہ کریں بکریوں کے ریوڑ میں نماز پڑھ لیں اور اونٹوں کے باڑے میں نماز نہ پڑھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20974
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20975
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ ، فَرَأَيْتُهُ " مُتَّكِئًا عَلَى وِسَادَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں داخل ہوا تو دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تکیہ سے ٹیک لگا رکھی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20975
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20976
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أُتِيَ بِفَرَسٍ حِينَ انْصَرَفَ مِنْ جَنَازَةِ أَبِي الدَّحْدَاحِ ، فَرَكِبَ وَنَحْنُ حَوْلَهُ نَمْشِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابودحداح کی نماز جنازہ پڑھائی پھر ایک گھوڑا لایا گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوا ہوگئے اور ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد چلنے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20976
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 965
حدیث نمبر: 20977
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، وَشَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، " أَنَّ رَجُلًا قَتَلَ نَفْسَهُ ، فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں پتا چلا کہ ایک آدمی نے خود کشی کرلی یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ نہ پڑھائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20977
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك ، وقد توبع
حدیث نمبر: 20978
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : رَأَيْتُهَا " مِثْلَ بَيْضَةِ الْحَمَامِ ، وَلَوْنُهَا لَوْنُ جَسَدِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک پر مہر نبوت دیکھی ہے وہ کبوتری کے انڈے جتنی ہے اور اس کا رنگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم کے ہم رنگ تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20978
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20979
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاعْتَرَفَ عِنْدَهُ بِالزِّنَا ، قَالَ : فَحَوَّلَ وَجْهَهُ ، قَالَ : فَجَاءَنَا فَاعْتَرَفَ مِرَارًا ، فَأَمَرَ بِرَجْمِهِ فَرُجِمَ ، ثُمَّ أُتِيَ فَأُخْبِرَ ، فَقَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، قَالَ : " مَا بَالُ رِجَالٍ كُلَّمَا نَفَرْنَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَخَلَّفَ أَحَدُهُمْ عِنْدَهُنَّ لَهُ نَبِيبٌ كَنَبِيبِ التَّيْسِ ، يَمْنَحُ إِحْدَاهُنَّ الْكُثْبَةَ ، لَئِنْ أَمْكَنَنِي اللَّهُ مِنْهُمْ ، لَأَجْعَلَنَّهُمْ نَكَالًا " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حضرت ماعز بن مالک حاضر ہوئے اور اپنے متعلق بدکاری کا اعتراف کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رخ انور پھیرلیا وہ کئی مرتبہ آیا اور اعتراف کرتا رہا چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا لوگوں نے انہیں رجم کردیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آکر اس کی اطلاع کردی پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اللہ کی حمدوثناء کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہماری کوئی جماعت جب بھی اللہ کے راستے میں جہاد کے لئے نکلتی ہے تو ان میں سے جو شخص پیچھے رہ جاتا ہے اس کی آواز بکرے جیسی ہوجاتی ہے جو کسی کو تھوڑا سا دودھ دیدے واللہ مجھے ان میں سے جس پر بھی قدرت ملی اسے سزا ضرور دوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20979
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20980
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ رَجُلًا ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ ؟ قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ شِئْتَ " ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا میں بکری کا گوشت کھانے کے بعد نیا وضو کروں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم چاہو پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے حجاج بن شاعر کو اپنے والد سے یہ سوال کرتے ہوئے سنا کہ آپ کے نزدیک عمر ناقد اور معیطی میں سے زیادہ پسندیدہ کون ہے انہوں نے فرمایا کہ عمر ناقد سچ بولنے کی کوشش تلاش کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20980
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20981
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا فِطْرٌ ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھے اور قیامت کو اس طرح بھیجا گیا ہے (راوی نے شہادت اور انگلی کی طرف اشارہ کرکے دکھایا) ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20981
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20982
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوجِ سورة البروج آية 1 وَ وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ سورة الطارق آية 1 ، وَشَبَهَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی نماز میں والسماء ذات البروج اور والسماء والطارق اور اس جیسی سورتوں کی تلاوت کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20982
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20983
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، قَالَ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ قَصِيرٍ أَشْعَثَ ذِي عَضَلَاتٍ عَلَيْهِ إِزَارٌ وَقَدْ زَنَى ، فَرَدَّهُ مَرَّتَيْنِ ، قَالَ : ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلَّمَا نَفَرْنَا غَازِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَخَلَّفَ أَحَدُكُمْ ، لَهُ نَبِيبٌ كَنَبِيبِ التَّيْسِ ، يَمْنَحُ إِحْدَاهُنَّ الْكُثْبَةَ ، إِنَّ اللَّهَ لَا يُمَكِّنُنِي مِنْ أَحَدٍ مِنْهُمْ إِلَّا جَعَلْتُهُ نَكَالًا " ، أَوْ " نَكَّلْتُهُ " ، قَالَ : فَحَدَّثَنِيهِ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، فَقَالَ : إِنَّهُ رَدَّهُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حضرت ماعز بن مالک جو پستہ قدآدمی تھے کو ایک تہبند میں پیش کیا گیا ان کے جسم پر تہبند کے علاوہ کوئی چادر نہ تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک تکیہ پر بائیں جانب ٹیک لگائے بیٹھے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کچھ باتیں جن کے متعلق مجھے کچھ معلوم نہیں کہ وہ کیا باتیں تھیں کیونکہ میرے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان قوم حائل تھی تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے لے جاؤ کچھ وقفے کے بعد فرمایا کہ اسے واپس لے آؤ اس وقت جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے باتیں کہی وہ میں نے سنی پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے لے جاؤ اسے رجم کردو۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے میں نے وہ بھی سنا ہماری کوئی بھی جماعت اللہ کے راستے میں جہاد کے لئے نکلتی ہے تو ان میں سے جو شخص پیچھے رہ جاتا ہے اس کی آواز بکرے جیسی ہوتی ہے اور جو کسی کو تھوڑا سا دودھ دے دے واللہ اس پر جس کو بھی قدرت ملی اسے سزا ضرور دوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20983
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، م: 1692، وهذا إسناد صحيح
حدیث نمبر: 20984
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " تَخَلَّفَ أَحَدُهُمْ يُنَبِّبُ كَنَبِيبِ التَّيْسِ " ، قَالَ : فَحَدَّثْتُهُ الْحَكَمَ ، فَأَعْجَبَهُ ، وَقَالَ لِي : مَا الْكُثْبَةُ ؟ فَسَأَلْتُ سِمَاكًا عَنِ الْكُثْبَةِ ، فَقَالَ : اللَّبَنُ الْقَلِيلُ.
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20984
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20985
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَنْ يَبْرَحَ هَذَا الدِّينُ قَائِمًا يُقَاتِلُ عَلَيْهِ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا ایک جماعت اس کے لئے قتال کرتی رہے گی یہاں تک کہ قیامت آجائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20985
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، م: 1922، وهذا إسناد صحيح
حدیث نمبر: 20986
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَلِيعَ الْفَمِ ، أَشْكَلَ الْعَيْنِ ، مَنْهُوسَ الْعَقِبَيْنِ " ، قُلْتُ لِسِمَاكٍ : مَا ضَلِيعُ الْفَمِ ؟ قَالَ : عَظِيمُ الْفَمِ ، قُلْتُ : مَا أَشْكَلُ الْعَيْنِ ؟ قَالَ : طَوِيلُ شُفْرِ الْعَيْنِ ، قُلْتُ : مَا مَنْهُوسُ الْعَقِبِ ؟ قَالَ : قَلِيلُ لَحْمِ الْعَقِبِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کی سفیدی میں سرخ دوڑے تھے اور دہن مبارک کشادہ تھا اور مبارک پنڈلیوں پر گوشت کم تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20986
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2339
حدیث نمبر: 20987
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَتَفْتَحَنَّ كُنُوزَ كِسْرَى الْأَبْيَضَ قَالَ شُعْبَةُ أَوْ قَالَ : الَّذِي فِي الْأَبْيَضِ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے مسلمانوں کی ایک جماعت نکلے گی وہ کسری اور آل کسری کا سفید خزانہ نکال لے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20987
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2919، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20988
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : " مَا كَانَ فِي رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الشَّيْبِ إِلَّا شَعَرَاتٌ فِي مَفْرِقِ رَأْسِهِ ، كَانَ إِذَا ادَّهَنَ غَطَّاهُنَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے کسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید بالوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں چند بال سفید تھے جب آپ سر پر تیل لگاتے تو بالوں کی سفیدی واضح نہیں ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20988
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20989
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ بِ ق ، وَكَانَ صَلَاتُهُ بَعْدُ تَخْفِيفًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہلکی نماز پڑھاتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر میں سورت ق اور اس جیسی سورتوں کی تلاوت فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20989
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، م: 643، وهذا إسناد صحيح
حدیث نمبر: 20990
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ أَكَلَ مِنْهُ وَبَعَثَ بِفَضْلِهِ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ ، فَكَانَ أَبُو أَيُّوبَ يَضَعُ أَصَابِعَهُ حَيْثُ يَرَى أَثَرَ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَصْعَةٍ فَوَجَدَ مِنْهَا رِيحَ ثُومٍ ، فَلَمْ يَذُقْهَا ، وَبَعَثَ بِهَا إِلَى أَبِي أَيُّوبَ ، فَنَظَرَ ، فَلَمْ يَرَ فِيهَا أَثَرَ أَصَابِعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يَذُقْهَا ، فَأَتَاهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَمْ أَرَ فِيهَا أَثَرَ أَصَابِعِكَ ؟ قَالَ : " إِنِّي وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ ثُومٍ " ، قَالَ : : فَتَبْعَثُ إِلَيَّ بِمَا لَا تَأْكُلُ ؟ قَالَ : " إِنِّي يَأْتِينِي الْمَلَكُ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب کھانے کی کوئی چیز ہدیہ کی جاتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے کچھ لے کر باقی سارا حضرت ابوایوب انصاری کے پاس بھیج دیتے۔ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے کھانا آیا جس میں لہسن تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اس طرح حضرت ابوایوب کو بھجوا دیا اور خود اس میں سے کچھ بھی نہیں لیا جب حضرت ابوایوب نے اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ لینے کا اثر محسوس نہیں کیا تو کھانا لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئے۔ اور اس حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اسے لہسن کی بدبو کی وجہ سے چھوڑ دیا تھا حضرت ابوایوب نے یہ سن کر عرض کیا کہ پھر جس چیز کو آپ تناول نہیں فرماتے اسے میرے پاس کیوں بھیج دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیونکہ میرے پاس فرشتہ آتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20990
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20991
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْت بَعْضَ أَصْحَابِنَا ، يَقُولُ : عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ : قَالَ لِي سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ : عِنْدَكَ حَدِيثٌ أَحْسَنُ مِنْ هَذَا وَأَجْوَدُ إِسْنَادًا مِنْ هَذَا ، قَالَ : قُلْتُ : مَا هُوَ ؟ قَالَ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ أَيُّوبَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ عَلَى أَبِي أَيُّوبَ ، فَذَكَرَ هَذَا حَدِيثَ الثُّومِ ، قَالَ : قُلْتُ لَهُ : نَعَمْ ، شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ عَلَى أَبِي أَيُّوبَ ، فَسَكَتَ.
مولانا ظفر اقبال
علی بن مدینی کہتے ہیں کہ مجھ سے سفیان بن عیینہ نے کہا کہ گزشتہ حدیث آپ کے پاس اس سے زیادہ عمدہ سند سے موجود تھی ؟ میں نے ان سے حدیث پوچھی تو انہوں نے اپنی سند کے ساتھ گزشتہ حدیث ذکر کی میں نے اثبات میں جواب دیا اور اپنی سند ذکر کی تو وہ خاموش ہو گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20991
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث سفيان بن عيينة ، عن عبيدالله بن أبى يزيد حديث حسن فى الشواهد، وحديث شعبة عن سماك حديث صحيح، وإسناده حسن
حدیث نمبر: 20992
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا سِمَاكٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، وَقِيلَ لَهُ : أَكَانَ فِي رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْبٌ ؟ قَالَ : " لَمْ يَكُنْ فِي رَأْسِهِ وَلَا فِي لِحْيَتِهِ إِلَّا شَعَرَاتٌ فِي مَفْرِقِ رَأْسِهِ ، إِذَا دَهَنَهُنَّ وَارَاهُنَّ الدُّهْنُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے کسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید بالوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں چند سفید بال تھے جب آپ سر پر تیل لگاتے تو بالوں کی سفیدی واضح نہیں ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20992
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20993
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ أَبُو كَامِلٍ ، أَخْبَرَنَا سِمَاكٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ بِالْحَرَّةِ مَعَهُ أَهْلُهُ وَوَلَدُهُ ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : إِنِّي أَضْلَلْتُ نَاقَةً لِي ، فَإِنْ وَجَدْتَهَا فَأَمْسِكْهَا ، فَوَجَدَهَا ، فَمَرِضَتْ ، فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ : انْحَرْهَا ، فَأَبَى ، فَنَفَقَتْ ، فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ : قَدِّدْهَا حَتَّى نَأْكُلَ مِنْ لَحْمِهَا وَشَحْمِهَا ، قَالَ : حَتَّى أَسْتَأْمِرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَاهُ فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ لَهُ " هَلْ لَكَ غِنًى يُغْنِيكَ ؟ " قَالَ : لَا ، قَالَ : " فَكُلُوهَا " ، قَالَ : فَجَاءَ صَاحِبُهَا بَعْدَ ذَلِكَ ، فَقَالَ : أَلَا كُنْتَ نَحَرْتَهَا ؟ قَالَ : اسْتَحَيْتُ مِنْكَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی اپنے والد کے ساتھ حرہ میں رہتا تھا اس سے کسی نے کہا کہ میری اونٹنی بھاگ گئی ہے اگر تمہیں ملے تو اسے پکڑ لاؤ اتفاق سے اس آدمی کو وہ مل گئی لیکن اس کا مالک واپس نہ آیا یہاں تک کہ وہ بیمار ہوگئی اس کی بیوی نے اس سے کہا کہ اسے ذبح کرلو تاکہ ہم اسے کھا سکیں لیکن اس نے ایسا نہیں کیا حتی کہ وہ اونٹنی مرگئی اس کی بیوی نے پھر کہا کہ اس کی کھال کو اتار دو تاکہ اب تو اس کے گوشت کو چربی کے ٹکرے کرلے اس نے کہا کہ میں پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھوں گا اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت فرمایا کہ کیا تمہارے پاس اتنا ہے کہ تمہیں اس اونٹنی سے مستغنی کردے اس نے کہا نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم جا کر اسے کھالو کچھ عرصہ بعد اس کا مالک بھی آگیا اور سارا واقعہ سن کر اس نے کہا تم نے اسے ذبح کیوں نہ کرلیا اس نے جواب دیا مجھے تم سے حیاء آئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20993
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، تفرد به سماك بن حرب، ومثله لا يحتمل فى مثل هذا المتن
حدیث نمبر: 20994
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَجَمَ يَهُودِيًّا وَيَهُودِيَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی مرد اور عورت پر رجم کی سزاجاری فرمائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20994
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ شريك
حدیث نمبر: 20995
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ كَنَحْوٍ مِنْ صَلَاتِكُمْ الَّتِي تُصَلُّونَ الْيَوْمَ ، وَلَكِنَّهُ كَانَ يُخَفِّفُ ، كَانَتْ صَلَاتُهُ أَخَفَّ مِنْ صَلَاتِكُمْ ، وَكَانَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ الْوَاقِعَةَ وَنَحْوَهَا مِنَ السُّوَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی یہی نمازیں پڑھایا کرتے تھے جو آج تم پڑھتے ہو لیکن وہ نماز میں تخفیف فرماتے تھے اور ان کی نماز تمہاری نماز سے ہلکی ہوتی تھی اور نماز فجر میں سورة واقعہ اور اس جیسی سورتیں پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20995
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، م: 643، وهذا إسناد صحيح، وقد وقع فى رواية إسرائيل هذه أنه كان يقرأ فى الصبح بالواقعة، وقد جاء أنه كان يقرأ ق
حدیث نمبر: 20996
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيَفْتَحَنَّ رَهْطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ كُنُوزَ كِسْرَى الَّتِي قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ : الَّذِي بِالْأَبْيَضِ " ، قَالَ جَابِرٌ : فَكُنْتُ فِيهِمْ ، فَأَصَابَنِي أَلْفُ دِرْهَمٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمانوں کی ایک جماعت نکلے گی اور وہ کسری اور آل کسری کا سفید خزانہ نکال لیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20996
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2919، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20997
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، يَقُولُ : " كَانَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤَذِّنُ ثُمَّ يُمْهِلُ حَتَّى إِذَا رَأَى نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ ، أَقَامَ الصَّلَاةَ حِينَ يَرَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مؤذن جب اذان دیتا تو کچھ دیر رک جاتا اور اس وقت تک اقامت نہ کہتا جب تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو باہر نکلتے ہوئے نہ دیکھ لیتا جب وہ دیکھتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکل آئے ہیں تو وہ اقامت شروع کردیتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20997
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20998
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، يَقُولُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ شَمِطَ مُقَدَّمُ رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ ، فَإِذَا ادَّهَنَ وَمَشَطَ لَمْ يَتَبَيَّنْ ، وَإِذَا شَعِثَ رَأْسُهُ تَبَيَّنَ ، وَكَانَ كَثِيرَ الشَّعْرِ وَاللِّحْيَةِ " ، فَقَالَ رَجُلٌ : وَجْهُهُ مِثْلُ السَّيْفِ ؟ قَالَ : لَا ، بَلْ " كَانَ مِثْلَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ مُسْتَدِيرًا " ، قَالَ وَرَأَيْتُ " خَاتَمَهُ عِنْدَ كَتِفِهِ مِثْلَ بَيْضَةِ الْحَمَامَةِ ، يُشْبِهُ جَسَدَهُ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے اگلے حصے میں چند بال سفید تھے جب آپ سر پر تیل لگاتے تو بالوں کی سفیدی واضح نہیں ہوتی تھی اور جب تیل نہ لگاتے تو ان کی سفیدی واضح ہوجاتی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اور داڑھی کے بال گھنے تھے کسی نے پوچھا کہ ان کا چہرہ تلوار کی طرح چمکدار تھا ؟ انہوں نے فرمایا نہیں بلکہ چاند سورج کی طرح چمکدار تھا اور گولائی میں تھا اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک پر مہر نبوت دیکھی تھی وہ کبوتری کے انڈے جتنی تھی اور ان کے جسم کے مشابہہ تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20998
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، م: 2344، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20999
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ شَمِطَ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20999
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21000
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَخَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ يَقُولُ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْفَجْرِ ، فَجَعَلَ يَهْوِي بِيَدِهِ قَالَ : خَلَفٌ يَهْوِي فِي الصَّلَاةِ قُدَّامَهُ ، فَسَأَلَهُ الْقَوْمُ حِينَ انْصَرَفَ ، فَقَالَ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ هُوَ كَانَ يُلْقِي عَلَيَّ شَرَرَ النَّارِ لِيَفْتِنَنِي عَنْ صَلَاتِي ، فَتَنَاوَلْتُهُ ، فَلَوْ أَخَذْتُهُ مَا انْفَلَتَ مِنِّي حَتَّى يُنَاطَ إِلَى سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ ، يَنْظُرُ إِلَيْهِ وِلْدَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں فجر کی نماز پڑھا رہے تھے کہ دوران نماز اپنے ہاتھ سے کسی چیز کو پکڑنے کی کوشش کرتے ہوئے دکھائی دیئے نماز سے فارغ ہو کر لوگوں نے اس کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ شیطان میرے سامنے آگ کے شعلے لے کر آتا تھا تاکہ میری نماز خراب کردے میں اسے پکڑ رہا تھا اگر میں اسے پکڑ لیتا تو وہ مجھ سے اپنے آپ کو چھڑا نہیں سکتا تھا یہاں تک کہ اسے مسجد کے کسی ستون کے ساتھ باندھ دیا جاتا اور اہل مدینہ کے بچے اسے دیکھتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 21000
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن