حدیث نمبر: 20922
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : جِئْتُ أَنَا وَأَبِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ : " لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ صَالِحًا حَتَّى يَكُونَ اثْنَا عَشَرَ أَمِيرًا " ، ثُمَّ قَالَ كَلِمَةً لَمْ أَفْهَمْهَا ، فَقُلْتُ لِأَبِي مَا قَالَ ؟ قَالَ : " كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ دین ہمیشہ اپنے مخالفین پر غالب رہے گا اسے کوئی مخالفت کرنے والا یا مفارقت کرنے والا نقصان نہ پہنچاسکے گا یہاں تک کہ میری امت میں بارہ خلیفہ گزرجائیں گے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کہا جو میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے وہ سب کے سب قریش سے ہونگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20922
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7222، م: 1821
حدیث نمبر: 20923
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ مَاضِيًا حَتَّى يَقُومَ اثْنَا عَشَرَ أَمِيرًا " ، ثُمَّ تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ خَفِيَتْ عَلَيَّ ، فَسَأَلْتُ عَنْهَا أَبِي مَا قَالَ ؟ قَالَ : " كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ دین ہمیشہ اپنے مخالفین پر غالب رہے گا اسے کوئی مخالفت کرنے والا یا مفارقت کرنے والا نقصان نہ پہنچاسکے گا یہاں تک کہ میری امت میں بارہ خلیفہ گزر جائیں گے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کہا جو میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے وہ سب کے سب قریش سے ہونگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20923
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7222، م: 1821
حدیث نمبر: 20924
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ أَبِي عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَزَالُ هَذَا الدِّينُ عَزِيزًا أَوْ قَالَ لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ ، شَكَّ أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ إِلَى اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيفَةً " ، ثُمَّ قَالَ كَلِمَةً خَفِيَّةً ، فَقُلْتُ لِأَبِي : مَا قَالَ ؟ قَالَ : " كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ دین ہمیشہ اپنے مخالفین پر غالب رہے گا اسے کوئی مخالفت کرنے والا یا مفارقت کرنے والا نقصان نہ پہنچا سکے گا یہاں تک کہ میری امت میں بارہ خلیفہ گزر جائیں گے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کہا جو میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے وہ سب کے سب قریش سے ہونگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20924
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7222، م: 1821
حدیث نمبر: 20925
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مَوْهَبٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلُوهُ أَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ ؟ فَقَالَ " إِنْ شِئْتُمْ فَتَوَضَّئُوا ، وَإِنْ شِئْتُمْ لَا تَتَوَضَّئُوا " ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ ؟ قَالَ " نَعَمْ ، تَوَضَّئُوا " ، قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، قَالُوا : نُصَلِّي فِي مَبَارِكِ الْإِبِلِ ؟ قَالَ : " لَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا میں بکری کا گوشت کھانے کے بعد نیا وضو کیا کروں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں اس نے پوچھا کہ بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ سکتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں سائل نے پوچھا کہ اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد نیا وضو کروں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں۔ اس نے پوچھا کہ اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھ سکتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20925
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، م: 360، وهذا إسناد صحيح
حدیث نمبر: 20926
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ عَزِيزًا مَنِيعًا يُنْصَرُونَ عَلَى مَنْ نَاوَأَهُمْ عَلَيْهِ إِلَى اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيفَةً " ، ثُمَّ قَالَ كَلِمَةً أَصَمَّنِيهَا النَّاسُ ، فَقُلْتُ لِأَبِي مَا قَالَ ؟ قَالَ : " كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ دین ہمیشہ اپنے مخالفین پر غالب رہے گا اسے کوئی مخالفت کرنے والا یا مفارقت کرنے والا نقصان نہ پہنچاسکے گا یہاں تک کہ میری امت میں بارہ خلیفہ گزر جائیں گے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کہا جو میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے وہ سب کے سب قریش سے ہونگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20926
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7222، م: 1821
حدیث نمبر: 20927
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ عَامِرٍ يَعْنِي الشَّعْبِيَّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ عَزِيزًا إِلَى اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيفَةً " ، فَكَبَّرَ النَّاسُ وَضَجُّوا ، وَقَالَ : كَلِمَةً خَفِيَّةً ، قُلْتُ لِأَبِي يَا أَبَتِ ، مَا قَالَ ؟ قَالَ : " كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ دین ہمیشہ اپنے مخالفین پر غالب رہے گا اسے کوئی مخالفت کرنے والا یا مفارقت کرنے والا نقصان نہ پہنچاسکے گا یہاں تک کہ میری امت میں بارہ خلیفہ گزر جائیں گے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کہا جو میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے وہ سب کے سب قریش سے ہونگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20927
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد
حدیث نمبر: 20928
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، يَقُولُ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَجْلِسُ بَيْنَ الْخُطْبَتَيْنِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَيَخْطُبُ قَائِمًا ، وَكَانَتْ صَلَاتُهُ قَصْدًا ، وَخُطْبَتُهُ قَصْدًا ، وَيَقْرَأُ آيَاتٍ مِنَ الْقُرْآنِ عَلَى الْمِنْبَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جمعہ کے دن خطبہ دیتے ہوئے بیٹھ جاتے پھر کھڑے ہو کر دوسرا خطبہ دیتے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ اور نماز معتدل ہو تھے اور پھر وہ منبر پر قرآن کریم کی آیات تلاوت کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20928
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20929
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ حَبِيبٍ لُوَيْنٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : " كُنَّا إِذَا أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ أَحَدُنَا حَيْثُ يَنْتَهِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر ہوتے تو جہاں مجلس ختم ہورہی ہوتی ہم وہیں بیٹھ جاتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20929
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ شرك، وقد توبع
حدیث نمبر: 20930
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي غَالِبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شَرِيكٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْتَمِسُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فِي وَتْرٍ ، فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُهَا فَنُسِّيتُهَا ، وَهِيَ لَيْلَةُ مَطَرٍ وَرِيحٍ " ، أَوْ قَالَ : " قَطْرٍ وَرِيحٍ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شب قدر کو رمضان کی آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کیا کرو کیونکہ میں نے اسے دیکھ لیا تھا لیکن پھر وہ مجھے بھلادی گئی اس رات بارش ہوگی اور ہوا چلے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20930
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون قوله: وهى ليلة مطر وريح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالرحمن بن شريك وأبيه شريك
حدیث نمبر: 20931
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي غَالِبٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ طَلْحَةَ ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةُ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ هُوَ سَمَّى الْمَدِينَةَ طَابَةَ " ، قَالَ جَابِرٌ : وَأَنَا أَسْمَعُهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مدینہ منورہ کا تذکرہ ہوا تو فرمایا مدینہ منورہ کا نام اللہ نے طابہ رکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20931
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1385
حدیث نمبر: 20932
وَبِهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " صَلَّى خَلْفَهُ فِي يَوْمِ عِيدٍ بِغَيْرِ أَذَانٍ ، وَلَا إِقَامَةٍ " ، وَزَعَمَ سِمَاكٌ ، أَنَّهُ صَلَّى خَلْفَ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، وَالْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ بِغَيْرِ أَذَانٍ ، وَلَا إِقَامَةٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عیدین کی نماز پڑھی اس میں اذان اور اقامت نہیں ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20932
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20933
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَا يَزَالُ هَذَا الدِّينُ قَائِمًا ، يُقَاتِلُ عَلَيْهِ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا اور ایک جماعت اس کے لئے قتال کرتی رہے گی یہاں تک کہ قیامت آجائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20933
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20934
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ سَنَةَ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ وَمِائَتَيْنِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : رَأَيْتُ " الْخَاتَمَ بَيْنَ كَتِفَيْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّهُ بَيْضَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک پر مہر نبوت دیکھی ہے وہ کبوتری کے انڈے جتنی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20934
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، يحيى بن عبدالله ضعيف
حدیث نمبر: 20935
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ يَقُولُ ، كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةِ أَبِي الدَّحْدَاحِ ، " وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ يَتَوَقَّصُ ، وَنَحْنُ نَسْعَى حَوْلَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابودحداح کی نماز جنازہ پڑھائی ہم ان کے ہمراہ تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھوڑے پر سوار تھے جو بدکنے لگا یہ دیکھ کر ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے دوڑنے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20935
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 965، وهذا إسناد ضعيف لضعف يحيي بن عبدالله
حدیث نمبر: 20936
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، يَقُولُ : أَتَى مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّي زَنَيْتُ ، " فَرَدَّهُ مَرَّتَيْنِ ، ثُمَّ رَجَمَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حضرت ماعز بن مالک آیا اور کہنے لگا کہ میں نے بدکاری کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ اسے واپس بھیجا پھر انہیں رجم کردیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20936
حدیث نمبر: 20937
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ ، وَقَالَ الْمُقَدَّمِيُّ فِي حَدِيثِهِ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بِمِنًى ، وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي الرَّبِيعِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " لَنْ يَزَالَ هَذَا الْأَمْرُ عَزِيزًا ظَاهِرًا حَتَّى يَمْلِكَ اثْنَا عَشَرَ كُلُّهُمْ " ، ثُمَّ لَغَطَ الْقَوْمُ وَتَكَلَّمُوا ، فَلَمْ أَفْهَمْ قَوْلَهُ بَعْدَ " كُلُّهُمْ " ، فَقُلْتُ لِأَبِي يَا أَبَتَاهُ ، مَا بَعْدَ " كُلُّهُمْ " ؟ قَالَ : " كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ " ، وَقَالَ الْقَوَارِيرِيُّ فِي حَدِيثِهِ : " لَا يَضُرُّهُ مَنْ خَالَفَهُ أَوْ فَارَقَهُ حَتَّى يَمْلِكَ اثْنَا عَشَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ دین ہمیشہ اپنے مخالفین پر غالب رہے گا اسے کوئی مخالفت کرنے والا یا مفارقت کرنے والا نقصان نہ پہنچاسکے گا یہاں تک کہ میری امت میں بارہ خلیفہ گزر جائیں گے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کہا جو میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے وہ سب کے سب قریش سے ہونگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20937
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1821، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد، وقد توبع
حدیث نمبر: 20938
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ السُّوَائِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَقُولُ : " لَا يَزَالُ هَذَا الدِّينُ ظَاهِرًا عَلَى كُلِّ مَنْ نَاوَأَهُ ، وَلَا يَضُرُّهُ مَنْ خَالَفَهُ أَوْ فَارَقَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ دین ہمیشہ اپنے مخالفین پر غالب رہے گا اسے کوئی مخالفت کرنے والا یا مفارقت کرنے والا نقصان نہ پہنچاسکے
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20938
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1821، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد، وقد توبع
حدیث نمبر: 20939
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَزَالُ هَذَا الدِّينُ عَزِيزًا مَنِيعًا ، يُنْصَرُونَ عَلَى مَنْ نَاوَأَهُمْ عَلَيْهِ إِلَى اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيفَةً " ، قَالَ : فَجَعَلَ النَّاسُ يَقُومُونَ وَيَقْعُدُونَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ دین ہمیشہ اپنے مخالفین پر غالب رہے گا اسے کوئی مخالفت کرنے والا یا مفارقت کرنے والا نقصان نہ پہنچاسکے گا یہاں تک کہ میری امت میں بارہ خلیفہ گزر جائیں گے
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20939
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1821
حدیث نمبر: 20940
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلَا قَيْصَرَ بَعْدَهُ ، وَإِذَا هَلَكَ كِسْرَى فَلَا كِسْرَى بَعْدَهُ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتُنْفَقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کسری ہلاک ہوجائے تو اس کے بعد کوئی کسری نہ آسکے گا اور جب قیصر ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں آسکے گا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تم ان دونوں کے خزانے اللہ کے راستہ میں خرچ کرو گے وہ وقت ضرور آئے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20940
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3121، م: 2919
حدیث نمبر: 20941
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يَكُونُ مِنْ بَعْدِي اثْنَا عَشَرَ أَمِيرًا " ، فَتُكُلِّمَ فَخَفِيَ عَلَيَّ ، فَسَأَلْتُ الَّذِي يَلِينِي ، أَوْ إِلَى جَنْبِي ، فَقَالَ : " كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ دین ہمیشہ اپنے مخالفین پر غالب رہے گا اسے کوئی مخالفت کرنے والا یا مفارقت کرنے والا نقصان نہ پہنچاسکے گا یہاں تک کہ میری امت میں بارہ خلیفہ گزرجائیں گے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کہا جو میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے وہ سب کے سب قریش سے ہونگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20941
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 7222، م: 1821، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20942
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ هُوَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الْمُقْرِئُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کی جانور کے بدلے اور ادھار خریدوفروخت سے منع کیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20942
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى عامر المقرئ
حدیث نمبر: 20943
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَيُوسُفُ الصَّفَّارُ مولى بني أمية قَالُوا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ سِيَاهٍ الثَّقَفِيِّ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ رِيَاحٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا فِي مَجْلِسٍ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبِي سَمُرَةَ جَالِسٌ أَمَامِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْفُحْشَ وَالتَّفَاحُشَ لَيْسَا مِنَ الْإِسْلَامِ فِي شَيْءٍ ، وَإِنَّ خَيْرَ النَّاسِ إِسْلَامًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا " ، قَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فِي حَدِيثِهِ : زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ رِيَاحٍ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مجلس میں شریک تھا میرے والد حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سامنے بیٹھے ہوئے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بےحیائی اور بےہودہ گوئی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اسلام کے اعتبار سے لوگوں سے سب سے اچھا شخص وہ ہوتا ہے جس کے اخلاق سب سے عمدہ ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20943
حدیث نمبر: 20944
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو الْقَاسِمِ الزُّهْرِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَعَمِّي ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْوَجِيهِ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " خَرَجَ مَعَ جَنَازَةِ ثَابِتِ بْنِ الدَّحْدَاحَةِ عَلَى فَرَسٍ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ تَحْتَهُ ، لَيْسَ عَلَيْهِ سَرْجٌ ، مَعَهُ النَّاسُ وَهُمْ حَوْلَهُ " ، قَالَ : فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " فَصَلَّى عَلَيْهِ ثُمَّ جَلَسَ حَتَّى فُرِغَ مِنْهُ ، ثُمَّ قَامَ فَقَعَدَ عَلَى فَرَسِهِ ، ثُمَّ انْطَلَقَ يَسِيرُ حَوْلَهُ الرِّجَالُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو وہ ثابت بن دحداح کے جنازے میں ایک روشن کشادہ پیشانی والے گھوڑے پر سوار ہو کر نکلے اس پر زین کسی ہوئی نہ تھی لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے اترے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور بیٹھ گئے یہاں تک کہ تدفین سے فراغت ہوگئی پھر کھڑے ہوئے اور پنے گھوڑے پر بیٹھ گئے اور روانہ ہوئے لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20944
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 965
حدیث نمبر: 20945
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو الْقَاسِمِ الزُّهْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمِّي ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ قَاعِدًا قَطُّ ، فَلَا تُصَدِّقْهُ ، قَدْ رَأَيْتُهُ أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ مَرَّةٍ فَرَأَيْتُهُ " يَخْطُبُ قَائِمًا ، ثُمَّ يَجْلِسُ فَلَا يَتَكَلَّمُ بِشَيْءٍ ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ خُطْبَتَهُ الْأُخْرَى " ، قُلْتُ : كَيْفَ كَانَتْ خُطْبَتُهُ ؟ قَالَ : " كَانَتْ قَصْدًا ، كَلَامٌ يَعِظُ بِهِ النَّاسَ ، وَيَقْرَأُ آيَاتٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے اس لئے اگر تم سے کوئی شخص یہ بیان کرتا ہے کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھ کر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے تو وہ غلط بیانی کرتا ہے میں نے انہیں سو سے زائد مرتبہ خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے پہلے ایک مرتبہ خطبہ دیتے اور بیٹھ جاتے پھر کھڑے ہو کر دوسرا خطبہ دیتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ اور نماز معتدل ہوتے تھے۔ وہ لوگوں کو وعظ فرماتے تھے اور قرآن کریم کی آیات پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20945
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ شريك
حدیث نمبر: 20946
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ الْوَهْبِيَّ ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَتَفْتَحَنَّ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَبْيَضَ آلِ كِسْرَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمانوں کی ایک جماعت نکلے گی اور وہ کسری کا سفید خزانہ نکال لیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20946
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2919، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20947
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : " مَا رُئِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ إِلَّا قَائِمًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20947
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20948
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ جَلَسَ فِي مُصَلَّاهُ ، لَمْ يَرْجِعْ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نماز فجر پڑھنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم طلوع آفتاب تک اپنی جگہ پر ہی بیٹھے رہتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20948
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 670
حدیث نمبر: 20949
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا قَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ ، حَدَّثَنَا مُصْعَبٌ يَعْنِي ابْنَ الْمِقْدَامِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَقْرَأُ فِي خُطْبَتِهِ آيَاتٍ مِنَ الْقُرْآنِ ، وَيُذَكِّرُ النَّاسَ ، وَكَانَتْ خُطْبَتُهُ قَصْدًا ، وَصَلَاتُهُ قَصْدًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن دو خطبے دیتے تھے پہلا خطبہ دیتے اور بیٹھ جاتے پھر کھڑے ہوتے اور دوسرا خطبہ دیتے تھے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ اور نماز معتدل ہوتے تھے۔ اور وہ منبر پر قرآن کریم کی آیات تلاوت کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20949
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20950
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي الصَّغَانِيُّ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ حَفْصٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ : عَبْد اللَّهِ : وَقَدْ رَأَيْتُ أَنَا سَلَمَةَ بْنَ حَفْصٍ ، وَكَانَ يُكَنَّى أَبَا بَكْرٍ مِنْ وَلَدِ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ أَبْيَضَ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ ، فَحَدَّثَنِي عَنْهُ أَبُو بَكْرٍ الصَّغَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : " كَانَتْ أُصْبُعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَظَاهِرَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیاں ایک دوسرے سے جدا جدا تھیں۔ (جڑی ہوئی نہ تھیں)
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20950
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، سلمة بن حفص متهم، ويحيي بن يمان ضعيف يعتبر به
حدیث نمبر: 20951
حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَزَالُ الْإِسْلَامُ عَزِيزًا إِلَى اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيفَةً " ، فَقَالَ كَلِمَةً خَفِيَّةً لَمْ أَفْهَمْهَا ، قَالَ : فَقُلْتُ لِأَبِي : مَا قَالَ ؟ قَالَ : " كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ دین ہمیشہ اپنے مخالفین پر غالب رہے گا اسے کوئی مخالفت کرنے والا یا مفارقت کرنے والا نقصان نہ پہنچاسکے گا یہاں تک کہ میری امت میں بارہ خلیفہ گزرجائیں گے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کہا جو میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے وہ سب کے سب قریش سے ہونگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20951
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1821، وهذا إسناد صحيح
حدیث نمبر: 20952
حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ كَذَّابُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت سے پہلے کچھ کذاب آکر رہیں گے تم ان سے بچنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20952
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2923، وهذا إسناد صحيح
حدیث نمبر: 20953
حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : " مَا كَانَ فِي رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الشَّيْبِ إِلَّا شَعَرَاتٌ فِي مَفْرِقِ رَأْسِهِ ، إِذَا ادَّهَنَ وَارَاهُنَّ الدُّهْنُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے کسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید بالوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں چند بال سفید تھے جب آپ سر پر تیل لگاتے تو بالوں کی سفیدی واضح نہیں ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20953
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20954
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : نْبَأَنِي جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَخْطُبُ قَائِمًا عَلَى الْمِنْبَرِ ، ثُمَّ يَجْلِسُ ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ قَائِمًا " ، قَالَ : فَقَالَ لِي جَابِرٌ : مَنْ نَبَّأَكَ أَنَّهُ كَانَ يَخْطُبُ قَاعِدًا فَقَدْ كَذَبَ ، فَقَدْ وَاللَّهِ صَلَّيْتُ مَعَهُ أَكْثَرَ مِنْ أَلْفَيْ صَلَاةٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے پھر تھوڑی دیر بیٹھ جاتے کسی سے بات نہ کرتے پھر کھڑے ہو کر دوسرا خطبہ ارشاد فرماتے اس لئے اگر تم میں سے کوئی شخص یہ بیان کرتا ہے کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھ کر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے وہ غلط بیانی کرتا ہے واللہ میں نے ان کے ساتھ دوہزار نمازیں پڑھی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20954
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20955
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ خَلَّادُ بْنُ أَسْلَمَ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا ثَوْرِ بْنَ عِكْرِمَةَ بْنِ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " سُئِلَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي مَبَاتِ الْغَنَمِ ؟ فَرَخَّصَ ، وَسُئِلَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي مَبَاتِ الْإِبِلِ ؟ فَنَهَى عَنْهُ ، وَسُئِلَ عَنِ الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ ؟ فَقَالَ : تَوَضَّئُوا ، وَسُئِلَ عَنِ الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ ؟ فَقَالَ : إِنْ شِئْتَ فَتَوَضَّأْ ، وَإِنْ شِئْتَ فَلَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا میں بکری کا گوشت کھانے کے بعد نیا وضو کیا کروں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں اس نے پوچھا کہ بکریوں کے بارے میں نماز پڑھ سکتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں سائل نے پوچھا کہ اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد نیا وضو کروں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں۔ اس نے پوچھا کہ اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھ سکتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20955
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، م: 360، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20956
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّ رَجُلًا أَتَاهُ ، فَقَالَ : أَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : فَأُصَلِّي فِي مَرَابِضِهَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، إِنْ شِئْتَ ، قَالَ : أَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَأُصَلِّي فِي أَعْطَانِهَا ؟ قَالَ : لَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا میں بکری کا گوشت کھانے کے بعد نیا وضو کیا کروں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں اس نے پوچھا کہ بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ سکتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں سائل نے پوچھا کہ اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد نیا وضو کروں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں۔ اس نے پوچھا کہ اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھ سکتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20956
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، م: 360، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20957
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَمُؤَمَّلٌ المعنى ، وهذا لفظ عبد الله ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، " أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : فَأُصَلِّي فِي مُرَاحِ الْغَنَمِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : أَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : أُصَلِّي فِي أَعْطَانِهَا ؟ قَال : لَا " .
مولانا ظفر اقبال
ہمارے نسخے میں یہاں صرف حدثنا لکھا ہوا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20957
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20958
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُسَيَّبُ بْنُ رَافِعٍ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَهُمْ حِلَقٌ ، فَقَالَ : " مَا لِي أَرَاكُمْ عِزِينَ ؟ " وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَقَدْ رَفَعُوا أَيْدِيَهُمْ ، فَقَالَ : " قَدْ رَفَعُوهَا كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ ، اسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے پاس تشریف لائے تو فرمایا کہ کیا بات ہے کہ میں تمہیں مختلف ٹولیوں کی شکل میں بٹا ہوا دیکھ رہاہوں صحابہ کرام اس وقت اسی طرح بیٹھے ہوئے تھے۔ اور ایک مرتبہ مسجد میں داخل ہوئے اور کچھ لوگوں کو ہاتھ اٹھائے ہوئے دیکھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں کا کیا مسئلہ ہے وہ اپنے ہاتھوں سے اس طرح اشارہ کرتے ہیں جیسے دشوار خو گھوڑوں کی دم ہو۔ نماز میں پرسکون رہا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20958
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 430
حدیث نمبر: 20959
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي سِمَاكٌ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ " بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ كَذَّابُونَ " ، قَالَ يَحْيَى فِي حَدِيثِهِ : قَالَ أَخِي : وَكَانَ أَقْرَبَ مِنِّي " فَاحْذَرُوهُمْ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قیامت سے پہلے کچھ کذاب آکر رہیں گے تم ان سے بچنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20959
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2923، وهذا إسناد صحيح
حدیث نمبر: 20960
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي سِمَاكٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَائِمًا ، ثُمَّ يَقْعُدُ ، ثُمَّ يَقُومُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن دو خطبے دیتے تھے پہلا خطبہ دیتے اور بیٹھ جاتے پھر کھڑے ہو کر دوسرا خطبہ دیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20960
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20961
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي سِمَاكٌ ، قَالَ : قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ : كَيْفَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ ؟ قَالَ : " كَانَ يَجْلِسُ فِي مُصَلَّاهُ ، حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ " .
مولانا ظفر اقبال
سماک نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نماز فجر کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا معمول تھا انہوں نے فرمایا کہ طلوع آفتاب تک اپنی جگہ پر ہی بیٹھے رہتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20961
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 670