حدیث نمبر: 20882
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا سَلَّامٌ أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤَخِّرُ الْعِشَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء کو ذرا موخر کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20882
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 643
حدیث نمبر: 20883
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، " أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُرِحَ فَآذَتْهُ الْجِرَاحَةُ ، فَدَبَّ إِلَى مَشَاقِصَ فَذَبَحَ بِهِ نَفْسَهُ ، فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، وَقَالَ : كُلُّ ذَلِكَ أَدَبٌ مِنْهُ ، هَكَذَا أَمْلَاهُ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ مِنْ كِتَابِهِ ، وَلَا أَحْسَبُ هَذِهِ الزِّيَادَةَ إِلَّا مِنْ قَوْلِ شَرِيكٍ قَوْلَهُ : ذَلِكَ أَدَبٌ مِنْهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک صحابی زخمی ہوگیا۔ جب زخموں کی تکلیف بڑھی تو اس نے چھری سے اپنا سینہ چاک کرلیا (خود کشی کرلی) یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ نہ پڑھائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20883
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ، لكنه توبع
حدیث نمبر: 20884
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُعَلِّمُّ أَبُو مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ جَابِرٍ الْيَمَامِيُّ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : جَاءَ جُرْمُقَانِيٌّ إِلَى أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَيْنَ صَاحِبُكُمْ هَذَا الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ ؟ لَئِنْ سَأَلْتُهُ لَأَعْلَمَنَّ أَنَّهُ نَبِيٌّ أَوْ غَيْرُ نَبِيٍّ ، قَالَ : فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ الْجُرْمُقَانِيُّ اقْرَأْ عَلَيَّ ، أَوْ قُصَّ عَلَيَّ ، " فَتَلَا عَلَيْهِ آيَاتٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى " ، فَقَالَ الْجُرْمُقَانِيُّ : هَذَا وَاللَّهِ الَّذِي جَاءَ بِهِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام ، قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد : هَذَا الْحَدِيثُ مُنْكَرٌ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جرمقانی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ تمہارے وہ ساتھی کہاں ہیں جو اپنے آپ کو نبی سمجھتے ہیں اگر میں نے ان سے کچھ سوالات پوچھ لئے تو مجھے پتہ چل جائے گا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں یا نہیں۔ اتنی دیر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے جرمقانی نے کہا کہ مجھے کچھ پڑھ کر سنائیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ آیات پڑھ کر سنائیں جرمقانی انہیں سن کر کہنے لگا واللہ یہ ویساہی کلام ہے جو حضرت موسیٰ لے کر آئے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20884
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف أيوب بن جابر، وعبدالرحمن المعلم مجهول
حدیث نمبر: 20885
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو عَلِيٍّ الْمَوْصِلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَكَانَتْ صَلَاتُهُ قَصْدًا ، وَخُطْبَتُهُ قَصْدًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ اور نماز معتدل ہوتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20885
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20886
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ : " كَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَتَانِ ، يَجْلِسُ بَيْنَهُمَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ ، وَيُذَكِّرُ النَّاسَ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے اور دو خطبوں کے درمیان بیٹھتے تھے اور ان خطبوں میں قرآن کریم کی آیات تلاوت فرماتے اور لوگوں کو نصیحت فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20886
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20887
قَالَ : وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ سَمَّى الْمَدِينَةَ طَابَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مدینہ منورہ کا نام اللہ تعالیٰ نے طابہ رکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20887
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1385
حدیث نمبر: 20888
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أُهْدِيَ لَهُ طَعَامٌ أَصَابَ مِنْهُ ، ثُمَّ بَعَثَ بِفَضْلِهِ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ ، فَأُهْدِيَ لَهُ طَعَامٌ فِيهِ ثُومٌ ، فَبَعَثَ بِهِ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ وَلَمْ يَنَلْ مِنْهُ شَيْئًا ، فَلَمْ يَرَ أَبُو أَيُّوبَ أَثَرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الطَّعَامِ ، فَأَتَى بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ " إِنِّي إِنَّمَا تَرَكْتُهُ مِنْ أَجَلِ رِيحِهِ " ، قَالَ : فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ : وَأَنَا أَكْرَهُ مَا تَكْرَهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب کھانے کی کوئی چیز ہدیہ کی جاتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے کچھ لے کر باقی سارا حضرت ابوایوب انصاری کے پاس بھیج دیتے۔ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے کھانا آیا جس میں لہسن تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اسی طرح حضرت ابوایوب کو بھجوادیا اور خود اس میں سے کچھ بھی نہیں لیاجب حضرت ابوایوب نے اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ لینے کا اثر محسوس نہیں کیا تو کھانا لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئے۔ اور اس حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اسے لہسن کی بدبو کی وجہ سے چھوڑ دیا تھا حضرت ابوایوب نے یہ سن کر عرض کیا کہ پھر جس چیز کو آپ اچھا نہیں سمجھتے میں بھی اچھا نہیں سمجھتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20888
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20889
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ هُوَ ابْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يَكُونُ بَعْدِي اثْنَا عَشَرَ أَمِيرًا " ، ثُمَّ لَا أَدْرِي مَا قَالَ بَعْدَ ذَلِكَ ، فَسَأَلْتُ الْقَوْمَ ؟ فَقَالُوا : قَالَ : " كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ " .
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20889
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1821، وهذا إسناد صحيح
حدیث نمبر: 20890
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو سُلَيْمَانَ الضَّبِّيُّ دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الْمُسَيَّبِيُّ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَهُ الْعِيدَيْنِ ، فَلَمْ يُؤَذَّنْ لَهُ ، وَلَمْ يُقَمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عیدین کی نمازیں پڑھی ہیں اس میں اذان اور اقامت نہیں ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20890
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ لكنه توبع
حدیث نمبر: 20891
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُؤَخِّرُ الْعِشَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء کو ذرا موخر کردیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20891
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 643
حدیث نمبر: 20892
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ أَسْلَمَ أَبُو بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ كَذَّابُونَ " ، قَالَ سِمَاكٌ : وَقَالَ لِي أَخِي : إِنَّهُ قَالَ : " فَاحْذَرُوهُمْ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت سے پہلے کچھ کذاب آکر رہیں گے تم ان سے بچنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20892
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2923، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20893
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، حَدَّثَنِي سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَأَعْرِفُ حَجَرًا بِمَكَّةَ كَانَ يُسَلِّمُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُبْعَثَ ، إِنِّي لَأَعْرِفُهُ الْآنَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مکہ میں ایک پتھر کو پہچانتا ہوں جو قبل از بعثت سلام کرتا تھا میں اسے اب بھی پہچانتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20893
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20894
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنِ الدَّحْدَاحِ قَالَ حَجَّاجٌ : أَبِي الدَّحْدَاحِ ، ثُمَّ أُتِيَ بِفَرَسٍ عُرْيٍ ، فَعَقَلَهُ رَجُلٌ فَرَكِبَهُ ، فَجَعَلَ يَتَوَقَّصُ بِهِ وَنَحْنُ نَتَّبِعُهُ نَسْعَى خَلْفَهُ ، قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كَمْ مِنْ عِذْقٍ مُعَلَّقٍ أَوْ مُدَلًّى فِي الْجَنَّةِ لِأَبِي الدَّحْدَاحِ " ، قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ رَجُلٌ مَعَنَا عِنْدَ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ فِي الْمَجْلِسِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَمْ مِنْ عِذْقٍ مُدَلًّى لِأَبِي الدَّحْدَاحِ فِي الْجَنَّةِ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابودحداح کی نماز جنازہ پڑھی اور پھر ایک خارش زدہ اونٹ لایا گیا جسے ایک آدمی نے رسی سے باندھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوگئے وہ اونٹ بدکنے لگا یہ دیکھ کر ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے دوڑنے لگے اس وقت ایک آدمی نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں کتنے ہی لٹکے ہوئے خوشے ہیں جو ابودحداح کے لئے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20894
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20895
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، قَالَ : " رَأَيْتُ خَاتَمًا فِي ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّهُ بَيْضَةُ حَمَامٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر مہر نبوت دیکھی ہے وہ کبوتری کے انڈے جتنی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20895
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20896
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " يَكُونُ اثْنَا عَشَرَ أَمِيرًا " ، فَقَالَ كَلِمَةً لَمْ أَسْمَعْهَا ، فَقَالَ الْقَوْمُ : " كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ دین ہمیشہ اپنے مخالفین پر غالب رہے گا اسے کوئی مخالفت کرنے والا یا مفارقت کرنے والا نقصان نہ پہنچا سکے گا یہاں تک کہ میری امت میں بارہ خلیفہ گزرجائیں گے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کہا جو میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے وہ سب کے سب قریش سے ہونگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20896
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 7222، م: 1821، وهذا إسناد صحيح
حدیث نمبر: 20897
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ يَعْنِي ابْنَ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَكَلَ طَعَامًا بَعَثَ بِفَضْلِهِ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ بِفَضْلَةٍ لَمْ يَأْكُلْ مِنْهَا ، فِيهَا ثُومٌ ، فَأَتَاهُ أَبُو أَيُّوبَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَحَرَامٌ هُوَ ؟ قَالَ : " لَا ، وَلَكِنِّي كَرِهْتُهُ مِنْ أَجْلِ رِيحِهِ " ، فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ : فَإِنِّي أَكْرَهُ مَا كَرِهْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب کھانے کی کوئی چیز ہدیہ کی جاتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے کچھ لے کر باقی سارا حضرت ابوایوب انصاری کے پاس بھیج دیتے۔ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے کھانا آیا جس میں لہسن تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اسی طرح حضرت ابوایوب کو بھجوادیا اور خود اس میں سے کچھ بھی نہیں لیا جب حضرت ابوایوب نے اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ لینے کا اثر محسوس نہیں کیا تو کھانا لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئے۔ اور اس حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اسے لہسن کی بدبو کی وجہ سے چھوڑ دیا تھا حضرت ابوایوب نے یہ سن کر عرض کیا کہ پھر جس چیز کو آپ اچھا نہیں سمجھتے میں بھی اچھا نہیں سمجھتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20897
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20898
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ النَّاجِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ فَأَكَلَ مِنْهُ ، بَعَثَ بِفَضْلِهِ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ ، فَكَانَ أَبُو أَيُّوبَ يَتَتَبَّعُ أَثَرَ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَضَعُ أَصَابِعَهُ حَيْثُ يَرَى أَثَرَ أَصَابِعِهِ ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ بِصَحْفَةٍ ، فَوَجَدَ مِنْهَا رِيحَ ثُومٍ ، فَلَمْ يَذُقْهَا ، وَبَعَثَ بِهَا إِلَى أَبِي أَيُّوبَ ، فَلَمْ يَرَ أَثَرَ أَصَابِعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَمْ أَرَ فِيهَا أَثَرَ أَصَابِعِكَ ؟ قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ ثُومٍ " ، قَالَ : لِمَ تَبْعَثُ إِلَيَّ مَا لَا تَأْكُلُ ؟ فَقَالَ : " إِنَّهُ يَأْتِينِي الْمَلَكُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب کھانے کی کوئی چیز ہدیہ کی جاتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے کچھ لے کر باقی سارا حضرت ابوایوب انصاری کے پاس بھیج دیتے۔ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے کھانا آیا جس میں لہسن تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اسی طرح حضرت ابوایوب کو بھجوادیا اور خود اس میں سے کچھ بھی نہیں لیا جب حضرت ابوایوب نے اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ لینے کا اثر محسوس نہیں کیا تو کھانا لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئے۔ اور اس حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اسے لہسن کی بدبو کی وجہ سے چھوڑ دیا تھا حضرت ابوایوب نے یہ سن کر عرض کیا کہ پھر جس چیز کو آپ تناول نہیں فرماتے اسے میرے پاس کیوں بھیج دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیونکہ میرے پاس فرشتہ آتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20898
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20899
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : كَانُوا يَقُولُونَ : يَثْرِبَ وَالْمَدِينَةَ ، فَقَالَ : النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِنَّ اللَّهَ سَمَّاهَا طَيْبَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگ مدینہ منورہ کو یثرب بھی کہتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ کا نام اللہ نے طیبہ رکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20899
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1385
حدیث نمبر: 20900
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ الْجَزَرِيُّ ، عَنْ نَاصِحٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَأَنْ يُؤَدِّبَ الرَّجُلُ وَلَدَهُ أَوْ أَحَدُكُمْ وَلَدَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَتَصَدَّقَ كُلَّ يَوْمٍ بِنِصْفِ صَاعٍ " ، قَالَ عَبْد اللَّهِ : وَهَذَا الْحَدِيثُ لَمْ يُخَرِّجْهُ أَبِي فِي مُسْنَدِهِ مِنْ أَجْلِ نَاصِحٍ ، لِأَنَّهُ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ ، وَأَمْلَاهُ عَلَيَّ فِي النَّوَادِرِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان اپنی اولاد کو اچھے آداب سکھادے وہ اس کے لئے روزانہ نصف صاع صدقہ کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20900
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف ناصح أبى عبدالله
حدیث نمبر: 20901
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الرَّبِيعِ وَهُوَ ابْنُ أَبِي الرَّبِيعِ الْجُرْجَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَجَمَ مَاعِزًا ، وَلَمْ يَذْكُرْ جَلْدًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ماعز نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے چار مرتبہ بدکاری کا اعتراف کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجم کرنے کا حکم دیدیا راوی نے کوڑے مارنے کا ذکر نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20901
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20902
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ كَذَّابُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قیامت سے پہلے کچھ کذاب آکر رہیں گے تم ان سے بچنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20902
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2923، وهذا إسناد صحيح
حدیث نمبر: 20903
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ مَعَ وَالِدِهِ بِالْحَرَّةِ ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : إِنَّ نَاقَةً لِي ذَهَبَتْ ، فَإِنْ أَصَبْتَهَا فَأَمْسِكْهَا ، فَوَجَدَهَا الرَّجُلُ ، فَلَمْ يَجِئْ صَاحِبُهَا حَتَّى مَرِضَتْ ، فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ : انْحَرْهَا حَتَّى نَأْكُلَهَا ، فَلَمْ يَفْعَلْ حَتَّى نَفَقَتْ ، فَقَالَتْ امْرَأَتُهُ اسْلَخْهَا حَتَّى نُقَدِّدَ لَحْمَهَا وَشَحْمَهَا ، قَالَ : حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : " هَلْ عِنْدَكَ شَيْءٌ يُغْنِيكَ عَنْهَا ؟ " قَالَ : لَا ، قَالَ : " كُلْهَا " ، فَجَاءَ صَاحِبُهَا بَعْدَ ذَلِكَ ، فَقَالََ : فَهَلَّا نَحَرْتَهَا ! قَالَ : اسْتَحْيَيْتُ مِنْكَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی اپنے والد کے ساتھ حرہ میں رہتا تھا اس سے کسی نے کہا کہ میری اونٹنی بھاگ گئی ہے اگر تمہیں ملے تو اسے پکڑ لاؤ اتفاق سے اس آدمی کو وہ مل گئی لیکن اس کا مالک واپس نہ آیا یہاں تک کہ وہ بیمار ہوگئی اس کی بیوی نے اس سے کہا کہ اسے ذبح کرلو تاکہ ہم اسے کھاسکیں لیکن اس نے ایسا نہیں کیا حتی کہ وہ اونٹنی مرگئی اس کی بیوی نے پھر کہا کہ اس کی کھال کو اتار دو تاکہ اب تو اس کے گوشت کو چربی کے ٹکڑے کرلے اس نے کہا کہ میں پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھوں گا اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت فرمایا کہ کیا تمہارے پاس اتنا ہے کہ تمہیں اس اونٹنی سے مستغنی کردے اس نے کہا نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم جا کر اسے کھالو کچھ عرصہ بعد اس کا مالک بھی آگیا اور سارا واقعہ سن کر اس نے کہا تم نے اسے ذبح کیوں نہ کرلیا اس نے جواب دیا مجھے تم سے حیاء آئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20903
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، شريك سيئ الحفظ، وقد توبع، وهذا الحديث قد تفرد به سماك، فهو ممن لا يحتمل تفرده فى مثل هذه الأبواب
حدیث نمبر: 20904
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمْ يُصَلِّ عَلَى رَجُلٍ قَتَلَ نَفْسَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم کے دور باسعادت میں پتہ چلا کہ ایک آدمی نے خود کشی کرلی ہے یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ نہ پڑھائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20904
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ لكنه توبع
حدیث نمبر: 20905
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ ، فَقَالَ : " لَنْ يَزَالَ هَذَا الدِّينُ عَزِيزًا مَنِيعًا ظَاهِرًا عَلَى مَنْ نَاوَأَهُ ، لَا يَضُرُّهُ مَنْ فَارَقَهُ أَوْ خَالَفَهُ حَتَّى يَمْلِكَ اثْنَا عَشَرَ ، كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ " ، أَوْ كَمَا قَالَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ دین ہمیشہ اپنے مخالفین پر غالب رہے گا اسے کوئی مخالفت کرنے والا یا مفارقت کرنے والا نقصان نہ پہنچا سکے گا یہاں تک کہ میری امت میں بارہ خلیفہ گزر جائیں گے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کہا جو میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے وہ سب کے سب قریش سے ہونگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20905
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1821، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد لكنه توبع
حدیث نمبر: 20906
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ ، فَقَالَ : " لَنْ يَزَالَ هَذَا الْأَمْرُ عَزِيزًا مَنِيعًا ظَاهِرًا عَلَى مَنْ نَاوَأَهُ حَتَّى يَمْلِكَ اثْنَا عَشَرَ ، كُلُّهُمْ " ، قَالَ : فَلَمْ أَفْهَمْ مَا بَعْدُ ، قَالَ : فَقُلْتُ لِأَبِي : مَا بَعْدَ " كُلُّهُمْ " ؟ قَالَ : " كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ دین ہمیشہ اپنے مخالفین پر غالب رہے گا اسے کوئی مخالفت کرنے والا یا مفارقت کرنے والا نقصان نہ پہنچا سکے گا یہاں تک کہ میری امت میں بارہ خلیفہ گزر جائیں گے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کہا جو میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے وہ سب کے سب قریش سے ہونگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20906
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1821، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد لكنه توبع
حدیث نمبر: 20907
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، وَابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَا : " رَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودِيًّا وَيَهُودِيَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ اور ابن عمر سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی مرد اور عورت پر رجم کی سزا جاری فرمائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20907
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذان إسنادان ضعيفان: الأول، لسوء حفظ شريك بن عبدالله، والثاني، لسوء شريك وابن أبى ليلي
حدیث نمبر: 20908
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، أُرَاهُ عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَأْمُرُنَا بِصِيَامِ عَاشُورَاءَ ، وَيَحُثُّنَا عَلَيْهِ ، وَيَتَعَاهَدُنَا عِنْدَهُ ، فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ لَمْ يَأْمُرْنَا وَلَمْ يَنْهَنَا عَنْهُ ، وَلَمْ يَتَعَاهَدْنَا عِنْدَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ابتداء میں دسویں محرم کا روزہ رکھنے کی ترغیب اور حکم دیتے تھے اور ہم سے اس پر عمل کرواتے تھے بعد میں ماہ رمضان کے روزے فرض ہوگئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کا حکم دیا اور نہ ہی منع کیا اور نہ ہی عمل کروایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20908
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، م: 1128، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20909
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنِ الْأَشْعَثِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَوَضَّأَ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ ، وَلَا نَتَوَضَّأَ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ ، وَأَنْ نُصَلِّيَ فِي دِمَنِ الْغَنَمِ ، وَلَا نُصَلِّيَ فِي عَطَنِ الْإِبِلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ اونٹ کھا گوشت کھا کر وضو کریں اور بکری کا گوشت کھا کر وضو نہ کریں اور بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لیں اور اونٹ کے باڑے میں نماز نہ پڑھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20909
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، م: 360، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20910
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ مَنْصُورٍ السَّلُولِيَّ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، " أَنَّ رَجُلًا نَحَرَ نَفْسَهُ بِمِشْقَصٍ ، فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک شخص نے چھری سے اپنا سینہ چاک کرلیا خودکشی کرلی یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ نہ پڑھائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20910
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20911
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُهُ : " مُتَّكِئًا عَلَى مِرْفَقِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں داخل ہوا تو دیکھا کہ اپنی کہنی سے ٹیک لگا رکھی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20911
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20912
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو الْعَنْبَرِيُّ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، عَنْ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " كَانَ أَشْكَلَ الْعَيْنِ ، ضَلِيعَ الْفَمِ ، مَنْهُوسَ الْعَقِبِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کی سفیدی میں ڈورے سرخ تھے دہن مبارک کشادہ تھے اور مبارک پنڈلی پر گوشت کم تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20912
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20913
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ ، قَعَدَ فِي مُصَلَّاهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نماز فجر پڑھنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم طلوع آفتاب تک اپنی جگہ پر ہی بیٹھے رہتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20913
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 670
حدیث نمبر: 20914
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَجَمَ يَهُودِيًّا وَيَهُودِيَّةً " ، يَعْنِي هَذَا الْحَدِيثَ ، وَحَدِيثُ خَلَفٍ عَنْ شَرِيكٍ لَيْسَ فِيهِ سِمَاكٌ ، وَإِنَّمَا سَمِعَهُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ خَلَفٌ مِنَ الْمُبَارَكِيِّ ، عَنْ شَرِيكٍ ، أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابهِ عَنْ سِمَاكٍ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی مرد اور عورت پر رجم کی سزا جاری فرمائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20914
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ شريك
حدیث نمبر: 20915
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا خَلَفٌ أَيْضًا ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُبَارَكِيُّ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَجَمَ يَهُودِيًّا وَيَهُودِيَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی مرد اور عورت پر رجم کی سزا جاری فرمائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20915
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ شريك
حدیث نمبر: 20916
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَمَّى الْمَدِينَةَ طَابَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا ہے کہ مدینہ منورہ کا نام اللہ نے طابہ رکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20916
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1385
حدیث نمبر: 20917
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ أَبُو الْفَضْلِ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ سِمَاكٍ وَهُوَ ابْنُ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : " كَانَ فِي سَاقَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُمُوشَةٌ ، وَكَانَ لَا يَضْحَكُ إِلَّا تَبَسُّمًا " ، وَكُنْتُ إِذَا رَأَيْتُهُ ، قُلْتُ : " أَكْحَلُ الْعَيْنَيْنِ ، وَلَيْسَ بِأَكْحَلَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک پنڈلیوں پر پتلا پن تھا اور ہنستے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم صرف تبسم فرماتے تھے اور میں جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا کہ یہی کہتا تھا کہ آپ کی آنکھیں سرمگیں ہیں خواہ آپ نے سرمہ نہ بھی لگایا ہوتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20917
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، الحجاج بن أرطاة مدلس، وقد عنعنه
حدیث نمبر: 20918
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : مَاتَ بَغْلٌ عِنْدَ رَجُلٍ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِيهِ ، قَالَ : فَزَعَمَ جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِصَاحِبِهَا : " مَا لَكَ مَا يُغْنِيكَ عَنْهَا ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : " فَاذْهَبْ فَكُلْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حرہ میں ایک خاندان آباد تھا جس کے افراد غریب محتاج تھے ان کی قریب ان کی یا کسی اور کی اونٹنی مرگئی ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کا حکم پوچھنے کے لئے آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس ایسی چیز نہیں ہے جو تمہیں اس سے بےنیاز کردے اس نے کہا نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وہ کھانے میں رخصت دیدی۔ (اضطراری حالت کی وجہ سے)
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20918
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لتفرد سماك به، ومثله لا يحتمل تفرده فى مثل هذه الأبواب
حدیث نمبر: 20919
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَخْطُبُ قَائِمًا ، يَقْعُدُ قَعْدَةً لَا يَتَكَلَّمُ فِيهَا ، فَقَامَ فَخَطَبَ خُطْبَةً أُخْرَى قَائِمًا " ، فَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ قَاعِدًا ، فَلَا تُصَدِّقْهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مری ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے اور پھر تھوڑی دیر بیٹھ جاتے پھر کسی سے بات نہ کرتے پھر کھڑے ہو کر دوسرا خطبہ ارشاد فرماتے اس لئے اگر تم میں سے کوئی شخص یہ بیان کرتا ہے کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھ کر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے تو اس کی تصدیق نہ کرنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20919
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20920
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو أَحْمَدَ مَخْلَدُ بْنُ الْحَسَنِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو الرَّقِّيَّ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ عُمَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُصَلِّي فِي الثَّوْبِ الَّذِي آتِي فِيهِ أَهْلِي ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، إِلَّا أَنْ تَرَى فِيهِ شَيْئًا فَتَغْسِلَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک آدمی کو یہ سوال نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے ہوئے سنا کہ کیا میں ان کپڑوں میں نماز پڑھ سکتا ہوں جن میں میں اپنی بیوی کے پاس جاتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں الاّ یہ کہ تمہیں اس پر کوئی دھبہ نظر آئے تو اسے دھولو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20920
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، لكن اختلف فى رفعه ووقفه
حدیث نمبر: 20921
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْمُونٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُصَلِّي فِي ثَوْبِي الَّذِي آتِي فِيهِ أَهْلِي ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، إِلَّا أَنْ تَرَى فِيهِ شَيْئًا فَتَغْسِلَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک آدمی کو یہ سوال نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے ہوئے سنا کہ کیا میں ان کپڑوں میں نماز پڑھ سکتا ہوں جن میں میں اپنی بیوی کے پاس جاتاہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں الاّ یہ کہ تمہیں اس پر کوئی دھبہ نظر آئے تو اسے دھولو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20921