حدیث نمبر: 20842
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : نَبَّأَنِي جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ , أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " خَطَبَ قَائِمًا عَلَى الْمِنْبَرِ ، ثُمَّ يَجْلِسُ ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ قَائِمًا " ، قَالَ : فَقَالَ لِي جَابِرٌ فَمَنْ نَبَّأَكَ أَنَّهُ كَانَ يَخْطُبُ قَاعِدًا ، فَقَدْ كَذَبَ ، فَقَدْ وَاللَّهِ صَلَّيْتُ مَعَهُ أَكْثَرَ مِنْ أَلْفَيْ صَلَاةٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے اور پھر تھوڑی دیر بعد بیٹھ جاتے اور کسی سے بات نہ کرتے پھر کھڑے ہو کر دوسرا خطبہ ارشاد فرماتے اس لئے اگر تم سے کوئی شخص یہ بیان کرتا ہے کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھ کر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے تو وہ غلط بیانی کرتا ہے۔ واللہ میں نے ان کے ساتھ دو ہزار سے زیادہ نمازیں پڑھی ہوئی ہیں۔
حدیث نمبر: 20843
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " كَانَ يُخَفِّفُ وَلَا يُصَلِّي صَلَاةَ هَؤُلَاءِ " ، قَالَ : وَنَبَّأَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ بِ " ق ، وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ " ، وَنَحْوِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سماک کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہلکی نماز پڑھاتے تھے ان لوگوں کی طرح نہیں پڑھاتے تھے اور انہوں نے یہ بھی بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر میں سورت ق اور اس جیسی سورتوں کی تلاوت فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 20844
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ أَكُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ كَثِيرًا ، " كَانَ لَا يَقُومُ مِنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ الصُّبْحَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، فَإِذَا طَلَعَتْ الشَّمْسُ قَامَ ، وَكَانَ يُطِيلُ قَالَ أَبُو النَّضْرِ : كَثِيرَ الصُّمَاتِ ، فَيَتَحَدَّثُونَ ، فَيَأْخُذُونَ فِي أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ ، فَيَضْحَكُونَ ، وَيَتَبَسَّمُ " .
مولانا ظفر اقبال
سماک کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلسوں میں شریک ہوتے تھے انہوں نے فرمایا کہ ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس جگہ پر نماز فجر پڑھتے تھے طلوع آفتاب تک وہاں سے نہیں اٹھتے تھے جب سورج طلوع ہوجاتا تو اٹھ جاتے تھے اور زیادہ وقت خاموش رہتے تھے اور کم ہنستے تھے البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں صحابہ باتیں بھی کہہ لیا کرتے تھے اور زمانہ جاہلیت کے واقعات ذکر کرکے ہنستے بھی تھے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم تبسم فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 20845
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ قَعَدَ فِي مُصَلَّاهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ " . قَالَ : " وَكَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ بِ " ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ " ، وَكَانَتْ صَلَاتُهُ بَعْدُ تَخْفِيفًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نماز فجر پڑھنے کے بعد طلوع آفتاب تک اپنی جگہ پر بیٹھے رہتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر میں سورت ق اور اس جیسی سورتوں کی تلاوت فرماتے تھے اور مختصر نماز پڑھاتے تھے۔
حدیث نمبر: 20846
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَائِمًا " ، فَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ جَلَسَ فَكَذِّبْهُ ، قَالَ : وَقَالَ جَابِرٌ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَخْطُبُ خُطْبَتَيْنِ ، يَخْطُبُ ثُمَّ يَجْلِسُ ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ ، وَكَانَتْ خُطْبَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَاتُهُ قَصْدًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے اگر تم سے کوئی شخص یہ بیان کرتا ہے کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے تو وہ غلط بیانی کرتا ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو خطبے فرماتے تھے پہلے ایک خطبہ دیتے اور بیٹھ جاتے پھر کھڑے ہو کر دوسرا خطبہ دیتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ اور نماز معتدل ہوتے تھے۔
حدیث نمبر: 20847
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِيدَيْنِ ، غَيْرَ مَرَّةٍ وَلَا مَرَّتَيْنِ ، بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک دو مرتبہ نہیں بلکہ کئی مرتبہ عیدین کی نماز پڑھی ہے اس میں اذان اور اقامت نہیں ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 20848
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُخْبِرَ أَنَّ رَجُلًا قَتَلَ نَفْسَهُ ، قَالَ : " إِذَنْ لَا أُصَلِّيَ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں پتہ چلا کہ ایک آدمی نے خود کشی کرلی ہے یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تو اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھاؤں گا۔
حدیث نمبر: 20849
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : " كَانَ بِلَالٌ يُؤَذِّنُ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ لَا يَخْرِمُ ، ثُمَّ لَا يُقِيمُ حَتَّى يَخْرُجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، قَالَ : " فَإِذَا خَرَجَ أَقَامَ حِينَ يَرَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت بلال زوال کے بعد اذان دیتے تھے۔ اس میں کوتاہی نہیں کرتے تھے اور اس وقت تک اقامت نہ کہتے جب تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو باہر نکلتے ہوئے نہ دیکھ لیتے۔ جب وہ دیکھتے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکل آئے ہیں تو اقامت شروع کردیتے۔
حدیث نمبر: 20850
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، نَبَّأَنِي جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ ، قَالَ : " كَانَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤَذِّنُ ثُمَّ يُمْهِلُ ، فَلَا يُقِيمُ حَتَّى إِذَا رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ ، أَقَامَ حِينَ يَرَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت بلال زوال کے بعد اذان دیتے تھے۔ اس میں کوتاہی نہیں کرتے تھے اور اس وقت تک اقامت نہ کہتے جب تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو باہر نکلتے ہوئے نہ دیکھ لیتے۔ جب وہ دیکھتے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکل آئے ہیں تو اقامت شروع کردیتے۔
حدیث نمبر: 20851
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : نَبَّأَنِي جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ قَائِمًا ، ثُمَّ يَجْلِسُ ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ قَائِمًا " ، فَمَنْ نَبَّأَكَ أَنَّهُ كَانَ يَخْطُبُ جَالِسًا ، فَقَدْ كَذَبَ ، فَقَدْ وَاللَّهِ صَلَّيْتُ مَعَهُ أَكْثَرَ مِنْ أَلْفَيْ صَلَاةٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے اور پھر تھوڑی دیر بعد بیٹھ جاتے اور کسی سے بات نہ کرتے پھر کھڑے ہو کر دوسرا خطبہ ارشاد فرماتے اس لئے اگر تم سے کوئی شخص یہ بیان کرتا ہے کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھ کر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے تو وہ غلط بیانی کرتا ہے۔ واللہ میں نے ان کے ساتھ دوہزار سے زیادہ نمازیں پڑھی ہوئی ہیں۔
حدیث نمبر: 20852
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : " كَانَ بِلَالٌ يُؤَذِّنُ إِذَا دَحَضَتْ ، ثُمَّ لَا يُقِيمُ حَتَّى يَرَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا رَآهُ أَقَامَ حِينَ يَرَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت بلال زوال کے بعد اذان دیتے تھے۔ اس میں کوتاہی نہیں کرتے تھے اور اس وقت تک اقامت نہ کہتے جب تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو باہر نکلتے ہوئے نہ دیکھ لیتے۔ جب وہ دیکھتے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکل آئے ہیں تو اقامت شروع کردیتے۔
حدیث نمبر: 20853
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : " شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ مَرَّةٍ فِي الْمَسْجِدِ ، وَأَصْحَابُهُ يَتَذَاكَرُونَ الشِّعْرَ وَأَشْيَاءَ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ ، فَرُبَّمَا تَبَسَّمَ مَعَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سماک کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلسوں میں شریک ہوتے تھے انہوں نے فرمایا کہ ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس جگہ پر نماز فجر پڑھتے تھے طلوع آفتاب تک وہاں سے نہیں اٹھتے تھے جب سورج طلوع ہوجاتا تو اٹھ جاتے تھے اور زیادہ وقت خاموش رہتے تھے اور کم ہنستے تھے البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں صحابہ باتیں بھی کہہ لیا کرتے تھے اور زمانہ جاہلیت کے واقعات ذکر کرکے ہنستے بھی تھے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم تبسم فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 20854
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ " أَنَّ مَاعِزًا جَاءَ ، فَأَقَرَّ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ ، فَأَمَرَ بِرَجْمِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ماعز نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آکر چار مرتبہ بدکاری کا اعتراف کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیدیا۔
حدیث نمبر: 20855
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : كُنَّا إِذَا جِئْنَا إِلَيْهِ ، يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " جَلَسَ أَحَدُنَا حَيْثُ يَنْتَهِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر ہوتے جہاں مجلس ختم ہورہی ہوتی ہم وہیں بیٹھ جاتے تھے۔
حدیث نمبر: 20856
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَجَمَ يَهُودِيًّا وَيَهُودِيَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی عورت اور مرد پر رجم کی سزا جاری فرمادی۔
حدیث نمبر: 20857
وَقَالَ : " وَلَمْ يَكُنْ يُؤَذَّنُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعِيدَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور عیدین کی نماز میں اذان نہیں ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 20858
" وَإِنَّ رَجُلًا قَتَلَ نَفْسَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
اور ایک آدمی نے خود کشی کرلی یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ نہ پڑھائی۔
حدیث نمبر: 20859
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، رَفَعَهُ : قَالَ : " لَا يَزَالُ هَذَا الدِّينُ قَائِمًا يُقَاتِلُ عَلَيْهِ عِصَابَةٌ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ " ، قَالَ شَرِيكٌ سَمِعْتُهُ مِنْ أَخِيهِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَرْبٍ ، قُلْتُ لِشَرِيكٍ : عَمَّنْ ذَكَرَهُ هُوَ لَكُمْ أَنْتُمْ ؟ قَالَ : عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا اور ایک جماعت اس کے لئے قتال کرتی رہے گی یہاں تک کہ قیامت آجائے۔
حدیث نمبر: 20860
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَكُونُ بَعْدِي اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً ، كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ " ، قَالَ : ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ ، فَأَتَتْهُ قُرَيْشٌ ، فَقَالُوا : ثُمَّ يَكُونُ مَاذَا ؟ قَالَ : " ثُمَّ يَكُونُ الْهَرْجُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے بعد بارہ خلیفہ ہوں گے جو سب کے سب قریش میں سے ہوں گے۔ یہ فرما کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر چلے گئے تو قریش کے لوگ ان کے پاس آئے تو عرض کیا اس کے بعد کیا ہوگا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے بعد قتل و غارت عام ہوجائے گی۔
حدیث نمبر: 20861
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُكِرَ لَهُ رَجُلٌ نَحَرَ نَفْسَهُ بِمَشَاقِصَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذًَا لَا أُصَلِّيَ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ ایک آدمی نے چھری سے اپنا سینہ چاک کرلیا اور خود کشی کرلی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کہ میں یہ نماز جنازہ نہیں پڑھاؤں گا۔
حدیث نمبر: 20862
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنِي جَابِرٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يَكُونُ بَعْدِي اثْنَا عَشَرَ أَمِيرًا " ، ثُمَّ لَا أَدْرِي مَا قَالَ بَعْدَ ذَلِكَ ، فَسَأَلْتُ الْقَوْمَ كُلَّهُمْ ، فَقَالُوا : قَالَ : " كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ دین ہمیشہ اپنے مخالفین پر غالب رہے گا اسے کوئی مخالفت کرنے والا یا مفارقت کرنے والا نقصان نہ پہنچا سکے گا یہاں تک کہ میری امت میں بارہ خلیفہ گزر جائیں گے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کہا جو میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے وہ سب کے سب قریش سے ہونگے۔
حدیث نمبر: 20863
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ كَذَّابِينَ " ، فَقُلْتُ : آنْتَ سَمِعْتَهُ ؟ قَالَ : أَنَا سَمِعْتُهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت سے پہلے کچھ کذاب آتے رہیں گے تم ان سے بچنا۔
حدیث نمبر: 20864
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ " أَنَّ رَجُلًا قَتَلَ نَفْسَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں پتہ چلا کہ ایک آدمی نے خود کشی کرلی ہے یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ نہ پڑھائی۔
حدیث نمبر: 20865
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ يَخْطُبُ فِي الْجُمُعَةِ إِلَّا قَائِمًا " ، فَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ جَلَسَ فَكَذِّبْهُ ، فَإِنَّهُ لَمْ يَفْعَلْ ، كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ، ثُمَّ يَقْعُدُ ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ ، كَانَ يَخْطُبُ خُطْبَتَيْنِ ، يَقْعُدُ بَيْنَهُمَا فِي الْجُمُعَةِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے اس لئے اگر تم سے کوئی شخص یہ بیان کرتا ہے کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھ کر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے تو وہ غلط بیانی کرتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو خطبے دیتے تھے پہلے ایک خطبہ دیتے اور بیٹھ جاتے پھر کھڑے ہو کر دوسرا خطبہ دیتے۔
حدیث نمبر: 20866
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : " مَا كَانَ فِي رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الشَّيْبِ إِلَّا شَعَرَاتٌ فِي مَفْرِقِ رَأْسِهِ ، إِذَا هُوَ ادَّهَنَ وَارَاهُنَّ الدُّهْنُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے کسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید بالوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں چند بال سفید تھے جب آپ سر پر تیل لگاتے تو بالوں کی سفیدی واضح نہیں ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 20867
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَجَمَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ وَلَمْ يَذْكُرْ جَلْدًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ماعز نے آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے چار مرتبہ بدکاری کا اعتراف کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کرنے کا حکم دیدیا اور راوی نے کوڑے مارنے کا ذکر نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 20868
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ أَبُو كَامِلٍ : أَخْبَرَنَا سِمَاكٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ قَائِمًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 20869
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرِ بْنِ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ أَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ ؟ قَالَ : " إِنْ شِئْتَ فَعَلْتَ ، وَإِنْ شِئْتَ لَمْ تَفْعَلْ " ، قَالَ : أَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ ، قَالَ : " نَعَمْ " ، قَالَ : فَقَفَّى ثُمَّ رَجَعَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُصَلِّي فِي مَبَاتِ الْغَنَمِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، قَالَ : أُصَلِّي فِي مَبَارِكِ الْإِبِلِ ؟ قَالَ : " لَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا میں بکری کا گوشت کھانے کے بعد وضو کروں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چاہو تو کرلو یا نہ کرو اس نے پوچھا کہ بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ سکتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں۔ سائل نے پوچھا اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد نیا وضو کروں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں۔ اس نے کہا کہ میں اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھ سکتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا نہیں۔
حدیث نمبر: 20870
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ بِأُصْبُعَيْهِ ، وَيَقُولُ " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَذِهِ مِنْ هَذِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھے اور قیامت کو اس طرح بھیجا گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت اور درمیان کی انگلی سے اشارہ کرکے دکھایا۔
حدیث نمبر: 20871
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا هَلَكَ كِسْرَى فَلَا كِسْرَى بَعْدَهُ ، وَإِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلَا قَيْصَرَ بَعْدَهُ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتُنْفَقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب کسری ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی کسری نہ آسکے گا جب قیصر ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں آسکے گا۔ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تم دونوں ان کے خزانے اللہ کے راستہ میں خرچ کروگے اور وہ وقت ضرور آئے گا۔
حدیث نمبر: 20872
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يَكُونُ اثْنَا عَشَرَ أَمِيرًا " ، قَالَ : فَقَالَ كَلِمَةً لَمْ أَسْمَعْهَا ، قَالَ : فَقَالَ أَبِي : إِنَّهُ قَالَ : " كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ دین ہمیشہ اپنے مخالفین پر غالب رہے گا اسے کوئی مخالفت کرنے والا یا مفارقت کرنے والانقصان نہ پہنچا سکے گا یہاں تک کہ میری امت میں بارہ خلیفہ گزر جائیں گے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کہا جو میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے وہ سب کے سب قریش سے ہونگے۔
حدیث نمبر: 20873
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَطُّ إِلَّا وَهُوَ قَائِمٌ " ، فَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ رَآهُ يَخْطُبُ وَهُوَ قَاعِدٌ ، فَقَدْ كَذَبَ . قَالَ : وَقَالَ قَالَ : وَقَالَ سِمَاكٌ ، قَالَ جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ " كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخُطْبَتُهُ قَصْدًا " . وقَالَ جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ قَائِمًا ، ثُمَّ يَجْلِسُ ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے اس لئے کوئی شخص تم سے یہ بیان کرتا ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھ کر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے تو وہ غلط بیانی کرتا ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ اور نماز معتدل ہوتے تھے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو خطبے دیتے تھے پہلے ایک خطبہ دیتے اور بیٹھ جاتے پھر کھڑے ہو کر دوسرا خطبہ دیتے۔
حدیث نمبر: 20874
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْمُسَيَّبَ بْنَ رَافِعٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ خَرَجَ عَلَى أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : " مَا لِي أَرَاكُمْ عِزِينَ ؟ " وَهُمْ قُعُودٌ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے پاس تشریف لائے تو فرمایا کہ کیا بات ہے میں تمہیں مختلف ٹولیوں کی شکل میں بٹا ہوا دیکھ رہاہوں صحابہ کرام اس وقت اسی طرح بیٹھے ہوئے تھے۔
حدیث نمبر: 20875
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْمُسَيَّبَ بْنَ رَافِعٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَأَبْصَرَ قَوْمًا قَدْ رَفَعُوا أَيْدِيَهُمْ ، فَقَالَ : " قَدْ رَفَعُوهَا كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمَّسِ ، اسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجلس میں داخل ہوئے تو کچھ لوگوں کو ہاتھ اٹھائے ہوئے دیکھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان لوگوں کا کیا مسئلہ ہے وہ اپنے ہاتھوں سے اس طرح اشارہ کرتے ہیں جیسے دشوار خو گھوڑوں کی دم ہو اور نماز میں پرسکون رہا کرو۔
حدیث نمبر: 20876
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْمُسَيَّبَ بْنَ رَافِعٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " أَمَا يَخْشَى أَحَدُكُمْ إِذَا رَفَعَ بَصَرَهُ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ أَنْ لَا يَرْجِعَ إِلَيْهِ بَصَرُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص دوران نماز سر اٹھاتے ہوئے اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اس کی نگاہ اس کی طرف واپس ہی نہ آئے اور اوپر ہی اوپر اٹھی رہ جائے۔
حدیث نمبر: 20877
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ أَبِي ثَوْرِ بْنِ عِكْرِمَةَ ، عَنْ جَدِّهِ وَهُوَ جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي مَبَارِكِ الْإِبِلِ ؟ فَقَالَ : لَا تُصَلِّ ، وَسُئِلَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ ؟ فَقَالَ : صَلِّ ، وَسُئِلَ عَنِ الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ ؟ فَقَالَ : تَوَضَّأْ مِنْهُ ، وَسُئِلَ عَنْ لُحُومِ الْغَنَمِ ؟ فَقَالَ : إِنْ شِئْتَ تَوَضَّأْ ، وَإِنْ شِئْتَ لَا تَتَوَضَّأْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا میں بکری کا گوشت کھانے کے بعد وضو کروں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چاہو تو کرلو یا نہ کرو اس نے پوچھا کہ بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ سکتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں۔ سائل نے پوچھا اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد نیا وضو کروں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں۔ اس نے کہا کہ میں اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھ سکتا ہوں آپ نے کہا نہیں۔
حدیث نمبر: 20878
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، يَقُولُ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْلِسُ بَيْنَ الْخُطْبَتَيْنِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَيَخْطُبُ قَائِمًا ، وَكَانَتْ صَلَاتُهُ قَصْدًا ، وَخُطْبَتُهُ قَصْدًا ، وَيَقْرَأُ آيَاتٍ مِنَ الْقُرْآنِ عَلَى الْمِنْبَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن دو خطبے دیتے تھے پہلا خطبہ دیتے اور بیٹھ جاتے پھر کھڑے ہو کر دوسرا خطبہ دیتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ اور نماز معتدل ہوتے تھے۔ اور وہ منبر پر قرآن کی آیت تلاوت کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 20879
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ السُّوَائِيُّ ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّ هَذَا الدِّينَ لَا يَزَالُ عَزِيزًا إِلَى اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيفَةً " ، قَالَ : ثُمَّ تَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَلِمَةٍ لَمْ أَفْهَمْهَا ، وَضَجَّ النَّاسُ ، فَقُلْتُ لِأَبِي : مَا قَالَ ؟ قَالَ : " كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ دین ہمیشہ اپنے مخالفین پر غالب رہے گا اسے کوئی مخالفت کرنے والا یا مفارقت کرنے والا نقصان نہ پہنچا سکے گا یہاں تک کہ میری امت میں بارہ خلیفہ گزر جائیں گے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کہا جو میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے وہ سب کے سب قریش سے ہونگے۔
حدیث نمبر: 20880
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ ، فَقَالَ : " لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ عَزِيزًا مَنِيعًا ظَاهِرًا عَلَى مَنْ نَاوَأَهُ حَتَّى يَمْلِكَ اثْنَا عَشَرَ كُلُّهُمْ " ، قَالَ : فَلَمْ أَفْهَمْ مَا بَعْدُ ، قَالَ : فَقُلْتُ لِأَبِي : مَا قَالَ بَعْدَمَا قَالَ : " كُلُّهُمْ " ؟ قَالَ : " كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ " ، وَمِنْ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَشَايِخِهِ ، مِنْ حَدِيثِ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ دین ہمیشہ اپنے مخالفین پر غالب رہے گا اسے کوئی مخالفت کرنے والا یا مفارقت کرنے والا نقصان نہ پہنچاسکے گا یہاں تک کہ میری امت میں بارہ خلیفہ گزرجائیں گے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کہا جو میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے وہ سب کے سب قریش سے ہونگے۔
حدیث نمبر: 20881
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرَكَانِيُّ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرٍ يَعْنِي ابْنَ سَمُرَةَ ، قَالَ : جَالَسْتُهُ أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ مَرَّةٍ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَذَا قَالَ الْوَرَكَانِيُّ " مَا كَانَ يَخْطُبُ إِلَّا قَائِمًا ، يَخْطُبُ خُطْبَتَهُ الْأُولَى ، ثُمَّ يَقْعُدُ قَعْدَةً ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ خُطْبَتَهُ الْأُخْرَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سو سے زیادہ مجالس میں شرکت کی ہے میں نے انہیں ہمیشہ کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ہوئے سنا پہلا خطبہ دیتے اور بیٹھ جاتے پھر کھڑے ہو کر دوسرا خطبہ دیتے تھے۔
…