حدیث نمبر: 20802
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ كَذَّابِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قیامت کے پہلے کچھ کذاب آکر رہیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20802
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2923، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20803
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، يَقُولُ : أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ ، رَجُلٍ قَصِيرٍ ، فِي إِزَارِهِ مَا عَلَيْهِ رِدَاءٌ ، قَالَ : وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئٌ عَلَى وِسَادَةٍ عَلَى يَسَارِهِ ، فَكَلَّمَهُ ، وَمَا أَدْرِي مَا يُكَلِّمُهُ ، وَأَنَا بَعِيدٌ مِنْهُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ قَوْمٌ ، فَقَالَ : " اذْهَبُوا بِهِ " ، ثُمَّ قَالَ : " رُدُّوهُ " ، فَكَلَّمَهُ وَأَنَا أَسْمَعُ ، فَقَالَ : " اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ " ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا ، وَأَنَا أَسْمَعُهُ ، قَالَ : فَقَالَ : " أَكُلَّمَا نَفَرْنَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، خَلَفَ أَحَدُهُمْ لَهُ نَبِيبٌ كَنَبِيبِ التَّيْسِ يَمْنَحُ إِحْدَاهُنَّ الْكُثْبَةَ مِنَ اللَّبَنِ ، وَاللَّهِ لَا أَقْدِرُ عَلَى أَحَدِهِمْ إِلَّا نَكَّلْتُ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حضرت ماعز بن مالک جو پستہ قد آدمی تھے کو ایک تہبند میں پیش کیا گیا ان کے جسم پر تہنبد کے علاوہ کوئی چادر نہ تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک تکیہ پر بائیں جانب ٹیک لگائے بیٹھے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کچھ باتیں جن کے متعقل مجھے کچھ معلوم نہیں کہ وہ کیا باتیں تھیں کیونکہ میرے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان قوم حائل تھی تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے لے جاؤ کچھ وقفے کے بعد فرمایا کہ اسے واپس لے آؤ اس وقت جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے باتیں کہی وہ میں نے سنی پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے لے جاؤ اسے رجم کردو۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے میں نے وہ بھی سنا ہماری کوئی بھی جماعت اللہ کے راستے میں جہاد کے لئے نکلتی ہے تو ان میں سے جو شخص پیچھے رہ جاتا ہے اس کی آواز بکرے جیسے ہوتی ہے اور جو کسی کو تھوڑا سا دودھ دے دے واللہ اس پر جس کو بھی قدرت ملی اسے سزا ضرور دوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20803
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20804
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سِمَاكٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، يَقُولُ : " كَانَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤَذِّنُ ، ثُمَّ يُمْهِلُ ، فَلَا يُقِيمُ حَتَّى إِذَا رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ ، أَقَامَ الصَّلَاةَ حِينَ يَرَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مؤذن جب اذان دیتا ہے تو کچھ دیر رک جاتا اور اس وقت اقامت نہ کہتا جب تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو باہر نکلتے ہوئے نہ دیکھ لیتا تو جب وہ دیکھتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکل آئے تو وہ اقامت شروع کردیتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20804
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20805
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ مِسْمَارٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، عَنْ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَزَالُ الدِّينُ قَائِمًا ، حَتَّى يَكُونَ اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً مِنْ قُرَيْشٍ ، ثُمَّ يَخْرُجُ كَذَّابُونَ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ ، ثُمَّ تَخْرُجُ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَيَسْتَخْرِجُونَ كَنْزَ الْأَبْيَضِ ، كِسْرَى وَآلِ كِسْرَى ، وَإِذَا أَعْطَى اللَّهُ أَحَدَكُمْ خَيْرًا ، فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ وَأَهْلِهِ ، وَأَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ " .
مولانا ظفر اقبال
عامر بن سعد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث پوچھی تو انہوں نے فرمایا کہ دین اس وقت تک قائم رہے گا جب تک قریش کے بارہ خلیفہ نہ ہوجائیں۔ پھر قیامت سے پہلے کچھ کذاب آکر رہیں گے۔ پھر مسلمانوں کی ایک جماعت نکلے گی اور وہ کسری اور آل کسری کا سفید خزانہ نکال لیں گے۔ اور جب اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی کو کوئی خیر عطا فرمادیں تو اسے چاہیے کہ اپنی ذات اور اپنے اہل خانہ سے اس کا آغاز کرے۔ ۔ اور میں حوض کوثر پر تمہارا منتظر ہوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20805
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1822، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20806
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُلْنَا : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ بِأَيْدِينَا يَمِينًا وَشِمَالًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْمُونَ بِأَيْدِيهِمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمْسِ ؟ ! أَلَا يَسْكُنُ أَحَدُكُمْ ، وَيُشِيرُ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ ، ثُمَّ يُسَلِّمُ عَلَى صَاحِبِهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تھے تو ہم دائیں بائیں جانب سلام پھیرتے ہوئے ہاتھ سے اشارہ کرتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں کا کیا مسئلہ ہے وہ اپنے ہاتھوں سے اس طرح اشارہ کرتے ہیں جیسے دشوار خو گھوڑوں کی دم ہو کیا تم سکون سے نہیں رہ سکتے کہ ران پر ہاتھ رکھے ہوئے ہی اشارہ کرلو اور دائیں بائیں جانب اپنے ساتھی کو سلام کردو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20806
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 431
حدیث نمبر: 20807
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، وَسُئِلَ عَنْ شَيْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كَانَ فِي رَأْسِهِ شَعَرَاتٌ إِذَا دَهَنَ رَأْسَهُ لَمْ يَتَبَيَّنَّ ، وَإِذَا لَمْ يَدْهُنْهُ يَتَبَيَّنَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے کسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید بالوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں چند بال سفید تھے جب آپ سر پر تیل لگاتے تو بالوں کی سفیدی واضح نہیں ہوتی تھی اور جب تیل نہ لگاتے تو ان کی سفیدی واضح ہوجاتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20807
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20808
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ بِ " سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى " وَنَحْوَهَا ، وَفِي الصُّبْحِ بِأَطْوَلَ مِنْ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز ظہر میں سورت اعلی جیسی سورتیں پڑھتے تھے اور نماز فجر میں اس سے لمبی سورتیں پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20808
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، م: 460، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20809
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْتَمِسُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شب قدر کو عشرہ اخیر میں تلاش کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20809
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ شريك، لكنه توبع
حدیث نمبر: 20810
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَكُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، " وَكَانَ طَوِيلَ الصَّمْتِ ، قَلِيلَ الضَّحِكِ ، وَكَانَ أَصْحَابُهُ يَذْكُرُونَ عِنْدَهُ الشِّعْرَ وَأَشْيَاءَ مِنْ أُمُورِهِمْ ، فَيَضْحَكُونَ ، وَرُبَّمَا تَبَسَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سماعت کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلسوں میں شریک ہوتے تھے انہوں نے فرمایا ہاں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ وقت خاموش رہتے اور کم ہنستے تھے۔ البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں صحابہ اشعار بھی کہہ دیا کرتے تھے اور اپنے معاملات ذکر کرکے ہنستے بھی تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم تبسم بھی فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20810
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، شريك سيئ الحفظ لكنه توبع
حدیث نمبر: 20811
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَمُؤَمَّلٌ ، المعنى ، وهذا لفظ عبد الله ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ ؟ قَالَ : " لَا " ، قَالَ : فَأُصَلِّي فِي مُرَاحِ الْغَنَمِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، قَالَ : أَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، قَالَ : فَأُصَلِّي فِي أَعْطَانِهَا ؟ قَالَ : " لَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا میں بکری کا گوشت کھانے کے بعد نیا وضو کیا کرو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں اس نے پوچھا کہ بکریوں کے بارے میں نماز پڑھ سکتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں سائل نے پوچھا کہ اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد نیا وضو کرو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں۔ اس نے پوچھا کہ اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھ سکتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20811
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20812
حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْكَلَ الْعَيْنِ ، مَنْهُوسَ الْعَقِبِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کی سفیدی میں سرخ دوڑے تھے اور مبارک پنڈلیوں پر گوشت کم تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20812
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20813
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَخْطُبُ قَائِمًا ، وَيَجْلِسُ بَيْنَ الْخُطْبَتَيْنِ ، وَيَقْرَأُ آيَاتٍ ، وَيُذَكِّرُ النَّاسَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے دو خطبوں کے درمیان بیٹھتے تھے اور ان خطبوں میں قرآن کریم کی آیات تلاوت فرماتے اور لوگوں کو نصیحت فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20813
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20814
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ السُّوَائِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ : " إِنَّ هَذَا الدِّينَ لَنْ يَزَالَ ظَاهِرًا عَلَى مَنْ نَاوَأَهُ ، لَا يَضُرُّهُ مُخَالِفٌ وَلَا مُفَارِقٌ ، حَتَّى يَمْضِيَ مِنْ أُمَّتِي اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً " ، قَالَ : ثُمَّ تَكَلَّمَ بِشَيْءٍ لَمْ أَفْهَمْهُ ، فَقُلْتُ لِأَبِي : مَا قَالَ ؟ قَالَ : " كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے ہوئے سنا کہ یہ دین ہمیشہ غالب رہے گا اسے کوئی مخالفت کرنے والا یا کوئی مفارقت کرنے والا نقصان نہ پہنچا سکے گا۔ یہاں تک کہ میری امت میں بارہ خلیفہ گزر جائیں پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کہا جو میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ وہ سب کے سب قریش سے ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20814
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1821، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد، لكنه توبع
حدیث نمبر: 20815
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ " أَنَّ أَهْلَ بَيْتٍ كَانُوا بِالْحَرَّةِ مُحْتَاجِينَ ، قَالَ : فَمَاتَتْ عِنْدَهُمْ نَاقَةٌ لَهُمْ أَوْ لِغَيْرِهِمْ ، فَرَخَّصَ لَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَكْلِهَا " ، قَالَ : فَعَصَمَتْهُمْ بَقِيَّةَ شِتَائِهِمْ ، أَوْ سَنَتِهِمْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حرہ میں ایک خاندان آباد تھا جس کے افراد غریب تھے محتاج تھے ان کے قریب ان کی یا کسی اور کی اونٹنی مرگئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کھانے کی رخصت دیدی۔ (اضطراری کی حالت کی وجہ سے اور اس اونٹنی نے انہیں ایک سال تک بچائے رکھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20815
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، شريك سيئ الحفظ، وقد توبع، وهذا الحديث قد تفرد به سماك، فهو ممن لا يحتمل تفرده فى مثل هذه الأبواب
حدیث نمبر: 20816
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، يَقُولُ : مَاتَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَاتَ فُلَانٌ ، قَالَ : " لَمْ يَمُتْ " ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ ، ثُمَّ الثَّالِثَةَ ، فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَيْفَ مَاتَ ؟ " قَالَ : نَحَرَ نَفْسَهُ بِمِشْقَصٍ ، قَالَ : فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک آدمی فوت ہوگیا ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دینے کے لئے آیا کہ یارسول اللہ فلاں آدمی فوت ہوگیا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ مرا نہیں ہے اس نے تین مرتبہ آکر اس کی خبر دی پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ وہ کیسے مرا ہے ؟ اس نے بتایا کہ اس نے چھری سے اپنا سینہ چاک کردیا ہے (خودکشی کرلی) یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ نہ پڑھائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20816
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20817
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ السُّوَائِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ : " لَا يَزَالُ هَذَا الدِّينُ ظَاهِرًا عَلَى مَنْ نَاوَأَهُ ، لَا يَضُرُّهُ مُخَالِفٌ وَلَا مُفَارِقٌ ، حَتَّى يَمْضِيَ مِنْ أُمَّتِي اثْنَا عَشَرَ أَمِيرًا كُلُّهُمْ " ثُمَّ خَفِيَ مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : وَكَانَ أَبِي أَقْرَبَ إِلَى رَاحِلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي ، فَقُلْتُ : يَا أَبَتَاهُ ، مَا الَّذِي خَفِيَ مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : يَقُولُ : " كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ دین ہمیشہ اپنے مخالفین پر غالب رہے گا اسے کوئی مخالفت کرنے والا یا مفارقت کرنے والانقصان نہ پہنچاسکے گا یہاں تک کہ میری امت میں بارہ خلیفہ گزرجائیں گے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کہا جو میں سمجھ نہیں سکتا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے وہ سب کے سب قریش سے ہونگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20817
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1821، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد، لكنه توبع
حدیث نمبر: 20818
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، كَيْفَ كَانَ يَخْطُبُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : " كَانَ يَخْطُبُ قَائِمًا ، غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ يَقْعُدُ قَعْدَةً ، ثُمَّ يَقُومُ " .
مولانا ظفر اقبال
سماک کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح خطبہ دیتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے دو خطبوں کے درمیان بیٹھتے تھے اور پھر کھڑے ہوتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20818
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20819
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْولُ : " إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ كَذَّابِينَ " ، قَالَ سِمَاكٌ : سَمِعْتُ أَخِي يَقُولُ : قَالَ جَابِرٌ " فَاحْذَرُوهُمْ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت سے پہلے کچھ کذاب آکر رہیں گے تم ان سے بچنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20819
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2923، وهذا إسناد صحيح
حدیث نمبر: 20820
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ كَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ ؟ قَالَ : " كَانَ يَقْعُدُ فِي مَقْعَدِهِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ " .
مولانا ظفر اقبال
سماک نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نماز فجر پڑھنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا معمول مبارک تھا انہوں نے فرمایا طلوع آفتاب تک اپنی جگہ پر ہی بیٹھے رہتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20820
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 670
حدیث نمبر: 20821
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَتَفْتَحَنَّ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، أَوْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ كَنْزَ آلِ كِسْرَى الَّذِي فِي الْأَبْيَضِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابربن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمانوں کی ایک جماعت نکلے گی اور وہ کسری اور آل کسری کا سفید خزانہ نکال لیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20821
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2919، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20822
قَالَ : وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ وَتَعَالَى سَمَّى الْمَدِينَةَ طَيْبَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مدینہ منورہ کا نام اللہ نے طیبہ رکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20822
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1385
حدیث نمبر: 20823
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ كَذَّابُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قیامت سے پہلے کچھ کذاب آکر رہیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20823
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2923، وهذا إسناد صحيح
حدیث نمبر: 20824
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : مَاتَ بَغْلٌ ، وَقَالَ : حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ نَاقَةٌ ، عِنْدَ رَجُلٍ ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِيهِ ، فَزَعَمَ جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِصَاحِبِهَا : " أَمَا لَكَ مَا يُغْنِيكَ عَنْهَا ؟ " قَالَ : لَا ، قَالَ : " اذْهَبْ فَكُلْهَا " ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : الصَّوَابُ نَاقَةٌ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حرہ میں ایک خاندان آباد تھا جس کے افراد غریب تھے محتاج تھے ان کے قریب ان کی یا کسی اور کی اونٹنی مرگئی ایک آدمی ان کے پاس اس کا حکم پوچھنے کے لئے آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو تمہیں اس سے بےنیاز کردے اس نے کہا نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وہ کھانے کی رخصت دیدی۔ (اضطراری حالت کی وجہ سے) ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20824
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، شريك سيئ الحفظ وقد توبع، وهذا الحديث قد تفرد به سماك، فهو ممن لا يحتمل تفرده فى مثل هذه الأبواب
حدیث نمبر: 20825
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْمُونٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي الرَّقِّيَّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُصَلِّي فِي ثَوْبِي الَّذِي آتِي فِيهِ أَهْلِي ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، إِلَّا أَنْ تَرَى فِيهِ شَيْئًا تَغْسِلُهُ " ، هَذَا الْحَدِيثُ لَا يُرْفَعُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک آدمی کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھتے ہوئے سنا ہے کہ کیا میں ان کپڑوں میں نماز پڑھ سکتا ہوں جن میں اپنی بیوی کے پاس جاتاہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں الاّ یہ کہ تمہیں کوئی اس پر دھبہ نظر آئے تو اسے دھو لو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20825
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: هذا الحديث موقوف على الصحيح، وفي سنده عبدالله بن ميمون، فهو مجهول لكنه توبع
حدیث نمبر: 20826
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ يَعْنِي ابْنَ جَابِرٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُصَلِّي بِنَا الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ ، وَلَا يُطِيلُ فِيهَا وَلَا يُخِفُّ ، وَسَطًا مِنْ ذَلِكَ ، وَكَانَ يُؤَخِّرُ الْعَتَمَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں جب فرض نماز پڑھاتے تھے تو نہ بہت زیادہ لمبی اور نہ بہت زیادہ مختصر بلکہ درمیانی نماز پڑھاتے تھے اور نماز عشاء کو ذرا موخر کردیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20826
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف مسند المكثرين من الضحابة الضعف أيوب بن جابر لكنه توبع
حدیث نمبر: 20827
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ قَرْمٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَخْطُبُ قَائِمًا " ، فَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ رَآهُ يَخْطُبُ إِلَّا قَائِمًا ، فَقَدْ كَذَبَ ، وَلَكِنَّهُ : " رُبَّمَا خَرَجَ وَرَأَى فِي النَّاسِ قِلَّةً فَجَلَسَ ، ثُمَّ يَثُوبُونَ ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ قَائِمًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے اس لئے اگر تم سے کوئی شخص یہ بیان کرتا ہے کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہونے کے علاوہ کوئی اور صورت میں دیکھا ہے تو وہ غلط بیان کرتا ہے۔ البتہ کبھی کبھار یہ ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لے آتے اور لوگوں کی تعداد کم نظر آتی تو بیٹھ جاتے جب لوگ آجاتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20827
حدیث نمبر: 20828
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، حَدَّثَنِي سِمَاكٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَأَعْرِفُ حَجَرًا بِمَكَّةَ كَانَ يُسَلِّمُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُبْعَثَ ، إِنِّي لَأَعْرِفُهُ الْآنَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں مکہ مکرمہ میں ایک پتھر کو پہچانتا جو مجھے قبل از بعثت مجھے سلام کرتا تھا میں اسے اب بھی پہچانتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20828
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2777
حدیث نمبر: 20829
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُؤَخِّرُ صَلَاةَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء کو ذرا موخر کردیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20829
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 643
حدیث نمبر: 20830
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبِدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ الْمُهَاجِرِ بْنِ مِسْمَارٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : كَتَبْتُ إِلَى جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ مَعَ غُلَامِي أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَكَتَبَ إِلَيَّ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةٍ عَشِيَّةَ رَجْمِ الْأَسْلَمِيِّ يَقُولُ : " لَا يَزَالُ الدِّينُ قَائِمًا حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ ، أَوْ يَكُونَ عَلَيْكُمُ اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ " . وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " عُصْبَةُ الْمُسْلِمِينَ يَفْتَتِحُونَ الْبَيْتَ الْأَبْيَضَ ، بَيْتَ كِسْرَى وَآلِ كِسْرَى " . وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ كَذَّابِينَ فَاحْذَرُوهُمْ " . وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " إِذَا أَعْطَى اللَّهُ أَحَدَكُمْ خَيْرًا ، فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ وَأَهْلِ بَيْتِهِ " . وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ " .
مولانا ظفر اقبال
عامر بن سعد کہتے ہیں کہ میں نے اپنے غلام کے ہاتھ خط لکھ کر حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث پوچھی تو انہوں نے جواب میں لکھا کہ جس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلمی کو رجم کیا اس جمعہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ دین اس وقت تک قائم رہے گا جب تک کہ بارہ خلیفہ نہ ہوجائیں جو سب کے سب قریش میں سے ہوں گے۔ اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا ہے کہ پھر مسلمانوں کی ایک جماعت نکلے گی اور وہ کسری آل کسری کا سفید خزانہ نکال لیں گے۔ اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا ہے کہ قیامت کے دن قریب کذاب آکر رہیں گے تم ان سے بچنا۔ اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی کو کوئی خیر عطا فرمائے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنی ذات اور اپنے اہل خانہ سے اس کا آغاز کرنا چاہیے۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا ہے کہ میں حوض کوثر پر تمہارا منتظر بھی ہوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20830
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1822، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20831
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ سِيَاهٍ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : كُنْتُ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ وَأَبِي سَمُرَةُ جَالِسٌ أَمَامِي ، ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ لَيْسَا مِنَ الْإِسْلَامِ ، وَإِنَّ أَحْسَنَ النَّاسِ إِسْلَامًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مجلس میں شریک تھا میرے والد حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ میرے سامنے بیٹھے ہوئے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بےحیائی اور بےہودہ گوئی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اسلام کے اعتبار سے لوگوں میں عمدہ شخص وہ ہے جس کے اخلاق سب سے عمدہ ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20831
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 20832
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْأَسَدِيُّ ، حَدَّثَنَا فِطْرٌ ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " ثَلَاثٌ أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي : الِاسْتِسْقَاءُ بِالْأَنْوَاءِ ، وَحَيْفُ السُّلْطَانِ ، وَتَكْذِيبٌ بِالْقَدَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے مجھے اپنی امت پر تین چیزوں کا اندیشہ ہے، ستاروں سے بارش مانگنا، بادشاہوں کا ظلم کرنا اور تقدیر کی تکذیب۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20832
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا ، محمد بن القاسم ضعيف جدا، متهم
حدیث نمبر: 20833
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَخْطُبُ قَائِمًا ، ثُمَّ يَقْعُدُ قَعْدَةً لَا يَتَكَلَّمُ ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ خُطْبَةً أُخْرَى عَلَى مِنْبَرِهِ " ، فَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ رَآهُ يَخْطُبُ قَاعِدًا فَلَا تُصَدِّقْهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے اور پھر تھوڑی دیر بعد بیٹھ جاتے اور کسی سے بات نہ کرتے پھر کھڑے ہو کر دوسرا خطبہ ارشاد فرماتے اس لئے اگر تم سے کوئی شخص یہ بیان کرتا ہے کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھ کر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے تو وہ غلط بیانی کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20833
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20834
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنِ الدَّحْدَاحِ قَالَ حَجَّاجٌ عَلَى أَبِي الدَّحْدَاحِ ثُمَّ أُتِيَ بِفَرَسٍ مَعْرُورٍ ، فَعَقَلَهُ رَجُلٌ فَرَكِبَهُ ، فَجَعَلَ يَتَوَقَّصُ بِهِ ، وَنَحْنُ نَتَّبِعُهُ نَسْعَى خَلْفَهُ ، قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كَمْ عِذْقٍ مُعَلَّقٍ أَوْ مُدَلًّى فِي الْجَنَّةِ لِأَبِي الدَّحْدَاحِ " ، قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ رَجُلٌ مَعَنَا عِنْدَ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ فِي الْمَجْلِسِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَمْ مِنْ عِذْقٍ مُدَلًّى لِأَبِي الدَّحْدَاحِ فِي الْجَنَّةِ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابودحداح کی نماز جنازہ پڑھائی پھر ایک خارش زدہ اونٹ لایا گیا جسے ایک آدمی نے رسی سے باندھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوگئے وہ اونٹ بدکنے لگا یہ دیکھ کر ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے دوڑنے لگا اس وقت ایک آدمی نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جنت میں کتنے ہی لٹکے ہوئے خوشے ہیں جو ابودحداح کے لئے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20834
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 965
حدیث نمبر: 20835
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، قَالَ : " رَأَيْتُ خَاتَمًا فِي ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّهُ بَيْضَةُ حَمَامٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک پر مہر نبوت دیکھی وہ کبوتری کے انڈے جتنی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20835
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20836
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " يَكُونُ اثْنَا عَشَرَ أَمِيرًا " ، فَقَالَ : كَلِمَةً لَمْ أَسْمَعْهَا ، فَقَالَ الْقَوْمُ : " كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ دین ہمیشہ اپنے مخالفین پر غالب رہے گا اسے کوئی مخالفت کرنے والا یا مفارقت کرنے والا نقصان نہ پہنچاسکے گا یہاں تک کہ میری امت میں بارہ خلیفہ گزر جائیں گے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کہا جو میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے وہ سب کے سب قریش سے ہونگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20836
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1821، وهذا إسناد صحيح
حدیث نمبر: 20837
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " أَمَا يَخْشَى أَحَدُكُمْ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ ، أَنْ لَا يَرْجِعَ إِلَيْهِ بَصَرُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کیا تم میں سے کوئی شخص نماز دوران سر اٹھاتے ہوئے اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اس کی نگاہ اس کی طرف پلٹ کر نہ آئے (اوپر ہی اٹھی کی اٹھی رہ جائے) ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20837
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 428
حدیث نمبر: 20838
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَزَالُ الْإِسْلَامُ عَزِيزًا إِلَى اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيفَةً " ، فَقَالَ كَلِمَةً خَفِيفَةً لَمْ أَفْهَمْهَا ، قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي : مَا قَالَ ؟ قَالَ : قَالَ : " كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ دین ہمیشہ اپنے مخالفین پر غالب رہے گا اسے کوئی مخالفت کرنے والا یا مفارقت کرنے والا نقصان نہ پہنچاسکے گا یہاں تک کہ میری امت میں بارہ خلیفہ گزر جائیں گے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کہا جو میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے وہ سب کے سب قریش سے ہونگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20838
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1821، وهذا إسناد صحيح
حدیث نمبر: 20839
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ كَذَّابُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت سے پہلے کچھ کذاب آکر رہیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20839
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2923، وهذا إسناد صحيح
حدیث نمبر: 20840
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : " مَا كَانَ فِي رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الشَّيْبِ ، إِلَّا شَعَرَاتٌ فِي مَفْرِقِ رَأْسِهِ ، إِذَا ادَّهَنَ ، وَارَاهُنَّ الدُّهْنُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے کسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید بالوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں میں چند بال سفید تھے جب آپ تیل لگاتے تو بالوں کی سفیدی واضح نہیں ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20840
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20841
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ السُّوَائِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ : " لَا يَزَالُ هَذَا الدِّينُ ظَاهِرًا عَلَى مَنْ نَاوَأَهُ ، لَا يَضُرُّهُ مُخَالِفٌ ، وَلَا مُفَارِقٌ حَتَّى يَمْضِيَ مِنْ أُمَّتِي اثْنَا عَشَرَ أَمِيرًا ، كُلُّهُمْ " ، قَالَ : ثُمَّ خَفِيَ عَلَيَّ قَوْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : وَكَانَ أَبِي أَقْرَبَ إِلَى رَاحِلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي ، فَقُلْتُ : يَا أَبَتَاهُ ، مَا الَّذِي خَفِيَ عَلَيَّ مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : يَقُولُ : " كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ " ، قَالَ : فَأَشْهَدُ عَلَى إِفْهَامِ أَبِي إِيَّايَ ، قَالَ : " كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ دین ہمیشہ اپنے مخالفین پر غالب رہے گا اسے کوئی مخالفت کرنے والا یا مفارقت کرنے والا نقصان نہ پہنچا سکے گا یہاں تک کہ میری امت میں بارہ خلیفہ گزر جائیں گے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کہا جو میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے وہ سب کے سب قریش سے ہونگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20841
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1821، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد