حدیث نمبر: 20770
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ، قَالَ : تَرَوْنَ هَذَا الشَّيْخَ ؟ يَعْنِي نَفْسَهُ كَلَّمْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَكَلْتُ مَعَهُ ، وَرَأَيْتُ " الْعَلَامَةَ الَّتِي بَيْنَ كَتِفَيْهِ ، وَهِيَ فِي طَرَفِ نُغْضِ كَتِفِهِ الْيُسْرَى ، كَأَنَّهُ جُمْعٌ يَعْنِي الْكَفَّ الْمُجْتَمِعَ ، وَقَالَ بِيَدِهِ فَقَبَضَهَا عَلَيْهِ خِيلَانٌ كَهَيْئَةِ الثَّآلِيلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ اپنے متعلق فرمایا کہ اس شیخ کو دیکھ رہے ہو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کی ہیں آپ کے ہمراہ کھانا کھایا ہے دونوں کندھوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی ہے جو بائیں کندھے کے کونے میں مٹھی کی طرح تھی انہوں نے ہاتھ سے مٹھی کاشارہ کیا اور اس پر مہر نبوت پر مسوں کی طرح ابھرے ہوئے تل تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20770
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2346
حدیث نمبر: 20771
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مُسَافِرًا يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ ، وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ ، وَالْحَوْرِ بَعْدَ الْكَوْرِ ، وَدَعْوَةِ الْمَظْلُومِ ، وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر روانہ ہوتے تو یہ دعا پڑھتے اے اللہ میں سفر کی پریشانیوں، واپسی کی تکلیفوں، ترقی کے بعد تنزلی، مظلوم کی بددعا اور اہل خانہ یا مال دولت میں کسی برے منظر کے دیکھنے سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20771
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1343
حدیث نمبر: 20772
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ بِالْكُوفَةِ فَلَمْ أَكْتُبْهُ ، فَسَمِعْتُ شُعْبَةَ يُحَدِّثُ بِهِ ، فَعَرَفْتُهُ بِهِ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَافَرَ قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ ، وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ ، وَالْحَوْرِ بَعْدَ الْكَوْرِ ، وَدَعْوَةِ الْمَظْلُومِ ، وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر روانہ ہوتے تو یہ دعا پڑھتے اے اللہ میں سفر کی پریشانیوں، واپسی کی تکلیفوں، ترقی کے بعد تنزلی، مظلوم کی بددعا اور اہل خانہ یا مال دولت میں کسی برے منظر کے دیکھنے سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20772
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1343
حدیث نمبر: 20773
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرَ قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ ، وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ ، وَالْحَوْرِ بَعْدَ الْكَوْرِ ، وَدَعْوَةِ الْمَظْلُومِ ، وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر روانہ ہوتے تو یہ دعا پڑھتے اے اللہ میں سفر کی پریشانیوں، واپسی کی تکلیفوں، ترقی کے بعد تنزلی، مظلوم کی بددعا اور اہل خانہ یا مال دولت میں کسی برے منظر کے دیکھنے سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20773
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1343
حدیث نمبر: 20774
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ " أَنَّهُ رَأَى الْخَاتَمَ الَّذِي بَيْنَ كَتِفَيْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ تَكُنْ لَهُ صُحْبَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مہرنبوت کو دیکھا جو دو کندھوں کے درمیان تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی دیکھا لیکن رفاقت کا موقع نہ مل سکا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20774
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20775
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْجُحْرِ ، وَإِذَا نِمْتُمْ فَأَطْفِئُوا السِّرَاجَ ، فَإِنَّ الْفَأْرَةَ تَأْخُذُ الْفَتِيلَةَ ، فَتَحْرِقُ أَهْلَ الْبَيْتِ ، وَأَوْكُوا الْأَسْقِيَةَ ، وَخَمِّرُوا الشَّرَابَ ، وَغَلِّقُوا الْأَبْوَابَ بِاللَّيْلِ " ، قَالُوا لِقَتَادَةَ : مَا يُكْرَهُ مِنَ الْبَوْلِ فِي الْجُحْرِ ؟ قَالَ : يُقَالُ إِنَّهَا مَسَاكِنُ الْجِنِّ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص کسی سوراخ میں پیشاب نہ کرے اور جب تم سونے لگو تو چراغ بجھا دیا کرو کیونکہ بعض اوقات چوہا اس کا دھاگہ پکڑتا ہے تو سارے گھروالوں کو جلا دیتا ہے مشکیزوں کا منہ باندھ دیا کرو اور پینے کی چیزوں کو ڈھانپ دیا کرو اور رات کو دروازے بند کردیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20775
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20776
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ، قَالَ عَاصِمٌ : وَقَدْ كَانَ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ فِي سَفَرٍ قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ ، وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ ، وَالْحَوْرِ بَعْدَ الْكَوْرِ ، وَدَعْوَةِ الْمَظْلُومِ ، وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ " ، وَإِذَا رَجَعَ قَالَ : مِثْلَهَا ، إِلَّا أَنَّهُ يَقُولُ : " وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ " يَبْدَأُ بِالْأَهْلِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر روانہ ہوتے تو یہ دعا پڑھتے اے اللہ میں سفر کی پریشانیوں، واپسی کی تکلیفوں، ترقی کے بعد تنزلی، مظلوم کی بددعا اور اہل خانہ یا مال دولت میں کسی برے منظر کے دیکھنے سے آپ کی پناہ میں آتاہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20776
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1343
حدیث نمبر: 20777
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ، قَالَ : أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ ، صَلَاةُ الصُّبْحِ ، فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُصَلِّي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ ، فَقَالَ لَهُ : " بِأَيِّ صَلَاتَيْكَ احْتَسَبْتَ ؟ بِصَلَاتِكَ وَحْدَكَ ، أَوْ صَلَاتِكَ الَّتِي صَلَّيْتَ مَعَنَا ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز فجر کی اقامت ہوگئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ فجر کی دو رکعت پڑھ رہا ہے نماز کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تم نے کون سے نماز کو فجر کی نماز شمار کیا ؟ جو تم نے تنہا پڑھی اسے یا وہ جو ہمارے ساتھ پڑھی اسے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20777
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 712
حدیث نمبر: 20778
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَرْجِسَ ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلْتُ مَعَهُ مِنْ طَعَامِهِ ، فَقُلْتُ : غَفَرَ اللَّهُ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقُلْتُ : أَسْتَغْفَرَ لَكَ ؟ قَالَ شُعْبَةُ : أَوْ قَالَ لَهُ رَجُلٌ قَالَ : نَعَمْ ، وَلَكُمْ ، وَقَرَأَ " وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ سورة محمد آية 19 " ، ثُمَّ نَظَرْتُ إِلَى نُغْضِ كَتِفِهِ الْأَيْمَنِ ، أَوْ كَتِفِهِ الْأَيْسَرِ شُعْبَةُ الَّذِي يَشُكُّ فَإِذَا هُوَ كَهَيْئَةِ الْجُمْعِ عَلَيْهِ الثَّآلِيلُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ اپنے متعلق فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری دی ہے اور آپ کے ہمراہ کھانا کھایا ہے میں نے ان سے عرض کیا یا رسول اللہ اللہ کی بخشش فرمائے راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے لئے بھی استغفار کیا تھا انہوں نے کہا ہاں اور تمہارے لئے بھی کیا تھا پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی " اپنی لغزشات اور مومن مردروں اور عورتوں کے لئے بخشش کی دعا کیجیے " پھر دونوں کندھوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی ہے جو بائیں کندھے کے کونے میں مٹھی کیطرح تھی انہوں نے مٹھی بنا کر اشارہ کرکے دکھایا اور اس میں مہر نبوت پر مسوں کی طرح ابھرے ہوئے تل تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20778
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20779
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عِيسَى أَبُو بِشْرٍ الرَّاسِبِيُّ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ أَبُو زَيْدٍ الْقَيْسِيُّ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ أَنَّهُ قَالَ : قَدْ رَأَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَرْجِسَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ تَكُنْ لَهُ صُحْبَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے لیکن رفاقت کا موقع مل سکا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20779
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: هذا الأثر إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20780
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، وَأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَخَلْتُ عَلَيْهِ ، وَأَكَلْتُ مِنْ طَعَامِهِ ، وَشَرِبْتُ مِنْ شَرَابِهِ ، " وَرَأَيْتُ خَاتَمَ النُّبُوَّةِ قَالَ هَاشِمٌ : فِي نُغْضِ كَتِفِهِ الْيُسْرَى كَأَنَّهُ جُمْعٌ ، فِيهَا خِيلَانٌ سُودٌ كَأَنَّهَا الثَّآلِيلُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ اپنے متعلق فرمایا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کی ہیں آپ کے ہمراہ کھانا کھایا ہے دونوں کندھوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی ہے جو بائیں کندھے کے کونے میں مٹھی کی طرح تھی انہوں نے ہاتھ سے مٹھی کاشارہ کیا اور اس پر مہر نبوت پر مسوں کی طرح ابھرے ہوئے تل تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20780
حدیث نمبر: 20781
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ، أَنَّهُ كَانَ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرَ قَالَ : " اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ ، اللَّهُمَّ اصْحَبْنَا فِي سَفَرِنَا ، وَاخْلُفْنَا فِي أَهْلِنَا ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ ، وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ ، وَمِنْ الْحَوْرِ بَعْدَ الْكَوْرِ ، وَدَعْوَةِ الْمَظْلُومِ ، وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ " ، قَالَ : وَسُئِلَ عَاصِمٌ عَنِ الْحَوْرِ بَعْدَ الْكَوْرِ ؟ قَالَ : حَارَ بَعْدَ مَا كَانَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر روانہ ہوتے تو یہ دعا پڑھتے اے اللہ میں سفر کی پریشانیوں، واپسی کی تکلیفوں، ترقی کے بعد تنزلی، مظلوم کی بددعا اور اہل خانہ یا مال دولت میں کسی برے منظر کے دیکھنے سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20781
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1343