حدیث نمبر: 20748
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي بَعْضُ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ ، وَغَزَوْنَا نَحْوَ فَارِسَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ بَاتَ فَوْقَ بَيْتٍ لَيْسَ لَهُ إِجَّارٌ فَوَقَعَ فَمَاتَ ، فَبَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ ، وَمَنْ رَكِبَ الْبَحْرَ عِنْدَ ارْتِجَاجِهِ فَمَاتَ ، فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ایسے گھر کی چھت پر سوئے جس کی کوئی منڈ یر نہ ہو اور وہ اس سے نیچے گرجائے تو کسی پر اس کی ذمہ داری نہیں ہے اور جو شخص ایسے وقت میں سمندری سفر پر روانہ ہو جب سمندر میں طغیانی آئی ہوئی اور مرجائے تو اس کی ذمہ داری بھی کسی پر نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20748
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف محمد بن ثابت، وقول أبى عمران الجوني: حدثني
حدیث نمبر: 20749
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي الدَّسْتُوَائِيَّ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، قَالَ : كُنَّا بِفَارِسَ وَعَلَيْنَا أَمِيرٌ يُقَالُ لَهُ : زُهَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ : حَدَّثَنِي رَجُلٌ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ بَاتَ فَوْقَ إِجَّارٍ أَوْ فَوْقَ بَيْتٍ لَيْسَ حَوْلَهُ شَيْءٌ يَرُدُّ رِجْلَهُ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ ، وَمَنْ رَكِبَ الْبَحْرَ بَعْدَ مَا يَرْتَجُّ ، فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ایسے گھر کی چھت پر سوئے جس کی کوئی منڈ یر نہ ہو اور وہ اس سے نیچے گرجائے تو کسی پر اس کی ذمہ داری نہیں ہے اور جو شخص ایسے وقت میں سمندری سفر پر روانہ ہو جب سمندر میں طغیانی آئی ہوئی اور مرجائے تو اس کی ذمہ داری بھی کسی پر نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20749
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة زهير بن عبدالله، وفي الإسناد اضطراب