حدیث نمبر: 20653
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : اسْتُعْمِلَ الْحَكَمُ بْنُ عَمْرٍو الْغِفَارِيُّ عَلَى خُرَاسَانَ ، قَالَ : فَتَمَنَّاهُ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ حَتَّى قِيلَ لَهُ : يَا أَبَا نُجَيْدٍ ، أَلَا نَدْعُوهُ لَكَ ؟ قَالَ : لَا ، فَقَامَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ فَلَقِيَهُ بَيْنَ النَّاسِ ، قَالَ : تَذْكُرُ يَوْمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ " ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ عِمْرَانُ اللَّهُ أَكْبَرُ .
مولانا ظفر اقبال
زیادنے حکم بن عمروغفاری کو خراسان کا گورنر مقرر کردیا حضرت عمران کو ان سے ملنے کی خواہش پیدا ہوئی اور وہ ان کے گھر کے دروازے پر ملے اور کہا کہ مجھے آپ سے ملنے کی خواہش تھی کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں ہے ؟ حکم نے فرمایا جی ہاں اس پر حضرت عمران نے اللہ اکبر کہا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20653
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20654
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ هِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : أَرَادَ زِيَادٌ أَنْ يَبْعَثَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ عَلَى خُرَاسَانَ ، فَأَبَى عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ : أَتَرَكْتَ خُرَاسَانَ أَنْ تَكُونَ عَلَيْهَا ؟ قَالَ : فَقَالَ : إِنِّي وَاللَّهِ مَا يَسُرُّنِي أَنْ أُصَلِّيَ بِحَرِّهَا ، وَتُصَلُّونَ بِبَرْدِهَا ، إِنِّي أَخَافُ إِذَا كُنْتُ فِي نُحُورِ الْعَدُوِّ أَنْ يَأْتِيَنِي كِتَابٌ مِنْ زِيَادٍ ، فَإِنْ أَنَا مَضَيْتُ هَلَكْتُ ، وَإِنْ رَجَعْتُ ضُرِبَتْ عُنُقِي ، قَالَ : فَأَرَادَ الْحَكَمَ بْنَ عَمْرٍو الْغِفَارِيَّ عَلَيْهَا ، قَالَ : فَانْقَادَ لِأَمْرِهِ ، قَالَ : فَقَالَ عِمْرَانُ أَلَا أَحَدٌ يَدْعُو لِي الْحَكَمَ ؟ قَالَ : فَانْطَلَقَ الرَّسُولُ ، قَالَ : فَأَقْبَلَ الْحَكَمُ إِلَيْهِ ، قَالَ : فَدَخَلَ عَلَيْهِ ، قَالَ فَقَالَ عِمْرَانُ لِلْحَكَمِ أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا طَاعَةَ لِأَحَدٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ " ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ عِمْرَانُ لِلَّهِ الْحَمْدُ ، أَوْ اللَّهُ أَكْبَرُ .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن صامت کہتے ہیں کہ زیاد نے حضرت عمران بن حصین کو خراسان کا گورنر مقرر کرنا چاہا لیکن انہوں نے انکار کردیا ان کے دوستوں نے ان سے کہا تم خراسان کا گورنر بننے سے انکار کررہے ہو ؟ انہوں نے فرمایا کہ واللہ مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میں اس کی گرمی کا شکار ہوجاؤں اور تم اس کی سردی کا شکار ہوجاؤ مجھے اندیشہ ہے کہ اگر میں دشمن کے سامنے ہوا اور میرے پاس زیاد کا کوئی خط آجائے اب اگر میں اسے نافذ کروں تو ہلاک ہوتاہوں اور اگر نافذ نہ کروں تو میری گردن اڑادی جائے۔ پھر زیاد نے حکم بن عمرو غفاری کو اس پر مقرر کرنا چاہا تو وہ تیار ہوگئے حضرت عمران بن حصین کو معلوم ہوا تو فرمایا کہ کوئی آدمی جا کر حضرت حکم کو میرے پاس بلا لائے چنانچہ ایک قاصد گیا اور حضرت حکم آگئے وہ ان کے گھر میں آئے تو حضرت عمران نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں ہے انہوں نے فرمایا کہ جی ہاں تو حضرت عمران نے اللہ کا شکر ادا کیا اور اللہ اکبر کہا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20654
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20655
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي حَاجِبٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَنِي غِفَارٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ مِنْ فَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حکم بن عمرو سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کے چھوڑے ہوئے پانی سے مرد کو وضو کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20655
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: هذا الحديث ضعيف، وقد أعل بالوقف، ثم هو معارض بأحاديث صحيحة ثابتة عن غير واحد من الصحابة، رووا جواز الوضوء أو الاغتسال بفضل المرأة
حدیث نمبر: 20656
حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَنَحْنُ عِنْدَهُ ، فَقَالَ : اسْتُعْمِلَ الْحَكَمُ بْنُ عَمْرٍو الْغِفَارِيُّ عَلَى خُرَاسَانَ ، فَتَمَنَّاهُ عِمْرَانُ حَتَّى قَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : أَلَا نَدْعُوهُ لَكَ ؟ فَقَالَ لَهُ : لَا ، ثُمَّ قَامَ عِمْرَانُ فَلَقِيَهُ بَيْنَ النَّاسِ ، فَقَالَ عِمْرَانُ : إِنَّكَ قَدْ وُلِّيتَ أَمْرًا مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ عَظِيمًا ، ثُمَّ أَمَرَهُ وَنَهَاهُ وَوَعَظَهُ ، ثُمَّ قَالَ : هَلْ تَذْكُرُ يَوْمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ " ، قَالَ الْحَكَمُ : نَعَمْ ، قَالَ عِمْرَانُ اللَّهُ أَكْبَرُ .
مولانا ظفر اقبال
زیادنے حکم بن عمرو غفاری کو خراسان کا گورنر مقرر کردیا حضرت عمران کو ان سے ملنے کی خواہش پیدا ہوئی اور وہ ان کے گھر کے دروازے پر ملے اور کہا کہ مجھے آپ سے ملنے کی خواہش تھی کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں ہے ؟ حکم نے فرمایا جی ہاں اس پر حضرت عمران نے اللہ اکبر کہا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20656
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20657
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا حَاجِبٍ يُحَدِّثُ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ مِنْ فَضْلِ وَضُوءِ الْمَرْأَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حکم بن عمرو سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کے چھوڑے ہوئے پانی سے مرد کو وضو کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20657
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: هذا الحديث ضعيف، وقد أعل بالوقف، ثم هو معارض بأحاديث صحيحة ثابتة عن غير واحد من الصحابة، رووا جواز الوضوء أو الاغتسال بفضل المرأة
حدیث نمبر: 20658
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : سَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ حَدِيثِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ فَقَالَ نُبِّئْتُ ، أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ، قَالَ لِلْحَكَمِ الْغِفَارِيِّ ، وَكِلَاهُمَا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ تَعْلَمُ يَوْمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ " ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ عِمْرَانُ اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ .
مولانا ظفر اقبال
زیاد نے حکم بن عمرو غفاری کو خراسان کا گورنر مقرر کردیا حضرت عمران کو ان سے ملنے کی خواہش پیدا ہوئی اور وہ ان کے گھر کے دروازے پر ملے اور کہا کہ مجھے آپ سے ملنے کی خواہش تھی کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں ہے ؟ حکم نے فرمایا جی ہاں اس پر حضرت عمران نے اللہ اکبر کہا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20658
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20659
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، وَحُمَيْدٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّ زِيَادًا اسْتَعْمَلَ الْحَكَمَ الْغِفَارِيَّ عَلَى جَيْشٍ ، فَأَتَاهُ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ فَلَقِيَهُ بَيْنَ النَّاسِ ، فَقَالَ : أَتَدْرِي لِمَ جِئْتُكَ ؟ فَقَالَ لَهُ : لِمَ ؟ قَالَ : هَلْ تَذْكُرُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلرَّجُلِ الَّذِي قَالَ لَهُ أَمِيرُهُ قَعْ فِي النَّارِ ، فَأَدْرَكَ ، فَاحْتَبَسَ ، فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " لَوْ وَقَعَ فِيهَا لَدَخَلَا النَّارَ جَمِيعًا ، لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ " ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : إِنَّمَا أَرَدْتُ أَنْ أُذَكِّرَكَ هَذَا الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
زیاد نے حکم بن عمرو غفاری کو خراسان کا گورنر مقرر کردیا حضرت عمران کو ان سے ملنے کی خواہش پیدا ہوئی اور وہ ان کے گھر کے دروازے پر ملے اور کہا کہ مجھے آپ سے ملنے کی خواہش تھی کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں ہے ؟ حکم نے فرمایا جی ہاں اس پر حضرت عمران نے اللہ اکبر کہا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20659
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من عمران ولامن الحكم
حدیث نمبر: 20660
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ ، قَالَ : " دَخَلْتُ أَنَا وَأَخِي رَافِعُ بْنُ عَمْرٍو عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، وَأَنَا مَخْضُوبٌ بِالْحِنَّاءِ ، وَأَخِي مَخْضُوبٌ بِالصُّفْرَةِ ، فَقَالَ لِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : هَذَا خِضَابُ الْإِسْلَامِ ، وَقَالَ لِأَخِي رَافِعٍ هَذَا خِضَابُ الْإِيمَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حکم بن عمرو سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اور میرا بھائی رافع بن عمر و امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق کی خدمت میں حاضر ہوئے میں نے مہندی کا خضاب کیا ہوا تھا اور میرے بھائی نے زرد رنگ کا تو حضرت عمر نے مجھ سے فرمایا یہ اسلام کا خضاب ہے اور میرے بھائی رافع سے فرمایا کہ یہ ایمان کا خضاب ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20660
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة حبيب بن عبدالله وضعف ابنه عبدالصمد
حدیث نمبر: 20661
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ منهم أيوب ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، أَنَّ زِيَادًا اسْتَعْمَلَ الْحَكَمَ بْنَ عَمْرٍو الْغِفَارِيَّ ، فَقَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ وَدِدْتُ أَنِّي أَلْقَهُ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ ، قَالَ : فَلَقِيَهُ ، فَقَالَ لَهُ عِمْرَانُ أَمَا عَلِمْتَ ، أَوَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا طَاعَةَ لِأَحَدٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ " ؟ قَالَ : بَلَى ، قَالَ : فَذَاكَ الَّذِي أَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ لَكَ .
مولانا ظفر اقبال
زیادنے حکم بن عمرو غفاری کو خراسان کا گورنر مقرر کردیا حضرت عمران کو ان سے ملنے کی خواہش پیدا ہوئی اور وہ ان کے گھر کے دروازے پر ملے اور کہا کہ مجھے آپ سے ملنے کی خواہش تھی کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی نافرمانی نہیں ہے ؟ حکم نے فرمایا جی ہاں اس پر حضرت عمران نے فرمایا کہ میں آپ کو یہی حدیث یاد کرانا چاہتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20661
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح