حدیث نمبر: 20616
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ ، وَيُونُسُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَمُرَةَ ، " إِذَا آلَيْتَ عَلَى يَمِينٍ ، فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا ، فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ، وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ جب تم کسی بات پر قسم کھاؤ اور پھر کسی دوسری صورت میں خیر دیکھو تو خیر والے کام کو کرلو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20616
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7147، م: 1652
حدیث نمبر: 20617
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ ، قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا أَتَرَامَى بِأَسْهُمِي فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَاللَّهِ إِذْ كُسِفَتِ الشَّمْسُ فَنَبَذْتُهُنَّ وَسَعَيْتُ أَنْظُرُ مَا حَدَثَ كُسُوفِ الشَّمْسِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " وَإِذَا هُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ يُسَبِّحُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، وَيَحْمَدُ ، وَيُهَلِّلُ ، وَيُكَبِّرُ ، وَيَدْعُو ، فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى حُسِرَ عَنِ الشَّمْسِ ، فَقَرَأَ سُورَتَيْنِ ، وَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں تیر اندازی کررہا تھا کہ سورج کو گہن لگ گیا میں نے اپنے تیروں کو ایک طرف پھینکا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دوڑ پڑا تاکہ یہ دیکھ سکوں کہ کسوف شمس کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے ہیں جب میں وہاں پہنچا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اٹھائے اللہ کی تسبیح وتحمید اور تحمید اور تہلیل وتکبیر اور دعاء میں مصروف تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک اسی عمل میں مصروف رہے جب تک سورج روشن نہ ہوگیا پھر آپ نے دو سورتیں پڑھیں اور دو رکعتیں پڑھائیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20617
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 913
حدیث نمبر: 20618
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ " لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَةَ ، فَإِنَّكَ إِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا ، وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا ، وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ ، فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا ، فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ، وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے عبدالرحمن امارت (حکومت) کا سوال کبھی نہ کرنا اس لئے کہ اگر وہ تمہیں مانگ کر ملی تو تمہیں اس کے حوالے کردیا جائے گا اور اگر بن مانگے تمہیں مل جائے تو اس پر تمہاری مدد کی جائے گی اور جب تم کسی بات پر قسم کھالو پھر کسی دوسری صورت میں خیر دیکھو تو خیر والے کام کو کرلو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20618
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7147، م: 1652
حدیث نمبر: 20619
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي لَبِيدٍ ، قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ كَابُلَ ، فَأَصَابَ النَّاسُ غَنَمًا فَانْتَهَبُوهَا ، فَأَمَرَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مُنَادِيًا يُنَادِي إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ انْتَهَبَ نُهْبَةً ، فَلَيْسَ مِنَّا " ، فَرُدُّوا هَذِهِ الْغَنَمَ ، فَرَدُّوهَا ، فَقَسَمَهَا بِالسَّوِيَّةِ .
مولانا ظفر اقبال
ابولبید کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کابل کے جہاد میں شرکت کی لوگوں کو ایک جگہ بکریاں نظر آئیں تو وہ انہیں لوٹ کرلے گئے یہ دیکھ کر حضرت عبدالرحمن نے ایک منادی کو یہ نداء لگانے کا حکم دیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص لوٹ مار کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے اس لئے یہ بکریاں واپس کردو چنانچہ لوگوں نے وہ بکریاں واپس کردیں تو انہوں نے وہ بکریاں برابر برابر تقسیم کردیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20619
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20620
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ ، وَأَكْبَرُ عِلْمِي أَنِّي قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا نَاصِحُ بْنُ الْعَلَاءِ أَبُو الْعَلَاءِ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، أَنَّهُ مَرَّ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ وَهُوَ عَلَى نَهَرِ أُمِّ عَبْدِ اللَّهِ يَسِيلُ الْمَاءُ مَعَ غِلْمَتِهِ وَمَوَالِيهِ ، فَقَالَ لَهُ عَمَّارٌ : يَا أَبَا سَعِيدٍ ، الْجُمُعَةَ ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " إِذَا كَانَ يَوْمُ مَطَرٍ وَابِلٍ ، فَلْيُصَلِّ أَحَدُكُمْ فِي رَحْلِهِ " . .
مولانا ظفر اقبال
عمار بن ابی عمار کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ان کا گذر حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا وہ نہر ام عبداللہ پر تھے اور لڑکوں اور غلاموں کے ساتھ مل کر پانی بہا رہے تھے عمار نے ان سے کہا اے ابوسعید آج تو جمعہ کا دن ہے انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے جس دن موسلا دھار بارش برس رہی ہو تو تمہیں چاہیے کہ اپنے خیموں میں نماز پڑھ لو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20620
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20621
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا نَاصِحُ بْنُ الْعَلَاءِ أَبُو الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : سَمِعْتُ الْقَوَارِيرِيَّ يَقُولُ : كُنْتُ أَمُرُّ بِنَاصِحٍ فَيُحَدِّثُنِي ، فَإِذَا سَأَلْتُهُ الزِّيَادَةَ قَالَ : لَيْسَ عِنْدِي غَيْرُ ذَا ، وَكَانَ ضَرِيرًا.
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20621
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20622
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ الْقُرَشِيُّ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ " لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَةَ ، فَإِنَّكَ إِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ ، أُوكِلْتَ إِلَيْهَا ، وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ ، أُعِنْتَ عَلَيْهَا ، وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ ، فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا ، فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ، وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے عبدالرحمن امارت (حکومت) کا سوال کبھی نہ کرنا اس لئے کہ اگر وہ تمہیں مانگ کر ملی تو تمہیں اس کے حوالے کردیا جائے گا اور اگر بن مانگے تمہیں مل جائے تو اس پر تمہاری مدد کی جائے گی اور جب تم کسی بات پر قسم کھالو پھر کسی دوسری صورت میں خیر دیکھو تو خیر والے کام کو کرلو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20622
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 7147، م: 1652، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20623
حَدَّثَنَا عَبْدُ الله ، حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ عَطِيَّةَ ، وَيُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ.
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20623
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد صحيح، خ: 7147، م: 1652
حدیث نمبر: 20624
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ ، وَلَا بِالطَّوَاغِيتِ " ، وَقَالَ يَزِيدُ : " وَالطَّوَاغِي ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے آباؤ اجداد یا بتوں کے نام کی قسم مت کھایا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20624
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1648
حدیث نمبر: 20625
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَقَالَ : " لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَةَ ، فَإِنَّكَ إِنْ تُعْطَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ ، تُعَنْ عَلَيْهَا ، وَإِنْ تُعْطَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ ، تُكَلْ إِلَيْهَا ، وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ ، وَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا ، فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ، وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے عبدالرحمن امارت (حکومت) کا سوال کبھی نہ کرنا اس لئے کہ اگر وہ تمہیں مانگ کر ملی تو تمہیں اس کے حوالے کردیا جائے گا اور اگر بن مانگے تمہیں مل جائے تو اس پر تمہاری مدد کی جائے گی اور جب تم کسی بات پر قسم کھالو پھر کسی دوسری صورت میں خیر دیکھو تو خیر والے کام کو کرلو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20625
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6722 ، م: 1652
حدیث نمبر: 20626
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنِ انْتَهَبَ نُهْبَةً فَلَيْسَ مِنَّا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص لوٹ مار کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20626
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20627
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَهُ : يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ ، " لَا تَسْأَلْ الْإِمَارَةَ ، فَإِنَّكَ إِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ ، وُكِلْتَ إِلَيْهَا ، وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ ، أُعِنْتَ عَلَيْهَا ، وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ ، فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا ، فَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ ، وَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے عبدالرحمن امارت (حکومت) کا سوال کبھی نہ کرنا اس لئے کہ اگر وہ تمہیں مانگ کر ملی تو تمہیں اس کے حوالے کردیا جائے گا اور اگر بن مانگے تمہیں مل جائے تو اس پر تمہاری مدد کی جائے گی اور جب تم کسی بات پر قسم کھالو پھر کسی دوسری صورت میں خیر دیکھو تو خیر والے کام کو کرلو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20627
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6622، م: 1652
حدیث نمبر: 20628
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ ، " لَا تَسْأَلْ الْإِمَارَةَ ، فَإِنَّكَ إِنْ أُوتِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا ، وَإِنْ أُوتِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا ، وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ ، فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا ، فَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ وَأْتِ ، الَّذِي هُوَ خَيْرٌ " ، قَالَ أَبِي : اتَّفَقَ عَفَّانُ وَأَسْوَدُ فِي حَدِيثِهِمَا ، فَقَالَا : " فَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ ثُمَّ ائْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ " ، وقَالَ أَبُو الْأَشْهَبِ ، عَنِ الْحَسَنِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ فَبَدَأَ بِالْكَفَّارَةِ . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے عبدالرحمن امارت (حکومت) کا سوال کبھی نہ کرنا اس لئے کہ اگر وہ تمہیں مانگ کر ملی تو تمہیں اس کے حوالے کردیا جائے گا اور اگر بن مانگے تمہیں مل جائے تو اس پر تمہاری مدد کی جائے گی اور جب تم کسی بات پر قسم کھالو پھر کسی دوسری صورت میں خیر دیکھو تو خیر والے کام کو کرلو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20628
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6622، م: 1652
حدیث نمبر: 20629
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ الْقُرَشِيُّ ، وَنَحْنُ بِكَابُلَ قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ ، " لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَةَ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20629
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 6622، م: 1652، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20630
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَوْذَبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ كَثِيرٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : جَاءَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَلْفِ دِينَارٍ فِي ثَوْبِهِ ، حِينَ جَهَّزَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ ، قَالَ : فَصَبَّهَا فِي حِجْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَلِّبُهَا بِيَدِهِ ، وَيَقُولُ : " مَا ضَرَّ ابْنُ عَفَّانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ الْيَوْمِ " يُرَدِّدُهَا مِرَارًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت " جیش عسرہ " (غزوہ تبوک) کی تیاری کررہے تھے تو حضرت عثمان غنی ایک کپڑے میں ایک ہزار دینار لے کر آئے اور لا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں ڈال دیئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے ہاتھ سے پلٹتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے کہ آج کے دن ابن عفان کوئی بھی عمل کریں وہ انہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا یہ جملہ آپ نے کئی مرتبہ دہرایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20630
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20631
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنِي يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي لَبِيدٍ قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ كَابُلَ ، قَالَ : فَأَصَابَ النَّاسُ غَنِيمَةً فَانْتَهَبُوهَا ، فَأَمَرَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ مُنَادِيًا يُنَادِي ، فَنَادَى ، فَاجْتَمَعَ النَّاسُ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنِ انْتَهَبَ فَلَيْسَ مِنَّا " رُدُّوهَا ، فَرَدُّوهَا ، فَقَسَمَهَا بَيْنَهُمْ بِالسَّوِيَّةِ .
مولانا ظفر اقبال
ابولبید کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کابل کے جہاد میں شرکت کی لوگوں کو ایک جگہ بکریاں نظر آئیں تو وہ انہیں لوٹ کرلے گئے یہ دیکھ کر حضرت عبدالرحمن نے ایک منادی کو یہ نداء لگانے کا حکم دیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص لوٹ مار کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے اس لئے یہ بکریاں واپس کردو چنانچہ لوگوں نے وہ بکریاں واپس کردیں تو انہوں نے وہ بکریاں برابر برابر تقسیم کردیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20631
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن