حدیث نمبر: 20579
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ عُمُومَتِهِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ جَاءَ رَكْبٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَشَهِدُوا أَنَّهُمْ رَأَوْهُ بِالْأَمْسِ يَعْنُونَ الْهِلَالَ ، " فَأَمَرَهُمْ أَنْ يُفْطِرُوا ، وَأَنْ يَخْرُجُوا مِنَ الْغَدِ " ، قَالَ شُعْبَةُ : أُرَاهُ مِنْ آخِرِ النَّهَارِ.
مولانا ظفر اقبال
متعدد صحابہ سے مروی ہے کہ کچھ سوار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور شہادت دی کہ کل انہوں نے عید کا چاند دیکھا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو روزہ ختم کرنے کا حکم دیا اور یہ کہ نماز عید کے لئے اگلے دن نکلیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20579
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده جيد
حدیث نمبر: 20580
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ عُمُومَةٍ لَهُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " لَا يَشْهَدُهُمَا مُنَافِقٌ " ، يَعْنِي صَلَاةَ الصُّبْحِ وَالْعِشَاءِ ، قَالَ أَبُو بِشْرٍ يَعْنِي لَا يُوَاظِبُ عَلَيْهِمَا.
مولانا ظفر اقبال
متعدد صحابہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز فجر اور عشاء میں منافق حاضر نہیں ہوتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20580
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده جيد
حدیث نمبر: 20581
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا : أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَلَّامِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِخْوَانُكُمْ فَأَحْسِنُوا إِلَيْهِمْ أَوْ فَأَصْلِحُوا إِلَيْهِمْ وَاسْتَعِينُوهُمْ عَلَى مَا غَلَبَكُمْ ، وَأَعِينُوهُمْ عَلَى مَا غَلَبَهُمْ " ، قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ : سَمِعْتُ سَلَّامَ بْنَ عَمْرٍو وَرَجُلًا مِنْ قَوْمِهِ ، وَقَالَ حَجَّاجٌ " وَأَصْلِحُوا ".
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے غلام بھی تمہارے بھائی ہیں تم ان کے ساتھ حسن سلوک کرو جن کاموں میں تم غالب ہوجاؤ ان میں ان سے مدد لیا کرو جن کاموں میں وہ مغلوب ہوجائیں تم ان کی مدد کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20581
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة سلام بن عمرو
حدیث نمبر: 20582
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ مَطَرٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، أَنَّ رَجُلًا أَوْطَأَ بَعِيرَهُ أُدْحِيَّ نَعَامٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ ، فَكَسَرَ بَيْضَهَا ، فَانْطَلَقَ إِلَى عَلِيٍّ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ ؟ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ عَلَيْكَ بِكُلِّ بَيْضَةٍ جَنِينُ نَاقَةٍ ، أَوْ ضِرَابُ نَاقَةٍ ، فَانْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ قَالَ عَلِيٌّ بِمَا سَمِعْتَ ، وَلَكِنْ هَلُمَّ إِلَى الرُّخْصَةِ ، عَلَيْكَ بِكُلِّ بَيْضَةٍ صَوْمٌ ، أَوْ إِطْعَامُ مِسْكِينٍ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک انصاری صحابی سے مروی ہے کہ ایک آدمی جو حالت احرام میں تھا نے اپنا اونٹ شتر مرغ کے ریت میں انڈہ دینے کی جگہ پر سے گذارا جس کی وجہ سے شتر مرغ کا انڈہ ٹوٹ گیا وہ آدمی حضرت علی کے پاس آیا اور ان سے یہ مسئلہ پوچھا۔ حضرت علی نے فرمایا کہ ہر انڈے کے بدلے میں اونٹنی کا ایک بچہ تم پر واجب ہوگیا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا واقعہ ذکر کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ علی نے جو کہا ہے وہ تم نے سن لیا ہے لیکن اب آؤ رخصت کی طرف ہر انڈے کے بدلے میں تم پر ایک روزہ رکھنا یا ایک مسکین کو کھانا کھلانا واجب ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20582
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف مطر، وقد اضطرب فى إسناده
حدیث نمبر: 20583
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ حَسْنَاءَ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي صُرَيْمٍ ، عَنْ عَمِّهَا ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " النَّبِيُّ فِي الْجَنَّةِ ، وَالشَّهِيدُ فِي الْجَنَّةِ ، وَالْمَوْلُودُ فِي الْجَنَّةِ ، وَالْوَئِيدُ فِي الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حسناء جو بنوصریم کی ایک خاتون تھیں اپنے چچا سے نقل کرتی ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے نبی جنت میں ہوں گے شہید جنت میں ہوں گے نومولود بچے جنت میں ہوں گے اور زندہ درگور کئے ہوئے بچے بھی جنت میں ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20583
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة حسناء
حدیث نمبر: 20584
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُمُومَةٌ لِي مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : غُمَّ عَلَيْنَا هِلَالُ شَوَّالٍ ، فَأَصْبَحْنَا صِيَامًا ، فَجَاءَ رَكْبٌ مِنْ آخِرِ النَّهَارِ فَشَهِدُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ رَأَوْا الْهِلَالَ بِالْأَمْسِ ، " فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُفْطِرُوا مِنْ يَوْمِهِمْ وَأَنْ يَخْرُجُوا لِعِيدِهِمْ مِنَ الْغَدِ " .
مولانا ظفر اقبال
متعدد صحابہ سے مروی ہے کہ کچھ سوار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور شہادت کی کہ کل انہوں نے عید کا چاند دیکھا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو روزہ ختم کرنے کا حکم دیا اور یہ کہ نماز عید کے لئے اگلے دن نکلیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20584
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده جيد
حدیث نمبر: 20585
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي الْأَزْرَقَ ، أَخْبَرَنَا عَوْفٌ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي حَسْنَاءُ ابْنَةُ مُعَاوِيَةَ الصُّرَيْمِيَّةُ ، عَنْ عَمِّهَا ، قَالَ : قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ فِي الْجَنَّةِ ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " النَّبِيُّ فِي الْجَنَّةِ ، وَالشَّهِيدُ فِي الْجَنَّةِ ، وَالْمَوْلُودُ فِي الْجَنَّةِ ، وَالْمَوْءُودَةُ فِي الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حسناء جو بنوصریم کی ایک خاتون تھیں اپنے چچا سے نقل کرتی ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جنت میں ہوں گے شہید جنت میں ہوں گے نومولود بچے جنت میں ہوں گے اور زندہ درگور کئے ہوئے بچے بھی جنت میں ہوں گے
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20585
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة حسناء