حدیث نمبر: 20529
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، وَيُونُسُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ اللَّيْثِيِّ ، قَالَ : قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ ، قَالَ : فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ نَحْوًا مِنْ عِشْرِينَ لَيْلَةً ، فَقَالَ لَنَا : " لَوْ رَجَعْتُمْ إِلَى بِلَادِكُمْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا ، فَعَلَّمْتُمُوهُمْ قَالَ سُرَيْجٌ : وَأَمَرْتُمُوهُمْ أَنْ يُصَلُّوا صَلَاةَ كَذَا فِي حِينِ كَذَا " ، قَالَ يُونُسُ : " وَمُرُوهُمْ فَلْيُصَلُّوا صَلَاةَ كَذَا فِي حِينِ كَذَا وَصَلَاةَ كَذَا فِي حِينِ كَذَا ، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ ، وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مالک بن حویرث سے مروی ہے کہ ہم چند نوجوان جو تقریبا ہم عمر تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بیس راتیں آپ کے ہاں قیام پذیر رہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بڑے مہربان اور نرم دل تھے آپ نے محسوس کیا کہ اب ہمیں اپنے گھر والوں سے ملنے کا اشتیاق پیدا ہورہا ہے آپ نے ہم سے پوچھا کہ اپنے پیچھے گھر میں کسے چھوڑ کر آئے ہو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اب اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ جاؤ وہیں پر رہو اور انہیں تعلیم دو اور نہیں بتاؤ کہ جب نماز کا وقت آجائے تو ایک شخص کو اذان دینی چاہیے جو سب سے بڑا ہو اس کو امامت کرنی چاہیے۔
حدیث نمبر: 20530
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، وَهُوَ أَبُو سُلَيْمَانَ أَنَّهُمْ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ وَصَاحِبٌ لَهُ أَوْ صَاحِبَانِ لَهُ فَقَالَ : أَحَدُهُمَا صَاحِبَيْنِ لَهُ ، أَيُّوبُ أَوْ خَالِدٌ ، فَقَالَ لَهُمَا : " إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ ، فَأَذِّنَا ، وَأَقِيمَا وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا ، وَصَلُّوا كَمَا تَرَوْنِي أُصَلِّي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مالک بن حویرث سے مروی ہے کہ ہم دو آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے ہم نے بتادیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نماز کا وقت آجائے تو ایک شخص کو اذان و اقامت کہنی چاہیے اور جو سب سے بڑا ہو اس کو امامت کرنی چاہیے اور تم اس طرح نماز پڑھو جسے مجھے پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 20531
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ ، وَإِذَا رَكَعَ ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، إِلَى أُذُنَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مالک بن حویرث سے ارشاد فرماتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے آغاز میں رکوع کرتے ہوئے اور رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کانوں کی لو کے برابر کرلیتے تھے۔
حدیث نمبر: 20532
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ الْعُقَيْلِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ يُكَنَّى أَبَا عَطِيَّةَ ، قَالَ : كَانَ مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ يَأْتِينَا فِي مُصَلَّانَا يَتَحَدَّثُ ، قَالَ : فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ يَوْمًا ، فَقُلْنَا : تَقَدَّمْ ، فَقَالَ : لَا ، لِيَتَقَدَّمْ بَعْضُكُمْ حَتَّى أُحَدِّثَكُمْ لِمَ لَا أَتَقَدَّمُ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ مَنْ زَارَ قَوْمًا فَلَا يَؤُمَّهُمْ ، وَلْيَؤُمَّهُمْ رَجُلٌ مِنْهُمْ " . .
مولانا ظفر اقبال
ابوعطیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت مالک بن حویرث ہماری مسجد میں تشریف لائے نماز کھڑی ہوئی تو لوگوں نے ان سے امامت کی درخواست کی انہوں نے انکار کردیا اور فرمایا کہ تم میں سے کوئی آدمی نماز پڑھائے۔ (بعد میں میں تمہیں ایک حدیث سناؤں گا کہ میں تم کو نماز کیوں نہیں پڑھا رہا) نماز سے فارغ ہونے کے بعد کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کوئی شخص کسی قوم سے ملنے جائے تو وہ ان کی امامت نہ کرے بلکہ ان ہی کا کوئی آدمی انہیں نماز پڑھائے۔
حدیث نمبر: 20533
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ : حَدَّثَنَاه إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْوَاسِطِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا بُدَيْلٌ ، مِثْلَهُ . .
حدیث نمبر: 20534
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَطِيَّةَ مَوْلًى لَنَا ، قَالَ : كَانَ مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ يَأْتِينَا فِي مُصَلَّانَا ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ يَعْنِي حَدِيثَ أَبِي.
حدیث نمبر: 20535
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَأَبُو عَامِرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ إِذَا كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يَجْعَلَهُمَا قَرِيبًا مِنْ أُذُنَيْهِ ، وَإِذَا رَكَعَ صَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مالک بن حویرث سے ارشاد فرماتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے آغاز میں رکوع کرتے ہوئے اور رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کانوں کی لو کے برابر کرلیتے تھے۔
حدیث نمبر: 20536
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرثِ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ ، وَإِذَا رَكَعَ ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، حَتَّى حَاذَتَا فُرُوعَ أُذُنَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مالک بن حویرث سے ارشاد فرماتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے آغاز میں رکوع کرتے ہوئے اور رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا ہے یہاں تک کہ آپ اپنے ہاتھوں کو کانوں کی لو کے برابر کرلیتے تھے۔
حدیث نمبر: 20537
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حِيَالَ فُرُوعِ أُذُنَيْهِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مالک بن حویرث سے روایت ہے کہ آپ رکوع سجدہ کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کانوں کی لو کے برابر کرلیتے تھے۔
حدیث نمبر: 20538
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا بُدَيْلُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَطِيَّةَ مَوْلًى مِنَّا ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، قَالَ : كَانَ يَأْتِينَا فِي مُصَلَّانَا ، فَلَمَّا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ ، قِيلَ لَهُ : تَقَدَّمْ فَصَلِّهْ ، قَالَ : لِيُصَلِّ بَعْضُكُمْ حَتَّى أُحَدِّثَكُمْ لِمَ لَا أُصَلِّي بِكُمْ ، فَلَمَّا صَلَّى الْقَوْمُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا زَارَ أَحَدُكُمْ قَوْمًا ، فَلَا يُصَلِّيَنَّ بِهِمْ يُصَلِّي بِهِمْ رَجُلٌ مِنْهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوعطیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت مالک بن حویرث ہماری مسجد میں تشریف لائے نماز کھڑی ہوئی تو لوگوں نے ان سے امامت کی درخواست کی انہوں نے انکار کردیا اور فرمایا کہ تم میں سے کوئی آدمی نماز پڑھائے۔ (بعد میں میں تمہیں ایک حدیث سناؤں گا کہ میں تم کو نماز کیوں نہیں پڑھارہا) نماز سے فارغ ہونے کے بعد کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کوئی شخص کسی قوم سے ملنے جائے تو وہ ان کی امامت نہ کرے بلکہ ان ہی کا کوئی آدمی انہیں نماز پڑھائے۔
حدیث نمبر: 20539
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ اللَّيْثِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ لِأَصْحَابِهِ يَوْمًا : أَلَا أُرِيكُمْ كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : وَذَلِكَ فِي غَيْرِ حِينِ صَلَاةٍ ، " فَقَامَ ، فَأَمْكَنَ الْقِيَامَ ، ثُمَّ رَكَعَ ، فَأَمْكَنَ الرُّكُوعَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَانْتَصَبَ قَائِمًا هُنَيَّةً ، ثُمَّ سَجَدَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، وَيُكَبِّرُ فِي الْجُلُوسِ ، ثُمَّ انْتَظَرَ هُنَيَّةً ، ثُمَّ سَجَدَ " ، قَالَ أَبُو قِلَابَةَ فَصَلَّى صَلَاةً كَصَلَاةِ شَيْخِنَا هَذَا يَعْنِي عَمْرَو بْنَ سَلِمَةَ الْجَرْمِيَّ ، وَكَانَ يَؤُمُّ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَيُّوبُ : فَرَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ سَلِمَةَ يَصْنَعُ شَيْئًا لَا أَرَاكُمْ تَصْنَعُونَهُ كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ اسْتَوَى قَاعِدًا ، ثُمَّ قَامَ مِنَ الرَّكْعَةِ الْأُولَى وَالثَّالِثَةِ.
مولانا ظفر اقبال
ابوقلابہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مالک بن حویرث نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ کیا میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح نماز پڑھ کر نہ دکھاؤں وہ نماز کا وقت نہیں تھا جب انہوں نے یہ بات کہی پھر وہ کھڑے ہوئے اور عمدہ طریقے سے قیام کیا اور عمدہ طریقے سے رکوع کیا اور پھر سر اٹھایا اور تھوڑی دیر تک سیدھے کھڑے رہے پھر سجدہ کیا پھر سر اٹھایا بیٹھتے ہوئے تکبیر کہی تھوڑی دیر رکے اور دوسرا سجدہ کیا ابوقلابہ کہتے ہیں کہ پھر انہوں نے اس طرح نماز پڑھائی جیسے ہمارے یہ شیخ عمرو بن سلمہ جرمی پڑھاتے ہیں اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں امامت کرتے تھے ایوب کہتے ہیں میں نے عمرو بن سلمہ کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے جو میں تمہیں کرتے ہوئے نہیں دیکھتا وہ دونوں سجدوں سے سر اٹھا کر تھوڑی دیر تک سیدھے بیٹھ جاتے تھے پھر پہلی اور تیسری رکعت سے کھڑے ہوئے تھے۔