حدیث نمبر: 20493
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ أَبُو عُثْمَانَ فِي مُرَبَّعَةِ الْأَحْنَفِ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا اقْتَتَلَ الْمُسْلِمَانِ ، فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب دو مسلمان تلواریں لے کر ایک دوسرے کے سامنے آجائیں گے اور ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کردے تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے۔
حدیث نمبر: 20494
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيَرِدَنَّ عَلَيَّ الْحَوْضَ رِجَالٌ مِمَّنْ صَحِبَنِي وَرَآنِي ، حَتَّى إِذَا رُفِعُوا إِلَيَّ وَرَأَيْتُهُمْ اخْتُلِجُوا دُونِي ، فَلَأَقُولَنَّ رَبِّ أَصْحَابِي أَصْحَابِي ، فَيُقَالُ : إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے پاس حوض کوثر پر کچھ آدمی ایسے بھی آئیں گے پروردگار ! میرے ساتھی ارشاد ہوگا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا چیزیں ایجاد کرلی تھیں۔
حدیث نمبر: 20495
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مِهْرَانَ الْكِنْدِيُّ ، حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ كُسَيْبٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ أَكْرَمَ سُلْطَانَ اللَّهِ فِي الدُّنْيَا ، أَكْرَمَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ أَهَانَ سُلْطَانَ اللَّهِ فِي الدُّنْيَا ، أَهَانَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص دنیا میں اللہ کے مقرر کردہ بادشاہ کی عزت کرتا ہے اللہ قیامت کے دن اس کی تکریم فرمائے گا اور جو دنیا میں اللہ کے مقرر کردہ بادشاہ کی توہین کرتا ہے اللہ قیامت کے دن اسے رسوا کرے گا۔
حدیث نمبر: 20496
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو بَكْرَةَ : " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَبْتَاعَ الْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ ، وَالذَّهَبَ بِالذَّهَبِ ، إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ ، وَأَمَرَنَا أَنْ نَبْتَاعَ الْفِضَّةَ فِي الذَّهَبِ ، وَالذَّهَبَ فِي الْفِضَّةِ كَيْفَ شِئْنَا " ، فَقَالَ لَهُ ثَابِتُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : يَدًا بِيَدٍ ؟ فَقَالَ : هَكَذَا سَمِعْتُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں چاندی کو چاندی کے بدلے اور سونے کو سونے کے بدلے صرف برابر سرابر ہی بیچنے کا حکم دیا ہے اور یہ حکم بھی دیا ہے کہ چاندی کو سونے کے بدلے یا سونے کو چاندی کے بدلے میں جیسے چاہیں بیچ سکتے ہیں (کمی پیشی ہوسکتی ہے)
حدیث نمبر: 20497
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّهُ قَالَ : " صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ ، فَصَلَّى بِبَعْضِ أَصْحَابِهِ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، فَتَأَخَّرُوا ، وَجَاءَ آخَرُونَ فَكَانُوا فِي مَكَانِهِمْ ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، فَصَارَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعُ رَكَعَاتِ ، وَلِلْقَوْمِ رَكْعَتَانِ رَكْعَتَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز خوف میں ایک گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں پھر دوسرے گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تو چار رکعتیں ہوگئیں اور لوگوں کی دو دو رکعتیں ہوگئیں۔
حدیث نمبر: 20498
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَرَجُلٌ في نفسي أفضل من عبد الرحمن : حميد بن عبد الرحمن ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ ، فَقَالَ : " أَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟ " أَوْ قَالَ : " أَتَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟ " قَالَ : قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ ؟ " قَالَ : قُلْنَا : بَلَى ، قَالَ : " فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا ؟ " أَوْ قَالَ : " أَوَ تَدْرُونَ أَيُّ شَهْرٍ هَذَا ؟ " قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ ، قَالَ : " أَلَيْسَ ذَو الْحِجَّةِ ؟ " قُلْنَا : بَلَى ، قَالَ : " أَيُّ بَلَدٍ هَذَا ؟ " قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ ، قَالَ : " أَلَيْسَتْ الْبَلْدَةَ ؟ " قُلْنَا : بَلَى ، قَالَ : " فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ ، وَأَمْوَالَكُمْ ، حَرَامٌ عَلَيْكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا ، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا ، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا ، إِلَى يَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ ، أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ اشْهَدْ ، لِيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ ، فَرُبَّ مُبَلَّغٍ أَوْعَى مِنْ سَامِعٍ ، أَلَا لَا تَرْجِعُنَّ بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے موقع پر خطبہ دینے کے لئے اونٹ پر سوار ہوئے ایک آدمی نے اس کی لگام پکڑ لی پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بتاؤ کہ آج کون سا دن ہے ؟ ہم نے عرض کی کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنی دیر خاموش رہے۔ کہ ہم یہ سمجھے کہ شاید نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کا دوسرا نام بتائیں گے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ یوم النحر نہیں ہے ہم نے عرض کیا کیوں نہیں پھر فرمایا یہ کون سا مہینہ ہے ہم نے عرض کی اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنی دیر خاموش رہے کہ ہم یہ سمجھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کا دوسرا نام بتائیں گے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ذی الحجہ کا مہینہ نہیں ہے ہم نے عرض کیا کیوں نہیں پھر فرمایا کہ یہ کون سا شہر ہے ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم حسب سابق خاموش رہے پھر فرمایا کیا یہ شہر حرم نہیں ہے ہم نے عرض کیا کیوں نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری جان اور مال اور عزت آبرو ایک دوسرے کے لئے اسی طرح قابل احترام ہے جیسا کہ اس شہر میں اس مہینے کے اس دن کی حرمت ہے اور عنقریب تم اپنے رب سے ملو گے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کے متعلق پوچھے گا۔ یاد رکھو میرے بعد گمراہ نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ کیا میں نے پیغام الٰہی پہنچا دیا تم میں سے جو موجود ہے وہ غائبین تک یہ پیغام پہنچا دے کیونکہ بعض اوقات جسے پیغام پہنچایا جاتا ہے وہ سننے والے سے زیادہ محفوظ رکھتا ہے راوی کہتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا۔
حدیث نمبر: 20499
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ يَخْطُبُ إِذْ جَاءَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، فَصَعِدَ إِلَيْهِ الْمِنْبَرَ ، فَضَمَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ ، وَمَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ ، وَقَالَ : " ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ ، وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ عَلَى يَدَيْهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے کہ حضرت امام حسن بھی آگئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سینے سے لگا لیا سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا میرا یہ بیٹا سردار ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا۔
حدیث نمبر: 20500
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، وَحُمَيْدٌ ، وَيُونُسُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ ؟ قَالَ : " مَنْ طَالَ عُمْرُهُ وَحَسُنَ عَمَلُهُ " ، قَالَ فَأَيُّ النَّاسِ شَرٌّ ؟ قَالَ : " مَنْ طَالَ عُمْرُهُ وَسَاءَ عَمَلُهُ " ، حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، وَيُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، فَذَكَرَهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ کون سا انسان سب سے بہتر ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور عمل اچھا ہو سائل نہ پوچھا کہ سب سے بدترین انسان کون ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور اس کا عمل برا ہو۔
حدیث نمبر: 20501
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
حدیث نمبر: 20502
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَمْكُثُ أَبَوَا الدَّجَّالِ ثَلَاثِينَ عَامًا لَا يُولَدُ لَهُمَا وَلَدٌ ، ثُمَّ يُولَدُ لَهُمَا غُلَامٌ أَضَرُّ شَيْءٍ وَأَقَلُّهُ نَفْعًا ، تَنَامُ عَيْنَاهُ ، وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ " ، ثُمَّ نَعَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَاهُ ، فَقَالَ : " أَبُوهُ رَجُلٌ طُوَالٌ ، ضَرْبُ اللَّحْمِ ، كَأَنَّ أَنْفَهُ مِنْقَارٌ ، وَأُمُّهُ امْرَأَةٌ فِرْضَاخِيَّةٌ طَوِيلَةُ الثَّدْيَيْنِ " ، قَالَ : أَبُو بَكْرَةَ فَسَمِعْنَا بِمَوْلُودٍ وُلِدَ فِي الْيَهُودِ بِالْمَدِينَةِ ، فَذَهَبْتُ أَنَا وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبَوَيْهِ ، فَإِذَا نَعْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمَا ، فَقُلْنَا : هَلْ لَكُمَا وَلَدٌ ؟ فَقَالَا : مَكَثْنَا ثَلَاثِينَ عَامًا لَا يُولَدُ لَنَا وَلَدٌ ، ثُمَّ وُلِدَ لَنَا غُلَامٌ أَعْوَرُ ، أَضَرُّ شَيْءٍ وَأَقَلُّهُ نَفْعًا ، تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ ، فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِمَا فَإِذَا الْغُلَامُ مُنْجَدَلٌ فِي قَطِيفَةٍ فِي الشَّمْسِ ، لَهُ هَمْهَمَةٌ ، قَالَ : فَكَشَفْتُ عَنْ رَأْسِهِ ، فَقَالَ : مَا قُلْتُمَا ؟ قُلْنَا : وَهَلْ سَمِعْتَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، إِنَّهُ تَنَامُ عَيْنَايَ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي ، قَالَ حَمَّادٌ : وَهُوَ ابْنُ صَيَّادٍ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال کے ماں باپ تیس سال اس حال میں رہیں گے کہ ان کے ہاں یہاں کوئی اولاد نہ ہوگی پھر ان کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوگا جو کانا ہوگا اس کا نقصان زیادہ ہوگا اور نفع کم اس کی آنکھیں سوتی ہوں گی لیکن دل نہیں سوئے گا پھر اس کے والدین کا حلیہ بیان کرتے ہوئے فرمایا اس کا باپ ایک لمبے قد کا آدمی ہوگا اور اس کا گوشت ہلتا ہوگا اس کی ناک بھی لمبی ہوگی ایسا محسوس ہوگا کہ جیسے طوطے کی چونچ اور اس کی ماں بڑی چھاتی والی عورت ہوگی کچھ عرصے کے بعد ہمیں پتا چلا کہ مدینہ میں یہودیوں کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا ہے میں اور زبیر بن عوام اسے دیکھنے کے لئے گئے اس کے والدین کے پاس پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بتایا ہوا حلیہ ان دونوں نے پایا وہ بچہ ایک چادر میں لپٹا ہوا پڑا ہوا تھا اس کی ہلکی ہلکی آواز آرہی تھی ہم نے اس کے والدین سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ہم نے تیس سال اس حال میں گزارے کہ ہمارے ہاں کوئی بچہ پیدا نہیں ہوا پھر ہمارے ہاں یہ ایک کانا بچہ پیدا ہوا جس کا نقصان زیادہ اور نفع کم ہے جب ہم وہاں سے نکلے تو ہم اس کے پاس سے گزرے وہ کہنے لگا تم لوگ کیا باتیں کررہے تھے ہم نے کہا تم نے وہ باتیں سن لیں ؟ اس نے کہا جی ہاں میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا وہ ابن صیاد تھا۔
حدیث نمبر: 20503
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : وَفَدْنَا مَعَ زِيَادٍ إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، وَفِينَا أَبُو بَكْرَةَ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَيْهِ لَمْ يُعْجَبْ بِوَفْدٍ مَا أُعْجِبَ بِنَا ، فَقَالَ : يَا أَبَا بَكْرَةَ ، حَدِّثْنَا بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ ، وَيَسْأَلُ عَنْهَا ، فَقَالَ ذَاتَ يَوْمٍ : " أَيُّكُمْ رَأَى رُؤْيَا ؟ " فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا رَأَيْتُ كَأَنَّ مِيزَانًا دُلِّيَ مِنَ السَّمَاءِ ، فَوُزِنْتَ أَنْتَ وَأَبُو بَكْرٍ ، فَرَجَحْتَ بِأَبِي بَكْرٍ ، ثُمَّ وُزِنَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ، فَرَجَحَ أَبُو بَكْرٍ بِعُمَرَ ، ثُمَّ وُزِنَ عُمَرُ بِعُثْمَانَ ، فَرَجَحَ عُمَرُ بِعُثْمَانَ ، ثُمَّ رُفِعَ الْمِيزَانُ ، فَاسْتَاءَ لَهَا ، وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ أَيْضًا فَسَاءَهُ ذَلِكَ ، ثُمَّ قَالَ : " خِلَافَةُ نُبُوَّةٍ ، ثُمَّ يُؤْتِي اللَّهُ الْمُلْكَ مَنْ يَشَاءُ " ، قَالَ : فَزُخَّ فِي أَقْفَائِنَا فَأُخْرِجْنَا ، فَقَالَ زِيَادٌ : لَا أَبَا لَكَ ، أَمَا وَجَدْتَ حَدِيثًا غَيْرَ ذَا ؟ ! حَدِّثْهُ بِغَيْرِ ذَا ، قَالَ لَا وَاللَّهِ ، لَا أُحَدِّثُهُ إِلَّا بِذَا حَتَّى أُفَارِقَهُ ، فَتَرَكَنَا ثُمَّ دَعَا بِنَا ، فَقَالَ : يَا أَبَا بَكْرَةَ ، حَدِّثْنَا بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ فَبَكَعَهُ بِهِ ، فَزُخَّ فِي أَقْفَائِنَا فَأُخْرِجْنَا ، فَقَالَ زِيَادٌ لَا أَبَا لَكَ ، أَمَا تَجِدُ حَدِيثًا غَيْرَ ذَا ؟ ! حَدِّثْهُ بِغَيْرِ ذَا ، فَقَالَ : لَا وَاللَّهِ ، لَا أُحَدِّثُهُ إِلَّا بِهِ حَتَّى أُفَارِقَهُ ، قَالَ : ثُمَّ تَرَكَنَا أَيَّامًا ثُمَّ دَعَا بِنَا ، فَقَالَ : يَا أَبَا بَكْرَةَ ، حَدِّثْنَا بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَبَكَعَهُ بِهِ ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : أَتَقُولُ الْمُلْكَ ؟ فَقَدْ رَضِينَا بِالْمُلْكِ .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن ابی بکرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ساتھ حضرت امیر معاویہ کی خدمت میں حاضر ہوا ہم ان کے پاس پہنچے تو انہوں نے فرمایا اے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ مجھے کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے خود سنی ہو ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نیک خواب بہت اچھے لگتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے متعلق پوچھتے رہتے تھے چنانچہ حسب معمول ایک دن پوچھا کہ تم میں سے کسی نے خواب دیکھا ہے ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ میں نے دیکھا ہے میں نے دیکھا کہ آسمان سے ایک ترازو لٹکایا گیا جس میں آپ کا حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے وزن کیا گیا تو آپ کا پلڑا جھک گیا پھر ابوبکر کا عمر سے وزن کیا گیا تو ابوبکر کا پلڑا جھک گیا پھر عمر کا عثمان سے کیا گیا تو عمر کا پلڑا جھک گیا پھر وہ ترازو اٹھا لیا گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت پر خواب بوجھ بنا اور فرمایا اس سے خلافت نبوت کی طرف اشارہ ہے جس کے بعد اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا حکومت دے دے گا۔ اس پر ہمیں گدی سے پکڑ کر باہر نکال دیا گیا زیاد کہنے لگا کہ تمہارا باپ نہ رہے کیا تمہیں اس کے علاوہ کوئی حدیث نہیں ملی جو تم اس کے سامنے بیان کرتے انہوں نے فرمایا کہ نہیں واللہ میں اس کے علاوہ ان سے کوئی حدیث بیان نہیں کروں گا یہاں تک کہ ان سے جدا ہوجاؤں اس پر اس نے ہمیں چھوڑ دیا تین مرتبہ ایسا ہی ہوا پھر حضرت معاویہ نے فرمایا تم حکومت کہتے ہو ہم اس پر راضی ہیں۔
حدیث نمبر: 20504
حَدَّثَنَا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ خَيْرُ النَّاسِ ؟ قَالَ : " مَنْ طَالَ عُمْرُهُ وَحَسُنَ عَمَلُهُ " ، قَالَ : فَأَيُّ النَّاسِ شَرٌّ ؟ قَالَ : " مَنْ طَالَ عُمْرُهُ وَسَاءَ عَمَلُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ کون سا انسان سب سے بہتر ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور عمل اچھا ہو سائل نے پوچھا کہ سب سے بدترین انسان کون ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور اس کا عمل برا ہو۔
حدیث نمبر: 20505
وَبِإِسْنَادِهِ : وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَفَدْنَا إِلَى مُعَاوِيَةَ نُعَزِّيهِ مَعَ زِيَادٍ ، وَمَعَنَا أَبُو بَكْرَةَ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا لَمْ يُعْجَبْ بِوَفْدٍ مَا أُعْجِبَ بِنَا ، فَقَالَ : يَا أَبَا بَكْرَةَ ، حَدِّثْنَا بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ ، وَيَسْأَلُ عَنْهَا ، وَإِنَّهُ قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ : " أَيُّكُمْ رَأَى رُؤْيَا ؟ " فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : أَنَا رَأَيْتُ مِيزَانًا دُلِّيَ مِنَ السَّمَاءِ ، فَوُزِنْتَ فِيهِ أَنْتَ وَأَبُو بَكْرٍ ، فَرَجَحْتَ بِأَبِي بَكْرٍ ، ثُمَّ وُزِنَ فِيهِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ، فَرَجَحَ أَبُو بَكْرٍ بِعُمَرَ ، ثُمَّ وُزِنَ فِيهِ عُمَرُ وَعُثْمَانُ ، فَرَجَحَ عُمَرُ بِعُثْمَانَ ، ثُمَّ رُفِعَ الْمِيزَانُ ، فَاسْتَآلهَا لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَيْ أَوَّلَهَا ، فَقَالَ : " خِلَافَةُ نُبُوَّةٍ ، ثُمَّ يُؤْتِي اللَّهُ الْمُلْكَ مَنْ يَشَاءُ " ، قَالَ : فَزُخَّ فِي أَقْفَائِنَا فَأُخْرِجْنَا ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ عُدْنَا ، فَقَالَ : يَا أَبَا بَكْرَةَ ، حَدِّثْنَا بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَبَكَعَهُ بِهِ ، فَزُخَّ فِي أَقْفَائِنَا ، فَلَمَّا كَانَ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ عُدْنَا ، فَسَأَلَهُ أَيْضًا قَالَ : فَبَكَعَهُ بِهِ ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : تَقُولُ إِنَّا مُلُوكٌ ؟ قَدْ رَضِينَا بِالْمُلْكِ .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن ابی بکرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ساتھ حضرت امیر معاویہ کی خدمت میں حاضر ہوا ہم ان کے پاس پہنچے تو انہوں نے فرمایا اے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ مجھے کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے خود سنی ہو ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نیک خواب بہت اچھے لگتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے متعلق پوچھتے رہتے تھے چنانچہ حسب معمول ایک دن پوچھا کہ تم میں سے کسی نے خواب دیکھا ہے ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ میں نے دیکھا ہے میں نے دیکھا کہ آسمان سے ایک ترازو لٹکایا گیا جس میں آپ کا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے وزن کیا گیا تو آپ کا پلڑا جھک گیا پھر ابوبکر کا عمر سے وزن کیا گیا تو ابوبکر کا پلڑا جھک گیا پھر عمر کا عثمان سے کیا گیا تو عمر کا پلڑا جھک گیا پھر وہ ترازو اٹھا لیا گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت پر خواب بوجھ بنا اور فرمایا اس سے خلافت نبوت کی طرف اشارہ ہے جس کے بعد اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا حکومت دے دے گا۔ اس پر ہمیں گدی سے پکڑ کر باہر نکال دیا گیا زیاد کہنے لگا کہ تمہارا باپ نہ رہے کیا تمہیں اس کے علاوہ کوئی حدیث نہیں ملی جو تم اس کے سامنے بیان کرتے انہوں نے فرمایا کہ نہیں واللہ میں اس کے علاوہ ان سے کوئی حدیث بیان نہیں کروں گا یہاں تک کہ ان سے جدا ہوجاؤں اس پر اس نے ہمیں چھوڑ دیا تین مرتبہ ایسا ہی ہوا پھر حضرت معاویہ نے فرمایا تم حکومت کہتے ہو ہم اس پر راضی ہیں۔
حدیث نمبر: 20506
وَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهَدَةً بِغَيْرِ حَقِّهَا ، لَمْ يَجِدْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جنت کی مہک پانچ سو سال کی مسافت سے محسوس ہوتی ہے جو شخص کسی معاہد کو ناحق قتل کردے اللہ اس پر جنت کی مہک کو حرام قرار دے دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 20507
وَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيَرِدَنَّ الْحَوْضَ عَلَيَّ رِجَالٌ مِمَّنْ صَحِبَنِي وَرَآنِي ، فَإِذَا رُفِعُوا إِلَيَّ وَرَأَيْتُهُمْ اخْتُلِجُوا دُونِي ، فَلَأَقُولَنَّ أُصَيْحَابِي أُصَيْحَابِي ، فَيُقَالُ : إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے پاس حوض کوثر پر کچھ آدمی ایسے بھی آئیں گے پروردگار ! میرے ساتھی ! ارشاد ہوگا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا چیزیں ایجاد کرلی تھیں۔
حدیث نمبر: 20508
وَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَنْ يَلِي أَمْرَ فَارِسَ ؟ " قَالُوا : امْرَأَةٌ ، قَالَ : " مَا أَفْلَحَ قَوْمٌ يَلِي أَمْرَهُمْ امْرَأَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فارس کا حکم ران کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا ایک عورت نے فرما دیا وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی جو اپنے معاملات ایک عورت کے حوالے کردے۔
حدیث نمبر: 20509
وَقَالَ : أَبُو بَكْرَةَ جِئْتُ وَنَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم راكع قد حفزني النفس ، فركعت دون الصف ، فلما قضى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ : " أَيُّكُمْ رَكَعَ دُونَ الصَّفِّ ؟ " قُلْتُ : أَنَا ، قَالَ : " زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ انہوں نے صف میں شامل ہونے سے پہلے ہی رکوع کرلیا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اللہ تمہاری دینی حرص میں اضافہ کرے آئندہ ایسا نہ کرنا۔
حدیث نمبر: 20510
وَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ أَسْلَمُ وَغِفَارُ خَيْرًا مِنْ أَسَدٍ وَغَطَفَانَ ، أَتَرَوْنَهُمْ خَسِرُوا ؟ ! " قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : " فَإِنَّهُمْ خَيْرٌ مِنْهُمْ " ، ثُمَّ قَالَ : " أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَتْ جُهَيْنَةُ وَمُزَيْنَةُ خَيْرًا مِنَ الْحَلِيفَيْنِ مِنْ تَمِيمٍ وَعَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ " يَمُدُّ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَهُ " أَتَرَوْنَهُمْ خَسِرُوا ؟ ! " قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ " فَإِنَّهُمْ خَيْرٌ مِنْهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بتاؤ کہ اگر اللہ کے نزدیک اسلم اور غفار قبیلے کے لوگ بنواسد اور بنوغطفان سے بہتر ہوں تو کیا وہ نامراد اور خسارے میں رہیں گے لوگوں نے کہا جی ہاں ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ لوگ ان سے بہتر ہیں پھر فرمایا یہ بتاؤ اگر جہینہ اور مزینہ بنوتمیم اور بنوعامر " جو دونوں حلیف " ہیں سے بہتر ہوں تو کیا بنوتمیم وغیرہ خسارے میں ہوں گے یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آواز کو بلند فرمایا لوگوں نے کہا جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر وہ ان سے بہتر ہیں۔
حدیث نمبر: 20511
قَالَ : وَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " شَهْرَا عِيدٍ لَا يَنْقُصَانِ رَمَضَانُ وَذُو الْحِجَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عید کے دو مہینے یعنی رمضان اور ذی الحجہ (ثواب کے اعتبار سے) کم نہ ہوں گے۔
حدیث نمبر: 20512
وَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ ذُكِرَ رَجُلٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَثْنَى عَلَيْهِ رَجُلٌ خَيْرًا ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَيْحَكَ قَطَعْتَ عُنُقَ أَخِيكَ ، وَاللَّهِ لَوْ سَمِعَهَا مَا أَفْلَحَ أَبَدًا " ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَثْنَى أَحَدُكُمْ عَلَى أَخِيه ، فَلْيَقُلْ : وَاللَّهِ إِنَّ فُلَانًا ، وَلَا أُزَكِّي عَلَى اللَّهِ أَحَدًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ایک آدمی نے دوسرے کی تعریف کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا افسوس تم نے اپنے ساتھی کی گردن توڑ دی اور فرمایا اگر تم میں سے کسی نے اپنے بھائی کی تعریف ضرور ہی کرنا ہو تو اسے یوں کہنا چاہئے میں یہ سمجھتا ہوں کہ فلاں آدمی اس طرح دکھائی دیتا ہے اور میں اللہ کے سامنے کسی کی پاکی بیان نہیں کرتا اور اس کا حقیقی نگہبان اللہ ہی ہے میں اسی طرح سمجھتا ہوں۔
حدیث نمبر: 20513
قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَتْ أَسْلَمُ وَغِفَارُ خَيْرًا مِنَ الْحَلِيفَيْنِ أَسَدٍ وَغَطَفَانَ ، أَتَرَوْنَهُمْ خَسِرُوا ؟ ! " قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : " أَفَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَتْ مُزَيْنَةُ وَجُهَيْنَةُ خَيْرًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ وَعَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ وَرَفَعَ حَمَّادٌ بِهَا صَوْتَهُ يَحْكِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَرَوْنَهُمْ خَسِرُوا ؟ ! " قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : " فَإِنَّهُمْ خَيْرٌ مِنْهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بتاؤ کہ اگر اللہ کے نزدیک اسلم اور غفار قبیلے کے لوگ بنو اسد اور بنوغطفان سے بہتر ہوں تو کیا وہ نامراد اور خسارے میں رہیں گے لوگوں نے کہا جی ہاں ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ لوگ ان سے بہتر ہیں پھر فرمایا یہ بتاؤ اگر جہینہ اور مزینہ بنوتمیم اور بنوعامر " جو دونوں حلیف " ہیں سے بہتر ہوں تو کیا بنوتمیم وغیرہ خسارے میں ہوں گے یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آواز کو بلند فرمایا لوگوں نے کہا جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر وہ ان سے بہتر ہیں۔
حدیث نمبر: 20514
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ " أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ يَا مُحَمَّدُ اقْرَأْ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ ، قَالَ مِيكَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام : اسْتَزِدْه ، فَاسْتَزَادَهُ ، قَالَ : فَاقْرأْ عَلَى حَرْفَيْنِ ، قَالَ مِيكَائِيلُ : اسْتَزِدْهُ ، فَاسْتَزَادَهُ ، حَتَّى بَلَغَ سَبْعَةَ أَحْرُفٍ ، قَالَ : كُلٌّ شَافٍ كَافٍ مَا لَمْ تَخْتِمْ آيَةَ عَذَابٍ بِرَحْمَةٍ ، أَوْ آيَةَ رَحْمَةٍ بِعَذَابٍ " ، نَحْوَ قَوْلِكَ تَعَالَ وَأَقْبِلْ ، وَهَلُمَّ وَاذْهَبْ ، وَأَسْرِعْ وَاعْجَلْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے پاس حضرت جبرائیل اور میکائیل آئے جبرائیل نے مجھ سے کہا کہ قرآن کریم کو ایک حرف پر پڑھئے میکائیل نے کہا کہ اس میں اضافہ کی درخواست کیجئے پھر جبرائیل نے کہا کہ قرآن کریم کو آپ سات حروف پر پڑھ سکتے ہیں جن میں سے ایک کافی شافی ہے بشرطیکہ آیت رحمت کو عذاب سے یا آیت عذاب کو رحمت سے نہ بدل دیں جیسے تعال اور اقبل ' ھلم اور اذھب اسرع اور اعجل۔
حدیث نمبر: 20515
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهَدَةً بِغَيْرِ حَقِّهَا ، لَمْ يَجِدْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ مِائَةِ عَامٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت کی مہک سو سال کی مسافت سے محسوس ہوتی ہے جو شخص کسی معاہد کو ناحق قتل کردے اللہ اس پر جنت کی مہک کو حرام قرار دے دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 20516
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي ، فَإِذَا سَجَدَ وَثَبَ الْحَسَنُ عَلَى ظَهْرِهِ وَعَلَى عُنُقِهِ ، فَيَرْفَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفْعًا رَفِيقًا لِئَلَّا يُصْرَعَ ، قَالَ : فَعَلَ ذَلِكَ غَيْرَ مَرَّةٍ ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَأَيْنَاكَ صَنَعْتَ بالْحَسَنِ شَيْئًا مَا رَأَيْنَاكَ صَنَعْتَهُ ! قَالَ : " إِنَّهُ رَيْحَانَتِي مِنَ الدُّنْيَا ، وَإِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ ، وَعَسَى اللَّهُ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے جب سجدے میں جاتے تو امام حسن کود کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر سوار ہوجاتے انہوں نے کئی مرتبہ اسی طرح کیا اس پر کچھ لوگ کہنے لگے آپ اس بچے کے ساتھ جو سلوک کرتے ہیں وہ ہم نے آپ کو کسی دوسرے کے ساتھ کرتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا یہ بیٹا سردار ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا حسن کہتے ہیں کہ واللہ ان کے خلیفہ بننے کے بعد ایک سینگی میں آنے والی مقدار کا خون بھی نہیں بہایا گیا۔
حدیث نمبر: 20517
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا مُبَارَكٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ تَمْلِكُهُمْ امْرَأَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ کامیاب نہیں ہوسکتی جو اپنے معاملات ایک عورت کے حوالے کردے۔
حدیث نمبر: 20518
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا وَكِلَاهُمَا يُرِيدُ أَنْ يَقْتُلَ صَاحِبَهُ ، فَقَتَلَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ ، فَهُمَا فِي النَّارِ " ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا الْقَاتِلُ ، فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ ؟ ! قَالَ : " لِأَنَّهُ أَرَادَ قَتْلَ صَاحِبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب دو مسلمان تلواریں لے کر ایک دوسرے کے سامنے آجائیں اور ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کردیں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ قاتل کی بات تو سمجھ میں آتی ہے مقتول کا کیا معاملہ ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنا چاہتا تھا۔
حدیث نمبر: 20519
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، وَيُونُسُ ، وَهِشَامٌ ، وَالْمُعَلَّي بْنُ زِيَادٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ الْأَحْنَفِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا ، فَقَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ ، فَهُمَا فِي النَّارِ جَمِيعًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب دو مسلمان تلواریں لے کر ایک دوسرے کے سامنے آجائیں اور ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کردے تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے۔
حدیث نمبر: 20520
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : وَصَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ صِفَةَ الدَّجَّالِ وَصِفَةَ أَبَوَيْهِ ، قَالَ : " يَمْكُثُ أَبَوَا الدَّجَّالِ ثَلَاثِينَ سَنَةً لَا يُولَدُ لَهُمَا ، ثُمَّ يُولَدُ لَهُمَا ابْنٌ مَسْرُورٌ مَخْتُونٌ ، أَقَلُّ شَيْءٍ نَفْعًا وَأَضَرُّهُ ، تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ " فَذَكَرَهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : ثُمَّ وُلِدَ لَنَا هَذَا أَعْوَرَ مَسْرُورًا مَخْتُونًا ، أَقَلَّ شَيْءٍ نَفْعًا وَأَضَرَّهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال کے ماں باپ تیس سال اس حال میں رہیں گے کہ ان کے یہاں کوئی اولاد نہ ہوگی پھر ان کے ہاں ایک بچہ ہوگا جو کانا ہوگا اس کا نقصان زیادہ ہوگا اور نفع کم ہوگا اس کی آنکھیں سوتی ہوں گی لیکن دل نہیں سوئے گا۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
حدیث نمبر: 20521
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ إِنِّي قُمْتُ رَمَضَانَ كُلَّهُ " ، قَالَ قَتَادَةُ فَاللَّهُ أَعْلَمُ أَخَشِيَ التَّزْكِيَةَ عَلَى أُمَّتِهِ ، أَوْ يَقُولُ لَا بُدَّ مِنْ رَاقِدٍ أَوْ غَافِلٍ ؟ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے جو شخص یہ نہ کہے کہ میں نے سارے رمضان قیام کیا (کیونکہ غفلت یا نیند آجانے سے کوئی چارہ کار بھی نہیں ہے ہوسکتا ہے کہ کسی دن سوتا رہ جائے)
حدیث نمبر: 20522
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : كَتَبَ أَبُو بَكْرَةَ إِلَى ابْنِهِ وَهُوَ عَامِلٌ بِسِجِسْتَانَ أَنْ لَا تَقْضِيَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَأَنْتَ غَضْبَانُ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَقْضِ حَكَمٌ بَيْنَ اثْنَيْنِ أَوْ خَصْمَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کوئی حاکم دو آدمیوں کے درمیان غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرے۔
حدیث نمبر: 20523
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ ثُرْمُلَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهَدَةً بِغَيْرِ ، حَقِّهَا فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ أَنْ يَشُمَّ رِيحَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص کسی معاہد کو ناحق قتل کردے اللہ اس پر جنت کی مہک کو حرام قرار دے دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 20524
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، فَذَكَرَ قِصَّةً فِيهَا قَالَ : " فَلَمَّا قَدِمَ خُيِّرَ عَبْدُ اللَّهِ بَيْنَ ثَلَاثِينَ أَلْفًا وَبَيْنَ آنِيَةٍ مِنْ فِضَّةٍ ، قَالَ : فَاخْتَارَ الْآنِيَةَ ، قَالَ : فَقَدِمَ تُجَّارٌ مِنْ دَارِينَ ، فَبَاعَهُمْ إِيَّاهَا الْعَشْرَةَ ثَلَاثَةَ عَشْرَةَ ، ثُمَّ لَقِيَ أَبَا بَكْرَةَ ، فَقَالَ : أَلَمْ تَرَ كَيْفَ خَدَعْتُهُمْ ؟ قَالَ : كَيْفَ ؟ فَذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ ، قَالَ : عَزَمْتُ عَلَيْكَ أَوْ أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ لَتَرُدَّنَّهَا ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
محمد نامی راوی ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا جب وہ آئے تو عبداللہ کو اختیار دے دیا گیا کہ وہ تیس ہزار روپے لے یا چاندی کے برتن لے لے اس نے برتن لینے کو ترجیح دی پھر " دارین " سے کچھ تاجر آئے اس نے اس کے دس حصے تیرہ تیرہ ہزار میں فروخت کردیئے پھر حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے اس کی ملاقات ہوئی کہنے لگا کہ دیکھا میں نے اسے کس طرح دھوکہ دیا انہوں نے واقعہ پوچھا تو اس نے سارا واقعہ بتادیا حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ اسے واپس کردو کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کی چیزوں سے منع کرتے ہوئے سنا ہے۔