حدیث نمبر: 20453
حَدَّثَنَا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ ذَاكَ الْيَوْمُ ، رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ ، ثُمَّ وَقَفَ فَقَالَ : " تَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟ " فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ ، وَقَالَ فِيهِ : " أَلَا لِيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ مَرَّتَيْنِ فَرُبَّ مُبَلَّغٍ هُوَ أَوْعَى مِنْ مُبَلِّغٍ " مِثْلَهُ ، ثُمَّ مَالَ عَلَى نَاقَتِهِ إِلَى غُنَيْمَاتٍ ، فَجَعَلَ يَقْسِمُهُنَّ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ الشَّاةُ ، وَالثَّلَاثَةِ الشَّاةَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنی اونٹنی پر سوار تھے اور خطبہ دیتے ہوئے فرمایا تم جانتے ہو کہ آج کون سا دن ہے ؟ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور آخر میں کہا تم میں سے جو موجود ہیں وہ غائبین تک یہ پیغام پہنچادیں کیونکہ بعض اوقات جسے پیغام دیا جاتا ہے وہ سننے والے سے زیادہ اسے محفوظ رکھتا ہے پھر اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم بکریوں کی طرف چل پڑے اور لوگوں کے درمیان انہیں تقسیم کرنے لگے دو آدمیوں کو ایک بکری یا تین آدمیوں کو ایک بکری دینے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20453
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، خ: 67، م: 1679
حدیث نمبر: 20454
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ حَمَّادَ بْنَ سَلَمَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، وَحُمَيْدٍ في آخرين ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ سَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِأَقْوَامٍ لَا خَلَاقَ لَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس دین کی تائید ایسے لوگوں سے بھی کروائے گا جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20454
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، على بن زيد ، لكنه توبع، والحسن البصري مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20455
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْحَرَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرَةَ بَكَّارُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ بَشِيرٌ يُبَشِّرُهُ بِظَفَرِ جُنْدٍ لَهُ عَلَى عَدُوِّهِمْ ، وَرَأْسُهُ فِي حِجْرِ عَائِشَةَ ، فَقَامَ فَخَرَّ سَاجِدًا ، ثُمَّ أَنْشَأَ يُسَائِلُ الْبَشِيرَ ، فَأَخْبَرَهُ فِيمَا أَخْبَرَهُ أَنَّهُ وَلِيَ أَمْرَهُمِ امْرَأَةٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْآنَ هَلَكَتِ الرِّجَالُ إِذَا أَطَاعَتِ النِّسَاءَ ، هَلَكَتِ الرِّجَالُ إِذَا أَطَاعَتِ النِّسَاءَ " ثَلَاثًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک آدمی آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دشمن کے خلاف اپنے لشکر کی کامیابی کی خوشخبری سنائی اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک حضرت عائشہ کی گود میں تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ خوشخبری سن کر سجدے میں گرگئے پھر خوشخبری دینے والے سے مختلف سوالات کرنے لگے اس نے جو باتیں بتائیں ان میں ایک بات یہ بھی تھی کہ دشمن نے اپنا ایک حکمران ایک عورت کو مقرر کرلیا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر تین مرتبہ فرمایا اب مرد ہلاکت میں پڑگئے جب کہ انہوں نے عورتوں کی پیروی کرنا شروع کردی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20455
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف بكار بن عبدالعزيز
حدیث نمبر: 20456
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا بَكَّارٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ ، وَمَنْ رَاءَى رَاءَى اللَّهُ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص شہرت کے لئے کوئی کام کرتا ہے اللہ اسے شہرت کے حوالے کردیتا ہے اور جو دکھاوے کے لئے کوئی کام کرتا ہے اللہ اسے دکھاوے کے حوالے کردیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20456
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف بكار بن عبدالعزيز
حدیث نمبر: 20457
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا زِيَادٌ الْأَعْلَمُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنَّهُ جَاءَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاكِعٌ ، فَرَكَعَ دُونَ الصَّفِّ ، ثُمَّ مَشَى إِلَى الصَّفِّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ هَذَا الَّذِي رَكَعَ ، ثُمَّ مَشَى إِلَى الصَّفِّ ؟ " فَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ : أَنَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ انہوں نے صف میں شامل ہونے سے پہلے ہی رکوع کرلیا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تمہاری دینی حرص میں اضافہ کرے آئندہ ایسا نہ کرنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20457
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 783
حدیث نمبر: 20458
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَخْبَرَنَا زِيَادٌ الْأَعْلَمُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنَّهُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاكِعٌ ، فَرَكَعَ قَبْلَ أَنْ يَصِلَ إِلَى الصَّفِّ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ مسجد میں داخل ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں تھے کہ انہوں نے صف میں شامل ہونے سے پہلے ہی رکوع کرلیا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تمہاری دینی حرص میں اضافہ کرے آئندہ ایسا نہ کرنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20458
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 783
حدیث نمبر: 20459
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا زِيَادٌ الْأَعْلَمُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ ، فَأَوْمَأَ إِلَى أَصْحَابِهِ ، أَيْ مَكَانَكُمْ ، فَذَهَبَ وَجَاءَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر کا آغاز کیا اور تکبیر کہی پھر صحابہ کو اشارہ سے فرمایا کہ اپنی جگہ رہو پھر گھر تشریف لے گئے جب باہر آئے تو سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے پھر نماز پڑھائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20459
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: هذا إسناد ضعيف، الحسن البصري مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20460
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي فُضَيْلُ بْنُ فَضَالَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : رَأَى أَبُو بَكْرَةَ نَاسًا يُصَلُّونَ الضُّحَى ، فَقَالَ : إِنَّهُمْ لَيُصَلُّونَ صَلَاةً مَا صَلَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَا عَامَّةُ أَصْحَابِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن ابی بکرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ یہ ایسی نماز پڑھ رہے ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھی اور نہ ہی آپ کے اکثر صحابہ نے پڑھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20460
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 20461
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، وَمُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بعد کافر نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20461
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 67، م: 1679، وفي السند الأول الحسن البصري وهو مدلس، وقد عنعنه، ومتابعته لم تثبت، لأن سيرين لم يثبت سماعه من أبى بكرة
حدیث نمبر: 20462
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، وَيَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : مَدَحَ رَجُلٌ رَجُلًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَيْلَكَ قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ مِرَارًا إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ مَادِحًا صَاحِبَهُ لَا مَحَالَةَ ، فَلْيَقُلْ : أَحْسَبُ فُلَانًا ، وَاللَّهُ حَسِيبُهُ ، وَلَا أُزَكِّي عَلَى اللَّهِ أَحَدًا ، إِنْ كَانَ يَعْلَمُ ذَلِكَ ، أَحْسَبُهُ كَذَا وَكَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی ایک آدمی نے دوسرے کی تعریف کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا افسوس تم نے اپنے ساتھی کی گردن توڑ دی اور فرمایا اگر تم میں سے کسی نے اپنے بھائی کی تعریف ضرور ہی کرنا ہو تو اسے یوں کہنا چاہئے میں یہ سمجھتا ہوں کہ فلاں آدمی اس طرح دکھائی دیتا ہے اور میں اللہ کے سامنے کسی کی پاکی بیان نہیں کرتا اور اس کا حقیقی نگہبان اللہ ہے میں اسے اس طرح سمجھاتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20462
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6162، م: 3000
حدیث نمبر: 20463
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَذْفِ " ، فَأَخَذَ ابْنُ عَمٍّ لَهُ ، فَقَالَ عَنْ هَذَا ؟ وَخَذَفَ ، فَقَالَ : أَلَا أُرَانِي أُخْبِرُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ ، وَأَنْتَ تَخْذِفُ ؟ ! وَاللَّهِ لَا أُكَلِّمُكَ عَزْمَةً مَا عِشْتُ ، أَوْ مَا بَقِيتُ ، أَوْ نَحْوَ هَذَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو کنکریاں مارنے سے منع فرمایا ہے ان کے ایک چچازاد بھائی نے کہا کہ اس سے منع کیا ہے اور کنکری کسی کو دے ماری انہوں نے فرمایا میں تم سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کررہاہوں کہ انہوں نے اس سے منع فرمایا ہے لیکن تم پھر بھی وہی کررہے ہو بخدا جب تک میری زندگی ہے میں تم سے کبھی بات نہیں کروں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20463
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: متن الحديث صحيح لكن من حديث عبدالله بن مغفل، ولا يبعد أن يكون الوهم فيه من حماد بن سلمة، وأما حديث أبى بكرة فإسناده منقطع، ثابت قد أدرك أبا بكرة صغيرا، ولم يسمع منه
حدیث نمبر: 20464
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّ عِيَاضَ بْنَ مُسَافِعٍ أَخْبَرَهُ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَخِي زِيَادٍ لِأُمِّهِ ، قَالَ أَبُو بَكْرَةَ : أَكْثَرَ النَّاسُ فِي شَأْنِ مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ، ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّ شَأْنَ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي قَدْ أَكْثَرْتُمْ فِي شَأْنِهِ ، فَإِنَّهُ كَذَّابٌ مِنْ ثَلَاثِينَ كَذَّابًا يَخْرُجُونَ قَبْلَ الدَّجَّالِ ، وَإِنَّهُ لَيْسَ بَلَدٌ إِلَّا يَدْخُلُهُ رُعْبُ الْمَسِيحِ إِلَّا الْمَدِينَةَ ، عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْ نِقَابِهَا يَوْمَئِذٍ مَلَكَانِ يَذُبَّانِ عَنْهَا رُعْبَ الْمَسِيحِ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مسیلمہ کذاب کے متعلق قبل اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کچھ فرمائیں لوگ بکثرت باتیں کیا کرتے تھے ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور امابعد کہہ کر فرمایا اس شخص کے متعلق تم بکثرت باتیں کررہے تھے یہ ان تیس کذابوں میں سے ایک ہے جو قیامت سے پہلے خروج کریں گے اور کوئی شہر ایسا نہیں ہوگا جہاں دجال کا رعب نہ پہنچے سوائے مدینہ کے کہ اس کے دو سوراخ پر دو فرشتے مقرر ہونگے جو مدینہ منورہ سے دجال کے رعب کو دور کرتے ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20464
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف عياض بن مسافع مجهول
حدیث نمبر: 20465
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، أَخْبَرَنِي طَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّ عِيَاضَ بْنَ مُسَافِعٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ أَخَا زِيَادٍ لِأُمِّهِ ، قَالَ أَبُو بَكْرَةَ : أَكْثَرَ النَّاسُ فِي شَأْنِ مُسَيْلِمَةَ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20465
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة عياض بن مسافع
حدیث نمبر: 20466
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ : لَمَّا ادُّعِيَ زِيَادٌ ، لَقِيتُ أَبَا بَكْرَةَ فَقُلْتُ : مَا هَذَا الَّذِي صَنَعْتُمْ ؟ إِنِّي سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، يَقُولُ : سَمِعَتْ أُذُنَايَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ : " مَنْ ادَّعَى أَبًا فِي الْإِسْلَامِ غَيْرَ أَبِيهِ ، فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ " ، فَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ : وَأَنَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
ابوعثمان کہتے ہیں کہ جب زیاد کی نسبت کا مسئلہ بہت بڑھا تو ایک دن میری ملاقات ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی میں نے ان لوگوں سے پوچھا کہ یہ آپ لوگوں نے کیا کیا ؟ میں نے حضرت سعد کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات میرے ان کانوں نے سنی ہے کہ جو شخص حالت اسلام میں اپنے باپ کے علاوہ کسی اور شخص کو اپنا باپ قرار دیتا ہے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ شخص اس کا باپ نہیں ہے تو اس پر جنت حرام ہے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے بھی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20466
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20467
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنَّ أَبَاهُ أَمَرَهُ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى ابْنٍ لَهُ وَكَانَ قَاضِيًا بِسِجِسْتَانَ أَمَّا بَعْدُ ، فَلَا تَحْكُمَنَّ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَأَنْتَ غَضْبَانُ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَحْكُمُ أَحَدٌ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کوئی حاکم دو آدمیوں کے درمیان میں غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20467
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7158، م: 1717
حدیث نمبر: 20468
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَدَحَ رَجُلٌ رَجُلًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَطَعْتَ ظَهْرَهُ ، إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ مَادِحًا صَاحِبَهُ لَا مَحَالَةَ ، فَلْيَقُلْ أَحْسَبُهُ ، وَاللَّهُ حَسِيبُهُ ، وَلَا أَعْذِرُ عَلَى اللَّهِ أَحَدًا ، أَحْسَبُهُ كَذَا وَكَذَا ، إِنْ كَانَ يَعْلَمُ ذَلِكَ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ایک آدمی نے دوسرے کی تعریف کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا افسوس تم نے اپنے ساتھی کی گردن توڑ دی اور فرمایا کہ اگر تم نے اپنے بھائی کی تعریف ضرور ہی کرنا ہے تو اسے یوں کہنا چاہئے کہ فلاں آدمی اس طرح دکھائی دیتا ہے اور میں اللہ کے سامنے کسی کی پاکی بیان نہیں کرتا اور اس کا حقیقی نگہبان اللہ ہے میں اسے اس طرح سمجھتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20468
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6061، م: 3000
حدیث نمبر: 20469
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَغَيْرِ وَاحِدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ رِيحَ الْجَنَّةِ لَتُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ مِائَةِ عَامٍ ، وَمَا مِنْ عَبْدٍ يَقْتُلُ نَفْسًا مُعَاهَدَةً إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَرَائِحَتَهَا أَنْ يَجِدَهَا " ، قَالَ أَبُو بَكْرَةَ : أَصَمَّ اللَّهُ أُذُنَيَّ إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهَا.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جنت کی مہک سو سال کی مسافت سے محسوس ہوتی ہے جو شخص کسی معاہد کو قتل کردے اللہ اس پر جنت کی اس مہک کو حرام قرار دے دیتا ہے اگر میں نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے نہ سنا ہو تو میرے دونوں کان بہرے ہوجائیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20469
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20470
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَالْإِمَامُ رَاكِعٌ ، فَرَكَعَ قَبْلَ أَنْ يَصِلَ إِلَى الصَّفِّ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا ، وَلَا تَعُدْ " ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سَمِعْتُ هِشَامًا يُحَدِّثُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، مِثْلَهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ مسجد میں داخل ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں تھے انہوں نے صف میں شامل ہونے سے پہلے ہی رکوع کرلیا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اللہ تمہاری دینی حرص میں اضافہ کرے آئندہ ایسا نہ کرنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20470
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 783، وصورته هنا صورة الإرسال، والحسن قد صرح بسماعه من أبى بكرة عند
حدیث نمبر: 20471
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ سَمِعْتُ هِشَامًا يُحَدِّثُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ مِثْلَهُ
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20471
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 783
حدیث نمبر: 20472
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا ، فَقَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ ، فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا الْقَاتِلُ ، فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ ؟ ! قَالَ : " إِنَّهُ كَانَ يُرِيدُ قَتْلَ صَاحِبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب دو مسلمان تلواریں لے کر ایک دوسرے کے سامنے آجائیں اور ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کردیں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ قاتل کی بات تو سمجھ میں آتی ہے مقتول کا کیا معاملہ ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنا چاہتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20472
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 31، م: 2888، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمعه من أبى بكرة
حدیث نمبر: 20473
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، أَخْبَرَنِي مَنْ ، سَمِعَ الْحَسَنَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُنَا يَوْمًا وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ فِي حِجْرِهِ ، فَيُقْبِلُ عَلَى أَصْحَابِهِ فَيُحَدِّثُهُمْ ، ثُمَّ يُقْبِلُ عَلَى الْحَسَنِ فَيُقَبِّلُهُ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ ابْنِي هَذَا لَسَيِّدٌ ، إِنْ يَعِشْ يُصْلِحْ بَيْنَ طَائِفَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھا حضرت امام حسن بھی ان کے ہمراہ تھے کبھی لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور کبھی امام حسن کی طرف دیکھتے اور فرماتے میرا یہ بیٹا سردار ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان صلح کروائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20473
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2704، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الواسطة بين معمر والحسن البصري
حدیث نمبر: 20474
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا عُيَيْنَةُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ أَسْنَدُوا أَمْرَهُمْ إِلَى امْرَأَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی جو اپنے معاملات ایک عورت کے حوالے کردے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20474
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20475
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ رُعْبُ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ ، لَهَا يَوْمَئِذٍ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ ، لِكُلِّ بَابٍ مَلَكَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ منورہ میں دجال کا رعب داخل نہ ہوسکے گا اس وقت مدینہ منورہ کے سات دروازے ہونگے اور ہر دروازے پر دو فرشتے مقرر ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20475
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7126
حدیث نمبر: 20476
. 20464 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : أَكْثَرَ النَّاسُ فِي شَأْنِ مُسَيْلِمَةَ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ عُقَيْلٍ.
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20476
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، واختلف فيه على الزهري، وروي عنه أيضا بزيادة عياض بن مسافع بين طلحة وأبي بكرة، وهو الصواب، وعياض هذا مجهول
حدیث نمبر: 20477
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا عُيَيْنَةُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يُفْلِحُ قَوْمٌ أَسْنَدُوا أَمْرَهُمْ إِلَى امْرَأَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی جو اپنے معاملات ایک عورت کے حوالے کردے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20477
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20478
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُفْلِحُ قَوْمٌ تَمْلِكُهُمُ امْرَأَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی جو اپنے معاملات ایک عورت کے حوالے کردے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20478
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20479
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، وَرَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي حَاتِمٍ ، وَقَالَ رَوْحٌ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ ، وحَدَّثَنَا عَفَّانُ فِي حَدِيثٍ ذَكَرَهُ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ أَيْضَا يُكَنَّى أَبَا حَاتِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " شَهْرَا عِيدٍ لَا يَنْقُصَانِ : رَمَضَانُ ، وَذُو الْحِجَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عید کے دو مہینے یعنی رمضان اور ذی الحجہ (ثواب کے اعتبار سے) کم نہیں ہوتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20479
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1912، م: 1089، سالم أبو حاتم متابع
حدیث نمبر: 20480
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ ؟ أَوْ قَالَ خَيْرٌ ؟ شَكَّ يَزِيدُ قَالَ : " مَنْ طَالَ عُمْرُهُ وَحَسُنَ عَمَلُهُ " ، قِيل فَأَيُّ النَّاسِ شَرٌّ ؟ قَالَ : " مَنْ طَالَ عُمْرُهُ وَسَاءَ عَمَلُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ کون سا انسان سب سے بہتر ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور عمل سب سے اچھا ہو سائل نے پوچھا کہ سب سے بد ترین انسان کون ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور اس کا عمل سب سے برا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20480
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد، لكنه يعتضد
حدیث نمبر: 20481
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ ؟ قَالَ : " مَنْ طَالَ عُمْرُهُ وَحَسُنَ عَمَلُهُ " ، قِيلَ : فَأَيُّ النَّاسِ شَرٌّ ؟ قَالَ : " مَنْ طَالَ عُمْرُهُ وَسَاءَ عَمَلُهُ " ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ کون سا انسان سب سے بہتر ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور عمل سب سے اچھا ہو سائل نے پوچھا کہ سب سے بد ترین انسان کون ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور اس کا عمل سب سے برا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20481
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، الحسن مدلس، وقد عنعن، لكنه توبع
حدیث نمبر: 20482
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20482
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد، لكنه يعتضد
حدیث نمبر: 20483
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، وَأَبُو دَاوُدَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : " أَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ تِسْعَ لَيَالٍ قَالَ أَبُو دَاوُدَ ثَمَانِ لَيَالٍ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ " ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ أَنَّكَ عَجَّلْتَ لَكَانَ أَمْثَلَ لِقِيَامِنَا مِنَ اللَّيْلِ ، قَالَ : " فَعَجَّلَ بَعْدَ ذَلِكَ " ، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ : تِسْعَ لَيَالٍ ، وَقَالَ عَفَّانُ : سَبْعَ لَيَالٍ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نو راتوں تک نماز عشاء کو تہائی رات میں مؤخر کیا حضرت ابوبکر صدیق نے عرض کی یا رسول اللہ اگر آپ یہ نماز جلدی پڑھادیں تو ہمارے لئے قیام اللیل میں سہولت ہوجائے چنانچہ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کو جلدی پڑھانے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20483
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 20484
حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ الْحَسَنِ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا مَدَحَ صَاحِبًا لَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " وَيْلَكَ قَطَعْتَ عُنُقَهُ ، إِنْ كُنْتَ مَادِحًا لَا مَحَالَةَ فَقُلْ أَحْسَبُهُ كَذَا وَكَذَا ، وَاللَّهُ حَسِيبُهُ ، وَلَا أُزَكِّي عَلَى اللَّهِ تَعَالَى أَحَدًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ایک آدمی نے دوسرے کی تعریف کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا افسوس تم نے اپنے ساتھی کی گردن توڑ دی اور فرمایا اگر تم میں سے کسی نے اپنے بھائی کی تعریف ضرور ہی کرنا ہو تو اسے یوں کہنا چاہئے میں یہ سمجھتا ہوں کہ فلاں آدمی اس طرح دکھائی دیتا ہے اور میں اللہ کے سامنے کسی کی پاکی بیان نہیں کرتا اور اس کا حقیقی نگہبان اللہ ہی ہے میں اسی طرح سمجھتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20484
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2662، م: 3000
حدیث نمبر: 20485
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ خَالِدًا الْحَذَّاءَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " شَهْرَانِ لَا يَنْقُصَانِ : فِي كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عِيدٌ رَمَضَانُ ، وَذُو الْحِجَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عید کے دو مہینے رمضان اور ذی الحجہ (ثواب کے اعتبار سے) کم نہیں ہوتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20485
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1912، م: 1089
حدیث نمبر: 20486
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ شُعْبَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ رَبِّ بْنَ سَعِيدٍ وَقَالَ : بَهْزٌ عَبْدَ رَبِّهِ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى أَبِي مُوسَى ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، قَالَ : دَخَلَ عَلَيْنَا أَبُو بَكْرَةَ فِي شَهَادَةٍ ، فَقَامَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِهِ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُقِمْ الرَّجُلَ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ ، ثُمَّ يَقْعُدُ فِيهِ " ، أَوْ قَالَ : " إِذَا أَقَامَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ ، فَلَا يَجْلِسْ فِيهِ ، وَلَا يَمْسَحْ الرَّجُلُ يَدَهُ بِثَوْبِ مَنْ لَا يَمْلِكُ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کو کسی معاملے میں گواہی کے لئے بلایا گیا تو وہ تشریف لائے تو ایک آدمی اپنی جگہ سے کھڑا ہوگیا حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھ کر فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی آدمی اس جگہ سے کھڑا ہو اور دوسرا اس کی جگہ بیٹھ جائے اور اس بات سے بھی انسان ایسے کپڑے سے ہاتھ پونچھے جس کا وہ مالک نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20486
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أبى عبدالله ابن مولى أبى موسى
حدیث نمبر: 20487
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " أَسْلَمُ ، وَغِفَارُ ، وَمُزَيْنَةُ ، وَجُهَيْنَةُ خَيْرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ ، وَبَنِي عَامِرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے نزدیک جہینہ ' اسلم ' غفار ' اور مزینہ قبیلے لے لوگ بنوتمیم ' اور بنوعامر بن صعصہ سے بہتر ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20487
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3515، م: 2522
حدیث نمبر: 20488
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ إِنِّي قُمْتُ رَمَضَانَ كُلَّهُ " ، قَالَ : فَاللَّهُ أَعْلَمُ أَخَشِيَ عَلَى أُمَّتِهِ أَنْ تُزَكِّيَ أَنْفُسَهَا ، قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ فَاللَّهُ أَعْلَمُ أَخَشِيَ التَّزْكِيَةَ عَلَى أُمَّتِهِ ، أَوْ قَالَ : لَا بُدَّ مِنْ نَوْمٍ أَوْ غَفْلَةٍ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ میں نے سارے رمضان قیام کیا اب اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کے متعلق خود ہی اپنی پاکیزگی بیان کرنے میں اندیشہ ہوا یا اس وجہ سے فرمایا کہ ننید اور غفلت سے بھی تو کوئی چھٹکارا نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20488
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20489
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، وَعَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ قُمْتُ رَمَضَانَ كُلَّهُ " ، قَالَ قَتَادَةُ : فَاللَّهُ أَعْلَمُ أَخَشِيَ عَلَى أُمَّتِهِ التَّزْكِيَةَ ، قَالَ عَفَّانُ : أَوْ قَالَ : لَا بُدَّ مِنْ رَاقِدٍ أَوْ غَافِلٍ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ میں نے سارے رمضان قیام کیا ہے (کیونکہ غفلت یا نیند آجانے سے کوئی چارہ کار بھی نہیں ہے ہوسکتا ہے کہ کسی دن سوتا رہ جائے)
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20489
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، الحسن البصري مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20490
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الشَّحَّامُ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتَنٌ ، ثُمَّ تَكُونُ فِتَنَةٌ ، أَلَا فَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي إِلَيْهَا ، أَلَا وَالْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ فِيهَا ، أَلَا وَالْمُضْطَجِعُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَاعِدِ ، أَلَا إِذَا نَزَلَتْ ، فَمَنْ كَانَتْ لَهُ غَنَمٌ فَلْيَلْحَقْ بِغَنَمِهِ ، أَلَا وَمَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَلْحَقْ بِأَرْضِهِ ، أَلَا وَمَنْ كَانَتْ لَهُ إِبِلٌ فَلْيَلْحَقْ بِإِبِلِهِ " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ ، أَرَأَيْتَ مَنْ لَيْسَتْ لَهُ غَنَمٌ وَلَا أَرْضٌ وَلَا إِبِلٌ ، كَيْفَ يَصْنَعُ ؟ قَالَ " لِيَأْخُذْ سَيْفَهُ ، ثُمَّ لِيَعْمِدْ بِهِ إِلَى صَخْرَةٍ ، ثُمَّ لِيَدُقَّ عَلَى حَدِّهِ بِحَجَرٍ ، ثُمَّ لِيَنْجُ إِنْ اسْتَطَاعَ النَّجَاءَ ، اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ ؟ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ ؟ " إِذْ قَالَ رَجُلٌ يَا نَبِيَّ اللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ ، أَرَأَيْتَ إِنْ أُخِذَ بِيَدِي مُكْرَهًا حَتَّى يُنْطَلَقَ بِي إِلَى أَحَدِ الصَّفَّيْنِ أَوْ إِحْدَى الْفِئَتَيْنِ ، عُثْمَانُ يَشُكُّ فَيَجْذِفَنِي رَجُلٌ بِسَيْفِهِ ، فَيَقْتُلَنِي ، مَاذَا يَكُونُ مِنْ شَأْنِي ؟ قَالَ : " يَبُوءُ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِهِ ، وَيَكُونُ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب فتنے رونما ہوں گے جن میں لیٹا ہوا آدمی بیٹھے ہوئے سے اور بیٹھا ہوا کھڑے ہوئے سے اور کھڑا ہوا چلنے والے سے اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ پھر آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے پاس اونٹ ہوں وہ اپنے اونٹوں میں چلاجائے اور جس کے پاس بکریاں ہوں وہ بکریوں میں چلا جائے اور جس کے پاس زمین ہو وہ اپنی زمین میں چلا جائے اور جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو وہ اپنی تلوار پکڑے اور اس کی دھار کو ایک چٹان پردے مارے۔ اور اگر بچ سکتا ہو تو بچ جائے۔ اے اللہ کیا میں نے پہنچادیا دو مرتبہ کہا ایک آدمی نے پوچھا یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ اللہ مجھے آپ پر فدا کرے یہ بتائیے کہ اگر کوئی شخص زبردستی میرا ہاتھ پکڑ کر کسی صف یا گروہ میں لے جائے وہاں کوئی آدمی مجھ پر تلوار سے حملہ کردے اور مجھے قتل کردے تو میرا کیا بنے گا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص تمہارا اپنا گناہ لے کر لوٹے گا اور اہل جہنم میں سے ہوجائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20490
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، م: 2887
حدیث نمبر: 20491
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ ؟ قَالَ : " مَنْ طَالَ عُمْرُهُ وَحَسُنَ عَمَلُهُ " ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ النَّاسِ شَرٌّ ؟ قَالَ : " مَنْ طَالَ عُمْرُهُ وَسَاءَ عَمَلُهُ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ کون سا انسان سب سے بہتر ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور عمل اچھا ہو سائل نے پوچھا کہ سب سے بدترین انسان کون ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور اس کا عمل برا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20491
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 20492
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ ؟ فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20492
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد