حدیث نمبر: 20413
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْضًا يُقَالُ لَهَا الْبُصَيْرَةُ ، إِلَى جَنْبِهَا نَهَرٌ يُقَالُ لَهُ : دِجْلَةُ ، ذُو نَخْلٍ كَثِيرٍ ، وَيَنْزِلُ بِهِ بَنُو قَنْطُورَاءَ ، فَيَفْتَرِّقُ النَّاسُ ثَلَاثَ فِرَقٍ فِرْقَةٌ تَلْحَقُ بِأَصْلِهَا ، وَهَلَكُوا ، وَفِرْقَةٌ تَأْخُذُ عَلَى أَنْفُسِهَا ، وَكَفَرُوا ، وَفِرْقَةٌ يَجْعَلُونَ ذَرَارِيَّهُمْ خَلْفَ ظُهُورِهِمْ ، فَيُقَاتِلُونَ ، قَتْلَاهُمْ شُهَدَاءُ ، يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَى بَقِيَّتِهِمْ " ، وَشَكَّ يَزِيدُ فِيهِ مَرَّةً ، فَقَالَ : الْبُصَيْرَةُ أَوْ الْبَصْرَةُ . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک علاقے کا ذکر فرمایا اس کا نام بصرہ ہے اور اس کے ایک طرف دجلہ نامی نہر بہتی ہے کثیر باغات والا علاقہ ہے وہاں بنوقنطوراء (ترک) آکر اتریں گے تو لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے ایک گروہ تو اپنی اصل سے جا ملے گا یہ ہلاک ہوگا ایک گروہ اپنے اوپر زیادتی کرکے کفر کرے گا اور ایک گروہ اپنے بچوں کو پس پشت ڈال کر قتال کرے گا۔ ان کے مقتولین شہید ہوں گے اور ان کے ہی بقیہ لوگوں کے ہاتھوں ہی مسلمانوں کی فتح ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20413
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: ضعيف، ومتنه منكر لأجل سعيد بن جمهان، وابن أبى بكرة اختلف الروايات فى تعيينه
حدیث نمبر: 20414
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَتَنْزِلُنَّ أَرْضًا يُقَالُ لَهَا : الْبَصْرَةُ أَوْ الْبُصَيْرَةُ عَلَى دِجْلَةَ ، نَهَرٌ . . . " فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ، قَالَ الْعَوَّامُ : بَنُو قَنْطُورَاءَ هُمْ التُّرْكُ.
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20414
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، ومتنه منكر لأجل سعيد بن جمهان، واختلفت الروايات فى تعيين ابن أبى بكرة
حدیث نمبر: 20415
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ ؟ قَالَ : " مَنْ طَالَ عُمُرُهُ ، وَحَسُنَ عَمَلُهُ " ، قَالَ : فَأَيُّ النَّاسِ شَرٌّ ؟ قَالَ : " مَنْ طَالَ عُمُرُهُ ، وَسَاءَ عَمَلُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ کون سا انسان سب سے بہتر ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور عمل اچھا ہو سائل نے پوچھا کہ سب سے بدترین انسان کون ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور اس کا عمل برا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20415
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 20416
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ قُمْتُ رَمَضَانَ كُلَّهُ ، وَلَا صُمْتُهُ كُلَّهُ " ، قَالَ الْحَسَنُ : وَقَالَ يَزِيدُ مَرَّةً : قَالَ قَتَادَةُ اللَّهُ أَعْلَمُ أَخَافَ عَلَى أُمَّتِهِ التَّزْكِيَةَ ، أَوْ لَا بُدَّ مِنْ رَاقِدٍ أَوْ غَافِلٍ ؟.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے میں نے سارے رمضان قیام کیا اور روزے رکھتا رہا کیونکہ غفلت یا نیند آجانے سے کوئی چارہ کار بھی نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے وہ کسی دن سوتا رہ جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20416
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20417
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ ذُكِرَتْ لَيْلَةُ الْقَدْرِ عِنْدَ أَبِي بَكْرَةَ ، فَقَالَ : مَا أَنَا بِمُلْتَمِسِهَا بَعْدَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا فِي عَشْرِ الْأَوَاخِرِ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ، فِي الْوِتْرِ مِنْهُ " ، قَالَ : فَكَانَ أَبُو بَكْرَةَ يُصَلِّي فِي الْعِشْرِينَ مِنْ رَمَضَانَ كَصَلَاتِهِ فِي سَائِرِ السَّنَةِ ، فَإِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ اجْتَهَدَ .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے سامنے شب قدر کا ذکر ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ میں تو اسے صرف آخری عشرے میں تلاش کروں گا کیونکہ میں اس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ فرماتے ہوئے سنا ہے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کیا کرو۔ ٢١ ویں، ٢٣ ویں، ٢٥ ویں شب، یا ٢٧ ویں شب یا آخری رات میں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20417
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20418
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَمْكُثُ أَبَوَا الدَّجَّالِ ثَلَاثِينَ عَامًا لَا يُولَدُ لَهُمَا ، ثُمَّ يُولَدُ لَهُمَا غُلَامٌ أَعْوَرُ ، أَضَرُّ شَيْءٍ وَأَقَلُّهُ نَفْعًا ، تَنَامُ عَيْنَاهُ ، وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ " ، ثُمَّ نَعَتَ أَبَوَيْهِ ، فَقَالَ : " أَبُوهُ رَجُلٌ طُوَالٌ مُضْطَرِبُ اللَّحْمِ ، طَوِيلُ الْأَنْفِ ، كَأَنَّ أَنْفَهُ مِنْقَارٌ ، وَأُمُّهُ امْرَأَةٌ فِرْضَاخِيَّةٌ ، عَظِيمَةُ الثَّدْيَيْنِ " ، قَالَ : فَبَلَغَنَا أَنَّ مَوْلُودًا مِنَ الْيَهُودِ وُلِدَ بِالْمَدِينَةِ ، قَالَ : فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبَوَيْهِ ، فَرَأَيْنَا فِيهِمَا نَعْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِذَا هُوَ مُنْجَدِلٌ فِي الشَّمْسِ فِي قَطِيفَةٍ ، لَهُ هَمْهَمَةٌ ، فَسَأَلْنَا أَبَوَيْهِ ، فَقَالَا : مَكَثْنَا ثَلَاثِينَ عَامًا لَا يُولَدُ لَنَا ، ثُمَّ وُلِدَ لَنَا غُلَامٌ أَعْوَرُ ، أَضَرُّ شَيْءٍ وَأَقَلُّهُ نَفْعًا ، فَلَمَّا خَرَجْنَا مَرَرْنَا بِهِ ، فَقَالَ : مَا كُنْتُمَا فِيهِ ؟ قُلْنَا وَسَمِعْتَ ؟ ! قَالَ : نَعَمْ ، إِنَّهُ تَنَامُ عَيْنَايَ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي ، فَإِذَا هُوَ ابْنُ صَيَّادٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال کے ماں باپ تیس سال اس حال میں رہیں گے کہ ان کے ہاں یہاں کوئی اولاد نہ ہوگی پھر ان کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوگا جو کانا ہوگا اس کا نقصان زیادہ ہوگا اور نفع کم اس کی آنکھیں سوتی ہوں گی لیکن دل نہیں سوئے گا پھر اس کے والدین کا حلیہ بیان کرتے ہوئے فرمایا اس کا باپ ایک لمبے قد کا آدمی ہوگا اور اس کا گوشت ہلتا ہوگا اس کی ناک بھی لمبی ہوگی ایسا محسوس ہوگا کہ جیسے طوطے کی چونچ اور اس کی ماں بڑی چھاتی والی عورت ہوگی کچھ عرصے کے بعد ہمیں پتا چلا کہ مدینہ میں ایک یہودیوں کے ہاں بچہ پیدا ہوا ہے میں اور زبیر بن عوام اسے دیکھنے کے لئے گئے اس کے والدین کے پاس پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بتایا ہوا حلیہ ان دونوں نے پایا وہ بچہ ایک چادر میں لپٹا ہوا پڑا ہوا تھا اس کی ہلکی ہلکی آواز آرہی تھی ہم نے اس کے والدین کو اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ہم نے تیس سال اس حال میں گزارے کہ ہمارے ہاں کوئی بچہ پیدا نہیں ہوا پھر ہمارے ہاں یہ ایک کانابچہ پیدا ہوا جس کا نقصان زیادہ اور نفع کم ہے جب ہم وہاں سے نکلے تو ہم اس کے پاس سے گزرے وہ کہنے لگا تم لوگ کیا باتیں کررہے تھے ہم نے کہا تم نے وہ باتیں سن لیں ؟ اس نے کہا جی ہاں میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرادل نہیں سوتا وہ ابن صیاد تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20418
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 20419
حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ ، قَالَ : فَجَعَلَ يَتَكَلَّمُ هَاهُنَا مَرَّةً ، وَهَاهُنَا مَرَّةً عِنْدَ كُلِّ قَوْمٍ ، ثُمَّ قَالَ : " أَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟ " قَالَ : فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ غَيْرَ اسْمِهِ ، قَالَ " أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ ؟ " قَالَ : قُلْنَا : بَلَى ، ثُمَّ قَالَ : " أَيُّ شَهْرٍ هَذَا ؟ " قَالَ : فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ غَيْرَ اسْمِهِ ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ : " أَلَيْسَ ذَا الْحِجَّةِ ؟ " قَالَ : قُلْنَا : بَلَى ، ثُمَّ قَالَ : " أَيُّ بَلَدٍ هَذَا ؟ " قَالَ : فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ غَيْرَ اسْمِهِ ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ : " أَلَيْسَ الْبَلْدَةَ الْحَرَامَ ؟ " قَالَ : قُلْنَا : بَلَى ، قَالَ : " فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ ، وَأَمْوَالَكُمْ ، وَأَعْرَاضَكُمْ ، حَرَامٌ عَلَيْكُمْ إِلَى أَنْ تَلْقَوْا رَبَّكُمْ ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا ، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا ، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا " ، ثُمَّ قَالَ : " لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ مِنْكُمْ الْغَائِبَ ، فَلَعَلَّ الْغَائِبَ أَنْ يَكُونَ أَوْعَى لَهُ مِنَ الشَّاهِدِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے موقع پر خطبہ دینے کے لئے اونٹ پر سوار ہوئے ایک آدمی نے اس کی لگام پکڑ لی پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بتاؤ کہ آج کون سا دن ہے ؟ ہم نے عرض کی کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنی دیر خاموش رہے۔ کہ ہم یہ سمجھے کہ شاید نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کا دوسرا نام بتائیں گے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ یوم النحر نہیں ہے ہم نے عرض کیا کیوں نہیں پھر فرمایا یہ کون سا مہینہ ہے ہم نے عرض کی اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنی دیر خاموش رہے کہ ہم یہ سمجھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کا دوسرا نام بتائیں گے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ذی الحجہ کا مہینہ نہیں ہے ہم نے عرض کیا کیوں نہیں پھر فرمایا کہ یہ کون سا شہر ہے ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم حسب سابق خاموش رہے پھر فرمایا کیا یہ شہر حرم نہیں ہے ہم نے عرض کیا کیوں نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری جان اور مال اور عزت آبرو ایک دوسرے کے لئے اسی طرح قابل احترام ہے جیسا کہ اس شہر میں اس مہینے کے اس دن کی حرمت ہے اور عنقریب تم اپنے رب سے ملو گے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کے متعلق پوچھے گا۔ یاد رکھو میرے بعد گمراہ نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ کیا میں نے پیغام الٰہی پہنچا دیا ؟ تم میں سے جو موجود ہے وہ غائبین تک یہ پیغام پہنچا دے کیونکہ بعض اوقات جسے پیغام پہنچایا جاتا ہے وہ سننے والے سے زیادہ محفوظ رکھتا ہے راوی کہتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20419
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 67، م: 1679، وهذا إسناد ضعيف لضعف الأشعث، ولانقطاعه بين ابن سيرين وأبي بكرة
حدیث نمبر: 20420
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ زِيَادٍ الْأَعْلَمِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ ، فَكَبَّرَ ، ثُمَّ أَوْمَأَ إِلَيْهِمْ أَنْ مَكَانَكُمْ ، ثُمَّ دَخَلَ ، فَخَرَجَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ ، فَصَلَّى بِهِمْ ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ ، قَالَ : " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ، وَإِنِّي كُنْتُ جُنُبًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کا آغاز کیا اور تکبیر کہی پھر صحابہ کو اشارہ سے فرمایا کہ اپنی جگہ رہو پھر گھر تشریف لے گئے جب باہر آئے تو سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے پھر نماز پڑھائی اور نماز کے بعد فرمایا کہ میں بھی ایک انسان ہی ہوں مجھ پر غسل واجب تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20420
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، الحسن البصري مدلس، وقد عنعنه
حدیث نمبر: 20421
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں حوض کوثر پر تمہارا انتظار کروں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20421
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، مؤمل وعلي بن زيد ضعيفان
حدیث نمبر: 20422
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ ذَكَرُوا رَجُلًا عِنْدَهُ ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا مِنْ رَجُلٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ مِنْهُ فِي كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَيْحَكَ ، قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ " مِرَارًا يَقُولُ ذَلِكَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ كَانَ أَحَدُكُمْ مَادِحًا أَخَاهُ لَا مَحَالَةَ ، فَلْيَقُلْ أَحْسَبُ فُلَانًا إِنْ كَانَ يَرَى أَنَّهُ كَذَاكَ وَلَا أُزَكِّي عَلَى اللَّهِ أَحَدًا ، وَحَسِيبُهُ اللَّهُ ، أَحْسَبُهُ كَذَا وَكَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں لوگ ایک آدمی کا تذکرہ کررہے تھے ایک آدمی کہنے لگا یا رسول اللہ آپ کے بعد فلاں فلاں عمل میں اس شخص سے زیادہ کوئی افضل معلوم نہیں ہوتا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا افسوس تم نے اپنے ساتھی کی گردن توڑ دی یہ جملہ کئی مرتبہ دہرایا اور فرمایا اگر تم میں سے کسی نے اپنے بھائی کی تعریف ضرور کرنی ہی ہو تو اسے یوں کہنا چاہیے میں یہ سمجھتا ہوں کہ فلاں آدمی اس طرح دکھائی دیتا ہے اور میں اللہ کے سامنے کسی کی پاکی بیان نہیں کرتا اور اس کا حقیقی نگہبان اللہ ہے میں اسے اس اس طرح سمجھتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20422
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6061، م: 3000
حدیث نمبر: 20423
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ الضَّبِّيّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ جَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّمَا بَايَعَكَ سُرَّاقُ الْحَجِيجِ مِنْ أَسْلَمَ وَغِفَارَ وَمُزَيْنَةَ وَأَحْسَبُ جُهَيْنَةَ ، مُحَمَّدٌ الَّذِي يَشُكُّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ أَسْلَمُ وَغِفَارُ وَمُزَيْنَةُ وَأَحْسَبُ جُهَيْنَةَ خَيْرًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ ، وَبَنِي عَامِرٍ ، وَأَسَدٍ ، وَغَطَفَانَ ، أَخَابُوا وَخَسِرُوا " فَقَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُمْ لَأَخْيَرُ مِنْهُمْ ، إِنَّهُمْ لَأَخْيَرُ مِنْهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ اقرع بن حابس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ آپ کی بیعت قبیلہ اسلم، غفار، مزینہ اور غالباً جہینہ کا بھی ذکر کیا کے ان لوگوں نے کی ہے جو حجاج کا سامان چراتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بتاؤ کہ اگر اللہ کے نزدیک جہینہ، اسلم، غفار اور مزینہ قبیلے کے لوگ بنواسد، بنوتمیم، بنوغطفان اور بنوعامر بن صعصعہ سے بہتر ہوں تو وہ نامراد خسارے میں رہیں گے اقرع نے کہا جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے وہ لوگ بنوتمیم، بنوعامر، بنواسد اور بنوغطفان سے بہتر ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20423
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3516، م: 2522
حدیث نمبر: 20424
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا الْمُسْلِمَانِ حَمَلَ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ السِّلَاحَ ، فَهُمَا عَلَى جُرُفِ جَهَنَّمَ ، فَإِذَا قَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ ، دَخَلَاهَا جَمِيعًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب دو مسلمانوں میں سے ایک دوسرے پر اسلحہ اٹھالے تو وہ دونوں جہنم کے کنارے پہنچ جاتے ہیں اور جب ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کردے تو وہ دونوں ہی جہنم میں داخل ہوجاتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20424
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 31، م: 2888
حدیث نمبر: 20425
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَتَانِي جِبْرِيلُ وَمِيكَائِيلُ ، فَقَالَ جِبْرِيلُ : اقْرَأْ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ وَاحِدٍ ، فَقَالَ مِيكَائِيلُ : اسْتَزِدْهُ ، قَالَ : اقْرَأْهُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ ، كُلِّهَا شَافٍ كَافٍ مَا لَمْ تُخْتَمْ آيَةُ رَحْمَةٍ بِعَذَابٍ ، أَوْ آيَةُ عَذَابٍ بِرَحْمَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے پاس حضرت جبرائیل اور میکائیل آئے جبرائیل نے مجھ سے کہا کہ قرآن کریم کو ایک حرف پر پڑھے، میکائیل نے کہا کہ اس میں اضافے کی درخواست کیجیے پھر جبرائیل نے کہا کہ قرآن کریم کو آپ سات حروف پر پڑھ سکتے ہیں جن میں سے ہر ایک کافی شافی ہے بشرطیکہ آیت رحمت کو عذاب سے یا آیت عذاب کو رحمت سے نہ بدل دیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20425
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 20426
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ زِيَادٍ الْأَعْلَمِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِمْ أَنْ مَكَانَكُمْ ، فَذَهَبَ ثُمَّ جَاءَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ ، فَصَلَّى بِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر کا آغاز کیا اور تکبیر کہی پھر صحابہ کو اشارہ کیا کہ اپنی جگہ رہو پھر گھر تشریف لائے جب باہر آئے تو سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے پھر نماز پڑھائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20426
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20427
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ إِنِّي قُمْتُ رَمَضَانَ كُلَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ میں نے سارے رمضان قیام کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20427
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20428
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : أَكْثَرَ النَّاسُ فِي مُسَيْلِمَةَ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ شَيْئًا ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا ، فَقَالَ : " أَمَّا بَعْدُ فَفِي شَأْنِ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي قَدْ أَكْثَرْتُمْ فِيهِ ، وَإِنَّهُ كَذَّابٌ مِنْ ثَلَاثِينَ كَذَّابًا ، يَخْرُجُونَ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ ، وَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ بَلْدَةٍ إِلَّا يَبْلُغُهَا رُعْبُ الْمَسِيحِ ، إِلَّا الْمَدِينَةَ ، عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْ أَنْقَابِهَا مَلَكَانِ ، يَذُبَّانِ عَنْهَا رُعْبَ الْمَسِيحِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مسیلمہ کذاب کے متعلق قبل اس کے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کچھ فرمائیں لوگ بکثرت باتیں کیا کرتے تھے ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور امابعد کہہ کر فرمایا کہ اس شخص کے متعلق تم بکثرت باتیں کررہے ہو یہ ان تیس کذابوں میں سے ایک ہے جو قیامت سے پہلے خروج کریں گے اور کوئی شہر ایسا نہیں ہوگا جہاں دجال کا رعب نہ پہنچے سوائے مدینہ منورہ کہ اس کے ہر سوراخ پر دو فرشتے مقرر ہوں گے جو مدینہ منورہ سے دجال کے رعب کو دور کرتے ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20428
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، واختلف فيه على الزهري، وروى عنه أيضا بزيادة عياض بن مسافع بين طلحة وأبي بكرة، وهو الصواب، وعياض هذا مجهول
حدیث نمبر: 20429
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ : حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرَةَ ، قَالَ : أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَوْمٍ يَتَعَاطَوْنَ سَيْفًا مَسْلُولًا ، فَقَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ مَنْ فَعَلَ هَذَا ، أَوَلَيْسَ قَدْ نَهَيْتُ عَنْ هَذَا ؟ " ثُمَّ قَالَ : " إِذَا سَلَّ أَحَدُكُمْ سَيْفَهُ ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ ، فَأَرَادَ أَنْ يُنَاوِلَهُ أَخَاهُ ، فَلْيُغْمِدْهُ ثُمَّ يُنَاوِلْهُ إِيَّاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی قوم کے پاس پہنچے وہ لوگ ننگی تلواریں ایک دوسرے کو پکڑا رہے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا کرنے والوں پر اللہ کی لعنت ہو کیا میں نے اس سے منع نہیں کیا تھا ؟ پھر فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص تلوار سونتے تو دیکھ لے کہ اگر اپنے کسی بھائی کو پکڑانے کا ارادہ ہو تو اسے نیام میں ڈال کر اسے پکڑائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20429
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20430
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَلِيلِ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ لِأَبِيهِ : يَا أَبَةِ ، إِنِّي أَسْمَعُكَ تَدْعُو كُلَّ غَدَاةٍ : " اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَدَنِي ، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي سَمْعِي ، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَصَرِي ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ " ، تُعِيدُهَا ثَلَاثًا حِينَ تُصْبِحُ ، وَثَلَاثًا حِينَ تُمْسِي ، وَتَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ " ، تُعِيدُهَا حِينَ تُصْبِحُ ثَلَاثًا ، وَثَلَاثًا حِينَ تُمْسِي ، قَالَ : نَعَمْ يَا بُنَيَّ ، إِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِنَّ ، فَأُحِبُّ أَنْ أَسْتَنَّ بِسُنَّتِهِ . قَالَ : وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دَعَوَاتُ الْمَكْرُوبِ : اللَّهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو ، فَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ ، أَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے اپنے والد سے کہا کہ اباجان ! میں آپ کو روزانہ یہ دعا کرتے ہوئے سنتا ہوں اے اللہ مجھے اپنے بدن میں عافیت عطا فرما اے اللہ مجھے اپنی سماعت میں عافیت عطا فرما اے اللہ مجھے اپنی بصارت میں عافیت عطا فرما تیرے علاوہ کوئی اور معبود نہیں ہے آپ یہ کلمات تین مرتبہ صبح دہراتے ہیں اور تین مرتبہ شام کو نیز آپ یہ بھی کہتے ہیں اے اللہ میں کفر اور فقر سے آپ کی پناہ میں آتاہوں اے اللہ میں عذاب قبر سے آپ کی پناہ میں آتاہوں آپ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے آپ یہ کلمات تین مرتبہ صبح دہراتے اور تین مرتبہ شام کو دہراتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا ہاں بیٹا ! میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا ہے اس لئے مجھے ان کی سنت پر عمل کرنا زیادہ پسند ہے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پریشانیوں میں گھرے ہوئے آدمی کی دعاء یہ ہے اے اللہ میں تیری رحمت کی امید رکھتا ہوں لہذا تو مجھے ایک لمحے کے لئے بھی میرے نفس کے حوالے نہ کر اور میرے تمام معاملات کی اصلاح فرماتیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20430
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن فى المتابعات والشواهد لأجل جعفر بن ميمون
حدیث نمبر: 20431
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الشَّحَّامُ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ سَاجِدٍ ، وَهُوَ يَنْطَلِقُ إِلَى الصَّلَاةِ ، فَقَضَى الصَّلَاةَ وَرَجَعَ عَلَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَنْ يَقْتُلُ هَذَا ؟ " فَقَامَ رَجُلٌ فَحَسَرَ عَنْ يَدَيْهِ ، فَاخْتَرَطَ سَيْفَهُ وَهَزَّهُ ، ثُمَّ قَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، كَيْفَ أَقْتُلُ رَجُلًا سَاجِدًا يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ؟ ! ثُمَّ قَالَ : " مَنْ يَقْتُلُ هَذَا ؟ ! " فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : أَنَا فَحَسَرَ عَنْ ذِرَاعَيْهِ ، وَاخْتَرَطَ سَيْفَهُ وَهَزَّهُ حَتَّى أُرْعِدَتْ يَدُهُ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، كَيْفَ أَقْتُلُ رَجُلًا سَاجِدًا ، يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ؟ ! فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَوْ قَتَلْتُمُوهُ ، لَكَانَ أَوَّلَ فِتْنَةٍ وَآخِرَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے جا رہے تھے کہ راستے میں ایک آدمی کے پاس سے گزر ہوا جو سجدے میں پڑا ہوا تھا جب نماز پڑھ کر واپس آئے تب بھی وہ سجدے میں ہی تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہیں کھڑے ہوگئے اور فرمایا اسے کون قتل کرے گا ؟ ایک آدمی تیار ہوا اس نے بازو اوپر چڑھائے اور تلوار ہلاتا ہوا چلا پھر کہنے لگا کہ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میں سجدے میں پڑے ہوئے اس آدمی کو کیسے قتل کروں جو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں محمد اس کے بندے اور رسول ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا اسے کون قتل کرے گا اس پر دوسرا آدمی تیار ہوا اس نے بھی اپنے بازو چڑھائے اور تلوارہلاتا ہوا چلا آیا لیکن اس کے ہاتھ بھی کانپنے لگے اور وہ بھی کہنے لگا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں اس شخص کو کیسے قتل کروں جو اللہ کی وحدانیت اور محمد کی بندگی و رسالت کی گواہی دیتا ہو ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذا ات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے اگر تم اسے قتل کردیتے تو یہ پہلا اور آخری فتنہ ہوتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20431
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: في متن الحديث نكارة، وقد تفرد به مسلم بن أبى بكرة عن أبيه، وعثمان تعرف وتنكر
حدیث نمبر: 20432
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " صُومُوا الْهِلَالَ لِرُؤْيَتِهِ ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ ، وَالشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا " ، وَعَقَدَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چاند دیکھ کر روزہ رکھا کرو اور چاند دیکھ کر عید منایا کرو اگر کسی دن ابر چھا جائے تو تیس کی گنتی پوری کرو اور مہینہ اتنا ' اور اتنا بھی ہوتا ہے تیسری مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلی کو بند کرلیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20432
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن البصري مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20433
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مِهْرَانَ ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ كُسَيْبٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ أَكْرَمَ سُلْطَانَ اللَّهِ فِي الدُّنْيَا ، أَكْرَمَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ أَهَانَ سُلْطَانَ اللَّهِ فِي الدُّنْيَا ، أَهَانَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص دنیا میں اللہ کے مقرر کردہ بادشاہ کی عزت کرتا ہے اللہ قیامت کے دن اس کی تکریم فرمائے گا اور جو دنیا میں اللہ کے مقرر کردہ بادشاہوں کی توہین کرتا ہے اللہ قیامت کے دن اسے رسوا کرے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20433
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، سعد بن أوس فيه ضعف، وزياد مجهول
حدیث نمبر: 20434
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ بِلَالِ بْنِ بُقْطُرَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدَنَانِيرَ ، فَجَعَلَ يَقْبِضُ قَبْضَةً قَبْضَةً ، ثُمَّ يَنْظُرُ عَنْ يَمِينِهِ كَأَنَّهُ يُؤَامِرُ أَحَدًا مَنْ يُعْطِي ؟ قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ : يُؤَامِرُ أَحَدًَا ، ثُمَّ يُعْطِي وَرَجُلٌ أَسْوَدُ مَطْمُومٌ ، عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَبْيَضَانِ ، بَيْنَ عَيْنَيْهِ أَثَرُ السُّجُودِ ، فَقَالَ : مَا عَدَلْتَ فِي الْقِسْمَةِ ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ : " مَنْ يَعْدِلُ عَلَيْكُمْ بَعْدِي ؟ ! " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا نَقْتُلُهُ ؟ فَقَالَ : " لَا " ، ثُمَّ قَالَ لِأَصْحَابِهِ : " هَذَا وَأَصْحَابُهُ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، لَا يَتَعَلَّقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ بِشَيْءٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہیں سے کچھ دینار آئے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہ تقسیم فرما رہے تھے وہاں ایک سیاہ فام آدمی بھی تھا جس کے بال کٹے ہوئے تھے اس نے دو سفید کپڑے پہن رکھے تھے اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان (پیشانی پر) سجدے کے نشان تھے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا اور کہنے لگا کہ بخدا اے محمد آج آپ جب سے تقسیم کر رہے ہیں آپ نے انصاف نہیں کیا اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شدید غصہ آگیا اور فرمایا کہ واللہ میرے بعد تم مجھ سے زیادہ عادل کسی کو نہ پاؤگے صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا ہم اسے قتل نہ کردیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر فرمایا یہ اور اس کے ساتھی دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20434
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة بلال بن بقطر، وفي حفظ عطاء كلام خفيف
حدیث نمبر: 20435
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا بَشَّارٌ الْخَيَّاطُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ أَبِي بَكْرَةَ يُحَدِّثُ ، أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ جَاءَ ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاكِعٌ ، فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَ نَعْلِ أَبِي بَكْرَةَ وَهُوَ يَحْضُرُ يُرِيدُ أَنْ يُدْرِكَ الرَّكْعَةَ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ السَّاعِي ؟ " قَالَ أَبُو بَكْرَةَ : أَنَا ، قَالَ : " زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کی جوتی کی آواز سنی وہ دوڑ کر رکوع کو حاصل کرنا چاہ رہے تھے نماز سے فارغ ہو کرنی نے پوچھا کون دوڑرہا تھا ؟ انہوں نے اپنے آپ کو پیش کردیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اللہ تمہاری دینی حرص میں اضافہ کرے آئندہ ایسا نہ کرنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20435
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، بشار الخياط فيه ضعف، وظاهر الاسناد مرسل
حدیث نمبر: 20436
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ سُلَيْمٍ الْمِنْقَرِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا يُحَدِّثُ ، عَمْرَو بْنَ عُثْمَانَ وَأَنَا شَاهِدٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرَةَ يُحَدِّثُ ، أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ حَدَّثَهُمْ ، أَنَّهُ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ وَاقِفًا ، إِذْ جَاءُوا بِامْرَأَةٍ حُبْلَى ، فَقَالَتْ : إِنَّهَا زَنَتْ أَوْ بَغَتْ فَارْجُمْهَا ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْتَتِرِي بِسِتْرِ اللَّهِ " ، فَرَجَعَتْ ، ثُمَّ جَاءَتِ الثَّانِيَةَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ ، فَقَالَتْ : ارْجُمْهَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، فَقَالَ : " اسْتَتِرِي بِسِتْرِ اللَّهِ " ، فَرَجَعَتْ ، ثُمَّ جَاءَتِ الثَّالِثَةَ وَهُوَ وَاقِفٌ ، حَتَّى أَخَذَتْ بِلِجَامِ بَغْلَتِهِ ، فَقَالَتْ : أَنْشُدُكَ اللَّهَ إِلَّا رَجَمْتَهَا ، فَقَالَ : " اذْهَبِي حَتَّى تَلِدِي " ، فَانْطَلَقَتْ فَوَلَدَتْ غُلَامًا ، ثُمَّ جَاءَتْ فَكَلَّمَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ لَهَا : " اذْهَبِي فَتَطَهَّرِي مِنَ الدَّمِ " فَانْطَلَقَتْ ثُمَّ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : إِنَّهَا قَدْ تَطَهَّرَتْ ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسْوَةً فَأَمَرَهُنَّ أَنْ يَسْتَبْرِئْنَ الْمَرْأَةَ ، فَجِئْنَ وَشَهِدْنَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطُهْرِهَا ، فَأَمَرَ لَهَا بِحُفَيْرَةٍ إِلَى ثَنْدُوَتِهَا ، ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمُونَ ، فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَصَاةً مِثْلَ الْحِمَّصَةِ فَرَمَاهَا ، ثُمَّ مَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ لِلْمُسْلِمِينَ : " ارْمُوهَا ، وَإِيَّاكُمْ وَوَجْهَهَا " ، فَلَمَّا طَفِئَتْ أَمَرَ بِإِخْرَاجِهَا ، فَصَلَّى عَلَيْهَا ، ثُمَّ قَالَ : " لَوْ قُسِّمَ أَجْرُهَا بَيْنَ أَهْلِ الْحِجَازِ وَسِعَهُمْ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر پر سوار تھے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے کہ لوگ ایک حاملہ عورت کو لے کر آئے وہ کہنے لگی کہ اس نے بدکاری کا گناہ کیا ہے لہذا اسے رجم کیا جائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اللہ کی پردہ پوشی سے فائدہ اٹھاؤ وہ واپس چلی گئی تھوڑی دیر بعد وہ دوبارہ آئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خچر پر ہی تھے اس نے پھر عرض کیا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے رجم کردیجیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی جواب دیا جب وہ تیسری مرتبہ آئی تو اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خچر کی لگام پکڑ لی اور کہنے لگی کہ میں آپ کو اللہ کی قسم دیتی ہوں کہ آپ مجھے رجم کردیجیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا جاؤ یہاں تک کہ بچہ پیدا ہوجائے۔ وہ چلی گئی بچہ پیدا ہوگیا اور وہ دوبارہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بات چیت کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہاں تک کہ دم نفاس سے پاک ہوجاؤ وہ چلی گئی کچھ عرصے بعد دوبارہ آئی اور کہنے لگی کہ وہ پاک ہوگئی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ خواتین کو بلایا اور انہیں اس کی پاکی کے معاملے میں تسلی کرنے کا حکم دیا انہوں نے آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گواہی دی کہ یہ پاک ہوگئی چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سینے تک ایک گڑھا کھودنے کا حکم دیا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے ساتھ تشریف لائے اور چنے کے دانے کے برابر ایک کنکری پکڑ کر اسے ماری اور واپس چلے گئے اور مسلمانوں سے کہہ دیا کہ اب تم اس پر پتھر مارو لیکن چہرے پر مارنے سے گریز کرنا جب وہ ٹھنڈی ہوگئی تو اسے نکالنے کا حکم دیا اور اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور فرمایا کہ اگر اس کا ثواب تمام اہل حجاز پر تقسیم کردیا جائے تو وہ ان سب کو کافی ہوجائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20436
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن عبدالرحمن بن أبى بكرة لكن أصل القصة صحيح
حدیث نمبر: 20437
حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا أَبُو عِمْرَانَ الْبَصْرِيّ ، قَالَ : سَمِعْتُ شَيْخًا يُحَدِّثُ عَمْرَو بْنَ عُثْمَانَ الْقُرَشِيَّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فَكَفَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " لَوْ قُسِّمَ أَجْرُهَا بَيْنَ أَهْلِ الْحِجَازِ لَوَسِعَهُمْ ".
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20437
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن عبدالرحمن بن أبى بكرة
حدیث نمبر: 20438
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ فَارِسَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّ رَبِّي قَدْ قَتَلَ رَبَّكَ " يَعْنِي كِسْرَى ، قَالَ : وَقِيلَ لَهُ يَعْنِي لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ قَدْ اسْتُخْلِفَ ابْنَتَهُ ، قَالَ : فَقَالَ : " لَا يُفْلِحُ قَوْمٌ تَمْلِكُهُمْ امْرَأَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایران سے ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا میرے رب نے تمہارے رب یعنی کسری کو قتل کردیا ہے اسی دوران کسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ اب اس کی بیٹی کو اس کا جانشین بنایا گیا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ قوم کبھی کام یاب نہیں ہوسکتی جو اپنے معاملات ایک عورت کے حوالے کردے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20438
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، الحسن البصري مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20439
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ ، وَيُونُسُ ، وَأَيُّوبُ ، وَهِشَامٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ الْأَحْنَفِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا ، فَقَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ ، فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ " ، قِيلَ : هَذَا الْقَاتِلُ ، فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ ؟ ! قَالَ : " قَدْ أَرَادَ قَتْلَ صَاحِبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب دو مسلمان تلواریں لے کر ایک دوسرے کے سامنے آجائیں اور ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کردیں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ قاتل کی بات تو سمجھ میں آتی ہے مقتول کا کیا معاملہ ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنا چاہتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20439
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 31، م: 2888، وهذا إسناد ضعيف، مؤمل سيئ الحفظ لكنه توبع
حدیث نمبر: 20440
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سُلَيْمَانَ الْعَصَرِيَّ ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ صُهْبَانَ ، قَالَ : سَمِعْتْ أَبَا بَكْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يُحْمَلُ النَّاسُ عَلَى الصِّرَاطِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَتَقَادَعُ بِهِمْ جَنَبَتَا الصِّرَاطِ تَقَادُعَ الْفَرَاشِ فِي النَّارِ " ، قَالَ : " فَيُنْجِي اللَّهُ بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ " ، قَالَ : " ثُمَّ يُؤْذَنُ لِلْمَلَائِكَةِ وَالنَّبِيِّينَ وَالشُّهَدَاءِ أَنْ يَشْفَعُوا ، فَيَشْفَعُونَ وَيُخْرِجُونَ ، وَيَشْفَعُونَ وَيُخْرِجُونَ ، وَيَشْفَعُونَ وَيُخْرِجُونَ " ، وَزَادَ عَفَّانُ مَرَّةً ، فَقَالَ أَيْضًا : " وَيَشْفَعُونَ وَيُخْرِجُونَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مَا يَزِنُ ذَرَّةً مِنْ إِيمَانٍ " ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ . . . مِثْلَهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن لوگوں کو پل صراط پر سوار کیا جائے گا وہ اس کے دونوں کناروں سے اس طرح جہنم میں گریں گے کہ جیسے شمع کے پروانے گرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا اپنی رحمت سے نجات دے گا پھر نبیوں اور فرشتوں اور شہیدوں کو سفارش کی اجازت ملے گی چنانچہ وہ کئی مرتبہ سفارش کرینگے اور بالآخر جہنم سے ہر اس آدمی کو نکال لیا جائے گا جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر بھی ایمان ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20440
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20441
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ رُعْبُ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ ، لَهَا يَوْمَئِذٍ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ ، عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْهَا مَلَكَانِ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ منورہ میں دجال کا رعب داخل نہ ہوسکے گا۔ اس وقت مدینہ منورہ کے سات دروازے ہونگے اور ہر دروازے پر دو فرشتے ہونگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20441
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: تحت حديث: 7126، تعليقا
حدیث نمبر: 20442
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20442
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1879
حدیث نمبر: 20443
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ ؟ قَالَ : " مَنْ طَالَ عُمْرُهُ وَحَسُنَ عَمَلُهُ " ، قَالَ : فَأَيُّ النَّاسِ شَرٌّ ؟ قَالَ : " مَنْ طَالَ عُمْرُهُ وَسَاءَ عَمَلُهُ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ کون سا انسان سب سے بہتر ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور عمل اچھا ہو سائل نے پوچھا کہ سب سے بدترین انسان کون ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور اس کا عمل برا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20443
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 20444
حَدَّثَنَا يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ يُونُسَ ، وَحُمَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ.
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20444
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف الحسن البصري مدلس، وقد عنعن، لكنه توبع
حدیث نمبر: 20445
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : وَفَدْتُ مَعَ أَبِي إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، فَأُدْخِلْنَا عَلَيْهِ ، فَقَالَ : يَا أَبَا بَكْرَةَ ، حَدِّثْنِي بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ ، وَيَسْأَلُ عَنْهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ " أَيُّكُمْ رَأَى رُؤْيَا ؟ " فَقَالَ : رَجُلٌ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَأَيْتُ كَأَنَّ مِيزَانًا دُلِّيَ مِنَ السَّمَاءِ ، فَوُزِنْتَ أَنْتَ بِأَبِي بَكْرٍ ، فَرَجَحْتَ بِأَبِي بَكْرٍ ، ثُمَّ وُزِنَ أَبُو بَكْرٍ بِعُمَرَ ، فَرَجَحَ أَبُو بَكْرٍ بِعُمَرَ ، ثُمَّ وُزِنَ عُمَرُ بِعُثْمَانَ ، فَرَجَحَ عُمَرُ بِعُثْمَانَ ، ثُمَّ رُفِعَ الْمِيزَانُ ، فَاسْتَاءَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " خِلَافَةُ نُبُوَّةٍ ، ثُمَّ يُؤْتِي اللَّهُ الْمُلْكَ مَنْ يَشَاءُ " ، قَالَ عَفَّانُ فِيهِ فَاسْتَآلَهَا ، وَقَالَ حَمَّادٌ : فَسَاءَهُ ذَلِكَ.
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن ابی بکرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ساتھ حضرت امیر معاویہ کی خدمت میں حاضر ہوا ہم ان کے پاس پہنچے تو انہوں نے فرمایا اے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ مجھے کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے خود سنی ہو ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نیک خواب بہت اچھے لگتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے متعلق پوچھتے رہتے تھے چنانچہ حسب معمول ایک دن پوچھا کہ تم میں سے کوئی کسی نے خواب دیکھا ہے ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ میں نے دیکھا ہے میں نے دیکھا کہ آسمان سے ایک ترازو لٹکایا گیا جس میں آپ کا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے وزن کیا گیا تو آپ کا پلڑا جھک گیا پھر ابوبکر کا عمر سے وزن کیا گیا تو ابوبکر کا پلڑا جھک گیا پھر عمر کا عثمان سے کیا گیا تو عمر کا پلڑا جھک گیا پھر وہ ترازو اٹھا لیا گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت پر یہ خواب بوجھ بنا اور فرمایا اس سے خلافت نبوت کی طرف اشارہ ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا حکومت دے دے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20445
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 20446
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الشَّحَّامُ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، وَسَأَلَهُ هَلْ سَمِعْتَ فِي الْخَوَارِجِ مِنْ شَيْءٍ ؟ فَقَالَ : سَمِعْتُ وَالِدِي أَبَا بَكْرَةَ ، يَقُولُ : عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَلَا إِنَّهُ سَيَخْرُجُ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ أَشِدَّاءُ أَحِدَّاءُ ، ذَلِيقَةٌ أَلْسِنَتُهُمْ بِالْقُرْآنِ ، لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ ، أَلَا فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَأَنِيمُوهُمْ ، ثُمَّ إِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَأَنِيمُوهُمْ ، فَالْمَأْجُورُ قَاتِلُهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے بعد میری امت میں ایک ایسی قوم بھی آئے گی جو بہت تیز اور سخت ہوگی قرآن تو پڑھے گی لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا جب جب تمہارا ان سے سامنا ہو تب تب تم انہیں قتل کرنا کہ ان کے قاتل کو اجروثواب دیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20446
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 20447
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الشَّحَّامُ ، حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنَّهُ مَرَّ بِوَالِدِهِ وَهُوَ يَدْعُو وَيَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ " ، قَالَ : فَأَخَذْتُهُنَّ عَنْهُ ، وَكُنْتُ أَدْعُو بِهِنَّ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ، قَالَ : فَمَرَّ بِي وَأَنَا أَدْعُو بِهِنَّ ، فَقَالَ : يَا بُنَيَّ ، أَنَّى عَقَلْتَ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ ؟ قَالَ : يَا أَبَتَاهُ ، سَمِعْتُكَ تَدْعُو بِهِنَّ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ، فَأَخَذْتُهُنَّ عَنْكَ ، قَالَ : فَالْزَمْهُنَّ يَا بُنَيَّ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو بِهِنَّ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ .
مولانا ظفر اقبال
مسلم بن ابی بکرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ اپنے والد کے پاس سے گذرے جو یہ دعا کررہے تھے کہ اے اللہ میں فقر کفر اور عذاب سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں میں نے یہ دعا یاد کرلی اور ہر نماز کے بعد اسے مانگنے لگا ایک دن والد صاحب میرے پاس سے گذرے تو میں یہی دعا مانگ رہا تھا انہوں نے مجھ سے پوچھا بیٹا تم نے یہ کلمات کہاں سے سیکھے ہیں میں نے کہا اے اباجان میں نے آپ کو ہر نماز کے بعد یہ دعا مانگتے ہوئے سنا تھا لہذا میں نے بھی اسے یاد کرلیا تھا انہوں نے فرمایا بیٹا ان کلمات کو لازم پکڑلو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہر نماز کے بعد یہ دعا مانگتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20447
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 20448
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ ، وَكَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَثِبُ عَلَى ظَهْرِهِ إِذَا سَجَدَ ، فَفَعَلَ ذَلِكَ غَيْرَ مَرَّةٍ ، فَقَالُوا لَهُ : وَاللَّهِ إِنَّكَ لَتَفْعَلُ بِهَذَا شَيْئًا مَا رَأَيْنَاكَ تَفْعَلُهُ بِأَحَدٍ ، قَالَ الْمُبَارَكُ : فَذَكَرَ شَيْئًا ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ ، وَسَيُصْلِحُ اللَّهُ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ " ، فَقَالَ الْحَسَنُ فَوَاللَّهِ وَاللَّهِ ، بَعْدَ أَنْ وَلِيَ لَمْ يُهْرَقْ فِي خِلَافَتِهِ مِلْءُ مِحْجَمَةٍ مِنْ دَمٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ایک مرتبہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے جب سجدے میں جاتے تو امام حسن کود کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر سوار ہوجاتے انہوں نے کئی مرتبہ ایسا کیا اس پر کچھ لوگ کہنے لگے آپ اس بچے کے ساتھ جو سلوک کرتے ہیں وہ ہم نے آپ کو کسی دوسرے کے ساتھ ایسا نہیں کرتے ہوئے دیکھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا یہ بیٹا سردار ہے اور اللہ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا حسن کہتے ہیں کہ واللہ ان کے خلیفہ بننے کے بعد ایک سینگی میں آنے والی مقدار کا خون بھی نہیں بہایا گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20448
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2704، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20449
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَلَا لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " ، وَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ : " ضُلَّالًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بعد گمراہ یا کافر نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20449
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 67، م: 1679، وفي الإسناد الأول الحسن البصري وهو مدلس، وقد عنعنه، وفي الإسناد الثاني سماع محمد بن سيرين من أبى بكرة لم يثبت
حدیث نمبر: 20450
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَوْلًى لِآلِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ يُكَنَّى أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ أَبِي الْحَسَنِ الْبَصْرِيّ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنَّهُ دُعِيَ إِلَى شَهَادَةٍ مَرَّةً ، فَجَاءَ إِلَى الْبَيْتِ ، فَقَامَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِهِ ، فَقَالَ : " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ مِنْ مَجْلِسِهِ أَنْ يَجْلِسَ فِيهِ ، وَأَنْ يَمْسَحَ الرَّجُلُ يَدَهُ بِثَوْبِ مَنْ لَا يَمْلِكُ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کو کسی معاملے میں گواہی کے لئے بلایا گیا وہ تشریف لائے تو ایک آدمی اپنی جگہ سے کھڑا ہوا حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھ کر فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی آدمی اپنی جگہ سے کھڑا ہو اور دوسرا اس کی جگہ پر بیٹھ جائے اور اس بات سے بھی کہ انسان ایسے کپڑے سے ہاتھ پونچھے جس کا وہ مالک نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20450
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أبى عبدالله مولى آل أبى موسى
حدیث نمبر: 20451
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا الْحَشْرَجُ بْنُ نُبَاتَةَ الْقَيْسِيُّ الْكُوفِيُّ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، حَدَّثَنِي أَبِي فِي هَذَا الْمَسْجِدِ يَعْنِي مَسْجِدَ الْبَصْرَةِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَتَنْزِلَنَّ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي أَرْضًا يُقَالُ لَهَا الْبُصَيْرَةُ ، يَكْثُرُ بِهَا عَدَدُهُمْ ، وَيَكْثُرُ بِهَا نَخْلُهُمْ ، ثُمَّ يَجِيءُ بَنُو قَنْطُورَاءَ ، عِرَاضُ الْوُجُوهِ صِغَارُ الْعُيُونِ ، حَتَّى يَنْزِلُونَ عَلَى جِسْرٍ لَهُمْ يُقَالُ لَهُ : دِجْلَةُ ، فَيَتَفَرَّقُ الْمُسْلِمُونَ ثَلَاثَ فِرَقٍ فَأَمَّا فِرْقَةٌ ، فَيَأْخُذُونَ بِأَذْنَابِ الْإِبِلِ وَتَلْحَقُ بِالْبَادِيَةِ ، وَهَلَكَتْ ، وَأَمَّا فِرْقَةٌ فَتَأْخُذُ عَلَى أَنْفُسِهَا ، فَكَفَرَتْ ، فَهَذِهِ وَتِلْكَ سَوَاءٌ ، وَأَمَّا فِرْقَةٌ فَيَجْعَلُونَ عِيَالَهُمْ خَلْفَ ظُهُورِهِمْ وَيُقَاتِلُونَ ، فَقَتْلَاهُمْ شُهَدَاءُ ، وَيَفْتَحُ اللَّهُ عَلَى بَقِيَّتِهَا " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا میری امت میں سے ایک گروہ ایک علاقے میں اترے گا جس کا نام بصرہ ہے اس کے ایک جانب دجلہ نہر بہتی ہے کثیر باغات والا علاقہ ہے وہاں بنوقنطوراء ( ترک) آ کر اتریں گے تو لوگ تین گروہ میں تقسیم ہوجائیں گے ایک گروہ تو اپنی اصل سے جا ملے گا یہ ہلاک ہوگا ایک گروہ اپنے اوپر زیادتی کرکے کفر کرے گا اور ایک گروہ اپنے بچوں کو پس پشت رکھ قتال کرے گا ان کے مقتولین شہید ہوں گے اور ان ہی کے بقیہ لوگوں کے ہاتھوں مسلمانوں کی فتح ہوگی۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20451
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: ضعيف، و متنه منكر، لا يحتمل تفرد سعيد بن جمهان بمثل هذا المتن، وقد اضطرب فى تعيين تابعيه
حدیث نمبر: 20452
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا حَشْرَجٌ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَوْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي فِي هَذَا الْمَسْجِدِ يَعْنِي مَسْجِدَ الْبَصْرَةِ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20452
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: ضعيف، ومتنه منكر، لا يحتمل تفرد سعيد بن جمهان بمثل هذا المتن، وقد اضطرب فى تعيين تابعيه