حدیث نمبر: 20373
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ، حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ مَرَّار ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرَةَ ، قَالَ : بَيْنَا أَنَا أُمَاشِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ آخِذَ بِيَدِي وَرَجُلٌ عَنْ يَسَارِهِ ، فَإِذَا نَحْنُ بِقَبْرَيْنِ أَمَامَنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ ، وَبَلَى ، فَأَيُّكُمْ يَأْتِينِي بِجَرِيدَةٍ ؟ " فَاسْتَبَقْنَا ، فَسَبَقْتُهُ ، فَأَتَيْتُهُ بِجَرِيدَةٍ ، فَكَسَرَهَا نِصْفَيْنِ ، فَأَلْقَى عَلَى ذَا الْقَبْرِ قِطْعَةً ، وَعَلَى ذَا الْقَبْرِ قِطْعَةً ، وَقَالَ : " إِنَّهُ يُهَوَّنُ عَلَيْهِمَا مَا كَانَتَا رَطْبَتَيْنِ وَمَا يُعَذَّبَانِ إِلَّا فِي الْبَوْلِ وَالْغِيبَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ تھاما ہوا تھا اور ایک آدمی بائیں جانب بھی تھا اچانک ہمارے سامنے دو قبریں آگئیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان دونوں مردوں کو عذاب ہورہا ہے اور کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں ہورہا۔ تم میں سے کون میرے پاس ایک ٹہنی لے کر آئے گا ہم دوڑ پڑے میں اس پر سبقت کرگیا اور ایک ٹہنی لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دو حصوں میں تقسیم کردیا اور ہر قبر پر ایک ایک ٹکڑا رکھ دیا اور فرمایا جب تک یہ دونوں سرسبز رہیں گے ان پر عذاب میں تخفیف رہے گی۔ اور ان دونوں کو عذاب صرف پیشاب اور غیبت کے معاملے میں ہورہا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20373
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 20374
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، وَوَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُيَيْنَةُ ، وَيَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا عُيَيْنَةُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ ذَنْبٍ أَحْرَى أَنْ يُعَجِّلَ لِصَاحِبِهِ الْعُقُوبَةَ ، مَعَ مَا يُؤَخَّرُ لَهُ فِي الْآخِرَةِ ، مِنْ بَغْيٍ أَوْ قَطِيعَةِ رَحِمٍ " ، قَالَ وَكِيعٌ : " أَنْ يُعَجِّلَ اللَّهُ " ، وَقَالَ يَزِيدُ : " يُعَجِّلُ اللَّهُ " ، وَقَالَ : " مَعَ مَا يُدَّخَرُ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سرکشی اور قطع رحمی سے بڑھ کر کوئی ایسا گناہ نہیں ہے کہ آخرت کے عذاب کے ساتھ اس گناہ گار کو دنیا میں بھی فوری سزا دی جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20374
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20375
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُيَيْنَةَ ، وَوَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : " لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّا لَنَكَادُ أَنْ نَرْمُلَ بِهَا " ، قَالَ وَكِيعٌ : " أَنْ نَرْمُلَ بِالْجِنَازَةِ رَمَلًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے وہ وقت دیکھا ہے کہ جب ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جنازے میں تیز تیز چل رہے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20375
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20376
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عُيَيْنَةُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ، لِتِسْعٍ يَبْقَيْنَ ، أَوْ لِسَبْعٍ يَبْقَيْنَ ، أَوْ لِخَمْسٍ ، أَوْ لِثَلَاثٍ ، أَوْ آخِرِ لَيْلَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کیا کرو اکیسویں شب، تئیسویں شب، پچیس ویں شب یا ستائیسویں شب یا آخری رات میں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20376
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20377
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عُيَيْنَةُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا فِي غَيْرِ كُنْهِهِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ " ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : كُنْهُهُ حَقٌّ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی معاہد کو ناحق قتل کردے اللہ اس پر جنت حرام قرار دے دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20377
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20378
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا أَبُو عِمْرَانَ شَيْخٌ بَصْرِيٌّ ، قَالَ : سَمِعْتُ شَيْخًا يُحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَجَمَ امْرَأَةً فَحَفَرَ لَهَا إِلَى الثَّنْدُوَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت پر رجم کی سزا جاری فرمائی تو اس کے لئے سینے تک گڑھا کھدوایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20378
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الشيخ الراوي عن ابن أبى بكرة
حدیث نمبر: 20379
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ كَتَبَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَقْضِي الْحَاكِمُ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کوئی حاکم دو آدمیوں کے درمیان غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20379
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7158، م: 1717
حدیث نمبر: 20380
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الرَّاسِبِيُّ ، عَنْ مَوْلًى لِأَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ذَنْبَانِ مُعَجَّلَانِ لَا يُؤَخَّرَانِ : الْبَغْيُ ، وَقَطِيعَةُ الرَّحِمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دو گناہ ایسے ہیں جن کی سزا فوری دی جاتی ہے اس میں تاخیر نہیں کی جاتی سرکشی اور قطع رحمی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20380
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، مولى أبى بكرة - هو سعد - مجهول، وقد اختلف فيه على محمد بن عبدالعزيز
حدیث نمبر: 20381
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ الشَّحَّامُ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِِنَ الْكُفْرِ ، وَالْفَقْرِ ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرماتے تھے کہ اے اللہ میں کفر، فقر اور عذاب قبر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20381
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 20382
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ أَبُو سَلَمَةَ الشَّحَّامُ ، حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَيَخْرُجُ قَوْمٌ أَحْدَاثٌ أَحِدَّاءُ أَشِدَّاءُ ، ذَلِيقَةٌ أَلْسِنَتُهُمْ بِالْقُرْآنِ ، يَقْرَءُونَهُ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ ، فَأَنِيمُوهُمْ ، ثُمَّ إِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ ، فَإِنَّهُ يُؤْجَرُ قَاتِلُهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے بعد میری امت میں ایک قوم ایسی بھی آئے گی جو بہت تیز اور سخت ہوگی قرآن تو پڑھے گی لیکن وہ حلق سے نیچے نہیں اترے گا جب تمہارا ان سے سامنا ہوگا تب تب تم انہیں قتل کرنا۔ کہ ان کے قاتل کو اجروثواب دیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20382
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 20383
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ ثُرْمُلَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهَدَةً بِغَيْرِ حِلِّهَا ، حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ أَنْ يَجِدَ رِيحَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی معاہد کو ناحق قتل کردے اللہ اس کی جنت کو مہک حرام قرار دے دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20383
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20384
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ جُهَيْنَةُ وَأَسْلَمُ وَغِفَارُ وَمُزَيْنَةُ خَيْرًا عِنْدَ اللَّهِ مِنْ بَنِي أَسَدٍ ، وَمِنْ بَنِي تَمِيمٍ ، وَمِنْ بَنِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَطَفَانَ ، وَمِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ " ، فَقَالَ رَجُلٌ : قَدْ خَابُوا وَخَسِرُوا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُمْ خَيْرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ ، وَمِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ ، وَمِنْ بَنِي أَسَدٍ ، وَمِنْ بَنِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَطَفَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ بتاؤ کہ اگر اللہ کے نزدیک جہینہ، اسلم، غفار اور مزینہ قبیلے کے لوگ بنواسد اور بنوتمیم، بنوغطفان اور بنوعامر بن صعصعہ سے بہتر ہوں تو ان میں ایک آدمی نے عرض کیا وہ نامراد اور خسارے میں رہیں گے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ لوگ بنوتمیم اور بنوعامر اور بنواسد اور بنوغطفان سے بہتر ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20384
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3515، م: 2522
حدیث نمبر: 20385
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ مَرَّةً كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ ؟ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ . . . " قَالَ : وَذُكِرَ الْكَبَائِرُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ " ، وَكَانَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ وَقَالَ : " وَشَهَادَةُ الزُّورِ ، وَشَهَادَةُ الزُّورِ ، وَشَهَادَةُ الزُّورِ " أَوْ " قَوْلُ الزُّورِ ، وَشَهَادَةُ الزُّورِ " ، فَمَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَرِّرُهَا ، حَتَّى قُلْنَا : لَيْتَهُ سَكَتَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ کبیرہ گناہوں کا تذکرہ چل پڑا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے بڑا کبیرہ گناہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹیک لگائی ہوئی تھی سیدھے ہو کر بیٹھے پھر کئی مرتبہ فرمایا جھوٹی گواہ جھوٹی بات یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی مرتبہ فرمائی کہ ہم سوچنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوجاتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20385
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2654، م: 87
حدیث نمبر: 20386
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ فِي حَجَّتِهِ ، فَقَالَ : " أَلَا إِنَّ الزَّمَانَ قَدْ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ، السَّنَةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا ، مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ، ثَلَاثٌ مُتَوَالِيَاتٌ ذُو الْقَعْدَةِ ، وَذُو الْحِجَّةِ ، وَالْمُحَرَّمُ ، وَرَجَبُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ " ، ثُمَّ قَالَ : " أَلَا أَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟ " قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ ، قَالَ : " أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ ؟ " قُلْنَا : بَلَى ، ثُمَّ قَالَ : " أَيُّ شَهْرٍ هَذَا ؟ " قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ ، فَقَالَ : أَلَيْسَ ذَا الْحِجَّةِ ؟ " قُلْنَا : بَلَى ، ثُمَّ قَالَ : " أَيُّ بَلَدٍ هَذَا ؟ " قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ ، قَالَ : " أَلَيْسَتْ الْبَلْدَةَ ؟ " قُلْنَا : بَلَى ، قَالَ : " فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ قَالَ : وَأَحْسَبُهُ قَالَ : وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا ، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا ، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا ، وَسَتَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ فَيَسْأَلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ ، أَلَا لَا تَرْجِعُونَ بَعْدِي ضُلَّالًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ، أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ ؟ ! أَلَا لِيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ مِنْكُمْ ، فَلَعَلَّ مَنْ يُبَلَّغُهُ يَكُونُ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضِ مَنْ يَسْمَعُهُ " ، قَالَ مُحَمَّدٌ : وَقَدْ كَانَ ذَاكَ ، قَالَ : قَدْ كَانَ بَعْضُ مَنْ بُلِّغَهُ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضِ مَنْ سَمِعَهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ یاد رکھو کہ زمانہ اپنی اس اصلی حالت پر واپس آگیا ہے جس پر وہ اس دن تھا جب اللہ نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا تھا سال کے بارہ مہینے ہوتے ہیں جن میں سے چار مہینے اشہر حرام ہیں ان میں سے تین تو مسلسل ہیں یعنی ذی قعدہ ذی الحج اور محرم ہے اور چوتھا مہینہ رجب ہے جو جمادی الثانی اور شعبان کے درمیان آتا ہے پھر فرمایا یہ بتاؤ کہ آج کون سا دن ہے ہم نے عرض کی کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنی دیر خاموش رہے۔ کہ ہم یہ سمجھے کہ شاید نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کا دوسرا نام بتائیں گے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ یوم النحر نہیں ہے ہم نے عرض کیا کیوں نہیں پھر فرمایا یہ کون سا مہینہ ہے ہم نے عرض کی اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنی دیر خاموش رہے کہ ہم یہ سمجھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کا دوسرا نام بتائیں گے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ذی الحجہ کا مہینہ نہیں ہے ہم نے عرض کیا کیوں نہیں پھر فرمایا کہ یہ کون سا شہر ہے ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم حسب سابق خاموش رہے پھر فرمایا کیا یہ شہر حرم نہیں ہے ہم نے عرض کیا کیوں نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری جان اور مال اور عزت آبرو ایک دوسرے کے لئے اسی طرح قابل احترام ہے جیسا کہ اس شہر میں اس مہینے کے اس دن کی حرمت ہے اور عنقریب تم اپنے رب سے ملو گے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کے متعلق پوچھے گا۔ یاد رکھو میرے بعد گمراہ نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ کیا میں نے پیغام الٰہی پہنچا دیا تم میں سے جو موجود ہے وہ غائبین تک یہ پیغام پہنچادے کیونکہ بعض اوقات جسے پیغام پہنچایا جاتا ہے وہ سننے والے سے زیادہ محفوظ رکھتا ہے راوی کہتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20386
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 67، م: 1679، لم يثبت سماع محمد بن سيرين من أبى بكرة، وقد توبع ابن سيرين
حدیث نمبر: 20387
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ ذَلِكَ الْيَوْمُ ، قَعَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعِيرٍ ، وَأَخَذَ رَجُلٌ بِزِمَامِهِ أَوْ بِخِطَامِهِ ، فَقَالَ : " أَيُّ يَوْمٍ يَوْمُكُمْ هَذَا ؟ " قَالَ : فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ ، قَالَ : " أَلَيْسَ بِالنَّحْرِ ؟ " قَالَ : قُلْنَا : بَلَى ، قَالَ : " فَأَيُّ شَهْرٍ شَهْرُكُمْ هَذَا ؟ " قَالَ : فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ ، فَقَالَ : " أَلَيْسَ بِذِي الْحِجَّةِ ؟ " قَالَ : قُلْنَا : بَلَى ، قَالَ : " فَأَيُّ بَلَدٍ بَلَدُكُمْ هَذَا ؟ " قَالَ : فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ ، فَقَالَ " أَلَيْسَ بِالْبَلْدَةِ ؟ " قَالَ : قُلْنَا : بَلَى ، قَالَ : " فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ بَيْنَكُمْ حَرَامٌ ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا ، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا ، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا ، أَلَا فَلْيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ ، فَإِنَّ الشَّاهِدَ عَسَى أَنْ يُبَلِّغَهُ مَنْ هُوَ أَوْعَى لَهُ مِنْهُ " ، قَالَ مُحَمَّدٌ : فَقَالَ رَجُلٌ : قَدْ كَانَ ذَاكَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے موقع پر خطبہ دینے کے لئے اونٹ پر سوار ہوئے ایک آدمی نے اس کی لگام پکڑ لی پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بتاؤ کہ آج کون سا دن ہے ؟ ہم نے عرض کی کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنی دیر خاموش رہے۔ کہ ہم یہ سمجھے کہ شاید نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کا دوسرا نام بتائیں گے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ یوم النحر نہیں ہے ہم نے عرض کیا کیوں نہیں پھر فرمایا یہ کون سا مہینہ ہے ہم نے عرض کی اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنی دیر خاموش رہے کہ ہم یہ سمجھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کا دوسرا نام بتائیں گے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ذی الحجہ کا مہینہ نہیں ہے ہم نے عرض کیا کیوں نہیں پھر فرمایا کہ یہ کون سا شہر ہے ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم حسب سابق خاموش رہے پھر فرمایا کیا یہ شہر حرم نہیں ہے ہم نے عرض کیا کیوں نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری جان اور مال اور عزت آبرو ایک دوسرے کے لئے اسی طرح قابل احترام ہے جیسا کہ اس شہر میں اس مہینے کے اس دن کی حرمت ہے اور عنقریب تم اپنے رب سے ملو گے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کے متعلق پوچھے گا۔ یاد رکھو میرے بعد گمراہ نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ کیا میں نے پیغام الٰہی پہنچادیا تم میں سے جو موجود ہے وہ غائبین تک یہ پیغام پہنچادے کیونکہ بعض اوقات جسے پیغام پہنچایا جاتا ہے وہ سننے والے سے زیادہ محفوظ رکھتا ہے راوی کہتے ہیں کہ ایساہی ہوا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20387
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 67، م: 1679
حدیث نمبر: 20388
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : " لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّا لَنَرْمُلُ بِالْجِنَازَةِ رَمَلًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے وہ وقت دیکھا ہے جب ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جنازے میں تیز تیز چل رہے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20388
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20389
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَقْضِي الْقَاضِي بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کوئی حاکم دو آدمیوں کے درمیان غصہ کی حالت میں فیصلہ نہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20389
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7158، م: 1717
حدیث نمبر: 20390
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، وَرِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ المعنى ، قَالَا : حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ يَجُرُّ ثَوْبَهُ مُسْتَعْجِلًا حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ ، وَثَابَ النَّاسُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، فَجُلِّيَ عَنْهَا ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَقَالَ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ يُخَوِّفُ بِهِمَا عِبَادَهُ ، وَلَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ " ، قَالَ : وَكَانَ ابْنُهُ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام مَاتَ ، " فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهُمَا شَيْئًا فَصَلُّوا وَادْعُوا حَتَّى يُكْشَفَ مِنْهُمَا مَا بِكُمْ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک مرتبہ سورج گرہن ہوگیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم جلدی سے اپنے کپڑے گھسیٹتے ہوئے نکلے اور مسجد پہنچے لوگ بھی جلدی سے آگئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں حتی کہ سورج مکمل روشن ہوگیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا چاند سورج اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جن کے ذریعے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے انہیں کسی کی موت کی وجہ سے گہن نہیں لگتا دراصل اسی دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم کا انتقال ہوا تھا۔ جب تم کوئی ایسی چیز دیکھا کرو تو نماز پڑھ کر دعا کیا کرو یہاں تک کہ مصیبت ٹل جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20390
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1040
حدیث نمبر: 20391
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّهُ حَدَّثَهُ ، قَالَ : انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ عِنْدَهُ ، فَوَثَبَ فَزِعًا يَجُرُّ ثَوْبَهُ . . . فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20391
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1040، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20392
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي مُوسَى وَيُقَالُ لَهُ : إِسْرَائِيلُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا بَكْرَةَ ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً : عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَحَسَنٌ مَعَهُ ، وَهُوَ يُقْبِلُ عَلَى النَّاسِ مَرَّةً وَعَلَيْهِ مَرَّةً ، وَيَقُولُ " إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ ، وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھا حضرت امام حسن بھی ان کے ہمراہ تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور کبھی امام حسن کو دیکھتے اور فرماتے میرا یہ بیٹا سردار ہے اور اللہ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان صلح کروائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20392
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2704
حدیث نمبر: 20393
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَنْبَغِي لِلْقَاضِي وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً لِلْحَاكِمِ أَنْ يَحْكُمَ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی حاکم کے لئے مناسب نہیں ہے کہ دو آدمیوں کے درمیان غصہ کی حالت میں فیصلہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20393
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7158، م: 1717
حدیث نمبر: 20394
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : ذُكِرَ الْكَبَائِرُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ " ، وَكَانَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ ، فَقَالَ : " وَشَهَادَةُ الزُّورِ ، وَشَهَادَةُ الزُّورِ أَوْ قَوْلُ الزُّورِ " ، فَمَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَرِّرُهَا حَتَّى قُلْنَا لَيْتَهُ سَكَتَ ، وقَالَ مَرَّةً : أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ ؟ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ . . . " فَذَكَرَهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ کبیرہ گناہوں کا تذکرہ چل پڑا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے بڑا کبیرہ گناہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا اور والدین کی نافرمانی کرنا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹیک لگائی ہوئی تھی سیدھے ہو کر بیٹھے پھر کئی مرتبہ فرمایا جھوٹے گواہ جھوٹی بات یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی مرتبہ فرمائی کہ ہم سوچنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوجاتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20394
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2654، م: 87
حدیث نمبر: 20395
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو بَكْرَةَ " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَبْتَاعَ الْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ ، وَالذَّهَبَ بِالذَّهَبِ ، إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ ، وَأَمَرَنَا أَنْ نَبْتَاعَ الْفِضَّةَ فِي الذَّهَبِ ، وَالذَّهَبَ فِي الْفِضَّةِ كَيْفَ شِئْنَا " ، فَقَالَ لَهُ ثَابِتُ بْنُ عُبَيْدٍ : يَدًا بِيَدٍ ؟ قَالَ : هَكَذَا سَمِعْتُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو چاندی کو چاندی کے بدلے اور سونے کو سونے کے بدلے صرف برابر سرابر ہی دیکھنے کا حکم دیا تھا اور یہ حکم بھی دیا ہے کہ چاندی کو سونے کے بدلے اور سونے کو چاندی کے بدلے جیسے چاہیں لے سکتے ہیں۔ کمی بیشی ہوسکتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20395
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2175، م: 1590
حدیث نمبر: 20396
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعْدًا يَقُولُ : سَمِعَتْ أُذُنَايَ ، وَوَعَى قَلْبِي أَنَّ : " مَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ ، فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ " ، قَالَ : فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرَةَ فَحَدَّثْتُهُ ، فَقَالَ : وَأَنَا سَمِعَتْ أُذُنَايَ وَوَعَى قَلْبِي مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
ابوعثمان کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعد کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات میرے ان کانوں نے سنی ہے اور میرے دل نے محفوظ کی ہے جو شخص حالت اسلام میں اپنے باپ کے علاوہ کسی اور شخص کو اپنا باپ قرار دیتا ہے حالانکہ وہ جانتا ہے وہ شخص اس کا باپ نہیں ہے تو اس پر جنت حرام ہے اور حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے بھی یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے اپنے کانوں سے سنا ہے اور اپنے دل میں محفوظ کیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20396
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20397
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ ثُرْمُلَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهَدَةً بِغَيْرِ حِلِّهَا ، حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ أَنْ يَشُمَّ رِيحَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی معاہد کو ناحق قتل کردے اللہ اس پر جنت کو حرام قرار دیتا ہے اور وہ جنت کی مہک بھی نہیں سن سکے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20397
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20398
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ ذَنْبٍ أَحْرَى أَنْ يُعَجِّلَ اللَّهُ الْعُقُوبَةَ لِصَاحِبِهِ فِي الدُّنْيَا مَعَ مَا يَدَّخِرُ لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْبَغْيِ وَقَطِيعَةِ الرَّحِمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سرکشی اور قطع رحمی سے بڑھ کر کوئی ایسا گناہ نہیں ہے کہ آخرت کے عذاب کے ساتھ اس گناہ گار کو دنیا میں بھی فوری سزا دی جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20398
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20399
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَحْسَبُهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " شَهْرَانِ لَا يَنْقُصَانِ ، شَهْرَا عِيدِ رَمَضَانَ ، وَذُو الْحِجَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عید کے دو مہینے یعنی رمضان اور ذی الحجہ ثواب کے اعتبار سے کم نہیں ہوتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20399
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1912، م: 1089
حدیث نمبر: 20400
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : خَرَجْتُ فِي جَنَازَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : فَجَعَلَ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِهِ يَسْتَقْبِلُونَ الْجِنَازَةَ ، فَيَمْشُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ ، وَيَقُولُونَ : رُوَيْدًا بَارَكَ اللَّهُ فِيكُمْ ، قَالَ : فَلَحِقَنَا أَبُو بَكْرَةَ مِنْ طَرِيقِ المِرْبَدِ ، فَلَمَّا رَأَى أُولَئِكَ وَمَا يَصْنَعُونَ حَمَلَ عَلَيْهِمْ بِبَغْلَتِهِ ، وَأَهْوَى لَهُمْ بِالسَّوْطِ ، وَقَالَ : خَلُّوا ، فَوَالَّذِي كَرَّمَ وَجْهَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّا لَنَكَادُ أَنْ نَرْمُلَ بِهَا " ، وَقَالَ يَحْيَى مَرَّةً : لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مولانا ظفر اقبال
عیینہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں میں عبدالرحمن بن سمرہ کے جنازے میں شریک ہوا تھا ان کے اہل خانہ میں سے کچھ لوگوں نے اپنے چہرے کا رخ جنازہ کی طرف کرلیا اور اپنی ایڑیوں کے بل الٹے چلنے لگے اور وہ کہتے جا رہے تھے کہ آہستہ چلو اللہ تمہیں برکت دے مربد کے راستے میں حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بھی جنازے میں شامل ہوئے جب انہوں نے ان لوگوں کو اور ان کی اس حرکت کو دیکھا تو اپنے خچر کو ان کی طرف بڑھایا اور کوڑا لے کر لپکے اور فرمایا اس کا راستہ چھوڑ دو اس ذات کی قسم جس نے ابوقاسم کے چہرے کو معزز فرمایا میں نے اپنے آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دیکھا ہے کہ ہم جنازے کو لے کر تیزی کے ساتھ چلتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20400
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20401
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الدَّجَّالُ أَعْوَرُ بِعَيْنِ الشِّمَالِ ، بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَكْتُوبٌ كَافِرٌ ، يَقْرَؤُهُ الْأُمِّيُّ وَالْكَاتِبُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دجال کی بائیں آنکھ کانی ہوگی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا جسے ہر ان پڑھ اور پڑھا لکھا آدمی پڑھ لے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20401
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20402
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُيَيْنَةَ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ أَسْنَدُوا أَمْرَهُمْ إِلَى امْرَأَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی جو اپنے معاملات ایک عورت کے حوالے کردے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20402
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20403
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا فِي غَيْرِ كُنْهِهِ ، حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ أَنْ يَجِدَ رِيحَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جو شخص کسی معاہد کو ناحق قتل کردے اللہ اس پر جنت کی مہک کو حرام قرار دے دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20403
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20404
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : ذَكَرْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ عِنْدَ أَبِي بَكْرَةَ ، فَقَالَ : مَا أَنَا بِطَالِبِهَا إِلَّا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ بَعْدَ شَيْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ، مِنْ تِسْعٍ يَبْقَيْنَ ، أَوْ سَبْعٍ يَبْقَيْنَ ، أَوْ خَمْسٍ يَبْقَيْنَ ، أَوْ ثَلَاثٍ يَبْقَيْنَ ، أَوْ آخِرِ لَيْلَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے سامنے شب قدر کا ذکر ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ میں تو اسے صرف آخری عشرے میں تلاش کروں گا کیونکہ میں اس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ فرماتے ہوئے سنا ہے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کیا کرو۔ ٢١ ویں، ٢٣ ویں، ٢٥ ویں شب، یا ٢٧ ویں شب یا آخری رات میں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20404
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20405
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ ، عَنْ زِيَادٍ الْأَعْلَمِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنَّهُ رَكَعَ دُونَ الصَّفِّ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ انہوں نے صف میں شامل ہونے سے پہلے ہی رکوع کرلیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اللہ تمہاری دینی حرص میں اضافہ کرے آئندہ ایسا نہ کرنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20405
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20406
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُهَلَّبِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ إِنِّي قُمْتُ رَمَضَانَ كُلَّهُ وَصُمْتُهُ " ، قَالَ : فَلَا أَدْرِي أَكَرِهَ التَّزْكِيَةَ ، أَمْ لَا بُدَّ مِنْ غَفْلَةٍ أَوْ رَقْدَةٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے میں نے سارے رمضان قیام کیا اور روزے رکھتا رہا کیونکہ غفلت یا نیند آجانے سے کوئی چارہ کار بھی نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے کسی دن سوتا رہ جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20406
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: وهذا إسناده ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20407
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، وَعَنْ رَجُلٍ آخَرَ وَهُوَ فِي نَفْسِي أَفْضَلُ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ : قَالَ غَيْرُ أَبِي ، عَنْ يَحْيَى فِي هَذَا الْحَدِيثِ أُفَضِّلُ فِي نَفْسِي حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ بِمِنًى ، فَقَالَ : " أَلَا تَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟ " قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ ، فَقَالَ : " أَلَيْسَ بِيَوْمِ النَّحْرِ ؟ " قُلْنَا : نَعَمْ ، قَالَ : أَيُّ بَلَدٍ هَذَا ؟ " قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " أَلَيْسَ بِالْبَلْدَةِ ؟ " قُلْنَا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ وَأَبْشَارَكُمْ حَرَامٌ ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا ، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا ، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا ، أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ ؟ " قُلْنَا : نَعَمْ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ اشْهَدْ ، لِيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ ، فَإِنَّهُ رُبَّ مُبَلِّغٍ يُبَلِّغُهُ مَنْ هُوَ أَوْعَى لَهُ مِنْهُ " ، فَكَانَ كَذَلِكَ . وَقَالَ : " لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ حَرْقِ ابْنِ الْحَضْرَمِيِّ ، حَرَّقَهُ جَارِيَةُ بْنُ قُدَامَةَ ، قَالَ : أَشْرَفُوا عَلَى أَبِي بَكْرَةَ ، فَقَالُوا : هَذَا أَبُو بَكْرَةَ ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : فَحَدَّثَتْنِي أُمِّي أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ ، قَالَ : لَوْ دَخَلُوا عَلَيَّ مَا بَهَشْتُ إِلَيْهِمْ بِقَصَبَةٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر منیٰ میں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ بتاؤ کہ آج کون سا دن ہے ؟ ہم نے عرض کی کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنی دیر خاموش رہے۔ کہ ہم یہ سمجھے کہ شاید نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کا دوسرا نام بتائیں گے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ یوم النحر نہیں ہے ہم نے عرض کیا کیوں نہیں پھر فرمایا یہ کون سا مہینہ ہے ہم نے عرض کی اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنی دیر خاموش رہے کہ ہم یہ شاید سمجھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کا دوسرا نام بتائیں گے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ذی الحجہ کا مہینہ نہیں ہے ہم نے عرض کیا کیوں نہیں پھر فرمایا کہ یہ کون سا شہر ہے ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم حسب سابق خاموش رہے پھر فرمایا کیا یہ شہر حرم نہیں ہے ہم نے عرض کیا کیوں نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری جان اور مال اور عزت آبرو ایک دوسرے کے لئے اسی طرح قابل احترام ہے جیسا کہ اس شہر میں اس مہینے کے اس دن کی حرمت ہے اور عنقریب تم اپنے رب سے ملو گے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کے متعلق پوچھے گا۔ یاد رکھو میرے بعد گمراہ نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ کیا میں نے پیغام الٰہی پہنچادیا تم میں سے جو موجود ہے وہ غائبین تک یہ پیغام پہنچادے کیونکہ بعض اوقات جسے پیغام پہنچایا جاتا ہے وہ سننے والے سے زیادہ محفوظ رکھتا ہے راوی کہتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا۔ جس دن جاریہ بن قدامہ نے ابن حضرمی کو آگ میں جلایا تو وہ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کی طرف بڑھے تو کہنے لگے یہ ہیں ابوبکرہ رضی اللہ عنہ ، راوی کہتے ہیں حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر یہ لوگ میرے پاس آئے تو میں لکڑی سے بھی ان پر حملہ نہ کروں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20407
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7078، م: 1679
حدیث نمبر: 20408
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهَؤُلَاءِ الرَّكْعَتَيْنِ ، وَبِهَؤُلَاءِ الرَّكْعَتَيْنِ ، فَكَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعًا ، وَلَهُمْ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کسوف میں ایک گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں پھر دوسرے گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تو چار رکعتیں ہوگئی اور لوگوں کی دو دو رکعتیں ہوگئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20408
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20409
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الشَّحَّامُ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد یہ دعا فرماتے تھے اے اللہ میں کفر، فقر اور عذاب قبر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20409
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 20410
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَتْ جُهَيْنَةُ وَأَسْلَمُ وَغِفَارُ خَيْرًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ ، وَبَنِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَطَفَانَ ، وَبَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ " وَمَدَّ بِهَا صَوْتَهُ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ خَابُوا وَخَسِرُوا ، قَالَ " فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَهُمْ خَيْرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بتاؤ کہ جہینہ، اسلم، غفار، غطفان قبیلے کے لوگ بنواسد، بنوتمیم اور بنوعامر بن صعصعہ سے بہتر ہیں تو ایک آدمی نے وہ نامراد اور خسارے میں رہیں گے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے وہ لوگ ہم سے بہتر ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20410
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3515، م: 2522
حدیث نمبر: 20411
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ، عَنْ بَحْرِ بْنِ مَرَّارٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَرَّ عَلَى قَبْرَيْنِ ، فَقَالَ : " مَنْ يَأْتِينِي بِجَرِيدَةِ نَخْلٍ ؟ " قَالَ : فَاسْتَبَقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ آخَرُ ، فَجِئْنَا بِعَسِيبٍ ، فَشَقَّهُ بِاثْنَيْنِ ، فَجَعَلَ عَلَى هَذَا وَاحِدَةً ، وَعَلَى هَذَا وَاحِدَةً ، ثُمَّ قَالَ : " أَمَا إِنَّهُ سَيُخَفَّفُ عَنْهُمَا مَا كَانَ فِيهِمَا مِنْ بُلُولَتِهِمَا شَيْءٌ " ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ فِي الْغِيبَةِ وَالْبَوْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ تھاما ہوا تھا اور ایک آدمی بائیں جانب بھی تھا اچانک ہمارے سامنے دو قبریں آگئیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان دونوں مردوں کو عذاب ہورہا ہے اور کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں ہورہا۔ تم میں سے کون میرے پاس ایک ٹہنی لے کر آئے گا ہم دوڑ پڑے میں اس پر سبقت کرگیا اور ایک ٹہنی لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دو حصوں میں تقسیم کردیا اور ہر قبر پر ایک ایک ٹکڑا رکھ دیا اور فرمایا جب تک یہ دونوں سرسبز رہیں گے ان پر عذاب میں تخفیف رہے گی۔ اور ان دونوں کو عذاب صرف پیشاب اور غیبت کے معاملے میں ہورہا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20411
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث قوي، وهذا إسناد منقطع، رواية بحر بن مرار عن جده أبى بكرة منقطعة، وقد روي هذا موصولا
حدیث نمبر: 20412
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الشَّحَّامُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ ، الْمُضْطَجِعُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْجَالِسِ ، وَالْجَالِسُ خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ ، وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي ، وَالْمَاشِي خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي " ، قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَا تَأْمُرُنِي ؟ قَالَ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ إِبِلٌ فَلْيَلْحَقْ بِإِبِلِهِ ، وَمَنْ كَانَتْ لَهُ غَنَمٌ فَلْيَلْحَقْ بِغَنَمِهِ ، وَمَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَلْحَقْ بِأَرْضِهِ ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ فَلْيَعْمِدْ إِلَى سَيْفِهِ ، فَلْيَضْرِبْ بِحَدِّهِ صَخْرَةً ، ثُمَّ لِيَنْجُ إِنِ اسْتَطَاعَ النَّجَاةَ ، ثُمَّ لِيَنْجُ إِنِ اسْتَطَاعَ النَّجَاةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب فتنے رونماہوں گے جن میں لیٹا ہوا آدمی بیٹھے ہوئے سے اور بیٹھا ہوا کھڑے ہوئے سے اور کھڑا ہوا چلنے والے سے اور چلنے والادوڑنے والے سے بہتر ہوگا ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ پھر آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے پاس اونٹ ہوں وہ اپنے اونٹوں میں چلاجائے اور جس کے پاس بکریاں ہوں وہ بکریوں میں چلاجائے اور جس کے پاس زمین ہو وہ اپنی زمین میں چلاجائے اور جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو وہ اپنی تلوار پکڑے اور اس کی دھار کو ایک چٹان پردے مارے۔ اور اگر بچ سکتا ہو تو بچ جائے، اگر بچ سکتا ہو تو بچ جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20412
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، م: 2887