حدیث نمبر: 20330
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ زَيْدٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ يُقَالُ لَهُ : مَالِكٌ أَوْ ابْنُ مَالِكٍ يُحَدِّثُ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " أَيُّمَا مُسْلِمٍ ضَمَّ يَتِيمًا بَيْنَ أَبَوَيْنِ مُسْلِمَيْنِ إِلَى طَعَامِهِ وَشَرَابِهِ حَتَّى يَسْتَغْنِيَ ، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ الْبَتَّةَ ، وَأَيُّمَا مُسْلِمٍ أَعْتَقَ رَقَبَةً أَوْ رَجُلًا مُسْلِمًا ، كَانَتْ فِكَاكَهُ مِنَ النَّارِ ، وَمَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا فَدَخَلَ النَّارَ ، فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مالک بن حارث سے مروی ہے کہ رسول اللہ کو انہوں نے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص مسلمان ماں باپ کے کسی یتیم بچے کو اپنے کھانے اور پینے میں اس وقت شامل رکھتا ہے جب تک وہ اس امداد سے مستغنی نہیں ہوجاتا خود کمانے لگ جاتا ہے تو اس کے لئے یقینی طور پر جنت واجب ہوتی ہے جو شخص کسی مسلمان آدمی کو آزاد کرتا ہے وہ جہنم سے اس کی آزادی کا سبب بن جاتا ہے اور آزاد ہونے والے کے ہر عضو کے بدلے میں اس کا ہر عضو جہنم سے آزاد ہوجاتا ہے اور جو شخص اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کو پائے اور پھر جہنم میں داخل ہوجائے تو وہ اللہ کی رحمت سے دور جا پڑا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20330
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 20331
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ أَخْبَرَنَا ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ رَجُلٍ مِنْهُمْ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ ضَمَّ يَتِيمًا بَيْنَ أَبَوَيْنِ مُسْلِمَيْنِ إِلَى طَعَامِهِ وَشَرَابِهِ حَتَّى يَسْتَغْنِيَ عَنْهُ ، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ الْبَتَّةَ ، وَمَنْ أَعْتَقَ امْرَأً مُسْلِمًا ، كَانَ فِكَاكَهُ مِنَ النَّارِ ، يُجْزَى بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مالک بن حارث سے مروی ہے کہ رسول اللہ کو انہوں نے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص مسلمان ماں باپ کے کسی یتیم بچے کو اپنے کھانے اور پینے میں اس وقت شامل رکھتا ہے جب تک وہ اس امداد سے مستغنی نہیں ہوجاتا خود کمانے لگ جاتا ہے تو اس کے لئے یقینی طور پر جنت واجب ہوتی ہے جو شخص کسی مسلمان آدمی کو آزاد کرتا ہے وہ جہنم سے اس کی آزادی کا سبب بن جاتا ہے اور آزاد ہونے والے کے ہر عضو کے بدلے میں اس کا ہر عضو جہنم سے آزاد ہوجاتا ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20331
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد