حدیث نمبر: 20285
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، عَنْ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، فَلْيَتَّقِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، وَلْيُكْرِمْ جَارَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، فَلْيَتَّقِ اللَّهَ ، وَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، فَلْيَتَّقِ اللَّهَ ، وَلْيَقُلْ حَقًّا أَوْ لِيَسْكُتْ " . .
مولانا ظفر اقبال
متعدد صحابہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے اللہ سے ڈرنا اور اپنے مہمان کا اکرام کرنا چاہیے اور جو شخص اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے اللہ سے ڈرنا اور اپنے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہیے اور جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے اللہ سے ڈرنا چاہیے اور اچھی بات کہنی چاہیے یا پھر خاموش رہنا چاہیے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20285
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20286
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، عَنْ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20286
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20287
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ , " أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمَ عَلَى أَنَّهُ لَا يُصَلِّي إِلَّا صَلَاتَيْنِ ، فَقَبِلَ ذَلِكَ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی کے حوالے سے مروی ہے کہ جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں قبول اسلام کے لئے حاضر ہوئے تو یہ شرط لگائی کہ وہ صرف دو نمازیں پڑھیں گے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ شرط قبول کرلی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20287
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، غير الرجل المبهم الذى روى عنه نصر بن عاصم
حدیث نمبر: 20288
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِيطٍ ، قَالَ : رُفِعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ ، لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ ، التَّقْوَى هَاهُنَا ، التَّقْوَى هَاهُنَا " مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى صَدْرِهِ .
مولانا ظفر اقبال
بنوسلیط کے ایک شیخ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہوتا ہے وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بےیارومددگار چھوڑتا ہے تقوی یہاں ہوتا ہے تقوی یہاں ہوتا ہے اور اپنے ہاتھ سے سینے کی طرف اشارہ فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20288
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد، ولكنه توبع