حدیث نمبر: 20280
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ يَعْنِي ابْنَ الْبَرِيدِ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ الْحَلَبِيِّ ، عَنْ أَبِي مَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَصَابَ النَّاسَ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ يَعْنِي : مَطَرًا ، " فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُودِيَ ، أَنَّ الصَّلَاةَ الْيَوْمَ أَوْ الْجُمُعَةَ الْيَوْمَ فِي الرِّحَالِ " . .
مولانا ظفر اقبال
ابوملیح اپنے والد حضرت اسامہ سے نقل کرتے ہیں ایک مرتبہ جمعہ کے دن بارش ہونے لگی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر یہ منادی کردی گئی کہ آج اپنے اپنے خیموں میں نماز پڑھ لی جائے۔ نافع بن عمر بن جمیل کہتے ہیں کہ میں نے عطاء ابن ابی ملیکہ اور عکرمہ بن خالد کو دیکھا ہے کہ یہ لوگ دس ذی الحجہ کی نماز فجر سے پہلے ہی جمرہ عقبہ کی رمی کرلیتے تھے عبداللہ بن احمد کہتے ہیں کہ میرے والد نے ان سے پوچھا کہ اے ابوسلیمان آپ نے نافع بن عمر سے یہ حدیث کس سال سنی تھی انہوں نے بتایا ٦٩ ھ میں جس سال حضرت امام حسین کا واقعہ پیش آیا۔ فائدہ۔ یہ روایت ناقابل فہم ہے کیونکہ شہادت حسین کا واقعہ ٦٠ ھ میں پیش آیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20280
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، أبو بشر مجهول لكنه توبع
حدیث نمبر: 20281
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ بْنِ جَمِيلٍ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : رَأَيْتُ عَطاءَ , وَابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ , وعكرمة بن خالد " يرمون الجمرة قبل الفجر يوم النحر . قال عبد الله بن أحمد : فَقَالَ لَهُ أَبِي : يَا أَبَا سُلَيْمَانَ ، فِي أَيِّ سَنَةٍ سَمِعْتَ مِنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ ؟ قَالَ : سَنَةَ تِسْعٍ وَسِتِّينَ ، وَمِائَةٍ سَنَةَ وَقْعَةِ الْحُسَيْنِ.
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20281
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: قد ثبت فى حديث ابن عباس: "ابيني، لاترموا الجمرة حتي تطلع الشمس"
حدیث نمبر: 20282
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ فِي قَوْلِهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : وَلا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ سورة المدثر آية 6 , قَالَ : " لَا تُعْطِي شَيْئًا تَطْلُبُ أَكْثَرَ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
قاسم بن ابوبزہ ارشاد باری تعالیٰ ولاتمنن تستکثر کی وضاحت میں کہتے ہیں کہ کسی کو اس جذبے سے کچھ نہ دو کہ بعد میں اس سے زیادہ کا اس سے مطالبہ کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20282
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: هذا الاثر رجاله ثقات
حدیث نمبر: 20283
حَدَّثَنَا عبد الله ، حدثنا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثِ بْنِ طَلْقِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَجَبًا لِلْمُؤْمِنِ ، لَا يَقْضِي اللَّهُ لَهُ شَيْئًا إِلَّا كَانَ خَيْرًا لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے تو مسلمان پر تعجب ہوتا ہے کہ اللہ اس کے لئے جو فیصلہ بھی فرماتا ہے وہ اس کے حق میں بہتر ہی ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20283
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن