حدیث نمبر: 20238
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَن قَتَادَةَ ، عَن الْحَسَنِ ، عَن سَمُرَةَ , أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَحَاطَ حَائِطًا عَلَى أَرْضٍ ، فَهِيَ لَهُ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص کسی زمین پر باغ لگائے تو وہ اسی کی ملکیت میں ہے۔
حدیث نمبر: 20239
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَن سَعِيدٍ مِثْلَهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : مَنْ أَحَاطَ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے مروی ہے۔
حدیث نمبر: 20240
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَن عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَن حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ ، عَن سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ : سَأَلَ أَعْرَابِيٌّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ ، فَقَطَعَ عَلَيْهِ خُطْبَتَهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا تَقُولُ فِي الضِّبَابِ ؟ فَقَال : " َمُسِخَتْ أُمَّةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، فَاللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَعْلَمُ فِي أَيِّ الدَّوَابِّ مُسِخَتْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ ایک دیہاتی آیا اور دوران خطبہ ہی سوال کرنے لگا یا رسول اللہ گوہ کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل کی ایک امت کی شکلیں مسخ ہوگئیں تھیں اب مجھے یہ معلوم نہیں کہ کس جانور کی شکلیں مسخ ہوئیں تھیں۔
حدیث نمبر: 20241
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَن الْحَسَنِ ، عَن سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کو اس وقت تک (بیع فسخ کرنے کا) اختیار رہتا ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوجاتے۔
حدیث نمبر: 20242
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , وَعَفَّانُ , قَالَا : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا الْأَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَرْمِيُّ ، عَن أَبِيهِ ، عَن سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ , أَنَّ رَجُلًا , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَأَيْتُ كَأَنَّ دَلْوًا دُلِّيَتْ مِنَ السَّمَاءِ ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَأَخَذَ بِعَرَاقِيبِهَا ، فَشَرِبَ مِنْهُ شُرْبًا ضَعِيفًا , قَالَ عَفَّانُ : وَفِيهِ ضَعْفٌ ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخَذَ بِعَرَاقِيبِهَا ، فَشَرِبَ حَتَّى تَضَلَّعَ ، ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخَذَ بِعَرَاقِيبِهَا ، فَشَرِبَ ، فَانْتَشَطَتْ مِنْهُ ، فَانْتَضَحَ عَلَيْهِ مِنْهَا شَيْءٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ایک آدمی مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے میں نے ایک مرتبہ خواب میں دیکھا کہ آسمان سے ایک ڈول لٹکایا گیا ہے تھوڑی دیر بعد حضرت ابوبکر آئے انہوں نے ڈول کی لکڑیوں سے اسے پکڑ لیا اور اس میں سے تھوڑا سا پانی پی لیا پھر حضرت عمر آئے اور انہوں نے بھی اسے منہ سے پکڑ لیا اور خوب سیر ہو کر پیا پھر حضرت عثمان آئے اور انہوں نے بھی اسے منہ سے پکڑا اور اس میں سے پینے لگے اسی دوران اس میں سے پانی چھلک کر ان پر گرا۔
حدیث نمبر: 20243
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَن حُمَيْدٍ ، عَن الْحَسَنِ ، عَن سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يَسْكُتُ سَكْتَتَيْنِ , إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ ، وَإِذَا فَرَغَ مِنَ الْقِرَاءَةِ " , فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ، وَكَتَبُوا إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، فَكَتَبَ إِلَيْهِمْ : أَنْ صَدَقَ سَمُرَةُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں دو مرتبہ سکوت فرماتے تھے ایک مرتبہ نماز شروع کرکے اور ایک مرتبہ قرأت سے فارغ ہو کر حضرت عمران بن حصین کا کہنا تھا کہ مجھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بھی یاد نہیں ان دونوں نے اس سلسلے میں حضرت ابی بن کعب کی طرف خط لکھا جس میں ان سے یہ مسئلہ دریافت کیا حضرت ابی بن کعب نے جواب میں حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ کی تصدیق کی۔
حدیث نمبر: 20244
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَن مَنْصُورٍ ، عَن هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَن رَبِيعِ بْنِ عُمَيْلَةَ الْفَزَارِيِّ ، عَن سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَحَبُّ الْكَلَامِ إِلَى اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَرْبَعٌ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، لَا يَضُرُّكَ بِأَيِّهِنَّ بَدَأْتَ " . " وَلَا تُسَمِّيَنَّ غُلَامَكَ يَسَارًا , وَلَا رَبَاحًا , وَلَا نَجِيحًا , وَلَا أَفْلَحَ ، فَإِنَّكَ تَقُولُ أَثَمَّ هُوَ ؟ فَلَا يَكُونُ ، فَيَقُولُ : لَا " , إِنَّمَا هُنَّ أَرْبَعٌ فَلَا تَزِيدُنَّ عَلَيَّ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ کلمات چار ہیں لا الہ الا اللہ واللہ اکبر سبحان اللہ اور الحمد اللہ ان میں سے جس سے بھی آغاز کرلو کوئی حرج والی بات نہیں ہے۔ اور اپنے بچوں کا نام افلح اور نجیح (کامیاب) یسار (آسانی) اور رباح (نفع) مت رکھو اس لئے کہ جب تم ان کا نام لے کر پوچھوگے کہ وہ یہاں ہے تو لوگ کہیں گے کہ نہیں ہے یہ چار چیزیں ہیں ان پر کوئی اضافہ نہ کرو۔
حدیث نمبر: 20245
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَن الْحَسَنِ ، قَالَ : قَالَ سَمُرَة : " حَفِظْتُ سَكْتَتَيْنِ فِي الصَّلَاةِ سَكْتَةٌ إِذَا كَبَّرَ الْإِمَامُ حَتَّى يَقْرَأَ ، وَسَكْتَةٌ إِذَا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ , وَسُورَةٍ عِنْدَ الرُّكُوعِ " , قَالَ : فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ، فَكَتَبُوا إِلَى أُبَيٍّ فِي ذَلِكَ إِلَى الْمَدِينَةِ ، قَالَ : فَصَدَقَ سَمُرَةُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں دو مرتبہ سکوت فرماتے تھے ایک مرتبہ نماز شروع کرکے اور ایک مرتبہ قرأت سے فارغ ہو کر حضرت عمران بن حصین کا کہنا تھا کہ مجھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بھی یاد نہیں ان دونوں نے اس سلسلے میں حضرت ابی بن کعب کی طرف خط لکھا جس میں ان سے یہ مسئلہ دریافت کیا حضرت ابی بن کعب نے جواب میں حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ کی تصدیق کی۔
حدیث نمبر: 20246
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَن يُونُسَ ، عَن الْحَسَنِ ، عَن سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يُوشِكُ أَنْ يَمْلَأَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَيْدِيَكُمْ مِنَ الْأَعَاجِمِ ، ثُمَّ يَجْعَلُهُمْ اللَّهُ أُسْدًا لَا يَفِرُّونَ ، فَيَقْتُلُونَ مُقَاتِلَتَكُمْ ، وَيَأْكُلُونَ فَيْئَكُمْ " , حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشا فرمایا کہ عنقریب اللہ تمہارے ہاتھوں کو عجم سے بھردے گا پھر وہ ایسے شیر بن جائیں گے جو میدان سے نہیں بھاگیں گے وہ تمہارے جنگجوؤں کو قتل کردینگے اور تمہارا مال غنیمت کھاجائیں گے۔
حدیث نمبر: 20247
حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَن الْحَسَنِ ، عَن سَمُرَةَ بن جَنْدبِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُوشِكُ أَنْ يَمْلَأَ اللَّهُ أَيْدِيَكُمْ " فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 20248
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَن الْحَسَنِ ، عَن سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تُوشِكُونَ أَنْ يَمْلَأَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَيْدِيَكُمْ مِنَ الْعَجَمِ ، ثُمَّ يَكُونُوا أُسْدًا لَا يَفِرُّونَ ، فَيَقْتُلُونَ مُقَاتِلَتَكُمْ ، وَيَأْكُلُونَ فَيْئَكُمْ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب اللہ تمہارے ہاتھوں کو عجم سے بھردے گا پھر وہ ایسے شیربن جائیں گے جو میدان سے نہیں بھاگیں گے وہ تمہارے جنگجوؤں کو قتل کردیں گے اور تمہارا مال غنیمت کھاجائیں گے۔
حدیث نمبر: 20249
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَن الْحَسَنِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ . .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 20250
وحَدَّثَنَاه سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَن يُونُسَ ، عَن الْحَسَنِ ، عَن سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 20251
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَن قَتَادَةَ , وَحُمَيْدٍ , عَن الْحَسَنِ ، عَن سَمُرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْجَارُ أَحَقُّ بِالْجِوَارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھر کا پڑوسی دوسرے کی نسبت اس گھر کا زیادہ حقدار ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 20252
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَن قَتَادَةَ ، عَن الْحَسَنِ ، عَن سَمُرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا ، أَوْ يَأْخُذْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مَا رَضِيَ مِنَ الْبَيْعِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کو اس وقت تک (بیع فسخ کرنے کا) اختیار رہتا ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوجاتے اور ان میں سے ہر ایک وہ لے سکتا ہے جس پر بیع میں وہ راضی ہو۔
حدیث نمبر: 20253
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , قَالَا : ثَنَا سَعِيدٌ ، عَن قَتَادَةَ ، عَن الْحَسَنِ ، عَن سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا " .
مولانا ظفر اقبال
ہمارے نسخے میں صرف یہاں حدثنا لکھا ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 20254
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حدثنا قَتَادَةَ ، عَن الْحَسَنِ ، عَن سَمُرَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْعُمْرَى جَائِزَة " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ " عمری " اس شخص کے حق میں جائز ہوتا ہے جس کے لئے وہ کیا گیا ہو۔
حدیث نمبر: 20255
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَن قَتَادَةَ ، عَن الْحَسَنِ ، عَن سَمُرَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " صَلَاةُ الْوُسْطَى صَلَاةُ الْعَصْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " صلوۃ الوسطی " سے مراد نماز عصر ہے۔
حدیث نمبر: 20256
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَن الْحَسَنِ ، عَن سَمُرَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " كُلُّ غُلَامٍ رَهِينَةٌ بِعَقِيقَتِهِ ، تُذْبَحُ يَوْمَ سَابِعِهِ ، وَيُحْلَقُ ، وَيُدَمَّى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر لڑکا اپنے عقیقے کے عوض گروی رکھا ہوا ہے لہذا اس کی طرف سے ساتویں دن قربانی کیا کرو اسی دن اس کا نام رکھا جائے اور سر کے بال مونڈے جائیں۔
حدیث نمبر: 20257
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ ، عَن سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ : أَحْسَبُهُ مَرْفُوعًا : " مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا حِينَ يَذْكُرُهَا ، وَمِنْ الْغَدِ لِلْوَقْتِ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جو شخص اپنے وقت پر نماز پڑھنا بھول جائے تو جب یاد آجائے اسی وقت پڑھ لے اور اگلے دن وقت مقررہ پر ادا کرے۔
حدیث نمبر: 20258
حَدَّثَنَا يُونُسُ , وَسُرَيْجٌ , قَالَا : ثَنَا حَمَّادٌ ، عَن بِشْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 20259
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَن الْحَسَنِ ، عَن سَمُرَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ تَوَضَّأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَبِهَا وَنِعْمَتْ ، وَمَنْ اغْتَسَلَ فَذَلِك أَفْضَلُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جمعہ کے دن وضو کرلے تو وہ بھی صحیح ہے اور جو شخص غسل کرلے تو یہ زیادہ افضل ہے۔
حدیث نمبر: 20260
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَن قَتَادَةَ ، عَن الْحَسَنِ ، عَن سَمُرَةَ أَنَّ يَوْمَ حُنَيْنٍ كَانَ يَوْمًا مَطِيرًا " فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيَهُ أَنَّ الصَّلَاةَ فِي الرِّحَالِ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے غزوہ حنین کے موقع پر بارش کے دن لوگوں سے فرمادیا کہ اپنے اپنے خیموں میں نماز پڑھ لو۔
حدیث نمبر: 20261
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَن الْحَسَنِ ، عَن سَمُرَةَ ، مِثْلَهُ سَوَاءً.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 20262
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَن الْحَسَنِ ، عَن سَمُرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى ثَلَاثَةِ أَحْرُفٍ " , قَالَ عَفَّانُ مَرَّةً : أُنْزِلَ الْقُرْآنُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے قرآن پاک تین حروف پر نازل ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 20263
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَن الْحَسَنِ ، عَن سَمُرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلَانِ الْمَرْأَةَ فَالْأَوَّلُ أَحَقُّ ، وَإِذَا اشْتَرَى الرَّجُلَانِ الْبَيْعَ فَالْأَوَّلُ أَحَقُّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جس ایک عورت کا نکاح اس کے دو ولی مختلف جگہوں پر کردیں تو وہ ان میں سے پہلے کی ہوگی اور جس نے دو مختلف آدمیوں سے ایک ہی چیز خریدی تو وہ ان میں سے پہلے کی ہوگی۔
حدیث نمبر: 20264
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَن الْحَسَنِ ، عَن سَمُرَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کے بدلے میں جانور کی ادھار خریدوفروخت سے منع کیا ہے۔
حدیث نمبر: 20265
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ , قَالَ : سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ عُقْبَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْمَسَائِلُ كُدُوحٌ يَكْدَحُ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهُ ، فَمَنْ شَاءَ أَبْقَى عَلَى وَجْهِهِ ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ ، إِلَّا أَنْ يَسْأَلَ الرَّجُلُ ذَا سُلْطَانٍ ، أَوْ يَسْأَلَ فِي الْأَمْرِ ، لَا يَجِدُ مِنْهُ بُدًّا " , قَالَ : فَحَدَّثْتُ بِهِ الْحَجَّاجَ ، فَقَالَ : سَلْنِي ، فَإِنِّي ذُو سُلْطَانٍ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی کے آگے دست سوال دراز کرنا ایک زخم اور داغ ہے جس سے انسان اپنے چہرے کو داغ دار کرلیتا ہے اور اب جو چاہے اسے اپنے چہرے پر رہنے دے اور جو چاہے اسے چھوڑ دے الاّ یہ کہ انسان کسی ایسے شخص سے سوال کرے جو بااختیار ہو یا کسی ایسے معاملے میں سوال کرے جس کے بغیر کوئی چارہ کار نہ ہو۔
حدیث نمبر: 20266
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ , وَيُونُسُ , عَن الْحَسَنِ ، عَن سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ , " أَنَّهُ كَانَ إِذَا صَلَّى بِهِمْ سَكَتَ سَكْتَتَيْنِ : إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ ، وَإِذَا قَالَ : وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 سَكَتَ أَيْضًا هُنَيَّةً " , فَأَنْكَرُوا ذَلِكَ عَلَيْهِ ، فَكَتَبَ إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، فَكَتَبَ إِلَيْهِمْ أُبَيٌّ , أَنَّ الْأَمْرَ كَمَا صَنَعَ سَمُرَةُ . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں دو مرتبہ سکوت فرماتے تھے ایک مرتبہ نماز شروع کرکے اور ایک مرتبہ قرأت سے فارغ ہو کر حضرت عمران بن حصین کا کہنا تھا کہ مجھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بھی یاد نہیں ان دونوں نے اس سلسلے میں حضرت ابی بن کعب کی طرف خط لکھا جس میں ان سے یہ مسئلہ دریافت کیا حضرت ابی بن کعب نے جواب میں حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ کی تصدیق کی۔
حدیث نمبر: 20267
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَن يُونُسَ ، قَالَ : وَإِذَا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ السُّورَةِ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 20268
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ ، عَن الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَن ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبَّادٍ ، عَن سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ : " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ رَكْعَتَيْنِ لَا نَسْمَعُ لَهُ فِيهِمَا صَوْتًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز کسوف پڑھائی تو (سری قرأت فرمائی) اور ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز نہیں سنی۔