حدیث نمبر: 20198
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ شَيْخٍ لَهُ , قال : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ : " وَمَنْ أَخْصَى عَبْدَهُ خَصَيْنَاهُ ".
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20198
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، أبو أمية شيخ مجهول، والحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20199
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ , وَأَبُو دَاوُدَ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " جَارُ الدَّارِ أَحَقُّ بِالدَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھر کا پڑوسی دوسرے کی نسبت اس گھر کا زیادہ حق دار ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20199
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذان إسنادان ضعيفان، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20200
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ , وَالْحَكَمِ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْبَسُوا الثِّيَابَ الْبِيضَ ، فَإِنَّهَا أَطْيَبُ وَأَطْهَرُ ، وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ عمدہ اور پاکیزہ ہوتے ہیں اور اپنے مردوں کو ان ہی میں دفن کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20200
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، رواية ميمون عن الصحابة منقطعة
حدیث نمبر: 20201
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ ثَعْلَبَةَ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَتَعَاطَى أَحَدُكُمْ مِنْ أَسِيرِ أَخِيهِ فَيَقْتُلَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی آدمی اپنے بھائی کا قیدی نہ لے کر اس قتل کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20201
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف بقية بن الوليد وإسحاق بن ثعلبة، ومكحول لم يسمع من سمرة
حدیث نمبر: 20202
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَصَابَ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ ، وَيَتْبَعُ صَاحِبُهُ مَنْ اشْتَرَاهُ مِنْهُ " , وَقَالَ يَزِيدُ مَرَّةً : مَنْ وَجَدَ مَتَاعَهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص بعینہ اپنا سامان کسی شخص کے پاس دیکھے وہ اس کا زیادہ حق دار ہے اور مشتری (خریدنے والا) بائع (بچنے والا) سے اپنی قیمت وصول کرلے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20202
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، الحجاج بن أرطاة مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20203
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَا يَغُرَّنَّكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ ، وَلَا هَذَا الْفَجْرُ الْمُسْتَطِيلُ ، وَلَكِنْ الْفَجْرُ الْمُسْتَطِيرُ " ، وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ هَكَذَا ، وَأَشَارَ يَزِيدُ بِيَدِهِ الْيُمْنَى.
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ دوران خطبہ فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہیں بلال کی اذان اور یہ سفیدی دھوکہ نہ دے یہاں تک کہ طلوع صبح صادق ہوجائے صبح صادق وہ روشنی ہوتی ہے جو افق میں چوڑائی کے اندر پھیلتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20203
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح الغيره، م: 1094، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20204
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَهُوَ عَتِيقٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جو شخص اپنے کسی قریبی رشتے دار کا مالک بن جاتا ہے تو وہ رشتہ دار آزاد ہوجاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20204
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20205
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا عَوْفٌ , وَهَوْذَةُ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، حَدَّثَنَا شَيْخٌ مِنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ فِي مَجْلِسِ قَسَامَةٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى سَمُرَةَ وَهُوَ يَحْتَجِمُ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " إِنَّ مِنْ خَيْرِ دَوَائِكُمْ الْحِجَامَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
بکر بن وائل کے ایک شیخ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ کے یہاں گیا تو وہ سینگی لگوا رہے تھے۔ انہوں نے فرمایا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تمہارے علاج کا سب سے بہترین طریقہ سینگی لگوانا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20205
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لابهام الشيخ من بكر بن وائل
حدیث نمبر: 20206
حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا أَنْكَحَ الْوَلِيَّانِ ، فَهُوَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا ، وَإِذَا بَاعَ بَيْعًا مِنْ رَجُلَيْنِ ، فَهُوَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس ایک عورت کا نکاح اس کے دو ولی مختلف جگہوں پر کردیں تو وہ ان میں سے پہلے کی ہوگی اور جس نے دو مختلف آدمیوں سے ایک ہی چیز خریدی تو وہ ان میں سے پہلے کی ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20206
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20207
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ مِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى حُجْزَتِهِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى تَرْقُوَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اہل جہنم میں کچھ لوگ تو ایسے ہوں گے جو ٹخنوں تک آگ کی لپیٹ میں ہوں گے کچھ گھٹنوں تک کچھ سرین تک اور کچھ لوگ ہنسلی کی ہڈی تک اس کی لپیٹ میں ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20207
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2845
حدیث نمبر: 20208
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ , وَحَمَّادٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بن جُندُب ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَيُّمَا امْرَأَةٍ زَوَّجَهَا وَلِيَّانِ ، فَهِيَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ بَاعَ بَيْعًا مِنْ رَجُلَيْنِ ، فَهُوَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس ایک عورت کا نکاح اس کے دو ولی مختلف جگہوں پر کردیں تو وہ ان میں سے پہلے کی ہوگی اور جس نے دو مختلف آدمیوں سے ایک چیز خریدی تو وہ ان میں سے پہلے کی ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20208
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20209
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ , وَعَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ حُصَيْنٍ رَجُلٍ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ : أَتَى نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ وَهُوَ يَخْطُبُ ، فَقَطَعَ عَلَيْهِ خُطْبَتَهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , كَيْفَ تَقُولُ فِي الضَّبِّ ؟ قَالَ : " أُمَّةٌ مُسِخَتْ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، فَلَا أَدْرِي أَيَّ الدَّوَابِّ مُسِخَتْ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ ایک دیہاتی آیا اور خطبہ کے دوران ہی سوال کرنے لگا یارسول اللہ گوہ کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل کی ایک امت کی شکلیں مسخ ہوگئی تھیں اب یہ مجھے معلوم نہیں کہ کس جانور کی شکلیں مسخ ہوتی تھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20209
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20210
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ الْفَزَارِيِّ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ : سَأَلَ أَعْرَابِيٌّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20210
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد جيد
حدیث نمبر: 20211
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ مُنَادِيَهُ ، فَنَادَى فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ : " الصَّلَاةُ فِي الرِّحَالِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے موقع پر بارش کے دن لوگوں سے فرمادیا کہ اپنے اپنے خیموں میں نماز پڑھ لو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20211
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس وقد عنعن
حدیث نمبر: 20212
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُرِّ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَحْتَجِمُ بِقَرْنٍ وَيُشْرَطُ بِطَرْفِ سِكِّينٍ ، فَدَخَلَ رَجُلٌ مِنْ شَمْخَ , فَقَالَ لَهُ : لِمَ تُمَكِّنُ ظَهْرَكَ أَوْ عُنُقَكَ مِنْ هَذَا يَفْعَلُ بِهَا مَا أَرَى ؟ فَقَالَ : " هَذَا الْحَجْمُ وَهُوَ مِنْ خَيْرِ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں میں حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجام کو بلایا ہوا تھا وہ اپنے ساتھ سینگ لے کر آگیا اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سینگ لگایا اور نشتر سے چیر لگایا اسی اثناء میں فزارہ کا ایک دیہاتی بھی آگیا اس نے کہا یا رسول اللہ آپنے اسے اپنی کھال کاٹنے کی اجازت کیوں دیدی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے حجم کہتے ہیں کا سب سے بہتر طریقہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20212
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20213
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ بُرَيْدَةَ , أَنَّهُ سَمِعَ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ ، يَقُولُ : " إِنَّهُ لَيَمْنَعُنِي أَنْ أَتَكَلَّمَ بِكَثِيرٍ مِمَّا كُنْتُ أَسْمَعُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ هَاهُنَا مَنْ هُوَ أَكْبرُ مِنِّي ، وَكُنْتُ لَيْلَتَئِذٍ غُلَامًا ، وَإِنِّي كُنْتُ لَأَحْفَظُ مَا أَسْمَعُ مِنْهُ ، صَلَّيْتُ وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَّى عَلَى أُمِّ كَعْبٍ مَاتَتْ وَهِيَ نُفَسَاءُ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلصَّلَاةِ عَلَيْهَا وَسَطَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی اکثر باتیں بیان کرنے سے یہ چیز روک دیتی ہے کہ مجھ سے بڑی عمر کے لوگ موجود ہیں میں اس وقت نوعمر تھا اور جو سنتا تھا اسے یاد رکھتا تھا اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نمازیں پڑھی ہیں ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ام کعب کی نماز جنازہ پڑھائی جو نفاس کی حالت میں فوت ہوگئی تھی اور اس کے درمیان کھڑے ہوئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20213
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1332، م: 964
حدیث نمبر: 20214
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , وَابْنُ جَعْفَرٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ قَتَلْنَاهُ ، وَمَنْ جَدَعَهُ جَدَعْنَاهُ " , قَالَ يَحْيَى ثُمَّ نَسِيَ الْحَسَنُ بَعْدُ فَقَالَ : لَا يُقْتَلُ بِهِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے غلام کو قتل کرے گا ہم اسے قتل کریں گے اور جو اپنے غلام کی ناک کاٹے گا ہم اس کی ناک کاٹ دیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20214
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20215
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ , وَابْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهُ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً " , قَالَ يَحْيَى ثُمَّ نَسِيَ الْحَسَنُ فَقَالَ : إِذَا اخْتَلَفَ الصِّنْفَانِ ، فَلَا بَأْسَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کے بدلے میں جانور کی ادھار خریدوفروخت سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20215
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20216
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ : " صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا ، فَقَامَ وَسَطَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ام فلاں کی نماز جنازہ پڑھائی جو نفاس کی حالت میں فوت ہوگئی تھی اور اس کے درمیان کھڑے ہوئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20216
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1332، م: 964
حدیث نمبر: 20217
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ , وَسُفْيَانُ , عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَانَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ : ب سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى و هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدین میں سبح اسم ربک اور ہل اتاک حدیث کی تلاوت فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20217
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20218
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ , عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْبَسُوا الثِّيَابَ الْبِيضَ ، وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ ، فَإِنَّهَا أَطْهَرُ وَأَطْيَبُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ وہ عمدہ اور پاکیزہ ہوتے ہیں اور اپنے مردوں کو ان ہی میں دفن کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20218
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، رواية ميمون عن الصحابة منقطعة
حدیث نمبر: 20219
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , وَابْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ هَذِهِ الْمَسَائِلَ كَدٌّ يَكُدُّ بِهَا أَحَدُكُمْ وَجْهَهُ وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ : كُدُوحٌ يُكْدَحُ بِهَا الرَّجُلُ إِلَّا أَنْ يَسْأَلَ ذَا سُلْطَانٍ ، أَوْ فِي أَمْرٍ لَا بُدَّ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی کے آگے دست سوال دراز کرنا ایک زخم اور دماغ ہے جس سے انسان اپنے چہرے کے داغ دار کرلیتا ہے اب جو چاہے اسے اپنے چہرے پر رہنے دے اور جو چاہے اسے چھوڑ دے الاّ یہ کہ انسان کسی ایسے شخص سے سوال کرے جو با اختیار ہو یا کسی ایسے معاملے میں سوال کرے جس کے بغیر کوئی چارہ کار نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20219
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20220
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبَّادٍ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى فِي كُسُوفٍ ، فَلَمْ يُسْمَعْ لَهُ صَوْتٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز کسوف پڑھائی تو سری قرأت فرمائی اور ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز نہیں سنی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20220
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة ثعلبة بن عباد
حدیث نمبر: 20221
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : قَالَ شُعْبَةُ , وَحَدَّثَنَا الْحَكَمُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَدَّثَ بِحَدِيثٍ وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ ، فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میرے حوالے سے کوئی حدیث نقل کرتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ یہ حدیث جھوٹی ہے تو وہ دو میں سے ایک جھوٹا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20221
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20222
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ سَمُرَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الْفَجْرَ ، فَقَالَ : " هَاهُنَا مِنْ بَنِي فُلَانٍ أَحَدٌ ؟ " ثَلَاثًا ، فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا , قَالَ : فَقَالَ : " إِنَّ صَاحِبَكُمْ مَحْبُوسٌ عَنِ الْجَنَّةِ بِدَيْنِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھائی تو نماز کے بعد تین مرتبہ فرمایا کیا یہاں فلاں قبیلے کا کوئی آدمی ہے ایک آدمی نے کہا جی ہاں ہم موجود ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا ساتھی جو فوت ہوگیا ہے اپنے ایک قرض کے سلسلے میں جنت کے دروازے پر روک لیا گیا ہے۔ لہذا تم اس کا قرض ادا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20222
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20223
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، عَنْ سَمُرَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفْضَلُ الْكَلَامِ بَعْدَ الْقُرْآنِ وَهِو مِنَ الْقُرْآنِ أرَبعٌ ، لَا يَضُرُّكَ بِأَيِّهِنَّ بَدَأْتَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے نزدیک قرآن کے بعد سب سے زیادہ پسندیدہ کلمات چار ہیں لا الہ الا اللہ واللہ اکبر سبحان اللہ اور الحمدللہ ان میں سے جس سے بھی آغاز کرو کوئی حرج والی بات نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20223
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح إن كان هلال بن يساف سمعه من سمرة
حدیث نمبر: 20224
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , وَعَفَّانُ , قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى , قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ : أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى , عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ رَوَى عَنِّي حَدِيثًا وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ ، فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبِينَ " , وَقَالَ عَفَّانُ أَيْضًا : الْكَذَّابِينَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میرے حوالے سے کوئی حدیث نقل کرتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ یہ حدیث جھوٹی ہے تو وہ دو میں جھوٹا ایک ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20224
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20225
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ ، عَن الْحَسَنِ ، عَن سَمُرَةَ ، قَالَ : " مَا خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَةً إِلَّا نَهَانَا عَنِ الْمُثْلَةِ ، وَأَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بہت کم کسی خطبے میں ایسا ہوتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کا حکم نہ دیا ہو اور اس میں مثلہ کرنے کی ممانعت نہ کی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20225
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20226
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَن سِمَاكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْمُهَلَّبَ بْنَ أَبِي صُفْرَةَ ، قَالَ : قَالَ سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُصَلُّوا حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ ، فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَلَا حِينَ تَغِيبُ ، فَإِنَّهَا تَغِيبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سورج کے طلوع یا غروب ہونے کے وقت نماز نہ پڑھا کرو کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع اور غروب ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20226
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20227
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَن قَتَادَةَ ، عَن الْحَسَنِ ، عَن سَمُرَةَ بن جُندب , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَهُوَ حُرٌّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے کسی قریبی رشتے دار کا مالک بن جاتا ہے تو وہ رشتہ دار آزاد ہوجاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20227
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن
حدیث نمبر: 20228
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَن حُمَيْدٍ ، عَن الْحَسَنِ ، عَن سَمُرَةَ بن جُندب , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَانَ يَسْكُتُ سَكْتَتَيْنِ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ ، وَإِذَا فَرَغَ مِنَ الْقِرَاءَةِ " ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ، فَكَتَبُوا إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ يَسْأَلُونَهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَكَتَبَ : أَنْ صَدَقَ سَمُرَةُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں دو مرتبہ سکوت فرماتے تھے ایک مرتبہ نماز شروع کرکے اور ایک مرتبہ قرأت سے فارغ ہو کر حضرت عمران بن حصین کا کہنا ہے کہ مجھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ یاد نہیں ان دونوں نے اس سلسلے میں حضرت ابی بن کعب کی طرف خط لکھا جس میں ان سے یہ دریافت کیا حضرت ابی بن کعب نے جواب میں حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ کی تصدیق کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20228
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20229
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ الْكَاتِبُ , قَالَ : قَالَ لِي ابْنُ سِيرِينَ : صَنَعْتُ سَيْفِي عَلَى سَيْفِ سَمُرَةَ ، وَقَالَ سَمُرَةُ : " صَنَعْتُ سَيْفِي عَلَى سَيْفِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ حَنَفِيًّا " .
مولانا ظفر اقبال
ابن سیرین فرماتے تھے کہ میں نے اپنی تلوار حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ کی تلوار جیسی بنائی ہے اور حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی تلوار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار جیسی بنائی ہے اور وہ دین حنیف پر قائم تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20229
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عثمان بن سعد، وقد اضطرب
حدیث نمبر: 20230
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَن قَتَادَةَ ، عَن الْحَسَنِ ، عَن سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْتُلُوا شُيُوخَ الْمُشْرِكِينَ وَاسْتَبْقُوا شَرْخَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مشرکین کے بوڑھوں کو قتل کردو اور ان کے جوانوں کوز ندہ چھوڑ دو ۔ فائدہ : امام احمد کے صاحبزادے کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے اس حدیث کی وضاحت دریافت کی تو انہوں نے فرمایا کہ بوڑھا آدمی عام طور پر اسلام قبول نہیں کرتا اور جوان کرلیتا ہے گویا جوان اسلام کے زیادہ قریب ہوتا ہے بہ نسبت بوڑھے کے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20230
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، الحسن البصري مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20231
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَن سَمْعَانَ بْنِ مُشَنَّجٍ ، عَن سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ , قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ فَقَالَ : " أَهَهُنَا مِنْ بَنِي فُلَانٍ أَحَدٌ ؟ " قَالَهَا ثَلَاثًا ، فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مَنَعَكَ فِي الْمَرَّتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ أَنْ تَكُونَ أَجَبْتَنِي ؟ أَمَا إِنِّي لَمْ أُنَوِّهْ بِكَ إِلَّا لِخَيْرٍ ، إِنَّ فُلَانًا لِرَجُلٍ مِنْهُمْ مَاتَ إِنَّهُ مَأْسُورٌ بِدَيْنِهِ " , قَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُ أَهْلَهُ وَمَنْ يَتَحَزَّنُ لَهُ قَضَوْا عَنْه حَتَّى مَا جَاءَ أَحَدٌ يَطْلُبُهُ بِشَيْءٍ . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی جنازے میں تھے نماز کے بعد تین مرتبہ فرمایا کہ یہاں فلاں قبیلے کا کوئی آدمی ہے ؟ ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا جی ہاں ! (ہم موجود ہیں) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے پہلی مرتبہ میں جواب کیوں نہیں دیا ؟ میں نے تمہیں اچھے مقصد کے لئے پکارا تھا تمہارا ساتھی جو فوت ہوگیا ہے اپنے ایک قرض کے سلسلے میں جنت کے دروازے پر روک لیا گیا ہے (لہذا تم اس کا قرض ادا کردو) راوی کہتے ہیں کہ پھر میں نے اس کے اہل خانہ اور اس کا غم رکھنے والوں کو دیکھا کہ انہوں نے اس کا قرض ادا کردیا اور پھر کوئی مطالبہ کرنے والا نہ آیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20231
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20232
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَن فِرَاسٍ ، عَن الشَّعْبِيِّ ، عَن سَمُرَةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث بھی اس دوسری سند سے مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20232
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20233
حَدَّثَنَا أَبُو سُفْيَانَ الْمَعْمَرِيُّ ، عَن سُفْيَانَ ، عَن أَبِيهِ ، عَن الشَّعْبِيِّ ، عَن سَمْعَانَ بْنِ مُشَنَّجٍ ، عَن سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث بھی اس دوسری سند سے مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20233
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20234
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَن أَبِيهِ ، عَن سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَن الشَّعْبِيِّ ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ , فَحَدَّثْتُ بِهِ أَبِي فَقَالَ : لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ وَكِيعٍ.
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20234
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20235
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَن أَيُّوبَ ، وَرَوْحٌ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَن أَيُّوبَ ، عَن أَبِي قِلَابَةَ ، عَن أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَن سَمُرَةَ بن جُندبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْبَيَاضِ فَيَلْبَسُهُ أَحْيَاؤُكُمْ , وَقَالَ رَوْحٌ : فَلْيَلْبَسْهُ أَحْيَاؤُكُمْ وَكَفِّنُوا فِيهِ مَوْتَاكُمْ ، فَإِنَّهُ مِنْ خَيْرِ ثِيَابِكُمْ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ وہ عمدہ اور پاکیزہ ہوتے ہیں اور اپنے مردوں کو ان میں ہی دفن کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20235
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناداه صحيحان
حدیث نمبر: 20236
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَن أَبِي قِلَابَةَ ، قَالَ : قَالَ سَمُرَةُ ، فَذَكَرَهُ , وَذَكَرَ يَعْنِي عَفَّانَ , عَن وُهَيْبٍ أَيْضًا لَيْسَ فِيهِ أَبُو الْمُهَلَّبِ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث بھی اس دوسری سند سے مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20236
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، أبو قلابة لم يسمع من سمرة
حدیث نمبر: 20237
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَن قَتَادَةَ ، عَن الْحَسَنِ ، عَن سَمُرَةَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کے بدلے میں جانور کی ادھار خریدوفروخت سے منع کیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20237
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن