حدیث نمبر: 20158
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ ، عَنْ سَوَادَةَ بْنِ حَنْظَلَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَمْنَعَنَّكُمْ مِنْ سُحُورِكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ ، وَلَا الْفَجْرُ الْمُسْتَطِيلُ ، وَلَكِنْ الْفَجْرُ الْمُسْتَطِيرُ فِي الْأُفُقِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ دوران خطبہ فرمایا کہ رسول نے فرمایا ہے تمہیں بلال کی اذان اور یہ سفیدی دھوکہ نہ دے یہاں تک کہ طلوع صبح صادق ہوجائے صبح صادق وہ روشنی ہوتی ہے جو افق میں چوڑائی میں پھیلتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20158
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، م: 1094، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20159
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ وَبَرَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ فَاتَتْهُ الْجُمُعَةُ ، فَلْيَتَصَدَّقْ بِدِينَارٍ ، أَوْ بِنِصْفِ دِينَارٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص بلاعذر ایک جمعہ چھوڑ دے اسے چاہیے کہ ایک دینار صدقہ کرے اگر ایک دینار نہ ملے تو نصف دینار ہی صدقہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20159
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف الجهالة قدامة بن وبرة
حدیث نمبر: 20160
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ الْعَبْديِّ ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبَّادٍ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ : " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كُسُوفٍ فَلَمْ نَسْمَعْ لَهُ صَوْتًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز کسوف پڑھائی تو (سری قرأت فرمائی اور) ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز نہیں سنی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20160
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة ثعلبة بن عباد
حدیث نمبر: 20161
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ , حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ : ب سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى و هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدین میں " سبح اسم ربک الاعلی اور ھل اتاک حدیث الغاشیہ " کی تلاوت فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20161
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20162
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي الْمُعَلِّمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ : " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى أُمِّ فُلَانٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا ، فَقَامَ وَسَطَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ام فلاں کی نماز جنازہ پڑھائی جو نفاس کی حالت میں فوت ہوگئی تھی اور اس کے درمیان میں کھڑے ہوئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20162
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 332، م: 964
حدیث نمبر: 20163
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ رَوَى عَنِّي حَدِيثًا وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ ، فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبِين " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میرے حوالے سے حدیث نقل کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ حدیث جھوٹی ہے تو وہ دو میں سے ایک جھوٹا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20163
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20164
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ زَيْدٍ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْجُمُعَةِ : ب سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى و هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ میں سبح اسم ربک الاعلی اور ھل اتاک حدیث الغاشیہ کی تلاوت فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20164
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20165
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيَّ يُحَدِّثُ , عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى صَلَاةَ الْغَدَاةِ ، أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ ، فَقَالَ : " هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمْ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا ؟ " فَإِنْ كَانَ أَحَدٌ رَأَى تِلْكَ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا ، قَصَّهَا عَلَيْهِ ، فَيَقُولُ فِيهَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ، فَسَأَلَنَا يَوْمًا ، فَقَالَ : " هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمْ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا ؟ " قَالَ : فَقُلْنَا : لَا , قَالَ : " لَكِنْ أَنَا رَأَيْتُ رَجُلَيْنِ أَتَيَانِي ، فَأَخَذَا بِيَدَيَّ ، فَأَخْرَجَانِي إِلَى أَرْضٍ فَضَاءٍ أَوْ أَرْضٍ مُسْتَوِيَةٍ فَمَرَّا بِي عَلَى رَجُلٍ ، وَرَجُلٌ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِهِ بِيَدِهِ كَلُّوبٌ مِنْ حَدِيدٍ ، فَيُدْخِلُهُ فِي شِدْقِهِ ، فَيَشُقُّهُ حَتَّى يَبْلُغَ قَفَاهُ ، ثُمَّ يُخْرِجُهُ ، فَيُدْخِلُهُ فِي شِقِّهِ الْآخَرِ ، وَيَلْتَئِمُ هَذَا الشِّدقُّ ، فَهُوَ يَفْعَلُ ذَلِكَ بِهِ , قُلْتُ : مَا هَذَا ؟ قَالَا : انْطَلِقْ , فَانْطَلَقْتُ مَعَهُمَا ، فَإِذَا رَجُلٌ مُسْتَلْقٍ عَلَى قَفَاهُ ، وَرَجُلٌ قَائِمٌ بِيَدِهِ فِهْرٌ أَوْ صَخْرَةٌ فَيَشْدَخُ بِهَا رَأْسَهُ ، فَيَتَدَهْدَى الْحَجَرُ ، فَإِذَا ذَهَبَ لِيَأْخُذَهُ ، عَادَ رَأْسُهُ كَمَا كَانَ ، فَيَصْنَعُ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا ؟ قَالَا : انْطَلِقْ , فَانْطَلَقْتُ مَعَهُمَا ، فَإِذَا بَيْتٌ مَبْنِيٌّ عَلَى بِنَاءِ التَّنُّورِ ، وَأَعْلَاهُ ضَيِّقٌ وَأَسْفَلُهُ وَاسِعٌ ، يُوقَدُ تَحْتَهُ نَارٌ ، فِيهِ رِجَالٌ وَنِسَاءٌ عُرَاةٌ ، فَإِذَا أُوقِدَتْ ، ارْتَفَعُوا حَتَّى يَكَادُوا أَنْ يَخْرُجُوا ، فَإِذَا خَمَدَتْ رَجَعُوا فِيهَا ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا ؟ قَالَا لِيَ : انْطَلِقْ , فَانْطَلَقْتُ ، فَإِذَا نَهَرٌ مِنْ دَمٍ فِيهِ رَجُلٌ ، وَعَلَى شَطِّ النَّهَرِ رَجُلٌ بَيْنَ يَدَيْهِ حِجَارَةٌ ، فَيُقْبِلُ الرَّجُلُ الَّذِي فِي النَّهَرِ ، فَإِذَا دَنَا لِيَخْرُجَ ، رَمَى فِي فِيهِ حَجَرًا ، فَرَجَعَ إِلَى مَكَانِهِ ، فَهُوَ يَفْعَلُ ذَلِكَ بِهِ ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا ؟ فَقَالَا : انْطَلِقْ , فَانْطَلَقْتُ ، فَإِذَا رَوْضَةٌ خَضْرَاءُ ، فَإِذَا فِيهَا شَجَرَةٌ عَظِيمَةٌ ، وَإِذَا شَيْخٌ فِي أَصْلِهَا حَوْلَهُ صِبْيَانٌ ، وَإِذَا رَجُلٌ قَرِيبٌ مِنْهُ بَيْنَ يَدَيْهِ نَارٌ ، فَهُوَ يَحْشُشُهَا وَيُوقِدُهَا ، فَصَعِدَا بِي فِي الشَّجَرَةِ ، فَأَدْخَلَانِي دَارًا لَمْ أَرَ دَارًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهَا ، فَإِذَا فِيهَا رِجَالٌ شُيُوخٌ وَشَبَابٌ ، وَفِيهَا نِسَاءٌ وَصِبْيَانٌ ، فَأَخْرَجَانِي مِنْهَا ، فَصَعِدَا بِي فِي الشَّجَرَةِ ، فَأَدْخَلَانِي دَارًا هِيَ أَحْسَنُ وَأَفْضَلُ مِنْهَا ، فِيهَا شُيُوخٌ وَشَبَابٌ , فَقُلْتُ لَهُمَا : إِنَّكُمَا قَدْ طَوَّفْتُمَانِي مُنْذُ اللَّيْلَةِ ، فَأَخْبِرَانِي عَمَّا رَأَيْتُ , فَقَالَا : نَعَمْ ، أَمَّا الرَّجُلُ الْأَوَّلُ الَّذِي رَأَيْتَ ، فَإِنَّهُ رَجُلٌ كَذَّابٌ ، يَكْذِبُ الْكَذِبَةَ ، فَتُحْمَلُ عَنْهُ فِي الْآفَاقِ ، فَهُوَ يُصْنَعُ بِهِ مَا رَأَيْتَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، ثُمَّ يَصْنَعُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِهِ مَا شَاءَ , وَأَمَّا الرَّجُلُ الَّذِي رَأَيْتَ مُسْتَلْقِيًا ، فَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْقُرْآنَ ، فَنَامَ عَنْهُ بِاللَّيْلِ ، وَلَمْ يَعْمَلْ بِمَا فِيهِ بِالنَّهَارِ ، فَهُوَ يُفْعَلُ بِهِ مَا رَأَيْتَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ , وَأَمَّا الَّذِي رَأَيْتَ فِي التَّنُّورِ ، فَهُمْ الزُّنَاةُ ، وَأَمَّا الَّذِي رَأَيْتَ فِي النَّهَرِ ، فَذَاكَ آكِلُ الرِّبَا ، وَأَمَّا الشَّيْخُ الَّذِي رَأَيْتَ فِي أَصْلِ الشجرة ، فَذَاكَ إِبْرَاهِيمُ ، وَأَمَّا الصِّبْيَانُ الَّذِي رَأَيْتَ ، فَأَوْلَادُ النَّاسِ ، وَأَمَّا الرَّجُلُ الَّذِي رَأَيْتَ يُوقِدُ النَّارَ وَيَحْشُشُهَا ، فَذَاكَ مَالِكٌ خَازِنُ النَّارِ وَتِلْكَ النَّارُ ، وَأَمَّا الدَّارُ الَّتِي دَخَلْتَ أَوَّلًا ، فَدَارُ عَامَّةِ الْمُؤْمِنِينَ ، وَأَمَّا الدَّارُ الْأُخْرَى ، فَدَارُ الشُّهَدَاءِ ، وَأَنَا جِبْرِيلُ ، وَهَذَا مِيكَائِيلُ , ثُمَّ قَالَا لِيَ : ارْفَعْ رَأْسَكَ , فَرَفَعْتُ رَأْسِي ، فَإِذَا هِيَ كَهَيْئَةِ السَّحَابِ ، فَقَالَا لِي : وَتِلْكَ دَارُكَ , فَقُلْتُ لَهُمَا : دَعَانِي أَدْخُلْ دَارِي ,فَقَالَا : إِنَّهُ قَدْ بَقِيَ لَكَ عَمَلٌ لَمْ تَسْتَكْمِلْهُ ، فَلَوْ اسْتَكْمَلْتَهُ ، دَخَلْتَ دَارَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ فجر کی نماز پڑھ کر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرماتے تھے کہ کہ تم میں سے کسی نے آج رات کوئی خواب دیکھا ہے اگر کسی نے کوئی خواب دیکھا ہوتا تو بیان کردیتا اور آپ اللہ کی مشیت کے موافق اس کی تعبیر دے دیتے تھے۔ چنانچہ حسب دستور ایک روز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے پوچھا کہ تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے ہم نے عرض کیا نہیں آپ نے فرمایا میں نے آج رات خواب میں دیکھا ہے کہ دو آدمی میرے پاس آئے اور میرے ہاتھ پکڑ کر مجھے پاک زمین کی طرف لے گئے وہاں ایک شخص بیٹھا ہوا تھا اور ایک آدمی کھڑا ہوا تھا جس کے ہاتھ میں لوہے کا آنکڑا تھا کھڑا ہوا آدمی بیٹھے ہوئے آدمی کے منہ میں وہ آنکڑا ڈال کر ایک طرف سے اس کا جبڑا چیر کر گدی سے ملا دیتا تھا اور پھر دوسرے جبڑے کو بھی اس طرح چیر کر گدی سے ملا دیتا تھا اتنے میں پہلا جبڑا صحیح ہوجاتا تھا اور وہ دوبارہ اسی طرح چیرتا تھا۔ میں نے دریافت کیا یہ کیا بات ہے ؟ ان دونوں شخصوں نے کہا آگے چلو ہم آگے چل دیئے ایک جگہ پہنچ کر دیکھا کہ ایک شخص چت لیٹا ہوا ہے اور ایک آدمی اس کے سر پر پتھر لئے کھڑا ہے اور پتھر سے اس کا سر کچل دیا جاتا ہے جب اس کے سر پر پتھر مارا جاتا ہے تو پتھر لڑھک کر دور چلا جاتا ہے وہ آدمی پتھر لینے چلا جاتا ہے اتنے میں اس کا سر جڑ جاتا ہے اور مارنے والا آدمی پھر واپس آکر اس کو مارتا ہے میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے ان دونوں شخصوں نے کہا کہ آگے چلو ہم آگے چل دیئے ایک جگہ دیکھا کہ تنور کی طرح ایک گڑھا ہے جس کا منہ تنگ ہے اور اندر سے کشادہ ہے برہنہ مرد و عورت اس میں موجود ہیں اور آگ بھی اس میں جل رہی ہے جب آگ تنور کے کناروں کے قریب آجاتی ہے تو وہ لوگ اوپر اٹھ آتے ہیں اور باہر نکلنے کے قریب ہوجاتے ہیں اور جب آگ نیچے ہوجاتی ہے تو سب لوگ اندر ہوجاتے ہیں میں نے پوچھا یہ کون ہیں ان دونوں نے کہا آگے چلو ہم آگے چل دیئے اور ایک خون کی ندی پر پہنچے جس کے اندر ایک آدمی کھڑا تھا اور ندی کے کنارہ پر ایک اور آدمی موجود تھا جس کے آگے پتھر رکھے ہوئے تھے اور اندر آدمی جب باہر نکلنے کے لئے آگے بڑھتا تو باہر والا اس کے منہ پر پتھر مارتا وہ پیچھے ہٹ جاتا اور اصلی جگہ پر پہنچا دیتا تھا دوبارہ پھر اندر والا آدمی جب باہر نکلنے کے لئے آگے بڑھتا تو باہر والا آدمی اس کے منہ پر پتھر مارتا تھا اور اصلی جگہ پر پہنچا دیتا تھا۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون ہیں ان دونوں شخصوں نے کہا آگے چلو ہم آگے چل دیئے ایک جگہ دیکھا کہ ایک درخت کے نیچے جڑ کے پاس ایک بوڑھا آدمی اور کچھ لڑکے موجود ہیں اور درخت کے قریب ایک اور آدمی ہے جس کے سامنے آگ موجود ہے اور وہ آگ جلا رہا ہے میرے دونوں ساتھی مجھے اس درخت کے اوپر چڑھا لے گئے اور ایک مکان میں داخل کیا جس سے بہتر اور عمدہ میں نے کبھی کوئی مکان نہیں دیکھا گھر کے اندر مرد بھی تھے اور عورتیں بھی تھیں اور بوڑھے جوان بھی اور بچے بھی اس کے بعد وہ دونوں ساتھی مجھے اس مکان سے نکال کر درخت کے اوپر چڑھے اور وہاں ایک اور مکان میں داخل ہوئے جس سے بہتر میں نے کبھی کوئی مکان نہیں دیکھا اس میں بھی بڈھے جوان سب طرح کے آدمی تھے آخر کار میں نے کہا کہ تم دونوں نے مجھے رات بھر گھمایا اب جو کچھ میں نے دیکھا ہے اس کی تفصیل تو بیان کرو انہوں نے کہا اچھا ہم بتاتے ہیں۔ جس شخص کو تم نے گلپھڑے چرتے ہوئے دیکھا تھا وہ جھوٹا آدمی تھا کہ جھوٹی باتیں بنا کر لوگوں سے کہتا تھا اور لوگ اس سے سیکھ کر اوروں سے نقل کرتے تھے یہاں تک کہ سارے جہان میں وہ جھوٹ مشہور ہوجاتا تھا قیامت تک اس پر یہ عذاب ہوتا رہے گا۔ اور جس شخص کا سر کچلتے ہوئے تم نے دیکھا تھا اس شخص کو اللہ نے قرآن کا علم دیا تھا لیکن وہ قرآن سے غافل ہو کر رات کو سوجاتا تھا اور دن کو اس پر عمل نہ کرتا تھا قیامت تک اس کو اسی طرح عذاب ہوتا رہے گا۔ اور جن لوگوں کو تم نے گڑھے میں دیکھا تھا وہ لوگ زناکار تھے اور جس شخص کو تم نے خون کی نہر میں دیکھا تھا وہ شخص سودخور تھا اور درخت کی جڑ کے پاس جس بوڑھے مرد کو تم نے دیکھا تھا وہ حضرت ابراہیم تھے اور وہ لڑکے لوگوں کی وہ اولادیں تھیں جو بالغ ہونے سے قبل مرگئے تھے اور جو شخص بیٹھا ہوا آگ بھڑکا رہا تھا تو وہ مالک داروغہ تھا اور اول جس مکان میں تم داخل ہوئے تھے وہ عام ایمان داروں کا مکان تھا اور یہ مکان شہیدوں کا ہے اور میں جبرائیل ہوں اور یہ میکائیل ہیں اب تم اپنا سر اٹھاؤ میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو میرے اوپر ابر سایہ کئے ہوئے تھا انہوں نے کہا یہ تمہارا مقام ہے میں نے کہا کہ مجھے اب اپنے مکان میں جانے دو انہوں نے کہا کہ ابھی تمہاری مدت حیات باقی ہے عمر پوری نہیں ہوئی جب مدت زندگی پوری کرچکو گے تو اپنے مکان میں آجاؤ گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20165
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 845
حدیث نمبر: 20166
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ لَهُ سَكْتَتَانِ سَكْتَةٌ حِينَ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ ، وَسَكْتَةٌ إِذَا فَرَغَ مِنَ السُّورَةِ الثَّانِيَةِ قَبْلَ أَنْ يَرْكَعَ " ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ فَقَالَ : كَذَبَ سَمُرَةُ ، فَكَتَبَ فِي ذَلِكَ إِلَى الْمَدِينَةِ إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، فَقَالَ : صَدَقَ سَمُرَةُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں دو مرتبہ سکوت فرماتے تھے ایک مرتبہ نماز کے آغاز میں اور ایک مرتبہ رکوع سے پہلے اور قرأت کے بعد حضرت عمران بن حصین کا کہنا تھا کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ یاد نہیں ' ان دونوں نے اس سلسلے میں حضرت ابی بن کعب کی طرف خط لکھا جس میں ان سے یہ مسئلہ دریافت کیا حضرت ابی بن کعب نے جواب دیا میں نے حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ کی تصدیق کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20166
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20167
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ رَفَعَهُ ، قَالَ : " مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ فَهُوَ حُرٌّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جو شخص اپنے قریبی رشتہ دار کا مالک بن جاتا ہے تو وہ رشتہ دار آزاد ہوجاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20167
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن
حدیث نمبر: 20168
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ دَاوُدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي قَزَعَةَ ، عَنِ الْأَسْقَعِ بْنِ الْأَسْلَعِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا تَحْتَ الْكَعْبَيْنِ مِنَ الْإِزَارِ فِي النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تہبند کا جو حصہ ٹخنوں کے نیچے رہے گا وہ جہنم کی آگ میں جلے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20168
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20169
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْمُهَلَّبَ يَخْطُبُ , قَالَ : قَالَ سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تُصَلُّوا حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ ، وَلَا حِينَ تَسْقُطُ ، فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ الشَّيْطَانِ ، وَتَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيْ الشَّيْطَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سورج کے طلوع یا غروب ہونے کے وقت نماز نہ پڑھا کرو کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع اور غروب ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20169
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20170
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ : وَنَحْنُ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَادَى أَصَابَتْنَا السَّمَاءُ : " الصَّلَاةُ فِي الرِّحَالِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے موقع پر بارش کے دن لوگوں سے فرمایا کہ اپنے اپنے خیموں میں نماز پڑھ لو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20170
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس وقد عنعن
حدیث نمبر: 20171
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُرِّ ، عَنْ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مِنْ خَيْرِ مَا تَدَاوَى بِهِ النَّاسُ الْحَجْمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا علاج کا سب سے بہترین طریقہ جس سے لوگ علاج کرتے ہیں وہ سینگی لگوانا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20171
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20172
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ , قَالَ : زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ أخبرنا , عن عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، حَدَّثَنِي حُصَيْنُ بْنُ أَبِي الْحُرِّ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا حَجَّامًا ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَحْجُمَهُ ، فَأَخْرَجَ مَحَاجِمَ لَهُ مِنْ قُرُونٍ ، فَأَلْزَمَهُ إِيَّاهُ ، فَشَرَطَهُ بِطَرَفِ شَفْرَةٍ ، فَصَبَّ الدَّمَ فِي إِنَاءٍ عِنْدَهُ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ , فَقَالَ : مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ عَلَامَ تُمَكِّنُ هَذَا مِنْ جِلْدِكَ يَقْطَعُهُ ؟ قَالَ : فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " هَذَا الْحَجْمُ " قَالَ : وَمَا الْحَجْمُ ؟ قَالَ : " هُوَ مِنْ خَيْرِ مَا تَدَاوَى بِهِ النَّاسُ " , حَدَّثَنَا الْأَشْيَبُ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُرِّ الْعَنْبَرِيِّ ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ زُهَيْرٍ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ بن جندب سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اقدس کی خدمت میں حاضر ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجام کو بلایا ہوا تھا وہ اپنے ساتھ سینگ لے کر آگیا اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سینگ لگایا اور نشتر سے چیرا لگایا اسی اثنا میں بنوفزارہ کا ایک دیہاتی بھی آگیا جس کا تعلق بنوجزیمہ سے تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس نے سینگی لگواتے ہوئے دیکھا تو چونکہ اس کو سینگی کے متعلق کچھ معلوم نہیں تھا اس لئے وہ کہنے لگا یا رسول اللہ یہ کیا ہے ؟ آپ نے اسے اپنی کھال کاٹنے کے لئے دے دی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے حجم کہتے ہیں اس نے پوچھا کہ حجم کیا چیز ہوتی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا علاج کا سب سے بہترین طریقہ جس سے لوگ علاج کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20172
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20173
حَدَّثَنَا الْأَشْيَبُ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُرِّ الْعَنْبَرِيِّ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ زُهَيْرٍ
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20173
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20174
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , وَأَبُو دَاوُدَ , قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَوَضَّأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَبِهَا وَنِعْمَتْ وَمَنْ اغْتَسَلَ فَهُوَ أَفْضَلُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جمعہ کے دن وضو کرلے تو وہ صحیح ہے اور جو شخص غسل کرلے تو یہ زیادہ افضل ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20174
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20175
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , وَأَبُو دَاوُدَ , قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَلَاعَنُوا بِلَعْنَةِ اللَّهِ وَلَا بِغَضَبِهِ وَلَا بِالنَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کی لعنت اللہ کے غضب اور اللہ کی آگ سے ایک دوسرے پر لعنت نہ کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20175
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20176
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، قَالَ : قَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ : " اسْمُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام عَبْدُ اللَّهِ ، وَاسْمُ مِيكَائِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام عُبَيْدُ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
محمد بن عمرو کہتے ہیں کہ مجھ سے علی بن حسین نے فرمایا کہ حضرت جبرائیل کا نام عبداللہ اور حضرت میکائیل کا نام عبیداللہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20176
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: أثر حسن
حدیث نمبر: 20177
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَوَضَّأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَبِهَا وَنِعْمَتْ ، وَمَنْ اغْتَسَلَ فَالْغُسْلُ أَفْضَلُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص جمعہ کے دن وضو کرلے تو وہ بھی صحیح ہے اور جو شخص غسل کرلے تو یہ زیادہ افضل ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20177
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20178
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ ، حَدَّثَنَا ثَعْلَبَةُ بْنُ عَبَّادٍ الْعَبْدِيُّ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ , قَالَ : شَهِدْتُ يَوْمًا خُطْبَةً لِسَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، فَذَكَرَ فِي خُطْبَتِهِ حَدِيثًا , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : بَيْنَا أَنَا وَغُلَامٌ مِنَ الْأَنْصَارِ نَرْمِي فِي غَرَضَيْنِ لَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى إِذَا كَانَتْ الشَّمْسُ قِيدَ رُمْحَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ فِي عَيْنِ النَّاظِرِ اسْوَدَّتْ حَتَّى آضَتْ كَأَنَّهَا تَنُّومَةٌ ، قَالَ : فَقَالَ أَحَدُنَا لِصَاحِبِهِ : انْطَلِقْ بِنَا إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَوَاللَّهِ لَيُحْدِثَنَّ شَأْنُ هَذِهِ الشَّمْسِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُمَّتِهِ حَدَثًا , قَالَ : فَدَفَعْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَإِذَا هُوَ بَارِزٌ ، قَالَ : وَوَافَقْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ إِلَى النَّاسِ فَاسْتَقْدَمَ ، " فَقَامَ بِنَا كَأَطْوَلِ مَا قَامَ بِنَا فِي صَلَاةٍ قَطُّ ، لَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا ، ثُمَّ رَكَعَ كَأَطْوَلِ مَا رَكَعَ بِنَا فِي صَلَاةٍ قَطُّ ، لَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا ، ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَوَافَقَ تَجَلِّيَ الشَّمْسِ جُلُوسُهُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ قَالَ زُهَيْرٌ حَسِبْتُهُ قَالَ : فَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، وَشَهِدَ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ، ثُمَّ قَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي قَصَّرْتُ عَنْ شَيْءٍ مِنْ تَبْلِيغِ رِسَالَاتِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ لَمَا أَخْبَرْتُمُونِي ذَاكَ ، فَبَلَّغْتُ رِسَالَاتِ رَبِّي كَمَا يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تُبَلَّغَ ، وَإِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي بَلَّغْتُ رِسَالَاتِ رَبِّي لَمَا أَخْبَرْتُمُونِي ذَاكَ " قَالَ : فَقَامَ رِجَالٌ فَقَالُوا : نَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ رِسَالَاتِ رَبِّكَ ، وَنَصَحْتَ لِأُمَّتِكَ ، وَقَضَيْتَ الَّذِي عَلَيْكَ ، ثُمَّ سَكَتُوا , ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّ رِجَالًا يَزْعُمُونَ أَنَّ كُسُوفَ هَذِهِ الشَّمْسِ ، وَكُسُوفَ هَذَا الْقَمَرِ ، وَزَوَالَ هَذِهِ النُّجُومِ عَنْ مَطَالِعِهَا ، لِمَوْتِ رِجَالٍ عُظَمَاءَ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ ، وَإِنَّهُمْ قَدْ كَذَبُوا ، وَلَكِنَّهَا آيَاتٌ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَعْتَبِرُ بِهَا عِبَادُهُ ، فَيَنْظُرُ مَنْ يُحْدِثُ لَهُ مِنْهُمْ تَوْبَةً , وَايْمُ اللَّهِ ، لَقَدْ رَأَيْتُ مُنْذُ قُمْتُ أُصَلِّي مَا أَنْتُمْ لَاقُونَ فِي أَمْرِ دُنْيَاكُمْ وَآخِرَتِكُمْ ، وَإِنَّهُ وَاللَّهِ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ ثَلَاثُونَ كَذَّابًا آخِرُهُمْ الْأَعْوَرُ الدَّجَّالُ ، مَمْسُوحُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى ، كَأَنَّهَا عَيْنُ أَبِي تحْيَى لِشَيْخٍ حِينَئِذٍ مِنَ الْأَنْصَارِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ ، وَإِنَّهَا مَتَى يَخْرُجُ أَوْ قَالَ : مَتَى مَا يَخْرُجُ فَإِنَّهُ سَوْفَ يَزْعُمُ أَنَّهُ اللَّهُ ، فَمَنْ آمَنَ بِهِ وَصَدَّقَهُ وَاتَّبَعَهُ ، لَمْ يَنْفَعْهُ صَالِحٌ مِنْ عَمَلِهِ سَلَفَ ، وَمَنْ كَفَرَ بِهِ وَكَذَّبَهُ ، لَمْ يُعَاقَبْ بِشَيْءٍ مِنْ عَمَلِهِ , وَقَالَ حَسَنٌ الْأَشْيَبُ : بِسَيِّئٍ مِنْ عَمَلِهِ سَلَفَ ، وَإِنَّهُ سَيَظْهَرُ , أَوْ قَالَ سَوْفَ يَظْهَرُ عَلَى الْأَرْضِ كُلِّهَا إِلَّا الْحَرَمَ , وَبَيْتَ الْمَقْدِسِ ، وَإِنَّهُ يَحْصُرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ ، فَيُزَلْزَلُونَ زِلْزَالًا شَدِيدًا ، ثُمَّ يُهْلِكُهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَجُنُودَهُ ، حَتَّى إِنَّ جِذْمَ الْحَائِطِ أَوْ قَالَ : أَصْلَ الْحَائِطِ ، وَقَالَ حَسَنٌ الْأَشْيَبُ : وَأَصْلَ الشَّجَرَةِ ، لَيُنَادِي أَوْ قَالَ : يَقُولُ : يَا مُؤْمِنُ أَوْ قَالَ : يَا مُسْلِمُ ، هَذَا يَهُودِيٌّ أَوْ قَالَ : هَذَا كَافِرٌ تَعَالَ فَاقْتُلْهُ " قَالَ : " وَلَنْ يَكُونَ ذَلِكَ كَذَلِكَ حَتَّى تَرَوْا أُمُورًا يَتَفَاقَمُ شَأْنُهَا فِي أَنْفُسِكُمْ ، وَتَسَاءَلُونَ بَيْنَكُمْ , هَلْ كَانَ نَبِيُّكُمْ ذَكَرَ لَكُمْ مِنْهَا ذِكْرًا ؟ وَحَتَّى تَزُولَ جِبَالٌ عَلَى مَرَاتِبِهَا ، ثُمَّ عَلَى أَثَرِ ذَلِكَ الْقَبْضُ " , قَالَ : ثُمَّ شَهِدْتُ خُطْبَةً لِسَمُرَةَ ذَكَرَ فِيهَا هَذَا الْحَدِيثَ ، فَمَا قَدَّمَ كَلِمَةً وَلَا أَخَّرَهَا عَنْ مَوْضِعِهَا.
مولانا ظفر اقبال
ثعلبہ بن عباد عبدی کہتے ہیں کہ ایک دن میں حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے خطبے میں حاضر ہوا تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اپنے خطبے میں یہ حدیث ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک دن میں اور ایک انصاری لڑکا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں نشانہ بازی کررہے تھے جب دیکھنے والوں کی نظر میں سورج دو تین نیزوں کے برابر بلند ہوگیا تو وہ اس طرح تاریک ہوگیا جیسے تنومہ گھاس سیاہ ہوتی ہے یہ دیکھ کر ہم میں سے ایک نے دوسرے سے کہا آؤ مسجد چلتے ہیں واللہ سورج کی یہ کیفیت بتارہی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں کوئی اہم واقعہ رونما ہونے والا ہے۔ ہم لوگ مسجد پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس وقت تک باہر تشریف لا چکے تھے لوگ آرہے تھے اس دوران ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے رہے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور ہمیں اتناطویل قیام کرایا کہ اس سے پہلے کبھی کسی نماز میں اتناطویل قیام نہیں کیا تھا لیکن ہم آپ کی قرأت نہیں سن پا رہے تھے کیونکہ قرأت سری تھی پھر اتنا طویل رکوع کیا کہ اس سے پہلے کبھی کسی نماز میں اتنا طویل رکوع نہیں کیا تھا اور ہمیں آپ کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی اور دوسری رکعت بھی اسی طرح پڑھائی دوسری رکعت کے قعدہ میں پہنچنے تک سورج روشن ہوگیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا اور اللہ کی حمدوثناء بیان کی اور خود کے بندہ اللہ اور رسول ہونے کی گواہی دے کر فرمایا اے لوگو میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ اگر تم سمجھتے ہو کہ میں نے اپنے پروردگار کے کسی پیغام کو تم تک پہنچانے میں کوئی کوتاہی کی ہو تو مجھے بتادو کیونکہ میں نے اپنی طرف سے اپنے رب کا پیغام اس طرح پہنچادیا ہے جیسے پہنچانے کا حق ہے اور اگر تم سمجھتے ہو کہ میری طرف سے میرے رب کے پیغام تم تک پہنچ گئے ہیں تب بھی مجھے بتادو اس پر کچھ لوگ کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے اپنے رب کا پیغام پہنچادیا، اپنی امت کی خیرخواہی کی اور اپنی ذمہ داری پوری کردی ہے پھر وہ لوگ خاموش ہوگئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اما بعد کہہ کر فرمایا کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس چاند اور سورج کو گہن لگنا اور ان ستاروں کا اپنے مطلع سے ہٹ جانا اہل زمین میں سے کسی بڑے آدمی کی موت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ لیکن وہ غلط کہتے ہیں یہ تو اللہ کی نشانیاں ہیں جن سے اللہ اپنے بندوں کو درس عبرت دیتا ہے اور دیکھتا ہے کہ ان میں سے کون توبہ کرتا ہے اللہ کی قسم میں جب نماز پڑھانے کے لئے کھڑا ہوا تو میں نے وہ تمام چیزیں دیکھ لیں جن سے دنیا اور آخرت میں تمہیں سابقہ پیش آئے گا واللہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تیس کذاب لوگوں کا خروج نہ ہوجائے جن میں سے سب سے آخر میں کانا دجال ہوگا اس کی بائیں آنکھ پونچھ دی گئی ہوگی جیسے ابویحیی کی آنکھ ہے یہ ایک انصاری کی طرف اشارہ ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حجرہ عائشہ کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ جب بھی خروج کرے گا تو خود کو اللہ سمجھے گا جو شخص ایمان لائے گا اس پر اس کی تصدیق اور اتباع کرے گا اسے ماضی کا کوئی عمل فائدہ نہیں دے سکے گا۔ جو اس کا انکار کرکے اس کی تکذیب کرے گا اس کے کسی عمل پر اس کا مواخذہ نہیں کیا جائے گا دجال ساری زمین پر غالب آجائے گا سوائے حرم شریف اور بیت المقدس کے اور وہ بیت المقدس میں مسلمانوں کا محاصرہ کرلے گا اور ان پر ایک سخت زلزلہ آئے بالآخر اللہ دجال اور اس کے لشکروں کو ہلاک کردے گا حتی کہ درخت کی جڑ میں سے آواز آئے گی کہ اے مسلمان یہ یہودی یا کافر یہاں چھپا ہوا ہے آکر اسے قتل کردو اور ایسا وقت تک نہیں ہوگا جب تک تم ایسے امور نہ دیکھ لو جن کی اہمیت تمہارے دلوں میں ہو اور تم آپس میں ایک دوسرے سے سوال کرو کہ کیا تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کوئی تذکرہ کیا ہے اور جب تک پہاڑ اپنی جڑوں سے نہ ہل جائیں اس کے فورا بعد اٹھانے کا عمل شروع ہوجائے گا۔ ثعلبہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد ایک مرتبہ پھر میں حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ کے ایک خطبے میں شریک ہوا انہوں نے اس میں جب یہی حدیث دوبارہ بیان کی تو ایک لفظ بھی اپنی جگہ سے آگے پیچھے نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20178
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة ثعلبة بن عباد، ولبعضه شواهد
حدیث نمبر: 20179
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ قرآن کریم سات حروف پر نازل ہوا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20179
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20180
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبَّادٍ ، عَنْ سَمُرَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ حِينَ انْكَسَفَتْ الشَّمْسُ فَقَالَ : " أَمَّا بَعْدُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کے موقع پر خطبہ دیتے ہوئے " امابعد " کہا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20180
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة ثعلبة بن عباد
حدیث نمبر: 20181
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تُوشِكُونَ أَنْ يَمْلَأَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَيْدِيَكُمْ مِنَ العَجَمِ وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً : مِنَ الْأَعَاجِمِ ثُمَّ يَكُونُون أُسْدًا لَا يَفِرُّونَ ، يَقْتُلُونَ مُقَاتِلَتَكُمْ ، وَيَأْكُلُونَ فَيْئَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب اللہ تمہارے ہاتھوں کو عجم سے بھردے گا پھر وہ ایسے شیر بن جائینگے جو میدان سے نہیں بھاگیں گے وہ تمہارے جنگجوؤں کو قتل کردیں گے اور تمہارا مال غنیمت کھا جائیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20181
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20182
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا هِشَامٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کو اس وقت تک (بیع فسخ کرنے کا) اختیار رہتا ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوجاتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20182
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20183
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْجَارُ أَحَقُّ بِالْجِوَارِ " أَوْ " بِالدَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھر کا پڑوسی دوسرے کی نسبت اس گھر کا زیادہ حقدار ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20183
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن
حدیث نمبر: 20184
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ ثَعْلَبَةَ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَّخِذَ الْمَسَاجِدَ فِي دِيَارِنَا ، وَأَمَرَنَا أَنْ نُنَظِّفَهَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ اپنے علاقوں میں مسجدیں بنائیں اور انہیں صاف ستھرا رکھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20184
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح الغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف بقية ، وتدليسه ، وإسحاق بن ثعلبة مجهول منكر الحديث، ومكحول لم يسمع من سمرة
حدیث نمبر: 20185
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنِ الْحَكَمِ , وَحَبِيبٍ , عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْبَسُوا الثِّيَابَ الْبَيَاضَ ، فَإِنَّهَا أَطْهَرُ وَأَطْيَبُ ، وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ وہ عمدہ اور پاکیزہ ہوتے ہیں اور اپنے مردوں کو ان ہی میں دفن کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20185
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، رواية ميمون عن الصحابة منقطعة
حدیث نمبر: 20186
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى مِنْ أَهْلِ مَرْوٍ , وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ وِقَاءَ بْنِ إِيَاسٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ , قال علُّي بن إسحاق في حديثه : أخبرنا وقاءُ بن إياس ، قال : حدثني علُّي بن رَبيعةَ , عَنْ سَمُرَةَ بن جُندُب ، قَالَ : " قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ فَنَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور اس میں دباء اور مزفت سے منع فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20186
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل وقاء بن إياس
حدیث نمبر: 20187
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَمِيلٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، مِثْلَهُ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20187
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل وقاء بن إياس
حدیث نمبر: 20188
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ : أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " كُلُّ غُلَامٍ مُرْتَهَنٌ بِعَقِيقَتِهِ ، تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ سَابِعِهِ ، وَيُمَاطُ عَنْهُ الْأَذَى ، وَيُسَمَّى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ ہر لڑکا اپنے عقیقے کے عوض گروی لکھا ہوا ہے لہذا اس کی طرف سے ساتویں دن قربانی کیا کرو اسی دن اس کا نام رکھاجائے اور سر کے بال مونڈے جائیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20188
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: تحت حديث: 5472
حدیث نمبر: 20189
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا ، وَيَأْخُذْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مَا رَضِيَ مِنَ الْبَيْعِ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کو اس وقت تک (بیع فسخ کرنے کا) اختیار رہتا ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوجاتے اور ان میں سے ہر ایک وہ لے سکتا ہے جس پر وہ بیع میں راضی ہو۔ ثعلبہ بن عباد عبدی کہتے ہیں ایک دن میں حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ کے خطبے میں حاضر ہوا تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اپنے خطبے میں یہ حدیث ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک دن میں اور ایک انصاری لڑکا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں نشانہ بازی کررہے تھے جب دیکھنے والوں کی نظر میں سورج دو یا تین نیزوں کے برابر بلند ہوگیا تو وہ اس طرح تاریک ہوگیا جیسے تنومہ گھاس سیاہ ہوتی ہے پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20189
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح الغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20190
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبَّادٍ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ : قَامَ يَوْمًا خَطِيبًا فَذَكَرَ فِي خُطْبَتِهِ حَدِيثًا ، قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا وَغُلَامٌ مِنَ الْأَنْصَارِ نَرْمِي فِي غَرَضَيْنِ لَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ طَلَعَتْ الشَّمْسُ ، فَكَانَتْ فِي عَيْنِ النَّاظِرِ قَيْدَ رُمْحَيْنِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ ، ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا بَعْدُ " وَقَالَ : ثُمَّ قَبَضَ أَطْرَافَ أَصَابِعِهِ ، ثُمَّ قَالَ ، أَوْ قَامَ أَنَا أَشُكُّ مَرَّةً أُخْرَى , وَقَدْ حَفِظْتُ مَا قَالَ فَمَا قَدَّمَ كَلِمَةً عَنْ مَنْزِلَتِهَا وَلَا أَخَّرَ شَيْئًا , وَقَدْ قَالَ أَبُو عَوَانَةَ : بَيْنَمَا أَنَا وَغُلَامٌ مِنَ الْأَنْصَارِ , وَقَالَ أَيْضًا : فَاسْوَدَّتْ حَتَّى آضَتْ , وَقَدْ قَالَ أَبُو عَوَانَةَ : " زُوُولٌ " وَلَكِنَّهَا " زُوُولٌ " أَصَوْبُ . .
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20190
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة ثعلبة بن عباد
حدیث نمبر: 20191
حَدَّثَنَا عبدُ الله ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٌ , وَعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنِ غِيَاثٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ ثَعْلَبَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ.
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20191
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة ثعلبة
حدیث نمبر: 20192
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ : " أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ التَّبَتُّلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گوشہ نشینی سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20192
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20193
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كُلُّ غُلَامٍ مُرْتَهَنٌ بِعَقِيقَتِهِ ، تُذْبَحُ يَوْمَ سَابِعِهِ ، وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ ، وَيُدَمَّى " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر لڑکا اپنے عقیقہ کے عوض گروی لکھا ہوا ہے لہذا اس کی طرف سے ساتویں دن قربانی کیا کرو اسی دن اس کا نام رکھا جائے اور سر کے بال مونڈے جائیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20193
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: تحت حديث: 5472
حدیث نمبر: 20194
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " وَيُسَمَّى " قَالَ هَمَّامٌ فِي حَدِيثِهِ : وَرَاجَعْنَاهُ : وَيُدَمَّى ؟ قَالَ هَمَّامٌ : فَكَانَ قَتَادَةُ يَصِفُ الدَّمَ , فَيَقُولُ : إِذَا ذَبَحَ الْعَقِيقَةَ تُؤْخَذُ صُوفَةٌ فَتُسْتَقْبَلُ أَوْدَاجُ الذَّبِيحَةِ ، ثُمَّ تُوضَعُ عَلَى يَافُوخِ الصَّبِيِّ ، حَتَّى إِذَا سَالَ غُسِلَ رَأْسُهُ ، ثُمَّ حُلِقَ بَعْدُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مراد ہے البتہ اس میں راوی حدیث قتادہ نے جانور ذبح کرنے کی تفصیل اس طرح بیان کی ہے کہ اون یا روئی کا ٹکڑا لے کر ذبح شدہ جانور کی رگوں کے سامنے کھڑا ہو پھر اس بچے کے سر پر رکھ دیا جائے جب وہ خون بہنے لگے تو اس کا سر دھو کر پھر اس کے بال مونڈ دیئے جائیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20194
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: تحت حديث: 5472
حدیث نمبر: 20195
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " جَارُ الدَّارِ أَحَقُّ بِالدَّارِ مِنْ غَيْرِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھر کا پڑوسی دوسرے کی نسبت اس گھر کا زیادہ حق دار ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20195
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20196
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِقَصْعَةٍ فِيهَا ثَرِيدٌ ، فَتَعَاقَبُوهَا إِلَى الظُّهْرِ مِنْ غُدْوَةٍ ، يَقُومُ نَاسٌ وَيَقْعُدُ آخَرُونَ ، قَالَ لَهُ رَجُلٌ : هَلْ كَانَتْ تُمَدُّ ؟ قَالَ : فَمِنْ أَيِّ شَيْءٍ تَعْجَبُ ؟ مَا كَانَتْ تُمَدُّ إِلَّا مِنْ هَاهُنَا وَأَشَارَ إِلَى السَّمَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک ثرید کا ایک پیالہ لایا گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول فرمایا اور لوگوں نے بھی اسے کھایا ظہر کے قریب تک اسے لوگ کھاتے رہے کہ ایک قوم آ کر کھاتی وہ کھڑی ہوجاتی تو اس کے بعد دوسری قوم آجاتی اور یہ سلسلہ چلتا رہا کسی آدمی نے پوچھا کہ اس پیالے میں برابر کھانا ڈالا جارہا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں تعجب کس بات پر ہورہا ہے آسمان سے اس میں برکت پیدا کردی گئی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20196
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20197
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ قَتَلْنَاهُ ، وَمَنْ جَدَعَ عَبْدَهُ جَدَعْنَاهُ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے غلام کو قتل کرے گا ہم اسے قتل کریں گے اور جو اپنے غلام کی ناک کاٹے گا ہم اس کی ناک کاٹیں گے۔ حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جو اپنے غلام کو خصی کرے گا ہم اسے خصی کردیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20197
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن