حدیث نمبر: 20118
قَالَ عَبْد اللَّهِ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ ، وَأَكْبَرُ ظَنِّي أَنِّي قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْهُ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " احْضُرُوا الذِّكْرَ ، وَادْنُوا مِنَ الْإِمَامِ ، فَإِنَّ الرَّجُلَ لَا يَزَالُ يَتَبَاعَدُ حَتَّى يُؤَخَّرَ فِي الْجَنَّةِ وَإِنْ دَخَلَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نماز جمعہ میں حاضر ہوا کرو اور امام کے قریب رہا کرو، کیونکہ انسان جمعہ سے پیچھے رہتے رہتے جنت سے پیچھے رہ جاتا ہے حالانکہ وہ اس کا مستحق ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20118
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20119
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ مَطَرٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ , أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ تُتَلَقَّى الْأَجْلَابُ حَتَّى تَبْلُغَ الْأَسْوَاقَ ، أَوْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے باہر سے آنے والے تاجروں کے ساتھ ان کے منڈی پہنچنے سے پہلے ملاقات کرنے سے منع فرمایا ہے، یا یہ کو کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان تجارت فروخت کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20119
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح الغيره، وهذا إسناد ضعيف، مطر حسن الحديث فى المتابعات والشواهد، والحسن لم يصرح بسماعه
حدیث نمبر: 20120
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ تَوَضَّأَ فَبِهَا وَنِعْمَتْ ، وَمَنْ اغْتَسَلَ فَذَاكَ أَفْضَلُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جمعہ کے دن وضو کرلے تو وہ بھی صحیح ہے اور جو شخص غسل کرلے تو یہ زیادہ افضل ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20120
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن لم يذكر سماعه
حدیث نمبر: 20121
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا أُنْكِحَتْ الْمَرْأَةُ زَوْجَيْنِ ، فَهِيَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا ، وَإِذَا بِيعَ الْبَيْعُ مِنْ رَجُلَيْنِ ، فَهُوَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس ایک عورت کا نکاح اس کے دو ولی مختلف جگہوں پر کردیں تو وہ ان میں سے پہلے کی ہوگی اور جس نے دو مختلف آدمیوں سے ایک ہی چیز خریدی تو وہ ان میں سے پہلے کی ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20121
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، الحسن البصري لم يصرح بسماعه
حدیث نمبر: 20122
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ قَتَلْنَاهُ ، وَمَنْ جَدَعَهُ جَدَعْنَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے غلام کو قتل کرے گا، ہم اسے قتل کریں گے اور جو اپنے غلام کی ناک کاٹے گا، ہم اس کی ناک کاٹ دیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20122
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، الحسن لم يصرح بسماعه
حدیث نمبر: 20123
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُوشِكُ أَنْ يَمْلَأَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَيْدِيَكُمْ مِنَ العَجَمِ ، ثُمَّ يَكُونُوا أُسْدًا لَا يَفِرُّونَ ، فَيَقْتُلُونَ مُقَاتِلَتَكُمْ ، وَيَأْكُلُونَ فَيْئَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب اللہ تمہارے ہاتھوں کو عجم سے بھر دے گا، پھر وہ ایسے شیر بن جائیں گے جو میدان سے نہیں بھاگیں گے، وہ تمہارے جنگجوؤں کو قتل کردیں گے اور تمہارا مال غنیمت کھا جائیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20123
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، هشيم والحسن مدلسان، وقد عنعنا
حدیث نمبر: 20124
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يُحَدِّثُ , عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ : صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ , فَقَالَ : " هَاهُنَا أَحَدٌ مِنْ بَنِي فُلَانٍ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ , قَالَ : " إِنَّ صَاحِبَكُمْ مُحْتَبَسٌ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ فِي دَيْنٍ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نمز پڑھائی تو نماز کے بعد فرمایا کیا یہاں فلاں قبیلے کا کوئی آدمی ہے ؟ ان لوگوں نے کہا جی ہاں ! (ہم موجود ہیں) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا ساتھی (جو فوت ہوگیا ہے) اپنے ایک قرض کے سلسلے میں جنت کے دروازے پر روک لیا گیا ہے (لہذا تم اس کا قرض ادا کرو)
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20124
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20125
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ قَتَلْنَاهُ ، وَمَنْ جَدَعَهُ جَدَعْنَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے غلام کو قتل کرے گا، ہم اسے قتل کریں گے اور جو اپنے غلام کی ناک کاٹے گا، ہم اس کی ناک کاٹ دیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20125
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، الحسن البصري لم يصرح بسماعه
حدیث نمبر: 20126
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ , عَنْ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا حَدَّثْتُكَ حَدِيثًا ، فَلَا تَزِيدُنَّ عَلَيْهِ " ، وَقَالَ : " أَرْبَعٌ مِنْ أَطْيَبِ الْكَلَامِ ، وَهُنَّ مِنَ الْقُرْآنِ ، لَا يَضُرُّكَ بِأَيِّهِنَّ بَدَأْتَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ " . ثُمَّ قَالَ : " لَا تُسَمِّيَنَّ غُلَامَكَ أَفْلَحًا وَلَا نَجِيحًا وَلَا رَبَاحًا وَلَا يَسَارًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب میں تم سے کوئی حدیث بیان کیا کروں تو اس سے زیادہ کا مطالبہ نہ کیا کرو، اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ کلمات چار ہیں لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اور الحمدللہ ان میں سے جس سے بھی آغاز کرلو، کوئی حرج والی بات نہیں ہے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اپنے بچوں کا نام افلح، نجیح (کامیاب) یسار (آسانی) اور رباح (نفع) مت رکھو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20126
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح إن كان هلال بن يساف سمعه من سمرة، وسماعه منه محتمل جدا، م: 2136
حدیث نمبر: 20127
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ : " كَانَ إِذَا كَبَّرَ سَكَتَ هُنَيَّةً ، وَإِذَا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ السُّورَةِ سَكَتَ هُنَيَّةً " , فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ، فَكَتَبُوا إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، فَكَتَبَ أُبَيٌّ يُصَدِّقُهُ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں دو مرتبہ سکوت فرماتے تھے، حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کا کہنا تھا کہ مجھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ یاد نہیں، ان دونوں نے اس سلسلے میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی طرف خط لکھا جس میں ان سے یہ مسئلہ دریافت کیا، حضرب ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے جواب میں لکھا کہ سمرہ نے بات یاد رکھی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20127
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، الحسن لم يصرح بسماعه
حدیث نمبر: 20128
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " جَارُ الدَّارِ أَحَقُّ بِالدَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھر کا پڑوسی دوسرے کی نسبت اس گھر کا زیادہ حقدار ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20128
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن لم يصرح بسماعه
حدیث نمبر: 20129
وَعَنْ سَمُرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الصَّلَاةُ الْوُسْطَى صَلَاةُ الْعَصْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " صلوۃ وسطی " سے نماز عصر مراد ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20129
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن لم يصرح بسماعه
حدیث نمبر: 20130
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَحَاطَ حَائِطًا عَلَى أَرْضٍ ، فَهِيَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی زمین پر باغ لگائے تو وہ اسی کی ملکیت میں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20130
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن لم يصرح بسماعه
حدیث نمبر: 20131
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَى الْيَدِ مَا أَخَذَتْ حَتَّى تُؤَدِّيَ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک ہاتھ (دوسرے سے) جو چیز لیتا ہے، وہ اس کے ذمے رہتی ہے یہاں تک کہ (دینے والے کو) واپس ادا کر دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20131
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن لم يصرح
حدیث نمبر: 20132
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ قَتَلْنَاهُ ، وَمَنْ جَدَعَهُ جَدَعْنَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے غلام کو قتل کرے گا، ہم اسے قتل کریں گے اور جو اپنے غلام کی ناک کاٹے گا، ہم اس کی ناک کاٹ دیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20132
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، الحسن لم يصرح بسماعه ، وهو مدلس
حدیث نمبر: 20133
قَالَ : قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُ مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَتُهُ ، تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ سَابِعِهِ ، وَيُسَمَّى وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر لڑکا اپنے عقیقہ کے عوض گروی لکھا ہوا ہے، لہذا اس کی طرف سے ساتویں دن قربانی کیا کرو، اسی دن اس کا نام رکھا جائے اور سر کے بال مونڈے جائیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20133
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: تحت حديث: 5472
حدیث نمبر: 20134
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ يَعْنِي أَبَا زَيْدٍ , حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ذَكَرَ : أَنَّ الَّذِي يُحَدِّثُ : " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ فِي النَّبِيذِ بَعْدَ مَا نَهَى عَنْهُ ، مُنْذِرٌ أَبُو حَسَّانَ ، ذَكَرَهُ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ , وَكَانَ يَقُولُ : مَنْ خَالَفَ الْحَجَّاجَ ، فَقَدْ خَالَفَ.
مولانا ظفر اقبال
عاصم کہتے ہیں یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ممانعت کے بعد خود ہی نبیذ کی اجازت دی تھی منذر ابوحسان حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بیان کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جو حجاج کی مخالفت کرتا ہے وہ خلاف کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20134
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا لأجل منذر أبى حسان
حدیث نمبر: 20135
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ , قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أُتِيَ بِقَصْعَةٍ فِيهَا ثَرِيدٌ , قَالَ : فَأَكَلَ وَأَكَلَ الْقَوْمُ ، فَلَمْ يَزَلْ القوم يَتَدَاوَلُونَهَا إِلَى قَرِيبٍ مِنَ الظُّهْرِ ، يَأْكُلُ كُلُّ قَوْمٍ ثُمَّ يَقُومُونَ ، وَيَجِيءُ قَوْمٌ فَيَتَعَاقَبُونهُ , قَالَ : فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : هَلْ كَانَتْ تُمَدُّ بِطَعَامٍ ؟ قَالَ : أَمَّا مِنَ الْأَرْضِ فَلَا ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ كَانَتْ تُمَدُّ مِنَ السَّمَاءِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ ثرید کا ایک پیالہ لایا گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول فرمایا اور لوگوں نے بھی اسے کھایا ظہر کے قریب تک اسے لوگ کھاتے رہے ایک قوم آکر کھاتی وہ کھڑی ہوجاتی تو اس کے بعد دوسری قوم آجاتی اور یہ سلسلہ چلتا رہا۔ کسی آدمی نے پوچھا کہ اس پیالے میں برابر کھانا ڈالا جارہا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمین پر تو کوئی اس میں کچھ نہیں ڈال رہا البتہ اگر آسمان سے اس میں برکت پیدا کردی گئی ہے تو اور بات ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20135
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم، لكنه متابع
حدیث نمبر: 20136
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ الْحَسَنِ ، قَالَ : جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ : إِنَّ عَبْدًا لَهُ أَبَقَ ، وَإِنَّهُ نَذَرَ إِنْ قَدَرَ عَلَيْهِ أَنْ يَقْطَعَ يَدَهُ ، فَقَالَ الْحَسَنُ , حَدَّثَنَا سَمُرَةُ , قَالَ : " قَلَّمَا خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَةً إِلَّا أَمَرَ فِيهَا بِالصَّدَقَةِ ، وَنَهَى فِيهَا عَنِ الْمُثْلَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حسن کہتے ہیں ایک آدمی ان کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اس کا ایک غلام بھاگ گیا ہے اور اس نے منت مانی ہے کہ اگر وہ اس پر قادر ہوگیا تو اس کا ہاتھ کاٹ دے گا حسن نے جواب دیا کہ ہمیں حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنائی ہے کہ بہت کم کسی خطبے میں ایسا ہوتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کا حکم نہ دیا ہو اور اس میں مثلہ کرنے کی ممانعت نہ کی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20136
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح إن كان حميد حفظ فيه تصريح الحسن البصري بسماعه من سمرة، فقد خالفه يزيد التستري فقال: عن الحسن، عن سمرة ولم يذكر سماعا
حدیث نمبر: 20137
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ وَغَيْرُهُ , عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ قَتَلْنَاهُ وَمَنْ جَدَعَهُ جَدَعْنَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے غلام کو قتل کرے گا ہم اسے قتل کریں گے اور جو اپنے غلام کی ناک کاٹے گا ہم اس کی ناک کاٹ دیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20137
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، الحسن لم يصرح بسماعه
حدیث نمبر: 20138
حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الرُّكَيْنَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُسَمِّيَ رَقِيقَكَ , أَرْبَعَةَ أَسْمَاءٍ : أَفْلَحَ , وَيَسَارًا , وَنَافِعًا , وَرَبَاحًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ جندب سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اپنے بچوں کا نام افلح، نجیح (کامیاب) یسار (آسانی) اور رباح (نفع) مت رکھو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20138
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2136
حدیث نمبر: 20139
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بُنْ يُوسِفُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كُلُّ غُلَامٍ رَهِينٌ بِعَقِيقَتِهِ ، تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ السَّابِعِ ، وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ ، وَيُسَمَّى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر لڑکا اپنے عقیقے کے عوض گروی لکھا ہوا ہے لہذا اس کی طرف سے ساتویں دن قربانی کیا کرو اسی دن اس کا نام رکھاجائے اور سر کے بال مونڈے جائیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20139
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: تحت حديث: 5472
حدیث نمبر: 20140
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الْبَيَاضِ ، فَلْيَلْبَسْهَا أَحْيَاؤُكُمْ ، وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ ، فَإِنَّهَا مِنْ خَيْرِ ثِيَابِكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سفید کپڑوں کو اپنے اوپر لازم کرلو خود سفید کپڑے پہنا کرو اور اپنے مردوں کو ان ہی میں دفن کیا کرو کیونکہ یہ تمہارے کپڑے میں سب سے بہترین ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20140
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، أبو قلابة لم يسمع من سمرة ، والواسطة بينهما ثقة
حدیث نمبر: 20141
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا أَنْكَحَ الْوَلِيَّانِ فَهِيَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس ایک عورت کا نکاح اس کے دو ولی مختلف جگہوں پر کردیں تو ان دونوں میں سے پہلے کی ہوگی اور جس نے دو مختلف آدمیوں سے ایک ہی چیز خریدی تو وہ ان میں سے پہلے کی ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20141
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، الحسن مدلس ولم يصرح بسماعه
حدیث نمبر: 20142
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کو اس وقت تک بیع فسخ کرنے کا اختیار رہتا ہے جب وہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20142
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن البصري لم يصرح بسماعه
حدیث نمبر: 20143
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کے بدلے میں جانور کی ادھار خریدو فروخت سے منع کیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20143
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن لم يصرح بسماعه
حدیث نمبر: 20144
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ ابْنِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَتَلَ ، فَلَهُ السَّلَبُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص میدان جنگ میں کسی مشرک کو قتل کرے گا اس کا سازوسامان اسی کو ملے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20144
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام ابن سمرة، فإن كان هو سليمان فهو مجهول الحال، وإن كان سعد فهو ثقة
حدیث نمبر: 20145
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْتُلُوا شُيُوخَ الْمُشْرِكِينَ ، وَاسْتَحْيُوا شَرْخَهُمْ " , قَالَ عَبْد اللَّهِ : سَأَلْتُ أَبِي عَنْ تَفْسِيرِ هَذَا الْحَدِيثِ : " اقْتُلُوا شُيُوخَ الْمُشْرِكِينَ " قَالَ : يَقُولُ : الشَّيْخُ لَا يَكَادُ أَنْ يُسْلِمَ ، وَالشَّابُّ ، أَيْ يُسْلِمُ ، كَأَنَّهُ أَقْرَبُ إِلَى الْإِسْلَامِ مِنَ الشَّيْخِ ، قَالَ : الشَّرْخُ : الشَّبَابُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مشرکین کے بوڑھوں کو قتل کردو اور ان کے جوانوں کو زندہ رکھو۔ امام احمد کے صاحبزادے کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے اس حدیث کی وضاحت دریافت کی تو انہوں نے فرمایا کہ بوڑھا آدمی عام طور پر اسلام قبول نہیں کرتا اور جوان کرلیتا ہے گویا جوان اسلام کے زیادہ قریب ہوتا ہے بہ نسبت بوڑھے کے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20145
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، الحسن لم يصرح بسماعه
حدیث نمبر: 20146
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ , عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا سُرِقَ مِنَ الرَّجُلِ مَتَاعٌ ، أَوْ ضَاعَ لَهُ مَتَاعٌ ، فَوَجَدَهُ بِيَدِ رَجُلٍ بِعَيْنِهِ ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ ، وَيَرْجِعُ الْمُشْتَرِي عَلَى الْبَائِعِ بِالثَّمَنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کا کوئی سامان چوری ہوجائے یا ضائع ہوجائے یا بعینہ اپنا سامان کسی شخص کے پاس دیکھے تو وہ اس کا زیادہ حق دار ہے اور مشتری (خریدنے والا) بائع (بچنے والا) سے اپنی قیمت وصول کرلے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20146
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، حجاج بن أرطاة مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20147
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " جَارُ الدَّارِ أَحَقُّ بِالدَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھر کا پڑوسی دوسرے کی نسبت اس گھر کا زیادہ حق دار ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20147
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20148
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَكَرِيَّا , حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَرْءُ أَحَقُّ بِعَيْنِ مَالِهِ حَيْثُ عَرَفَهُ ، وَيَتَّبِعُ الْبَيْعُ بَيْعَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص بعینہ اپنا سامان کسی شخص کے پاس دیکھے وہ اس کا زیادہ حق دار ہے اور مشتری (خریدنے والا) بائع (بچنے والا) سے اپنی قیمت وصول کرلے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20148
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس وقد عنعن
حدیث نمبر: 20149
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَوَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَمُرَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَغُرَّنَّكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ ، وَلَا هَذَا الْبَيَاضُ لِعَمُودِ الصُّبْحِ حَتَّى يَسْتَطِيرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ دوران خطبہ فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یا تمہیں بلال اذان اور یہ سفیدی دھوکہ نہ دے یہاں تک کہ طلوع صبح صادق ہوجائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20149
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، م: 1094، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20150
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ : " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَان يَقْرَأُ فِي الْجُمُعَةِ : ب سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى و هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ میں سبح اسم ربک الاعلی اور ہل اتاک حدیث کی تلاوت فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20150
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20151
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ , وَعَبْدُ الْوَهَّابِ , أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ : أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " إِنَّ الدَّجَّالَ خَارِجٌ وَهُوَ أَعْوَرُ عَيْنِ الشِّمَالِ ، عَلَيْهَا ظَفَرَةٌ غَلِيظَةٌ ، وَإِنَّهُ يُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ ، وَيُحْيِي الْمَوْتَى ، وَيَقُولُ لِلنَّاسِ أَنَا رَبُّكُمْ ، فَمَنْ قَالَ : أَنْتَ رَبِّي ، فَقَدْ فُتِنَ ، وَمَنْ قَالَ : رَبِّيَ اللَّهُ ، حَتَّى يَمُوتَ ، فَقَدْ عُصِمَ مِنْ فِتْنَتِهِ ، وَلَا فِتْنَةَ بَعْدَهُ عَلَيْهِ وَلَا عَذَابَ ، فَيَلْبَثُ فِي الْأَرْضِ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ يَجِيءُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِمَا السَّلَام مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ مُصَدِّقًا بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى مِلَّتِهِ ، فَيَقْتُلُ الدَّجَّالَ ، ثُمَّ إِنَّمَا هُوَ قِيَامُ السَّاعَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال کا خروج ہونے والا ہے اور وہ بائیں آنکھ سے کانا ہوگا اور اس پر ایک موٹا ناخنہ ہوگا وہ مادر زاد اندھوں اور برص کی بیماری والوں کو تندرست کردے گا اور مردوں کو زندہ کردے گا اور لوگوں سے کہے گا کہ میں تمہارا رب ہوں جو شخص یہ اقرار کرلے تو میرا رب ہے وہ فتنہ میں پڑگیا اور جس نے یہ کہا میرا رب اللہ ہے وہ آخردم تک اس پر ڈٹا رہا تو وہ اس کے فتنے سے محفوظ ہوجائے گا اور اسے کسی آزمائش میں مبتلا کیا جائے گا اور نہ ہی اسے کوئی عذاب ہوگا اور دجال زمین میں اس وقت تک رہے گا جب تک اللہ کو منظور ہوگا پھر مغرب کی جانب سے حضرت عیسیٰ کا نزول ہوگا اور وہ تشریف لائیں گے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کریں گے اور ان کی ملت پر ہوں گے اور وہ دجال کو قتل کریں گے اور پھر قیامت قریب آجائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20151
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، الحسن البصري مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20152
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْعُمْرَى جَائِزَةٌ لِأَهْلِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص کے حق میں عمری جائز ہوتا ہے جس کے لئے وہ کیا گیا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20152
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف ، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20153
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ : أَنَّ يَوْمَ حُنَيْنٍ كَانَ يَوْمًا مَطِيرًا ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيَهَ فَنَادَى : " أَنَّ الصَّلَاةَ فِي الرِّحَالِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے موقع پر بارش کے دن لوگوں سے فرما دیا کہ اپنے اپنے خیموں میں نماز پڑھ لو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20153
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20154
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْبَسُوا الثِّيَابَ الْبِيضَ ، فَإِنَّهَا أَطْهَرُ وَأَطْيَبُ ، وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سفید کپڑوں کو اپنے اوپر لازم کرلو خود سفید کپڑے پہنا کرو اور اپنے مردوں کو ان میں ہی دفن کیا کرو کیونکہ یہ تمہارے کپڑوں میں سب سے بہتر ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20154
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، رواية ميمون بن أبى شبيب عن الصحابة منقطعة
حدیث نمبر: 20155
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الصَّلَاةُ الْوُسْطَى صَلَاةُ الْعَصْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صلوۃ الوسطی سے نماز عصر مراد ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20155
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن البصري لم يذكر سماعه من سمرة
حدیث نمبر: 20156
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " عَلَى الْيَدِ مَا أَخَذَتْ حَتَّى تُؤَدِّيَهُ " , ثُمَّ نَسِيَ الْحَسَنُ قَالَ : لَا يَضْمَنُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ایک ہاتھ (دوسرے سے) جو چیز لیتا ہے وہ اس کے ذمے رہتی ہے یہاں تک کہ (دینے والے کو) واپس ادا کردے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20156
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20157
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الْفَجْرَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ : " هَاهُنَا مِنْ بَنِي فُلَانٍ أَحَدٌ ؟ " مَرَّتَيْنِ ، فَقَالَ رَجُلٌ : هُوَ ذَا , فَكَأَنِّي أَسْمَعُ صَوْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ صَاحِبَكُمْ قَدْ حُبِسَ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ بِدَيْنٍ كَانَ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھائی تو نماز کے بعد فرمایا کیا یہاں فلاں قبیلے کا کوئی آدمی ہے ؟ ایک آدمی نے کہا جی ہاں ! (ہم موجود ہیں) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا ساتھی (جو فوت ہوگیا ہے) اپنے ایک قرض کے سلسلے میں جنت کے دروازے پر روک لیا گیا ہے (لہذا تم اس کا قرض ادا کرو)
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20157
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح