حدیث نمبر: 20078
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ عَمِيلَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تُسَمِّ غُلَامَكَ أَفْلَحَ وَلَا نَجِيحًا وَلَا يَسَارًا وَلَا رَبَاحًا ، فَإِنَّكَ إِذَا قُلْتَ أَثَمَّ هُوَ ، أَوْ أَثَمَّ فُلَانٌ ؟ قَالُوا : لَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اپنے بچوں کا نام افلح، نجیح (کامیاب) یسار (آسانی) اور رباح (نفع) مت رکھو، اس لئے کہ جب تم اس کا نام لے کر پوچھو گے کہ وہ یہاں ہے تو لوگ کہیں گے کہ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 20079
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , وَرَوْحٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ بَنِيٍ قُشَيْرٍ , قَالَ رَوْحٌ , قَالَ : سَمِعْتُ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِيَّ ، وَكَانَ إِمَامَهُمْ , قَالَ : سَمِعْتُ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ يَخْطُبُ , يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَغُرَّنَّكُمْ نِدَاءُ بِلَالٍ ، وَهَذَا الْبَيَاضُ حَتَّى يَنْفَجِرَ الْفَجْرُ " أَوْ " يَطْلُعَ الْفَجْرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ دوران خطبہ فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہیں بلال کی اذان اور یہ سفیدی دھوکہ نہ دے یہاں تک کہ طلوع صبح صادق ہوجائے۔
حدیث نمبر: 20080
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ , وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَعْبَدَ بْنَ خَالِدٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ : ب سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى و هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدین میں سبح اسم ربک الاعلی اور ہل اتاک حدیث الغاشیۃ کی تلاوت فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 20081
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ : " كَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَكْتَتَانِ فِي صَلَاتِهِ " ,وَقَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ : أَنَا مَا أَحْفَظُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَكَتَبُوا فِي ذَلِكَ إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ يَسْأَلُونَهُ عَنْهُ ، فَكَتَبَ أُبَيٌّ أَنَّ سَمُرَةَ قَدْ حَفِظَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں دو مرتبہ سکوت فرماتے تھے، حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کا کہنا تھا کہ مجھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ یاد نہیں، ان دونوں نے اس سلسلے میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی طرف خط لکھا جس میں ان سے یہ مسئلہ دریافت کیا، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے جواب میں لکھا کہ سمرہ نے بات یاد رکھی ہے۔
حدیث نمبر: 20082
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , وَرَوْحٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " هِيَ الْعَصْرُ " , قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍِ : سُئِلَ عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ " صلوۃ وسطی " سے کیا مردا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز عصر۔
حدیث نمبر: 20083
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ , وَيَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ , وَبَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ : " كُلُّ غُلَامٍ رَهِينَةٌ بِعَقِيقَتِهِ ، تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ سَابِعِهِ , وَقَالَ بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ : وَيُدَمَّى وَيُسَمَّى فِيهِ وَيُحْلَقُ " قَالَ يَزِيدُ : رَأْسُهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر لڑکا اپنے عقیقہ کے عوض گروی رکھا ہوا ہے، لہذا اس کی طرف سے ساتویں دن قربانی کیا کرو، اسی دن اس کا نام رکھا جائے اور سر کے بال مونڈے جائیں۔
حدیث نمبر: 20084
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ , وَبَهْزٌ , حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ , عَنْ سَمُرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْعُمْرَى جَائِزَةٌ لِأَهْلِهَا " , قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فِي حَدِيثِهِ : لِأَهْلِهَا أَوْ مِيرَاثٌ لِأَهْلِهَا.
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص کے حق میں " عمری " جائز ہوتا ہے جس کے لئے وہ کیا گیا ہو۔
حدیث نمبر: 20085
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَشَكَّ فِيهِ فِي كِتَابِ الْبُيُوعِ , فَقَالَ : عَنْ عُقْبَةَ أَوْ سَمُرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَيُّمَا امْرَأَةٍ زَوَّجَهَا وَلِيَّانِ ، فَهِيَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا ، وَمَنْ بَاعَ بَيْعًا مِنْ رَجُلَيْنِ ، فَهُوَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس ایک عورت کا نکاح اس کے دو ولی مختلف جگہوں پر کردیں تو وہ ان میں سے پہلے کی ہوگی اور جب کسی نے دو مختلف آدمیوں سے ایک ہی چیز خریدی تو وہ ان میں سے پہلے کی ہوگی۔
حدیث نمبر: 20086
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " عَلَى الْيَدِ مَا أَخَذَتْ حَتَّى تُؤَدِّيَهُ " , وَقَالَ ابْنُ بِشْرٍ : حَتَّى تُؤَدِّيَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک ہاتھ (دوسرے سے) جو چیز لیتا ہے، وہ اس کے ذمے رہتی ہے یہاں تک کہ (دینے والے کو) واپس ادا کر دے۔
حدیث نمبر: 20087
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ وَيَزِيدُ ، أخبرنا همام وحدثنا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنِي قُدَامَةُ بْنُ وَبَرَةَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عُجَيْفٍ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ تَرَكَ جُمُعَةً فِي غَيْرِ عُذْرٍ ، فَلْيَتَصَدَّقْ بِدِينَارٍ ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ ، فَنِصْفُ دِينَارٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص بلاعذر ایک جمعہ چھوڑ دے، اسے چاہیے کہ ایک دینار صدقہ کرے، اگر ایک دینار نہ ملے تو نصف دینار ہی صدقہ کر دے۔
حدیث نمبر: 20088
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , وَعَفَّانُ , قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " جَارُ الدَّارِ أَحَقُّ بِالدَّارِ مِنْ غَيْرِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھر کا پڑوسی دوسرے کی نسبت اس گھر کا زیادہ حقدار ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 20089
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , وَعَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَوَضَّأَ فَبِهَا وَنِعْمَتْ ، وَمَنْ اغْتَسَلَ ، فَذَلِكَ أَفْضَلُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جمعہ کے دن وضو کرلے تو وہ بھی صحیح ہے اور جو شخص غسل کرلے تو یہ زیادہ افضل ہے۔
حدیث نمبر: 20090
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , وَعَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ , قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ : حَدَّثَنِي قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا أنَكَحَ الْمَرْأَةَ الْوَلِيَّانِ ، فَهِيَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا ، وَإِذَا بِيعَ الْبَيْعُ مِنَ الرَّجُلَيْنِ ، فَهِيَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس ایک عورت کا نکاح اس کے دو ولی مختلف جگہوں پر کردیں تو وہ ان میں سے پہلے کی ہوگی اور جب کسی نے دو مختلف آدمیوں سے ایک ہی چیز خریدی تو وہ ان میں سے پہلے کی ہوگی۔
حدیث نمبر: 20091
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , وَعَفَّانُ , قَالَا : حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ : أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ سورة البقرة آية 238 قَالَ عَفَّانُ : الصَّلَاةِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى سورة البقرة آية 238 , وَسَمَّاهَا لَنَا : " إِنَّمَا هِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ " صلوۃ وسطی " سے کیا مراد ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز عصر۔
حدیث نمبر: 20092
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ : " الصَّلَاةُ فِي الرِّحَالِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے موقع پر بارش کے دن لوگوں سے فرمادیا کہ اپنے اپنے خیموں میں نماز پڑھ لو۔
حدیث نمبر: 20093
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، قَالَ : وَحَدَّثَنِي رَجُلٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَمُرَةَ يَخْطُبُ عَلَى مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ , وَهُوَ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ الْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلْعٍ ، وَإِنَّكَ إِنْ تُرِدْ إِقَامَةَ الضِّلْعِ تَكْسِرْهَا ، فَدَارِهَا تَعِشْ بِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے، اگر تم پسلی کو سیدھا کرنا چاہو گے تو اسے توڑ دو گے، اس لئے اس کے ساتھ اسی حال میں زندگی گزارو۔
حدیث نمبر: 20094
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ ، حَدَّثَنَا سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ الْفَزَارِيُّ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا يَقُولُ لِأَصْحَابِهِ : " هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمْ رُؤْيَا ؟ " قَالَ : فَيَقُصُّ عَلَيْهِ مَنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُصَّ ، قَالَ : وَإِنَّهُ قَالَ لَنَا ذَاتَ غَدَاةٍ : " إِنَّهُ أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتِيَانِ ، وَإِنَّهُمَا ابْتَعَثَانِي ، وَإِنَّهُمَا قَالَا لِي : انْطَلِقْ , وَإِنِّي انْطَلَقْتُ مَعَهُمَا ، وَإِنَّا أَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ مُضْطَجِعٍ ، وَإِذَا آخَرُ قَائِمٌ عَلَيْهِ بِصَخْرَةٍ ، وَإِذَا هُوَ يَهْوِي عَلَيْهِ بِالصَّخْرَةِ لِرَأْسِهِ ، فَيَثْلَغُ بِهَا رَأْسَهُ فَيَتَدَهْدَهُ الْحَجَرُ هَاهُنَا ، فَيَتْبَعُ الْحَجَرَ يَأْخُذُهُ ، فَمَا يَرْجِعُ إِلَيْهِ حَتَّى يَصِحَّ رَأْسُهُ كَمَا كَانَ ، ثُمَّ يَعُودُ عَلَيْهِ ، فَيَفْعَلُ بِهِ مِثْلَ مَا فَعَلَ الْمَرَّةَ الْأُولَى , قَالَ : قُلْتُ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، مَا هَذَانِ ؟ قَالَا لِي : انْطَلِقْ انْطَلِقْ , فَانْطَلَقْتُ مَعَهُمَا ، فَأَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ مُسْتَلْقٍ لِقَفَاهُ ، وَإِذَا آخَرُ قَائِمٌ عَلَيْهِ بِكَلُّوبٍ مِنْ حَدِيدٍ ، وَإِذَا هُوَ يَأْتِي أَحَدَ شِقَّيْ وَجْهِهِ فَيُشَرْشِرُ شِدْقَهُ إِلَى قَفَاهُ ، وَمَنْخِرَاهُ إِلَى قَفَاهُ ، وَعَيْنَاهُ إِلَى قَفَاهُ , قَالَ : ثُمَّ يَتَحَوَّلُ إِلَى الْجَانِبِ الْآخَرِ فَيَفْعَلُ بِهِ مِثْلَ مَا فَعَلَ بِالْجَانِبِ الْأَوَّلِ ، فَمَا يَفْرُغُ مِنْ ذَلِكَ الْجَانِبِ حَتَّى يَصِحَّ الْأَوَّلُ كَمَا كَانَ ، ثُمَّ يَعُودُ فَيَفْعَلُ بِهِ مِثْلَ مَا فَعَلَ بِهِ الْمَرَّةَ الْأُولَى ، قَالَ : قُلْتُ : سُبْحَانَ اللَّهِ مَا هَذَانِ ؟ قَالَا لِي : انْطَلِقْ انْطَلِقْ , فَانْطَلَقْنَا فَأَتَيْنَا عَلَى مِثْلِ بِنَاءِ التَّنُّورِ , قَالَ عَوْفٌ : وَأَحْسَبُ أَنَّهُ قَالَ : وَإِذَا فِيهِ لَغَطٌ وَأَصْوَاتٌ قَالَ : فَاطَّلَعْتُ ، فَإِذَا فِيهِ رِجَالٌ وَنِسَاءٌ عُرَاةٌ ، وَإِذَا هُمْ يَأْتِيهِمْ لَهِيبٌ مِنْ أَسْفَلَ مِنْهُمْ ، فَإِذَا أَتَاهُمْ ذَلِكَ اللَّهَبُ ضَوْضَوْا , قَالَ : قُلْتُ : مَا هَؤُلَاءِ ؟ قَالَا لِي : انْطَلِقْ انْطَلِقْ , قال : فَانْطَلَقْنَا فَأَتَيْنَا عَلَى نَهَرٍ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ : أَحْمَرَ مِثْلِ الدَّمِ ، وَإِذَا فِي النَّهَرِ رَجُلٌ يَسْبَحُ ، ثُمَّ يَأْتِي ذَلِكَ الرَّجُلُ الَّذِي قَدْ جَمَعَ الْحِجَارَةَ ، فَيَفْغَرُ لَهُ فَاهُ ، فَيُلْقِمُهُ حَجَرًا حَجَرًا , قَالَ : فَيَنْطَلِقُ فَيَسْبَحُ مَا يَسْبَحُ ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَيْهِ ، كُلَّمَا رَجَعَ إِلَيْهِ ، فَغَرَ لَهُ فَاهُ وَأَلْقَمَهُ حَجَرًا ، قَالَ : قُلْتُ : مَا هَذَا ؟ قَالَ : قَالَا لِي : انْطَلِقْ انْطَلِقْ , فَانْطَلَقْنَا فَأَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ كَرِيهِ الْمَرْآةِ ، كَأَكْرَهِ مَا أَنْتَ رَاءٍ رَجُلًا مَرْآةً , فَإِذَا هُوَ عِنْدَ نَارٍ لَهُ يَحُشُّهَا وَيَسْعَى حَوْلَهَا ، قُلْتُ لَهُمَا : مَا هَذَا ؟ قَالَا لِي : انْطَلِقْ انْطَلِقْ , قَالَ : فَانْطَلَقْنَا ، فَأَتَيْنَا عَلَى رَوْضَةٍ مُعْشِبَةٍ ، فِيهَا مِنْ كُلِّ نَوْرِ الرَّبِيعِ , قَالَ : وَإِذَا بَيْنَ ظَهْرَانَيْ الرَّوْضَةِ رَجُلٌ قَائِمٌ طَوِيلٌ ، لَا أَكَادُ أَنْ أَرَى رَأْسَهُ طُولًا فِي السَّمَاءِ ، وَإِذَا حَوْلَ الرَّجُلِ مِنْ أَكْثَرِ وِلْدَانٍ رَأَيْتُهُمْ قَطُّ وَأَحْسَنِهِ , قَالَ : قُلْتُ لَهُمَا : مَا هَذَا ؟ وَمَا هَؤُلَاءِ ؟ قَالَا لِي : انْطَلِقْ انْطَلِقْ , فَانْطَلَقْنَا فَانْتَهَيْنَا إِلَى دَوْحَةٍ عَظِيمَةٍ ، لَمْ أَرَ دَوْحَةً قَطُّ أَعْظَمَ مِنْهَا وَلَا أَحْسَنَ , قَالَ : فَقَالَا لِي : ارْقَ فِيهَا , فَارْتَقَيْنَا فِيهَا ، فَانْتَهَيْتُ إِلَى مَدِينَةٍ مَبْنِيَّةٍ بِلَبِنٍ ذَهَبٍ ، وَلَبِنٍ فِضَّةٍ ، فَأَتَيْنَا بَابَ الْمَدِينَةِ ، فَاسْتَفْتَحْنَا ، فَفُتِحَ لَنَا ، فَدَخَلْنَا فَلَقِينَا فِيهَا رِجَالًا شَطْرٌ مِنْ خَلْقِهِمْ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ ، وَشَطْرٌ كَأَقْبَحِ مَا أَنْتَ رَاءٍ , قَالَ : فَقَالَا لَهُم : اذْهَبُوا فَقَعُوا فِي ذَلِكَ النَّهَرِ , فَإِذَا نَهَرٌ صَغِيرٌ مُعْتَرِضٌ يَجْرِي ، كَأَنَّمَا هُوَ الْمَحْضُ فِي الْبَيَاضِ , قَالَ : فَذَهَبُوا فَوَقَعُوا فِيهِ ، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَيْنَا وَقَدْ ذَهَبَ ذَلِكَ السُّوءُ عَنْهُمْ ، وَصَارُوا فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ , قَالَ : فَقَالَا لِي : هَذِهِ جَنَّةُ عَدْنٍ ، وَهَذَاكَ مَنْزِلُكَ ، قَالَ : فَبَيْنَمَا بَصَرِي صُعُدًا ، فَإِذَا قَصْرٌ مِثْلُ الرَّبَابَةِ الْبَيْضَاءِ ، قَالَا لِي : هَذَاكَ مَنْزِلُكَ ، قَالَ : قُلْتُ لَهُمَا : بَارَكَ اللَّهُ فِيكُمَا ، ذَرَانِي فَلَأَدْخُلُهُ , قَالَ : قَالَا لِي : أما الْآنَ فَلَا ، وَأَنْتَ دَاخِلُهُ , قَالَ : فَإِنِّي رَأَيْتُ مُنْذُ اللَّيْلَةِ عَجَبًا ، فَمَا هَذَا الَّذِي رَأَيْتُ ؟ قَالَ : قَالَا لِي : أَمَا إِنَّا سَنُخْبِرُكَ أَمَّا الرَّجُلُ الْأَوَّلُ الَّذِي أَتَيْتَ عَلَيْهِ يُثْلَغُ رَأْسُهُ بِالْحَجَرِ ، فَإِنَّهُ رَجُلٌ يَأْخُذُ الْقُرْآنَ فَيَرْفُضُهُ ، وَيَنَامُ عَنِ الصَّلَوَاتِ الْمَكْتُوبَةِ , وَأَمَّا الرَّجُلُ الَّذِي أَتَيْتَ عَلَيْهِ يُشَرْشَرُ شِدْقُهُ إِلَى قَفَاهُ ، وَعَيْنَاهُ إِلَى قَفَاهُ ، وَمَنْخِرَاهُ إِلَى قَفَاهُ ، فَإِنَّهُ الرَّجُلُ يَغْدُو مِنْ بَيْتِهِ ، فَيَكْذِبُ الْكَذِبَةَ تَبْلُغُ الْآفَاقَ , وَأَمَّا الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ الْعُرَاةُ الَّذِينَ فِي بِنَاءٍ مِثْلِ بِنَاءِ التَّنُّورِ ، فَإِنَّهُمْ الزُّنَاةُ وَالزَّوَانِي , وَأَمَّا الرَّجُلُ الَّذِي يَسْبَحُ فِي النَّهَرِ وَيُلْقَمُ الْحِجَارَةَ ، فَإِنَّهُ آكِلُ الرِّبَا , وَأَمَّا الرَّجُلُ الْكَرِيهُ الْمَرْآةِ الَّذِي عِنْدَ النَّارِ يَحُشُّهَا ، فَإِنَّهُ مَالِكٌ خَازِنُ جَهَنَّمَ , وَأَمَّا الرَّجُلُ الطَّوِيلُ الَّذِي رَأَيْتَ فِي الرَّوْضَةِ ، فَإِنَّهُ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام , وَأَمَّا الْوِلْدَانُ الَّذِينَ حَوْلَهُ ، فَكُلُّ مَوْلُودٍ مَاتَ عَلَى الْفِطْرَةِ " , قَالَ : فَقَالَ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَأَوْلَادُ الْمُشْرِكِينَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَأَوْلَادُ الْمُشْرِكِينَ , وَأَمَّا الْقَوْمُ الَّذِينَ كَانَ شَطْرٌ مِنْهُمْ حَسَنًا ، وَشَطْرٌ قَبِيحًا ، فَإِنَّهُمْ خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا ، وَآخَرَ سَيِّئًا ، فَتَجَاوَزَ اللَّهُ عَنْهُمْ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز پڑھ کر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرماتے تھے کہ تم میں سے کسی نے آج رات کوئی خواب دیکھا ہے ؟ اگر کسی نے کوئی خواب دیکھا ہوتا تو عرض کردیتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی مشیت کے موافق اس کی تعبیر دے دیتے تھے۔ چنانچہ حسب دستور ایک روز حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے پوچھا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے ؟ ہم نے عرض کیا نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے آج رات خواب میں دیکھا کہ دو آدمی میرے پاس آئے اور میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے پاک زمین (بیت المقدس) کی طرف لے گئے، وہاں ایک شخص بیٹھا ہوا تھا اور ایک آدمی کھڑا ہوا تھا جس کے ہاتھ میں لوہے کا آنکڑا تھا، کھڑا ہوا آدمی بیٹھے ہوئے آدمی کے منہ میں وہ آنکڑا ڈال کر ایک طرف سے اس کا جبڑا چیر کر گدی سے ملا دیتا تھا اور پھر دوسرے جبڑے کو بھی اسی طرح چیر کر گدی سے ملا دیتا تھا، اتنے میں پہلا جبڑا صحیح ہوجاتا تھا اور وہ دوبارہ پھر اسی طرح چیرتا تھا میں نے دریافت کیا یہ کیا بات ہے ؟ ان دونوں شخصوں نے کہا آگے چلو، ہم آگے چل دیئے، ایک جگہ پہنچ کر دیکھا کہ ایک شخص چت لیٹا ہے اور ایک اور آدمی اس کے سر پر پتھر لئے کھڑا ہے اور پتھر سے اس کے سر کو کچل رہا ہے، جب اس کے سر پر پتھر مارتا ہے تو پتھر لڑھک جاتا ہے اور وہ آدمی پتھر لینے چلا جاتا ہے، اتنے میں اس کا سر جڑ جاتا ہے اور مارنے والا آدمی پھر واپس آ کر اس کو مارتا ہے، میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے ؟ ان دونوں شخصوں نے کہا کہ آگے چلو، ہم آگے چل دئیے، ایک جگہ دیکھا کہ تنور کی طرح ایک گڑھا ہے جس کا منہ تنگ ہے اور اندر سے کشادہ ہے، برہنہ مرد و عورت اس میں موجود ہیں اور آگ بھی اس میں جل رہی ہے جب آگ (تنور کے کناروں کے) قریب آجاتی ہے تو وہ لوگ اوپر اٹھ آتے ہیں اور باہر نکلنے کے قریب ہوجاتے ہیں اور جب آگ نیچے ہوجاتی ہے تو سب لوگ اندر ہوجاتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ ان دونوں آدمیوں نے کہا کہ آگے چلو، ہم آگے چل دیئے اور ایک خون کی ندی پر پہنچے جس کے اندر ایک آدمی کھڑا تھا اور ندی کے کنارہ پر ایک اور آدمی موجود تھا جس کے آگے پتھر رکھے ہوئے تھے، اندر والا آدمی جب باہر نکلنے کے لئے آگے بڑھتا تھا تو باہر والا آدمی اس کے منہ پر پتھر مار کر پیچھے ہٹا دیتا تھا اور اصلی جگہ تک پہنچا دیتا تھا، دوبارہ پھر اندر والا آدمی نکلنا چاہتا تھا اور باہر والا آدمی اس کے منہ پر پتھر ماتا تھا اور اصلی جگہ تک پلٹا دیتا تھا، میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے ؟ ان دونوں شخصوں نے کہا کہ آگے چلو، ہم آگے چل دیئے۔ ایک جگہ دیکھا کہ ایک درخت کے نیچے جڑ کے پاس ایک بوڑھا آدمی اور کچھ لڑکے موجود ہیں اور درخت کے قریب ایک اور آدمی ہے جس کے سامنے آگ موجود ہے اور وہ آگ جلا رہا ہے میرے دونوں ساتھی مجھے اس درخت کے اوپر چڑھا لے گئے اور ایک مکان میں داخل کیا، جس سے بہتر اور عمدہ میں نے کبھی کوئی مکان نہیں دیکھا گھر کے اندر مرد بھی تھے اور عورتیں بھی، بوڑھے بھی جوان بھی اور بچے بھی اس کے بعد وہ دونوں ساتھی مجھے اس مکان سے نکال کر درخت کے اوپر چڑھا کرلے گئے میں ایک شہر میں پہنچا جس کی تعمیر میں ایک اینٹ سونے کی اور ایک اینٹ چاندی کی استعمال کی گئی تھی، ہم نے دروازے پر پہنچ کر اسے کھٹکھٹایا، دروازہ کھلا اور ہم اندر داخل ہوئے تو ایسے لوگوں سے ملاقات ہوئی جن کا آدھا حصہ تو انتہائی حسین و جمیل تھا اور آدھا دھڑ انتہائی قبیح تھا، ان دونوں نے ان لوگوں سے کہا کہ جا کر اس نہر میں غوطہ لگاؤ، وہاں ایک چھوٹی سی نہر بہہ رہی تھی، جس کا پانی انتہائی سفید تھا، انہوں نے جا کر اس میں غوطہ لگایا، جب واپس آئے تو وہ قباحت ختم ہوچکی تھی اور وہ انتہائی خوبصورت ہوچکے تھے، پھر ان دونوں نے مجھ سے کہا کہ یہ جنت عدن ہے اور وہ آپ کا ٹھکانہ ہے، میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو سفید رنگ کا ایک محل نظر آیا، میں نے ان دونوں سے کہا کہ اللہ تمہیں برکتیں دے، مجھے چھوڑو کہ میں اس میں داخل ہوجاؤں انہوں نے کہا ابھی نہیں، البتہ آپ اس میں جائیں گے ضرور، میں نے کہا کہ تم دونوں نے مجھے رات بھر گھمایا اب جو کچھ میں نے دیکھا ہے اس کی تفصیل تو بیان کرو انہوں نے کہا کہ اچھا ہم بتاتے ہیں۔ جس شخص کے تم نے گلپھڑے چرتے ہوئے دیکھا تھا وہ جھوٹا آدمی تھا کہ جھوٹی باتیں بنا کر لوگوں سے کہتا تھا اور لوگ اس سے سیکھ کر اوروں سے نقل کرتے تھے یہاں تک کہ سارے جہان میں وہ جھوٹ مشہور ہوجاتا تھا، قیامت تک اس پر یہ عذاب رہے گا اور جس شخص کا سر کچلتے ہوئے تم نے دیکھا ہے اس شخص کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کا علم عطا کیا تھا لیکن وہ فرض نماز سے غافل ہو کر رات کو سو جاتا تھا اور دن کو اس پر عمل نہ کرتا تھا قیامت تک اس پر یہی عذاب رہے گا اور جن لوگوں کو تم نے گڑ
حدیث نمبر: 20095
قال أبو عبد الرحمن : قال أبي : سَمِعْت مِنْ عَبَّادِ بْنِ عَبَّادٍ يُخْبِرُ بِهِ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ ، عَنْ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " فَيَتَدَهْدَهُ الْحَجَرُ هَاهُنَا " قَالَ أَبِي : فَجَعَلْتُ أَتَعَجَّبُ مِنْ فَصَاحَةِ عَبَّادٍ.
حدیث نمبر: 20096
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُرِّ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَعَا الْحَجَّامَ ، فَأَتَاهُ بِقُرُونٍ ، فَأَلْزَمَهُ إِيَّاهَا , قَالَ عَفَّانُ مَرَّةً : بِقَرْنٍ ثُمَّ شَرَطَهُ بِشَفْرَةٍ ، فَدَخَلَ أَعْرَابِيٌّ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ ، أَحَدِ بَنِي جَذِيمَةَ ، فَلَمَّا رَآهُ يَحْتَجِمُ ، وَلَا عَهْدَ لَهُ بِالْحِجَامَةِ وَلَا يَعْرِفُهَا ، قَالَ : مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ عَلَامَ تَدَعُ هَذَا يَقْطَعُ جِلْدَكَ ؟ قَالَ : " هَذَا الْحَجْمُ " قَالَ : وَمَا الْحَجْمُ ؟ قَالَ : " هو مِنْ خَيْرِ مَا تَدَاوَى بِهِ النَّاسُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجام کو بلایا ہوا تھا، وہ اپنے ساتھ سینگ لے کر آگیا، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سینگ لگایا اور نشتر سے چیرا لگایا، اسی اثنا میں بنوفزارہ کا ایک دیہاتی بھی آگیا، جس کا تعلق بنوجذیمہ کے ساتھ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس نے سینگی لگواتے ہوئے دیکھا تو چونکہ اسے سینگی کے متعلق کچھ معلوم نہیں تھا، اس لئے وہ کہنے لگا یا رسول اللہ ! یہ کیا ہے ؟ آپ نے اسے اپنی کھال کاٹنے کی اجازت کیوں دی ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے " حجم " کہتے ہیں، اس نے پوچھا کہ " حجم " کیا چیز ہوتی ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا علاج کا سب سے بہترین طریقہ، جس سے لوگ علاج کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 20097
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنِي سَوَادَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ , يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَغُرَّنَّكُمْ نِدَاءُ بِلَالٍ ، فَإِنَّ فِي بَصَرِهِ سُوءًا ، وَلَا بَيَاضٌ يُرَى بِأَعْلَى السَّحَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ دوران خطبہ فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہیں بلال کی اذان اور یہ سفیدی دھوکہ نہ دے یہاں تک کہ طلوع صبح صادق ہوجائے کیونکہ بلال کی آنکھیں کچھ کمزور ہیں۔
حدیث نمبر: 20098
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ , وَيَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ أَبِي قَزَعَةَ ، عَنِ الْأَسْقَعِ بْنِ الْأَسْلَعِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ مِنَ الْإِزَارِ فِي النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تہبند کا جو حصہ ٹخنوں کے نیچے رہے گا، وہ جہنم کی آگ میں جلے گا۔
حدیث نمبر: 20099
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ , أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " سَامُ أَبُو الْعَرَبِ ، وَحَامُ أَبُو الْحَبَشِ ، وَيَافِثُ أَبُو الرُّومِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سام اہل عرب کا مورث اعلی ہے، حام اہل حبش کا مورث اعلی ہے اور یافث رومیوں کا مورث اعلی ہے۔
حدیث نمبر: 20100
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، قال : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : وَحَدَّثَ الْحَسَنُ ، عَنْ سَمُرَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " سَامُ أَبُو الْعَرَبِ ، وَيَافِثُ أَبُو الرُّومِ ، وَحَامُ أَبُو الْحَبَشِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سام اہل عرب کا مورث اعلی ہے، حام اہل حبش کا مورث اعلی ہے اور یافث رومیوں کا مورث اعلی ہے۔
حدیث نمبر: 20101
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ : قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي رَجُلًا يَسْبَحُ فِي نَهَرٍ وَيُلْقَمُ الْحِجَارَةَ ، فَسَأَلْتُ : مَا هَذَا ؟ فَقِيلَ لِي : آكِلُ الرِّبَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا شب معراج میں نے ایک آدمی کو دیکھا جو نہر میں تیر رہا تھا اور اس کے منہ میں پتھروں کا لقمہ دیا جا رہا تھا، میں نے اس کے متعلق پوچھا تو مجھے بتایا گیا کہ وہ سودخور ہے۔
حدیث نمبر: 20102
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَسَبُ الْمَالُ ، وَالْكَرَمُ التَّقْوَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلا نے ارشاد فرمایا حسب سے مراد مال و دولت ہے اور کرم سے مراد تقویٰ ہے۔
حدیث نمبر: 20103
حَدَّثَنَا يُونُسُ , وَحُسَيْنٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ : وَسَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ , أَنَّهُ سَمِعَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ مِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى كَعْبَيْهِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى حُجْزَتِهِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى تَرْقُوَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اہل جہنم میں کچھ لوگ تو ایسے ہوں گے جو ٹخنوں تک آگ کی لپیٹ میں ہوں گے، کچھ گھٹنوں تک کچھ سرین تک اور کچھ لوگ ہنسلی کی ہڈی تک اس کی لپیٹ میں ہوں گے۔
حدیث نمبر: 20104
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ وَلَمْ يَسْمَعْهُ مِنْهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ قَتَلْنَاهُ ، وَمَنْ جَدَعَ عَبْدَهُ جَدَعْنَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے غلام کو قتل کرے گا، ہم اسے قتل کریں گے اور جو اپنے غلام کی ناک کاٹے گا، ہم اس کی ناک کاٹ دیں گے۔
حدیث نمبر: 20105
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمْ الْبِيضَ ، وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سفید کپڑے پہنا کرو اور اپنے مردوں کو ان ہی میں دفن کیا کرو۔
حدیث نمبر: 20106
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ الْفَزَارِيِّ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى الْحَجَّاجِ بْنِ يُوسُفَ ، فَقُلْتُ : أَصْلَحَ اللَّهُ الْأَمِيرَ ، أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : بَلَى , قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَسَائِلُ كَدٌّ يَكُدُّ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهُ ، فَمَنْ شَاءَ أَبْقَى عَلَى وَجْهِهِ ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ ، إِلَّا أَنْ يَسْأَلَ رَجُلٌ ذَا سُلْطَانٍ ، أَوْ يَسْأَلَ فِي أَمْرٍ لَا بُدَّ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
زید بن عقبہ فزاری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حجاج بن یوسف کے پاس گیا اور اس سے کہا کہ اللہ تعالیٰ امیر کی اصلاح کرے، کیا میں آپ کو وہ حدیث نہ سناؤں جو حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے مجھے سنائی ہے ؟ اس نے کہا کیوں نہیں ؟ زید نے کہا کہ میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی کے آگے دست سوال دراز کرنا ایک زخم اور داغ ہے جس سے انسان اپنے چہرے کو داغ دار کرلیتا ہے، اب جو چاہے، اسے اپنے چہرے پر رہنے دے اور جو چاہے اسے چھوڑ دے، الاّ یہ کہ انسان کسی ایسے شخص سے سوال کرے، جو با اختیار ہو، یا کسی ایسے معاملے میں سوال کرے جس کے بغیر کوئی چارہ کار نہ ہو۔
حدیث نمبر: 20107
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ عَمِيلَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَحَبُّ الْكَلَامِ إِلَى اللَّهِ أَرْبَعٌ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، لَا يَضُرُّكَ بِأَيِّهِنَّ بَدَأْتَ " . " لَا تُسَمِّيَنَّ غُلَامَكَ يَسَارًا وَلَا رَبَاحًا وَلَا نَجِيحًا وَلَا أَفْلَحَ ، فَإِنَّكَ تَقُولُ أَثَمَّ هُوَ ، فَلَا يَكُونُ ، فَيَقُولُ : لَا " , إِنَّمَا هُنَّ أَرْبَعٌ ، لَا تَزِيدُنَّ عَلَيَّ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ کلمات چار ہیں لا الہ الا اللہ واللہ اکبر و سبحان اللہ اور الحمد للہ ان میں سے جس سے بھی آغاز کرلو، کوئی حرج والی بات نہیں ہے۔ اور اپنے بچوں کا نام افلح، نجیح (کامیاب) یسار (آسانی) اور رباح (نفع مت رکھو) اس لئے کہ جب تم اس کا نام لے کر پوچھو گے کہ وہ یہاں ہے تو لوگ کہیں گے کہ نہیں ہے یہ چار چیزیں ہیں، ان پر کوئی اضافہ نہ کرو۔
حدیث نمبر: 20108
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ إِلَى حُجْزَتِهِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ إِلَى تَرْقُوَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اہل جہنم میں کچھ لوگ تو ایسے ہوں گے جو ٹخنوں تک آگ کی لپیٹ میں ہوں گے، کچھ گھٹنوں تک کچھ سرین تک اور کچھ لوگ ہنسلی تک اس کی لپیٹ میں ہوں گے۔
حدیث نمبر: 20109
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ وَجَدَ مَتَاعَهُ عِنْدَ مُفْلِسٍ بِعَيْنِهِ ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنی علیہ السلام نے فرمایا جو شخص بعینہ اپنا سامان کسی ایسے شخص کے پاس دیکھے جسے حکومت نے مفلس قرار دے دیا ہو، وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔
حدیث نمبر: 20110
وَعن سمرة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میت کو اس پر ہونے والے نوحے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 20111
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ : " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَعْتَدِلَ فِي الْجُلُوسِ ، وَأَنْ لَا نَسْتَوْفِزَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ بیٹھنے میں اعتدال سے کام لیں اور بےاطمینانی کے ساتھ نہ بیٹھیں۔
حدیث نمبر: 20112
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " احْضُرُوا الْجُمُعَةَ ، وَادْنُوا مِنَ الْإِمَامِ ، فَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَخَلَّفُ عَنِ الْجُمُعَةِ حَتَّى إِنَّهُ لَيَتَخَلَّفُ عَنِ الْجَنَّةِ ، وَإِنَّهُ لَمِنْ أَهْلِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نماز جمعہ میں حاضر ہوا کرو اور امام کے قریب رہا کرو، کیونکہ انسان جمعہ سے پیچھے رہتے رہتے جنت سے پیچھے رہ جاتا ہے حالانکہ وہ اس کا مستحق ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 20113
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَّةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ صَلَّى صَلَاةَ الْغَدَاةِ ، فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ ، فَلَا تُخْفِرُوا اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي ذِمَّتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص فجر کی نماز پڑھ لے، وہ اللہ کی ذمہ داری میں آجاتا ہے لہذا اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری کو ہلکا مت سمجھو۔
حدیث نمبر: 20114
حَدَّثَنَا رَوْحٌ مِنْ كِتَابِهِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَ الْحَسَنُ ، عَنْ سَمُرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " سَامُ أَبُو الْعَرَبِ ، وَيَافِثُ أَبُو الرُّومِ ، وَحَامُ أَبُو الْحَبَشِ " ، وَقَالَ رَوْحٌ بِبَغْدَادَ مِنْ حِفْظِهِ : " وَلَدُ نُوحٍ ثَلَاثَةٌ : سَامُ ، وحَامٌ ، وَيَافِثُ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سام اہل عرب کا مورث اعلی ہے، حام حبش کا مورث اعلی ہے اور یافث رومیوں کا مورث اعلی ہے۔
حدیث نمبر: 20115
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ ، أَوْ يَبْتَاعَ عَلَى بَيْعِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام بھیجے یا اس کی بیع پر اپنی بیع کرے۔
حدیث نمبر: 20116
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا نَكَحَ وَلِيَّانِ فَهِيَ لِلْأَوَّلِ ، وَإِذَا بَاعَ اثنانِ فَالْبَيْعُ لِلْأَوَّلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس ایک عورت کا نکاح اس کے دو ولی مختلف جگہوں پر کردیں تو وہ ان میں سے پہلے کی ہوگی اور جس نے دو مختلف آدمیوں سے ایک ہی چیز خریدی تو وہ ان میں سے پہلے کی ہوگی۔
حدیث نمبر: 20117
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَمَّا حَمَلَتْ حَوَّاءُ طَافَ بِهَا إِبْلِيسُ ، وَكَانَ لَا يَعِيشُ لَهَا وَلَدٌ ، فَقَالَ : سَمِّيهِ عَبْدَ الْحَارِثِ ، فَإِنَّهُ يَعِيشُ , فَسَمَّوْهُ عَبْدَ الْحَارِثِ ، فَعَاشَ ، وَكَانَ ذَلِكَ مِنْ وَحْيِ الشَّيْطَانِ ، وَأَمْرِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب حضرت حواء علیہ السلام امید سے ہوئی تو ان کے پاس شیطان آیا، حضرت حواء علیہ السلام کا کوئی بچہ زندہ نہ رہتا تھا، شیطان نے ان سے کہا کہ اپنے بچے کا نام عبد الحارث رکھنا تو وہ زندہ رہے گا، چنانچہ انہوں نے اپنے بچے کا نام عبدالحارث رکھ دیا اور وہ زندہ بھی رہا، یہ شیطان کے وسوسے اور فہمائش پر ہوا۔
…