حدیث نمبر: 20016
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ , قَالَ : سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " فِي كُلِّ إِبِلٍ سَائِمَةٍ ، فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونٍ ، لَا تُفَرَّقُ إِبِلٌ عَنْ حِسَابِهَا ، مَنْ أَعْطَاهَا مُؤْتَجِرًا ، فَلَهُ أَجْرُهَا ، وَمَنْ مَنَعَهَا ، فَإِنَّا آخِذُوهَا مِنْهُ وَشَطْرًا إِبِلِه ، عَزْمَةً مِنْ عَزَمَاتِ رَبِّنَا جَلَّ وَعَزَّ , لَا يَحِلُّ لِآلِ مُحَمَّدٍ مِنْهَا شَيْءٌ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے سائمہ اونٹوں کی ہر چالیس تعداد پر ایک بنت لبون واجب ہوگی اور زکوٰۃ کے اس حساب سے کسی اونٹ کو الگ نہیں کیا جائے گا، جو شخص ثواب کی نیت سے خود ہی زکوٰۃ ادا کر دے تو اسے اس کا ثواب مل جائے گا اور جو شخص زکوٰۃ ادا نہیں کرے گا تو ہم اس سے جبراً بھی وصول کرسکتے ہیں، اس کے اونٹ کا حصہ ہمارے پروردگار کا فیصلہ ہے اور اس میں سے آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کچھ بھی حلال نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20016
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20017
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ : أَنَّ أَبَاهُ أَوْ عَمَّهَ قَامَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : جِيرَانِي بِمَ أُخِذُوا ؟ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، ثُمَّ قَالَ : أَخْبِرْنِي بِمَ أُخِذُوا ؟ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، فَقَالَ : لَئِنْ قُلْتُ ذَلكَ إِنَّهُمْ لَيَزْعُمُونَ أَنَّكَ تَنْهَى عَنِ الْغَيِّ وَتَسْتَخْلِي بِهِ ! فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا قَالَ ؟ " فَقَامَ أَخُوهُ أَوْ ابْنُ أَخِيهِ , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ قَالَ , فَقَالَ : " لَقَدْ قُلْتُمُوهَا أَوْ قَائِلُكُمْ ؟ وَلَئِنْ كُنْتُ أَفْعَلُ ذَلِكَ ، إِنَّهُ لَعَلَيَّ وَمَا هُوَ عَلَيْكُمْ ، خَلُّوا لَهُ عَنْ جِيرَانِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ بہزی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کے والد یا چچا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میرے پڑوسیوں کو کیوں پکڑا گیا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بات سے اعراض کیا، دو مرتبہ اسی طرح ہوا پھر والد یا چچا نے کہا کہ بخدا ! اگر آپ ایسا کرلیتے تو لوگ یہ سمجھتے کہ آپ ایک کام کا حکم دیتے ہیں اور خود ہی اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں، وہ بولتا جا رہا تھا اور میں اپنی چادر گھسیٹتا ہوا جا رہا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ صاحب کیا کہہ رہے تھے ؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ کہہ رہا تھا اگر آپ ایسا کرلیتے تو لوگ یہ سمجھتے کہ آپ ایک کا کا حکم دیتے ہیں اور خود ہی اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا لوگ ایسی بات کہہ سکتے ہیں، اگر میں نے ایسا کیا بھی تو اس کا اثر مجھ پر ہوگا، ان پر تو کچھ نہیں ہوگا، اس کے پڑوسیوں کو چھوڑ دو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20017
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20018
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، عَنْ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو قَزَعَةَ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِيهِ , قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَا يَقْبَلُ تَوْبَةَ عَبْدٍ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ اس شخص کی توبہ قبول نہیں کرتا جو اسلام قبول کرنے کے بعد دوبارہ شرک میں مبتلا ہوجائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20018
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20019
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ , قَالَ : أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسًا مِنْ قَوْمِي فِي تُهْمَةٍ فَحَبَسَهُمْ ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ يَخْطُبُ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، عَلَامَ تَحْبِسُ جِيرَتِي ؟ فَصَمَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ ، فَقَالَ : إِنَّ نَاسًا لَيَقُولُونَ إِنَّكَ تَنْهَى عَنِ الشَّرِّ وَتَسْتَخْلِي بِهِ ! فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا يَقُولُ ؟ " قَالَ : فَجَعَلْتُ أَعْرِضُ بَيْنَهُمَا بِالْكَلَامِ مَخَافَةَ أَنْ يَسْمَعَهَا ، فَيَدْعُوَ عَلَى قَوْمِي دَعْوَةً لَا يُفْلِحُونَ بَعْدَهَا أَبَدًا ، فَلَمْ يَزَلْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِ حَتَّى فَهِمَهَا ، فَقَالَ : " قَدْ قَالُوهَا أَوْ قَائِلُهَا مِنْهُمْ ؟ وَاللَّهِ لَوْ فَعَلْتُ لَكَانَ عَلَيَّ وَمَا كَانَ عَلَيْهِمْ ، خَلُّوا لَهُ عَنْ جِيرَانِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ بہزی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کے والد یا چچا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میرے پڑوسیوں کو کیوں پکڑا گیا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بات سے اعراض کیا، دو مرتبہ اسی طرح ہوا پھر والد یا چچا نے کہا کہ بخدا ! اگر آپ ایسا کرلیتے تو لوگ یہ سمجھتے کہ آپ ایک کام کا حکم دیتے ہیں اور خود ہی اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں، وہ بولتا جا رہا تھا اور میں میں اپنی چادر گھسیٹتا ہوا جا رہا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ صاحب کیا کہہ رہے تھے ؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ کہہ رہا تھا اگر آپ ایسا کرلیتے تو لوگ یہ سمجھتے کہ آپ ایک کا کا حکم دیتے ہیں اور خود ہی اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا لوگ ایسی بات کہہ سکتے ہیں، اگر میں نے ایسا کیا بھی تو اس کا اثر مجھ پر ہوگا، ان پر تو کچھ نہیں ہوگا، اس کے پڑوسیوں کو چھوڑ دو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20019
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20020
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ , أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ سَأَلَهُ مَوْلَاهُ فَضْلَ مَالِهِ ، فَلَمْ يُعْطِهِ ، جُعِلَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس شخص سے اس کا چچا زاد بھائی اس کے مال کا زائد حصہ مانگے اور وہ اسے نہ دے تو قیامت کے دن اسے گنجا سانپ بنادیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20020
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20021
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " وَيْلٌ لِلَّذِي يُحَدِّثُ الْقَوْمَ ، ثُمَّ يَكْذِبُ لِيُضْحِكَهُمْ ، وَيْلٌ لَهُ ، وَوَيْلٌ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ بہزی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اس شحص کے لئے ہلاکت ہے جو لوگوں کے سامنے انہیں ہنسانے کے لئے جھوٹی باتیں کہتا ہے، اس کے لئے ہلاکت ہے، اس کے لئے ہلاکت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20021
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20022
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو قَزَعَةَ الْبَاهِلِيُّ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ : مَا أَتَيْتُكَ حَتَّى حَلَفْتُ عَدَدَ أَصَابِعِي هَذِهِ أَنْ لَا آتِيَكَ أَرَانَا عَفَّانُ وَطَبَّقَ كَفَّيْهِ ، فَبِالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، مَا الَّذِي بَعَثَكَ بِهِ ؟ قَالَ : " الْإِسْلَامُ " قَالَ : وَمَا الْإِسْلَامُ ؟ قَالَ : " أَنْ يُسْلِمَ قَلْبُكَ لِلَّهِ ، وَأَنْ تُوَجِّهَ وَجْهَكَ إِلَى اللَّهِ ، وَتُصَلِّيَ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ ، وَتُؤَدِّيَ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ ، أَخَوَانِ نَصِيرَانِ ، لَا يَقْبَلُ اللَّهَُّ مِنْ أَحَدٍ تَوْبَةً أَشْرَكَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ " . قُلْتُ : مَا حَقُّ زَوْجَةِ أَحَدِنَا عَلَيْهِ ؟ قَالَ : " تُطْعِمُهَا إِذَا طَعِمْتَ ، وَتَكْسُوهَا إِذَا اكْتَسَيْتَ ، وَلَا تَضْرِبْ الْوَجْهَ ، وَلَا تُقَبِّحْ ، وَلَا تَهْجُرْ إِلَّا فِي الْبَيْتِ " . قَالَ : " تُحْشَرُونَ هَاهُنَا وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى نَحْوِ الشَّامِ , مُشَاةً وَرُكْبَانًا وَعَلَى وُجُوهِكُمْ ، تُعْرَضُونَ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى وَعَلَى أَفْوَاهِكُمْ الْفِدَامُ ، وَأَوَّلُ مَا يُعْرِبُ عَنْ أَحَدِكُمْ فَخِذُهُ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ بہزی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں نے اتنی مرتبہ (اپنے ہاتھوں کی انگلیاں کھول کر کہا) قسم کھائی تھی (کہ آپ کے پاس نہیں آؤں گا، اب میں آپ کے پاس آگیا ہوں تو) مجھے بتائیے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کس چیز کے ساتھ بھیجا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام کے ساتھ بھیجا ہے، پوچھا اسلام کیا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو۔ یہی دونوں چیزیں مددگار ہیں اور اللہ اس شخص کی توبہ قبول نہیں کرتا جو اسلام قبول کرنے کے بعد دوبارہ شرک میں مبتلا ہوجائے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم پر اپنی بیوی کا کیا حق بنتا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم کھاؤ تو اسے کھلاؤ، جب تم پہنو تو اسے بھی پہناؤ، اس کے چہرے پر نہ مارو، اسے گالیاں مت دو اور اس سے قطع تعلقی اگر کرو تو صرف گھر کی حد تک رکھو۔ پھر فرمایا تم سب یہاں (شام کی طرف اشارہ کیا) جمع کئے جاؤ گے، تم میں سے بعض سوار ہوں گے، بعض پیدل اور بعض چہروں کے بل۔ قیامت کے دن جب تم لوگ پیش ہوگے تو تمہارے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور سب سے پہلے جو چیز بولے گی، وہ ران ہوگی۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص سے اس کا چچا زاد بھائی اس کے مال کا زائد حصہ مانگے اور وہ اسے نہ دے تو قیامت کے دن فیصلہ سے پہلے اسے گنجا سانپ بنادیا جائے گا، جو اسے ڈستا رہے گا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پہلے زمانے میں ایک آدمی تھا جسے اللہ تعالیٰ نے خوب مال و دولت اور اولاد سے نواز رکھا تھا، وقت گذرتا رہا حتیٰ کہ ایک زمانہ چلا گیا اور دوسرا زمانہ آگیا، جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے بچوں سے کہا کہ میرے بچو ! میں تمہارے لئے کیسا باپ ثابت ہوا ؟ انہوں نے کہا بہترین باپ، اس نے کہا کیا اب تم میری ایک بات مانوگے ؟ انہوں نے کہا جی ہاں ! اس نے کہا دیکھو، جب میں مرجاؤں تو مجھے آگ میں جلا دینا اور کوئلہ بن جانے تک مجھے آگ ہی میں رہنے دینا، پھر اس کوئلے کو ہاون دستے میں اس طرح کوٹنا (ہاتھ کے اشارے سے بتایا) پھر جس دن ہوا چل رہی ہو، میری راکھ کو سمندر میں بہا دینا، شاید اس طرح میں اللہ کو نہ مل سکوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی قسم ! ان لوگوں نے اسی طرح کیا، لیکن وہ اسی لمحے اللہ کے قبضے میں تھا، اللہ نے اس سے پوچھا کہ اے ابن آدم ! تجھے اس کام پر کس چیز نے ابھارا ؟ اس نے کہا پروردگار ! تیرے خوف نے، اللہ تعالیٰ نے اس خوف کی برکت سے اس کی تلافی فرمادی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20022
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20023
وَقَالَ : " مَا مِنْ مَوْلًى يَأْتِي مَوْلًى لَهُ ، فَيَسْأَلُهُ مِنْ فَضْلٍ عِنْدَهُ فَيَمْنَعُهُ ، إِلَّا جَعَلَهُ اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ شُجَاعًا يَنْهَسُهُ قَبْلَ الْقَضَاءِ " , قَالَ عَفَّانُ : يَعْنِي بِالْمَوْلَى ابْنَ عَمِّهِ . .
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20023
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20024
قَالَ : قَالَ : وَقَالَ : " إِنَّ رَجُلًا مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ رَغَسَهُ اللَّهُ تَعَالَى مَالًا وَوَلَدًا ، حَتَّى ذَهَبَ عَصْرٌ وَجَاءَ آخَرُ ، فَلَمَّا احْتُضِرَ قَالَ لِوَلَدِهِ : أَيَّ أَبٍ كُنْتُ لَكُمْ ؟ قَالُوا : خَيْرَ أَبٍ , فَقَالَ : هَلْ أَنْتُمْ مُطِيعِيَّ ، وَإِلَّا أَخَذْتُ مَالِي مِنْكُمْ ؟ انْظُرُوا إِذَا أَنَا مُتُّ أَنْ تُحَرِّقُونِي حَتَّى تَدَعُونِي حُمَمًا ، ثُمَّ اهْرُسُونِي بِالْمِهْرَاسِ " , وَأَدَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ حِذَاءَ رُكْبَتَيْهِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَفَعَلُوا وَاللَّهِ " ، وَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ هَكَذَا : " ثُمَّ اذْرُونِي فِي يَوْمٍ رَاحٍ لَعَلِّي أَضِلُّ اللَّهَ " كَذَا قَالَ عَفَّانُ , وَقَالَ مُهَنَّا أَبُو شِبْلٍ ، عَنْ حَمَّادٍ : " أَضِلُّ اللَّهَ , فَفَعَلُوا وَاللَّهِ ذَاكَ ، فَإِذَا هُوَ قَائِمٌ فِي قَبْضَةِ اللَّهِ تَعَالَى , فَقَالَ : يَا ابْنَ آدَمَ ، مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَهُ ؟ قَالَ : مِنْ مَخَافَتِكَ , فَتَلَافَاهُ اللَّهُ بِهَا ".
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20024
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20025
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ فِيمَا سَمِعْتُهُ , قَالَ : وَسَمِعْتُ الْجُرَيْرِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَنْتُمْ تُوفُونَ سَبْعِينَ أُمَّةً ، أَنْتُمْ آخِرُهَا وَأَكْرَمُهَا عَلَى اللَّهِ " . " وَمَا بَيْنَ مِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ مَسِيرَةُ أَرْبَعِينَ عَامًا ، وَلَيَأْتِيَنَّ عَلَيْهِ يَوْمٌ وَإِنَّهُ لَكَظِيظٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ بہزی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن تم لوگ کامل ستر امتوں کی شکل میں ہو گے اور سب سے آخری امت تم ہو گے اور اللہ کے نزدیک سب سے زیدہ باعزت ہو گے اور جنت کے دو کو اڑوں کے درمیان چالیس سال کی مسافت ہے لیکن ایک دن وہاں بھی رش لگا ہو اہو گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20025
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20026
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ أَبُو مَسْعُودٍ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تَجِيئُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى أَفْوَاهِكُمْ الْفِدَامُ ، وَإِنَّ أَوَّلَ مَا يَتَكَلَّمُ مِنَ الْآدَمِيِّ فَخِذُهُ وَكَفُّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ بہزی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن جب تم لوگ پیش ہو گے تو تمہارے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور سب سے پہلے جو چیز بولے گی، وہ ران ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20026
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20027
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حدثنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حدثنا أَبُو قَزَعَةَ ، وعطاء , عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي قُشَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا حَقُّ امْرَأَتِي عَلَيَّ ؟ قَالَ : " تُطْعِمُهَا إِذَا طَعِمْتَ ، وَتَكْسُوهَا إِذَا اكْتَسَيْتَ ، وَلَا تَضْرِبْ الْوَجْهَ ، وَلَا تَهْجُرْ إِلَّا فِي الْبَيْتِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ بہزی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم پر اپنی بیوی کا کیا حق بنتا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم کھاؤ تو اسے کھلاؤ، جب تم پہنو تو اسے بھی پہناؤ، اس کے چہرے پر نہ مارو، اسے گالیاں مت دو اور اس سے قطع تعلقی اگر کرو تو صرف گھر کی حد تک رکھو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20027
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20028
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ أَبَرُّ ؟ قَالَ : " أُمَّكَ " قُلْتُ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " أُمَّكَ " قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " أُمَّكَ " قَالَ : قُلْتُ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " ثُمَّ أَبَاكَ ، ثُمَّ الْأَقْرَبَ فَالْأَقْرَبَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ بہزی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! میں کس کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کروں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی والدہ کے ساتھ، تین مرتبہ میں نے یہی سوال کیا اور تینوں مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی جواب دیا، چوتھی مرتبہ کے سوال پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے والد کے ساتھ، پھر درجہ بدرجہ قریبی رشتہ داروں کے ساتھ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20028
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20029
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا بَهْزٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أَلَا إِنَّكُمْ تُوفُونَ سَبْعِينَ أُمَّةً ، أَنْتُمْ خَيْرُهَا وَأَكْرَمُهَا عَلَى اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن تم لوگ کامل ستر امتوں کی شکل میں ہو گے اور سب سے آخری امت تم ہوں گے اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ باعزت ہوگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20029
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20030
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، نِسَاؤُنَا مَا نَأْتِي مِنْهَا وَمَا نَذَرُ ؟ قَالَ : " حَرْثُكَ ، ائْتِ حَرْثَكَ أَنَّى شِئْتَ ، غَيْرَ أَنْ لَا تَضْرِبَ الْوَجْهَ ، وَلَا تُقَبِّحْ ، وَلَا تَهْجُرْ إِلَّا فِي الْبَيْتِ ، وَأَطْعِمْ إِذَا طَعِمْتَ ، وَاكْسُ إِذَا اكْتَسَيْتَ ، كَيْفَ وَقَدْ أَفْضَى بَعْضُكُمْ إِلَى بَعْضٍ إِلَّا بِمَا حَلَّ عَلَيْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ بہزی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم اپنی عورتوں کے کس حصے میں آئیں اور کس حصے کو چھوڑیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری بیوی تمہارا کھیت ہے، تم اپنے کھیت میں جہاں سے چاہو آؤ، البتہ جب تم کھاؤ تو اسے کھلاؤ، جب پہنو تو اسے بھی پہناؤ اس کے چہرے پر نہ مارو، اسے گالیاں مت دو اور اس سے قطع تعلقی اگر کرو تو صرف گھر کی حد تک رکھو، یہ کیسے مناسب ہے جبکہ تم ایک دوسرے کے پاس حلال طریقے سے آتے بھی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20030
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20031
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا بَهْزٌ بْنُ حَكِيمُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيْنَ تَأْمُرُنِي ؟ قَالَ : " هَاهُنَا " وَنَحَا بِيَدِهِ نَحْوَ الشَّامِ ، قَالَ : " إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ رِجَالًا وَرُكْبَانًا ، وَتُجَرُّونَ عَلَى وُجُوهِكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ مجھے کہاں جانے کا حکم دیتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم سب یہاں (شام کی طرف اشارہ کیا) جمع کئے جاؤ گے، تم میں سے بعض سوار ہوں گے، بعض پیدل اور بعض چہروں کے بل۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20031
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20032
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَأْتِي رَجُلٌ مَوْلَاهُ ، فَيَسْأَلُهُ مِنْ فَضْلٍ هُوَ عِنْدَهُ ، فَيَمْنَعُهُ إِيَّاهُ ، إِلَّا دُعِيَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعٌ يَتَلَمَّظُ ، فَضْلُهُ الَّذِي مَنَعَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس شخص سے اس کا چچازاد بھائی اس کے مال کا زائد حصہ مانگے اور وہ اسے نہ دے تو قیامت کے دن اسے گنجا سانپ بنادیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20032
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20033
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا قَوْمٌ نَتَسَاءَلُ أَمْوَالَنَا ، قَالَ : " يَتَسَاءَلُ الرَّجُلُ فِي الحاجة أَوْ الْفَتْقِ لِيُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ قَوْمِهِ ، فَإِذَا بَلَغَ أَوْ كَرَبَ ، اسْتَعَفَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ (بن حیدہ) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم ایسی قوم ہیں جو آپس میں ایک دوسرے سے مال مانگتے ہیں (یعنی مالی مدد لیتے ہیں)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی (صرف اس وقت) سوال کرے جب اسے کوئی (سخت) ضرورت ہو یا (قوم کے درمیان) کوئی ایسا بگاڑ/جداگی پیدا ہو جائے جسے ختم کرنے اور صلح کرانے کے لیے (وہ مال جمع کر رہا ہو)۔ پھر جب وہ (مطلوبہ رقم تک) پہنچ جائے یا اس کے قریب پہنچ جائے، تو اسے (سوال سے) باز رہنا چاہیے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20033
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20034
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ بَهْزٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي , قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَوْرَاتُنَا مَا نَأْتِي مِنْهَا وَمَا نَذَرُ ؟ قَالَ : " احْفَظْ عَوْرَتَكَ إِلَّا مِنْ زَوْجَتِكَ ، أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ " , قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَإِذَا كَانَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ ؟ قَالَ : " إِنْ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا يَرَاهَا أَحَدٌ فَلَا يَرَيَنَّهَا " قُلْتُ : فَإِذَا كَانَ أَحَدُنَا خَالِيًا , قَالَ : " فَاللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَحَقُّ أَنْ يُسْتَحْيَا مِنْهُ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! ہم اپنی شرمگاہ کا کتنا حصہ چھپائیں اور اور کتنا چھوڑ سکتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی بیوی اور باندی کے علاوہ ہر ایک سے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرو، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! بعض لوگوں کے رشتہ دار ان کے ساتھ رہتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہاں تک ممکن ہو کہ وہ تمہاری شرمگاہ نہ دیکھیں، تم انہیں مت دکھاؤ، میں نے عرض کیا کہ بعض اوقات ہم میں سے کوئی شخص تنہا بھی تو ہوتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اس سے شرم کی جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20034
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20035
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ بَهْزٍ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ ، وقَالَ : " فَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَحَقُّ أَنْ يُسْتَحْيَا مِنْهُ " وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَرْجِهِ . .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20035
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20036
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ أَيْضًا : وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ، فَوَضَعَهَا عَلَى فَرْجِهِ.
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20036
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20037
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ بَهْزٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَاللَّهِ مَا أَتَيْتُكَ حَتَّى حَلَفْتُ أَكْثَرَ مِنْ عَدَدِ أُولَاءِ وَضَرَبَ إِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى أَنْ لَا آتِيَكَ ، وَلَا آتِيَ دِينَكَ ، وَإِنِّي قَدْ جِئْتُ امْرَأً لَا أَعْقِلُ شَيْئًا إِلَّا مَا عَلَّمَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولُهُ ، وَإِنِّي أَسْأَلُكَ بِوَجْهِ اللَّهِ ، بِمَ بَعَثَكَ رَبُّنَا إِلَيْنَا ؟ قَالَ : " بِالْإِسْلَامِ " قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا آيَةُ الْإِسْلَامِ ؟ قَالَ : " أَنْ تَقُولَ : أَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلَّهِ وَتَخَلَّيْتُ ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ ، وَكُلُّ مُسْلِمٍ عَلَى مُسْلِمٍ مُحَرَّمٌ ، أَخَوَانِ نَصِيرَانِ , لَا يَقْبَلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ مُشْرِكٍ يُشْرِكُ ، بَعْدَ مَا أَسْلَمَ عَمَلًا ، أَوْ يُفَارِقُ الْمُشْرِكِينَ إِلَى الْمُسْلِمِينَ ، مَا لِي أُمْسِكُ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ ! أَلَا إِنَّ رَبِّي دَاعِيَّ ، وَإِنَّهُ سَائِلِي , هَلْ بَلَّغْتَ عِبَادِي ؟ وَأَنَا قَائِلٌ لَهُ : رَبِّ قَدْ بَلَّغْتُهُمْ , أَلَا فَلْيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ مِنْكُمْ الْغَائِبَ , ثُمَّ إِنَّكُمْ مَدْعُوُّونَ وَمُفَدَّمَةٌ أَفْوَاهُكُمْ بِالْفِدَامِ ، وَإِنَّ أَوَّلَ مَا يُبِينُ " , وَقَالَ بِوَاسِطٍ " يُتَرْجِمُ " , قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا دِينُنَا ؟ قَالَ : " هَذَا دِينُكُمْ ، وَأَيْنَمَا تُحْسِنْ يَكْفِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ بہزی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں نے اتنی مرتبہ (اپنے ہاتھوں کی انگلیاں کھول کر کہا) قسم کھائی تھی (کہ آپ کے پاس نہیں آؤں گا، اب میں آپ کے پاس آگیا ہوں تو) مجھے بتائیے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کس چیز کے ساتھ بھیجا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام کے ساتھ بھیجا ہے، پوچھا اسلام کیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم یوں کہوں کہ میں نے اپنے آپ کو اللہ کے سامنے جھکا دیا اور اس کے لئے یکسو ہوگیا اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور یاد رکھو! ہر مسلمان دوسرے مسلمان کے لئے قابل احترام ہے۔ یہی دونوں چیزیں مددگار ہیں اور اللہ اس شخص کی توبہ قبول نہیں کرتا جو اسلام قبول کرنے کے بعد یا مشرکین کو چھوڑ کر مسلمانوں کے پاس آنے کے بعد دوبارہ شرک میں مبتلا ہوجائے۔ یہ کیا معاملہ ہے کہ میں تمہیں تمہاری کمروں سے پکڑ پکڑ کر جہنم سے بچا رہا ہوں، یاد رکھو! میرا پروردگار مجھے بتائے گا اور مجھ سے پوچھے گا کہ کیا آپ نے میرے بندوں تک میرا پیغام پہنچا دیا تھا؟ اور میں عرض کروں گا کہ پروردگار! میں نے ان تک پیغام دیا تھا، یاد رکھو! تم میں سے جو حاضر ہیں: وہ غائب تک یہ بات پہنچا دیں۔ قیامت کے دن جب تم لوگ پیش ہوں گے تو تمہارے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور سب سے پہلے جو چیز بولے گی وہ ران ہوگی، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا یہ ہمارا دین ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تمہارا دین ہے اور تم جہاں بھی اچھا کام کرو گے وہ تمہاری کفایت کرے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20037
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20038
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " فِي كُلِّ إِبِلٍ سَائِمَةٍ ، فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونٍ ، لَا تُفَرَّقُ إِبِلٌ عَنْ حِسَابِهَا ، مَنْ أَعْطَاهَا مُؤْتَجِرًا ، فَلَهُ أَجْرُهَا ، وَمَنْ مَنَعَهَا ، فَإِنَّا آخِذُوهَا وَشَطْرَ إِبِلِهِ ، عَزْمَةً مِنْ عَزَمَاتِ رَبِّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى , لَا يَحِلُّ لِآلِ مُحَمَّدٍ مِنْهَا شَيْء " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے سائمہ اونٹوں کی ہر چالیس تعداد پر ایک بنت لبون واجب ہوگی اور زکوٰۃ کے اس حساب سے کسی اونٹ کو الگ نہیں کیا جائے گا، جو شخص ثواب کی نیت سے خود ہی زکوٰۃ ادا کر دے تو اسے اس کا ثواب مل جائے گا اور جو شخص زکوٰۃ ادا نہیں کرے گا تو ہم اس سے جبراً بھی وصول کرسکتے ہیں، اس کے اونٹ کا حصہ ہمارے پروردگار کا فیصلہ ہے اور اس میں سے آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کچھ بھی حلال نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20038
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20039
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَيَزِيدُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا بَهْزٌ الْمَعْنَى ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّهُ كَانَ عَبْدٌ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ ، أَعْطَاهُ اللَّهُ مَالًا وَوَلَدًا ، وَكَانَ لَا يَدِينُ اللَّهَ دِينًا " , قَالَ يَزِيدُ : " فَلَبِثَ حَتَّى ذَهَبَ عُمُرٌ وَبَقِيَ عُمُرٌ ، تَذَكَّرَ ، فَعَلِمَ أَنْ لَمْ يَبْتَئِرْ عِنْدَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى خَيْرًا ، دَعَا بَنِيهِ , فقَالَ : يَا بَنِيَّ ، أَيَّ أَبٍ تَعْلَمُونَ ؟ قَالُوا : خَيْرَهُ يَا أَبَانَا , قَالَ : فَوَاللَّهِ ، لَا أَدَعُ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْكُمْ مَالًا هُوَ مِنِّي إِلَّا أَنَا آخِذُهُ مِنْهُ ، أَوْ لَتَفْعَلُنَّ مَا آمُرُكُمْ بِهِ , قَالَ : فَأَخَذَ مِنْهُمْ مِيثَاقًا ، قَالَ : أَمَّا لَا ، فَإِذَا مُتُّ ، فَخُذُونِي فَأَلْقُونِي فِي النَّارِ ، حَتَّى إِذَا كُنْتُ حُمَمًا فَدُقُّونِي , قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ كَأَنَّهُ يَقُولُ : اسْحَقُونِي ثُمَّ ذَرُّونِي فِي الرِّيحِ ، لَعَلِّي أَضِلُّ اللَّهَ ! قَالَ فَفُعِلَ بِهِ ذَلِكَ وَرَبِّ مُحَمَّدٍ حِينَ مَاتَ " , قَالَ : " فَجِيءَ بِهِ أَحْسَنَ مَا كَانَ ، فَعُرِضَ عَلَى رَبِّهِ , فَقَالَ : مَا حَمَلَكَ عَلَى النَّارِ ؟ قَالَ : خَشِيتُكَ يَا رَبَّاهُ , قَالَ : " إِنِّي لَأَسْمَعَنَّ الرَّاهِبَةَ , قَالَ يَزِيدُ : أَسْمَعُكَ رَاهِبًا فَتِيبَ عَلَيْهِ " , قَالَ بَهْزٌ : فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ الْحَسَنَ , وَقَتَادَةَ ، وَحَدَّثَانِيهِ " فَتِيبَ عَلَيْهِ ، أَوْ فَتَابَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ " شَكَّ يَحْيَى.
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پہلے زمانے میں ایک آدمی تھا جسے اللہ تعالیٰ نے خوب مال و دولت اور اولاد سے نواز رکھا تھا، وقت گذرتا رہا حتیٰ کہ ایک زمانہ چلا گیا اور دوسرا زمانہ آگیا، جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے بچوں سے کہا کہ میرے بچو! میں تمہارے لئے کیسا باپ ثابت ہوا؟ انہوں نے کہا بہترین باپ، اس نے کہا کیا اب تم میری ایک بات مانوگے؟ انہوں نے کہا جی ہاں! اس نے کہا دیکھو، جب میں مرجاؤں تو مجھے آگ میں جلا دینا اور کوئلہ بن جانے تک مجھے آگ ہی میں رہنے دینا، پھر اس کوئلے کو ہاون دستے میں اس طرح کوٹنا (ہاتھ کے اشارے سے بتایا) پھر جس دن ہوا چل رہی ہو، میری راکھ کو سمندر میں بہا دینا، شاید اس طرح میں اللہ کو نہ مل سکوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی قسم! ان لوگوں نے اسی طرح کیا، لیکن وہ اسی لمحے اللہ کے قبضے میں تھا، اللہ نے اس سے پوچھا کہ اے ابن آدم! تجھے اس کام پر کس چیز نے ابھارا؟ اس نے کہا پروردگار! تیرے خوف نے، اللہ تعالیٰ نے اس خوف کی برکت سے اس کی توبہ قبول فرما لی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20039
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20040
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَوْرَاتُنَا مَا نَأْتِي مِنْهَا وَمَا نَذَرُ ؟ قَالَ : " احْفَظْ عَوْرَتَكَ إِلَّا مِنْ زَوْجَتِكَ ، أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ " قُلْتُ : أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ ؟ قَالَ : " إِنْ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا يَرَاهَا أَحَدٌ فَلَا يَرَاهَا " قُلْتُ : أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ أَحَدُنَا خَالِيًا ؟ قَالَ : " فَاللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَحَقُّ أَنْ يُسْتَحْيَا مِنَ النَّاسِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یارسول اللہ! ہم اپنی شرمگاہ کا کتنا حصہ چھپائیں اور اور کتنا چھوڑ سکتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی بیوی اور باندی کے علاوہ ہر ایک سے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرو، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! بعض لوگوں کے رشتہ دار ان کے ساتھ رہتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہاں تک ممکن ہو کہ وہ تمہاری شرمگاہ نہ دیکھیں، تم انہیں مت دکھاؤ، میں نے عرض کیا کہ بعض اوقات ہم میں سے کوئی شخص تنہا بھی تو ہوتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اس سے شرم کی جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20040
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20041
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " فِي كُلِّ إِبِلٍ سَائِمَةٍ ، فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونٍ ، لَا يُفَرَّقُ إِبِلٌ عَنْ حِسَابِهَا ، مَنْ أَعْطَاهَا مُؤْتَجِرًا ، فَلَهُ أَجْرُهَا ، وَمَنْ مَنَعَهَا ، فَإِنَّا آخِذُوهَا مِنْهُ وَشَطْرَ مَالِهِ وَقَالَ مَرَّةً : إِبِلِهِ عَزْمَةً مِنْ عَزَمَاتِ رَبِّنَا ، لَا يَحِلُّ لِآلِ مُحَمَّدٍ مِنْهُ شَيْءٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے سائمہ اونٹوں کی ہر چالیس تعداد پر ایک بنت لبون واجب ہوگی اور زکوٰۃ کے اس حساب سے کسی اونٹ کو الگ نہیں کیا جائے گا، جو شخص ثواب کی نیت سے خود ہی زکوٰۃ ادا کر دے تو اسے اس کا ثواب مل جائے گا اور جو شخص زکوٰۃ ادا نہیں کرے گا تو ہم اس سے جبراً بھی وصول کرسکتے ہیں، اس کے اونٹ کا حصہ ہمارے پروردگار کا فیصلہ ہے اور اس میں سے آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کچھ بھی حلال نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20041
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20042
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ : أَنَّ أَخَاهُ أَوْ عَمَّهُ قَامَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَال : جِيرَانِي بِمَا أُخِذُوا ؟ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، قَالَ : جِيرَانِي بِمَا أُخِذُوا ؟ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، ثُمَّ قَالَ : جِيرَانِي بِمَا أُخِذُوا ؟ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، فقَالَ : لَئِنْ قُلْتُ ذَلكَ ، لَقَدْ زَعَمَ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَنْهَى عَنِ الْغَيِّ ، وَيَسْتَخْلِي بِهِ ! فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا قَالَ ؟ " فَقَامَ أَخُوهُ ، أَوْ ابْنُ أَخِيهِ , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ إِنَّهُ , فَقَالَ : " أَمَا لَقَدْ قُلْتُمُوهَا أَوْ قَالَ قَائِلُكُمْ ؟ وَلَئِنْ كُنْتُ أَفْعَلُ ذَلِكَ ، إِنَّهُ لَعَلَيَّ وَمَا هُوَ عَلَيْكُمْ ، خَلُّوا لَهُ عَنْ جِيرَانِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ بہزی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کے والد یا چچا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میرے پڑوسیوں کو کیوں پکڑا گیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بات سے اعراض کیا، دو مرتبہ اسی طرح ہوا پھر والد یا چچا نے کہا کہ بخدا! اگر آپ ایسا کرلیتے تو لوگ یہ سمجھتے کہ آپ ایک کام کا حکم دیتے ہیں اور خود ہی اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں، وہ بولتا جا رہا تھا اور میں اپنی چادر گھسیٹتا ہوا جا رہا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ صاحب کیا کہہ رہے تھے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ کہہ رہا تھا اگر آپ ایسا کرلیتے تو لوگ یہ سمجھتے کہ آپ ایک کام کا حکم دیتے ہیں اور خود ہی اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا لوگ ایسی بات کہہ سکتے ہیں، اگر میں نے ایسا کیا بھی تو اس کا اثر مجھ پر ہوگا، ان پر تو کچھ نہیں ہوگا، اس کے پڑوسیوں کو چھوڑ دو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20042
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20043
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَتَيْتُهُ , فَقُلْتُ : وَاللَّهِ مَا أَتَيْتُكَ حَتَّى حَلَفْتُ أَكْثَرَ مِنْ عَدَدِ أُولَاءِ أَنْ لَا آتِيَكَ ، وَلَا آتِيَ دِينَكَ وَجَمَعَ بَهْزٌ بَيْنَ كَفَّيْهِ , وَقَدْ جِئْتُ امْرَأً لَا أَعْقِلُ شَيْئًا ، إِلَّا مَا عَلَّمَنِي اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَرَسُولُهُ ، وَإِنِّي أَسْأَلُكَ بِوَجْهِ اللَّهِ ، بِمَ بَعَثَكَ اللَّهُ إِلَيْنَا ؟ قَالَ : " بِالْإِسْلَامِ " قُلْتُ : وَمَا آيَاتُ الْإِسْلَامِ ؟ قَالَ : " أَنْ تَقُولَ : أَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلَّهِ ، وَتَخَلَّيْتُ ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ ، كُلُّ مُسْلِمٍ عَلَى مُسْلِمٍ مُحَرَّمٌ ، أَخَوَانِ نَصِيرَانِ ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْ مُشْرِكٍ أَشْرَكَ بَعْدَ مَا أَسْلَمَ عَمَلًا ، وَتُفَارِقَ الْمُشْرِكِينَ إِلَى الْمُسْلِمِينَ ، مَا لِي أُمْسِكُ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ , أَلَا إِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ دَاعِيَّ ، وَإِنَّهُ سَائِلِي : هَلْ بَلَّغْتُ عِبَادَهُ ؟ وَإِنِّي قَائِلٌ : رَبِّ إِنِّي قَدْ بَلَّغْتُهُمْ , فَلْيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ مِنْكُمْ الْغَائِبَ ، ثُمَّ إِنَّكُمْ مَدْعُوُّونَ مُفَدَّمَةً أَفْوَاهُكُمْ بِالْفِدَامِ , ثُمَّ إِنَّ أَوَّلَ مَا يُبِينُ عَنْ أَحَدِكُمْ لَفَخِذُهُ وَكَفُّهُ " قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، هَذَا دِينُنَا ؟ قَالَ : " هَذَا دِينُكُمْ ، وَأَيْنَمَا تُحْسِنْ يَكْفِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ بہزی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں نے اتنی مرتبہ (اپنے ہاتھوں کی انگلیاں کھول کر کہا) قسم کھائی تھی (کہ آپ کے پاس نہیں آؤں گا، اب میں آپ کے پاس آگیا ہوں تو) مجھے بتائیے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کس چیز کے ساتھ بھیجا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام کے ساتھ بھیجا ہے، پوچھا اسلام کیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم یوں کہوں کہ میں نے اپنے آپ کو اللہ کے سامنے جھکا دیا اور اس کے لئے یکسو ہوگیا اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور یاد رکھو! ہر مسلمان دوسرے مسلمان کے لئے قابل احترام ہے۔ یہ دونوں چیزیں مددگار ہیں اور اللہ اس شخص کی توبہ قبول نہیں کرتا جو اسلام قبول کرنے کے بعد یا مشرکین کو چھوڑ کر مسلمانوں کے پاس آنے کے بعد دوبارہ شرک میں مبتلا ہوجائے۔ یہ کیا معاملہ ہے کہ میں تمہیں تمہاری کمروں سے پکڑ پکڑ کر جہنم سے بچا رہا ہوں، یاد رکھو! میرا پروردگار مجھے بتائے گا اور مجھ سے پوچھے گا کہ کیا آپ نے میرے بندوں تک میرا پیغام پہنچا دیا تھا؟ اور میں عرض کروں گا کہ پروردگار! میں نے ان تک پیغام دیا تھا، یاد رکھو! تم میں سے جو حاضر ہیں: وہ غائب تک یہ بات پہنچا دیں۔ قیامت کے دن جب تم لوگ پیش ہوگے تو تمہارے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور سب سے پہلے جو چیز بولے گی وہ ران ہوگی، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا یہ ہمارا دین ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تمہارا دین ہے اور تم جہاں بھی اچھا کام کرو گے وہ تمہاری کفایت کرے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20043
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20044
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " إِنَّهُ كَانَ عَبْدٌ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ جَلَّ وَعَزَّ أَعْطَاهُ اللَّهُ مَالًا وَوَلَدًا ، فَكَانَ لَا يَدِينُ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى دِينًا ، فَلَبِثَ حَتَّى إِذَا ذَهَبَ مِنْهُ عُمُرٌ ، أَوْ بَقِيَ عُمُرٌ ، تَذَكَّرَ فَعَلِمَ أَنَّهُ لَنْ يَبْتَئِرَ عِنْدَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى خَيْرًا ، دَعَا بَنِيهِ فَقَالَ : " أَيَّ أَبٍ تَعْلَمُونِي ؟ قَالُوا : خَيْرَهُ يَا أَبَانَا , قَالَ : فوَاللَّهِ لَا أَدَعُ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْكُمْ مَالًا هُوَ مِنِّي إِلَّا أَنَا آخِذُهُ مِنْهُ ، وَلَتَفْعَلُنَّ بِي مَا آمُرُكُمْ , قَالَ : فَأَخَذَ مِنْهُمْ مِيثَاقًا وَرَبِّي ، فَقَالَ : أَمَّا لَا ، فَإِذَا أَنَا مُتُّ فَأَلْقُونِي فِي النَّارِ ، حَتَّى إِذَا كُنْتُ حُمَمًا فَدُقُّونِي , قَالَ : فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ ثُمَّ اذْرُونِي فِي الرِّيحِ ، لَعَلِّي أَضِلُّ اللَّهَ ! قَالَ : فَفَعَلُوا ذَلِكَ بِهِ , وَرَبِّ مُحَمَّدٍ حِينَ مَاتَ ، فَجِيءَ بِهِ فِي أَحْسَنِ مَا كَانَ قَطُّ ، فَعُرِضَ عَلَى رَبِّهِ , فَقَالَ : مَا حَمَلَكَ عَلَى النَّارِ ؟ قَالَ : خَشْيَتُكَ يَا رَبَّاهُ , قَالَ : إِنِّي أَسْمَعُكَ لَرَاهِبًا , فَتِيبَ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پہلے زمانے میں ایک آدمی تھا جسے اللہ تعالیٰ نے خوب مال و دولت اور اولاد سے نواز رکھا تھا، وقت گذرتا رہا حتیٰ کہ ایک زمانہ چلا گیا اور دوسرا زمانہ آگیا، جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے بچوں سے کہا کہ میرے بچو! میں تمہارے لئے کیسا باپ ثابت ہوا؟ انہوں نے کہا بہترین باپ، اس نے کہا کیا اب تم میری ایک بات مانوگے؟ انہوں نے کہا جی ہاں! اس نے کہا دیکھو، جب میں مرجاؤں تو مجھے آگ میں جلا دینا اور کوئلہ بن جانے تک مجھے آگ ہی میں رہنے دینا، پھر اس کوئلے کو ہاون دستے میں اس طرح کوٹنا (ہاتھ کے اشارے سے بتایا) پھر جس دن ہوا چل رہی ہو، میری راکھ کو سمندر میں بہا دینا، شاید اس طرح میں اللہ کو نہ مل سکوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی قسم! ان لوگوں نے اسی طرح کیا، لیکن وہ اسی لمحے اللہ کے قبضے میں تھا، اللہ نے اس سے پوچھا کہ اے ابن آدم! تجھے اس کام پر کس چیز نے ابھارا؟ اس نے کہا پروردگار! تیرے خوف نے، اللہ تعالیٰ نے اس خوف کی برکت سے اس کی توبہ قبول فرما لی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20044
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20045
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ الْقُشَيْرِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نِسَاؤُنَا مَا نَأْتِي مِنْهُنَّ وَمَا نَذَرُ ؟ قَالَ : " حَرْثُكَ ، ائْتِ حَرْثَكَ أَنَّى شِئْتَ فِي أَنْ لَا تَضْرِبَ الْوَجْهَ ، وَلَا تُقَبِّحْ ، وَأَطْعِمْ إِذَا أُطْعِمْتَ ، وَاكْسُ إِذَا اكْتَسَيْتَ ، وَلَا تَهْجُرْ إِلَّا فِي الْبَيْتِ ، كَيْفَ وَقَدْ أَفْضَى بَعْضُكُمْ إِلَى بَعْضٍ ، إِلَّا بِمَا حَلَّ عَلَيْهِنَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ بہزی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ! ہم اپنی عورتوں کے کس حصے میں آئیں اور کس حصے کو چھوڑیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری بیوی تمہارا کھیت ہے، تم اپنے کھیت میں جہاں سے چاہو آؤ، البتہ جب تم کھاؤ تو اسے کھلاؤ، جب پہنو تو اسے بھی پہناؤ اس کے چہرے پر نہ مارو، اسے گالیاں مت دو اور اسے قطع تعلقی اگر کرو تو صرف گھر کی حد تک رکھو، یہ کیسے مناسب ہے جبکہ تم ایک دوسرے کے پاس حلال طریقے سے آتے بھی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20045
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20046
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " وَيْلٌ لِلَّذِي يُحَدِّثُ فَيَكْذِبُ لِيُضْحِكَ بِهِ الْقَوْمَ ، وَيْلٌ لَهُ ، وَيْلٌ له " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ بہزی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اس شحص کے لئے ہلاکت ہے جو لوگوں کے سامنے انہیں ہنسانے کے لئے جھوٹی باتیں کہتا ہے، اس کے لئے ہلاکت ہے، اس کے لئے ہلاکت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20046
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20047
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَأْتِي رَجُلٌ مَوْلًى لَهُ يَسْأَلُهُ مِنْ فَضْلٍ عِنْدَهُ فَيَمْنَعُهُ ، إِلَّا دُعِيَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعٌ يَتَلَمَّظُ ، فَضْلَهُ الَّذِي مَنَعَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا و ہے کہ جس شخص سے اس کا چچا زاد بھائی اس کے مال کا زائد حصہ مانگے اور وہ اسے نہ دے تو قیامت کے دن اسے گنجا سانپ بنادیا جائے گا جو اس کے زائد حصے کو چبا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20047
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20048
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَبَرُّ ؟ قَالَ : " أُمَّكَ " قَالَ : قُلْتُ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ " أُمَّكَ " قَالَ : قُلْتُ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " أُمَّكَ , ثُمَّ أَبَاكَ ، ثُمَّ الْأَقْرَبَ فَالْأَقْرَبَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ بہزی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! میں کس کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کروں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی والدہ کے ساتھ، تین مرتبہ میں نے یہی سوال کیا اور تینوں مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی جواب دیا، چوتھی مرتبہ کے سوال پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے والد کے ساتھ، پھر درجہ بدرجہ قریبی رشتہ داروں کے ساتھ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20048
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20049
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ بَهْزٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّكُمْ وَفَيْتُمْ سَبْعِينَ أُمَّةً أَنْتُمْ آخِرُهَا وَأَكْرَمُهَا عَلَى اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن تم لوگ کامل ستر امتوں کی شکل میں ہو گے اور سب سے آخری امت تم ہوگے اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ باعزت ہو گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20049
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20050
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ بَهْزٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيْنَ تَأْمُرُنِي ، خِرْ لِي ؟ فَقَالَ بِيَدِهِ نَحْوَ الشَّامِ ، وَقَالَ : " إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ رِجَالًا وَرُكْبَانًا ، وَتُجَرُّونَ عَلَى وُجُوهِكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ مجھے کہاں جانے کا حکم دیتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم سب یہاں (شام کی طرف اشارہ کیا) جمع کئے جاؤ گے، تم میں سے بعض سوار ہوں گے، بعض پیدل اور بعض چہروں کے بل۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20050
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20051
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ بَهْزٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا قَوْمٌ نَتَسَاءَلُ أَمْوَالَنَا , قَالَ : " يَسْأَلُ أَحَدُكُمْ فِي الْجَائِحَةِ وَالْفَتْقِ لِيُصْلِحَ بَيْنَ قَوْمِهِ ، فَإِذَا بَلَغَ أَوْ كَرَبَ ، اسْتَعَفَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ بہزی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! ہم لوگ آپس میں ایک دوسرے کا مال مانگتے رہتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان اپنی قوم میں صلح کرانے کے لئے کسی زخم یا نشان کا تاوان مانگ سکتا ہے، جب وہ منزل پر پہنچ جائے یا تکلیف باقی رہے تو وہ اپنے آپ کو سوال کرنے سے بچائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20051
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20052
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ أَبِي بَهْزٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " فِي الْجَنَّةِ بَحْرُ اللَّبَنِ ، وَبَحْرُ الْمَاءِ ، وَبَحْرُ الْعَسَلِ ، وَبَحْرُ الْخَمْرِ ، ثُمَّ تَشَقَّقُ الْأَنْهَارُ مِنْهَا بَعْدَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ بہزی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جنت میں دودھ کا سمندر ہوگا، پانی کا، شہد کا اور شراب کا سمندر ہوگا، جس سے نہریں پھوٹیں گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20052
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20053
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي قَزَعَةَ الْبَاهِلِيِّ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَقْبَلُ اللَّهُ تَوْبَةَ عَبْدٍ أَشْرَكَ بِاللَّهِ بَعْدَ إِسْلَامِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ اس شخص کی توبہ قبول نہیں کرتا جو اسلام قبول کرنے کے بعد دوبارہ شرک میں مبتلا ہوجائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20053
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20054
حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِالشَّيْءِ سَأَلَ عَنْهُ : " أَهَدِيَّةٌ أَمْ صَدَقَةٌ ؟ " فَإِنْ قَالُوا : هَدِيَّةٌ ، بَسَطَ يَدَهُ ، َإِنْ قَالُوا : صَدَقَةٌ , قَالَ لِأَصْحَابِهِ : " خُذُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی چیز لائی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے متعلق یہ سوال کرتے کہ یہ ہدیہ ہے یا صدقہ ؟ اگر لوگ کہتے کہ ہدیہ ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف ہاتھ بڑھاتے اور اگر لوگ کہتے کہ صدقہ ہے تو اپنے ساتھیوں سے فرما دیتے کہ یہ تم لے لو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20054
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20055
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا بَهْزٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " وَيْلٌ لِلَّذِي يُحَدِّثُ فَيَكْذِبُ لِيُضْحِكَ بِهِ الْقَوْمَ ، وَيْلٌ لَهُ ، وَيْلٌ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ بہزی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اس شخص کے لئے ہلاکت ہے جو لوگوں کے سامنے انہیں ہنسانے کے لئے جھوٹی باتیں کہتا ہے، اس کے لئے ہلاکت ہے، اس کے لئے ہلاکت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20055
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن