حدیث نمبر: 19975
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا أَرْكَبُ الْأُرْجُوَانَ ، وَلَا أَلْبَسُ الْمُعَصْفَرَ ، وَلَا أَلْبَسُ الْقَمِيصَ الْمُكَفَّفَ بِالْحَرِيرِ " , قَالَ : وَأَوْمَأَ الْحَسَنُ إِلَى جَيْبِ قَمِيصِهِ ، وَقَالَ : " أَلَا وَطِيبُ الرِّجَالِ رِيحٌ لَا لَوْنَ لَهُ , أَلَا وَطِيبُ النِّسَاءِ لَوْنٌ لَا رِيحَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہما السلام نے فرمایا میں رخ زمین پوش پر سواری نہیں کروں گا، عصفر سے رنگے ہوئے کپڑے یا ریشم کے کف والی قمیص نہیں پہنوں گا اور فرمایا یاد رکھو ! مردوں کی خوشبو کی مہک ہوتی ہے، رنگ نہیں ہوتا اور عورتوں کی خوشبو کا رنگ ہوتا ہے، مہک نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19975
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره دون قوله: ولا ألبس القيمص المكفف بالحرير فقد خالفه حديث أسماء أخرجه مسلم: 2069، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من عمران
حدیث نمبر: 19976
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَةَ الْعَدَوِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا السَّوَّارِ يَذْكُرُ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الْحَيَاءُ خَيْرٌ كُلُّهُ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حیاء سراسر خیر ہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19976
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6117، م: 37
حدیث نمبر: 19977
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ لَهُ عَلَى رَجُلٍ حَقٌّ ، فَمَنْ أَخَّرَهُ ، كَانَ لَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کا کسی دوسرے پر کوئی حق ہو اور وہ اسے مہلت دے دے تو حقدار کو روزانہ صدقہ کرنے کا ثواب ملتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19977
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جداً، أبو داود نفيع بن الحارث متروك منهم
حدیث نمبر: 19978
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ أَوْ لِغَيْرِهِ : " هَلْ صُمْتَ مِنْ سُرَرِ شَعْبَانَ شَيْئًا ؟ " قَالَ : لَا , قَالَ : " فَإِذَا أَفْطَرْتَ فَصُمْ يَوْمَيْنِ " , حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَقُلْ : " يَوْمَيْنِ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے پوچھا کیا تم نے شعبان کے اس مہینے کے آخر میں کوئی روزہ رکھا ہے ؟ اس نے کہا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رمضان کے روزے ختم ہوجائیں تو اس کی جگہ دو دن کے روزے رکھ لینا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19978
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1983، م: 1161
حدیث نمبر: 19979
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَقُلْ: " يَوْمَيْنِ "
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19979
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19980
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , وَعَفَّانُ , قَالَا : ثَنَا حَمَّادٌ ، عَن أَبِي التَّيَّاحِ , قَالَ عَفَّانُ , حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ , عَنْ حَفْصٍ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحَنْتَمِ ، وَلُبْسِ الْحَرِيرِ ، وَالتَّخَتُّمِ بِالذَّهَبِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں شہادت دیتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حنتم، سونے کی انگوٹھی اور ریشم سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19980
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، حفص الليثي مجهول لكنه توبع
حدیث نمبر: 19981
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ بَنِي لَيْثٍ , يَقُولُ : أَشْهَدُ عَلَى عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّهُ حَدَّثَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْحَنَاتِمِ ، وَعَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ ، وَعَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں شہادت دیتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حتنم، سونے کی انگوٹھی اور ریشم سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19981
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة رجل من بني ليث، لكنه توبع
حدیث نمبر: 19982
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، عن الضَّحَّاكُ يَعْنِي ابْنَ يَسَارٍ , قَالَ : وَحَدَّثَنَا أَبُو الْعَلَاءِ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اطَّلَعْتُ فِي النَّارِ ، فَإِذَا أَكْثَرُ أَهْلِهَا النِّسَاءُ ، وَاطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ ، فَإِذَا أَكْثَرُ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے جہنم میں جھانک کر دیکھا تو وہاں اکثریت خواتین کی نظر آئی اور جنت میں جھانک کر دیکھا تو اکثریت فقراء کی نظر آئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19982
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3241، وهذا إسناد محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 19983
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَي أَبِي ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ , وَعَفَّانُ , قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ قَالَ : وَكَانَ رَجُلًا مَبْسُورًا قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ وَالرَّجُلُ قَاعِدٌ ، فَقَالَ : " مَنْ صَلَّى قَائِمًا ، فَهُوَ أَفْضَلُ ، وَمَنْ صَلَّى قَاعِدًا ، فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَائِمِ ، وَمَنْ صَلَّى نَائِمًا ، فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَاعِدِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیٹھ کر نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھڑے ہو کر نماز پڑھنا سب سے افضل ہے، بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے سے نصف ہے اور لیٹ کر نماز پڑھنے کا ثواب بیٹھ کر نماز پڑھنے سے نصف ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19983
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1116
حدیث نمبر: 19984
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ عُمَرَ أَبُو خُشَيْنَةَ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْأَعْرَجِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ " قَالَ : مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " هُمْ الَّذِينَ لَا يَسْتَرْقُونَ ، وَلَا يَكْتَوُونَ ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت میں سے ستر ہزار آدمی بلا حساب کتاب جنت میں داخل ہوں گے، یہ وہ لوگ ہیں جو داغ کر علاج نہیں کرتے، تعویذ نہیں لٹکاتے، پرندوں سے فال نہیں لیتے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19984
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 218
حدیث نمبر: 19985
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَوْ فِي غَضَبٍ ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ عن ہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی نافرمانی یا غصے میں منت نہیں ہوتی اور اس کا کفارہ وہی ہوتا ہے جو کفارہ قسم کا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19985
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جداً، محمد بن الزبير متروك متهم، والحسن لم يسمع من عمران
حدیث نمبر: 19986
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُطَرِّفَ بْنَ الشِّخِّيرِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَقَلَّ سَاكِنِي أَهْلِ الْجَنَّةِ النِّسَاءُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اہل جنت میں سب سے کم رہائشی افراد خواتین ہونگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19986
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2738
حدیث نمبر: 19987
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا جَلَبَ , وَلَا جَنَبَ , وَلَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ ، وَمَنْ انْتَهَبَ نُهْبَةً ، فَلَيْسَ مِنَّا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زکوٰۃ میں اچھے جانور وصول کرنا، یا زکوٰۃ کی ادائیگی سے (حیلے بہانوں سے) بچنا اور جانوروں کو نیزوں سے زخمی کرنے کی کوئی اصلیت نہیں ہے اور جو شخص لوٹ مار کرتا ہے، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19987
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من عمران
حدیث نمبر: 19988
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , وَسَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ : " هَلْ صُمْتَ مِنْ سُرَرِ شَعْبَانَ شَيْئًا ؟ " قَالَ : لَا , قَالَ : " فَإِذَا أَفْطَرْتَ رَمَضَانَ ، فَصُمْ يَوْمَيْنِ " ، قَالَ الْجُرَيْرِيُّ : صُمْ يَوْمًا.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے پوچھا کیا تم نے شعبان کے اس مہینے کے آخر میں کوئی روزہ رکھا ہے ؟ اس نے کہا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رمضان کے روزے ختم ہوجائیں تو ایک دو دن کے روزے رکھ لینا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19988
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناداه صحيحان، خ: 1983، م: 1161
حدیث نمبر: 19989
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْكَيِّ ، فَاكْتَوَيْنَا ، فَلَمْ يُفْلِحْنَ وَلَمْ يُنْجِحْنَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں داغنے کا علاج کرنے سے منع فرمایا ہے، لیکن ہم داغتے رہے اور کبھی کامیاب نہ ہوسکے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19989
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19990
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى , وَعَفَّانُ , قَالَا : أَخْبَرَنَا أَبُو هِلَالٍ ، قَالَ عَفَّانُ : أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، وَقَالَ حَسَنٌ : عَنْ قَتَادَةَ ، عَن أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُنَا عَامَّةَ لَيْلِهِ عَنْ بَنِى إِسْرَائِيلَ لَا يَقُومُ إِلَّا لِعُظْمِ صَلَاةٍ " , يعني المكتوبةَ الفريضةَ , قال عفان : عامةً يُحدِّثُنا لَيلَه عن بني إسرائيل لا يقوم إلا لعُظْم صلاةٍ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں رات کے وقت اکثر بنی اسرائیل کے واقعات سناتے رہتے تھے (اور بعض اوقات درمیان میں بھی نہیں اٹھتے تھے) صرف فرض نماز کے لئے اٹھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19990
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح لكن من حديث عبدالله بن عمرو، أخطأ فيه أبو هلال، فجعله من حديث عمران
حدیث نمبر: 19991
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ فِي سَفَرٍ فَنَامَ عَنِ الصُّبْحِ حَتَّى طَلَعَتْ الشَّمْسُ ، فَاسْتَيْقَظَ فَأَمَرَ ، فَأُذِّنَ ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ انْتَظَرَ حَتَّى اسْتَقَلَّتْ ، ثُمَّ أَمَرَ فَقَامَ فَصَلَّى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر میں تھے، رات کے وقت ایک مقام پر پڑاؤ کیا، تو فجر کی نماز کے وقت سب لوگ سوتے ہی رہ گئے اور اس وقت بیدار ہوئے جب سورج طلوع ہوچکا تھا، جب سورج خوب بلند ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو حکم دیا، اس نے اذان دی اور لوگوں نے دو سنتیں پڑھیں، پھر انہوں نے فرض نماز ادا کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19991
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، الحسن البصري لم يسمع من عمران، لكنه توبع
حدیث نمبر: 19992
حَدَّثَنَا حُسيَنٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَوْ غَيْرِهِ : أَنَّ حُصَيْنًا أَوْ حَصِينًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ لَعَبْدُ الْمُطَّلِبِ كَانَ خَيْرًا لِقَوْمِهِ مِنْكَ ، كَانَ يُطْعِمُهُمْ الْكَبِدَ وَالسَّنَامَ ، وَأَنْتَ تَنْحَرُهُمْ ! فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ، فَقَالَ لَهُ : مَا تَأْمُرُنِي أَنْ أَقُولَ ؟ قَالَ : " قُلْ : اللَّهُمَّ قِنِي شَرَّ نَفْسِي ، وَاعْزِمْ لِي عَلَى أَرْشَدِ أَمْرِي " , قَالَ : فَانْطَلَقَ فَأَسْلَمَ الرَّجُلُ ، ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ : إِنِّي أَتَيْتُكَ ، فَقُلْتَ لِي : " قُلْ : اللَّهُمَّ قِنِي شَرَّ نَفْسِي ، وَاعْزِمْ لِي عَلَى أَرْشَدِ أَمْرِي " , فَمَا أَقُولُ الْآنَ ؟ قَالَ : " قُلْ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ ، وَمَا أَخْطَأْتُ وَمَا عَمَدْتُ ، وَمَا عَلِمْتُ وَمَا جَهِلْتُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حصین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے بہتر اپنی قوم کے لئے تو عبدالمطلب تھے، وہ لوگوں کو جگر اور کوہان کھلایا کرتے تھے اور آپ ان ہی کو ذبح کردیتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مناسب جواب دیا، اس نے کہا کہ آپ مجھے کیا پڑھنے کا حکم دیتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یوں کہا کرو اے اللہ ! مجھے میرے نفس کے شر سے بچا اور سب سے زیادہ بھلائی والے کام پر پختگی عطاء فرما۔ وہ شخص چلا گیا اور اسلام قبول کرنے کے بعد دوبارہ آیا اور کہا کہ پہلے میں آپ کے پاس آیا تھا تو آپ نے مجھ سے یہ کہنے کے لئے فرمایا تھا کہ اے اللہ ! مجھے میرے نفس کے شر سے بچا اور سب سے زیادہ بھلائی والے کا پر پختگی عطاء فرما، اب میں کیا کہا کروں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب تم یوں کہا کرو کہ اے اللہ ! میرے پوشیدہ اور علانیہ، غلطی سے اور جان بوجھ کر، واقف ہو کر یا نادان ہو کر سرزد ہونے والے تمام گناہوں کو معاف فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19992
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19993
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ جُدْعَانَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ أَكَلَ الطَّعَامَ ، وَمَشَى فِي الْأَسْوَاقِ " يَعْنِي الدَّجَّالَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دجال بازاروں میں کھانا کھاتا اور چلتا پھرتا ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19993
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف ابن جدعان، والحسن البصري لم يسمع من عمران
حدیث نمبر: 19994
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ يَعْنِي الشَّافِعِيّ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ , قَالَ : أَنْشُدُ اللَّهَ رَجُلًا سَمِعَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَدِّ شَيْئًا , فَقَامَ رَجُلٌ , فَقَالَ : " شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهُ الثُّلُثَ " , قَالَ : مَعَ مَنْ ؟ قَالَ : لَا أَدْرِي , قَالَ : لَا دَرَيْتَ ! .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں اس شخص کو قسم دیتا ہوں جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دادا کی وارثت کے متعلق کچھ سنا ہو کہ وہ ہمیں بتادے ؟ یہ سن کر ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک تہائی دیا ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا تمہارے ساتھ کوئی اور بھی ہے ؟ اس نے کہا مجھے معلوم نہیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر تجھے کچھ معلوم نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19994
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد، وقد خولف فى متن الحديث، والحسن البصري لم يسمع من عمران
حدیث نمبر: 19995
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى , وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ , قَالَا : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ صَلَاةً خَلْفَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَا وَعِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ، فَكَانَ إِذَا سَجَدَ كَبَّرَ ، وَإِذَا رَفَعَ كَبَّرَ ، وَإِذَا نَهَضَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ , كَبَّرَ " ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ ، أَخَذَ بِيَدِي عِمْرَانُ ، فَقَالَ : لَقَدْ ذَكَّرَنِي هَذَا قَبَلُ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ قَالَ : لَقَدْ صَلَّى بِنَا هَذَا صَلَاةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مولانا ظفر اقبال
مطرف بن شخیر کہتے ہیں کہ میں کوفہ میں حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی، وہ سجدے میں جاتے اور سر اٹھاتے وقت ہر مرتبہ اللہ اکبر کہتے رہے، جب نماز سے فراغت ہوئی تو حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا انہوں نے ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم جیسی نماز پڑھائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19995
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 826، م: 393
حدیث نمبر: 19996
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ , وَحُمَيْدٌ , وَيُونُسُ , عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُنَا فَيَأْمُرُنَا بِالصَّدَقَةِ ، وَيَنْهَانَا عَنِ الْمُثْلَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ اپنے خطاب میں صدقہ کی ترغیب دیتے اور مثلہ کرنے سے منع فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19996
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، الحسن البصري لم يسمع من عمران
حدیث نمبر: 19997
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، قَالَ : مَرَّ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ بِرَجُلٍ يَقُصُّ ، فَقَالَ عِمْرَانُ : إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " اقْرَءُوا الْقُرْآنَ وَسَلُوا اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَجِيءَ قَوْمٌ يَسْأَلُونَ النَّاسَ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ کسی آدمی کے پاس سے گزرے جو لوگوں کو قرآن پڑھ کر سنا رہا تھا، تلاوت سے فارغ ہو کر اس نے لوگوں سے مانگنا شروع کردیا، یہ دیکھ کر حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے " انا للہ وانا الیہ راجعون " کہا اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص قرآن پڑھے، اسے چاہیے کہ قرآن کے ذریعے اللہ سے سوال کرے، کیونکہ عنقریب ایسے لوگ بھی آئیں گے جو قرآن کو پڑھ کر اس کے ذریعے لوگوں سے سوال کریں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19997
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، مؤمل سيئ الحفظ، وقد أسقط من هذا الإسناد الحسن البصري بين خيثمة وعمران، وخيثمة ضعيف
حدیث نمبر: 19998
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : " نَزَلَ الْقُرْآنُ وَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السُّنَنَ ، ثُمَّ قَالَ : اتَّبِعُونَا ، فَوَاللَّهِ إِنْ لَمْ تَفْعَلُوا تَضِلُّوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قرآن کریم نازل ہوا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سنتیں متعین کی ہیں، پھر فرمایا کہ ہماری اتباع کرو، اللہ کی قسم ! اگر تم نے ایسا نہ کیا تو گمراہ ہوجاؤ گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19998
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، مؤمل سيئ الحفظ، وعلي بن زيد ضعيف، والحسن البصري لم يسمع من عمران
حدیث نمبر: 19999
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْعَدَوِيِّ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ فِي رَهْطٍ مِنْ بَنِي عَدِيٍّ فِينَا بُشَيْرُ ابْنُ كَعْبٍ ، فَحَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَيَاءُ خَيْرٌ كُلُّهُ " أَوْ " إِنَّ الْحَيَاءَ خَيْرٌ كُلُّهُ " , فَقَالَ بُشَيْرُ بْنُ كَعْبٍ : إِنَّا لَنَجِدُ فِي بَعْضِ الْكُتُبِ أَوْ قَالَ : الْحِكْمَةِ : أَنَّ مِنْهُ سَكِينَةً وَوَقَارًا لَلَّهِ ، وَمِنْهُ ضَعْفًا ، فَأَعَادَ عِمْرَانُ الْحَدِيثَ ، وَأَعَادَ بُشَيْرٌ مَقَالَتَهُ ، حَتَّى ذَكَر ذَاكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ، فَغَضِبَ عِمْرَانُ حَتَّى احْمَرَّتْ عَيْنَاهُ ، وَقَالَ : أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَعْرِضُ فِيهِ لِحَدِيثِ الْكُتُبِ ؟ ! قَالَ : فَقُلْنَا يَا أَبَا نُجَيْدٍ ، إِنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ ، وَإِنَّهُ مِنَّا ، فَمَا زِلْنَا حَتَّى سَكَنَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حیاء ہمیشہ خیر ہی لاتی ہے، یہ حدیث ان سے سن کر بشیر بن کعب کہنے لگے کہ حکمت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ حیاء سے وقاروسکینت پیدا ہوتی ہے، حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تم سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کررہا ہوں اور تم اپنے صحیفوں کی بات کررہے ہو، آئندہ میں تم سے کوئی حدیث بیان نہیں کروں گا، لوگ کہنے لگے اے ابونجید ! یہ اچھا آدمی ہے اور انہیں مسلسل مطمئن کرانے لگے، یہاں تک کہ وہ خاموش ہوگئے اور حدیث بیان کرنے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19999
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6117، م: 37
حدیث نمبر: 20000
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَ عَلَى عَضُدِ رَجُلٍ حَلْقَةً أُرَاهُ قَالَ مِنْ صُفْرٍ , فَقَال : " وَيْحَكَ مَا هَذِهِ ؟ " قَالَ : مِنَ الْوَاهِنَةِ , قَالَ : " أَمَا إِنَّهَا لَا تَزِيدُكَ إِلَّا وَهْنًا ، انْبِذْهَا عَنْكَ ، فَإِنَّكَ لَوْ مِتَّ وَهِيَ عَلَيْكَ مَا أَفْلَحْتَ أَبَدًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے بازو میں پیتل (تانبے) کا ایک کڑا دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ارے بھئی ! اس نے بتایا کہ یہ بیماری کی وجہ سے ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس سے تمہاری کمزوری میں مزید اضافہ ہی ہوگا، اسے اتار کر پھینکو، اگر تم اس حال میں مرگئے کہ یہ تمہارے ہاتھ میں ہو، تو تم کبھی کامیاب نہ ہوگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20000
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، مبارك بن فضالة مدلس، وقد عنعن، لكنه توبع، والحسن لم يسمع من عمران، وتصريح الحسن بسماعه من عمر ان خطأ من مبارك
حدیث نمبر: 20001
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأَيُّوبَ , وَهِشَامٍ , وَحَبِيبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَحُمَيْدٍ , وَيُونُسَ , وَقَتَادَةَ , وَسِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ لَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرَهُمْ ، فَأَقْرَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ ، فَرَدَّ أَرْبَعَةً فِي الرِّقِّ ، وَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے مرتے وقت اپنے چھ کے چھ غلام آزاد کردئیے، جن کے علاوہ اس کے پاس کوئی مال بھی نہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان غلاموں کو بلایا اور انہیں تین حصوں میں تقسیم کرکے ان کے درمیان قرعہ اندازی کی، پھر جن دو کا نام نکل آیا انہیں آزاد کردیا اور باقی چار کو غلام ہی رہنے دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20001
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: هذا الحديث له ثلاثة أسانيد: الاسناد الأول ضعيف لضعف عطاء وإرساله، والإسناد الثاني صحيح، والإسناد الثالث ضعيف لأن الحسن البصري لم يسمع من عمران بن حصين
حدیث نمبر: 20002
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيُّ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنَ الْحَيِّ , أَنَّ يَعْلَي بْنَ سُهَيْلٍ مَرَّ بِعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، فَقَالَ لَهُ : يَا يَعْلَي ، أَلَمْ أُنَبَّأْ أَنَّكَ بِعْتَ دَارَكَ بِمِائَةِ أَلْفٍ ؟ قَالَ : بَلَى ، قَدْ بِعْتُهَا بِمِائَةِ أَلْفٍ , قَالَ : فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ بَاعَ عُقْدَةَ مَالٍ ، سَلَّطَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهَا تَالِفًا يُتْلِفُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
یعلی بن سہیل ایک مرتبہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے پاس گذرے، حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا اے یعلی ! مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم نے اپنا گھر ایک لاکھ میں فروخت کردیا ہے ؟ انہوں نے کہا جی ہاں ! ایک لاکھ میں بیچا ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص مال کی گرہ بیچ دے، اللہ اس پر کسی مہلک چیز کو مسلط کردیتا ہے، جو اسے تباہ کردیتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20002
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف محمد بن أبى المليح، ولم يوجد ترجمة يعلى بن سهيل
حدیث نمبر: 20003
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ انْتَهَبَ نُهْبَةً فَلَيْسَ مِنَّا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص لوٹ مار کرتا ہے، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20003
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع، الحسن البصري لم يسمع من عمران
حدیث نمبر: 20004
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , وَعَفَّانُ , قَالَا : ثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ , قَالَ عَفَّانُ : أَخْبَرَنَا أَبُو التَّيَّاحِ , عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْكَيِّ ، فَاكْتَوَيْنَا ، فَمَا أَفْلَحْنَ وَلَا أَنْجَحْنَ " , وَقَالَ عَفَّانُ : فَلَمْ يُفْلِحْنَ وَلَمْ يُنْجِحْنَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں داغنے کا علاج کرنے سے منع فرمایا ہے، لیکن ہم داغتے رہے اور کبھی کامیاب نہ ہو سکے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20004
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20005
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، أَنَّ أَبَا قِلَابَةَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا الْمُهَلَّبِ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ حَدَّثَهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ أَخَاكُمْ النَّجَاشِيَّ تُوُفِّيَ فَصَلُّوا عَلَيْهِ " , قَالَ : فَصَفَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَفْنَا خَلْفَهُ ، فَصَلَّى عَلَيْهِ وَمَا نَحْسِبُ الْجِنَازَةَ إِلَّا مَوْضُوعَةً بَيْنَ يَدَيْهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آج تمہارا بھائی نجاشی فوت ہوگیا ہے لہذا اس کی نماز جنازہ پڑھو، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ہم نے پیچھے صفیں بنالیں، میں دوسری صف میں تھا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھا دی، ہمیں یوں محسوس ہوتا تھا کہ اس کا جنازہ سامنے ہی پڑا ہوا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20005
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20006
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ ، حَدَّثَنَا غَيْلَانُ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهُ أَوْ سَأَلَ رَجُلًا وَهُوَ شَاهِدٌ : " هَلْ صُمْتَ مِنْ سُرَرِ هَذَا الشَّهْرِ شَيْئًا ؟ " قَالَ : لَا , قَالَ : " فَإِذَا أَفْطَرْتَ فَصُمْ يَوْمَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے پوچھا کیا تم نے شعبان کے اس مہینے کے آخر میں کوئی روزہ رکھا ہے ؟ اس نے کہا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رمضان کے روزے ختم ہوجائیں تو دو دن کے روزے رکھ لینا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20006
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1983، م: 1161
حدیث نمبر: 20007
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَجَمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کی سزا جاری فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20007
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، الحسن البصري لم يسمع من عمران
حدیث نمبر: 20008
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ حُمَيْدَ بْنَ هِلَالٍ يحدث ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَيَاءُ خَيْرٌ كُلُّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کی سزا جاری فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20008
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6117، م: 37
حدیث نمبر: 20009
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ : أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ عِنْدَ مَوْتِهِ سِتَّةَ رَجْلَةٍ لَهُ ، فَجَاءَ وَرَثَتُهُ مِنَ الْأَعْرَابِ فَأَخْبَرُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا صَنَعَ ، قَالَ : " أَوَفَعَلَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : لَوْ عَلِمْنَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ مَا صَلَّيْنَا عَلَيْهِ " قَالَ : فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ ، فَأَعْتَقَ مِنْهُمْ اثْنَيْنِ ، وَرَدَّ أَرْبَعَةً فِي الرِّقِّ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے مرتے وقت اپنے چھ کے چھ غلام آزاد کردئیے، جن کے علاوہ اس کے پاس کوئی مال بھی نہ تھا، اس کے ورثاء نے آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر ہمیں پہلے پتہ چل جاتا تو اس کی نماز جنازہ نہ پڑھتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان غلاموں کو بلایا اور انہیں تین حصوں میں تقسیم کر کے ان کے درمیان قرعہ اندازی کی، پھر جن دو کا نام نکل آیا انہیں آزاد کردیا اور باقی چار کو غلام ہی رہنے دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20009
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، الحسن البصري لم يسمع من عمران
حدیث نمبر: 20010
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ , وَأَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ مِغْوَلٍ , عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سوائے نظر بد یا کسی زہریلے جانور کے ڈنک کے کسی مرض کا علاج منتر سے نہ کیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20010
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح