حدیث نمبر: 19935
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : سُئِلَ قَتَادَةُ عَنِ الشَّفْعِ وَالْوَتْرِ ، فقال : ثَنَا عِمْرَانُ بْنُ عِصَامٍ الضُّبَعِيُّ ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " هِيَ الصَّلَاةُ : مِنْهَا شَفْعٌ ، وَمِنْهَا وَتْرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سورة الفجر کے لفظ والشفع والوتر کا معنی پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس سے مراد نماز ہے کہ بعض نمازیں جفت ہیں اور بعض طاق۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19935
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن عمران
حدیث نمبر: 19936
حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيْلِيِّ ، قَالَ : غَدَوْتُ عَلَى عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ يَوْمًا مِنَ الْأَيَّامِ ، فَقَالَ : يَا أَبَا الْأَسْوَدِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ : أَنَّ رَجُلًا مِنْ جُهَيْنَةَ أَوْ مِنْ مُزَيْنَةَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ الْيَوْمَ وَيَكْدَحُونَ فِيهِ ، شَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ أَوْ مَضَى عَلَيْهِمْ فِي قَدَرٍ قَدْ سَبَقَ ، أَوْ فِيمَا يُسْتَقْبَلُونَ مِمَّا أَتَاهُمْ بِهِ نَبِيُّهُمْ وَاتُّخِذَتْ عَلَيْهِمْ بِهِ الْحُجَّةُ ؟ قَالَ : " بَلْ شَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ ، وَمَضَى عَلَيْهِمْ " قَالَ : فَلِمَ يَعْمَلُونَ إِذًا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " مَنْ كَانَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَهُ لِوَاحِدَةٍ مِنَ الْمَنْزِلَتَيْنِ يُهَيِّئُهُ لِعَمَلِهَا ، وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ : وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا سورة الشمس آية 7 - 8 " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالاسود دیلی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک دن میں حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے فرمایا اے ابوالاسود ! قبیلہ جہینہ کا ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ بتائیے کہ لوگ آج جو عمل کرتے ہیں اور اس میں محنت ومشقت سے کام لیتے ہیں، اس کا ان کے لئے فیصلہ ہوچکا ہے اور پہلے سے تقدیر جاری ہوچکی ہے یا آئندہ فیصلہ ہوگا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیمات کے مطابق ہوگا اور اس کے ذریعے ان پر حجت قائم کی جائے گی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلکہ پہلے سے فیصلہ ہوچکا اور تقدیر جاری ہوچکی، اس نے پوچھا یا رسول اللہ ! پھر لوگ عمل کیوں کرتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے جس شخص کو دو میں سے کسی ایک مرتبے کے لئے پیدا کیا ہے، اس کیلئے وہی عمل آسان کردیتا ہے اور اس کی تصدیق قرآن کریم میں اس ارشاد سے بھی ہوئی ہے ونفس وماسواھا فالہمہا فجورہا وتقواہا
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19936
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2650
حدیث نمبر: 19937
حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : وَحَدَّثَنِي السُّمَيْطُ الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنَ الْحَيِّ , أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ حَدَّثَهُ , أَنَّ عُبَيْسًا أَوْ ابْنَ عُبَيْسٍ فِي أُنَاسٍ مِنْ بَنِي جُشَمٍ أَتَوْهُ ، فَقَالَ لَهُ أَحَدُهُمْ : أَلَا تُقَاتِلُ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ ؟ قَالَ : لَعَلِّي قَدْ قَاتَلْتُ حَتَّى لَمْ تَكُنْ فِتْنَةٌ ، قَالَ : أَلَا أُحَدِّثُكُمْ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أُرَاهُ يَنْفَعُكُمْ ، فَأَنْصِتُوا , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اغْزُوا بَنِي فُلَانٍ مَعَ فُلَانٍ " قَالَ : فَصُفَّتْ الرِّجَالُ وَكَانَتْ النِّسَاءُ مِنْ وَرَاءِ الرِّجَالِ ، ثُمَّ لَمَّا رَجَعُوا ، قَالَ رَجُلٌ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، اسْتَغْفِرْ لِي غَفَرَ اللَّهُ لَكَ , قَالَ : " هَلْ أَحْدَثْتَ ؟ " قَالَ : لَمَّا هُزِمَ الْقَوْمُ ، وَجَدْتُ رَجُلًا بَيْنَ الْقَوْمِ وَالنِّسَاءِ , فَقَالَ : إِنِّي مُسْلِمٌ أَوْ قَالَ : أَسْلَمْتُ فَقَتَلْتُهُ ، قَالَ تَعَوُّذًا بِذَلِكَ حِينَ غَشِيَهُ الرُّمْحُ , قَالَ : " هَلْ شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ تَنْظُرُ إِلَيْهِ ؟ " فَقَالَ : لَا وَاللَّهِ مَا فَعَلْتُ , فَلَمْ يَسْتَغْفِرْ لَهُ ، أَوْ كَمَا قَالَ , وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اغْزُوا بَنِي فُلَانٍ مَعَ فُلَانٍ " فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنْ لُحْمَتِي مَعَهُمْ ، فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ اسْتَغْفِرْ اللَّهَ لِي غَفَرَ اللَّهُ لَكَ , قَالَ : " وَهَلْ أَحْدَثْتَ ؟ " قَالَ : لَمَّا هُزِمَ الْقَوْمُ أَدْرَكْتُ رَجُلَيْنِ بَيْنَ الْقَوْمِ وَالنِّسَاءِ ، فَقَالَا : إِنَّا مُسْلِمَانِ أَوْ قَالَا : أَسْلَمْنَا فَقَتَلْتُهُمَا , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَمَّا أُقَاتِلُ النَّاسَ إِلَّا عَلَى الْإِسْلَامِ ، وَاللَّهِ لَا أَسْتَغْفِرُ لَكَ " أَوْ كَمَا قَالَ ، فَمَاتَ بَعْدُ فَدَفَنَتْهُ عَشِيرَتُهُ ، فَأَصْبَحَ قَدْ نَبَذَتْهُ الْأَرْضُ ، ثُمَّ دَفَنُوهُ وَحَرَسُوهُ ثَانِيَةً ، فَنَبَذَتْهُ الْأَرْضُ ، ثُمَّ قَالُوا : لَعَلَّ أَحَدًا جَاءَ وَأَنْتُمْ نِيَامٌ فَأَخْرَجَهُ ، فَدَفَنُوهُ ثَالِثَةً , ثُمَّ حَرَسُوهُ ، فَنَبَذَتْهُ الْأَرْضُ ثَالِثَةً ، فَلَمَّا رَأَوْا ذَلِكَ أَلْقَوْهُ , أَوْ كَمَا قَالَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے پاس بنو جشم کے کچھ لوگوں کے ساتھ عبیس یا ابن عبیس آیا، ان میں سے ایک نے ان سے کہا کہ آپ اس وقت تک قتال میں کیوں شریک نہیں ہوتے جب تک فتنہ ختم نہ ہوجائے ؟ انہوں نے فرمایا شاید میں اس وقت تک قتال کرچکا ہوں کہ فتنہ باقی نہ رہا، پھر فرمایا کیا میں تمہارے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث بیان نہ کروں ؟ میرا خیال نہیں ہے کہ وہ تمہیں نفع دے سکے گی، لہذا تم لوگ خاموش رہو۔ پھر حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ صحابہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا فلاں آدمی کے ساتھ فلاں قبیلے کے لوگوں سے جہاد کرو، میدان جہاد میں مردوں نے صف بندی کرلی اور عورتیں ان کے پیچھے کھڑی ہوئیں، جہاد سے واپسی کے بعد ایک آدمی آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے نبی ! میرے لئے بخشش کی دعاء کیجئے، اللہ آپ کو معاف فرمائے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم سے کوئی گناہ ہوا ہے ؟ اس نے کہا کہ جب دشمن کو شکست ہوئی تو میں نے مردوں اور عورتوں کے درمیان ایک آدمی کو دیکھا، وہ کہنے لگا کہ میں مسلمان ہوں، یہ بات اس نے میرے نیزے کو دیکھ کر اپنی جان بچانے کے لئے کہی تھی اس لئے میں نے اسے قتل کردیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے استغفار نہیں کیا۔ ایک حدیث میں دو مردوں کو قتل کرنے کا ذکر ہے اور یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اسلام کے علاوہ اور کس چیز پر لوگوں سے قتال کر رہا ہوں، بخدا ! میں تمہارے لئے بخشش کی دعاء نہیں کرونگا، کچھ عرصہ بعد وہ شخص مرگیا، اس کے خاندان والوں نے اسے دفن کردیا لین صبح ہوئی تو زمین نے اسے باہر پھینک دیا تھا، انہوں نے اسے دوبارہ دفن کیا اور چوکیدار مقرر کردیا کہ شاید سوتے میں کوئی آ کر اسے قبر سے نکال گیا ہو، لیکن اس مرتبہ پھر زمین نے اس کی لاش کو باہر پھینک دیا، تین مرتبہ اسی طرح ہوا، بالآخر انہوں نے اس کی لاش کو یوں ہی چھوڑ دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19937
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن عمران
حدیث نمبر: 19938
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : " أَعْتَقَ رَجُلٌ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ ، فَأَقْرَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ ، فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ مِنْهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے مرتے وقت اپنے چھ کے چھ غلام آزاد کردئیے، جن کے علاوہ اس کے پاس کوئی مال بھی نہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان غلاموں کو بلایا اور انہیں تین حصوں میں تقسیم کرکے ان کے درمیان قرعہ اندازی کی، پھر جن دو کا نام نکل آیا انہیں آزاد کردیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19938
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، الحسن البصري لم يسمع من عمران لكنه توبع
حدیث نمبر: 19939
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ الْخَزَّازُ ، قال : حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ شِنْظِيرٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : مَا قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا إِلَّا أَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ ، وَنَهَانَا عَنِ الْمُثْلَةِ ، قَالَ : قَالَ : " أَلَا وَإِنَّ مِنَ الْمُثْلَةِ أَنْ يَنْذُرَ الرَّجُلُ أَنْ يَخْرِمَ أَنْفَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ اپنے خطاب میں صدقہ کی ترغیب دیتے اور مثلہ کرنے سے منع فرماتے تھے، یاد رکھو ! مثلہ کرنے میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ انسان کسی کی ناک کاٹنے کی منت مانے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19939
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح دون قوله: ألا وإن من المثلة ... وهذا إسناد ضعيف ، الحسن لم يسمع من عمران ، و صالح و كثير فيهما كلام ، وقد تفرد يقول: ألا وإن من المثلة ...
حدیث نمبر: 19940
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : " تَمَتَّعْنَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَنْهَنَا عَنْهَا ، وَلَمْ يَنْزِلْ فِيهَا نَهْيٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حج تمتع کی آیت قرآن میں نازل ہوئی ہے، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں اس پر عمل کیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال تک اس سے منع نہیں فرمایا : اور نہ ہی اس حوالے سے اس کی حرمت کا قرآن میں کوئی حکم نازل ہوا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19940
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1226، وهذا إسناد منقطع، الحسن البصري لم يسمع من عمران لكنه توبع
حدیث نمبر: 19941
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ أَخَاكُمْ النَّجَاشِيَّ قَدْ مَاتَ ، فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ " , قَالَ : فَصَفَفْنَا فَصَلَّيْنَا عَلَيْهِ كَمَا تُصَلُّونَ عَلَى الْمَيِّتِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آج تمہارا بھائی نجاشی فوت ہوگیا ہے لہذا اس کی نماز جنازہ پڑھو، چناچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ہم نے پیچھے صفیں بنالیں، پھر اس کی نماز جنازہ پڑھی جیسے عام طور پر کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19941
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 953
حدیث نمبر: 19942
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ أَخَاكُمْ النَّجَاشِيَّ قَدْ مَاتَ ، فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ " , قَالَ : فَقُمْنَا فَصَفَفْنَا عَلَيْهِ كَمَا نَصُفُّ عَلَى الْمَيِّتِ ، وَصَلَّيْنَا عَلَيْهِ كَمَا نُصَلِّي عَلَى الْمَيِّتِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آج تمہارا بھائی نجاشی فوت ہوگیا ہے لہذا اس کی نماز جنازہ پڑھو، چناچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ہم نے پیچھے صفیں بنالیں، پھر اس کی نماز جنازہ پڑھی جیسے عام طور پر کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19942
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح م: 953 ، بشر بن المفضل خولف ، والمحفوظ بدون واسطة أبى المهلب
حدیث نمبر: 19943
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْأَعْرَجِ , أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ، قَالَ : " مَا مَسِسْتُ فَرْجِي بِيَمِينِي مُنْذُ بَايَعْتُ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب سے میں نے اپنے دائیں ہاتھ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کی ہے، کبھی اس سے اپنی شرمگاہ کو نہیں چھوا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19943
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19944
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عن عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ، قَالَ : إِنَّهُ مَرَّ عَلَى قَاصٍّ قَرَأَ ثُمَّ سَأَلَ ، فَاسْتَرْجَعَ ، وَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَلْيَسْأَلْ اللَّهَ بِهِ ، فَإِنَّهُ سَيَجِيءُ قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ يَسْأَلُونَ النَّاسَ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ کسی آدمی کے پاس سے گزرے جو لوگوں کو قرآن پڑھ کر سنا رہا تھا، تلاوت سے فارغ ہو کر اس نے لوگوں سے مانگنا شروع کردیا، یہ دیکھ کر حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے " انا للہ وانا الیہ راجعون " کہا اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص قرآن پڑھے، اسے چاہیے کہ قرآن کے ذریعے اللہ سے سوال کرے، کیونکہ عنقریب ایسے لوگ بھی آئیں گے جو قرآن کو پڑھ کر اس کے ذریعے لوگوں سے سوال کریں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19944
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف خيثمة ، والحسن البصري لم يسمع من عمران
حدیث نمبر: 19945
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ الْوَرَّاقُ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا نَذْرَ فِي غَضَبٍ ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غصے میں منت نہیں ہوتی اور اس کا کفارہ وہی ہوتا ہے جو کفارہ قسم کا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19945
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جداً، محمد بن الزبير متروك، والحسن البصري لم يسمع من عمران
حدیث نمبر: 19946
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الطَّالَقَانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا جَلَبَ , وَلَا جَنَبَ , وَلَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ ، وَمَنْ انْتَهَبَ ، فَلَيْسَ مِنَّا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زکوٰۃ میں اچھے جانور وصول کرنا، یا زکوٰۃ کی ادائیگی سے (حیلے بہانوں سے) بچنا اور جانوروں کو نیزوں سے زخمی کرنے کی کوئی اصلیت نہیں ہے اور جو شخص لوٹ مار کرتا ہے، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19946
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع، الحسن البصري لم يسمع من عمران
حدیث نمبر: 19947
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , وَعَفَّانُ , قَالَا : ثَنَا مَهْدِيٌّ ، قَالَ عَفَّانُ : حَدَّثَنَا غَيْلَانُ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِمَّا أَنْ يَكُونَ قَالَ لِعِمْرَانَ ، أَوْ لِرَجُلٍ وَهُوَ يَسْمَعُ : " صُمْتَ سُرَرَ هَذَا الشَّهْرِ ؟ " قَالَ : لَا , قَالَ : " فَإِذَا أَفْطَرْتَ فَصُمْ يَوْمَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے پوچھا کیا تم نے شعبان کے اس مہینے کے آخر میں کوئی روزہ رکھا ہے ؟ اس نے کہا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رمضان کے روزے ختم ہوجائیں تو ایک دو دن کے روزے رکھ لینا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19947
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1983، م: 1161
حدیث نمبر: 19948
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ أَخُو سُلَيْمَانَ بْنِ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ ، عَنْ عِمْرَانَ : أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ ، فَرَدَّ عَلَيْهِ ثُمَّ جَلَسَ ، فَقَالَ : " عَشْرٌ " ثُمَّ جَاءَ آخَرُ ، فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، فَرَدَّ عَلَيْهِ ثُمَّ جَلَسَ ، فَقَالَ : " عِشْرُونَ " ثُمَّ جَاءَ آخَرُ ، فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، فَرَدَّ عَلَيْهِ ثُمَّ جَلَسَ ، فَقَالَ " ثَلَاثُونَ " , حَدَّثَنَا هَوْذَةُ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَن أَبِي رَجَاءٍ مُرْسَلًا ، وَكَذَلِكَ قَالَ غَيْرُهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے " السلام علیکم " کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جواب دیا اور جب وہ بیٹھ گیا تو فرمایا دس، دوسرا آیا اور اس نے " السلام علیکم ورحمۃ اللہ " کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا بھی جواب دیا اور جب وہ بیٹھ گیا تو فرمایا بیس، پھر تیسرا آیا اور اس نے " السلام علیکم وحمۃ اللہ وبرکاتہ " کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا بھی جواب دیا اور جب وہ بیٹھ گیا تو فرمایا تیس (نیکیاں)
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19948
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 19949
حَدَّثَنَا هَوْذَةُ عَنْ عَوْفٍ عَن أَبِي رَجَاءٍ مُرْسَلًا وَكَذَلِكَ قَالَ غَيْرُهُ
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19949
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا مرسل
حدیث نمبر: 19950
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قال : أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ، قَالَ : " أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّدَقَةِ ، وَنَهَى عَنِ الْمُثْلَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ اپنے خطاب میں صدقہ کی ترغیب دیتے اور مثلہ کرنے سے منع فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19950
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، الحسن لم يسمع من عمران، وقول الحسن: حدثني عمران خطأ من مبارك بن فضالة
حدیث نمبر: 19951
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : ثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ، قَالَ : " أُتِيَ بِرَجُلٍ أَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ عِنْدَ مَوْتِهِ ، وَلَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ ، فَأَقْرَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ ، فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے مرتے وقت اپنے چھ کے چھ غلام آزاد کردئیے، جن کے علاوہ اس کے پاس کوئی مال بھی نہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان غلاموں کو بلایا اور انہیں تین حصوں میں تقسیم کرکے ان کے درمیان قرعہ اندازی کی، پھر جن دو کا نام نکل آیا انہیں آزاد کردیا اور باقی چار کو غلام ہی رہنے دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19951
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1668، وهذا إسناد ضعيف، الحسن البصري لم يسمع من عمران، وتصريح الحسن بسماعه من عمران خطأ من مبارك بن فضالةأ
حدیث نمبر: 19952
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ , وَحَسْنُ بْنُ مُوسَى , قَالَا : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ أَنَا وَعِمْرَانُ خَلْفَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، فَكَانَ إِذَا سَجَدَ كَبَّرَ ، وَإِذَا رَفَعَ كَبَّرَ ، وَإِذَا نَهَضَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ ، فَلَمَّا انْصَرَفْنَا أَخَذَ عِمْرَانُ بْنُ الْحُصَيْنِ بِيَدِي ، فَقَالَ : لَقَدْ صَلَّى بِنَا هَذَا مِثْلَ صَلَاةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَوْ قَالَ : لَقَدْ ذَكَّرَنِي هَذَا صَلَاةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
مطرف بن شخیر کہتے ہیں کہ میں کوفہ میں حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی، وہ سجدے میں جاتے اور سر اٹھاتے وقت ہر مرتبہ اللہ اکبر کہتے رہے، جب نماز سے فراغت ہوئی تو حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا انہوں نے ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم جیسی نماز پڑھائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19952
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 826، م: 393
حدیث نمبر: 19953
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , وَبَهْزٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , قَالَ بَهْزٌ : عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ أُمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِي بُعِثْتُ فِيهِمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ " , قَالَ : وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَذَكَرَ الثَّالِثَ أَمْ لَا ؟ " ثُمَّ يَنْشَأُ قَوْمٌ يَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ ، وَيَنْذُرُونَ وَلَا يُوفُونَ ، وَيَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ ، وَيَفْشُو فِيهِمْ السِّمَنُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس امت کا سب سے بہترین زمانہ تو وہ ہے جس میں مجھے مبعوث کیا گیا ہے، پھر اس کے بعد والوں کا زمانہ ہے، پھر ایک ایسی قوم آئے گی جو منت مانے گی لیکن پوری نہیں کرے گی، خیانت کرے گی، امانت دار نہ ہوگی، گواہی دینے کے لئے تیار ہوگی گو کہ اس سے گواہی نہ مانگی جائے اور ان میں موٹاپا عام ہوجائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19953
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2651، م: 2535
حدیث نمبر: 19954
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ يَعْنِي الْعَطَّارَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ : أَنَّ امْرَأَةً مِنْ جُهَيْنَةَ أَتَتْ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ لَهُ : إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ ، وَهِيَ حَامِلٌ ، فَأَمَرَ بِهَا أَنْ يُحْسَنَ إِلَيْهَا حَتَّى تَضَعَ ، فَلَمَّا وَضَعَتْ جِيءَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِهَا ، فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا ، ثُمَّ رَجَمَهَا ، ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، تُصَلِّي عَلَيْهَا وَقَدْ زَنَتْ ؟ ! قَالَ : " لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ ، وَهَلْ وَجَدْتَ أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ ؟ ! " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بدکاری کا اعتراف کرلیا اور کہنے لگی کہ میں امید سے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سرپرست کو بلا کر اس سے فرمایا کہ اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اور جب یہ بچے کو جنم دے چکے تو مجھے بتانا، اس نے ایسا ہی کیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اس عورت کے جسم پر اچھی طرح کپڑے باندھ دیئے گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اسے رجم کردیا گیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی، یہ دیکھ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ ! آپ نے اسے رجم بھی کیا اور اس کی نماز جنازہ بھی پڑھا رہے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہ ستر اہل مدینہ پر تقسیم کردی جائے تو ان کے لئے بھی کافی ہوجائے اور تم نے اس سے افضل بھی کوئی چیز دیکھی ہے کہ اس نے اپنی جان کو اللہ کے لئے قربان کردیا ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19954
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1696
حدیث نمبر: 19955
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّ رَجُلًا حَدَّثَهُ , أَنَّهُ سَأَلَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ عَنْ رَجُلٍ نَذَرَ أَنْ لَا يَشْهَدَ الصَّلَاةَ فِي مَسْجِدٍ ، فَقَالَ عِمْرَانُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا نَذْرَ فِي غَضَبٍ ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ غصے میں منت نہیں ہوتی اور اس کا کفارہ وہی ہوتا ہے جو کفارہ قسم کا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19955
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جداً، محمد بن الزبير متروك ، وأبوه مجهول، وفيه رجل مبهم
حدیث نمبر: 19956
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّهُ لَقِيَ رَجُلًا بمَكَّةَ , فَحَدَّثَهُ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " لَا نَذْرَ فِي غَضَبٍ , وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ غصے میں منت نہیں ہوتی اور اس کا کفارہ وہی ہوتا ہے جو کفارہ قسم کا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19956
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جداً، راجع ما قبله
حدیث نمبر: 19957
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ , أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ حَدَّثَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْحَيَاءُ خَيْرٌ كُلُّهُ " , قَالَ بُشَيْرُ بْنُ كَعْبٍ : إِنَّ مِنْهُ ضَعْفًا ، فَغَضِبَ عِمْرَانُ , فَقَالَ : لَا أَرَانِي أُحَدِّثُ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْحَيَاءُ خَيْرٌ كُلُّه " , وَتَقُولُ إِنَّ مِنْهُ ضَعْفًا ! قَالَ : فَجَفَاهُ وَأَرَادَ أَنْ لَا يُحَدِّثَهُ ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّهُ كَمَا تُحِبُّ , حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حیاء ہمیشہ خیر ہی لاتی ہے، یہ حدیث ان سے سن کر بشیر بن کعب کہنے لگے کہ حکمت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ حیاء سے وقاروسکینت پیدا ہوتی ہے، حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تم سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کررہا ہوں اور تم اپنے صحیفوں کی بات کررہے ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19957
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، ثابت البناني لم يسمع من عمران لكنه توبع
حدیث نمبر: 19958
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19958
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من عمران
حدیث نمبر: 19959
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ ، قَالَ : مَرَّ عَلَى مَسْجِدِنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَأَخَذْتُ بِلِجَامِهِ ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ ، فَقَالَ : " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَجِّ ، فَكَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ حَتَّى ذَهَبَ ، وَأَبُو بَكْرٍ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى ذَهَبَ ، وَعُمَرُ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى ذَهَبَ ، وَعُثْمَانُ سِتَّ سِنِينَ أَوْ ثَمَانٍ ، ثُمَّ أَتَمَّ الصَّلَاةَ بِمِنًى أَرْبَعًا " .
مولانا ظفر اقبال
ابونضرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ ہماری مسجد کے پاس سے گذرے، میں ان کی طرف بڑھا اور ان کی سواری کی لگام پکڑ کر ان سے نماز سفر کے متعلق پوچھا، انہوں نے فرمایا کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لئے نکلے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپسی تک دو دو رکعتیں پڑھتے رہے، پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ وعمر رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح کیا، چھ یا آٹھ سال تک حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح کیا، اس کے بعد وہ منٰی میں چار رکعتیں پڑھنے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19959
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل على بن زيد
حدیث نمبر: 19960
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ أَوْ الْعَصْرَ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ ، ثُمَّ سَلَّمَ " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ : الْخِرْبَاقُ : أَقُصِرَتْ الصَّلَاةُ ؟ فَسَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ كَمَا قَالَ ، فَصَلَّى رَكْعَةً ، ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی تین رکعتوں پر ہی سلام پھیر دیا اور سلام پھیر کر گھر چلے گئے، ایک آدمی جس کا نام " خرباق " تھا اور اس کے ہاتھ کچھ زیادہ ہی لمبے تھے، اٹھ کر گیا اور " یا رسول اللہ " کہہ کر پکارا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو اس نے بتایا کہ آپ نے تین رکعتیں پڑھائی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے اور لوگوں سے پوچھا کیا یہ سچ کہہ رہا ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا جی ہاں ! تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوٹی ہوئی ایک رکعت پڑھائی اور سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے کئے اور سلام پھیر دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19960
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 574
حدیث نمبر: 19961
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى يُحَدِّثُ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَّى الظُّهْرَ ، فَجَعَلَ رَجُلٌ يَقْرَأُ خَلْفَهُ : بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ : " أَيُّكُمْ قَرَأَ أَوْ أَيُّكُمْ الْقَارِئُ ؟ " فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا , قَالَ : " قَدْ ظَنَنْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھی، مقتدیوں میں سے ایک آدمی نے سبح اسم ربک الاعلی والی سورت پڑھی، نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تم میں سے سبح اسم ربک الاعلی کس نے پڑھی ہے ؟ ایک آدمی نے کہا میں نے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں سمجھ گیا تھا کہ تم میں سے کوئی مجھ سے جھگڑ رہا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19961
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 398
حدیث نمبر: 19962
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام میں جانوروں کو نیزوں سے زخمی کرنے کی کوئی اصلیت نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19962
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19963
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ أَخَاكُمْ النَّجَاشِيَّ قَدْ مَاتَ ، فَصَلُّوا عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آج تمہارا بھائی نجاشی فوت ہوگیا ہے لہذا اس کی نماز جنازہ پڑھو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19963
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 953
حدیث نمبر: 19964
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , وَرَوْحٌ ، قَالَ : ثَنَا هِشَامٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : سَرَيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ عَرَّسْنَا ، فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ حَتَّى أَيْقَظَنَا حَرُّ الشَّمْسِ ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ مِنَّا يَقُومُ دَهِشًا إِلَى طَهُورِهِ ، قَالَ : فَأَمَرَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْكُنُوا ، ثُمَّ ارْتَحَلْنَا فَسِرْنَا حَتَّى إِذَا ارْتَفَعَتْ الشَّمْسُ تَوَضَّأَ ، ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ ، ثُمَّ صَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّيْنَا ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا نُعِيدُهَا فِي وَقْتِهَا مِنَ الْغَدِ ؟ قَالَ : " أَيَنْهَاكُمْ رَبُّكُمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَنِ الرِّبَا وَيَقْبَلُهُ مِنْكُمْ ؟ ! " , حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ , حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : زَعَمَ الْحَسَنُ , أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ حَدَّثَهُ , قَالَ : أَسْرَيْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کسی سفر میں تھے، رات کے وقت ایک مقام پر پڑواؤ کیا، تو فجر کی نماز کے وقت سب لوگ سوتے ہی رہ گئے، اس وقت بیدار ہوئے جب سورج طلوع ہوچکا تھا، جب سورج خوب بلند ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو حکم دیا، اس نے اذان دی اور لوگوں نے دو سنتیں پڑھیں، پھر انہوں نے فرض نماز ادا کی، لوگ کہنے لگے یا رسول اللہ ! کیا ہم اسے کل آئندہ اس کے وقت میں دوبارہ نہ لوٹا لیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ہوسکتا ہے کہ تمہارا رب تمہیں سود سے منع کرے اور خود اسے قبول کرلے ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19964
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قوله: أينهاكم ربكم الحسن لم يسمع من عمران لكنه توبع بدون هذآ الحرف
حدیث نمبر: 19965
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ هِشَامٍ قَالَ: زَعَمَ الْحَسَنُ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ حَدَّثَهُ قَالَ: أَسْرَيْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19965
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، الحسن لم يسمع من عمران، وتصريح الحسن بسماعه من عمران خطأ من أحد رواته
حدیث نمبر: 19966
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ ، لَا يَكْتَوُونَ وَلَا يَسْتَرْقُونَ ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت میں سے ستر ہزار آدمی بلا حساب کتاب جنت میں داخل ہوں گے، یہ وہ لوگ ہیں جو داغ کر علاج نہیں کرتے، تعویذ نہیں لٹکاتے، پرندوں سے فال نہیں لیتے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19966
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 218
حدیث نمبر: 19967
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ مَصْبُورَةٍ ، فَلْيَتَبَوَّأْ بِوَجْهِهِ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جان بوچھ کر کسی بات پر ناحق جھوٹی قسم کھائے، اسے چاہیے کہ اپنا ٹھکانہ جہنم کی آگ میں بنا لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19967
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19968
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِي دَهْمَاءَ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَمِعَ بِالدَّجَّالِ فَلْيَنْأَ مِنْهُ ثَلَاثًا يَقُولُهَا , فَإِنَّ الرَّجُلَ يَأْتِيهِ يَتَّبِعُهُ وَهُوَ يَحْسِبُ أَنَّهُ صَادِقٌ بِمَا يُبْعَثُ بِهِ مِنَ الشُّبُهَاتِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص خروج دجال کے متعلق سنے، وہ اس سے دور ہی رہے (یہ جملہ تین مرتبہ فرمایا) کیونکہ انسان اس کے پاس جائے گا تو یہ سمجھے گا کہ وہ مسلمان ہے لیکن جوں جوں دجال کے ساتھ شبہ میں ڈالنے والی چیزیں دیکھتاجائے گا، اس کی پیروی کرتا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19968
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19969
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا رَجُلٌ وَالرَّجُلُ كَانَ يُسَمَّى فِي كِتَابِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ : عَمْرَو بْنَ عُبَيْدٍ , قَالَ : ثَنَا أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : " مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزِ بُرٍّ مَأْدُومٍ حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ " , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : وَكَانَ أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ قَدْ ضَرَبَ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ فِي كِتَابِهِ ، فَسَأَلْتُهُ عَنْهُ فَحَدَّثَنِي بِهِ ، وَكَتَبَ عَلَيْهِ صَحَّ صَحَّ ، إِنَّمَا ضَرَبَ أَبِي عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ , لِأَنَّهُ لَمْ يَرْضَ الرَّجُلَ الَّذِي حَدَّثَ عَنْه يَزِيدُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کبھی جو کی روٹی سے سالن کے ساتھ سیراب نہیں ہوئے، یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوگئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19969
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جداً، عمرو بن عبيد متروك متهم
حدیث نمبر: 19970
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ : " هَلْ صُمْتَ مِنْ سِرَارِ هَذَا الشَّهْرِ شَيْئًا ؟ " فَقَالَ : لَا , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَإِذَا أَفْطَرْتَ مِنْ رَمَضَانَ ، فَصُمْ يَوْمَيْنِ مَكَانَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے پوچھا کیا تم نے شعبان کے اس مہینے کے آخر میں کوئی روزہ رکھا ہے ؟ اس نے کہا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رمضان کے روزے ختم ہوجائیں تو اس کی جگہ دو دن کے روزے رکھ لینا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19970
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1983، م: 1161، روي يزيد عن الجريري بعد الاختلاط لكنه توبع ، ثم الجريري متابع
حدیث نمبر: 19971
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , قَالَ سُلَيْمَانُ : وَأَشُكُّ فِي عِمْرَانَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ : " يَا عِمْرَانُ ، هَلْ صُمْتَ مِنْ سُرَرِ هَذَا الشَّهْرِ شَيْئًا ؟ " قَالَ : لَا , قَالَ : " فَإِذَا أَفْطَرْتَ فَصُمْ يَوْمَيْنِ مَكَانَهُ " , وَقَالَ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ : سِرَارِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے پوچھا کیا تم نے شعبان کے اس مہینے کے آخر میں کوئی روزہ رکھا ہے ؟ اس نے کہا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رمضان کے روزے ختم ہوجائیں تو اس کی جگہ دو دن کے روزے رکھ لینا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19971
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1983، م: 1161، وهذا إسناد منقطع، أبو العلاء بن الشخير لم يسمعه من عمران
حدیث نمبر: 19972
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو نَعَامَةَ الْعَدَوِيُّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَيَاءُ خَيْرٌ كُلُّه " , فَقَالَ بُشَيْرٌ : فَقُلْتُ : إِنَّ مِنْهُ ضَعْفًا ، وَإِنَّ مِنْهُ عَجْزًا , فَقَالَ : أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَجِيئَنِي بِالْمَعَارِيضِ ؟ ! لَا أُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ مَا عَرَفْتُكَ , فَقَالُوا : يَا أَبَا نُجَيْدٍ ، إِنَّهُ طَيِّبُ الْهَوَى ، وَإِنَّهُ وَإِنَّهُ ، فَلَمْ يَزَالُوا بِهِ حَتَّى سَكَنَ وَحَدَّثَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حیاء ہمیشہ خیر ہی لاتی ہے، یہ حدیث ان سے سن کر بشیر بن کعب کہنے لگے کہ حکمت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ حیاء سے وقاروسکینت پیدا ہوتی ہے، حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تم سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کررہا ہوں اور تم اپنے صحیفوں کی بات کررہے ہو، آئندہ میں تم سے کوئی حدیث بیان نہیں کروں گا، لوگ کہنے لگے اے ابونجید ! یہ اچھا آدمی ہے اور انہیں مسلسل مطمئن کرانے لگے، یہاں تک کہ وہ خاموش ہوگئے اور حدیث بیان کرنے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19972
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6117، م: 37
حدیث نمبر: 19973
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ , وَعَفَّانُ , وَعَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَا : ثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ : حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ عِصَامٍ الضُّبَعِيُّ ، وَقَالَ يَزِيدُ : عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ عِصَامٍ الضُّبَعِيِّ ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ سورة الفجر آية 3 , فَقَالَ : " هِيَ الصَّلَاةُ : مِنْهَا شَفْعٌ ، وَمِنْهَا وَتْرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سورة الفجر کے لفظ " واشفع والوتر " کا معنی منقول ہے کہ اس سے مراد نماز ہے کہ بعض نمازیں جفت ہیں اور بعض طاق۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19973
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن عمران
حدیث نمبر: 19974
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا حُسَيْنٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ الْقَاعِدِ ، فَقَالَ : " مَنْ صَلَّى قَائِمًا ، فَهُوَ أَفْضَلُ ، وَمَنْ صَلَّى قَاعِدًا ، فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَائِمِ ، وَمَنْ صَلَّى نَائِمًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَاعِدِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیٹھ کر نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھڑے ہو کر نماز پڑھنا سب سے افضل ہے، بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے سے نصف ہے اور لیٹ کر نماز پڑھنے کا ثواب بیٹھ کر نماز پڑھنے سے نصف ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19974
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1117