حدیث نمبر: 19895
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، قَالَ : قَالَ لِي عِمْرَانُ , إِنِّي لَأُحَدِّثُكَ بِالْحَدِيثِ الْيَوْمَ لِيَنْفَعَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ بَعْدَ الْيَوْمِ ، اعْلَمْ أَنَّ " خَيْرَ عِبَادِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْحَمَّادُونَ " . وَاعْلَمْ أَنَّهُ " لَنْ تَزَالَ طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ عَلَى مَنْ نَاوَأَهُمْ حَتَّى يُقَاتِلُوا الدَّجَّالَ " . وَاعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ أَعْمَرَ طائفةً مِنْ أَهْلِهِ فِي الْعَشْرِ ، فَلَمْ تَنْزِلْ آيَةٌ تَنْسَخُ ذَلِكَ وَلَمْ يَنْهَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ ، ارْتَأَى كُلُّ امْرِئٍ بَعْدَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَرْتَئِيَ " .
مولانا ظفر اقبال
مطرف کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا میں آج تم سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں جس سے اللہ تعالیٰ تمہیں کل کو نفع پہنچائے گا، یاد رکھو ! کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سب سے بہترین بندے اس کی تعریف کرنے والے ہوں گے اور یہ بھی یاد رکھو ! کہ اہل اسلام کا ایک گروہ ہمیشہ حق کی خاطر جہاد کرتا رہے گا اور اپنے مخالفین پر غالب رہے گا یہاں تک کہ دجال سے قتال کرے گا اور یاد رکھو ! کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عشرہ ذی الحجہ میں اپنے چند اہل خانہ کو عمرہ کرایا تھا، جس کے بعد کوئی آیت ایسی نازل نہیں ہوئی جس نے اسے منسوخ کردیا ہو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس سے منع نہیں فرمایا : یہاں تک کہ دنیا سے رخصت ہوگئے ان کے بعد ہر آدمی نے اپنی اپنی رائے اختیار کرلی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19895
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1226
حدیث نمبر: 19896
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، قَالَ : أُرَاهُ عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ أَوْ لِغَيْرِهِ : " هَلْ صُمْتَ سِرَارَ هَذَا الشَّهْرِ ؟ " قَالَ : لَا , قَالَ : " فَإِذَا أَفْطَرْتَ أَوْ أَفْطَرَ النَّاسُ فَصُمْ يَوْمَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے پوچھا کیا تم نے شعبان کے اس مہینے کے آخر میں کوئی روزہ رکھا ہے ؟ اس نے کہا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رمضان کے روزے ختم ہوجائیں تو ایک دو دن کے روزے رکھ لینا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19896
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1983، م: 1162
حدیث نمبر: 19897
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو رَجَاءٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ قَوْمٌ بِشَفَاعَةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُسَمَّوْنَ الْجَهَنَّمِيِّينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم سے ایک قوم صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کی برکت سے نکلے گی، انہیں " جہنمی " کہا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19897
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، خ: 6566 ، هذا من صحيح حديث الحسن بن ذكوان
حدیث نمبر: 19898
حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ عَوْفٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ ، حَدَّثَنِي عِمَرانُ بْنُ حُصَيْنٍ ، قَالَ : كُنَّا فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِنَّا أَسْرَيْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا فِي آخِرِ اللَّيْلِ وَقَعْنَا تِلْكَ الْوَقْعَةَ ، فَلَا وَقْعَةَ أَحْلَى عِنْدَ الْمُسَافِرِ مِنْهَا ، قَالَ : فَمَا أَيْقَظَنَا إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ ، وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ اسْتَيْقَظَ فُلَانٌ ، ثُمَّ فُلَانٌ كَانَ يُسَمِّيهِمْ أَبُو رَجَاءٍ ، وَنَسِيَهُمْ عَوْفٌ , ثُمَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ الرَّابِعُ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَامَ لَمْ نُوقِظْهُ حَتَّى يَكُونَ هُوَ يَسْتَيْقِظُ ، لِأَنَّا لَا نَدْرِي مَا يُحْدِثُ أَوْ يَحْدُثُ لَهُ فِي نَوْمِهِ ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ عُمَرُ وَرَأَى مَا أَصَابَ النَّاسَ ، وَكَانَ رَجُلًا أَجْوَفَ جَلِيدًا ، قَالَ فَكَبَّرَ وَرَفَعَ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ ، فَمَا زَالَ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ حَتَّى اسْتَيْقَظَ لِصَوْتِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَكَوْا الَّذِي أَصَابَهُمْ ، فَقَالَ : " لَا ضَيْرَ , أَوْ لَا يَضِيرُ , ارْتَحِلُوا " فَارْتَحَلَ فَسَارَ غَيْرَ بَعِيدٍ ، ثُمَّ نَزَلَ فَدَعَا بِالْوَضُوءِ فَتَوَضَّأَ وَنُودِيَ بِالصَّلَاةِ ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ ، فَلَمَّا انْفَتَلَ مِنْ صَلَاتِهِ ، إِذَا هُوَ بِرَجُلٍ مُعْتَزِلٍ لَمْ يُصَلِّ مَعَ الْقَوْمِ ، فَقَالَ : " مَا مَنَعَكَ يَا فُلَانُ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ ؟ " فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ وَلَا مَاءَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ " , ثُمَّ سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاشْتَكَى إِلَيْهِ النَّاسُ الْعَطَشَ ، فَنَزَلَ فَدَعَا فُلَانًا كَانَ يُسَمِّيهِ أَبُو رَجَاءٍ ، وَنَسِيَهُ عَوْفٌ وَدَعَا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ , فَقَالَ : " اذْهَبَا فَابْغِيَا لَنَا الْمَاءَ " قَالَ : فَانْطَلَقَا ، فَيَلْقَيَانِ امْرَأَةً بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ أَوْ سَطِيحَتَيْنِ مِنْ مَاءٍ عَلَى بَعِيرٍ لَهَا ، فَقَالَا لَهَا : أَيْنَ الْمَاءُ ؟ فَقَالَتْ : عَهْدِي بِالْمَاءِ أَمْسِ هَذِهِ السَّاعَةَ ، وَنَفَرُنَا خُلُوفٌ , قَالَ : فَقَالَا لَهَا : انْطَلِقِي إِذًا , قَالَتْ : إِلَى أَيْنَ ؟ , قَالَا : إِلَى رَسُولِ اللَّهِ , قَالَتْ : هَذَا الَّذِي يُقَالُ لَهُ : الصَّابِئُ ؟ قَالَا : هُوَ الَّذِي تَعْنِينَ ، فَانْطَلِقِي إِذًا ، فَجَاءَا بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثَاهُ الْحَدِيثَ ، فَاسْتَنْزَلُوهَا عَنْ بَعِيرِهَا ، وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ فَأَفْرَغَ فِيهِ مِنْ أَفْوَاهِ الْمَزَادَتَيْنِ أَوْ السَّطِيحَتَيْنِ ، وَأَوْكَأَ أَفْوَاهَهُمَا فَأَطْلَقَ الْعَزَالِي ، وَنُودِيَ فِي النَّاسِ : أَنْ اسْقُوا وَاسْتَقُوا ، فَسَقَى مَنْ شَاءَ ، وَاسْتَقَى مَنْ شَاءَ ، وَكَانَ آخِرُ ذَلِكَ أَنْ أَعْطَى الَّذِي أَصَابَتْهُ الْجَنَابَةُ إِنَاءً مِنْ مَاءٍ ، فَقَالَ : " اذْهَبْ فَأَفْرِغْهُ عَلَيْكَ " قَالَ : وَهِيَ قَائِمَةٌ تَنْظُرُ مَا يُفْعَلُ بِمَائِهَا ، قَالَ : وَايْمُ اللَّهِ ، لَقَدْ أَقْلَعَ عَنْهَا ، وَإِنَّهُ لَيُخَيَّلُ إِلَيْنَا أَنَّهَا أَشَدُّ مِلْأَةً مِنْهَا حِينَ ابْتَدَأَ فِيهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اجْمَعُوا لَهَا " فَجَمَع لَهَا مِنْ بَيْنِ عَجْوَةٍ وَدَقِيقَةٍ وَسُوَيْقَةٍ ، حَتَّى جَمَعُوا لَهَا طَعَامًا كَثِيرًا وَجَعَلُوهُ فِي ثَوْبٍ ، وَحَمَلُوهَا عَلَى بَعِيرِهَا ، وَوَضَعُوا الثَّوْبَ بَيْنَ يَدَيْهَا ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَعْلَمِينَ وَاللَّهِ مَا رَزَأْنَاكِ مِنْ مَائِكِ شَيْئًا ، وَلَكِنَّ اللَّهَ هُوَ سَقَانَا " , قَالَ : فَأَتَتْ أَهْلَهَا وَقَدْ احْتَبَسَتْ عَنْهُمْ ، فَقَالُوا : مَا حَبَسَكِ يَا فُلَانَةُ ؟ فَقَالَتْ : الْعَجَبُ ، لَقِيَنِي رَجُلَانِ فَذَهَبَا بِي إِلَى هَذَا الَّذِي يُقَالُ لَهُ : الصَّابِئُ ، فَفَعَلَ بِمَائِي كَذَا وَكَذَا لِلَّذِي قَدْ كَانَ ، فَوَاللَّهِ إِنَّهُ لَأَسْحَرُ مَنْ بَيْنَ هَذِهِ وَهَذِهِ , قَالَتْ بِأُصْبُعَيْهَا الْوُسْطَى وَالسَّبَّابَةِ فَرَفَعَتْهُمَا إِلَى السَّمَاءِ يَعْنِي السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ أَوْ إِنَّهُ لَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا , قَالَ : وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ بَعْدُ يُغِيرُونَ عَلَى مَا حَوْلَهَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَلَا يُصِيبُونَ الصِّرْمَ الَّذِي هِيَ منه ، فَقَالَتْ : يَوْمًا لِقَوْمِهَا : مَا أدَرَى أَنَّ هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ يَدَعُونَكُمْ إلا عَمْدًا فَهَلْ لَكُمْ فِي الْإِسْلَامِ ؟ فَأَطَاعُوهَا فَدَخَلُوا فِي الْإِسْلَامِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم رکاب سفر میں ایک شب رات بھر چلے رہے اور رات کے آخری حصے میں ایک جگہ ٹھہر کر سو رہے، کیونکہ مسافر کو پچھلی رات کا سونا نہایت شیریں معلوم ہوتا ہے، صبح کو آفتاب کی تیزی سے ہماری آنکھ کھلی پہلے فلاں شخص پھر فلاں پھر فلاں اور چوتھے نمبر پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے اور یہ قاعدہ تھا کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم خواب راحت میں ہوتے تو تاوقتیکہ خود بیدار نہ ہوجائیں کوئی جگاتا نہ تھا کیونکہ ہم کو علم نہ ہوتا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں کیا واقعہ دکھائی دے رہا ہے، مگر جب عمر رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے اور آپ نے لوگوں کی کیفیت دیکھی تو چونکہ دلیر آدمی تھے اس لئے آپ نے زور زور سے تکبیر کہنی شروع کردی اور اس ترکیب سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوگئے لوگوں نے ساری صورت حال عرض کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ حرج نہیں یہاں سے کوچ کر چلو۔ چناچہ لوگ چل دیئے اور تھوڑی دور چل کر پھر اتر پڑے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر وضو کیا اور اذان کہی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو علیحدہ کھڑا دیکھا اس شخص نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں پڑھی تھی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے شخص ! تو نے جماعت کے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی ؟ اس نے عرض کیا کہ مجھے غسل کی ضرورت تھی اور پانی موجود نہ تھا (اس لئے غسل نہ کرسکا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیمم کرلو کافی ہے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے چل دیئے (چلتے چلتے راستہ میں) لوگوں نے پیاس کی شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتر پڑے اور ایک شخص کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی معیت میں بلا کر حکم دیا کہ جاؤ پانی تلاش کرو، ہر دو صاحبان چل دیئے، راستہ میں انہوں نے ایک عورت کو دیکھا جو پانی کی دو مشکیں اونٹ پر لادے ہوئے ان کے درمیان میں پاؤں لٹکا کر بیٹھی تھی، انہوں نے اس سے دریافت کیا کہ پانی کہا ہے ؟ عورت نے جواب دیا کہ کل اس وقت میں پانی پر تھی اور ہماری جماعت پیچھے ہے، انہوں نے اس سے کہا کہ ہمارے ساتھ چل ! عورت بولی کہاں ؟ انہوں نے جواب دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ! عورت بولی کون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہی جن کو لوگ صابی کہتے ہیں، انہوں نے کہا وہی، ان ہی کے پاس چل ! چناچہ دونوں صاحبان عورت کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے اور پورا قصہ بیان کردیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکوں کو نیچے اتروا دیا اور برتن منگوا کر اس میں پانی گرانے کا حکم دیا، اوپر کے دھانوں کو بند کردیا اور نیچے کے دہانے کھول دیئے اور لوگوں میں اعلان کرا دیا کہ اپنے چانور کو پانی پلاؤ اور خود بھی پیو اور مشکیں بھی بھر لو، چناچہ جس نے چاہا اپنے جانور کو پلایا اور جس نے چاہا خود پیا اور سب کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو جسے نہانے کی ضرورت تھی پانی دیا اور فرمایا کہ اسے لے جاؤ اور نہا لو اور وہ عورت یہ سب واقعہ دیکھ رہی تھی، اللہ کی قسم تمام لوگ پانی پی چکے حالانکہ وہ مشکیں ویسی ہی بلکہ اس سے زائد بھری ہوئی تھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانی کے بدلے اس عورت کے لئے کچھ کھانا جمع کردو، صحابہ رضی اللہ عنہ نے اس کے لئے بہت سا آٹا، کھجوریں اور ستو جمع کر کے ایک کپڑے میں باندھ کر اس کو اونٹ پر سوار کرا کے اس کے آگے رکھ دیا، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تجھے معلوم ہے کہ ہم نے تیرے پانی کا کچھ نقصان نہیں کیا لیکن اللہ نے ہم کو سیراب کردیا، اس کے بعد وہ عورت اپنے گھر چلی گئی اور اس کو دیر ہوگئی تھی لہذا اس کے گھر والوں نے کہا کہ اے فلانی تجھے دیر کیوں ہوگئی، اس نے جواب دیا کہ ایک عجیب واقعہ پیش آیا، مجھے دو آدمی ملے اور مجھے اس شخص کے پاس لے گئے جس کو لوگ صابی کہا کرتے ہیں اور اس نے ایسا ایسا کیا، لہذا وہ یا تو آسمان و زمین میں سب سے بڑا جاودگر ہے اور یا وہ اللہ کا سچا رسول ہے، اس کے بعد مسلمان آس پاس کے مشرک قبائل میں لوٹ مار کیا کرتے لیکن جس قبیلہ سے اس عورت کا تعلق تھا اس سے کچھ تعرض نہیں کرتے تھے، ایک دن اس عورت نے اپنی قوم سے کہا کہ میرے خیال میں یہ لوگ تم سے عمداً تعرض نہیں کرتے کیا تم مسلمان ہونا چاہتے ہو ؟ لوگوں نے اثبات میں جواب دے دیا اور سب کے سب مشرف بہ اسلام ہوگئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19898
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 344، م: 682
حدیث نمبر: 19899
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ الرَّجُلِ قَاعِدًا ، فَقَالَ : " مَنْ صَلَّى قَائِمًا ، فَهُوَ أَفْضَلُ ، وَصَلَاةُ الرَّجُلِ قَاعِدًا عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاتِهِ قَائِمًا ، وَصَلَاتُهُ نَائِمًا عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاتِهِ قَاعِدًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیٹھ کر نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھڑے ہو کر نماز پڑھنا سب سے افضل ہے، بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے سے نصف ہے اور لیٹ کر نماز پڑھنے کا ثواب بیٹھ کر نماز پڑھنے سے نصف ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19899
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1117
حدیث نمبر: 19900
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ زُرَارَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنَّ رَجُلًا عَضَّ يَدَ رَجُلٍ ، فَانْتَزَعَ يَدَهُ فَنَدَرَتْ ثَنِيَّتُهُ أَوْ ثَنِيَّتَاهُ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " يَعَضُّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ كَمَا يَعَضُّ الْفَحْلُ ، لَا دِيَةَ لَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے دور سے کا ہاتھ کاٹ لیا، اس نے اپنا ہاتھ جو کھینچا تو کاٹنے والے کے اگلے دانت ٹوٹ کر گرپڑے، وہ دونوں یہ جھگڑا لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے باطل قرار دے کر فرمایا تم میں سے ایک آدمی اپنے بھائی کو اس طرح کاٹتا ہے جیسے سانڈ، تمہیں کوئی دیت نہیں ملے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19900
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6892، م: 1673
حدیث نمبر: 19901
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ، وَهُوَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ ، وَقَدْ تَفَاوَتَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ السَّيْرُ ، رَفَعَ بِهَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ صَوْتَهُ : " يَأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ سورة الحج آية 1 - 2 حَتَّى بَلَغَ آخِرَ الْآيَتَيْنِ ، قَالَ : فَلَمَّا سَمِعَ أَصْحَابُهُ بِذَلِكَ حَثُّوا الْمَطِيَّ وَعَرَفُوا أَنَّهُ عِنْدَ قَوْلٍ يَقُولُهُ ، فَلَمَّا تَأَشَّبُوا حَوْلَهُ , قَالَ : " أَتَدْرُونَ أَيَّ يَوْمٍ ذَاكَ ؟ " , قَالَ : " ذَاكَ يَوْمَ يُنَادَى آدَمُ ، فَيُنَادِيهِ رَبُّهُ فيقول : يَا آدَمُ ابْعَثْ بَعْثًا إِلَى النَّارِ , فَيَقُولُ : يَا رَبِّ , وَمَا بَعْثُ النَّارِ ؟ قَالَ : مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ فِي النَّارِ ، وَوَاحِدٌ فِي الْجَنَّةِ " قَالَ : فَأَبْلَسَ أَصْحَابُهُ حَتَّى مَا أَوْضَحُوا بِضَاحِكَةٍ ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ ، قَالَ : " اعْمَلُوا وَأَبْشِرُوا ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، إِنَّكُمْ لَمَعَ خَلِيقَتَيْنِ مَا كَانَتَا مَعَ شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا كَثَرَتَاهُ : يَأْجُوجَ , وَمَأْجُوجَ ، وَمَنْ هَلَكَ مِنْ بَنِي آدَمَ وَبَنِي إِبْلِيسَ " قَالَ : فَأُسْرِيَ عَنْهُمْ ، ثُمَّ قَالَ : " اعْمَلُوا وَأَبْشِرُوا ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، مَا أَنْتُمْ فِي النَّاسِ إِلَّا كَالشَّامَةِ فِي جَنْبِ الْبَعِيرِ ، أَوْ الرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الدَّابَّةِ " , حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ , وَهِشَامُ بْنُ أَبِي عبد الله ، فذكر معناه إلا أَنَّهُ قَالَ : فَسُرِّيَ عَنِ الْقَوْمِ , وَقَالَ : " إِلَّا كَثَّرَتَاهُ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ مختلف رفتار سے چل رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے یہ دو آیتیں پڑھیں تو یہ آیت نازل ہوئی، " اے لوگو ! اپنے رب سے ڈرو، بیشک قیامت کا زلزلہ بڑی عظیم چیز ہے " صحابہ رضی اللہ عنہ کے کان میں اس کی آواز پہنچی تو انہوں نے اپنی سواریوں کو قریب کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد آ کر کھڑے ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تم جانتے ہو وہ کون سا دن ہوگا ؟ یہ وہ دن ہوگا جب اللہ تعالیٰ حضرت آدم (علیہ السلام) سے پکار کر کہے گا کہ اے آدم ! جہنم کا حصہ نکالو، وہ پوچھیں گے کہ جہنم کا حصہ کیا ہے ؟ تو ارشاد ہوگا ہر ہزار میں سے نوسوننانوے جہنم کے لئے نکال لو، یہ سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ رونے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم عمل کرتے رہو اور خوش ہوجاؤ، تم ایسی دو قوموں کے ساتھ ہو گے کہ وہ جس چیز کے ساتھ مل جائیں اس کی تعداد میں اضافہ ہوجاتا ہے یعنی یاجوج ماجوج اور بنی آدم میں سے ہلاک ہونے والے اور شیطان کی اولاد، اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی وہ کیفیت دور ہوگئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا عمل کرتے رہو اور خوش ہوجاؤ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، تمام امتوں میں تم لوگ اونٹ کے پہلو میں نشان کی طرح ہوگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19901
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، الحسن البصري لم يسمع من عمران لكنه توبع
حدیث نمبر: 19902
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَهِشَامُ بْنُ أَبِي عبد الله فذكر معناه إلا أَنَّهُ قَالَ: فَسُرِّيَ عَنِ الْقَوْمِ وَقَالَ: " إِلَّا كَثَّرَتَاهُ "
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19902
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، الحسن البصري لم يسمع من عمران لكنه توبع
حدیث نمبر: 19903
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ حَدَّثَهُ , أَنَّ امْرَأَةً أُتِيَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جُهَيْنَةَ حُبْلَى مِنَ الزِّنَا ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا ، فَأَقِمْهُ عَلَيَّ , قَالَ : فَدَعَا وَلِيَّهَا , فَقَالَ : " أَحْسِنْ إِلَيْهَا ، فَإِذَا وَضَعَتْ فَأْتِنِي بِهَا " فَفَعَل فَأَمَرَ بِهَا فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَرُجِمَتْ ، ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ , تُصَلِّي عَلَيْهَا وَقَدْ زَنَتْ ؟ ! فَقَالَ : " لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ ، وَهَلْ وَجَدْتَ أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ ؟ ! " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بدکاری کا اعتراف کرلیا اور کہنے لگی کہ میں امید سے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سرپرست کو بلا کر اس سے فرمایا کہ اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اور جب یہ بچے کو جنم دے چکے تو مجھے بتانا، اس نے ایسا ہی کیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اس عورت کے جسم پر اچھی طرح کپڑے باندھ دیئے گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اسے رجم کردیا گیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی، یہ دیکھ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ ! آپ نے اسے رجم بھی کیا اور اس کی نماز جنازہ بھی پڑھا رہے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہ ستر اہل مدینہ پر تقسیم کردی جائے تو ان کے لئے بھی کافی ہوجائے اور تم نے اس سے افضل بھی کوئی چیز دیکھی ہے کہ اس نے اپنی جان کو اللہ کے لئے قربان کردیا ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19903
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1696
حدیث نمبر: 19904
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي مِرَايَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19904
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 19905
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ رَبَاحٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا السَّوَّارِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْحَيَاءُ خَيْرٌ كُلُّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حیاء تو سراسر خیر ہی خیر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19905
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 19906
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو جَمْرَةَ ، حَدَّثَنِي زَهْدَمُ بْنُ مُضَرِّبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ , يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُكُمْ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، لَا أَدْرِي مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً ثُمَّ يَأْتِي أَوْ يَجِيءُ بَعْدَكُمْ قَوْمٌ يَنْذُرُونَ فَلَا يُوفُونَ ، وَيَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ ، وَيَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ ، وَيَفْشُو فِيهِمْ السِّمَنُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس امت کا سب سے بہترین زمانہ تو وہ ہے جس میں مجھے مبعوث کیا گیا ہے، پھر اس کے بعد والوں کا زمانہ ہے، پھر ایک ایسی قوم آئے گی جو منت مانے گی لیکن پوری نہیں کرے گی، خیانت کرے گی، امانت دار نہ ہوگی، گواہی دینے کے لئے تیار ہوگی گو کہ اس سے گواہی نہ مانگی جائے اور ان میں موٹاپا عام ہوجائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19906
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6695، م: 2535
حدیث نمبر: 19907
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَصِيرُ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : " نَزَلَتْ آيَةُ الْمُتْعَةِ فِي كِتَابِ اللَّهِ ، وَعَمِلْنَا بِهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ تَنْزِلْ آيَةٌ تَنْسَخُهَا ، وَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَاتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حج تمتع کی آیت قرآن میں نازل ہوئی ہے، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں اس پر عمل کیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال تک اس سے منع نہیں فرمایا : اور نہ ہی اس حوالے سے اس کی حرمت کا قرآن میں کوئی حکم نازل ہوا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19907
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4518، م: 1226
حدیث نمبر: 19908
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ مِغْوَلٍ , عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سوائے نظر بد یا کسی زہریلے جانور کے ڈنک کے کسی مرض کا علاج منتر سے نہ کیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19908
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19909
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشُّعَيْثِيُّ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ , وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , قَالَا : " مَا خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَةً إِلَّا أَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ ، وَنَهَانَا عَنِ الْمُثْلَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ اور سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ ہمیں اپنے خطاب میں صدقہ کی ترغیب دینے اور مثلہ کرنے سے منع فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19909
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، أبو قلابة لم يسمع من سمرة
حدیث نمبر: 19910
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ الْمَازِنِيِّ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : جَاءَ نَفَرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " أَبْشِرُوا " قَالُوا : بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا , قَالَ : فَقَدِمَ عَلَيْهِ حَيٌّ مِنَ الْيَمَنِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْبَلُوا الْبُشْرَى إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بنو تمیم کے کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اے بنو تمیم ! خوشخبری قبول کرو، وہ کہنے لگے یا رسول اللہ ! آپ نے ہمیں خوشخبری تو دے دی، اب کچھ عطاء بھی کر دیجئے، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور کا رنگ بدل گیا، تھوڑی دیر بعد یمن کا ایک قبیلہ آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ بنو تمیم نے تو خوشخبری قبول نہیں کی، تم قبول کرلو، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم نے اسے قبول کرلیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19910
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3190
حدیث نمبر: 19911
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَسْأَلَةُ الْغَنِيِّ شَيْنٌ فِي وَجْهِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مالدار آدمی کا مانگنا قیامت کے دن اس کے چہرے پر بدنما دھبہ ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19911
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع لأن الحسن لم يسمع من عمران
حدیث نمبر: 19912
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ مَصْبُورَةٍ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ بِوَجْهِهِ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جان بوجھ کر کسی بات پر ناحق جھوٹی قسم کھائے، اسے چاہئے کہ اپنا ٹھکانہ جہنم کی آگ میں بنا لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19912
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19913
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ ، لَا يَكْتَوُونَ ، وَلَا يَسْتَرْقُونَ ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ " , قَالَ : فَقَامَ عُكَّاشَةُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، فَقَالَ : " أَنْتَ مِنْهُمْ " قَالَ : فَقَامَ رَجُلٌ آخَرُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ , قَالَ : " قَدْ سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت میں سے ستر ہزار آدمی بلا حساب کتاب جنت میں داخل ہوں گے، یہ وہ لوگ ہیں جو داغ کر علاج نہیں کرتے، تعویذ نہیں لٹکاتے، پرندوں سے فال نہیں لیتے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں، حضرت عکاشہ رضی اللہ عنہ یہ سن کر کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ سے دعاء کر دیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل فرما دے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ان میں شامل ہو، پھر ایک دوسرا آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر دے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس معاملے میں عکاشہ تم پر سبقت لے گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19913
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 218
حدیث نمبر: 19914
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ رَبَاحٍ أَبُو الْفَضْلِ ، حَدَّثَنَا أَبُو السَّوَّارِ الْعَدَوِيُّ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْحَيَاءُ خَيْرٌ كُلُّهُ " , فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْحَيِّ : إِنَّهُ يُقَالُ فِي الْحِكْمَةِ : إِنَّ مِنْهُ وَقَارًا لِلَّهِ ، وَإِنَّ مِنْهُ ضَعْفًا , فَقَالَ لَهُ عِمْرَانُ : أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَتُحَدِّثُنِي عَنِ الصُّحُفِ ؟ !.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حیاء ہمیشہ خیر ہی لاتی ہے، یہ حدیث ان سے سن کر بشیر بن کعب کہنے لگے کہ حکمت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ حیاء سے وقاروسکینت پیدا ہوتی ہے، حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تم سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کررہا ہوں اور تم اپنے صحیفوں کی بات کررہے ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19914
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 19915
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ يَعْنِي ابْنَ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَال : إِنَّ ابن ابْنِي مَاتَ فَمَا لِي مِنْ مِيرَاثِهِ ؟ فَقَالَ : " لَكَ السُّدُسُ " فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ ، فَقَالَ : " لَكَ سُدُسٌ آخَرُ " فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ ، فَقَالَ : " إِنَّ السُّدُسَ الْآخَرَ طُعْمَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میرا پوتا فوت ہوگیا ہے، اس کی وارثت میں سے مجھے کیا ملے گا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں چھٹا حصہ ملے گا، جب وہ واپس جانے لگا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر فرمایا تمہیں ایک چھٹا حصہ اور ملے گا، جب وہ دوبارہ واپس جانے لگا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر فرمایا یہ دوسرا چھٹا حصہ تمہارے لئے ایک زائد لقمہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19915
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، الحسن البصري لم يسمع من عمران
حدیث نمبر: 19916
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَن أَبِي التَّيَّاحِ الضُّبَعِيِّ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَقَلُّ سُكَّانِ الْجَنَّةِ النِّسَاءُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اہل جنت میں سب سے کم رہائشی افراد خواتین ہوں گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19916
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2738
حدیث نمبر: 19917
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَحَدُنَا آخِذٌ بِيَدِ صَاحِبِهِ ، فَمَرَرْنَا بِسَائِلٍ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَاحْتَبَسَنِي عِمْرَانُ ، وَقَالَ : قِفْ نَسْتَمِعْ الْقُرْآنَ , فَلَمَّا فَرَغَ سَأَلَ ، فَقَالَ عِمْرَانُ : انْطَلِقْ بِنَا ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " اقْرَءُوا الْقُرْآنَ وَسَلُوا اللَّهَ بِهِ ، فَإِنَّ مِنْ بَعْدِكُمْ قَوْمًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ يَسْأَلُونَ النَّاسَ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ کسی آدمی کے پاس سے گذرے جو لوگوں کو قرآن پڑھ کر سنا رہا تھا، تلاوت سے فارغ ہو کر اس نے لوگوں سے مانگنا شروع کردیا، یہ دیکھ کر حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا چلو اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص قرآن پڑھے، اسے چاہیے کہ قرآن کے ذریعے اللہ سے سوال کرے، کیونکہ عنقریب ایسے لوگ بھی آئیں گے جو قرآن کو پڑھ کر اس کے ذریعے لوگوں سے سوال کریں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19917
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن الغيره، وهذا إسناد ضعيف ، شريك و خيثمة ضعيفان، والحسن لم يسمع من عمران
حدیث نمبر: 19918
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صُبَيْحٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ ، قَالَ : ذَكَرُوا عِنْدَ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ : " الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ " ، فَقَالُوا : كَيْفَ يُعَذَّبُ الْمَيِّتُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ ؟ فَقَالَ عِمْرَانُ : قَدْ قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں لوگ اس بات کا تذکرہ کر رہے تھے کہ میت کو اہل محلہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے، لوگوں نے ان سے پوچھا کہ میت کو اہل محلہ کے رونے کی وجہ سے کیسے عذاب ہوتا ہے ؟ حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ بات تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19918
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 19919
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ عِصَامٍ ، أَنَّ شَيْخًا حَدَّثَهُ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ الشَّفْعِ وَالْوَتْرِ ، فَقَالَ : " هِيَ الصَّلَاةُ : بَعْضُهَا شَفْعٌ ، وَبَعْضُهَا وَتْرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سورت الفجر کے لفظ " والشفع والوتر " کا معنی پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس سے مراد نماز ہے کہ بعض نمازیں جفت ہیں اور بعض طاق۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19919
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن عمران
حدیث نمبر: 19920
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ وَعَفَّانُ ، قَالَا : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ عَلَى مَنْ نَاوَأَهُمْ ، حَتَّى يُقَاتِلَ آخِرُهُمْ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا اور اپنے مخالفین پر غالب رہے گا، یہاں تک کہ ان کا آخری حصہ دجال سے قتال کرے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19920
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19921
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُنَا عَامَّةَ لَيْلِهِ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، لَا يَقُومُ إِلَّا إِلَى عُظْمِ صَلَاةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں رات کے وقت اکثر بنی اسرائیل کے واقعات سناتے رہتے تھے (اور بعض اوقات درمیان میں بھی نہیں اٹھتے تھے) صرف فرض نماز کے لئے اٹھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19921
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، لكن من حديث عبدالله بن عمرو، أخطأ فيه أبو هلال ، فجعله من حديث عمران
حدیث نمبر: 19922
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کی سزا جاری فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19922
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19923
قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کی سزا جاری فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19923
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، الحسن البصري لم يسمع من عمران
حدیث نمبر: 19924
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : " كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُنَا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ حَتَّى يُصْبِحَ لَا يَقُومُ فِيهَا إِلَّا إِلَى عُظْمِ صَلَاةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں رات کے واقعات سناتے رہتے تھے (اور بعض اوقات درمیان میں بھی نہیں اٹھتے تھے) صرف فرض نماز کے لئے اٹھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19924
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، الحسن البصري لم يسمع من عمران
حدیث نمبر: 19925
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَوْنٍ وَهُوَ الْعَقِيلِيُّ , عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : كَانَ عَامَّةُ دُعَاءِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا أَخْطَأْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُ ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ ، وَمَا جَهِلْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اکثر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاء یہ ہوتی تھی اے اللہ ! میرے ان گناہوں کو معاف فرما جو میں نے غلطی سے کئے، جان بوجھ کر کئے، چھپ کر کئے، علانیہ طور پر کئے، نادانی میں کئے یا جانتے بوجھتے ہوئے کئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19925
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19926
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَن أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ : أَنَّ امْرَأَةً مِنْ جُهَيْنَةَ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ حُبْلَى مِنْ زِنًا ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ , فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيَّهَا ، فَقَالَ : " أَحْسِنْ إِلَيْهَا ، فَإِذَا وَضَعَتْ حَمْلَهَا فَأْتِنِي بِهَا " فَفَعَلَ فَأَمَرَ بِهَا فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَرُجِمَتْ ، ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ : تُصَلِّي عَلَيْهَا وَقَدْ رَجَمْتَهَا ؟ فَقَالَ : " لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ ، وَهَلْ وَجَدْتَ أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ ؟ ! " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بدکاری کا اعتراف کرلیا اور کہنے لگی کہ میں امید سے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سرپرست کو بلا کر اس سے فرمایا کہ اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اور جب یہ بچے کو جنم دے چکے تو مجھے بتانا، اس نے ایسا ہی کیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اس عورت کے جسم پر اچھی طرح کپڑے باندھ دیئے گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اسے رجم کردیا گیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی، یہ دیکھ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے یارسول اللہ ! آپ نے اسے رجم بھی کیا اور اس کی نماز جنازہ بھی پڑھا رہے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہ ستر اہل مدینہ پر تقسیم کردی جائے تو ان کے لئے بھی کافی ہوجائے اور تم نے اس سے افضل بھی کوئی چیز دیکھی ہے کہ اس نے اپنی جان کو اللہ کے لئے قربان کردیا ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19926
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1696
حدیث نمبر: 19927
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ ، قَالَ : جَاءَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ إِلَى امْرَأَتِهِ مِنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ : حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : إِنَّهُ لَيْسَ حينَ حَدِيثٍ , فَأَغْضَبَتْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " نَظَرْتُ فِي الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ ، وَنَظَرْتُ فِي النَّارِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں سے اپنی بیوی کے پاس گئے، اس نے کہا کہ آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو حدیث سنی ہے وہ ہمیں بھی سنائیے ؟ انہوں نے کہا وہ تمہارے حق میں اچھی نہیں ہے اس پر وہ ناراض ہوگئی، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے جہنم میں جھانک کر دیکھا تو وہاں اکثریت خواتین کی نظر آئی اور جنت میں جھانک کر دیکھا تو اکثریت فقراء کی نظر آئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19927
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3241
حدیث نمبر: 19928
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , وَعَفَّانُ المعنى , وهذا حديث عبد الرزاق قَالَا : ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ الرِّشْكُ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَأَحْدَثَ شَيْئًا فِي سَفَرِهِ ، فَتَعَاهَدَ , قَالَ عَفَّانُ : فَتَعَاقَدَ أَرْبَعَةٌ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَذْكُرُوا أَمْرَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ عِمْرَانُ : وَكُنَّا إِذَا قَدِمْنَا مِنْ سَفَرٍ بَدَأْنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ ، قَالَ : فَدَخَلُوا عَلَيْهِ ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ عَلِيًّا فَعَلَ كَذَا وَكَذَا ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، ثُمَّ قَامَ الثَّانِي ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ عَلِيًّا فَعَلَ كَذَا وَكَذَا ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، ثُمَّ قَامَ الثَّالِثُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ عَلِيًّا فَعَلَ كَذَا وَكَذَا ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، ثُمَّ قَامَ الرَّابِعُ , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ عَلِيًّا فَعَلَ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّابِعِ , وَقَدْ تَغَيَّرَ وَجْهُهُ ، فَقَالَ : " دَعُوا عَلِيًّا ، دَعُوا عَلِيًّا ، دَعُوا عليًّا ، إِنَّ عَلِيًّا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ ، وَهُوَ وَلِيُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ بَعْدِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر کا ایک دستہ کسی طرف روانہ کیا اور ان کا امیر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مقرر کردیا، دوران سفر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کچھ نئی باتیں کیں، تو چار صحابہ رضی اللہ عنہ نے یہ عہد کرلیا کہ یہ چیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ضرور ذکر کریں گے، ہم لوگوں کا یہ معمول تھا کہ جب سفر سے واپس آتے تو سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری دیتے اور انہیں سلام کرتے تھے۔ چناچہ اس مرتبہ بھی وہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، تھوڑی دیر بعد ان میں سے ایک آدمی نے کھڑے ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ! علی نے اس اس طرح کیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اعراض فرمایا : پھر دوسرے، تیسرے اور چھو تھے نے باری باری کھڑے ہو کر یہی کہا یارسول اللہ ! علی نے اس اس طرح کیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم چوتھے آدمی کی طرف متوجہ ہوئے، اس وقت تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رخ انور کا رنگ بدل چکا تھا اور تین مرتبہ فرمایا علی کو چھوڑ دو ، علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں اور وہ میرے بعد ہر مؤمن کا محبوب ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19928
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، وهذا الحديث من منكرات جعفر بن سليمان
حدیث نمبر: 19929
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ انْتَهَبَ نُهْبَةً فَلَيْسَ مِنَّا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص لوٹ مار کرتا ہے، ہم میں سے نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19929
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع، الحسن البصري لم يسمع من عمران
حدیث نمبر: 19930
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ مِغْوَلٍ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سوائے نظر بد یا کسی زہریلے جانور کے ڈنک کے کسی مرض کا علاج منتر سے نہ کیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19930
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19931
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ : " أَنَّ غُلَامًا لِأُنَاسٍ فُقَرَاءَ قَطَعَ أُذُنَ غُلَامٍ لِأُنَاسٍ أَغْنِيَاءَ ، فَأَتَى أَهْلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنَّا نَاسٌ فُقَرَاءُ ، فَلَمْ يَجْعَلْ عَلَيْهِ شَيْئًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فقراء کے ایک غلام نے مالداروں کے کسی غلام کا کان کاٹ دیا، اس غلام کے مالک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے اے اللہ کے نبی ! ہم تو ویسے ہی فقیر لوگ ہیں، آپ اس پر کوئی چیز لازم نہ کریں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19931
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19932
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى ابْنِ عَتِيقٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ : " أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ سِتَّةَ أَعْبُدٍ لَهُ ، فَأَقْرَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ ، فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً , قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ : لَوْ لَمْ يَبْلُغْنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَهُ ، لَجَعَلْتُهُ رَأْيِي ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے مرتے وقت اپنے چھ غلام آزاد کردیئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان غلاموں کو بلایا اور انہیں تین حصوں میں تقسیم کرکے ان کے درمیان قرعہ اندازی کی، پھر جن دو کا نام نکل آیا انہیں آزاد کردیا اور باقی چار کو غلام ہی رہنے دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19932
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1668
حدیث نمبر: 19933
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنَّهُ قَالَ : " تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَنْهَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ عَنْهَا ، وَلَمْ يَنْزِلْ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا نَهْيٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حج تمتع کی آیت قرآن میں نازل ہوئی ہے، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں اس پر عمل کیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال تک اس سے منع نہیں فرمایا : اور نہ ہی اس حوالے سے اس کی حرمت کا قرآن میں کوئی حکم نازل ہوا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19933
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1226، وهذا إسناد ضعيف، مؤمل سيئ الحفظ، والحسن البصري لم يسمع من عمران، لكنهما توبعا
حدیث نمبر: 19934
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْفُضَيْلِ بْنِ فَضَالَةَ رَجُلٌ مِنْ قَيْسٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ ، قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ وَعَلَيْهِ مِطْرَفٌ مِنْ خَزٍّ لَمْ نَرَهُ عَلَيْهِ قَبْلَ ذَلِكَ وَلَا بَعْدَهُ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَنْعَمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ نِعْمَةً ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ أَنْ يُرَى أَثَرُ نِعْمَتِهِ عَلَى خَلْقِهِ " ، وَقَالَ رَوْحٌ بِبَغْدَادَ : يُحِبُّ أَنْ يَرَى أَثَرَ نِعْمَتِهِ عَلَى عَبْدِهِ.
مولانا ظفر اقبال
ابورجاء عطاردی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے تو انہوں نے نقش ونگار والی ایک ریشمی چادر اپنے اوپر لی ہوئی تھی، جو ہم نے اس سے پہلے ان پر دیکھی تھی اور نہ اس کے بعد دیکھی، وہ کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جس شخص پر اللہ تعالیٰ اپنا انعام فرماتا ہے تو اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی نعمت کا اثر اس کی مخلوق پر نظر بھی آئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19934
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح