حدیث نمبر: 19815
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ ، فَقَرَأَ رَجُلٌ خَلْفَهُ : ب ِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى ، فَلَمَّا صَلَّى ، قَالَ : " أَيُّكُمْ قَرَأَ : ب سَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى ؟ " فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا , قَالَ : " قَدْ عَرَفْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا " , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى يُحَدِّثُ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھی، مقتدیوں میں سے ایک آدمی نے سبح اسم ربک الاعلی والی سورت پڑھی، نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تم میں سے سبح اسم ربک الاعلی کس نے پڑھی ہے ؟ ایک آدمی نے کہا میں نے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں سمجھ گیا تھا کہ تم میں سے کوئی مجھ سے جھگڑ رہا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19815
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناداه صحيحان، م: 398
حدیث نمبر: 19816
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى يُحَدِّثُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19816
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 398
حدیث نمبر: 19817
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ رَبَاحٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا السَّوَّارِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ، يقَولَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَيَاءُ خَيْرٌ كُلُّهُ " , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ رَبَاحٍ الهُذَلِي ، عن أَبَا السَّوَّارِ العَدَوي ، عن عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حیاء تو سراسر خیر ہی خیر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19817
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 6117، م: 37 ، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 19818
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ رَبَاحٍ الهُذَلِي ،ن أَبَا السَّوَّارِ العَدَوي ،ن عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ،َنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19818
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 19819
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : كَانَ بِي النَّاصُورُ ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ ، فَقَالَ : " صَلِّ قَائِمًا ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْبٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے مجھے بواسیر کی شکایت تھی، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے متعلق دریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اگر اس کی ہمت نہ ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھو اور اگر اس کی بھی ہمت نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر پڑھ لیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19819
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1117
حدیث نمبر: 19820
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ يَسَافٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ يَتَسَمَّنُونَ يُحِبُّونَ السِّمَنَ ، يُعْطُونَ الشَّهَادَةَ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلُوهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے بہترین زمانہ میرا ہے، پھر اس کے بعد والوں کا اور پھر اس کے بعد والوں کا، پھر ایک قوم آئے گی جس کے افراد خوب موٹے ہوں گے اور موٹاپے کو پسند کرتے ہوں گے، وہ کسی کے کہنے سے پہلے ہی گواہی دینے کے لئے تیار ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19820
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2651، م: 2535
حدیث نمبر: 19821
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَسْأَلَةُ الْغَنِيِّ شَيْنٌ فِي وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " , قَالَ أَبِي : لَمْ أَعْلَمْ أَحَدًا أَسْنَدَهُ غَيْرَ وَكِيعٍ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مالدار آدمی کا مانگنا قیامت کے دن اس کے چہرے پر بدنما دھبہ ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19821
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع، الحسن البصري لم يسمع من عمران ابن حصين
حدیث نمبر: 19822
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ , عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، َعنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : جَاءَ نَفَرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ ، قَالَ وَكِيعٌ : جَاءَتْ بَنُو تَمِيمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَبْشِرُوا يَا بَنِي تَمِيمٍ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا , قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَجَاءَ حَيٌّ مِنْ يَمَنٍ ، فَقَالَ : " اقْبَلُوا الْبُشْرَى إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ قَبِلْنَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بنو تمیم کے کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اے بنو تمیم ! خوشخبری قبول کرو، وہ کہنے لگے یارسول اللہ ! آپ نے ہمیں خوشخبری تو دے دی، اب کچھ عطاء بھی کر دیجئے، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور کا رنگ بدل گیا، تھوڑی دیر بعد یمن کا ایک قبیلہ آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ بنو تمیم نے تو خوشخبری قبول نہیں کی، تم قبول کرلو، انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ ! ہم نے اسے قبول کرلیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19822
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3190
حدیث نمبر: 19823
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَا : ثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةُ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْقَرْنُ الَّذِي بُعِثْتُ فِيهِمْ قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ : الَّذِينَ بُعِثْتُ فِيهِمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ يَنْشَأُ قَوْمٌ يَنْذُرُونَ وَلَا يُوفُونَ ، وَيَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ ، وَيَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ ، وَيَنْشَأُ فِيهِمْ السِّمَنُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس امت کا سب سے بہترین زمانہ تو وہ ہے جس میں مجھے مبعوث کیا گیا ہے، پھر اس کے بعد والوں کا زمانہ ہے، پھر ایک ایسی قوم آئے گی جو منت مانے گی لیکن پوری نہیں کرے گی، خیانت کرے گی، امانت دار نہ ہوگی، گواہی دینے کے لئے تیار ہوگی گو کہ اس سے گواہی نہ مانگی جائے اور ان میں موٹاپا عام ہوجائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19823
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2651، م: 2535
حدیث نمبر: 19824
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي مِرَايَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ " تَبَارَكَ وَتَعَالَى .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19824
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 19825
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَن مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : قِيلَ لرَسُولَ اللَّهِ : إِنَّ فُلَانًا لَا يُفْطِرُ نَهَارَ الدَّهْرِ ! فَقَالَ : " لَا أَفْطَرَ وَلَا صَامَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ فلاں آدمی تو ہمیشہ دن کو روزے کا ناغہ کرتا ہی نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے ناغہ کیا اور نہ روزہ رکھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19825
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19826
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ : أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ ، لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ ، " فَدَعَا بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَزَّأَهُمْ أَثْلَاثًا ، ثُمَّ أَقْرَعَ بَيْنَهُمْ ، فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ ، وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً ، وَقَالَ لَهُ قَوْلًا شَدِيدًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے مرتے وقت اپنے چھ کے چھ غلام آزاد کردئیے، جن کے علاوہ اس کے پاس کوئی مال بھی نہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان غلاموں کو بلایا اور انہیں تین حصوں میں تقسیم کر کے ان کے درمیان قرعہ اندازی کی، پھر جن دو کا نام نکل آیا انہیں آزاد کردیا اور باقی چار کو غلام ہی رہنے دیا اور مرنے والے کے متعلق سخت الفاظ استعمال کئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19826
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1668
حدیث نمبر: 19827
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ : " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَى رَجُلَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ بِرَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ بَنِي عُقَيْلٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین میں سے ایک آدمی " جس کا تعلق بنو عقیل سے تھا " کے فدئیے میں دو مسلمان واپس لے لئے۔ (وضاحت آرہی ہے)
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19827
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1641
حدیث نمبر: 19828
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ ، ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ : الْخِرْبَاقُ ، وَكَانَ فِي يَدَيْهِ طُولٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ فَذَكَرَ لَهُ صَنِيعَهُ ، فَجَاءَ فَقَالَ : " أَصَدَقَ هَذَا ؟ " قَالُوا : نَعَمْ ، فَصَلَّى الرَّكْعَةَ الَّتِي تَرَكَ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی تین رکعتوں پر ہی سلام پھیر دیا اور سلام پھیر کر گھر چلے گئے، ایک آدمی جس کا نام " خرباق " تھا اور اس کے ہاتھ کچھ زیادہ ہی لمبے تھے، اٹھ کر گیا اور " یا رسول اللہ " کہہ کر پکارا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو اس نے بتایا کہ آپ نے تین رکعتیں پڑھائی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے اور لوگوں سے پوچھا کیا یہ سچ کہہ رہا ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا جی ہاں ! تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوٹی ہوئی ایک رکعت پڑھائی اور سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے کئے اور سلام پھیر دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19828
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 574
حدیث نمبر: 19829
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : ثَنَا شُعْبَةُ , وَحَجَّاجٌ , قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى , قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ , سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : قَاتَلَ يَعْلَى ابْنُ مُنْيَةَ أَوْ ابْنُ أُمَيَّةَ رَجُلًا ، فَعَضَّ أَحَدُهُمَا يَدَ صَاحِبِهِ ، فَانْتَزَعَ يَدَهُ مِنْ فِيهَ ، فَانْتَزَعَ ثَنِيَّتَهُ , وَقَالَ حَجَّاجٌ : ثَنِيَّتَيْهِ فَاخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " يَعَضُّ أَحَدُكُمَا أَخَاهُ كَمَا يَعَضُّ الْفَحْلُ لَا دِيَةَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یعلی بن منیہ یا امیہ کا کسی آدمی سے جھگڑا ہوگیا، ان میں سے ایک نے دوسرے کا ہاتھ کاٹ لیا، اس نے اپنا ہاتھ جو کھینچا تو کاٹنے والے کے اگلے دانت ٹوٹ کر گرپڑے، وہ دونوں یہ جھگڑا لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے ایک آدمی اپنے بھائی کو اس طرح کاٹتا ہے جیسے سانڈ، اس کی کوئی دیت نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19829
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6892، م: 1673
حدیث نمبر: 19830
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا السَّوَّارِ الْعَدَوِيَّ يُحَدِّثُ , أَنَّهُ سَمِعَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ الْخُزَاعِيَّ ، يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " الْحَيَاءُ لَا يَأْتِي إِلَّا بِخَيْرٍ " فَقَالَ بُشَيْرُ بْنُ كَعْبٍ : مَكْتُوبٌ فِي الْحِكْمَةِ : أَنَّ مِنْهُ وَقَارًا ، وَمِنْهُ سَكِينَةً , فَقَالَ عِمْرَانُ : أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتُحَدِّثُنِي عَنْ صُحُفِكَ ؟ !.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حیاء ہمیشہ خیر ہی لاتی ہے، یہ حدیث ان سے سن کر بشیر بن کعب کہنے لگے کہ حکمت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ حیاء سے وقاروسکینت پیدا ہوتی ہے، حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تم سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کررہا ہوں اور تم اپنے صحیفوں کی بات کررہے ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19830
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6117، م: 37
حدیث نمبر: 19831
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , وَيَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْكَيِّ ، فَاكْتَوَيْنَا ، فَمَا أَفْلَحْنَا وَلَا أَنْجَحْنَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں داغنے کا علاج کرنے سے منع فرمایا ہے، لیکن ہم داغتے رہے اور کبھی کامیاب نہ ہوسکے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19831
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، لأن الحسن البصري لم يسمع من عمران ابن حصين، لكنه توبع
حدیث نمبر: 19832
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا مِرَايَةَ الْعِجْلِيَّ , قَالَ : سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ : " لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19832
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 19833
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , وَحَجَّاجٌ , قَالَا : أَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُطَرِّفًا ، قَالَ : قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ : إِنِّي أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا عَسَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَنْفَعَكَ بِهِ , إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ جَمَعَ بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ ، ثُمَّ لَمْ يَنْهَ عَنْهُ حَتَّى مَاتَ ، وَلَمْ يَنْزِلْ قُرْآنٌ فِيهِ يُحَرِّمُهُ " . وَإِنَّهُ كَانَ : " يُسَلِّمُ عَلَيَّ ، فَلَمَّا اكْتَوَيْتُ أَمْسَكَ عَنِّي ، فَلَمَّا تَرَكْتُهُ عَادَ إِلَيَّ " .
مولانا ظفر اقبال
مطرف کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا کہ میں تم سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں، شاید اللہ تمہیں اس سے فائدہ پہنچائے اور وہ یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرے کو ایک سفر میں جمع کیا تھا، پھر وصال تک اس سے منع نہیں فرمایا : اور نہ ہی اس حوالے سے اس کی حرمت کا قرآن میں کوئی حکم نازل ہوا۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پہلے مجھے سلام کرتے تھے، جب میں نے داغنے کے ذریعے علاج کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم رک گئے، پھر جب میں نے اس چیز کو ترک کردیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پھر مجھے سلام کرنے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19833
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1226
حدیث نمبر: 19834
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُطَرِّفًا يُحَدِّثُ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ سُئِلَ أَوْ قِيلَ لَهُ : أَيُعْرَفُ أَهْلُ النَّارِ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ فَقَالَ : " نَعَمْ " قَالَ : فَلِمَ يَعْمَلُ الْعَامِلُونَ ؟ قَالَ : " يَعْمَلُ كُلٌّ لِمَا خُلِقَ لَهُ " أَوْ " لِمَا يُسِّرَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا اہل جہنم، اہل جنت سے ممتاز ہوچکے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! اس نے پوچھا کہ پھر عمل کرنے والے کیوں عمل کرتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نغ فرمایا ہر شخص وہی عمل کرتا ہے جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19834
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6596، م: 2649
حدیث نمبر: 19835
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا جَمْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ زَهْدَمَ بْنَ مُضَرِّبٍ , قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ : جَاءَنِي زَهْدَمٌ فِي دَارِي ، فَحَدَّثَنِي , قَالَ : سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ يُحَدِّثُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ خَيْرَكُمْ قَرْنِي ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ قَالَ عِمْرَانُ : فَلَا أَدْرِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ قَرْنِهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً , ثُمَّ يَكُونُ بَعْدَهُمْ قَوْمٌ يَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ وَيَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ ، وَيَنْذُرُونَ وَلَا يُوفُونَ ، وَيَظْهَرُ فِيهِمْ السِّمَنُ " , حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا جَمْرَةَ يَقُولُ : جَاءَنِي زَهْدَمٌ فِي دَارِي فَحَدَّثَنِي , قَالَ : سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ يُحَدِّثُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ خَيْرَكُمْ قَرْنِي " فَذَكَرَ مِثْلَهُ , إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " وَيَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس امت کا سب سے بہترین زمانہ تو وہ ہے جس میں مجھے مبعوث کیا گیا ہے، پھر اس کے بعد والوں کا زمانہ ہے، پھر ایک ایسی قوم آئے گی جو منت مانے گی لیکن پوری نہیں کرے گی، خیانت کرے گی، امانت دار نہ ہوگی، گواہی دینے کے لئے تیار ہوگی گو کہ اس سے گواہی نہ مانگی جائے اور ان میں موٹاپا عام ہوجائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19835
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2651، م: 2535
حدیث نمبر: 19836
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جَمْرَةَ يَقُولُ: جَاءَنِي زَهْدَمٌ فِي دَارِي فَحَدَّثَنِي قَالَ: سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ خَيْرَكُمْ قَرْنِي" فَذَكَرَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " وَيَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ "
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19836
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2651، م: 2535
حدیث نمبر: 19837
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُطَرِّفًا يُحَدِّثُ : أَنَّهُ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ ، فَجَاءَ إِلَى إِحْدَاهُمَا , قَالَ : فَجَعَلَتْ تَنْزِعُ بِهِ عِمَامَتَهُ ، وَقَالَتْ : جِئْتَ مِنْ عِنْدِ امْرَأَتِكَ ! قَالَ : جِئْتُ مِنْ عِنْدِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، فَحَدَّثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَبُ أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ أَقَلَّ سَاكِنِي الْجَنَّةِ النِّسَاءُ " .
مولانا ظفر اقبال
مطرف کہتے ہیں کہ ان کی دو بیویاں تھیں، ایک مرتبہ وہ اپنی ایک بیوی کے پاس آئے تو وہ ان کا عمامہ اتارتے ہوئے پوچھنے لگی کہ آپ اپنی دوسری بیوی کے پاس سے آرہے ہیں ؟ انہوں سے کہا میں تو عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے پاس سے آرہا ہوں اور انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اہل جنت میں سب سے کم رہائشی افراد خواتین ہوں گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19837
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2738
حدیث نمبر: 19838
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ بَنِي لَيْثٍ , قَالَ : أَشْهَدُ عَلَى عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , قَالَ شُعْبَةُ أَوْ قَالَ عِمْرَانُ : " أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنِ الْحَنَاتِمِ أَوْ قَالَ الْحَنْتَمِ وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں شہادت دیتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حنتم، سونے کی انگوٹھی اور ریشم سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19838
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، الرجل الليثي: هو حفص بن عبدالله، وهو مجهول لكنه توبع
حدیث نمبر: 19839
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ ابْنِ أَخِي مُطَرِّفِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُطَرِّفًا يُحَدِّثُ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ : " هَلْ صُمْتَ مِنْ سُرَرِ هَذَا الشَّهْرِ شَيْئًا ؟ " يَعْنِي شَعْبَانَ ، فَقَالَ : لَا , فَقَالَ لَهُ : " إِذَا أَفْطَرْتَ رَمَضَانَ ، فَصُمْ يَوْمًا أَوْ يَوْمَيْنِ " شَكَّ الَّذِي شَكَّ فِيهِ قَالَ : وَأَظُنُّهُ قَالَ : " يَوْمَيْنِ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے پوچھا کیا تم نے شعبان کے اس مہینے کے آخر میں کوئی روزہ رکھا ہے ؟ اس نے کہا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رمضان کے روزے ختم ہوجائیں تو ایک دو دن کے روزے رکھ لینا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19839
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1983، م: 1161، وهذا إسناد ضعيف لجهالة ابن أخي مطرف بن الشخير
حدیث نمبر: 19840
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ . وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنِ صَاحِبٍ لَهُ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ الشِّخِّيرِ , أَنَّهُ قَالَ : " كُنْتُ مَعَ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ بِالْكُوفَةِ ، فَصَلَّى بِنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، فَجَعَلَ يُكَبِّرُ كُلَّمَا سَجَدَ ، وَكُلَّمَا رَفَعَ رَأْسَهُ ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ عِمْرَانُ : صَلَّى بِنَا هَذَا مِثْلَ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
مطرف بن شخیر کہتے ہیں کہ میں کوفہ میں حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی، وہ سجدے میں جاتے اور سر اٹھاتے وقت ہر مرتبہ اللہ اکبر کہتے رہے، جب نماز سے فراغت ہوئی تو حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا انہوں نے ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم جیسی نماز پڑھائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19840
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح الإسناد الأول منقطع، سعيد لم يسمعه من غيلان لكنه توبع ، والإسناد الثاني فيه شيخ عبدالوهاب لم يسمعه
حدیث نمبر: 19841
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : بَعَثَ إِلَيَّ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ فِي مَرَضِهِ ، فَأَتَيْتُهُ ، فَقَالَ لِي : إِنِّي كُنْتُ أُحَدِّثُكَ بِأَحَادِيثَ لَعَلَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَنْفَعُكَ بِهَا بَعْدِي ، وَاعْلَمْ أَنَّهُ كَانَ يُسَلِّمُ عَلَيَّ ، فَإِنْ عِشْتُ فَاكْتُمْ عَلَيَّ ، وَإِنْ مِتُّ فَحَدِّثْ إِنْ شِئْتَ , وَاعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ جَمَعَ بَيْنَ حَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ ، ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ فِيهَا كِتَابٌ ، وَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، قَالَ رَجُلٌ فِيهَا بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ . .
مولانا ظفر اقبال
مطرف بن عبداللہ کہتے ہیں کہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے اپنے مرض الوفات میں مجھے بلا بھیجا، میں حاضر ہوا تو فرمایا میں تم سے بہت سی احادیث بیان کرتا رہا ہوں جن سے ہوسکتا ہے کہ میرے بعد اللہ تمہیں فائدہ پہنچائے اور یہ بات بھی اپنی معلومات میں شامل کرلو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے سلام کرتے تھے، جب تک میں زندہ رہوں، اسے مخفی رکھنا اور جب مرجاؤں تو اگر تمہارا دل چاہے تو بیان کردینا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19841
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1226
حدیث نمبر: 19842
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، قَالَ : قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ فَذَكَرَ مِثْلَهُ ، وَقَالَ : لَا تُحَدِّثْ بِهِمَا حَتَّى أَمُوتَ.
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19842
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1226
حدیث نمبر: 19843
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ , قَالَا : ثَنَا سَعِيدٌ , وَيَزِيدُ , أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ : أَنَّ رَجُلًا عَضَّ رَجُلًا عَلَى ذِرَاعِهِ قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ : فَنَزَعَ يَدَهُ مِنْهُ ، فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتَاهُ فَجَذَبَهَا ، فَانْتَزَعَتْ ثَنِيَّتَهُ ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبْطَلَهَا ، وَقَالَ : " أَرَدْتَ أَنْ تَقْضَمَ لَحْمَ أَخِيكَ كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ " .
مولانا ظفر اقبال
اور یاد رکھو ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرے کو ایک سفر میں جمع کیا تھا، پھر وصال تک اس سے منع نہیں فرمایا : اور نہ ہی اس حوالے سے اس کی حرمت کا قرآن میں کوئی حکم نازل ہوا، اب جو آدمی اس کے متعلق کچھ کہتا ہے وہ اپنی رائے سے کہتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19843
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6892 ، م: 1673
حدیث نمبر: 19844
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ , أَنَّ هَيَّاجَ بْنَ عِمْرَانَ , أَتَى عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ، فَقَالَ : إِنَّ أَبِي قَدْ نَذَرَ : لَئِنْ قَدَرَ عَلَى غُلَامِهِ ، لَيَقْطَعَنَّ مِنْهُ طَابِقًا أَوْ لَيَقْطَعَنَّ يَدَهُ , فَقَالَ : قُلْ لِأَبِيكَ يُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ , وَلَا يَقْطَعْ مِنْهُ طَابِقًا , فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يَحُثُّ فِي خُطْبَتِهِ عَلَى الصَّدَقَةِ ، وَيَنْهَى عَنِ الْمُثْلَةِ " ، ثُمَّ أَتَى سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے کا ہاتھ کاٹ لیا، اس نے اپنا ہاتھ جو کھینچا تو کاٹنے والے کے اگلے دانت ٹوٹ کر گرپڑے، وہ دونوں یہ جھگڑا لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے باطل قرار دے کر فرمایا تم میں سے ایک آدمی اپنے بھائی کو اس طرح کاٹتا ہے جیسے سانڈ۔ ہیاج بن عمران ایک مرتبہ عمران رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ میرے والد نے یہ منت مانی ہے کہ اگر میرا غلام میرے قابو میں آگیا تو میں اس کے جسم کا کوئی عضو کاٹ کر رہوں گا، انہوں نے فرمایا اپنے والد سے جا کر کہو کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ دے دے اور اس کے جسم کا کوئی عضو نہ کاٹے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خطاب میں صدقہ کی ترغیب دیتے اور مثلہ کرنے سے منع فرماتے تھے، پھر وہ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو انہوں نے بھی یہی فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19844
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 19845
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ : " أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَعْتَقَ رُءُوسًا سِتَّةً عِنْدَ مَوْتِهِ ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَغْلَظَ لَهُ ، فَدَعَا بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ ، فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ ، وَرَدَّ أَرْبَعَةً فِي الرِّقِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے مرتے وقت اپنے چھ غلام آزاد کر دئیے، جن کے علاوہ اس کے پاس کوئی مال بھی نہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان غلاموں کو بلایا اور انہیں تین حصوں میں تقسیم کرکے ان کے درمیان قرعہ اندازی کی، پھر جن دو کا نام نکل آیا انہیں آزاد کردیا اور باقی چار کو غلام ہی رہنے دیا اور مرنے والے کے متعلق سخت الفاظ استعمال کئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19845
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1668، وهذا إسناد منقطع، الحسن البصري لم يسمع من عمران، لكنه توبع
حدیث نمبر: 19846
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , وَعَفَّانُ المعنى , قَالَا : ثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ عَفَّانُ , إِنَّ الْحَسَنَ حَدَّثَهُمْ , عَنْ هَيَّاجِ بْنِ عِمْرَانَ الْبُرْجُمِيِّ : أَنَّ غُلَامًا لِأَبِيهِ أَبَقَ ، فَجَعَلَ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَيْهِ إِنْ قَدَرَ عَلَيْهِ ، أَنْ يَقْطَعَ يَدَهُ , قَالَ : فَقَدَرَ عَلَيْهِ ، قَالَ : فَبَعَثَنِي إِلَى عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : فَقَالَ : أَقْرِئْ أَبَاكَ السَّلَامَ ، وَأَخْبِرْهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يَحُثُّ فِي خُطْبَتِهِ عَلَى الصَّدَقَةِ ، وَيَنْهَى عَنِ الْمُثْلَةِ ، فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ ، وَيَتَجَاوَزْ عَنْ غُلَامِهِ " , قَالَ : وَبَعَثَنِي إِلَى سَمُرَةَ ، فَقَالَ : أَقْرِئْ أَبَاكَ السَّلَامَ ، وَأَخْبِرْهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَانَ يَحُثُّ فِي خُطْبَتِهِ عَلَى الصَّدَقَةِ ، وَيَنْهَى عَنِ الْمُثْلَةِ ، فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ وَيَتَجَاوَزْ عَنْ غُلَامِهِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ هَيَّاجٍ فذَكَرَ مَعْنَاهُ.
مولانا ظفر اقبال
ہیاج بن عمران کہتے ہیں کہ ان کے والد کا غلام فرار ہوگیا، انہوں نے اللہ کے نام پر یہ منت مان لی کہ اگر انہیں اس پر قدرت مل گئی تو وہ اس کا ہاتھ کاٹ دیں گے، بعد میں وہ غلام ان کے قابو میں آگیا چناچہ انہوں نے مجھے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے پاس یہ مسئلہ پوچھنے کے لئے بھیج دیا، انہوں نے فرمایا اپنے والد سے جا کر میرا سلام اور یوں کہو کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ دے دے اور اس کے جسم کا کوئی عضو نہ کاٹے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خطاب میں صدقہ کی ترغیب دیتے اور مثلہ کرنے سے منع فرماتے تھے، پھر انہوں نے مجھے حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تو انہوں نے بھی یہی فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19846
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، والمرفوع منه صحيح
حدیث نمبر: 19847
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ هَيَّاجِ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19847
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، والمرفوع منه صحيح
حدیث نمبر: 19848
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ : أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : إِنَّ ابنَ ابْنِي مَاتَ فَمَا لِي مِنْ مِيرَاثِهِ ؟ قَالَ : " لَكَ السُّدُسُ " قَالَ : فَلَمَّا أَدْبَرَ دَعَاهُ ، قَالَ : " لَكَ سُدُسٌ آخَرُ " قَالَ : فَلَمَّا أَدْبَرَ دَعَاهُ ، قَالَ : " إِنَّ السُّدُسَ الْآخَرَ طُعْمَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میرا پوتا فوت ہوگیا ہے، اس کی وراثت میں سے مجھے کیا ملے گا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں چھٹا حصہ ملے گا، جب وہ واپس جانے لگا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر فرمایا تمہیں ایک چھٹا حصہ اور بھی ملے گا، جب وہ دوبارہ واپس جانے لگا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر فرمایا یہ دوسرا چھٹا حصہ تمہارے لئے ایک زائد لقمہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19848
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، الحسن البصري لم يسمع من عمران بن حصين
حدیث نمبر: 19849
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَوْ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنَّهُ قَالَ : " أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ , وَعَنِ الشُّرْبِ فِي الْحَنَاتِمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں شہادت دیتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حنتم میں پینے اور ریشم پہننے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19849
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19850
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , وَحَدَّثَنَا عَفَّانُ الْمَعْنَى ، قَالَا : ثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، قَالَ : قَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ : تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأُنْزِلَ فِيهَا الْقُرْآنُ , قَالَ عَفَّانُ : وَنَزَلَ فِيهِ الْقُرْآنُ فَمَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا ، وَلَمْ يَنْسَخْهَا شَيْءٌ ، قَالَ رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
اور یاد رکھو ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرے کو ایک سفر میں جمع کیا تھا، پھر وصال تک اس سے منع نہیں فرمایا : اور نہ ہی اس حوالے سے اس کی حرمت کا قرآن میں کوئی حکم نازل ہوا، اب جو آدمی اس کے متعلق کچھ کہتا ہے وہ اپنی رائے سے کہتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19850
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1571، م: 1226
حدیث نمبر: 19851
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ عَلَى مَنْ نَاوَأَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ ، وَيَنْزِلَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا اور اپنے مخالفین پر غالب رہے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آجائے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نازل ہوجائیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19851
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19852
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اطَّلَعْتُ فِي النَّارِ ، فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ ، وَاطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ ، فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ " , حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ زَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اطَّلَعْتُ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ , حَدَّثَنَا الْخَفَّافُ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے جہنم میں جھانک کر دیکھا تو وہاں اکثریت خواتین کی نظر آئی اور جنت میں جھانک کر دیکھا تو اکثریت فقراء کی نظر آئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19852
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5198
حدیث نمبر: 19853
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ زَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اطَّلَعْتُ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19853
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3241، وهذا إسناد حسن فى الشواهد
حدیث نمبر: 19854
حَدَّثَنَا الْخَفَّافُ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ أَبِي رَجَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 19854
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي