حدیث نمبر: 19763
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ مَطَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، قَالَ : شَكَّ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ فِي الْحَوْضِ ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، فَأَتَاهُ ، فَقَالَ لَهُ جُلَسَاءُ عُبَيْدِ اللَّهِ : " إِنَّمَا أَرْسَلَ إِلَيْكَ الْأَمِيرُ لِيَسْأَلَكَ عَنِ الْحَوْضِ ، هَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ شَيْئًا ، قَالَ : نَعَمْ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُهُ , فَمَنْ كَذَّبَ بِهِ فَلَا سَقَاهُ اللَّهُ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عبیداللہ بن زیاد کو حوض کوثر کے ثبوت میں شک تھا، اس نے حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا، وہ آئے تو عبیداللہ کے ہم نشینوں نے ان سے کہا کہ امیر نے آپ کو اس لئے بلایا ہے کہ آپ سے حوض کوثر کے متعلق دریافت کرے، کیا آپ نے اس حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سنا ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا تذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے، اب جو اس کی تکذیب کرتا ہے، اللہ اسے اس حوض سے سیراب نہ کرے۔
حدیث نمبر: 19764
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ سَيَّارٍ أَبِي الْمِنْهَالِ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ بِالسِّتِّينَ إِلَى الْمِئَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں ساٹھ سے لے کر سو آیات تک کی تلاوت فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 19765
حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : أَنْبَأَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يَقْرَأُ فِي الْغَدَاةِ بالسِّتِّينَ إلى المئِة وَبالسِّتِّينَ إِلَى الْمِئَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں ساٹھ سے لے کر سو آیات تک کی تلاوت فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 19766
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ ، قَالَ : كَانَتْ رَاحِلَةٌ أَوْ نَاقَةٌ ، أَوْ بَعِيرٌ عَلَيْهَا بَعْضُ مَتَاعِ الْقَوْمِ ، وَعَلَيْهَا جَارِيَةٌ ، فَأَخَذُوا بَيْنَ جَبَلَيْنِ ، فَتَضَايَقَ بِهِمْ الطَّرِيقُ ، فَأَبْصَرَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : حَلْ حَلْ ، اللَّهُمَّ الْعَنْهَا , فَقَالَ رسُول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَاحِبُ هَذِهِ الْجَارِيَةِ ؟ لَا تَصْحَبُنَا رَاحِلَةٌ , أَوْ نَاقَةٌ , أَوْ بَعِيرٌ , عَلَيْهَا مِنْ لَعْنَةِ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک اونٹنی تھی جس پر کسی آدمی کا سامان لدا ہوا تھا، وہ ایک باندی کی تھی، لوگ دو پہاڑوں کے درمیان چلنے لگے تو راستہ تنگ ہوگیا، اس نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو اپنی سواری کو تیز کرنے کے لئے اسے ڈانٹا اور کہنے لگی اللہ ! اس پر لعنت فرما، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس باندی کا مالک کون ہے ؟ ہمارے ساتھ کوئی ایسی سواری نہیں ہونی چاہیے جس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔
حدیث نمبر: 19767
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، حَدَّثَنِي أَبُو الْمِنْهَالِ ، قَالَ : انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي إِلَى أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، فَقَالَ لَهُ أَبِي : حَدِّثْنَا كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ ؟ قَالَ : " كَانَ يُصَلِّي الْهَجِيرَ وَهِيَ الَّتِي تَدْعُونَهَا الْأُولَى حِينَ تَدْحَضُ الشَّمْسُ ، وَيُصَلِّي الْعَصْرَ وَيَرْجِعُ أَحَدُنَا إِلَى رَحْلِهِ بِالْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ ، قَالَ : وَنَسِيتُ مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ ، وَكَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ يُؤَخِّرَ الْعِشَاءَ ، وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا ، وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا ، وَكَانَ يَنْفَتِلُ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ حِينَ يَعْرِفُ أَحَدُنَا جَلِيسَه ، وَكَانَ يَقْرَأُ بِالسِّتِّينَ إِلَى الْمِئَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابومنہال کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ساتھ حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، میرے والد نے ان سے عرض کیا کہ یہ بتائیے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز کس طرح پڑھتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نماز ظہر جسے تم " اولیٰ " کہتے ہو، اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا تھا، عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے کہ جب ہم میں سے کوئی شخص مدینہ میں اپنے گھر واپس پہنچتا تو سورج نظر آ رہا ہوتا تھا، مغرب کے متعلق انہوں نے جو فرمایا وہ میں بھول گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کو مؤخر کرنے کو پسند فرماتے تھے، نیز اس سے پہلے سونا اور اس کے بعد باتیں کرنا پسند نہیں فرماتے تھے اور فجر کی نماز پڑھ کر اس وقت فارغ ہوتے جب ہم اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص کو پہچان سکتے تھے اور اس میں ساٹھ سے لے کر سو آیات تک تلاوت فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 19768
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَوَكِيعٌ , قَالَا : ثَنَا أَبَانُ بْنُ صَمْعَةَ ، عَنْ أَبِي الْوَازِعِ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَلِّمْنِي شَيْئًا أَنْتَفِعُ بِهِ , قَالَ : " اعْزِلْ الْأَذَى عَنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیجئے جس سے مجھے فائدہ ہو ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمانوں کے راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دیا کرو۔
حدیث نمبر: 19769
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، أَنْبَأَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ الْوَاسِطِيِّ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِآخِرَةٍ إِذَا طَالَ الْمَجْلِسُ فَقَامَ قَالَ : " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ " ، فَقَالَ لَهُ بَعْضُنَا : إِنَّ هَذَا قَوْلٌ مَا كُنَّا نَسْمَعُهُ مِنْكَ فِيمَا خَلَا ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذَا كَفَّارَةُ مَا يَكُونُ فِي الْمَجْلِسِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ زندگی کے آخری ایام میں جب کوئی مجلس طویل ہوجاتی تو آخر میں اٹھتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم یوں کہتے " سبحانک اللھم وبحمدک اشہد ان لا الہ الا انت استغفرک واتوب الیک " ایک مرتبہ ہم میں سے کسی نے عرض کیا کہ یہ جملہ ہم نے آپ سے پہلے کبھی نہیں سنا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ مجلس میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہے۔
حدیث نمبر: 19770
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : كَانَ أَبُو بَرْزَةَ بِالْأَهْوَازِ , عَلَى جَرْفِ نَهْرٍ ، وَقَدْ جَعَلَ اللِّجَامَ فِي يَدِهِ ، وَجَعَلَ يُصَلِّي ، فَجَعَلَتْ الدَّابَّةُ تَنْكُصُ وَجَعَلَ يَتَأَخَّرُ مَعَهَا ، فَجَعَلَ رَجُلٌ مِنْ الْخَوَارِجِ يَقُولُ : اللَّهُمَّ اخْزِ هَذَا الشَّيْخَ ، كَيْفَ يُصَلِّي ! فَلَمَّا صَلَّى , قَالَ : " قَدْ سَمِعْتُ مَقَالَتَكُمْ ، غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتًّا ، أَوْ سَبْعًا ، أَوْ ثَمَانِيًا ، فَشَهِدْتُ أَمْرَهُ وَتَيْسِيرَهُ ، فَكَانَ رُجُوعِي مَعَ دَابَّتِي أَهْوَنَ عَلَيَّ مِنْ تَرْكِهَا ، فَتَنْزِعُ إِلَى مَأْلَفِهَا فَيَشُقُّ عَلَيَّ , وَصَلَّى أَبُو بَرْزَةَ الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
ازرق بن قیس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ اہواز شہر میں ایک نہر کے کنارے پر تھے، انہوں نے اپنی سواری کی لگام اپنے ہاتھ میں تھام رکھی ہوئی تھی، اسی دوران وہ نماز پڑھنے لگے، اچانک ان کا جانور ایڑیوں کے بل پیجھے جانے لگا، حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ بھی اس کے ساتھ ساتھ پیچھے ہٹتے رہے، یہ دیکھ کر خوارج میں سے ایک آدمی کہنے لگا اے اللہ ! ان بڑے میاں کو رسوا کر، یہ کیسے نماز پڑھ رہے ہیں، نماز سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے فرمایا میں نے تمہاری بات سنی ہے، میں چھ، سات یا آٹھ غزوات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوا ہوں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملات اور آسانیوں کو دیکھا ہے، میرا اپنے جانور کو ساتھ لے کر واپس جانا اس سے زیادہ آسان اور بہتر ہے کہ میں اسے چھوڑ دوں اور یہ بھاگتا ہوا اپنے ٹھکانے پر چلا جائے اور مجھے پریشانی ہو اور حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ نے (مسافر ہونے کی وجہ سے) نماز عصر کی دو رکعتیں پڑھیں۔
حدیث نمبر: 19771
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا جَابِرٌ أَبُو الْوَازِعِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا بَرْزَةَ ، يَقُولُ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا إِلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ ، فضَرَبُوهُ ، وَسَبُّوهُ ، فَرَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَشَكَا ذَلِكَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ أَهْلَ عُمَانَ أَتَيْتَ ، مَا ضَرَبُوكَ وَلَا سَبُّوكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو عرب کے کسی قبیلے میں بھیجا، ان لوگوں نے اسے مارا پیٹا اور برا بھلا کہا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں واپس حاضر ہوا اور اس کی شکایت کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم اہل عمان کے پاس گئے ہوتے تو وہ تمہیں مارتے پیٹتے اور نہ برا بھلا کہتے۔
حدیث نمبر: 19772
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ , قَالَ أَبُو الْأَشْهَبِ : لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِنَّ مِمَّا أَخْشَى عَلَيْكُمْ شَهَوَاتِ الْغَيِّ فِي بُطُونِكُمْ وَفُرُوجِكُمْ ، وَمُضِلَّاتِ الْفِتَنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے تمہارے متعلق ان گمراہ کن خواہشات سے سب سے زیادہ اندیشہ ہے جن کا تعلق پیٹ اور شرمگاہ سے ہوتا ہے اور گمراہ کن فتنوں سے بھی اندیشہ ہے۔
حدیث نمبر: 19773
حَدَّثَنَاه يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ ، عَنْ أَبِي الْحَكَمِ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ مِمَّا أَخْشَى عَلَيْكُمْ شَهَوَاتِ الْغَيِّ فِي بُطُونِكُمْ وَفُرُوجِكُمْ ، وَمُضِلَّاتِ الْهَوَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے تمہارے متعلق ان گمراہ کن خواہشات سے سب سے زیادہ اندیشہ ہے جن کا تعلق پیٹ اور شرمگاہ سے ہوتا ہے اور گمراہ کن فتنوں سے بھی اندیشہ ہے۔
حدیث نمبر: 19774
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي بَرْزَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ ، وَغِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا " ، مَا أَنَا قُلْتُهُ وَلَكِنَّ اللَّهَ قَالَهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قبیلہ اسلم کو اللہ سلامت رکھے اور قبیلہ غفار کی بخشش فرمائے یہ بات میں نہیں کہ رہا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہی یہ بات فرمائی ہے۔
حدیث نمبر: 19775
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ جَارِهِمْ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُمَيْدَ بْنَ هِلَالٍ يُحَدِّثُ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ ، قَالَ : " كَانَ أَبْغَضَ النَّاسِ أَوْ أَبْغَضَ الْأَحْيَاءِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَقِيفُ , وَبَنُو حَنِيفَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ لوگ قبیلہ ثقیف اور بنوحنیفہ تھے۔
حدیث نمبر: 19776
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ شَاذَانُ , أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ , عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا مَعْشَرَ مَنْ آمَنَ بِلِسَانِهِ , وَلَمْ يَدْخُلْ الْإِيمَانُ قَلْبَهُ ، لَا تَغْتَابُوا الْمُسْلِمِينَ ، وَلَا تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِهِمْ ، فَإِنَّهُ مَنْ يَتَّبِعْ عَوْرَاتِهِمْ يَتَّبِعْ اللَّهُ عَوْرَتَهُ ، وَمَنْ يَتَّبِعْ اللَّهُ عَوْرَتَهُ يَفْضَحْهُ فِي بَيْتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا اے وہ لوگو ! جو زبان سے ایمان لے آئے ہو لیکن ان کے دل میں ایمان داخل نہیں ہوا، مسلمانوں کی غیبت مت کیا کرو اور ان کے عیوب تلاش نہ کیا کرو، کیونکہ جو شخص ان کے عیوب تلاش کرتا ہے، اللہ اس کے عیوب تلاش کرتا ہے اور اللہ جس کے عیوب تلاش کرنے لگ جاتا ہے، اسے گھر بیٹھے رسوا کردیتا ہے۔
حدیث نمبر: 19777
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا سُكَيْنٌ ، حَدَّثَنَا سَيَّارُ بْنُ سَلَامَةَ ، سَمِعَ أَبَا بَرْزَةَ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ ، إِذَا اسْتُرْحِمُوا رَحِمُوا ، وَإِذَا عَاهَدُوا وَفَوْا ، وَإِذَا حَكَمُوا عَدَلُوا ، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حکمران قریش میں سے ہونگے، جب ان سے رحم کی درخواست کی جائے تو وہ رحم کریں، وعدہ کریں تو پورا کریں اور فیصلہ کریں تو انصاف کریں اور جو شخص ایسا نہ کرے اس پر اللہ کی، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہو۔
حدیث نمبر: 19778
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي مَغْزًى لَهُ ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الْقِتَالِ ، قَالَ : " هَلْ تَفْقِدُونَ مِنْ أَحَدٍ ؟ " قَالَ : فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَفْقِدُ فُلَانًا وَفُلَانًا , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَلَكِنْ أَفْقِدُ جُلَيْبِيبًا ، فَالْتَمِسُوهُ ، فَالْتَمَسُوهُ ، فَوَجَدُوهُ عِنْدَ سَبْعَةٍ قَدْ قَتَلَهُمْ ، ثُمَّ قَتَلُوهُ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " قَتَلَ سَبْعَةً ثُمَّ قَتَلُوهُ ! هَذَا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ ، قَتَلَ سَبْعَةً وَقَتَلُوهُ ، هَذَا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ " فَرُفِعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَضَعَهُ عَلَى سَاعِدِهِ ، فَمَا كَانَ لَهُ سَرِيرٌ إِلَّا سَاعِدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى دَفَنَهُ ، وَمَا ذَكَرَ غُسْلًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوے میں مصروف تھے، جب جنگ سے فراغت ہوئی تو لوگوں سے پوچھا کہ تم کسی کو غائب پا رہے ہو ؟ لوگوں نے کہا یارسول اللہ ! فلاں فلاں لوگ ہمیں نہیں مل رہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن مجھے جلیبیب غائب نظر آرہا ہے، اسے تلاش کرو، لوگوں نے انہیں تلاش کیا تو وہ سات آدمیوں کے پاس مل گئے، حضرت جلیبیب رضی اللہ عنہ نے ان ساتوں کو قتل کیا تھا بعد میں خود بھی شہید ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ان کے پاس کھڑے ہو کر فرمایا اس نے سات آدمیوں کو قتل کیا ہے، بعد میں مشرکین نے اسے شہید کردیا، یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، یہ جملے دو مرتبہ دہرائے، پھر جب انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اٹھایا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بازوؤں پر اٹھا لیا اور تدفین تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں بازو ہی تھے جو ان کے لئے جنازے کی چارپائی تھی، راوی نے غسل کا ذکر نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 19779
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْزَمٍ العَنَزِي ، عَنْ أَبِي طَالُوتَ العَنَزِي ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا بَرْزَةَ ، وَخَرَجَ مِنْ عِنْدِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ وَهُوَ مُغْضَبٌ ، فَقَالَ : " مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنِّي أَعِيشُ حَتَّى أُخَلَّفُ فِي قَوْمٍ يُعَيِّرُونِي بِصُحْبَةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا : إِنَّ مُحَمَّدِيَّكُمْ هَذَا لَدَحْدَاحٌ ! سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الْحَوْضِ : فَمَنْ كَذَّبَ ، فَلَا سَقَاهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوطالوت کہتے ہیں کہ حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ جب عبیداللہ بن زیاد کے پاس سے نکلے تو سخت غصے میں تھے، میں نے انہیں کہتے ہوئے سنا کہ میرا یہ خیال نہیں تھا کہ میں اس وقت تک زندہ رہوں گا جب کسی قوم میں ایسے لوگ پیدا ہوجائیں گے جو مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی ہونے پر طعنہ دیں گے اور کہیں گے کہ تمہارا محمدی یہ لنگڑا شخص ہے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حوض کوثر کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے، اب جو اس کی تکذیب کرتا ہے، اللہ اسے اس کا پانی نہ پلائے۔
حدیث نمبر: 19780
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ , وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي رَبُّ هَذِهِ الدَّارِ أَبُو هِلَالٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا بَرْزَةَ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَسَمِعَ رَجُلَيْنِ يَتَغَنَّيَانِ ، وَأَحَدُهُمَا يُجِيبُ الْآخَرَ ، وَهُوَ يَقُولُ : لَا يَزَالُ حَوَارِيَّ تَلُوحُ عِظَامُهُ زَوَى الْحَرْبَ عَنْهُ أَنْ يُجَنَّ فَيُقْبَرَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " انْظُرُوا مَنْ هُمَا " قَالَ : فَقَالُوا : فُلَانٌ وَفُلَانٌ , قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ ارْكُسْهُمَا رَكْسًا ، وَدُعَّهُمَا إِلَى النَّارِ دَعًّا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ کسی سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کان میں دو آدمیوں کی آواز آئی جو گانا گا رہے تھے اور پہلا دوسرے کو جواب دے رہا تھا (اس کا ساتھ دے رہا تھا اور وہ کہہ رہا تھا کہ میرے جگری دوست کی ہڈیاں ہمیشہ چمکتی رہیں، اس نے جنگ کو لمبا ہونے سے پہلے سمیٹ لیا کہ اسے قبر مل جائے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو، یہ دونوں کون ہیں ؟ لوگوں نے بتایا کہ فلاں فلاں آدمی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ ! ان پر عذاب نازل فرما اور انہیں جہنم کی آگ میں دھکیل دے۔
حدیث نمبر: 19781
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَ الْعِشَاءِ ، وَلَا يُحِبُّ الْحَدِيثَ بَعْدَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء سے پہلے سونا اور اس کے بعد باتیں کرنا پسند نہیں فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 19782
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سُكَيْنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنَا سَيَّارُ بْنُ سَلَامَةَ أَبُو الْمِنْهَالِ ، قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى أَبِي بَرْزَةَ ، وَإِنَّ فِي أُذُنَيَّ يَوْمَئِذٍ لَقُرْطَيْنِ ، وَإِنِّي غُلَامٌ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْأُمَرَاءُ مِنْ قُرَيْشٍ , ثَلَاثًا , مَا فَعَلُوا ثَلَاثًا : مَا حَكَمُوا فَعَدَلُوا ، وَاسْتُرْحِمُوا فَرَحِمُوا ، وَعَاهَدُوا فَوَفَوْا ، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا حکمران قریش میں سے ہوں گے، جب ان سے رحم کی درخواست کی جائے تو وہ رحم کریں، وعدہ کریں تو پورا کریں اور فیصلہ کریں تو انصاف کریں اور جو شخص ایسا نہ کرے اس پر اللہ کی، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہو۔
حدیث نمبر: 19783
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا الْأَزْرَقُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : كُنْتُ أَتَمَنَّى أَنْ أَلْقَى رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُحَدِّثُنِي عَنْ الْخَوَارِجِ ، فَلَقِيتُ أَبَا بَرْزَةَ فِي يَوْمِ عَرَفَةَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ , فَقُلْتُ : يَا أَبَا بَرْزَةَ ، حَدِّثْنَا بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ فِي الْخَوَارِجِ , فَقَالَ : أُحَدِّثُكَ بِمَا سَمِعَتْ أُذُنَايَ وَرَأَتْ عَيْنَايَ ، أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدَنَانِيرَ ، فَكَانَ يَقْسِمُهَا ، وَعِنْدَهُ رَجُلٌ أَسْوَدُ ، مَطْمُومُ الشَّعْرِ ، عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَبْيَضَانِ ، بَيْنَ عَيْنَيْهِ أَثَرُ السُّجُودِ ، فَتَعَرَّضَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَاهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ ، فَلَمْ يُعْطِهِ شَيْئًا ، ثُمَّ أَتَاهُ مِنْ خَلْفِهِ ، فَلَمْ يُعْطِهِ شَيْئًا ، فَقَالَ : وَاللَّهِ يَا مُحَمَّدُ مَا عَدَلْتَ مُنْذُ الْيَوْمَ فِي الْقِسْمَةِ , فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَضَبًا شَدِيدًا ، ثُمَّ قَالَ : " وَاللَّهِ لَا تَجِدُونَ بَعْدِي أَحَدًا أَعْدَلَ عَلَيْكُمْ مِنِّي " ، قَالَهَا ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَ : " يَخْرُجُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ رِجَالٌ كَانَ هَذَا مِنْهُمْ ، هَدْيُهُمْ هَكَذَا : يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، لَا يَرْجِعُونَ إِلَيْهِ " , وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِهِ : " سِيمَاهُمْ التَّحْلِيقُ ، لَا يَزَالُونَ يَخْرُجُونَ حَتَّى يَخْرُجَ آخِرُهُمْ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ , قَالَهَا ثَلَاثًا , شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ " قَالَهَا ثَلَاثًا , وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ : " لَا يَرْجِعُونَ فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
شریک بن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میری یہ خواہش تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی سے ملاقات ہوجائے اور وہ مجھ سے خوارج کے متعلق حدیث بیان کریں، چناچہ یوم عرفہ کے موقع پر حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے ان کے چند ساتھیوں کے ساتھ میری ملاقات ہوگئی، میں نے ان سے عرض کیا اے ابوبرزہ ! خوارج کے حوالے سے آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر کچھ فرماتے ہوئے سنا ہو تو وہ حدیث ہمیں بھی بتائیے، انہوں نے فرمایا میں تم سے وہ حدیث بیان کرتا ہوں جو میرے کانوں نے سنی اور میری آنکھوں نے دیکھی۔ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہیں سے کچھ دینار آئے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہ تقسیم فرما رہے تھے، وہاں ایک سیاہ فام آدمی بھی تھا جس کے بال کٹے ہوئے تھے، اس نے دو سفید کپڑے پہن رکھے تھے اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان (پیشانی پر) سجدے کے نشانات تھے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کچھ نہیں دیا، دائیں جانب سے آیا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نہیں دیا، بائیں جانب سے اور پیچھے سے آیاتب بھی کچھ نہیں دیا، یہ دیکھ کر وہ کہنے لگا واللہ اے محمد ! صلی اللہ علیہ وسلم ، آج آپ جب سے تقسیم کر رہے ہیں، آپ نے انصاف نہیں کیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شدید غصہ آیا اور فرمایا بخدا ! میرے بعد تم مجھ سے زیادہ عادل کسی کو نہ پاؤ گے، یہ جملہ تین مرتبہ دہرایا پھر فرمایا کہ مشرق کی طرف سے کچھ لوگ نکلیں گے، غالباً یہ بھی ان ہی میں سے ہے اور ان کی شکل و صورت بھی ایسی ہی ہوگی، یہ لوگ قرآن تو پڑھتے ہونگے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، وہ اس کی طرف لوٹ کر نہیں آئنگے، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھا، ان کی علامت سر منڈانا ہوگی، یہ لوگ ہر زمانے میں نکلتے ہی رہیں گے یہاں تک کہ ان کا آخری شخص بھی نکل آئے گا، جب تم انہیں دیکھنا تو انہیں قتل کردینا، تین مرتبہ فرمایا اور یہ لوگ بدترین مخلوق ہیں، تین مرتبہ فرمایا۔
حدیث نمبر: 19784
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ , أَنَّ جُلَيْبِيبًا كَانَ امْرَأً يَدْخُلُ عَلَى النِّسَاءِ , قَالَ : وَكَانَتْ الْأَنْصَارُ إِذَا كَانَ لِأَحَدِهِمْ أَيِّمٌ ، لَمْ يُزَوِّجْهَا حَتَّى يَعْلَمَ , هَلْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا حَاجَةٌ أَمْ لَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ : " زَوِّجْنِي ابْنَتَكَ " فَقَالَ : نِعِمَّ وَكَرَامَةٌ , يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَنُعْمَ عَيْنِي , قَالَ : " إِنِّي لَسْتُ أُرِيدُهَا لِنَفْسِي " , قَالَ : فَلِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لِجُلَيْبِيبٍ " , قَالَ : فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُشَاوِرُ أُمَّهَا , فَأَتَى أُمَّهَا ، فَقَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ابْنَتَكِ , فَقَالَتْ : نِعِمَّ وَنُعْمَةُ عَيْنِي , فَقَالَ : إِنَّهُ لَيْسَ يَخْطُبُهَا لِنَفْسِهِ ، إِنَّمَا يَخْطُبُهَا لِجُلَيْبِيبٍ , فَقَالَتْ : أَجُلَيْبِيبٌ ابنه ؟ أَجُلَيْبِيبٌ ابنه ؟ أَجُلَيْبِيبٌ ابنه ؟ لَا لَعَمْرُ اللَّهِ ، لَا نُزَوَّجُهُ , فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَقُومَ لِيَأْتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فيُخْبِرَهُ بِمَا قَالَتْ أُمُّهَا ، قَالَتْ الْجَارِيَةُ : مَنْ خَطَبَنِي إِلَيْكُمْ ؟ فَأَخْبَرَتْهَا أُمُّهَا , فَقَالَتْ : أَتَرُدُّونَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرَهُ ، ادْفَعُونِي ، فَإِنَّهُ لَمْ يُضَيِّعْنِي , فَانْطَلَقَ أَبُوهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ ، فقَالَ : " شَأْنَكَ بِهَا " , فَزَوَّجَهَا جُلَيْبِيبًا . قَالَ : فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ لَهُ ، قَالَ : فَلَمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، قَالَ لِأَصْحَابِهِ : " هَلْ تَفْقِدُونَ مِنْ أَحَدٍ ؟ " قَالُوا : نَفْقِدُ فُلَانًا ، وَنَفْقِدُ فُلَانًا , قَالَ : " انْظُرُوا هَلْ تَفْقِدُونَ مِنْ أَحَدٍ ؟ " قَالُوا : لَا , قَالَ : " لَكِنِّي أَفْقِدُ جُلَيْبِيبًا " قَالَ : " فَاطْلُبُوهُ فِي الْقَتْلَى " , قَالَ : فَطَلَبُوهُ ، فَوَجَدُوهُ إِلَى جَنْبِ سَبْعَةٍ قَدْ قَتَلَهُمْ ، ثُمَّ قَتَلُوهُ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَا هُوَ ذَا إِلَى جَنْبِ سَبْعَةٍ قَدْ قَتَلَهُمْ ، ثُمَّ قَتَلُوهُ ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " قَتَلَ سَبْعَةً وَقَتَلُوهُ ، هَذَا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ ، هَذَا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ " مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ، ثُمَّ وَضَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سَاعِدَيْهِ ، وَحُفِرَ لَهُ ، مَا لَهُ سَرِيرٌ إِلَّا سَاعِدَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ وَضَعَهُ فِي قَبْرِهِ , وَلَمْ يُذْكَرْ أَنَّهُ غَسَّلَهُ . قَالَ ثَابِتٌ : فَمَا كَانَ فِي الْأَنْصَارِ أَيِّمٌ أَنْفَقَ مِنْهَا , وَحَدَّثَ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ , ثَابِتًا ، قَالَ : هَلْ تَعْلَمْ مَا دَعَا لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : " اللَّهُمَّ صُبَّ عَلَيْهَا الْخَيْرَ صَبًّا ، وَلَا تَجْعَلْ عَيْشَهَا كَدًّا كَدًّا " , قَالَ : فَمَا كَانَ فِي الْأَنْصَارِ أَيِّمٌ أَنْفَقَ مِنْهَا , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : مَا حَدَّثَ بِهِ فِي الدُّنْيَا أَحَدٌ إِلَّا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، مَا أَحْسَنَهُ مِنْ حَدِيثٍ !.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جلیبیب عورتوں کے پاس سے گذرتا اور انہیں تفریح مہیا کرتا تھا، میں نے اپنی بیوی سے کہہ دیا تھا کہ تمہارے پاس جلیبیب کو نہیں آنا چاہیے، اگر وہ آیا تو میں ایسا ایسا کردوں گا، انصار کی عادت تھی کہ وہ کسی بیوہ عورت کی شادی اس وقت تک نہیں کرتے تھے جب تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے مطلع نہ کردیتے، کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تو اس سے کوئی ضرورت نہیں ہے، چناچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری آدمی سے کہا کہ اپنی بیٹی کا نکاح مجھ سے کردو، اس نے کہا زہے نصیب یا رسول اللہ ! بہت بہتر، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اپنی ذات کے لئے اس کا مطالبہ نہیں کر رہا، اس نے پوچھا یارسول اللہ ! پھر کس کے لئے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جلیبیب کے لئے، اس نے کہا یارسول اللہ ! میں لڑکی کی ماں سے مشورہ کرلوں، چناچہ وہ اس کی ماں کے پاس پہنچا اور کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لئے پیغام نہیں دے رہے بلکہ جلیبیب کے لئے پیغام دے رہے ہیں، اس نے فوراً انکار کرتے ہوئے کہہ دیا بخدا ! کسی صورت میں نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جلیبیب کے علاوہ اور کوئی نہیں ملا، ہم نے تو فلاں فلاں رشتے سے انکار کردیا تھا، ادھر وہ لڑکی اپنے پردے میں سے سن رہی تھی۔ باہم صلاح و مشورے کے بعد جب وہ آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے مطلع کرنے کے لئے روانہ ہونے لگا تو وہ لڑکی کہنے لگی کہ کیا آپ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو رد کریں گے، اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا مندی اس میں شامل ہے تو آپ نکاح کردیں، یہ کہہ کر اس نے اپنے والدین کی آنکھیں کھول دیں اور وہ کہنے لگے کہ تم سچ کہہ رہی ہو، چناچہ اس کا باپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اگر آپ اس رشتے سے راضی ہیں تو ہم بھی راضی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں راضی ہوں، چناچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جلیبیب سے اس لڑکی کا نکاح کردیا، کچھ ہی عرصے بعد اہل مدینہ پر حملہ ہوا، جلیبیب بھی سوار ہو کر نکلے۔ جب جنگ سے فراغت ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا کہ تم کسی کو غائب پا رہے ہو، لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ! فلاں فلاں لوگ ہمیں نہیں مل رہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن مجھے جلیبیب غائب نظر آ رہا ہے، اسے تلاش کرو، لوگوں نے انہیں تلاش کیا تو وہ سات آدمیوں کے پاس مل گئے، حضرت جلیبیب رضی اللہ عنہ نے ان ساتوں کو قتل کیا تھا بعد میں خود بھی شہید ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ان کے پاس کھڑے ہو کر فرمایا اس نے سات آدمیوں کو قتل کیا ہے، بعد میں مشرکین نے اسے شہید کردیا، یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، یہ جملے دو تین مرتبہ دہرائے، پھر جب اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اٹھایا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے بازوؤں پر اٹھا لیا اور تدفین تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں بازو ہی تھے جو ان کے لئے جنازے کی چارپائی تھی، راوی نے غسل کا ذکر نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 19785
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ , قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْوَازِعِ جَابِرًا الرَّاسِبِيَّ ذَكَرَ , أَنَّ أَبَا بَرْزَةَ حَدَّثَهُ ، قَال : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي لَا أَدْرِي ، لَعَسَى أَنْ تَمْضِيَ وَأَبْقَى بَعْدَكَ ، فَحَدِّثْنِي بِشَيْءٍ يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " افْعَلْ كَذَا ، افْعَلْ كَذَا " أَنَا نَسِيتُ ذَلِكَ , " وَأَمِرَّ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے معلوم نہیں کہ آپ کے جانے کے بعد میں زندہ رہ سکوں گا، مجھے کوئی ایسی چیزسکھادیجئے جس سے مجھے فائدہ ہو ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی باتیں فرمائیں جنہیں میں بھول گیا اور فرمایا مسلمانوں کے راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دیا کرو۔
حدیث نمبر: 19786
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا عُيَيْنَةُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، قَالَ : خَرَجْتُ يَوْمًا أَمْشِي ، فَإِذَا بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَجِّهًا ، فَظَنَنْتُهُ يُرِيدُ حَاجَةً ، فَجَعَلْتُ أَخْنَسُ عَنْهُ وَأُعَارِضُهُ ، فَرَآنِي فَأَشَارَ إِلَيَّ فَأَتَيْتُهُ ، فَأَخَذَ بِيَدِي ، فَانْطَلَقْنَا نَمْشِي جَمِيعًا ، فَإِذَا نَحْنُ بِرَجُلٍ يُصَلِّي يُكْثِرُ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتُرَاهُ مُرَائِيًا " فَقُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , فَأَرْسَلَ يَدِي ، ثُمَّ طَبَّقَ بَيْنَ كَفَّيْهِ فَجَمَعَهُمَا ، وَجَعَلَ يَرْفَعُهُمَا بِحِيَالِ مَنْكِبَيْهِ وَيَضَعُهُمَا ، وَيَقُولُ : " عَلَيْكُمْ هَدْيًا قَاصِدًا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , فَإِنَّهُ مَنْ يُشَادَّ الدِّينَ يَغْلِبْهُ " , وقَالَ يَزِيدُ بِبَغْدَادَ : بُرَيْدَةُ الْأَسْلَمِيُّ ، وَقَدْ كَانَ قَالَ : عَنْ أَبِي بَرْزَةَ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بُرَيْدَةَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ , قَالَا : بُرَيْدَةُ الْأَسْلَمِيُّ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن میں ٹہلتا ہوا نکلا تو دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جانب چہرے کا رخ کیا ہوا ہے، میں سمجھا کہ شاید آپ قضاء حاجت کے لئے جارہے ہیں، اس لئے میں ایک طرف کو ہو کر نکلنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ لیا اور میری طرف اشارہ کیا، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور ہم دونوں ایک طرف چلنے لگے، اچانک ہم ایک آدمی کے قریب پہنچے جو نماز پڑھ رہا تھا اور کثرت سے رکوع و سجود کررہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اسے ریاکار سمجھتے ہو ؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ چھوڑ کر دونوں ہتھیلیوں کو اکٹھا کیا اور کندھوں کے برابر اٹھانے اور نیچے کرنے لگے اور تین مرتبہ فرمایا اپنے اوپر درمیانہ راستہ لازم کرلو، کیونکہ جو شخص دین کے معاملے میں سختی کرتا ہے، وہ مغلوب ہو جاتا ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19787
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ ، عَنْ أَبِي الْحَكَمِ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ مِمَّا أَخْشَى عَلَيْكُمْ شَهَوَاتِ الْغَيِّ فِي بُطُونِكُمْ وَفُرُوجِكُمْ ، وَمُضِلَّاتِ الْهَوَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے تمہارے متعلق ان گمراہ کن خواہشات سے سب سے زیادہ اندیشہ ہے جن کا تعلق پیٹ اور شرمگاہ سے ہوتا ہے اور گمراہ کن فتنوں سے بھی اندیشہ ہے۔
حدیث نمبر: 19788
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو هِلَالٍ الرَّاسِبِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمٍ , عَنْ أَبِي الْوَازِعِ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَلِّمْنِي شَيْئًا يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِ , فَقَالَ : " انْظُرْ مَا يُؤْذِي النَّاسَ ، فَاعْزِلْهُ عَنْ طَرِيقِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیجئے جس سے مجھے فائدہ ہو ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمانوں کے راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دیا کرو۔
حدیث نمبر: 19789
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ التَّيْمِيِّ ، وَيَزِيدُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ , قَالَ يَزِيدُ : الْأَسْلَمِيِّ , قَالَ : كَانَتْ رَاحِلَةٌ , أَوْ نَاقَةٌ , أَوْ بَعِيرٌ , عَلَيْهَا مَتَاعٌ لِقَوْمٍ ، فَأَخَذُوا بَيْنَ جَبَلَيْنِ ، وَعَلَيْهَا جَارِيَةٌ ، فَتَضَايَقَ بِهِمْ الطَّرِيقُ ، فَأَبْصَرَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَعَلَتْ تَقُولُ : حَلْ حَلْ ، اللَّهُمَّ الْعَنْهَا أَوْ الْعَنْهُ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَصْحَبْنِي نَاقَةٌ أَوْ رَاحِلَةٌ أَوْ بَعِيرٌ , عَلَيْهَا أَوْ عَلَيْهِ لَعْنَةٌ مِنَ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک اونٹنی تھی جس پر کسی آدمی کا سامان لدا ہوا تھا، وہ ایک باندی کی تھی، لوگ دو پہاڑوں کے درمیان چلنے لگے تو راستہ تنگ ہوگیا، اس نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو اپنی سواری کو تیز کرنے کے لئے اسے ڈانٹا اور کہنے لگی اللہ ! اس پر لعنت فرما، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمارے ساتھ کوئی ایسی سواری نہیں ہونی چاہیے جس پر اللہ کی لعنت ہو۔
حدیث نمبر: 19790
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قال : حَدَّثَنِي الْأَزْرَقُ بْنُ قَيْسٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ شَيْخًا بِالْأَهْوَازِ يُصَلِّي الْعَصْرَ ، وَلِجَامُ دَابَّتِهِ فِي يَدِهِ ، فَجَعَلَتْ تَتَأَخَّرُ ، وَجَعَلَ يَنْكِصُ مَعَهَا ، وَرَجُلٌ قَاعِدٌ مِنْ الْخَوَارِجِ يَسُبُّهُ ، فَلَمَّا صَلَّى ، قَالَ : " إِنِّي قَدْ سَمِعْتُ مَقَالَتَكُمْ ، غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّ غَزَوَاتٍ أَوْ سَبْعَ غَزَوَاتٍ فَشَهِدْتُ أَمْرَهُ وَتَيْسِيرَهُ ، فَكُنْتُ أَرْجِعُ مَعِي دَابَّتِي ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَدَعَهَا فَتَأْتِيَ مَأْلَفَهَا ، فَيَشُقَّ عَلَي َّقَالَ , قُلْتُ : كَمْ صَلَّى ؟ قَالَ : رَكْعَتَيْنِ , قَالَ : وَإِذَا هُوَ أَبُو بَرْزَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
ازرق بن قیس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے ایک بزرگ کو دیکھا جو اہواز شہر میں ایک نہر کے کنارے پر تھے، انہوں نے اپنی سواری کی لگام اپنے ہاتھ میں رکھی ہوئی تھی، اسی دوران وہ نماز پڑھنے لگے، اچانک ان کا جانور ایڑیوں کے بل پیچھے جانے لگا، وہ بھی اس کے ساتھ ساتھ پیچھے ہٹتے رہے، یہ دیکھ کر خوارج میں سے ایک آدمی کہنے لگا اے اللہ ! ان بڑے میاں کو رسوا کر، یہ کیسے نماز پڑھ رہے ہیں، نماز سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے فرمایا میں نے تمہاری بات سنی ہے، میں چھ، سات یا آٹھ غزوات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوا ہوں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملات اور آسانیوں کو دیکھا ہے، میرا اپنے جانور کو ساتھ لے کر واپس جانا اس سے زیادہ آسان اور بہتر ہے کہ میں اسے چھوڑ دوں اور یہ بھاگتا ہوا اپنے ٹھکانے پر چلا جائے اور مجھے پریشانی ہو اور حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ نے (مسافر ہونے کی وجہ سے) نماز عصر کی دو رکعتیں پڑھیں، دیکھا تو وہ حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ تھے۔
حدیث نمبر: 19791
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ صَمْعَةَ ، عَنْ أَبِي الْوَازِعِ الرَّاسِبِيِّ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ أَوْ أَنْتَفِعُ بِهِ قَالَ : " اعْزِلْ الْأَذَى عَنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیجئے جو مجھے جنت میں داخل کرا دے یا جس سے مجھے فائدہ ہو ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمانوں کے راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دیا کرو۔
حدیث نمبر: 19792
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْمِنْهَالِ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّوْمِ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثِ بَعْدَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء سے پہلے سونا اور اس کے بعد باتیں کرنا پسند نہیں فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 19793
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يَقْرَأُ بِمَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى المِئَةِ " ، يَعْنِي فِي الصُّبْحِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں ساٹھ سے لے کر سو آیات تلاوت فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 19794
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي شَدَّادُ بْنُ سَعِيدٍ ، قال : حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَمْرٍو الرَّاسِبِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيَّ ، يَقُولُ : قَتَلْتُ عَبْدَ الْعُزَّى بْنَ خَطَلٍ وَهُوَ مُتَعَلِّقٌ بِسِتْرِ الْكَعْبَةِ . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس وقت عبدالعزی بن خطل غلاف کعبہ کے ساتھ چمٹا ہوا تھا تو (نبی (علیہ السلام) کے حکم سے) میں نے ہی اسے قتل کیا تھا اور میں نے ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ پوچھا تھا یا رسول اللہ ! مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئے جو میں کرتا رہوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا راستہ سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دیا کرو، کہ یہی تمہارے لئے صدقہ ہے۔
حدیث نمبر: 19795
وَقُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , مُرْنِي بِعَمَلٍ أَعْمَلُهُ , فَقَالَ : " أَمِطْ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ ، فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ " .
حدیث نمبر: 19796
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، قَالَ : قَالَ لِي أَبِي : انْطَلِقْ إِلَى أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَيْهِ فِي دَارِهِ وَهُوَ قَاعِدٌ فِي ظِلِّ عُلْوٍ مِنْ قَصَبٍ ، فَجَلَسْنَا إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ ، فَسَأَلَهُ أَبِي : حَدِّثْنِي كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ ؟ قَالَ : " كَانَ يُصَلِّي الْهَجِيرَ الَّتِي تَدْعُونَهَا الْأُولَى حِينَ تَدْحَضُ الشَّمْسُ ، وَكَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ ، ثُمَّ يَرْجِعُ أَحَدُنَا إِلَى رَحْلِهِ فِي أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ , قَالَ : وَنَسِيتُ مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ , قَالَ : وَكَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ يُؤَخِّرَ الْعِشَاءَ الَّتِي تَدْعُونَهَا الْعَتَمَةَ ، قَالَ : وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا قَالَ : وَكَانَ يَنْفَتِلُ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ حِينَ يَعْرِفُ أَحَدُنَا جَلِيسَهُ , وَكَانَ يَقْرَأُ بِالسِّتِّينَ إِلَى المِئَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابومنہال کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ساتھ حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، میرے والد نے ان سے عرض کیا کہ یہ بتائیے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز کس طرح پڑھتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نماز ظہر جسے تم " اولی " کہتے ہو، اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا تھا، عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے کہ جب ہم میں سے کوئی شخص مدینہ میں اپنے گھر واپس پہنچتا تو سورج نظر آ رہا ہوتا تھا، مغرب کے متعلق انہوں نے جو فرمایا وہ میں بھول گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کو مؤخر کرنے کو پسند فرماتے تھے، نیز اس سے پہلے سونا اور اس کے بعد باتیں کرنا پسند نہیں فرماتے تھے اور فجر کی نماز پڑھ کر اس وقت فارغ ہوتے جب ہم اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص کو پہچان سکتے تھے اور اس میں ساٹھ سے لے کر سو آیات تک تلاوت فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 19797
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ مُسَاوِرِ بْنِ عُبَيْدٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ أَبَا بَرْزَةَ ، فَقُلْتُ : " هَلْ رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ " ، رَجُلًا مِنَّا يُقَالُ لَهُ : مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ , قَالَ رَوْحٌ : مُسَاوِرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحِمَّانِيُّ.
مولانا ظفر اقبال
مساور بن عبید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو رجم کی سزا دی ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! ہم میں سے ایک آدمی کو یہ سزا ہوئی تھی جس کا نام ماعز بن مالک تھا۔
حدیث نمبر: 19798
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَازِعِ , رَجُلٌ مِنْ بَنِي رَاسِبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا بَرْزَةَ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولًا إِلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ فِي شَيْءٍ لَا يَدْرِي مَهْدِيٌّ مَا هُوَ , قَالَ : فَسَبُّوهُ وَضَرَبُوهُ ، فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " لَوْ أَنَّكَ أَهْلَ عُمَانَ أتَيْتَ ، مَا سَبُّوكَ وَلا ضَرَبُوكَ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو عرب کے کسی قبیلے میں بھیجا، ان لوگوں نے اسے مارا پیٹا اور برا بھلا کہا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں واپس حاضر ہوا اور اس کی شکایت کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم اہل عمان کے پاس گئے ہوتے تو وہ تمہیں مارتے پیٹتے اور نہ برا بھلا کہتے۔
حدیث نمبر: 19799
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ ، حَدَّثَنَا جَابِرٌ أَبُو الْوَازِعِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا بَرْزَةَ يُحَدِّثُ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولًا إِلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19800
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يُؤَخِّرُ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ ، وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا ، وَكَانَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ مَا بَيْنَ المِئَةِ إِلَى السِّتِّينَ ، وَكَانَ يَنْصَرِفُ حِينَ يَنْصَرِفُ وَبَعْضُنَا يَعْرِفُ وَجْهَ بَعْضٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کو تہائی رات تک مؤخر فرماتے تھے، نیز اس سے پہلے سونا اور اس کے بعد باتیں کرنا پسند نہیں فرماتے تھے اور فجر کی نماز پڑھ کر اس وقت فارغ ہوتے جب ہم اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص کو پہچان سکتے تھے اور اس میں ساٹھ سے لے کر سو آیات تک تلاوت فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 19801
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا قُطْبَةُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، قَالَ : نَادَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَسْمَعَ الْعَوَاتِقَ ، فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ مَنْ آمَنَ بِلِسَانِهِ وَلَمْ يَدْخُلْ الْإِيمَانُ قَلْبَهُ ، لَا تَغْتَابُوا الْمُسْلِمِينَ ، وَلَا تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِهِمْ ، فَإِنَّهُ مَنْ يَتَّبِعْ عَوْرَةَ أَخِيهِ ، يَتَّبِعْ اللَّهُ عَوْرَتَهُ ، حَتَّى يَفْضَحَهُ فِي بَيْتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا اے وہ لوگو ! جو زبان سے ایمان لے آئے ہو لیکن ان کے دل میں ایمان داخل نہیں ہوا، مسلمانوں کی غیبت مت کیا کرو اور ان کے عیوب تلاش نہ کیا کرو، کیونکہ جو شخص ان کے عیوب تلاش کرتا ہے، اللہ اس کے عیوب تلاش کرتا ہے اور اللہ جس کے عیوب تلاش کرنے لگ جاتا ہے، اسے گھر بیٹھے رسوا کردیتا ہے۔
حدیث نمبر: 19802
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شَدَّادٌ أَبُو طَلْحَةَ ، قال : حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَمْرٍو أَبُو الْوَازِعِ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مُرْنِي بِعَمَلٍ أَعْمَلُهُ , قَالَ : " أَمِطْ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ ، فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی پوچھا تھا یارسول اللہ ! مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئے جو میں کرتا رہوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا راستہ سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دیا کرو، کہ یہی تمہارے لئے صدقہ ہے۔
…