حدیث نمبر: 19725
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ يَعْنِي السَّالَحِينِيَّ ، قال : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَن أَبِي سِنَانٍ ، قَالَ : دَفَنْتُ ابْنًا لِي ، وَإِنِّي لَفِي الْقَبْرِ ، إِذْ أَخَذَ بِيَدَيَّ أَبُو طَلْحَةَ ، فَأَخْرَجَنِي ، فَقَالَ : أَلَا أُبَشِّرُكَ ؟ قال : قُلْتُ : بَلَى ، قال : حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : يَا مَلَكَ الْمَوْتِ ، قَبَضْتَ وَلَدَ عَبْدِي ، قَبَضْتَ قُرَّةَ عَيْنِهِ ، وَثَمَرَةَ فُؤَادِهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَمَا قَالَ ؟ قَالَ : حَمِدَكَ ، وَاسْتَرْجَعَ ، قَالَ : ابْنُوا لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ ، وَسَمُّوهُ بَيْتَ الْحَمْدِ " . .
مولانا ظفر اقبال
ابوسنان کہتے ہیں کہ میں اپنے بیٹے کو دفن کرنے کے بعد ابھی قبر میں ہی تھا کہ ابوطلحہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے باہر نکالا اور کہا کہ میں تمہیں خوشخبری نہ سناؤں ؟ میں نے کہا کیوں نہیں انہوں نے اپنی سند سے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث سنائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ فرشتے سے فرماتا ہے اے ملک الموت ! کیا تم نے میرے بندے کے بیٹے کی روح قبض کرلی ؟ کیا تم اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور جگر کے ٹکڑے کو لے آئے ؟ وہ کہتے ہیں جی ہاں ! اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے کہ پھر میرے بندے نے کیا کہا ؟ وہ عرض کرتے ہیں کہ اس نے آپ کی تعریف بیان کی اور اناللہ پڑھا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جنت میں اس شخص کے لئے گھر بنادو اور " بیت الحمد " اس کا نام رکھو۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19725
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، أبو سنان ضعيف، والضحاك لم يسمع من أبى موسى الأشعري
حدیث نمبر: 19726
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قال : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، فَذَكَرَهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : أَبُو طَلْحَةَ الْخَوْلَانِيُّ ، وَقَالَ : الضَّحَّاكُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَرْزَبٍ.
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19726
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، أبو سنان ضعيف، والضحاك لم يسمع من أبى موسى الأشعري
حدیث نمبر: 19727
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قال : حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ ، عَن مُطَرِّفٍ ، عَن عَامِرٍ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِي مُوسَى ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الَّذِي يُعْتِقُ جَارِيَةً ، ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا : " لَهُ أَجْرَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کے پاس کوئی باندی ہو اور وہ اسے آزاد کر کے اس سے نکاح کرلے تو اسے دہرا اجر ملے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19727
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 97، م: 154
حدیث نمبر: 19728
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قال : أَخْبَرَنَا حَرِيشُ بْنُ سُلَيْمٍ ، قال : حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ مُصَرِّفٍ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِي مُوسَى ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19728
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، حريش بن سليم مقبول لكنه توبع
حدیث نمبر: 19729
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قال : حَدَّثَنَا أَبِي ، قال : حَدَّثَنَا دَاوُدُ ابْنُ أَبِي هِنْدٍ ، قال : حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَن صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ، قال : قال أَبُو مُوسَى : إِنِّي بَرِيءٌ مِمَّنْ بَرِئَ اللَّهُ مِنْهُ وَرَسُولُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرِئَ مِمَّنْ حَلَقَ ، وَسَلَقَ ، وَخَرَقَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ ان پر بیہوشی طاری ہوئی تو لوگ رونے لگے جب انہیں افاقہ ہوا تو فرمایا میں اس شخص سے بری ہوں جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بری ہیں لوگ ان کی بیوی سے اس کی تفصیل پوچھنے لگے انہوں نے جواب دیا کہ وہ شخص جو واویلا کرے، بال نوچے اور گریبان چاک کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19729
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 104
حدیث نمبر: 19730
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قال : حَدَّثَنَا أَبِي ، قال : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَرْوَانَ ، عَن هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا ، وَيُمْسِي كَافِرًا ، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا ، وَيُصْبِحُ كَافِرًا ، الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ ، وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي ، وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي ، فَاكْسِرُوا قِسِيَّكُمْ ، وَقَطِّعُوا أَوْتَارَكُمْ ، وَاضْرِبُوا بِسُيُوفِكُمْ الْحِجَارَةَ ، فَإِنْ دُخِلَ عَلَى أَحَدِكُمْ بَيْتَهُ ، فَلْيَكُنْ كَخَيْرِ ابْنَيْ آدَمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے آگے تاریک رات کے حصوں کی طرح فتنے آرہے ہیں اس زمانے میں ایک آدمی صبح کو مسلمان اور شام کو کافر ہوگا یا شام کو مسلمان اور صبح کو کافر ہوگا، اس زمانے میں بیٹھا ہوا شخص کھڑے ہوئے سے، کھڑا ہوا چلنے والے سے اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا۔ تم اپنی کمانیں توڑ دینا تانتیں کاٹ دینا اپنے گھروں کے ساتھ چمٹ جانا اور اگر کوئی تمہارے گھر میں آئے تو حضرت آدم (علیہ السلام) کے بہترین بیٹے (ہابیل) کی طرح ہوجانا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19730
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 19731
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو قُدَامَةَ الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ الْإِيَادِيُّ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ يَعْنِي الْجَوْنِيَّ ، عَن أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ قَيْسٍ ، عَن أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " جِنَانُ الْفِرْدَوْسِ أَرْبَعٌ ثِنْتَانِ مِنْ ذَهَبٍ ، حِلْيَتُهُمَا وَآنِيَتُهُمَا ، وَمَا فِيهِمَا ، وَثِنْتَانِ مِنْ فِضَّةٍ ، آنِيَتُهُمَا وَحِلْيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا ، وَلَيْسَ بَيْنَ الْقَوْمِ وَبَيْنَ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَى رَبِّهِمْ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا رِدَاءُ الْكِبْرِيَاءِ عَلَى وَجْهِهِ فِي جَنَّةِ عَدْنٍ ، وَهَذِهِ الْأَنْهَارُ تَشْخَبُ مِنْ جَنَّةِ عَدْنٍ ، ثُمَّ تَصْدَعُ بَعْدَ ذَلِكَ أَنْهَارًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت الفردوس کے چار درجے ہیں ان میں سے دو جنتیں (باغ) چاندی کی ہوں گی ان کے برتن اور ہر چیز چاندی کی ہوگی دو جنتیں سونے کی ہوں گی اور ان کے برتن اور ہر چیز سونے کی ہوگی اور جنت عدن میں اپنے پروردگار کی زیارت میں لوگوں کے درمیان صرف کبریائی کی چادر ہی حائل ہوگی جو اس کے رخ تاباں پر ہے اور یہ نہریں جنت عدن سے پھوٹتی ہیں اور نہروں کی شکل میں جاری ہوجاتی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19731
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف بهذه السياقة لضعف أبى قدامة
حدیث نمبر: 19732
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو دَارِسٍ صَاحِبُ الْجَوْرِ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى ، عَن أَبِي مُوسَى ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19732
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد فيه أبو دارس، تكلم فيه
حدیث نمبر: 19733
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قال : حَدَّثَنَا بَدْرُ بْنُ عُثْمَانَ مَوْلًى لِآلِ عُثْمَانَ قال : حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُوسَى ، عَن أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : وَأَتَاهُ سَائِلٌ يَسْأَلُهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا ، فَأَمَرَ بِلَالًا ، فَأَقَامَ بِالْفَجْرِ حِينَ انْشَقَّ الْفَجْرُ ، وَالنَّاسُ لَا يَكَادُ يَعْرِفُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا ، ثُمَّ أَمَرَهُ ، فَأَقَامَ بِالظُّهْرِ حِينَ زَالَتْ الشَّمْسُ ، وَالْقَائِلُ يَقُولُ : انْتَصَفَ النَّهَارُ ، أَوْ : لَمْ يَنْتَصِفْ ، وَكَانَ أَعْلَمَ مِنْهُمْ ، ثُمَّ أَمَرَهُ ، فَأَقَامَ بِالْعَصْرِ ، وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ ، ثُمَّ أَمَرَهُ ، فَأَقَامَ بِالْمَغْرِبِ حِينَ وَقَعَتْ الشَّمْسُ ، ثُمَّ أَمَرَهُ ، فَأَقَامَ بِالْعِشَاءِ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ ، ثُمَّ أَخَّرَ الْفَجْرَ مِنَ الْغَدِ حَتَّى انْصَرَفَ مِنْهَا ، وَالْقَائِلُ يَقُولُ : طَلَعَتْ الشَّمْسُ ، أَوْ : كَادَتْ ، وَأَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى كَانَ قَرِيبًا مِنْ وَقْتِ الْعَصْرِ بِالْأَمْسِ ، ثُمَّ أَخَّرَ الْعَصْرَ حَتَّى انْصَرَفَ مِنْهَا ، وَالْقَائِلُ يَقُولُ : احْمَرَّتْ الشَّمْسُ ، ثُمَّ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى كَانَ عِنْدَ سُقُوطِ الشَّفَقِ ، وَأَخَّرَ الْعِشَاءَ حَتَّى كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ ، فَدَعَا السَّائِلَ ، فَقَالَ : " الْوَقْتُ فِيمَا بَيْنَ هَذَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اوقات نماز کے حوالے سے پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہیں دیا بلکہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے فجر کی اقامت اس وقت کہی جب طلوع فجر ہوگئی اور لوگ ایک دوسرے کو پہچان نہیں سکتے تھے پھر انہیں حکم دیا انہوں نے ظہر کی اقامت اس وقت کہی جب زوال شمس ہوگیا اور کوئی کہتا تھا کہ آدھا دن ہوگیا کوئی کہتا تھا نہیں ہوا لیکن وہ زیادہ جانتے تھے پھر انہیں حکم دیا انہوں نے عصر کی اقامت اس وقت کہی جب سورج روشن تھا پھر انہیں حکم دیا انہوں نے مغرب کی اقامت اس وقت کہی جب سورج غروب ہوگیا پھر انہیں حکم دیا انہوں نے عشاء کی اقامت اس وقت کہی جب شفق غروب ہوگئی پھر اگلے دن فجر کو اتنا مؤخر کیا کہ جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگ کہنے لگے کہ سورج طلوع ہونے ہی والا ہے ظہر کو اتنا مؤخر کیا کہ وہ گزشتہ دن کی عصر کے قریب ہوگئی عصر کو اتنا مؤخر کیا کہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد لوگ کہنے لگے کہ سورج سرخ ہوگیا ہے مغرب کو سقوط شفق تک مؤخر کردیا اور عشاء کو رات کی پہلی تہائی تک مؤخر کردیا پھر سائل کو بلا کر فرمایا کہ نماز کا وقت ان دو وقتوں کے درمیان ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19733
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 6014
حدیث نمبر: 19734
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قال : حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ ، عَن أَبِيهِ ، عَن مَكْحُولٍ ، قال : حَدَّثَنِي أَبُو عَائِشَةَ ، وَكَانَ جَلِيسًا لِأَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ دَعَا أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ ، وَحُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، فَقَالَ : كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ فِي الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى ؟ فَقَالَ أَبُو مُوسَى : كَانَ يُكَبِّرُ أَرْبَعًَا ، تَكْبِيرَهُ عَلَى الْجَنَائِزِ ، وَصَدَّقَهُ حُذَيْفَةُ ، فَقَالَ أَبُو عَائِشَةَ : فَمَا نَسِيتُ بَعْدُ قَوْلَهُ تَكْبِيرَهُ عَلَى الْجَنَائِزِ ، وَأَبُو عَائِشَةَ حَاضِرٌ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ.
مولانا ظفر اقبال
ابو عائشہ رحمہ اللہ " جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ہم نشین تھے " کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سعید بن عاص نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کو بلایا اور پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر اور عیدالاضحی میں کتنی تکبیرات کہتے تھے ؟ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا جس طرح جنازے پر چار تکبیرات کہتے تھے عیدین میں بھی چار تکبیرات کہتے تھے، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ان کی تصدیق کی ابوعائشہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں اب تک ان کی ہی بات نہیں بھولا کہ " نماز جنازہ کی تکبیرات کی طرح " یاد رہے کہ ابو عائشہ رحمہ اللہ اس وقت سعید بن عاص کے پاس موجود تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19734
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن موقوفاً، وهذا إسناد ضعيف الجهالة حال أبى عائشة، وقد أنكر على ابن ثوبان أحاديث يرويها عن أبيه، عن مكحول
حدیث نمبر: 19735
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُعْطِيتُ خَمْسًا : بُعِثْتُ إِلَى الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ ، وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا ، وَأُحِلَّتْ لِي الْغَنَائِمُ ، وَلَمْ تُحَلَّ لِمَنْ كَانَ قَبْلِي ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ شَهْرًا ، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ ، وَلَيْسَ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ سَأَلَ شَفَاعَةً ، وَإِنِّي اخْتَبَأَتْ شَفَاعَتِي ، ثُمَّ جَعَلْتُهَا لِمَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي ، لَمْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے پانچ ایسی خصوصیات عطاء فرمائی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں مجھے ہر سرخ و سیاہ کی طرف مبعوث کیا گیا ہے، میرے لئے ساری زمین کو باعث طہارت قرار دے دیا گیا اور مسجد بنادیا گیا ہے میرے لئے مال غنیمت کو حلال کردیا گیا ہے جو کہ مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں تھا، ایک مہینے کی مسافت رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے مجھے شفاعت کا حق دیا گیا ہے کوئی نبی ایسا نہیں ہے جس نے خود سے شفاعت کا سوال نہ کیا ہو میں نے اپنا حق شفاعت محفوظ کر رکھا ہے اور ہر اس امتی کے لئے رکھ چھوڑا ہے جو اس حال میں مرے کہ اللہ ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19735
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد اختلف فيه على إسرائيل فى وصله وإرساله
حدیث نمبر: 19736
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ يَعْنِي الزُّبَيْرِيَّ ، قال : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ، وَلَمْ يُسْنِدْهُ.
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19736
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد اختلف فيه على إسرائيل فى وصله وإرساله
حدیث نمبر: 19737
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قال : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ يَسْتَاكُ ، وَهُوَ وَاضِعٌ طَرَفَ السِّوَاكِ عَلَى لِسَانِهِ ، يَسْتَنُّ إِلَى فَوْقَ ، فَوَصَفَ حَمَّادٌ كَأَنَّهُ يَرْفَعُ سِوَاكَهُ ، قَالَ حَمَّادٌ وَوَصَفَهُ لَنَا غَيْلَانُ ، قَالَ : كَانَ يَسْتَنُّ طُولًا.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ اس وقت مسواک کر رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسواک کا کنارہ زبان پر رکھا ہوا تھا اور زبان کے کنارے پر مسواک کر رہے تھے راوی کہتے ہیں کہ وہ طولاً مسواک کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19737
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 244
حدیث نمبر: 19738
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، قال : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الدَّعَوَاتِ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطَايَايَ ، وَجَهْلِي ، وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِي ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي جَدِّي وَهَزْلِي ، وَخَطَئِي وَعَمْدِي ، وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعائیں مانگا کرتے تھے اے اللہ ! میرے گناہوں اور نادانیوں کو معاف فرما، حد سے زیادہ آگے بڑھنے کو اور ان کو بھی جو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے اے اللہ ! سنجیدگی، مذاق، غلطی اور جان بوجھ کر ہونے والے میرے سارے گناہوں کو معاف فرما، یہ سب میری ہی طرف سے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19738
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 6398، م: 2719، شريك سيئ الحفظ لكنه متابع
حدیث نمبر: 19739
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي الْبَكَّائِيَّ ، قال : حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَن شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُنَكِّسٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الْقِتَالُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى ؟ فَإِنَّ أَحَدَنَا يُقَاتِلُ حَمِيَّةً ، وَيُقَاتِلُ غَضَبًا ، فَلَهُ أَجْرٌ ؟ قَالَ : فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ ، وَلَوْلَا أَنَّهُ كَانَ قَائِمًا ، مَا رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا ، فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ بتائیے کہ آدمی اپنے آپ کو بہادر ثابت کرنے کے لئے لڑتا ہے ایک آدمی قومی غیرت کے جذبے سے قتال کرتا ہے اور ایک آدمی ریاکاری کے لئے قتال کرتا ہے ان میں سے اللہ کے راستے میں قتال کرنے والا کون ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر جھکا رکھا تھا اس کا سوال سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اگر وہ کھڑا ہوا نہ ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سر اٹھا کر اسے نہ دیکھتے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اس لئے قتال کرتا ہے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہوجائے وہی اللہ کے راستہ میں قتال کرنے والا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19739
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 123، م: 1904
حدیث نمبر: 19740
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قال : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، قال : حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ ، عَن أَبِي وَائِلٍ ، قال : قال أَبُو مُوسَى : سَأَلَ رَجُلٌ ، أَوْ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ مُنَكِّسٌ رَأْسَهُ ، فَقَالَ : مَا الْقِتَالُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ؟ فَإِنَّ أَحَدَنَا يُقَاتِلُ حَمِيَّةً وَغَضَبًا ، فَلَهُ أَجْرٌ ؟ قَالَ : فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ ، وَلَوْلَا أَنَّهُ كَانَ قَائِمًا ، أَوْ كَانَ قَاعِدًا الشَّكُّ مِنْ زُهَيْرٍ مَا رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : " مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا ، فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ بتائیے کہ آدمی اپنے آپ کو بہادر ثابت کرنے کے لئے لڑتا ہے ایک آدمی قومی غیرت کے جذبے سے قتال کرتا ہے اور ایک آدمی ریاکاری کے لئے قتال کرتا ہے ان میں سے اللہ کے راستے میں قتال کرنے والا کون ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سرجھکا رکھا تھا اس کا سوال سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اگر وہ کھڑا ہوا نہ ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سر اٹھا کر اسے نہ دیکھتے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اس لئے قتال کرتا ہے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہوجائے وہی اللہ کے راستہ میں قتال کرنے والا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19740
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 123، م: 1904
حدیث نمبر: 19741
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قال : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُقَدَّمٍ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْسٍ ، عَن سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِيهِ ، عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : أَتَانِي نَاسٌ مِنَ الْأَشْعَرِيِّينَ ، فَقَالُوا : اذْهَبْ مَعَنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِنَّ لَنَا حَاجَةً ، قَالَ : فَقُمْتُ مَعَهُمْ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اسْتَعِنْ بِنَا فِي عَمَلِكَ ، فَاعْتَذَرْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا قَالُوا ، وَقُلْتُ : لَمْ أَدْرِ مَا حَاجَتُهُمْ ، فَصَدَّقَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعَذَرَنِي ، وَقَالَ : " إِنَّا لَا نَسْتَعِينُ فِي عَمَلِنَا مَنْ سَأَلَنَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میرے پاس کچھ اشعری لوگ آئے اور کہنے لگے کہ ہمارے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلو، ہمیں ان سے کوئی کام ہے میں ان کے ساتھ چلا گیا، وہاں انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی عہدہ مانگا میں نے ان کی بات پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معذرت کی اور عرض کیا کہ مجھے ان کی اس ضرورت کے بارے کچھ پتہ نہیں تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری تصدیق فرمائی اور میرا عذر قبول کرلیا اور فرمایا ہم کسی ایسے شخص کو کوئی عہدہ نہیں دیتے جو ہم سے اس کا مطالبہ کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19741
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2261، م: 1733
حدیث نمبر: 19742
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قال : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَن سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِيهِ ، عَن جَدِّهِ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا مُوسَى ، وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ، إِلَى الْيَمَنِ ، فَقَالَ لَهُمَا : " يَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا ، وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا ، وَتَطَاوَعَا " ، قَالَ أَبُو مُوسَى : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا بِأَرْضٍ يُصْنَعُ فِيهَا شَرَابٌ مِنَ الْعَسَلِ ، يُقَالُ لَهُ : الْبِتْعُ ، وَشَرَابٌ مِنَ الشَّعِيرِ ، يُقَالُ لَهُ : الْمِزْرُ ؟ قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اور حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجتے ہوئے فرمایا خوشخبری دینا، نفرت مت پھیلانا، آسانی پیدا کرنا، مشکلات میں نہ ڈالنا، ایک دوسرے کی بات ماننا اور آپس میں اختلاف نہ کرنا، حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن کی طرف بھیجا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم وہاں کچھ مشروبات رائج ہیں، مثلاً جو کی نبیذ ہے جسے مزر کہا جاتا ہے اور شہد کی نبیذ ہے جسے " تبع " کہا جاتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19742
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6124، م: 1733
حدیث نمبر: 19743
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قال : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَن زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، قال : حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ قَوْمِي ، قال شُعْبَةُ : قَدْ كُنْتُ أَحْفَظُ اسْمَهُ ، قَالَ : كُنَّا عَلَى بَابِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، نَنْتَظِرُ الْإِذْنَ عَلَيْهِ ، فَسَمِعْتُ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَنَاءُ أُمَّتِي بِالطَّعْنِ وَالطَّاعُونِ " ، قَالَ : فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا الطَّعْنُ قَدْ عَرَفْنَاهُ ، فَمَا الطَّاعُونُ ؟ قَالَ : " طَعْنُ أَعْدَائِكُمْ مِنَ الْجِنِّ ، فِي كُلٍّ شَهَادَةٌ " ، قَالَ زِيَادٌ : فَلَمْ أَرْضَ بِقَوْلِهِ ، فَسَأَلْتُ سَيِّدَ الْحَيِّ ، وَكَانَ مَعَهُمْ ، فَقَالَ : صَدَقَ ، حَدَّثَنَاهُ أَبُو مُوسَى . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت " طعن اور طاعون " سے فناء ہوگی کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم طعن کا معنی تو ہم نے سمجھ لیا (کہ نیزوں سے مارنا) طاعون سے کیا مراد ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے دشمن جنات کے کچوکے اور دونوں صورتوں میں شہادت ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19743
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: وهذا إسناد اختلف فيه على زياد ابن علاقة
حدیث نمبر: 19744
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ ، قال : حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ ، عَن أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ ، قَالَ : خَرَجْنَا فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ ، فَإِذَا نَحْنُ بِأَبِي مُوسَى ، فَإِذَا هُوَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْ فَنَاءَ أُمَّتِي فِي الطَّاعُونِ " ، فَذَكَرَهُ.
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19744
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: وهذا إسناد اختلف فيه على زياد بن علاقة
حدیث نمبر: 19745
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قال : حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَن أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، قَالَ : فََهَبَطْنَا فِي وَهْدَةً مِنَ الْأَرْضِ ، قَالَ : فَرَفَعَ النَّاسُ أَصْوَاتَهُمْ بِالتَّكْبِيرِ ، فَقَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ ، فَإِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ ، وَلَا غَائِبًا ، إِنَّكُمْ تَدْعُونَ سَمِيعًا قَرِيبًا " ، قَالَ : ثُمَّ دَعَانِي ، وَكُنْتُ مِنْهُ قَرِيبًا ، فَقَالَ : " يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : بَلَى ، قَالَ : " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی جہاد کے سفر میں تھے جس ٹیلے یا بلند جگہ پر چڑھتے یا کسی نشیب میں اترتے تو بلند آواز سے تکبیر کہتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے قریب آکر فرمایا لوگو ! اپنے ساتھ نرمی کرو، تم کسی بہرے یا غائب اللہ کو نہیں پکار رہے، تم سمیع وبصیر کو پکار رہے ہو جو تمہاری سواری کی گردن سے بھی زیادہ تمہارے قریب ہے، اے عبداللہ بن قیس کیا میں تمہیں جنت کے ایک خزانے کے متعلق نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں فرمایا " لاحول ولاقوۃ الاباللہ " (جنت کا ایک خزانہ ہے )
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19745
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2992، م: 2704
حدیث نمبر: 19746
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ الْحَدَّادُ ، قال : حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِي مُوسَى ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19746
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد محفوظ
حدیث نمبر: 19747
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، وَرَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ ، عَن غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ ، عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَوْحٌ : قَالَ : سَمِعْتُ غُنَيْمًا ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَيُّمَا امْرَأَةٍ اسْتَعْطَرَتْ ، ثُمَّ مَرَّتْ عَلَى الْقَوْمِ ، لِيَجِدُوا رِيحَهَا ، فَهِيَ زَانِيَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی عورت عطر لگا کر کچھ لوگوں کے پاس سے گذرتی ہے تاکہ وہ اس کی خوشبو سونگھیں تو وہ ایسی ایسی ہے (بدکا رہے)
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19747
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده جيد
حدیث نمبر: 19748
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، وَرَوْحٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ ، عَن غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَوْحٌ : سَمِعْتُ غُنَيْمًا ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ عَيْنٍ زَانِيَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر آنکھ بدکاری کرتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19748
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده جيد
حدیث نمبر: 19749
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قال : أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي التَّيْمِيَّ ، عَن أَبِي السَّلِيلِ ، عَن زَهْدَمٍ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ : أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ ، فَقَالَ : " لَا وَاللَّهِ ، لَا أَحْمِلُكُمْ " ، فَلَمَّا رَجَعْنَا ، أَرْسَلَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثِ ذَوْدٍ بُقْعِ الذُّرَى ، قَالَ : فَقُلْتُ : حَلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا ، ثُمَّ حَمَلَنَا ، فَأَتَيْنَاهُ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ حَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنَا ، فَحَمَلْتَنَا ! فَقَالَ : " لَمْ أَحْمِلْكُمْ ، وَلَكِنَّ اللَّهَ حَمَلَكُمْ ، وَاللَّهِ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ ، فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا ، إِلَّا أَتَيْتُهُ " . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ : قَالَ أَبِي : أَبُو السَّلِيلِ : ضُرَيْبُ بْنُ نُقَيْرٍ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کے لئے جانوروں کی درخواست کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بخدا ! میں تمہیں سوار نہیں کرسکوں گا کیونکہ میرے پاس تمہیں سوار کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے ؟ ہم کچھ دیر " جب تک اللہ کو منظور ہوا " رکے رہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لئے روشن پیشانی کے تین اونٹوں کا حکم دے دیا جب ہم واپس جانے لگے تو ہم میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواری کے جانور کی درخواست لے کر آئے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی تھی کہ وہ ہمیں سواری کا جانور نہیں دیں گے واپس چلو تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی قسم یاد دلا دیں۔ چناچہ ہم دوبارہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ کے پاس سواری کے جانور کی درخواست لے کر آئے تھے اور آپ نے قسم کھائی تھی کہ ہمیں سواری کا جانور نہیں دیں گے، پھر آپ نے ہمیں جانور دے دیا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں سوار نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے بخدا ! اگر اللہ کو منظور ہوا تو میں جب بھی کوئی قسم کھاؤں گا اور کسی دوسری چیز میں خیر دیکھوں گا تو اسی کو اختیار کر کے اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19749
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3133، م: 1649
حدیث نمبر: 19750
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونٍَ ، قال : أَخْبَرَنَا دَاوُدُ ، عَن أَبِي نَضْرَةَ ، عَن أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : اسْتَأْذَنَ أَبُو مُوسَى عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ثَلَاثًا ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ ، فَرَجَعَ ، فَلَقِيَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : مَا شَأْنُكَ رَجَعْتَ ؟ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ اسْتَأْذَنَ ثَلَاثًا ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ ، فَلْيَرْجِعْ " ، فَقَالَ : لَتَأْتِيَنَّ عَلَى هَذِهِ بِبَيِّنَةٍ ، أَوْ : لَأَفْعَلَنَّ وَلَأَفْعَلَنَّ ، فَأَتَى مَجْلِسَ قَوْمِهِ ، فَنَاشَدَهُمْ اللَّهَ تَعَالَى ، فَقُلْتُ : أَنَا مَعَكَ ، فَشَهِدُوا لَهُ ، فَخَلَّى سَبِيلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو تین مرتبہ سلام کیا، انہیں اجازت نہیں ملی تو وہ واپس چلے گئے بعد میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ان سے ملاقات ہوئی تو پوچھا کہ تم واپس کیوں چلے گئے انہوں نے فرمایا کہ میں نے تین مرتبہ اجازت لی تھی، جب مجھے اجازت نہیں ملی تو میں واپس چلا گیا ہمیں اسی کا حکم دیا جاتا تھا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس پر گواہ پیش کرو ورنہ میں تمہیں سزا دوں گا حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ انصار کی ایک مجلس میں پہنچے وہ لوگ کہنے لگے کہ اس بات کی شہادت تو ہم میں سب سے چھوٹا بھی دے سکتا ہے چناچہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ چلے گئے اور اس کی شہادت دے دی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کا راستہ چھوڑ دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19750
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2062، م: 2153
حدیث نمبر: 19751
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قال : أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَن قَتَادَةَ ، عَن الْحَسَنِ ، عَن أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا الْمُسْلِمَانِ تَوَاجَهَا بِسَيْفَيْهِمَا ، فَقَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ ، فَهُمَا فِي النَّارِ " ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا الْقَاتِلُ ، فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ ؟ قَالَ : " إِنَّهُ أَرَادَ قَتْلَ صَاحِبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب دو مسلمان تلواریں لے کر ایک دوسرے کے سامنے آجائیں اور ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کر دے تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ قاتل کی بات تو سمجھ میں آجاتی ہے مقتول کا کیا معاملہ ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنا چاہتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19751
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع، الحسن البصري لم يسمع من أبى موسى، وسماع يزيد من سعيد بن أبى عروبة بعد الاختلاط، لكنه توبع
حدیث نمبر: 19752
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قال : أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَن سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِيهِ ، عَن جَدِّهِ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أُمَّتِي أُمَّةٌ مَرْحُومَةٌ ، لَيْسَ عَلَيْهَا فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ ، إِنَّمَا عَذَابُهَا فِي الدُّنْيَا : الْقَتْلُ ، وَالْبَلاَبِلُ ، وَالزَّلَازِلُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت، امت مرحومہ ہے، آخرت میں اس پر کوئی عذاب نہیں ہوگا اس کا عذاب دنیا ہی میں قتل و غارت، پریشانیاں اور زلزلے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19752
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: ضعيف، يزيد بن هارون روي عن المسعودي بعد الاختلاط، وقد اختلف فيه على أبى بردة
حدیث نمبر: 19753
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونٍَ ، قال : أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ . وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، المعنى ، قال : حَدَّثَنَا الْعَوَّامُ ، قال : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ أَبُو إِسْمَاعِيلَ السَّكْسَكِيُّ ، قال : سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَةَ بْنَ أَبِي مُوسَى وَهُوَ يَقُولُ لِيَزِيدَ بْنِ أَبِي كَبْشَةَ ، وَاصْطَحَبَا فِي سَفَرٍ ، فَكَانَ يَزِيدُ يَصُومُ فِي السَّفَرِ ، فَقَالَ لَهُ أَبُو بُرْدَةَ : سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى مِرَارًا ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ الْعَبْدَ الْمُسْلِمَ إِذَا مَرِضَ ، أَوْ سَافَرَ ، كُتِبَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ كَمَا كَانَ يَعْمَلُ مُقِيمًا صَحِيحًا " ، قَالَ مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ : " كَتَبَ اللَّهُ لَهُ مِثْلَ مَا كَانَ يَعْمَلُ مُقِيمًا صَحِيحًا ".
مولانا ظفر اقبال
بوبردہ اور یزید بن ابی کبثہ ایک مرتبہ سفر میں اکٹھے تھے یزید دوران سفر روزہ رکھتے تھے ابوبردہ نے ان سے کہا کہ میں نے اپنے والد حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو کئی مرتبہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کوئی شخص بیمار ہوجاتا ہے یا سفر پر چلا جاتا ہے تو اس کے لئے اتنا ہی اجر لکھا جاتا ہے جتنا مقیم اور تندرست ہونے کی حالت میں اعمال پر ملتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19753
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2996
حدیث نمبر: 19754
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قال : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَن ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا مَرَّ أَحَدُكُمْ بِسُوقٍ ، أَوْ مَجْلِسٍ ، أَوْ مَسْجِدٍ ، وَمَعَهُ نَبْلٌ ، فَلْيَقْبِضْ عَلَى نِصَالِهَا ، فَلْيَقْبِضْ عَلَى نِصَالِهَا " ، ثَلَاثًا ، قَالَ أَبُو مُوسَى : فَمَا زَالَ بِنَا الْبَلَاءُ حَتَّى سَدَّدَ بِهَا بَعْضُنَا فِي وُجُوهِ بَعْضٍ !.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم مسلمانوں کی مسجدوں اور بازاروں میں جایا کرو اور تمہارے پاس تیر ہوں تو ان کا پھل قابو میں رکھا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19754
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2615
حدیث نمبر: 19755
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قال : أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَن أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ ، فَأَسْرَعْنَا الْأَوْبَةَ ، وَأَحْسَنَّا الْغَنِيمَةَ ، فَلَمَّا أَشْرَفْنَا عَلَى الرُّزْدَاقِ ، جَعَلَ الرَّجُلُ مِنَّا يُكَبِّرُ ، قَالَ : حَسِبْتُهُ قَالَ بِأَعْلَى صَوْتِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّهَا النَّاسُ " ، وَجَعَل يَقُولُ بِيَدِهِ هَكَذَا ، وَوَصَفَ يَزِيدُ كَأَنَّهُ يُشِيرُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّكُمْ لَا تُنَادُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا ، إِنَّ الَّذِي تُنَادُونَ دُونَ رُؤُوسِ رَوَاحِلِكُمْ " . ثُمَّ قَالَ : " يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ ، أَوْ : يَا أَبَا مُوسَى ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ ؟ " ، قُلْتُ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " قُلْ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی جہاد کے سفر میں تھے جس ٹیلے یا بلند جگہ پر چڑھتے یا کسی نشیب میں اترتے تو بلند آواز سے تکبیر کہتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے قریب آکر فرمایا لوگو ! اپنے ساتھ نرمی کرو، تم کسی بہرے یا غائب اللہ کو نہیں پکار رہے، تم سمیع وبصیر کو پکار رہے ہو جو تمہاری سواری کی گردن سے بھی زیادہ تمہارے قریب ہے، اے عبداللہ بن قیس کیا میں تمہیں جنت کے ایک خزانے کے متعلق نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں فرمایا " لاحول ولاقوۃ الاباللہ " (جنت کا ایک خزانہ ہے )
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19755
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2992، م: 2704، روي يزيد عن الجريري بعد الاختلاط، لكنه توبع
حدیث نمبر: 19756
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قال : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَن ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، قال : حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ حِطَّانَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يُحَدِّثُ ، عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قال : قُلْتُ لِرَجُلٍ : هَلُمَّ ، فَلْنَجْعَلْ يَوْمَنَا هَذَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَوَاللَّهِ لَكَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاهِدٌ هَذَا ، فَخَطَبَ ، فَقَالَ : " وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ : هَلُمَّ ، فَلَنَجْعَلْ يَوْمَنَا هَذَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " ، فَمَا زَالَ يَقُولُهَا ، حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنَّ الْأَرْضَ سَاخَتْ بِي.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنے ایک ساتھی سے کہا کہ آؤ ! آج کا دن اللہ کے لئے وقف کردیتے ہیں مجھے ایسا لگا جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سامنے موجود ہیں اور فرما رہے ہیں کہ بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو یوں کہتے ہیں کہ آؤ آج کا دن اللہ کے لئے وقف کردیتے ہیں اور انہوں نے یہ بات اتنی مرتبہ دہرائی ہے کہ میں تمنا کرنے لگا کہ میں زمین میں اتر جاؤں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19756
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لإبهام من روى عنه ثابت
حدیث نمبر: 19757
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قال : أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَن غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ ، عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ هَذَا الْقَلْبَ كَرِيشَةٍ بِفَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ ، يُقِيمُهَا الرِّيحُ ظَهْرًا لِبَطْنٍ " ، قَالَ أَبِي : وَلَمْ يَرْفَعْهُ إِسْمَاعِيلُ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قلب کو قلب اس لئے کہتے ہیں کہ وہ پلٹتا رہتا ہے اور دل کی مثال تو اس پر کی سی ہے جو کسی درخت کی جڑ میں پڑا ہو اور ہوا اسے الٹ پلٹ کرتی رہتی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19757
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، وقد اختلف فى رفعه ووقفه، ووقفه أرجح يزيد بن سمع من الجريري بعد الاختلاط
حدیث نمبر: 19758
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قال : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَن قَتَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ، عَن أَبِيهِ ، قال : قال أَبِي : لَوْ شَهِدْتَنَا وَنَحْنُ مَعَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصَابَتْنَا السَّمَاءُ ، حَسِبْتَ أَنَّ رِيحَنَا رِيحُ الضَّأْنِ ، إِنَّمَا لِبَاسُنَا الصُّوفُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ اپنے بیٹے ابوبردہ سے کہا کہ بیٹا ! اگر تم نے وہ وقت دیکھا ہوتا تو کیسا لگتا کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتے تھے اور ہمارے اندر سے بھیڑ بکریوں جیسی مہک آرہی ہوتی تھی، (موٹے کپڑوں پر بارش کا پانی پڑنے کی وجہ سے )
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19758
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وقول قتادة: حدث أبو بردة مشعر بالانقطاع لأنه مدلس
حدیث نمبر: 19759
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَن قَتَادَةَ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، قال : قال لِي أَبُو مُوسَى : يَا بُنَيَّ ، لَوْ رَأَيْتَنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَصَابَنَا الْمَطَرُ ، وَجَدْتَ مِنَّا رِيحَ الضَّأْنِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ اپنے بیٹے ابوبردہ سے کہا کہ بیٹا ! اگر تم نے وہ وقت دیکھا ہوتا تو کیسا لگتا کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتے تھے اور ہمارے اندر سے بھیڑ بکریوں جیسی مہک آرہی ہوتی تھی، (موٹے کپڑوں پر بارش کا پانی پڑنے کی وجہ سے )
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19759
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19760
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قال : حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، قال : حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَن أَبِي مِجْلَزٍ ، قَالَ : صَلَّى أَبُو مُوسَى بِأَصْحَابِهِ وَهُوَ مُرْتَحِلٌ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَصَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ ، وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَامَ ، فَقَرَأَ مِئَةَ آيَةٍ مِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ فِي رَكْعَةٍ ، فَأُنْكِرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : مَا أَلَوْتُ أَنْ أَضَعَ قَدَمَيَّ حَيْثُ وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدَمَهُ ، وَأَنْ أَصْنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
ابومجلز رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ جا رہے تھے تو راستے میں اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی، انہوں نے عشاء کی دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا، پھر کھڑے ہو کر ایک رکعت میں سورت نساء کی سو آیات پڑھ ڈالیں اس پر کسی نے نکیر کی تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے اس چیز میں کوئی کمی نہیں کی جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قدم رکھا ہو، میں بھی وہیں قدم رکھوں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح کیا ہے میں بھی اسی طرح کروں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19760
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات غير أن فى سماع أبى مجلز من أبى موسي نظرا
حدیث نمبر: 19761
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ . وَقال عَفَّانُ : عَن أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ الْأَشْعَرِيِّ ، أَخْبَرَهُ ، عَن أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْخَيْمَةُ دُرَّةٌ مُجَوَّفَةٌ ، طُولُهَا فِي السَّمَاءِ سِتُّونَ مِيلًا ، فِي كُلِّ زَاوِيَةٍ مِنْهَا أَهْلٌ لِلْمُؤْمِنِ ، لَا يَرَاهُمْ الْآخَرُونَ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت کا ایک خیمہ ایک جوف دار موتی سے بنا ہوگا آسمان میں جس کی لمبائی ساٹھ میل ہوگی اور اس کے ہر کونے میں ایک مسلمان کے جو اہل خانہ ہوں گے، دوسرے کونے والے انہیں دیکھ نہ سکیں۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19761
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3243، م: 2838
حدیث نمبر: 19762
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قال : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قال : حَدَّثَنَا قتادة ، وذكر نحوه.
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19762
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، ولا يدري هل كانت رواية قتادة هذه محفوظة أم لا ؟