حدیث نمبر: 19685
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، عَن بُرَيْدٍ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَعَاهَدُوا الْقُرْآنَ ، فَإِنَّهُ أَشَدُّ تَفَلُّتًا مِنْ قُلُوبِ الرِّجَالِ مِنَ الْإِبِلِ مِنْ عُقُلِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس قرآن کی حفاظت کیا کرو اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے یہ اپنی رسی چھڑا کر بھاگ جانے والے اونٹ سے زیادہ تم میں سے کسی کے سینے سے جلدی نکل جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19685
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5033، م: 791
حدیث نمبر: 19686
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَن سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِيهِ ، عَن أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ " ، قَالُوا : فَإِنْ لَمْ يَجِدْ ؟ قَالَ : " يَعْتَمِلُ بِيَدَيْهِ ، فَيَنْفَعُ نَفْسَهُ وَيَتَصَدَّقُ " ، قَالُوا : فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ ، أَوْ : يَسْتَطِعْ ؟ قَالَ : " يُعِينُ ذَا الْحَاجَةِ الْمَلْهُوفَ " ، قَالَوا : فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ ، أَوْ : لَمْ يَفْعَلْ ؟ قَالَ : " يَأْمُرُ بِالْخَيْرِ " ، قَالُوا : فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَوْ يَفْعَلْ ؟ قَالَ : " يُمْسِكُ عَنِ الشَّرِّ ، فَإِنَّهُ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر مسلمان پر صدقہ کرنا واجب ہے کسی نے پوچھا یہ بتائیے کہ اگر کسی کے پاس کچھ نہ ہو تو ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے ہاتھ سے محنت کرے، اپنا بھی فائدہ کرے اور صدقہ بھی کرے، سائل نے پوچھا یہ بتائیے کہ اگر وہ اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی ضرورت مند، فریادی کی مدد کر دے سائل نے پوچھا اگر کوئی شخص یہ بھی نہ کرسکے تو ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خیریا عدل کا حکم دے سائل نے پوچھا اگر یہ بھی نہ کرسکے تو ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر کسی کو تکلیف پہنچانے سے اپنے آپ کو روک کر رکھے اس کے لئے یہی صدقہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19686
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1445، م: 1008
حدیث نمبر: 19687
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَن إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَن أَخِيهِ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَدِمَ رَجُلَانِ مِنَ الْأَشْعَرِيِّينَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَجَعَلَا يُعَرِّضَانِ بِالْعَمَلِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَخْوَنَكُمْ عِنْدِي مَنْ يَطْلُبُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے ساتھ میری قوم کے دو آدمی بھی آئے تھے ان دونوں نے دوران گفتگو کوئی عہدہ طلب کیا جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا میرے نزدیک تم میں سب سے بڑا خائن وہ ہے جو کسی عہدے کا طلب گار ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19687
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضيعف الإبهام أخي إسماعيل بن أبى خالد
حدیث نمبر: 19688
حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ : قَالَ أَبُو بُرْدَةَ : قَالَ أَبُو مُوسَى : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا ، فَإِنْ سَكَتَتْ فَقَدْ أَذِنَتْ ، وَإِنْ أَنْكَرَتْ لَمْ تُكْرَهْ " ، قُلْتُ لِيُونُسَ : سَمِعْتَهُ مِنْهُ أَوْ : سَمِعْتَهُ مِنْ أَبِي بُرْدَةَ ؟ قَالَ : نَعَمْ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بالغ لڑکی سے اس کے نکاح کی اجازت لی جائے گی، اگر وہ خاموش رہے تو گویا اس نے اجازت دے دی اور اگر وہ انکار کردے تو اسے اس رشتے پر مجبور نہ کیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19688
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 19689
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَن أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَن أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَبْشِرُوا وَبَشِّرُوا النَّاسَ ، مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، صَادِقًا بِهَا ، دَخَلَ الْجَنَّةَ " ، فَخَرَجُوا يُبَشِّرُونَ النَّاسَ ، فَلَقِيَهُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَبَشَّرُوهُ ، فَرَدَّهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ رَدَّكُمْ ؟ " ، قَالُوا : عُمَرُ ، قَالَ : " لِمَ رَدَدْتَهُمْ يَا عُمَرُ ؟ " قَالَ : إِذًَا يَتَّكِلَ النَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میرے ساتھ میری قوم کے کچھ لوگ بھی تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خوشخبری قبول کرو اور اپنے پیچھے رہ جانے والوں کو سنا دو کہ جو شخص صدق دل کے ساتھ لا الہ الا اللہ کی گواہی دیتا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں سے نکل کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہونے پر ان کو یہ خوشخبری سنانے لگے وہ ہمیں لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! اس طرح تو لوگ اسی بات پر بھروسہ کرکے بیٹھ جائیں گے
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19689
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19690
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَن يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَن أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ حَلَقَ ، وَخَرَقَ ، وَسَلَقَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص ہم میں سے نہیں جو واویلا کرے، بال نوچے اور گریبان چاک کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19690
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 104، وهذا إسناد ضعيف، شريك ويزيد بن أبى زياد ضيعفان
حدیث نمبر: 19691
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَن الْأَسْوَدِ ، قَالَ : قَالَ أَبُو مُوسَى : لَقَدْ ذَكَّرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَلَاةً كُنَّا نُصَلِّيهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِمَّا نَسِينَاهَا ، وَإِمَّا تَرَكْنَاهَا عَمْدًا ، يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَكَعَ ، وَكُلَّمَا رَفَعَ ، وَكُلَّمَا سَجَدَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز یاد دلا دی ہے جو ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتے تھے جسے ہم بھلاچکے تھے یا عمداً چھوڑ چکے تھے وہ ہر مرتبہ رکوع کرتے وقت، سر اٹھاتے وقت اور سجدے میں جاتے ہوئے اللہ اکبر کہتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19691
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على أبى إسحاق
حدیث نمبر: 19692
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ : وَسَمِعْتُهُ أَنَا ، مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، عَن بُرَيْدٍ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُثْنِي عَلَى رَجُلٍ ، وَيُطْرِيهِ فِي الْمِدْحَةِ ، فَقَالَ : " لَقَدْ أَهْلَكْتُمْ أَوْ قَطَعْتُمْ ظَهْرَ الرَّجُلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی شخص کو کسی کی تعریف (اس کے منہ پر) کرتے ہوئے اور اس میں مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہوئے دیکھا تو فرمایا تم نے اس کی کمر توڑ ڈالی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19692
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2663، م: 3001
حدیث نمبر: 19693
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُؤَمَّلٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَن أَبِي وَائِلٍ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْ عُبَيْدًا أَبَا عَامِرٍ فَوْقَ أَكْثَرِ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، قَالَ : فَقُتِلَ عُبَيْدٌ يَوْمَ أَوْطَاسٍ ، وَقَتَلَ أَبُو مُوسَى قَاتِلَ عُبَيْدٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو وَائِلٍ : أَرْجُو أَنْ لَا يَجْمَعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَيْنَ قَاتِلِ عُبَيْدٍ ، وَبَيْنَ أَبِي مُوسَى فِي النَّارِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ ! عبید ابوعامر کو قیامت کے دن بہت سے لوگوں پر فوقیت عطاء فرما عبید رضی اللہ عنہ غزوہ اوطاس کے موقع پر شہید ہوگئے تھے اور حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان کے قاتل کو قتل کردیا تھا۔ ابو وائل کہتے ہیں مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن عبید کے قاتل اور حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو جہنم میں جمع نہیں کرے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19693
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف مؤمل
حدیث نمبر: 19694
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَن عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ : لَقِيَ عُمَرُ أَسْمَاءَ بِنْتَ عُمَيْسٍ ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، فَقَالَ : نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ ، لَوْلَا أَنَّكُمْ سَبَقْتُمْ بِالْهِجْرَةِ ، وَنَحْنُ أَفْضَلُ مِنْكُمْ ، قَالَتْ : كُنْتُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُ جَاهِلَكُمْ ، وَيَحْمِلُ رَاجِلَكُمْ ، وَفَرَرْنَا بِدِينِنَا ، فَقَالَتْ : لَا أَنْتَهِي حَتَّى أَدْخُلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَخَلَتْ ، فَذَكَرَتْ مَا قَالَ لَهَا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَلْ لَكُمْ الْهِجْرَةُ مَرَّتَيْنِ : هِجْرَتُكُمْ إِلَى الْحَبَشَةِ ، وَهِجْرَتُكُمْ إِلَى الْمَدِينَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت اسماء رضی اللہ عنہ حبشہ سے واپس آئیں تو مدینہ منورہ کے کسی راستے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ان کا آمنا سامنا ہوگیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا حبشہ جانے والی ہو ؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم لوگ بہترین قوم تھے اگر تم سے ہجرت مدینہ نہ چھوٹتی انہوں نے فرمایا کہ تم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے وہ تمہارے پیدل چلنے والوں کو سواری دیتے تمہارے جاہل کو علم سکھاتے اور ہم لوگ اس وقت اپنے دین کو بچانے کے لئے نکلے تھے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ذکر کئے بغیر اپنے گھر واپس نہ جاؤں گی چناچہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر ساری بات بتادی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری دو ہجرتیں ہوئیں ایک مدینہ منورہ کی طرف اور دوسری ہجرت حبشہ کی جانب۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19694
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 4230، م: 2503، المسعودي اختلط
حدیث نمبر: 19695
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَن لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَةَ زَمَنَ الْحَجَّاجِ ، يُحَدِّثُ عَن أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ رَأَى جِنَازَةً يُسْرِعُونَ بِهَا ، فَقَالَ : " لِتَكُنْ عَلَيْكُمْ السَّكِينَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ تیزی سے لے کر گذرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سکون کے ساتھ چلنا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19695
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف ليث
حدیث نمبر: 19696
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ أَبُو جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أَبِي مُوسَى فِي بَيْتِ ابْنَةِ أُمِّ الْفَضْلِ ، فَعَطَسْتُ وَلَمْ يُشَمِّتْنِي ، وَعَطَسَتْ فَشَمَّتَهَا ، فَرَجَعْتُ إِلَى أُمِّي ، فَأَخْبَرْتُهَا ، فَلَمَّا جَاءَهَا ، قَالَتْ : عَطَسَ ابْنِي عِنْدَكَ ، فَلَمْ تُشَمِّتْهُ ، وَعَطَسَتْ فَشَمَّتَّهَا ! فَقَالَ : إِنَّ ابْنَكِ عَطَسَ ، فَلَمْ يَحْمَدْ اللَّهَ تَعَالَى ، فَلَمْ أُشَمِّتْهُ ، وَإِنَّهَا عَطَسَتْ ، فَحَمَدَتْ اللَّهَ تَعَالَى ، فَشَمَّتُّهَا ، وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ ، فَحَمِدَ اللَّهَ ، فَشَمِّتُوهُ ، وَإِنْ لَمْ يَحْمَدْ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، فَلَا تُشَمِّتُوهُ " ، فَقَالَتْ : أَحْسَنْتَ أَحْسَنْتَ.
مولانا ظفر اقبال
ابوبردہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ بنت ام الفضل کے گھر میں حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ موجود تھے میں بھی وہاں چلا گیا مجھے چھینک آئی تو انہوں نے مجھے اس کا جواب نہیں دیا اور خاتون کو چھینک آئی تو انہوں نے جواب دیا، میں نے اپنی والدہ کے پاس آکر انہیں یہ بات بتائی جب والد صاحب آئے تو انہوں نے کہا کہ میرے بیٹے کو آپ کے سامنے چھینک آئی تو آپ نے جواب نہیں دیا اور اس خاتون کو چھینک آئی تو جواب دے دیا ؟ انہوں نے فرمایا کہ تمہارے صاحبزادے کو جب چھینک آئی تو اس نے الحمدللہ نہیں کہا تھا لہٰذا میں نے اسے جواب نہیں دیا اور اسے چھینک آئی تو اس نے الحمدللہ کہا تھا لہٰذا میں نے اسے جواب بھی دے دیا کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کوئی شخص چھینکنے کے بعد الحمدللہ کہے تو اسے جواب دو اور اگر وہ الحمدللہ نہ کہے تو اسے جواب بھی مت دو اس پر والدہ نے کہا آپ نے خوب کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19696
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19697
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَن الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَحَبَّ دُنْيَاهُ ، أَضَرَّ بِآخِرَتِهِ ، وَمَنْ أَحَبَّ آخِرَتَهُ ، أَضَرَّ بِدُنْيَاهُ ، فَآثِرُوا مَا يَبْقَى عَلَى مَا يَفْنَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص دنیا کو پسند کرتا ہے اس کی آخرت کا نقصان ہوجاتا ہے اور جو شخص آخرت کو پسند کرتا ہے اس کی دنیا کا نقصان ہوجاتا ہے تم باقی رہنے والی چیز کو فناء ہوجانے والی چیز پر ترجیح دو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19697
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، المطلب ابن عبدالله لا يعرف له سماع من الصحابة
حدیث نمبر: 19698
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَن عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَن الْمُطَّلِبِ ، عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَحَبَّ دُنْيَاهُ ، أَضَرَّ بِآخِرَتِهِ ، وَمَنْ أَحَبَّ آخِرَتَهُ ، أَضَرَّ بِدُنْيَاهُ ، فَآثِرُوا مَا يَبْقَى عَلَى مَا يَفْنَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص دنیا کو پسند کرتا ہے اس کی آخرت کا نقصان ہوجاتا ہے اور جو شخص آخرت کو پسند کرتا ہے اس کی دنیا کا نقصان ہوجاتا ہے تم باقی رہنے والی چیز کو فناء ہوجانے والی چیز پر ترجیح دو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19698
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، المطلب بن عبدالله لا يعرف له سماع من الصحابة
حدیث نمبر: 19699
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَن سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا ، وَأَبَا مُوسَى ، إِلَى الْيَمَنِ ، فَقَالَ : " بَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا ، وَيَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا ، وَتَطَاوَعَا وَلَا تَخْتَلِفَا " ، قَالَ : فَكَانَ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فُسْطَاطًا يَكُونُ فِيهِ ، يَزُورُ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ . قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : أَظُنُّهُ عَن أَبِي مُوسَى .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اور حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجتے ہوئے فرمایا خوشخبری دینا، نفرت مت پھیلانا، آسانی پیدا کرنا، مشکلات میں نہ ڈالنا، ایک دوسرے کی بات ماننا اور آپس میں اختلاف نہ کرنا، چناچہ ان دونوں میں سے ہر ایک کا خیمہ تھا جس میں وہ ایک دوسرے سے ملنے کے لئے آتے رہتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19699
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 6124، م: 1733، رجاله ثقات
حدیث نمبر: 19700
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَن زَائِدَةَ ، عَن عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ : مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاشْتَدَّ مَرَضُهُ ، فَقَالَ : " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ " ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ ، مَتَى يَقُومُ مَقَامَكَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ ، قَالَ : " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ، فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ " ، فَأَتَاهُ الرَّسُولُ ، فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ بِالنَّاسِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے اور بیماری بڑھتی ہی چلی گئی تو فرمایا کہ ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھادیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ابوبکر بڑے رقیق القلب آدمی ہیں جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو نماز نہ پڑھا سکیں گے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھادیں، تم تو یوسف والیاں ہو چناچہ قاصد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طبیبہ ہی میں انہوں نے نماز پڑھائی۔ گذشہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19700
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 678، م: 420
حدیث نمبر: 19701
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ عُمَيْرٍ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَن أَبِيهِ ، قَالَ : مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " ، فَذَكَرَهُ.
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19701
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 678، م: 420
حدیث نمبر: 19702
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ ، عَن أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الصَّلَاةُ عَلَى ظَهْرِ الدَّابَّةِ فِي السَّفَرِ هَكَذَا ، وَهَكَذَا ، وَهَكَذَا ، وَهَكَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اشارہ سے سمجھاتے ہوئے فرمایا کہ سفر میں جانور کی پشت پر اس طرح نماز پڑھنی چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19702
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، الضعف يونس بن الحارث
حدیث نمبر: 19703
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ ، عَن لَيْثٍ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَن أَبِيهِ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ ، فَقَالَ : " مَكَانَكُمْ " ، فَاسْتَقْبَلَ الرِّجَالَ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَأْمُرُنِي أَنْ آمُرَكُمْ أَنْ تَتَّقُوا اللَّهَ ، وَأَنْ تَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا " ، ثُمَّ تَخَطَّى الرِّجَالَ ، فَأَتَى النِّسَاءَ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَأْمُرُنِي أَنْ آمُرَكُنَّ أَنْ تَتَّقِينَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، وَأَنْ تَقُلْنَ قَوْلًا سَدِيدًا " ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الرِّجَالِ ، فَقَالَ : " إِذَا دَخَلْتُمْ مَسَاجِدَ الْمُسْلِمِينَ وَأَسْوَاقَهُمْ أَوْ : أَسْوَاقَ الْمُسْلِمِينَ وَمَسَاجِدَهُمْ وَمَعَكُمْ مِنْ هَذِهِ النَّبْلِ شَيْءٌ ، فَأَمْسِكُوا بِنُصُولِهَا ، لَا تُصِيبُوا أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَتُؤْذُوهُ ، أَوْ : تَجْرَحُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن قیس سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی اور نماز کے بعد فرمایا اپنی جگہ پر ہی رکو پھر پہلے مردوں کے پاس آکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہیں اللہ سے ڈرنے اور درست بات کہنے کا حکم دوں، پھر خواتین کے پاس جا کر ان سے بھی یہی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہیں اللہ سے ڈرنے اور درست بات کہنے کا حکم دوں، پھر واپس مردوں کے پاس آکر فرمایا جب تم مسلمانوں کی مسجدوں اور بازاروں میں جایا کرو اور تمہارے پاس تیر ہوں تو ان کا پھل قابو میں رکھا کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کسی کو لگ جائے اور تم کسی کو اذیت پہنچاؤ یا زخمی کردو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19703
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: قوله منه : إذا دخلتم مساجد المسلمين وأسواقهم ... إلى آخر الحديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث
حدیث نمبر: 19704
حَدَّثَنَا أَبو أَحْمَدَ حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَن الْحَسَنِ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " تَوَضَّئُوا مِمَّا غَيَّرَتْ النَّارُ لَوْنَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جس چیز کا رنگ آگ نے بدل ڈالا ہو اسے کھانے کے بعد وضو کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19704
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده فيه ضعف وانقطاع، المبارك بن فضالة يدلس ويسوي، وقد عنعن، والحسن لم يسمع من أبى موسى
حدیث نمبر: 19705
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ ، عَن لَيْثٍ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَن أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا مَرَّتْ بِكُمْ جِنَازَةٌ ، فَإِنْ كَانَ مُسْلِمًا ، أَوْ يَهُودِيًّا ، أَوْ نَصْرَانِيًّا ، فَقُومُوا لَهَا ، فَإِنَّهُ لَيْسَ لَهَا نَقُومُ ، وَلَكِنْ نَقُومُ لِمَنْ مَعَهَا مِنَ الْمَلَائِكَةِ " قَالَ لَيْثٌ : فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِمُجَاهِدٍ ، فَقَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَخْبَرَةَ الْأَزْدِيُّ ، قَالَ : إِنَّا لَجُلُوسٌ مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، نَنْتَظِرُ جِنَازَةً ، إِذْ مَرَّتْ بِنَا أُخْرَى ، فَقُمْنَا ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : مَا يُقِيمُكُمْ ؟ فَقُلْنَا : هَذَا مَا تَأْتُونَا بِهِ يَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : وَمَا ذَاكَ ، قُلْتُ : زَعَمَ أَبُو مُوسَى : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا مَرَّتْ بِكُمْ جِنَازَةٌ ، إِنْ كَانَ مُسْلِمًا ، أَوْ يَهُودِيًّا ، أَوْ نَصْرَانِيًّا ، فَقُومُوا لَهَا ، فَإِنَّهُ لَيْسَ لَهَا نَقُومُ ، وَلَكِنْ نَقُومُ لِمَنْ مَعَهَا مِنَ الْمَلَائِكَةِ " ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : مَا فَعَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ غَيْرَ مَرَّةٍ ، بِرَجُلٍ مِنْ اليهود ، وَكَانُوا أَهْلَ كِتَابٍ ، وَكَانَ يَتَشَبَّهُ بِهِمْ ، فَإِذَا نُهِيَ انْتَهَى ، فَمَا عَادَ لَهَا بَعْدُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تمہارے سامنے سے کی یہودی، عیسائی یا مسلمان کا جنازہ گذرے تو تم کھڑے ہوجایا کرو، کیونکہ تم جنازے کی خاطر کھڑے نہیں ہوگے، ان فرشتوں کی وجہ سے کھڑے ہوگے جو جنازے کے ساتھ ہوتے ہیں۔ عبداللہ بن سخبرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے کسی جنازے کا انتظار کر رہے تھے کہ ایک دوسرا جنازہ ہمارے پاس سے گذراہم لوگ کھڑے ہوگئے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ تم لوگ کیوں کھڑے ہوگئے ؟ ہم نے کہا آپ لوگوں ہی نے تو ہمیں یہ بات بتائی ہے انہوں نے فرمایا وہ کیا ؟ میں نے عرض کیا کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہارے سامنے سے کی یہودی، عیسائی یا مسلمان کا جنازہ گذرے تو تم کھڑے ہوجایا کرو، کیونکہ ہم اس کے لئے کھڑے نہیں ہوگے، اس کے ساتھ موجود فرشتوں کی خاطر کھڑے ہوں گے اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح صرف ایک مرتبہ یہودی کے ساتھ کیا تھا یہ لوگ اہل کتاب تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی مشابہت اختیار کرتے تھے جب اس کی ممانعت ہوگئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رک گئے اور دوبارہ اس طرح نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19705
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: هذا الحديث إنما هو حديثان : أولهما: حديث أبى موسى، وهو صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، ليث ضعيف. وثانيهما : حديث على ، وهو صحيح دون قوله : وكانوا أهل كتاب، وكان يتشبه بهما
حدیث نمبر: 19706
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : جَاءَ سَائِلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اشْفَعُوا فَلْتُؤْجَرُوا ، وَلْيَقْضِ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ مَا شَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ایک آدمی نے کچھ مانگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس کی سفارش کرو، تمہیں اجر ملے گا اور اللہ اپنے نبی کی زبان پر وہی فیصلہ جاری فرمائے گا جو اسے محبوب ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19706
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1432
حدیث نمبر: 19707
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا غَالِبٌ التَّمَّارُ ، عَن حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَن مَسْرُوقِ بْنِ أَوْسٍ ، عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَضَى فِي الْأَصَابِعِ بِعَشْرٍ عَشْرٍ مِنَ الْإِبِلِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا ہر انگلی کی دیت دس اونٹ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19707
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مسروق بن أوس، وقد اختلف فيه على غالب التمار
حدیث نمبر: 19708
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَن أَبِي بَلْجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ ، عَن أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ الطَّاعُونَ ، فَقَالَ : " وَخْزٌ مِنْ أَعْدَائِكُمْ مِنَ الْجِنِّ ، وَهِيَ شَهَادَةُ الْمُسْلِمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت " طعن اور طاعون " سے فناء ہوگی طاعون کا معنی بتاتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے دشمن جنات کے کچوکے اور دونوں صورتوں میں شہادت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19708
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: في إسناده أبو يلج الفزاري وهو مختلف فيه
حدیث نمبر: 19709
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَن هَارُونَ أَبِي إِسْحَاقَ الْكُوفِيِّ مَنْ هَمْدَانَ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَن أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ثِنْتَيْ عَشَرَ رَكْعَةً سِوَى الْفَرِيضَةِ ، بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص فرض نمازوں کے علاوہ دن بھر میں بارہ رکعتیں پڑھ لے جنت میں اس کا گھر بنادیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19709
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، قد اختلف فيه على حماد بن زيد راويه عنه
حدیث نمبر: 19710
حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَن يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19710
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، له إسنادان، الإسناد الأول محفوظ، والإسناد الثاني اختلف فيه على أبى إسحاق فى وصله وإرساله ، ووصله أصح
حدیث نمبر: 19711
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ ، عَن غُنَيْمِ ابْنِ قَيْسٍ ، عَن الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّمَا امْرَأَةٍ اسْتَعْطَرَتْ ، فَمَرَّتْ بِقَوْمٍ لِيَجِدُوا رِيحَهَا ، فَهِيَ زَانِيَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی عورت عطر لگا کر کچھ لوگوں کے پاس سے گذرتی ہے تاکہ وہ اس کی خوشبو سونگھیں تو وہ ایسی ایسی ہے (بدکار ہے)
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19711
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده جيد
حدیث نمبر: 19712
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ صَالِحٍ ، عَن الشَّعْبِيِّ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ جَارِيَةٌ ، فَأَدَّبَهَا ، فَأَحْسَنَ أَدَبَهَا ، وَعَلَّمَهَا ، فَأَحْسَنَ تَعْلِيمَهَا ، ثُمَّ أَعْتَقَهَا ، وَتَزَوَّجَهَا ، فَلَهُ أَجْرَانِ ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمَنَ بِنَبِيِّهِ ، وَآمَنَ بِمُحَمَّدٍ ، فَلَهُ أَجْرَانِ ، وَأَيُّمَا عَبْدٍ مَمْلُوكٍ أَدَّى حَقَّ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ ، وَحَقَّ مَوَالِيهِ ، فَلَهُ أَجْرَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کے پاس کوئی باندی ہو اور وہ اسے عمدہ تعلیم دلائے بہترین ادب سکھائے پھر اسے آزاد کر کے اس سے نکاح کرلے تو اسے دہرا اجر ملے گا، اسی طرح وہ غلام جو اپنے اللہ کا حق بھی ادا کرتا ہو اور اپنے آقا کا حق بھی ادا کرتا ہو یا اہل کتاب میں سے وہ آدمی جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت پر بھی ایمان لایا ہو اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر بھی ایمان لایا ہو اسے بھی دہرا اجر ملے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19712
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 97، م: 154
حدیث نمبر: 19713
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَن قَتَادَةَ ، عَن أَبِي تَمِيمَةَ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ وَكِيعٌ : وَحَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ أَبُو الْعَلَاءِ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ أَبِي تَمِيمَةَ ، عَن أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ صَامَ الدَّهْرَ ، ضُيِّقَتْ عَلَيْهِ جَهَنَّمُ هَكَذَا " ، وَقَبَضَ كَفَّهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ہمیشہ روزہ رکھتا ہے اس پر جہنم اس طرح تنگ ہوجائے گی یہ کہہ کر انہوں نے اپنی ہتھیلیوں کو مٹھی کی طرح بند کر کے دکھایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19713
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: موقوفه صحيح قد اختلف على أبى تميمه فى رفعه ووقفه
حدیث نمبر: 19714
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَن أَبِي التَّيَّاحِ الضُّبَعِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا وَصَفَهُ كَانَ يَكُونُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَتَبَ أَبُو مُوسَى إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ : إِنَّكَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ زَمَانِكَ ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَ أَحَدُهُمْ إِذَا أَصَابَهُ الشَّيْءُ مِنَ الْبَوْلِ ، قَرَضَهُ بِالْمَقَارِيضِ " ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى دَمْثٍ يَعْنِي : مَكَانًا لَيِّنًا فَبَالَ فِيهِ ، وَقَالَ : " إِذَا بَالَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيَرْتَدْ لِبَوْلِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالتیاح ایک طویل سیاہ فام آدمی سے نقل کرتے ہیں کہ وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ بصرہ آیا انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے انہیں جواب میں لکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ جا رہے تھے کہ ایک باغ کے پہلو میں نرم زمین کے قریب پہنچ کر پیشاب کیا اور فرمایا بنی اسرائیل میں جب کوئی شخص پیشاب کرتا اور اس کے جسم پر معمولی سا پیشاب لگ جاتا تو وہ اس جگہ کو قینچی سے کاٹ دیا کرتا تھا اور فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص پیشاب کا ارادہ کرے تو اس کے لئے نرم زمین تلاش کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19714
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح الغيره دون قوله: إذا بال أحدكم ... وهذا إسناده ضعيف ، لإبهام الرجل الراوي عنه أبو التياح
حدیث نمبر: 19715
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَلِيِّ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَن الْحَسَنِ ، عَن أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُعْرَضُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلَاثَ عَرَضَاتٍ : فَأَمَّا عَرْضَتَانِ ، فَجِدَالٌ وَمَعَاذِيرُ ، وَأَمَّا الثَّالِثَةُ : فَعِنْدَ ذَلِكَ تَطِيرُ الصُّحُفُ فِي الْأَيْدِي ، فَآخِذٌ بِيَمِينِهِ ، وَآخِذٌ بِشِمَالِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن لوگوں کو تین مرتبہ پیش کیا جائے گا پہلے دو عرضوں میں جھگڑے اور معذرتیں ہوں اور تیسرے عرضے کے وقت اعمال نامے اڑ اڑ کر لوگوں کے ہاتھوں میں پہنچیں گے کسی کے دائیں ہاتھ میں اور کسی کے بائیں ہاتھ میں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19715
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه ، الحسن البصري لم يسمع من أبى موسى
حدیث نمبر: 19716
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَن أَسِيدِ بْنِ أَبِي أَسِيدٍ ، عَن مُوسَى بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، عَن أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ عَلَيْهِ ، إِذَا قَالَتْ النَّائِحَةُ : وَاعَضُدَاهُ ، وَانَاصِرَاهُ ، وَاكَاسِبَاهُ ، جُبِذَ الْمَيِّتُ ، وَقِيلَ لَهُ : آَنْتَ عَضُدُهَا ؟ آَنْتَ نَاصِرُهَا ؟ آَنْتَ كَاسِبُهَا ؟ " فَقُلْتُ : سُبْحَانَ اللَّهِ ! يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَلا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى سورة الأنعام آية 164 ، فَقَالَ : وَيْحَكَ ، أُحَدِّثُكَ عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَتَقُولُ هَذَا ! فَأَيُّنَا كَذَبَ ؟ فَوَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ عَلَى أَبِي مُوسَى ، وَلَا كَذَبَ أَبُو مُوسَى عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میت کو اپنے اوپر اہل محلہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے جب بین کرنے والی کہتی ہے ہائے میرا بازو، ہائے میرا مددگار، ہائے میرا کمانے والا، تو میت کو کھینچ کر پوچھا جاتا ہے کیا واقعی تو اس کا بازو، مددگار اور کمانے والا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19716
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، أسيد بن أبى أسيد لم ينفرد به
حدیث نمبر: 19717
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قال : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قال : أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَن حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ ، عَن أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ الْهَرْجَ " ، فَقَالُوا : وَمَا الْهَرْجُ ؟ قَالَ : " الْقَتْلُ " ، قَالُوا : أَكْثَرُ مِمَّا نَقْتُلُ ؟ إِنَّا لَنَقْتُلُ فِي الْعَامِ الْوَاحِدِ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِينَ أَلْفًا ، قَالَ : " إِنَّهُ لَيْسَ بِقَتْلِكُمْ الْمُشْرِكِينَ ، وَلَكِنْ قَتْلُ بَعْضِكُمْ بَعْضًا " ، قَالُوا : وَمَعَنَا عُقُولُنَا يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : " إِنَّهُ يُنْزَعُ عُقُولُ أَكْثَرِ أَهْلِ ذَلِكَ الزَّمَانِ ، وَيُخَلَّفُ لَهُ هَبَاءٌ مِنَ النَّاسِ ، يَحْسَبُ أَكْثَرُهُمْ أَنَّهُ عَلَى شَيْءٍ ، وَلَيْسُوا عَلَى شَيْءٍ " ، قَالَ أَبُو مُوسَى : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا أَجِدُ لِي وَلَكُمْ مِنْهَا مَخْرَجًا ، إِنْ أَدْرَكَتْنِي وَإِيَّاكُمْ ، إِلَّا أَنْ نَخْرُجَ مِنْهَا كَمَا دَخَلْنَاهَا ، لَمْ نُصِبْ فِيهَا دَمًا وَلَا مَالًا.
مولانا ظفر اقبال
راوی اسید بن ابی اسید نے یہ حدیث سن کر کہا سبحان اللہ ! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا ؟ تو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا ارے کمبخت ! میں تجھے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سنا رہا ہوں اور تو یہ کہہ رہا ہے، ہم میں سے کون جھوٹا ہے ؟ بخدا ! میں حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ پر جھوٹ نہیں بول رہا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ نہیں باندھا۔ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت سے پہلے " ہرج " واقع ہوگا لوگوں نے پوچھا کہ " ہرج " سے کیا مراد ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قتل، لوگوں نے پوچھا اس تعداد سے بھی زیادہ جتنے ہم قتل کردیتے ہیں ؟ ہم تو ہر سال ستر ہزار سے زیادہ لوگ قتل کردیتے تھے ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس سے مراد مشرکین کو قتل کرنا نہیں ہے بلکہ ایک دوسرے کو قتل کرنا مراد ہے لوگوں نے پوچھا کیا اس موقع پر ہماری عقلیں ہمارے ساتھ ہوں گی ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس زمانے کے لوگوں کی عقلیں چھین لی جائیں گی اور ایسے بیوقوف لوگ رہ جائیں گے جو یہ سمجھیں گے وہ کسی دین پر قائم ہیں حالانکہ وہ کسی دین پر نہیں ہوں گے۔ حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر وہ زمانہ آگیا تو میں اپنے اور تمہارے لئے اس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں پاتا الاّ یہ کہ ہم اس سے اسی طرح نکل جائیں جیسے داخل ہوئے تھے اور کسی کے قتل یا مال میں ملوث نہ ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19717
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: مرفوعه صحيح ، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 19718
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، قال : حَدَّثَنِي أَسِيدُ بْنُ أَبِي أَسِيدٍ ، عَن ابْنِ أَبِي مُوسَى ، عَن أَبِيهِ ، أَوْ : عَن ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَن أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُحَلِّقَ حَبِيبَتَهُ حَلْقَةً مِنْ نَارٍ ، فَلْيُحَلِّقْهَا حَلْقَةً مِنْ ذَهَبٍ ، وَمَنْ سَرَّهُ أَنْ يُسَوِّرَ حَبِيبَتَهُ سِوَارًا مِنْ نَارٍ ، فَلْيُسَوِّرْهَا سِوَارًا مِنْ ذَهَبٍ ، وَلَكِنْ الْفِضَّةُ ، فَالْعَبُوا بِهَا لَعِبًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ یا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو اپنے پیارے جسم میں آگ کا چھلا پہننا پسند ہو اسے چاہئے کہ سونے کا چھلا پہن لے جس شخص کو اپنے پیارے جسم پر آگ کا کنگن رکھنا پسند ہو، اسے چاہئے کہ سونے کا کنگن پہن لے، البتہ چاندی کی اجازت ہے اس لئے اسی سے دل لگی کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19718
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لاضطراب أسيد فيه، وقد انفرد به، فمثله لا يحتمل تفرده، وعبدالرحمن بن عبدالله ضعيف وقد أخطأ من جعل حديث أبى موسي شاهدا لحديث أبى هريرة
حدیث نمبر: 19719
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قال : أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ ، عَن قَتَادَةَ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِي مُوسَى ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَافَ مِنْ رَجُلٍ ، أَوْ مِنْ قَوْمٍ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَجْعَلُكَ فِي نُحُورِهِمْ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی شخص یا قوم سے خوف محسوس ہوتا تو یہ دعاء فرماتے کہ اے اللہ ! میں تجھے ان کے سینوں کے سامنے کرتا ہوں اور ان کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19719
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، عمران بن داود ضعيف مضطرب فيه، لكنه توبع
حدیث نمبر: 19720
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قال : حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، قال : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ، عَن أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ إِذَا خَافَ قَوْمًا ، قال : " اللَّهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُورِهِمْ ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی شخص یا قوم سے خوف محسوس ہوتا تو یہ دعاء فرماتے کہ اے اللہ ! میں تجھے ان کے سینوں کے سامنے کرتا ہوں اور ان کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19720
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، إسناده ضعيف، قتادة لم يسمع من أبى بردة
حدیث نمبر: 19721
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو لَيْلَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَن مَزِيدَةَ بْنِ جَابِرٍ ، قال : قَالَتْ أُمِّي : كُنْتُ فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ فِي خِلَافَةِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَعَلَيْنَا أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ ، قَالَ : فَسَمِعَتْهُ يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِصَوْمِ عَاشُورَاءَ ، فَصُومُوا.
مولانا ظفر اقبال
مزیدہ بن جابر اپنی والدہ سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ایک مرتبہ میں کوفہ کی مسجد میں تھی، اس وقت ہمارے امیر حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تھے میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس محرم کا روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے لہٰذا تم بھی روزہ رکھو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19721
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله بن ميسرة وجهالة أم مزيدة
حدیث نمبر: 19722
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَن بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَن رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ ، عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : لَقَدْ صَلَّى بِنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، صَلَاةً ذَكَّرَنَا بِهَا ، صَلَاةً كُنَّا نُصَلِّيهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَسِينَاهَا ، وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ تَرَكْنَاهَا عَمْدًا ، يُكَبِّرُ فِي كُلِّ رَفْعٍ ، وَوَضْعٍ ، وَقِيَامٍ ، وَقُعُودٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز یاد دلا دی ہے جو ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتے تھے جسے ہم بھلا چکے تھے یا عمداً چھوڑ چکے تھے وہ ہر مرتبہ رکوع کرتے وقت، سر اٹھاتے وقت اور سجدے میں جاتے ہوئے اللہ اکبر کہتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19722
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على أبى إسحاق
حدیث نمبر: 19723
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قال : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَن سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَن قَتَادَةَ ، عَن أَبِي غَلَّابٍ ، عَن حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ : عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ ، فَلْيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ ، وَإِذَا قَرَأَ الْإِمَامُ ، فَأَنْصِتُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تعلیم دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ جب تم نماز کے لئے اٹھو تو تم میں سے ایک کو امام بن جانا چاہئے اور جب امام قرأت کرے تو تم خاموش رہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19723
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 404
حدیث نمبر: 19724
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى يَعْنِي الْأَشْيَبَ ، قال : حَدَّثَنَا سُكَيْنُ ابْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قال : أَخْبَرَنَا يَزِيدُ الْأَعْرَجُ قال : عَبْد اللَّهِ : يَعْنِي أَظُنُّهُ الشَّنِّيَّ ، قال : حَدَّثَنَا حَمْزَةُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَخْفَرٍ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ ، قَالَ : فَعَرَّسَ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَانْتبَهْتُ بَعْضَ اللَّيْلِ إِلَى مُنَاخِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْلُبُهُ ، فَلَمْ أَجِدْهُ ، قَالَ : فَخَرَجْتُ بَارِزًا أَطْلُبُهُ ، وَإِذَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطْلُبُ مَا أَطْلُبُ ، قَالَ : فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ ، إِذْ اتَّجَهَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنْتَ بِأَرْضِ حَرْبٍ ، وَلَا نَأْمَنُ عَلَيْكَ ، فَلَوْلَا إِذْ بَدَتْ لَكَ الْحَاجَةُ ، قُلْتَ لِبَعْضِ أَصْحَابِكَ ، فَقَامَ مَعَكَ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي سَمِعْتُ هَزِيزًا كَهَزِيزِ الرَّحَى أَوْ : حَنِينًا كَحَنِينِ النَّحْلِ وَأَتَانِي آتٍ مِنْ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ ، فَخَيَّرَنِي بِأَنْ يَدْخُلَ ثُلْثَ أُمَّتِي الْجَنَّةَ ، وَبَيْنَ الْشَفَاعَةَ لَهُمْ ، فَاخْتَرْتُ لَهُمْ شَفَاعَتِي ، وَعَلِمْتُ أَنَّهَا أَوْسَعُ لَهُمْ ، فَخَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ شَطْرَ أُمَّتِي الْجَنَّةَ ، وَبَيْنَ شَفَاعَتِي لَهُمْ ، فَاخْتَرْتُ شَفَاعَتِي لَهُمْ ، وَعَلِمْتُ أَنَّهَا أَوْسَعُ لَهُمْ " ، قَالَ : فَقَالَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ تَعَالَى أَنْ يَجْعَلَنَا مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِكَ ، قَالَ : فَدَعَا لَهُمَا ، ثُمَّ إِنَّهُمَا نَبَّهَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَخْبَرَاهُمْ بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَجَعَلُوا يَأْتُونَهُ ، وَيَقُولُونَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ تَعَالَى أَنْ يَجْعَلَنَا مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِكَ ، فَيَدْعُوَ لَهُمْ ، قَالَ : فَلَمَّا أَضَبَّ عَلَيْهِ الْقَوْمُ ، وَكَثُرُوا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهَا لِمَنْ مَاتَ وَهُوَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جہاد کے کسی سفر پر روانہ ہوئے رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کیا ایک مرتبہ میں رات کو اٹھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی خواب گاہ میں نہ پایا مجھے طرح طرح کے خدشات اور وساوس پیش آنے لگے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں نکلا تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوگئی ان کی بھی وہی کیفیت تھی جو میری تھی اسی دوران سامنے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آتے ہوئے دکھائی دیئے، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم آپ جنگ کے علاقے میں ہیں ہمیں آپ کی جان کا خطرہ ہے جب آپ کو کوئی ضرورت تھی تو آپ اپنے ساتھ کسی کو کیوں نہیں لے کر گئے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے ایسی آواز سنی جو چکی کے چلنے سے پیدا ہوتی ہے یا جیسے مکھیوں کی بھنبھناہٹ ہوتی ہے۔ میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا تھا اور اس نے مجھے ان دو میں سے کسی ایک بات کا اختیار دیا کہ میری نصف امت جنت میں داخل ہوجائے یا مجھے شفاعت کا اختیار مل جائے تو میں نے شفاعت والے پہلو کو ترجیح دے لی دونوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے دعاء کر دیجئے کہ وہ آپ کی شفاعت میں ہمیں بھی شامل کر دے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے دعاء کردی بعد میں ان دونوں دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو بھی اس کے متعلق بتایا تو وہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے لگے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے دعا کر دیجئے کہ وہ ہمیں بھی آپ کی شفاعت میں شامل کر دے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے دعاء فرما دیتے جب یہ سلسلہ زیادہ ہی بڑھ گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا کہ ہر وہ شخص بھی جو اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو میری شفاعت میں شامل ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19724
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: قوله ﷺ فى الشفاعة: إنها لمن مات ....إلا الله صحيح لغيره، وقوله : خيرني .... فاخترت شفاعتي لهم ، حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حمزة بن علي