حدیث نمبر: 19645
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَن عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَن سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَن أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أُحِلَّ لُبْسُ الْحَرِيرِ وَالذَّهَبِ لِنِسَاءِ أُمَّتِي ، وَحُرِّمَ عَلَى ذُكُورِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ریشم اور سونا یہ دونوں میری امت کی عورتوں کے لئے حلال اور مردوں کے لئے حرام ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19645
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بشواهده، وهذا إسناد منقطع، سعيد بن أبى هند لم يلق أبا موسي
حدیث نمبر: 19646
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ يَعْنِي ابْنَ عُمَارَةَ ، حَدَّثَنَا غُنَيْمُ بْنُ قَيْسٍ ، عَن أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كُلُّ عَيْنٍ زَانِيَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر آنکھ بدکاری کرتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19646
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده جيد
حدیث نمبر: 19647
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، حَدَّثَنَا سَيَّارٌ أَبُو الْحَكَمِ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِيهِ ، قَالَ : قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِنَّ لِأَهْلِ الْيَمَنِ شَرَابَيْنِ ، أَوْ أَشْرِبَةً ، هَذَا الْبِتْعُ مِنَ الْعَسَلِ ، وَالْمِزْرُ مِنَ الذُّرَةِ وَالشَّعِيرِ ، فَمَا تَأْمُرُنِي فِيهِمَا ؟ قَالَ : " أَنْهَاكُمْ عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (مجھے یمن کی طرف بھیجا) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہاں کچھ مشروبات رائج ہیں ایک تو تبع جو شہد سے بنتی ہے اور ایک مزر ہے اور وہ جو سے بنتی ہے آپ مجھے اس کے متعلق کیا حکم دیتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی نشہ آور چیز مت پینا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19647
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19648
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَن التَّيْمِيِّ ، عَن أَبِي عُثْمَانَ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ : أَخَذَ الْقَوْمُ فِي عُقْبَةٍ أَوْ ثَنِيَّةٍ ، فَكُلَّمَا عَلَا رَجُلٌ عَلَيْهَا ، نَادَى : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَةٍ يَعْرِضُهَا فِي الْخَيْلِ ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا " . ثُمَّ قَالَ : " يَا أَبَا مُوسَى أَوْ : يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ : أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : بَلَى ، قَالَ : " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی جہاد کے سفر میں تھے جس ٹیلے یا بلند جگہ پر چڑھتے یا کسی نشیب میں اترتے تو بلند آواز سے تکبیر کہتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے قریب آکر فرمایا لوگو ! اپنے ساتھ نرمی کرو، تم کسی بہرے یا غائب اللہ کو نہیں پکار رہے، تم سمیع وبصیر کو پکار رہے ہو جو تمہاری سواری کی گردن سے بھی زیادہ تمہارے قریب ہے، اے عبداللہ بن قیس کیا میں تمہیں جنت کے ایک خزانے کے متعلق نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں فرمایا لاحول ولاقوۃ الا باللہ (جنت کا ایک خزانہ ہے )
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19648
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2992، م: 2704
حدیث نمبر: 19649
حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْجُعَيْدُ ، عَن يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ بَشِيرٍ بْنِ الْمُحَرَّرِ ، عَن مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ ، عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا يُقَلِّبُ كَعَبَاتِهَا أَحَدٌ يَنْتَظِرُ مَا تَأْتِي بِهِ ، إِلَّا عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص گوٹیوں کے ساتھ کھیلتا ہے وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19649
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، حميد بن بشير لا بأس به فى الشواهد
حدیث نمبر: 19650
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَن مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَن مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مُؤْمِنٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، إِلَّا يَأْتِي بِيَهُودِيٍّ ، أَوْ نَصْرَانِيٍّ ، يَقُولُ : هَذَا فِدَايَ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن ہر مسلمان ایک یہودی یا عیسائی کو لے کر آئے گا اور کہے گا کہ یہ جہنم سے بچاؤ کے لئے میری طرف سے فدیہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19650
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح بغير هذه السياقة ، م: 2767، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى معشر ومصعب بن ثابت
حدیث نمبر: 19651
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَن عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَن أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ : سَمَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْسَهُ أَسْمَاءً ، مِنْهَا مَا حَفِظْنَا ، قَالَ : " أَنَا مُحَمَّدٌ ، وَأَحْمَدُ ، والْمُقَفِّي ، وَالْحَاشِرُ ، وَنَبِيُّ التَّوْبَةِ ، والْمَلْحَمَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے کچھ نام بتائے جو ہمیں پہلے سے یاد اور معلوم نہ تھے چناچہ فرمایا کہ میں محمد ہوں، احمد، مقفی، حاشر اور نبی التوبہ اور نبی الملحمہ ہوں صلی اللہ علیہ وسلم ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19651
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، 2355، المسعودي اختلط، لكن رواه قبل اختلاطه
حدیث نمبر: 19652
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةَ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو مُوسَى : يَا بُنَيَّ ، كَيْفَ لَوْ رَأَيْتَنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرِيحُنَا رِيحُ الضَّأْنِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ اپنے بیٹے ابوبردہ سے کہا کہ بیٹا ! اگر تم نے وہ وقت دیکھا ہوتا تو کیسا لگتا کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتے تھے اور ہمارے اندر سے بھیڑ بکریوں جیسی مہک آرہی ہوتی تھی، (موٹے کپڑوں پر بارش کا پانی پڑنے کی وجہ سے )
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19652
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، أبو هلال ضعيف، لكنه توبع
حدیث نمبر: 19653
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَ أَبُو الزِّنَادِ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ نَافِعٍ بْنِ عَبْدِ الْحَارِثِ الْخُزَاعِيَّ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى أَخْبَرَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي حَائِطٍ بِالْمَدِينَةِ ، عَلَى قُفِّ الْبِئْرِ مُدَلِّيًا رِجْلَيْهِ ، فَدَقَّ الْبَابَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ائْذَنْ لَهُ ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " ، فَفَعَلَ ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَدَلَّى رِجْلَيْهِ ، ثُمَّ دَقَّ الْبَابَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ائْذَنْ لَهُ ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " ، فَفَعَلَ ، ثُمَّ دَقَّ الْبَابَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ائْذَنْ لَهُ ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ ، وَسَيَلْقَى بَلَاءً " فَفَعَلَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی باغ میں تھا ایک آدمی آیا اور اس نے سلام کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ اسے اجازت دے دو اور جنت کی خوشخبری بھی سنادو میں گیا تو وہ حضرت ابوبکرصدق رضی اللہ عنہ تھے میں نے ان سے کہا کہ اندر تشریف لے آئیے اور جنت کی خوشخبری قبول کیجئے وہ مسلسل اللہ کی تعریف کرتے ہوئے ایک جگہ پر بیٹھ گئے پھر دوسرا آدمی آیا اس نے بھی سلام کیا نبی کریم نے فرمایا اسے بھی اجازت اور خوشخبری دے دو میں گیا تو وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے میں نے ان سے کہا کہ اندر تشریف لے آئیے اور جنت کی خوشخبری قبول کیجئے وہ مسلسل اللہ کی تعریف کرتے ہوئے ایک جگہ پر بیٹھ گئے پھر تیسرا آدمی آیا اس نے بھی سلام کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جا کر اسے بھی اجازت دے دو اور ایک امتحان کے ساتھ جنت کی خوشخبری سنادو میں گیا تو وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے چناچہ ایسا ہی ہوا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19653
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3674، م: 2403، عبدالرحمن بن نافع مجهول لكنه توبع
حدیث نمبر: 19654
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَن عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَن عُمَارَةَ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَجْمَعُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْأُمَمَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَإِذَا بَدَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَصْدَعَ بَيْنَ خَلْقِهِ ، مَثَّلَ لِكُلِّ قَوْمٍ مَا كَانُوا يَعْبُدُونَ ، فَيَتْبَعُونَهُمْ حَتَّى يُقْحِمُونَهُمْ النَّارَ ، ثُمَّ يَأْتِينَا رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ ، وَنَحْنُ عَلَى مَكَانٍ رَفِيعٍ ، فَيَقُولُ : مَنْ أَنْتُمْ ؟ فَنَقُولُ : نَحْنُ الْمُسْلِمُونَ ، فَيَقُولُ : مَا تَنْتَظِرُونَ ؟ فَيَقُولُونَ : نَنْتَظِرُ رَبَّنَا عَزَّ وَجَلَّ " ، قَالَ : " فَيَقُولُ : وَهَلْ تَعْرِفُونَهُ إِنْ رَأَيْتُمُوهُ ؟ فَيَقُولُونَ : نَعَمْ ، فَيَقُولُ : كَيْفَ تَعْرِفُونَهُ وَلَمْ تَرَوْهُ ؟ فَيَقُولُونَ : نَعَمْ ، إِنَّهُ لَا عِدْلَ لَهُ ، فَيَتَجَلَّى لَنَا ضَاحِكًا ، يَقُولُ : أَبْشِرُوا أَيُّهَا الْمُسْلِمُونَ ، فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا جَعَلْتُ مَكَانَهُ فِي النَّارِ يَهُودِيًّا ، أَوْ نَصْرَانِيًّا " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ساری امتوں کو ایک ٹیلے پر جمع فرمائے گا جب اللہ تعالیٰ اپنی ساری مخلوق کا امتحان شروع کرے گا تو ہر قدم کے سامنے اس چیز کی تصویر آجائے جس کی وہ عبادت کرتے تھے وہ ان کے پیچھے چلنے لگیں گے اور اس طرح جہنم میں گرجائیں گے پھر ہمارا رب ہمارے پاس آئے گا ہم اس وقت ایک بلند جگہ پر ہوں گے وہ پوچھے گا کہ تم کون ہو ؟ ہم کہیں گے کہ ہم مسلمان ہیں وہ کہے گا کہ تم کس کا انتظار کررہے ہو ؟ ہم کہیں گے کہ اپنے رب کا انتظار کررہے ہیں وہ پوچھے گا کہ اگر تم اسے دیکھو تو پہچان لو گے ہم کہیں گے جی ہاں وہ کہے گا کہ جب تم نے اسے دیکھا ہی نہیں ہے تو کیسے پہچانو گے ؟ ہم کہیں گے کہ ہاں ! اس کی کوئی مثال نہیں ہے پھر وہ مسکراتا ہوا اپنی تجلی ہمارے سامنے ظاہر کرے گا اور فرمایا مسلمانو ! خوش ہوجاؤ تم میں سے ایک بھی ایسا نہیں ہے جس کی جگہ پر میں نے کسی یہودی یا عیسائی کو جہنم میں نہ ڈال دیاہو۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے لیکن اس کے آغاز میں یہ ہے کہ عمارہ قرشی کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک وفد لے کر حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے پاس گئے جس میں ابوبردہ رحمہ اللہ بھی شامل تھے، انہوں نے ہماری ضرورت پوری کردی ہم وہاں سے نکل آئے لیکن حضرت ابوبردہ رحمہ اللہ دوبارہ ان کے پاس چلے گئے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے پوچھا شیخ کو کوئی اور بات یاد آگئی ہے ؟ اب کیا چیز آپ کو واپس لائی ؟ کیا آپ کی ضرورت پوری نہیں ہوئی ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! ایک حدیث ہے جو میرے والدنے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے سنائی تھی پھر انہوں نے مذکورہ حدیث سنائی عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے پوچھا کیا واقعی آپ نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے ؟ انہوں نے کہا جی ہاں ! میں نے اپنے والد کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19654
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: قوله: وليس منكم أحد إلا جعلت مكانه فى النار يهوديا أو نصرانيا صحيح، م: 2767، وهذا أسناد ضعيف لضعف على بن زيد وجهالة عمارة
حدیث نمبر: 19655
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَن عُمَارَةَ الْقُرَشِيِّ ، قَالَ : وَفَدْنَا إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَفِينَا أَبُو بُرْدَةَ ، فَقَضَى حَاجَتَنَا ، فَلَمَّا خَرَجَ أَبُو بُرْدَةَ ، رَجَعَ ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ : أَذْكُرُ الشَّيْخَ ، قَالَ : مَا رَدَّكَ ؟ أَلَمْ أَقْضِ حَوَائِجَكَ ؟ قَالَ : فَقَالَ أَبُو بُرْدَةَ : إِلَّا حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ أَبِي ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَجْمَعُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْأُمَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ لِأَبِي بُرْدَةَ : آللَّهِ لَسَمِعْتَ أَبَا مُوسَى يُحَدِّثُ بِهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : نَعَمْ ، لَأَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي يُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19655
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: راجع ما قبله
حدیث نمبر: 19656
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ ، وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَن أَبِي حَصِينٍ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَعْتَقَ الرَّجُلُ أَمَتَهُ ، ثُمَّ تَزَوَّجَهَا بِمَهْرٍ جَدِيدٍ ، كَانَ لَهُ أَجْرَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کے پاس کوئی باندی ہو اور وہ اسے آزاد کر کے اس سے نئے مہر کے ساتھ نکاح کرلے تو اسے دہرا اجرملے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19656
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 97، م: 154
حدیث نمبر: 19657
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِيهِ ، رَفَعَهُ قَالَ : " تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا ، فَإِنْ سَكَتَتْ فَقَدْ أَذِنَتْ ، وَإِنْ أَبَتْ ، فَلَا تُزَوَّجْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بالغ لڑکی سے اس کے نکاح کی اجازت لی جائے گی، اگر وہ خاموش رہے تو گویا اس نے اجازت دے دی اور اگر وہ انکار کردے تو اسے اس رشتے پر مجبور نہ کیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19657
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19658
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، حَدَّثَنَا رَبِيعٌ يَعْنِي أَبَا سَعِيدٍ النَّصْرِيَّ ، عَن مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ . قَالَ أَبُو بُرْدَةَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ مَرْحُومَةٌ ، جَعَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَذَابَهَا بَيْنَهَا ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ ، دُفِعَ إِلَى كُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْأَدْيَانِ ، فَيُقَالُ : هَذَا يَكُونُ فِدَاءَكَ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ امت، امت مرحومہ ہے اللہ نے اس کا عذاب ان کے درمیان ہی رکھ دیا ہے، جب قیامت کا دن آئے گا تو ان میں سے ہر ایک کو دوسرے ادیان و مذاہب کا ایک ایک آدمی دے کر کہا جائے گا کہ یہ شخص جہنم سے بچاؤ کا تمہارے لئے فدیہ ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19658
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، ربيع أبو سعيد النصري مجهول
حدیث نمبر: 19659
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيُّ ، عَن حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ يُقَالُ لَهُ : حَمَمَةُ ، مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى أَصْبَهَانَ غَازِيًا فِي خِلَافَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ إِنَّ حَمَمَةَ يَزْعُمُ أَنَّهُ يُحِبُّ لِقَاءَكَ ، فَإِنْ كَانَ حَمَمَةُ صَادِقًا ، فَاعْزِمْ لَهُ بِصِدْقِهِ ، وَإِنْ كَانَ كَاذِبًا ، فَاعْزِمْ عَلَيْهِ ، وَإِنْ كَرِهَ ، اللَّهُمَّ لَا تَرُدَّ حَمَمَةَ مِنْ سَفَرِهِ هَذَا ، قَالَ : فَأَخَذَهُ الْمَوْتُ وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً : الْبَطْنُ فَمَاتَ بأَصْبَهَانَ ، قَالَ : فَقَامَ أَبُو مُوسَى ، فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّا وَاللَّهِ مَا سَمِعْنَا فِيمَا سَمِعْنَا مِنْ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَا بَلَغَ عِلْمَنَا ، إِلَّا أَنَّ : حَمَمَةَ شَهِيدٌ .
مولانا ظفر اقبال
حمید بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ ایک آدمی تھا جس کا نام " حممہ " تھا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہ میں سے تھا وہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں جہاد کے لئے اصفہان کی طرف روانہ ہوا اور یہ دعاء کی کہ اے اللہ ! حممہ کا یہ خیال ہے کہ وہ تجھ سے ملنے کو پسند کرتا ہے اگر حممہ سچا ہے تو اس کی سچائی اور عزم کو پورا فرما اور اگر وہ جھوٹا ہے تو اسے اس کا عزم عطاء فرما اگرچہ اسے ناپسند ہی ہو اے اللہ ! حممہ کو اس سفر سے واپس نہ لوٹا، چناچہ اسے موت نے آلیا اور وہ اصفہان میں ہی فوت ہوگیا حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے لوگو ! ہم نے تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنا اور جہاں تک ہمارا علم پہنچتا ہے وہ یہی ہے کہ حممہ شہید ہوا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19659
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح إن ثبت سماع حميد بن عبدالرحمن لهذه القصة من أبى موسي
حدیث نمبر: 19660
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَن أَبِي كَبْشَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ ، كَمَثَلِ الْعَطَّارِ ، إِنْ لَا يُحْذِكَ يَعْبَقُ بِكَ مِنْ رِيحِهِ ، وَمَثَلُ الْجَلِيسِ السَّوْءِ كَمَثَلِ صَاحِبِ الْكِيرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھے ہم نشین کی مثال عطار کی سی ہے کہ اگر وہ اپنے عطر کی شیشی تمہارے قریب بھی نہ لائے تو اس کی مہک تم تک پہنچے گی اور برے ہم نشین کی مثال بھٹی کی سی ہے کہ اگر وہ تمہیں نہ بھی جلائے تب بھی اس کی گرمی اور شعلے تو تم تک پہنچیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19660
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى كبشة، وقد اختلف فيه على عاصم الأحول
حدیث نمبر: 19661
قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا سُمِّيَ الْقَلْبُ مِنْ تَقَلُّبِهِ ، إِنَّمَا مَثَلُ الْقَلْبِ كَمَثَلِ رِيشَةٍ مُعَلَّقَةٍ فِي أَصْلِ شَجَرَةٍ ، يُقَلِّبُهَا الرِّيحُ ظَهْرًا لِبَطْنٍ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قلب کو قلب اس لئے کہتے ہیں کہ وہ پلٹتا رہتا ہے اور دل کی مثال تو اس پر کی سی ہے جو کسی درخت کی جڑ میں پڑا ہو اور ہوا اسے الٹ پلٹ کرتی رہتی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19661
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى كبشة، وقد اختلف فيه على عاصم الأحول
حدیث نمبر: 19662
قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فِتَنًا ، كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا ، وَيُمْسِي كَافِرًا ، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا ، وَيُصْبِحُ كَافِرًا ، الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ ، وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي ، وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي " ، قَالُوا : فَمَا تَأْمُرُنَا ؟ قَالَ : " كُونُوا أَحْلَاسَ بُيُوتِكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے آگے تاریک رات کے حصوں کی طرح فتنے آرہے ہیں اس زمانے میں ایک آدمی صبح کو مسلمان اور شام کو کافر ہوگا یا شام کو مسلمان اور صبح کو کافر ہوگا، اس زمانے میں بیٹھا ہوا شخص کھڑے ہوئے سے، کھڑا ہوا چلنے والے سے اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا پھر آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے گھر کا ٹاٹ بن جانا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19662
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، راجع ما قبله
حدیث نمبر: 19663
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَرْوَانَ ، عَن الْهُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَن أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَسِّرُوا قِسِيَّكُمْ ، وَقَطِّعُوا أَوْتَارَكُمْ " يَعْنِي فِي الْفِتْنَةِ " وَالْزَمُوا أَجْوَافَ الْبُيُوتِ ، وَكُونُوا فِيهَا كَالْخَيِّرِ مِنَ ابَنِي آدَمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فتنوں کے زمانے میں اپنی کمانیں توڑ دینا تانتیں کاٹ دینا اپنے گھروں کے ساتھ چمٹ جانا اور حضرت آدم کے بہترین بیٹے (ہابیل) کی طرح ہوجانا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19663
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 19664
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَن قَتَادَةَ ، عَن أَنَسٍ ، عَن أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الْأُتْرُجَّةِ ، طَعْمُهَا طَيِّبٌ ، وَرِيحُهَا طَيِّبٌ ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ التَّمْرَةِ ، طَعْمُهَا طَيِّبٌ ، وَلَا رِيحَ لَهَا ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ ، طَيِّبٌ رِيحُهَا ، وَلَا طَعْمَ لَهَا " ، وَقَالَ يَحْيَى مَرَّةً : " طَعْمُهَا مُرٌّ ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الْحَنْظَلَةِ ، لَا رِيحَ لَهَا ، وَطَعْمُهَا خَبِيثٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس مسلمان کی مثال جو قرآن کریم پڑھتا ہے اترج کی سی ہے جس کا ذائقہ بھی عمدہ ہوتا ہے اور اس کی مہک بھی عمدہ ہوتی ہے، اس مسلمان کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا کھجور کی سی ہے جس کا ذائقہ تو عمدہ ہوتا ہے لیکن اس کی مہک نہیں ہوتی، اس گنہگار کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے ریحان کی سی ہے جس کا ذائقہ تو کڑوا ہوتا ہے لیکن مہک عمدہ ہوتی ہے۔ اور اس فاجر کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا اندرائن کی سی ہے جس کا ذائقہ بھی کڑوا ہوتا ہے اور اس کی مہک بھی نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19664
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5059، م: 797
حدیث نمبر: 19665
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَن يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَن حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ : أَنَّ الْأَشْعَرِيَّ صَلَّى بِأَصْحَابِهِ صَلَاةً ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ حِينَ جَلَسَ فِي صَلَاتِهِ : أَقَرَّتْ الصَّلَاةُ بِالْبِرِّ وَالزَّكَاةِ ، فَلَمَّا قَضَى الْأَشْعَرِيُّ صَلَاتَهُ ، أَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ ، فَقَالَ : أَيُّكُمْ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا ؟ فَأَرَمَّ الْقَوْمُ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : قَالَ أَبِي : أَرَمَّ : السُّكُوتُ قَالَ : لَعَلَّكَ يَا حِطَّانُ قُلْتَهَا لِحِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : وَاللَّهِ إِنْ قُلْتُهَا ، وَلَقَدْ رَهِبْتُ أَنْ تَبْعَكَنِي بِهَا ، قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : أَنَا قُلْتُهَا ، وَمَا أَرَدْتُ بِهَا إِلَّا الْخَيْرَ ، فَقَالَ الْأَشْعَرِيُّ : أَلَا تَعْلَمُونَ مَا تَقُولُونَ فِي صَلَاتِكُمْ ؟ فَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا ، فَعَلَّمَنَا سُنَّتَنَا ، وَبَيَّنَ لَنَا صَلَاتَنَا ، فَقَالَ : " أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ ، ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمْ أَقْرَؤُكُمْ ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا ، وَإِذَا قَالَ : وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 ، فَقُولُوا : آمِينَ ، يُجِبْكُمْ اللَّهُ ، فَإِذَا كَبَّرَ الْإِمَامُ ، وَرَكَعَ ، فَكَبِّرُوا وَارْكَعُوا ، فَإِنَّ الْإِمَامَ يَرْكَعُ قَبْلَكُمْ ، وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ ، قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَتِلْكَ بِتِلْكَ ، فَإِذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، فَقُولُوا : اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ، يَسْمَعْ اللَّهُ لَكُمْ ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، وَإِذَا كَبَّرَ الْإِمَامُ وَسَجَدَ ، فَكَبِّرُوا وَاسْجُدُوا ، فَإِنَّ الْإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ ، وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ " ، قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَتِلْكَ بِتِلْكَ ، فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ ، فَلْيَكُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِ أَحَدِكُمْ أَنْ يَقُولَ : التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حطان بن عبداللہ کہتے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی، دوران نماز جب " جلسے " میں بیٹھے تو ایک کہنے لگا کہ نماز کو نیکی اور زکوٰۃ سے قرار دیا گیا ہے نماز سے فارغ ہو کر حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر پوچھا کہ تم میں سے کس نے یہ کلمہ کہا ہے ؟ لوگ خاموش رہے انہوں نے حطان سے کہا کہ حطان ! شاید تم نے یہ جملہ کہا ہے ؟ حطان نے کہا کہ اللہ کی قسم ! میں نے یہ جملہ نہیں کہا اور میں اسی سے ڈررہا تھا کہ کہیں آپ مجھے بیوقوف نہ قرار دے دیں، پھر ایک آدمی بولا کہ میں نے ہی جملہ کہا ہے اور صرف خیرہی کی نیت سے کہا ہے۔ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ نماز میں کیا پڑھنا چاہئے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ہمیں ایک مرتبہ خطبہ دیا تھا اور اس میں ہمارے سامنے سنتیں اور نماز کا طریقہ واضح کردیا تھا اور فرمایا تھا صفیں سیدھی رکھا کرو پھر جو زیادہ قرآن پڑھا ہوا ہو وہ امام کرائے جب وہ تکبیر کہیں تو تم بھی تکبیر کہو، جب وہ ولا الضالین کہے تو تم آمین کہو، اللہ تمہاری پکار کو قبول کرے گا جب وہ تکبیر کہہ کر رکوع میں جائے تو تم بھی تکبیر کہہ کر رکوع کرو کیونکہ امام تم سے پہلے رکوع کرے گا اور تم سے پہلے سر اٹھائے گا یہ تو برابر برابر ہوگیا۔ جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنالک الحمد کہو اللہ تمہاری پکار کیونکہ اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ فرمایا ہے کہ جو اللہ کی تعریف کرتا ہے اللہ اس کی سن لیتا ہے جب وہ تکبیر کہہ کر سجدے میں جائے تو تم بھی تکبیر کہہ کر سجدہ کرو کیونکہ امام تم سے پہلے سجدہ کرے گا اور سر اٹھائے گا اور یہ بھی برابر برابر ہوگیا۔ جب وہ قعدے میں بیٹھے تو سب سے پہلے تمہیں یوں کہنا چاہئے التحیات الطیبات الصلوات للہ السلام علیک ایہا النبی ورحمتہ اللہ وبرکاتہ السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین اشہدان لا الہ الا اللہ واشہدان محمدا عبدہ ورسولہ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19665
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 404
حدیث نمبر: 19666
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ : أَقْبَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَعِي رَجُلَانِ مِنَ الْأَشْعَرِيِّينَ ، أَحَدُهُمَا عَنْ يَمِينِي ، وَالْآخَرُ عَنْ يَسَارِي ، فَكِلَاهُمَا سَأَلَ الْعَمَلَ ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَاكُ ، قَالَ : " مَا تَقُولُ يَا أَبَا مُوسَى ، أَوْ : يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، مَا أَطْلَعَانِي عَلَى مَا فِي أَنْفُسِهِمَا ، وَمَا شَعُرْتُ أَنَّهُمَا يَطْلُبَانِ الْعَمَلَ ، قَالَ : فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى سِوَاكِهِ تَحْتَ شَفَتِهِ ، قَلَصَتْ ، قَالَ : " إِنِّي ، أَوْ : لَا نَسْتَعْمِلُ عَلَى عَمَلِنَا مَنْ أَرَادَهُ ، وَلَكِنْ اذْهَبْ أَنْتَ يَا أَبَا مُوسَى ، أَوْ : يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ " ، فَبَعَثَهُ عَلَى الْيَمَنِ ، ثُمَّ أَتْبَعَهُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِ ، قَالَ : انْزِلْ ، وَأَلْقَى لَهُ وِسَادَةً ، فَإِذَا رَجُلٌ عِنْدَهُ مُوثَقٌ ، قَالَ : " مَا هَذَا ؟ " قَالَ : كَانَ يَهُودِيًّا ، فَأَسْلَمَ ، ثُمَّ رَاجَعَ دِينَهُ دِينَ السَّوْءِ ، فَتَهَوَّدَ ، قَالَ : لَا أَجْلِسُ حَتَّى يُقْتَلَ ، قَضَاءُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، ثَلَاثَ مِرَارٍ ، فَأَمَرَ بِهِ ، فَقُتِلَ ، ثُمَّ تَذَاكَرْنَا قِيَامَ اللَّيْلِ ، فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ : أَمَّا أَنَا فَأَنَامُ وَأَقُومُ ، أَوْ : أَقُومُ وَأَنَامُ ، وَأَرْجُو فِي نَوْمَتِي مَا أَرْجُو فِي قَوْمَتِي.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اشعریین کے آدمی بھی تھے جن میں سے ایک میری دائیں جانب اور دوسرا بائیں جانب تھا اس قوت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسواک فرما رہے تھے ان دونوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی عہدہ مانگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ابوموسیٰ ! تم کیا کہتے ہو ؟ میں نے عرض کیا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ان دونوں نے مجھے اپنے اس خیال سے آگاہ نہیں کیا تھا اور نہ میں ہی سمجھتا تھا کہ یہ لوگ کسی عہدے کی درخواست کرنے والے ہیں وہ منظر اس وقت بھی میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسواک ہونٹ کے نیچے آگئی ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم کسی ایسے شخص کو کوئی عہدہ نہیں دیتے جو ہم سے اس کا مطالبہ کرتا ہے البتہ اے ابوموسیٰ ! تم جاؤ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن بھیج دیا پھر ان کے پیچھے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو روانہ کردیا حضرت معاذ رضی اللہ عنہ جب وہاں پہنچے تو حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا تشریف لائیے اور ان کے لئے تکیہ رکھا وہاں ! ایک آدمی رسیوں سے بندھا ہوا نظر آیا تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ اس کا کیا ماجرا ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ ایک یہودی تھا اس نے اسلام قبول کرلیا بعد میں اپنے ناپسندیدہ دین کی طرف لوٹ گیا اور دوبارہ یہودی ہوگیا، حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تو اس وقت نہیں بیٹھوں گا جب تک اسے قتل نہیں کردیا جاتا، یہ اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ ہے (یہ بات تین مرتبہ کہی) چناچہ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا اور اسے قتل کردیا گیا، پھر ہم قیام اللیل کی باتیں کرنے لگے تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تو سوتا بھی ہوں اور قیام بھی کرتا ہوں، قیام بھی کرتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور اپنی نیند میں بھی اتنے ہی ثواب کی امید رکھتا ہوں جتنے ثواب کی امید قیام پر رکھتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19666
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2261، م: 1733
حدیث نمبر: 19667
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَن سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَن جَدِّهِ ، عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَهُ السَّائِلُ أَوْ ذُو الْحَاجَةِ ، قَالَ : " اشْفَعُوا تُؤْجَرُوا ، وَلْيَقْضِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى لِسَانِ رَسُولِهِ مَا شَاءَ " . وَقَالَ : " الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ ، يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا " . وَقَالَ : " الْخَازِنُ الْأَمِينُ الَّذِي يُؤَدِّي مَا أُمِرَ بِهِ طَيِّبَةً بِهِ نَفْسُهُ ، أَحَدُ الْمُتَصَدِّقِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی سائل آتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں فرماتے تم اس کی سفارش کرو تمہیں اجر ملے گا اور اللہ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر وہی فیصلہ جاری فرمائے گا جو اسے محبوب ہوگا۔ اور فرمایا ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لئے عمارت کی طرح ہوتا ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔ اور امانت دارخزانچی وہ ہوتا ہے کہ اسے جس چیز کا حکم دیا جائے وہ اسے مکمل، پورا اور دل کی خوشی کے ساتھ ادا کردے تاکہ صدقہ کرنے والوں نے جسے دینے کا حکم دیا ہے اس تک وہ چیز پہنچ جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19667
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1432
حدیث نمبر: 19668
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ يَحْيَى فِي حَدِيثِهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ . قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ : عَن مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ ، عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كَمُلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ ، وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ غَيْرُ مَرْيَمَ بِنْتِ عِمْرَانَ ، وَآسِيَةَ امْرَأَةِ فِرْعَوْنَ ، وَإِنَّ فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ ، كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مردوں میں سے کامل افراد تو بہت گذرے ہیں لیکن عورتوں میں کامل عورتیں صرف حضرت آسیہ رضی اللہ عنہ " جو فرعون کی بیوی تھیں " اور حضرت مریم (علیہا السلام) گذری ہیں اور تمام عورتوں پر عائشہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت ایسی ہے جیسے تمام کھانوں پر ثرید کو فضیلت حاصل ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19668
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3411، م: 2431
حدیث نمبر: 19669
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو الْعُمَيْسِ ، عَن قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَن طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ : كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ يَوْمًا تَصُومُهُ اليهود ، تَتَّخِذُهُ عِيدًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صُومُوهُ أَنْتُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہودی لوگ یوم عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے اور اسے عید کے طور پر مناتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس دن کا روزہ رکھا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19669
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2005، م: 1131
حدیث نمبر: 19670
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَن طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ ، دُفِعَ إِلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمِلَلِ ، فَيُقَالَ لَهُ : هَذَا فِدَاؤُكَ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب قیامت کا دن آئے گا تو ہر ایک مسلمان کو دوسرے ادیان و مذاہب کا ایک ایک آدمی دے کر کہا جائے گا کہ یہ شخص جہنم سے بچاؤ کا تمہارے لئے فدیہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19670
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2767، وهذا إسناده حسن
حدیث نمبر: 19671
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَن قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَن طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو مُوسَى : قَدِمْتُ مِنَ الْيَمَنِ ، قَالَ : فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بِمَ أَهْلَلْتَ ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : بِإِهْلَالٍ كَإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَقَالَ : " هَلْ مَعَكَ مِنْ هَدْيٍ ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَعْنِي لَا ، قَالَ : فَأَمَرَنِي ، فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ ، وَبَيْنَ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ ، ثُمَّ أَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ قَوْمِي ، فَمَشَطَتْ رَأْسِي ، وَغَسَلَتْهُ ، ثُمَّ أَحْلَلْتُ ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ ، قَالَ : فَكُنْتُ أُفْتِي النَّاسَ بِذَلِكَ إِمَارَةَ أَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا ، فَبَيْنَا أَنَا وَاقِفٌ فِي سُوقِ الْمَوْسِمِ ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَسَارَّنِي ، فَقَالَ : إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي شَأْنِ النُّسُكِ ، قَالَ : قُلْتُ : أَيُّهَا النَّاسُ ، مَنْ كُنَّا أَفْتَيْنَاهُ فِي شَيْءٍ فَلْيَتَّئِدْ ، فَهَذَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ قَادِمٌ عَلَيْكُمْ ، فَبِهِ فَأْتَمُّوا ، قَالَ : فَقَالَ لِي : إِنْ نَأْخُذْ بِكِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى ، فَإِنَّهُ يَأْمُرُ بِالتَّمَامِ ، وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّةِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِنَّهُ لَمْ يَحِلَّ ، حَتَّى نَحَرَ الْهَدْيَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی قوم کے علاقے میں بھیج دیا، جب حج کاموسم قریب آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حج کے لئے تشریف لے گئے میں نے بھی حج کی سعادت حاصل کی، میں جب حاضرخدمت میں ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابطح میں پڑاؤ کئے ہوئے تھے مجھ سے پوچھا کہ اے عبداللہ بن قیس ! تم نے کس نیت سے احرام باندھا ؟ میں نے عرض کیا " لبیک بحج کحج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ کر، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت اچھایہ بتاؤ کہ کیا اپنے ساتھ ہدی کا جانور لائے ہو ؟ میں نے کہا نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جا کر بیت اللہ کا طواف کرو، صفا مروہ کے درمیان سعی کرو اور حلال ہوجاؤ۔ چناچہ میں چلا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق کرلیا پھر اپنی قوم کی ایک عورت کے پاس آیا، اس نے " خطمی " سے میرا سر دھویا اور میرے سر کی جوئیں دیکھیں، پھر میں نے آٹھ دی الحج کو حج کا احرام باندھ لیا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال تک لوگوں کو یہی فتویٰ دیتا رہا جس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بھی یہی صورت حال رہی جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو ایک دن میں حجر اسود کے قریب کھڑا ہوا تھا اور لوگوں کو یہی مسئلہ بتارہا تھا جس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا کہ اچانک ایک آدمی آیا اور سرگوشی میں مجھ سے کہنے لگا کہ یہ فتویٰ دینے میں جلدی سے کام مت لیجئے کیونکہ امیرالمومنین نے مناسک حج کے حوالے سے کچھ نئے احکام جاری کئے ہیں۔ میں نے لوگوں سے کہا کہ اے لوگو ! جسے ہم نے مناسک حج کے حوالے سے کوئی فتویٰ دیا ہو وہ انتظار کرے کیونکہ امیرالمؤمنین آنے والے ہیں آپ ان ہی کی اقتداء کریں، پھر جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے تو میں نے ان سے پوچھا اے امیرالمؤمنین ! کیا مناسک حج کے حوالے سے آپ نے کچھ نئے احکام جاری کئے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! اگر ہم کتاب اللہ کو لیتے ہیں تو وہ ہمیں اتمام کا حکم دیتی ہے اور اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو لیتے ہیں تو انہوں نے قربانی کرنے تک احرام نہیں کھولا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19671
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1559، م: 1221
حدیث نمبر: 19672
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ الْكِنْدِيُّ ، عَن سَعِيدٍ بن أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِيهِ ، عَن جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَأَتُوبُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي كُلِّ يَوْمٍ مِئَةَ مَرَّةٍ " ، قَالَ عَبْد اللَّهِ : يَعْنِي : مُغِيرَةَ بْنَ أَبِي الْحُرِّ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں روزانہ سو مرتبہ توبہ کرتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19672
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح من حديث الأغر المزني، وهذا إسناد خالف فيه المغيرة الكندي
حدیث نمبر: 19673
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَن سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِيهِ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ : بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ إِلَى الْيَمَنِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ شَرَابًا يُصْنَعُ بِأَرْضِنَا ، يُقَالُ لَهُ : الْمِزْرُ مِنَ الشَّعِيرِ ، وَشَرَابٌ يُقَالُ لَهُ : الْبِتْعُ مِنَ الْعَسَلِ ، فَقَالَ : " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (مجھے یمن کی طرف بھیجا) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! وہاں کچھ مشروبات رائج ہیں، مثلاً جو کی نبیذ ہے جسے مزر کہا جاتا ہے اور شہد کی نبیذ ہے جسے " تبع " کہا جاتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19673
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4345 تعليقاً، م: 1733
حدیث نمبر: 19674
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي بُرَيْدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِيهِ ، عَن جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا مَرَّ أَحَدُكُمْ بِالنَّبْلِ فِي الْمَسْجِدِ ، فَلْيُمْسِكْ بِنُصُولِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن قیس سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم مسلمانوں کی مسجدوں اور بازاروں میں جایا کرو اور تمہارے پاس تیر ہوں تو ان کا پھل قابو میں رکھا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19674
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19675
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَن طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ ، دُفِعَ إِلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمِلَلِ ، فَيُقَالُ لَهُ : هَذَا فِدَاؤُكَ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب قیامت کا دن آئے گا تو ہر ایک مسلمان کو دوسرے ادیان و مذاہب کا ایک ایک آدمی دے کر کہا جائے گا کہ یہ شخص جہنم سے بچاؤ کا تمہارے لئے فدیہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19675
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2767، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 19676
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونٍَ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ ، عَن الْحَسَنِ ، عَن أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا ، فَقَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ ، فَهُمَا فِي النَّارِ " ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا الْقَاتِلُ ، فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ ؟ قَالَ : " إِنَّهُ أَرَادَ قَتْلَ صَاحِبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب دو مسلمان تلواریں لے کر ایک دوسرے کے سامنے آجائیں اور ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کردے تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ قاتل کی بات تو سمجھ میں آجاتی ہے مقتول کا کیا معاملہ ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنا چاہتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19676
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح الغيره، وهذا إسناد منقطع، الحسن البصري لم يسمع من أبى موسى
حدیث نمبر: 19677
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ ، عَن أَبِي نَضْرَةَ ، عَن أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : اسْتَأْذَنَ أَبُو مُوسَى عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا ثَلَاثًا ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ ، فَرَجَعَ ، فَلَقِيَهُ عُمَرُ ، فَقَالَ : مَا شَأْنُكَ رَجَعْتَ ؟ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مِنَ اسْتَأْذَنَ ثَلَاثًا ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ ، فَلْيَرْجِعْ " ، فَقَالَ : لَتَأْتِيَنَّ عَلَى هَذَا بِبَيِّنَةٍ ، أَوْ : لَأَفْعَلَنَّ وَلَأَفْعَلَنَّ ، فَأَتَى مَجْلِسَ قَوْمِهِ ، فَنَاشَدَهُمْ اللَّهَ تَعَالَى ، فَقُلْتُ : أَنَا مَعَكَ ، فَشَهِدُوا لَهُ بِذَلِكَ ، فَخَلَّى سَبِيلَهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو تین مرتبہ سلام کیا، انہیں اجازت نہیں ملی تو وہ واپس چلے گئے بعد میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ان سے ملاقات ہوئی تو پوچھا کہ تم واپس کیوں چلے گئے انہوں نے فرمایا کہ میں نے تین مرتبہ اجازت لی تھی، جب مجھے اجازت نہیں ملی تو میں واپس چلا گیا ہمیں اسی کا حکم دیا جاتا تھا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس پر گواہ پیش کرو ورنہ میں تمہیں سزا دوں گا حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ انصار کی ایک مجلس میں پہنچے وہ لوگ کہنے لگے کہ اس بات کی شہادت تو ہم میں سب سے چھوٹا بھی دے سکتا ہے چناچہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ چلے گئے اور اس کی شہادت دے دی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کا راستہ چھوڑ دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19677
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2062، م: 2153
حدیث نمبر: 19678
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، وهَاشِمٌ يعني ابن القاسم ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَن سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِيهِ ، عَن جَدِّهِ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أُمَّتِي أُمَّةٌ مَرْحُومَةٌ ، لَيْسَ عَلَيْهَا فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ ، إِنَّمَا عَذَابُهَا فِي الدُّنْيَا : الْقَتْلُ ، وَالْبَلَابِلُ ، وَالزَّلَازِلُ " ، قَالَ أَبُو النَّضْرِ : " بِالزَّلَازِلِ ، وَالْقَتْلِ ، وَالْفِتَنِ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت، امت مرحومہ ہے، آخرت میں اس پر کوئی عذاب نہیں ہوگا اس کا عذاب دنیا ہی میں قتل و غارت، پریشانیاں اور زلزلے ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19678
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: ضعيف، يزيد ابن هارون وهاشم بن القاسم رويا عن المسعودي بعد الاختلاط، وقد اختلف فيه على أبى بردة
حدیث نمبر: 19679
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ السَّكْسَكِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بُرْدَةَ بْنَ أَبِي مُوسَى ، وَاصْطَحَبَ هُوَ وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي كَبْشَةَ فِي سَفَرٍ ، وَكَانَ يَزِيدُ يَصُومُ ، فَقَالَ لَهُ أَبُو بُرْدَةَ : سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى مِرَارًا يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا مَرِضَ الْعَبْدُ ، أَوْ : سَافَرَ ، كُتِبَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ مَا كَانَ يَعْمَلُ مُقِيمًا صَحِيحًا " .
مولانا ظفر اقبال
ابوبردہ اور یزید بن ابی کبثہ ایک مرتبہ سفر میں اکٹھے تھے یزید دوران سفر روزہ رکھتے تھے ابوبردہ نے ان سے کہا کہ میں نے اپنے والد حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو کئی مرتبہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کوئی شخص بیمار ہوجاتا ہے یا سفر پر چلا جاتا ہے تو اس کے لئے اتنا ہی اجر لکھا جاتا ہے جتنا مقیم اور تندرست ہونے کی حالت میں اعمال پر ملتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19679
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2996
حدیث نمبر: 19680
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، الْمَعْنَى ، قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ : سَمِعْتُ أَبَا عِمْرَانَ الْجَوْنِيَّ يَقُولُ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، وَهُوَ بِحَضْرَةِ الْعَدُوِّ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَبْوَابَ الْجَنَّةِ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ " ، قَالَ : فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ رَثُّ الْهَيْئَةِ ، فَقَالَ : يَا أَبَا مُوسَى ، أَأَنْتَ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَرَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ أَقْرَأُ عَلَيْكُمْ السَّلَامَ ، ثُمَّ كَسَرَ جَفْنَ سَيْفِهِ ، ثُمَّ مَشَى بِسَيْفِهِ إِلَى الْعَدُوِّ ، فَضَرَبَ بِهِ حَتَّى قُتِلَ.
مولانا ظفر اقبال
ابوبکربن عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ دشمن کے لشکر کے سامنے میں نے اپنے والد کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جنت کے دروازے تلواروں کے سائے تلے میں ہیں یہ سن کر ایک پراگندہ ہیئت آدمی لوگوں میں سے کھڑا ہو اور کہنے لگا اے ابوموسیٰ ! کیا یہ حدیث آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خود سنی ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! وہ اپنے ساتھیوں کے پاس واپس پہنچا اور انہیں آخری مرتبہ سلام کیا اپنی تلوار کی نیام توڑ کر پھینکی اور تلوار لے کر چل پڑا اور اس شدت کے ساتھ لڑا کہ بالآخر شہید ہوگیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19680
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1902
حدیث نمبر: 19681
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَن أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ، عَن أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " فِي الْجَنَّةِ خَيْمَةٌ مِنْ لُؤْلُؤَةٍ مُجَوَّفَةٍ ، عَرْضُهَا سِتُّونَ مِيلًا ، فِي كُلِّ زَاوِيَةٍ مِنْهَا أَهْلٌ مَا يَرَوْنَ الْآخَرِينَ ، يَطُوفُ عَلَيْهِمْ الْمُؤْمِنُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت کا ایک خیمہ ایک جوف دار موتی سے بنا ہوگا آسمان میں جس کی لمبائی ساٹھ میل ہوگی اور اس کے ہر کونے میں ایک مسلمان کے جو اہل خانہ ہوں گے، دوسرے کونے والے انہیں دیکھ نہ سکیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19681
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4879، م: 2838
حدیث نمبر: 19682
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ ، عَن أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ، عَن أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " جَنَّتَانِ مِنْ فِضَّةٍ ، آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا ، وَجَنَّتَانِ مِنْ ذَهَبٍ ، آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا ، وَمَا بَيْنَ الْقَوْمِ وَبَيْنَ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَى رَبِّهِمْ تَعَالَى إِلَّا رِدَاءُ الْكِبْرِيَاءِ ، عَلَى وَجْهِهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو جنتیں (باغ) چاندی کی ہوں گی ان کے برتن اور ہر چیز چاندی کی ہوگی دو جنتیں سونے کی ہوں گی اور ان کے برتن اور ہر چیز سونے کی ہوگی اور جنت عدن میں اپنے پروردگار کی زیارت میں لوگوں کے درمیان صرف کبریائی کی چادر ہی حائل ہوگی جو اس کے رخ تاباں پر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19682
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7444، م: 180
حدیث نمبر: 19683
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَن أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَن أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَن أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْخَيْمَةُ دُرَّةٌ طُولُهَا فِي السَّمَاءِ سِتُّونَ مِيلًا ، فِي كُلِّ زَاوِيَةٍ مِنْهَا أَهْلٌ لِلْمُؤْمِنِ ، وَلَا يَرَاهُمْ الْآخَرُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت کا ایک خیمہ ایک جوف دار موتی سے بنا ہوگا آسمان میں جس کی لمبائی ساٹھ میل ہوگی اور اس کے ہر کونے میں ایک مسلمان کے جو اہل خانہ ہوں گے، دوسرے کونے والے انہیں دیکھ نہ سکیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19683
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3243، م: 2838
حدیث نمبر: 19684
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَن حَكِيمِ بْنِ دَيْلَمٍ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَتْ يَهُودُ يَأْتُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَتَعَاطَسُونَ عِنْدَهُ رَجَاءَ أَنْ يَقُولَ لَهُمْ : يَرْحَمُكُمْ اللَّهُ ، فَكَانَ يَقُولُ لَهُمْ : " يَهْدِيكُمُ اللَّهُ ، وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہودی لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر چھینکیں مارتے تھے تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں جواب میں یہ کہہ دیں کہ اللہ تم پر رحم فرمائے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں چھینک کے جواب میں یوں فرماتے کہ اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارے احوال کی اصلاح فرمائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19684
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح