حدیث نمبر: 19605
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَرَفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالدُّعَاءِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ ، وَلَا غَائِبًا ، إِنَّكُمْ تَدْعُونَ قَرِيبًا مُجِيبًا يَسْمَعُ دُعَاءَكُمْ ، وَيَسْتَجِيبُ " . ثُمَّ قَالَ : " يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ أَوْ : يَا أَبَا مُوسَى : أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی جہاد کے سفر میں تھے جس ٹیلے یا بلند جگہ پر چڑھتے یا کسی نشیب میں اترتے تو بلند آواز سے تکبیر کہتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے قریب آکر فرمایا لوگو ! اپنے ساتھ نرمی کرو، تم کسی بہرے یا غائب اللہ کو نہیں پکار رہے، تم سمیع وبصیر کو پکار رہے ہو جو تمہاری سواری کی گردن سے بھی زیادہ تمہارے قریب ہے، اے عبداللہ بن قیس کیا میں تمہیں جنت کے ایک خزانے کے متعلق نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں فرمایا لاحول ولاقوۃ الاباللہ (جنت کا ایک خزانہ ہے )
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19605
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2992، م: 2704
حدیث نمبر: 19606
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ الْعَزْرَمِيَّ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ ، رَجُلٍ مِنْ بَنِي كَاهِلٍ ، قَالَ : خَطَبَنَا أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ ، فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، اتَّقُوا هَذَا الشِّرْكَ ، فَإِنَّهُ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ ، فَقَامَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَزْنٍ ، وَقَيْسُ بْنُ المُضَارِبِ ، فَقَالَا : وَاللَّهِ لَتَخْرُجَنَّ مِمَّا قُلْتَ ، أَوْ : لَنَأْتِيَنَّ عُمَرَ ، مَأْذُونٌ لَنَا ، أَوْ غَيْرُ مَأْذُونٍ ، قَالَ : بَلْ أَخْرُجُ مِمَّا قُلْتُ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَقَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، اتَّقُوا هَذَا الشِّرْكَ ، فَإِنَّهُ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ " ، فَقَالَ لَهُ مَنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ : وَكَيْفَ نَتَّقِيهِ ، وَهُوَ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " قُولُوا : اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ نُشْرِكَ بِكَ شَيْئًا نَعْلَمُهُ ، وَنَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لَا نَعْلَمُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوعلی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا لوگو ! اس شرک سے بچو کیونکہ اس کی آہٹ چیونٹی کی آہٹ سے بھی ہلکی ہوتی ہے یہ سن کر عبداللہ بن حزن اور قیس بن مضارب کھڑے ہو کر کہنے لگے اللہ کی قسم ! یا تو آپ اپنی بات کا حوالہ دیں گے یا پھر ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جائیں گے خواہ ہمیں اس کی اجازت ملے یا نہیں انہوں نے کہا کہ میں تمہیں اس کا حوالہ دیتا ہوں ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا لوگو ! اس شرک سے بچو کیونکہ اس کی آہٹ چیونٹی کی آہٹ سے بھی ہلکی ہوتی ہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اس کی آہٹ چیونٹی کی آہٹ سے بھی ہلکی ہوتی ہے تو پھر ہم اس سے کیسے بچ سکتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم یوں کہتے رہا کرو اے اللہ ! ہم اس بات سے آپ کی پناہ میں آتے ہیں کہ کسی چیز کو جان بوجھ کر آپ کے ساتھ شریک ٹھہرائیں اور اس چیز سے معافی مانگتے ہیں جسے ہم جانتے نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19606
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أبى على الكاهلي
حدیث نمبر: 19607
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ : أَمَانَانِ كَانَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رُفِعَ أَحَدُهُمَا ، وَبَقِيَ الْآخَرُ : وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ سورة الأنفال آية 33 .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں دو طرح کی امان تھی جن میں سے ایک اٹھ چکی ہے اور دوسری باقی ہے، (١) اللہ تعالیٰ انہیں آپ کی موجودگی میں عذاب نہیں دے گا (٢) اللہ انہیں اس وقت تک عذاب نہیں دے گا جب تک یہ استغفار کرتے رہیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19607
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة محمد بن أبى أيوب
حدیث نمبر: 19608
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَمَّنْ سَمِعَ حِطَّانَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيَّ ، قَالَ : قَالَ أَبُو مُوسَى : قُلْتُ لِصَاحِبٍ لِي : تَعَالَ ، فَلْنَجْعَلْ يَوْمَنَا هَذَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَلَكَأَنَّمَا شَهِدَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ : تَعَالَ ، فَلْنَجْعَلْ يَوْمَنَا هَذَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " ، فَمَا زَالَ يُرَدِّدُهَا ، حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنْ أَسِيخَ فِي الْأَرْضِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنے ایک ساتھی سے کہا کہ آؤ آج کا دن اللہ کے لئے وقف کردیتے ہیں مجھے ایسا لگا جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سامنے موجود ہیں اور فرما رہے ہیں کہ بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو یوں کہتے ہیں کہ آؤ ! آج کا دن اللہ کے لئے وقف کردیتے ہیں اور انہوں نے یہ بات اتنی مرتبہ دہرائی ہے کہ میں تمنا کرنے لگا کہ میں زمین میں اترجاؤں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19608
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لابهام من روى عنه ثابت
حدیث نمبر: 19609
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ كَانَ لَهُ أَخٌ يُقَالُ لَهُ : أَبُو رُهْمٍ ، وَكَانَ يَتَسَرَّعُ فِي الْفِتْنَةِ ، وَكَانَ الْأَشْعَرِيُّ يَكْرَهُ الْفِتْنَةَ ، فَقَالَ لَهُ : لَوْلَا مَا أَبْلَغْتَ إِلَيَّ ، مَا حَدَّثْتُكَ ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ الْتَقَيَا بِسَيْفَيْهِمَا ، فَقَتَلَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ ، إِلَّا دَخَلَا جَمِيعًا النَّارَ " .
مولانا ظفر اقبال
خواجہ حسن رحمہ اللہ کہتے ہیں حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کا ایک بھائی تھا جو بڑھ چڑھ کر فتنے کے کاموں میں حصہ لیتا تھا وہ اسے منع کرتے لیکن وہ باز نہ آتاوہ اس سے فرماتے اگر میں یہ سمجھتا کہ تمہیں سی نصیحت بھی کافی ہوسکتی ہے جو میری رائے میں اس سے کم ہوتی (تب بھی میں تمہیں نصیحت کرتا) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب دو مسلمان تلواریں لے کر ایک دوسرے کے سامنے آجائیں اور ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کردے تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19609
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح الغيره، وهذا إسناد منقطع، الحسن البصري لم يسمع من أبى موسى
حدیث نمبر: 19610
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ غَالِبٍ التَّمَّارِ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ أَوْسٍ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى حَدَّثَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَضَى فِي الْأَصَابِعِ عَشْرًا عَشْرًا مِنَ الْإِبِلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمام انگلیاں برابر ہوتی ہیں (دیت کے حوالے سے) یعنی ہر انگلی کی دیت دس اونٹ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19610
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مسروق بن أوس، وقد اختلف فيه على غالب التمار
حدیث نمبر: 19611
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : إِنَّ أَبَا مُوسَى اسْتَأْذَنَ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : وَاحِدَةً ، ثِنْتَيْنِ ، ثَلَاثًَا ، ثُمَّ رَجَعَ أَبُو مُوسَى ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : لَتَأْتِيَنَّ عَلَى هَذَا بِبَيِّنَةٍ ، أَوْ : لَأَفْعَلَنَّ ، قَالَ : كَأَنَّهُ يَقُولُ : أَجْعَلُكَ نَكَالًا فِي الْآفَاقِ ، قَال : فَانْطَلَقَ أَبُو مُوسَى إِلَى مَجْلِسٍ فِيهِ الْأَنْصَارُ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُمْ ، فَقَالَ : أَلَمْ تَعْلَمُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ ثَلَاثًا ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ ، فَلْيَرْجِعْ " ؟ قَالُوا : بَلَى ، لَا يَقُومُ مَعَكَ إِلَّا أَصْغَرُنَا ، قَالَ : فَقَامَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : هَذَا أَبُو سَعِيدٍ ، فَخَلَّى عَنْهُ.
مولانا ظفر اقبال
عبید بن عمیر رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو تین مرتبہ سلام کیا، انہیں اجازت نہیں ملی تو وہ واپس چلے گئے تھوڑی دیر بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ابھی میں نے عبداللہ بن قیس کی آواز نہیں سنی تھی ؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے پیچھے قاصد کو بھیجا کہ واپس کیوں چلے گئے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے تین مرتبہ اجازت لی تھی جب مجھے اجازت نہیں ملی تو میں واپس چلا گیا ہمیں اسیکا حکم دیا جاتا تھا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس پر گواہ پیش کرو ورنہ میں تمہیں سزا دوں گا، حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ انصار کی ایک مجلس میں پہنچے وہ لوگ کہنے لگے کہ اس بات کی شہادت تو ہم میں سب سے چھوٹا بھی دے سکتا ہے چناچہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ چلے گئے اور اس کی شہادت دے دی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کا راستہ چھوڑ دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19611
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2062، م: 2153
حدیث نمبر: 19612
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَن لَيْثٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَةَ يُحَدِّثُ ، عَن أَبِيهِ ، قَالَ : إِنَّ أُنَاسًا مَرُّوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ ، يُسْرِعُونَ بِهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِتَكُونَ عَلَيْكُمْ السَّكِينَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ تیزی سے لے کر گذرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سکون کے ساتھ چلنا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19612
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف ليث
حدیث نمبر: 19613
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ، عَن جَدِّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَقْبَلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ صَلَاةَ رَجُلٍ فِي جَسَدِهِ شَيْءٌ مِنَ الْخَلُوقِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس شخص کی نماز قبول نہیں کرتا جس کے جسم پر " خلوق " نامی خوشبو کا معمولی اثر بھی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19613
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضيعف، الربيع بن أنس وجده مجهولان
حدیث نمبر: 19614
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَن أَنَسٍ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيّ حَدَّثَهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ ، كَمَثَلِ الْأُتْرُجَّةِ ، طَعْمُهَا طَيِّبٌ ، وَرِيحُهَا طَيِّبٌ ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ ، طَعْمُهَا طَيِّبٌ ، وَلَا رِيحَ لَهَا ، وَمَثَلُ الْفَاجِرِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ ، كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ ، رِيحُهَا طَيِّبٌ ، وَطَعْمُهَا مُرٌّ ، وَمَثَلُ الْفَاجِرِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ ، طَعْمُهَا مُرٌّ ، وَلَا رِيحَ لَهَا " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس مسلمان کی مثال جو قرآن کریم پڑھتا ہے اترج کی سی ہے جس کا ذائقہ بھی عمدہ ہوتا ہے اور اس کی مہک بھی عمدہ ہوتی ہے، اس مسلمان کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا کھجور کی سی ہے جس کا ذائقہ تو عمدہ ہوتا ہے لیکن اس کی مہک نہیں ہوتی، اس گنہگار کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے ریحان کی سی ہے جس کا ذائقہ تو کڑوا ہوتا ہے لیکن مہک عمدہ ہوتی ہے۔ اور اس فاجر کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا اندرائن کی سی ہے جس کا ذائقہ بھی کڑوا ہوتا ہے اور اس کی مہک بھی نہیں ہوتی۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19614
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5020، م: 797
حدیث نمبر: 19615
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بِهَذَيْنِ كِلَيْهِمَا ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَن أَنَسٍ ، عَن أَبِي مُوسَى ، عَن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ.
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19615
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، أبان بن يزيد خالف فيه
حدیث نمبر: 19616
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَن مَنْصُورٍ ، عَن إِبْرَاهِيمَ ، عَن يَزِيدَ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ : أُغْمِيَ عَلَى أَبِي مُوسَى ، فَبَكَوْا عَلَيْهِ ، فَقَالَ : إِنِّي بَرِيءٌ مِمَّنْ بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلُوا عَنْ ذَلِكَ امْرَأَتَهُ : مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : أَمَا عَلِمْتُمْ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِامْرَأَتِهِ ، فَقَالَتْ : " مِمَّنْ حَلَقَ ، وَسَلَقَ ، وَخَرَقَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ ان پر بیہوشی طاری ہوئی تو لوگ رونے لگے جب انہیں افاقہ ہوا تو فرمایا میں اس شخص سے بری ہوں جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بری ہیں لوگ ان کی بیوی سے اس کی تفصیل پوچھنے لگے انہوں نے جواب دیا کہ وہ شخص جو واویلا کرے، بال نوچے اور گریبان چاک کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19616
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 104، يزيد بن أوس مجهول لكنه توبع
حدیث نمبر: 19617
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَن عَوْفٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ خَالِدًا الْأَحْدَبَ ، عَن صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ، قَالَ : أُغْمِيَ عَلَى أَبِي مُوسَى ، فَبَكَوْا عَلَيْهِ ، فَأَفَاقَ ، فَقَالَ : إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكُمْ مِمَّا بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِمَّنْ حَلَقَ ، وَسَلَقَ ، وَخَرَقَ . وَحَدَّثَنَا بِهِمَا عَفَّانُ مَرَّةً أُخْرَى ، فَقَالَ فِيهِمَا جَمِيعًا : مِمَّنْ حَلَقَ ، أَوْ سَلَقَ ، أَوْ خَرَقَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ ان پر بیہوشی طاری ہوئی تو لوگ رونے لگے جب انہیں افاقہ ہوا تو فرمایا میں اس شخص سے بری ہوں جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بری ہیں لوگ ان کی بیوی سے اس کی تفصیل پوچھنے لگے انہوں نے جواب دیا کہ وہ شخص جو واویلا کرے، بال نوچے اور گریبان چاک کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19617
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 104
حدیث نمبر: 19618
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِي مُوسَى ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَحْرُسُهُ أَصْحَابُهُ ، فَقُمْتُ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَلَمْ أَرَهُ فِي مَنَامِهِ ، فَأَخَذَنِي مَا قَدُمَ وَمَا حَدَثَ ، فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ ، فَإِذَا أَنَا بِمُعَاذٍ قَدْ لَقِيَ الَّذِي لَقِيتُ ، فَسَمِعْنَا صَوْتًا مِثْلَ هَزِيزِ الرَّحَا ، فَوَقَفَا عَلَى مَكَانِهِمَا ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قِبَلِ الصَّوْتِ ، فَقَالَ : " هَلْ تَدْرُونَ أَيْنَ كُنْتُ ؟ وَفِيمَ كُنْتُ ؟ أَتَانِي آتٍ مِنْ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ ، فَخَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ ، وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ ، فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ " ، فَقَالَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَجْعَلَنَا فِي شَفَاعَتِكَ ، فَقَالَ : " أَنْتُمْ وَمَنْ مَاتَ ، لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا فِي شَفَاعَتِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہ آپ کے یہاں چوکیداری کرتے تھے ایک مرتبہ میں رات کو اٹھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی خواب گاہ میں نہ پایا مجھے طرح طرح کے خدشات اور وساوس پیش آنے لگے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں نکلا تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوگئی ان کی بھی وہی کیفیت تھی جو میری تھی ہم نے ایسی آواز سنی جو چکی کے چلنے سے پیدا ہوتی ہے اور اپنی پر ٹھٹک کر رک گئے اس آواز کی طرف سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آرہے تھے۔ قریب آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ میں کہاں تھا اور میں کس حال میں تھا ؟ میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا تھا اور اس نے مجھے ان دو میں سے کسی ایک بات کا اختیار دیا کہ میری نصف امت جنت میں داخل ہوجائے یا مجھے شفاعت کا اختیار مل جائے تو میں نے شفاعت والے پہلو کو ترجیح دے لی دونوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اللہ سے دعاء کردیجئے کہ وہ آپ کی شفاعت میں ہمیں بھی شامل کردے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم بھی اور ہر وہ شخص بھی جو اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو میری شفاعت میں شامل ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19618
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 19619
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَن عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَن أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَن أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبْسُطُ يَدَهُ بِالنَّهَارِ لِيَتُوبَ مُسِيءُ اللَّيْلِ ، وَيَبْسُطُ يَدَهُ بِاللَّيْلِ لِيَتُوبَ مُسِيءُ النَّهَارِ ، حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا رات کے وقت اللہ تعالیٰ اپنے ہاتھ پھیلاتے ہیں تاکہ دن میں گناہ کرنے والا توبہ کرلے اور دن میں اپنے ہاتھ پھیلاتے ہیں تاکہ رات میں گناہ کرنے والا توبہ کرلے یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہے گا جب تک سورج مغرب سے طلوع نہیں ہوجاتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19619
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2759
حدیث نمبر: 19620
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا غَالِبٌ التَّمَّارُ ، عَن مَسْرُوقِ بْنِ أَوْسٍ ، عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فِي الْأَصَابِعِ عَشْرٌ عَشْرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر انگلی کی دیت دس اونٹ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19620
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مسروق بن أوس، وقد اختلف فيه على غالب التمار
حدیث نمبر: 19621
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ . وحَدَّثَنَا يَزِيدُ ابْنُ هَارُونٍَ ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَن عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَن أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ : سَمَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْسَهُ أَسْمَاءً ، مِنْهَا مَا حَفِظْنَا ، وَمِنْهَا مَا لَمْ نَحْفَظْ ، فَقَالَ : " أَنَا مُحَمَّدٌ ، وَأَنَا أَحْمَدُ ، والْمُقَفِّي ، وَالْحَاشِرُ ، وَنَبِيُّ التَّوْبَةِ ، وَنَبِيُّ الْمَلْحَمَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے کچھ نام بتائے جو ہمیں پہلے سے یاد اور معلوم نہ تھے چناچہ فرمایا کہ میں محمد ہوں، احمد، مقفی، حاشر اور نبی التوبہ اور نبی الملحمہ ہوں ﷺ
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19621
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2355، المسعودي اختلط، لكن رواه أيضا قبل اختلاطه
حدیث نمبر: 19622
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَن سُلَيْمَانَ يَعْنِي التَّيْمِيَّ ، عَن أَبِي السَّلِيلِ ، عَن زَهْدَمٍ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ : انْطَلَقْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَسْتَحْمِلُهُ ، فَقَالَ : " وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمْ " ، فَرَجَعْنَا ، فَبَعَثَ إِلَيْنَا بِثَلَاثٍ بُقْعِ الذُّرَى ، فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ : حَلَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا ، فَأَتَيْنَاهُ ، فَقُلْنَا : إِنَّكَ حَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنَا ! فَقَالَ : " مَا أَنَا حَمَلْتُكُمْ ، إِنَّمَا حَمَلَكُمْ اللَّهُ تَعَالَى ، مَا عَلَى الْأَرْضِ يَمِينٌ أَحْلِفُ عَلَيْهَا ، فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا ، إِلَّا أَتَيْتُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اشعریین کے ایک گروہ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کے لئے جانوروں کی درخواست کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بخدا ! میں تمہیں سوار نہیں کرسکوں گا کیونکہ میرے پاس تمہیں سوار کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے ؟ ہم کچھ دیر " جب تک اللہ کو منظور ہوا " رکے رہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لئے روشن پیشانی کے تین اونٹوں کا حکم دے دیا جب ہم واپس جانے لگے تو ہم میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواری کے جانور کی درخواست لے کر آئے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی تھی کہ وہ ہمیں سواری کا جانور نہیں دیں گے واپس چلو تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی قسم یاد دلادیں۔ چناچہ ہم دوبارہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم آپ کے پاس سواری کے جانور کی درخواست لے کر آئے تھے اور آپ نے قسم کھائی تھی کہ ہمیں سواری کا جانور نہیں دیں گے، پھر آپ نے ہمیں جانور دے دیا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں سوار نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے بخدا ! اگر اللہ کو منظور ہوا تو میں جب بھی کوئی قسم کھاؤں گا اور کسی دوسری چیز میں خیر دیکھوں گا تو اسی کو اختیار کر کے اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19622
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3133، م: 1649
حدیث نمبر: 19623
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ الْكُوفِيُّ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، فَقَالَ : أَيْ بَنِيَّ ، أَلَا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً ، أَعْتَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهَا عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوبردہ رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ اپنے بچوں سے کہا میرے بچو ! کیا میں تمہیں ایک حدیث نہ سناؤں ؟ میرے والد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے مجھے یہ حدیث سنائی ہے کہ جو شخص کسی غلام کو آزاد کرے اللہ اس کے ہر عضو کے بدلے میں آزاد کرنے والے کے ہر عضو کو جہنم کی آگ سے آزاد فرمادے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19623
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19624
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَن بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، رِوَايَةً ، قَالَ " الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا ، وَمَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ مَثَلُ الْعَطَّارِ ، إِنْ لَمْ يُحْذِكَ مِنْ عِطْرِهِ عَلِقَكَ مِنْ رِيحِهِ ، وَمَثَلُ الْجَلِيسِ السُّوءِ مَثَلُ الْكِيرِ ، إِنْ لَمْ يُحْرِقْكَ نَالَكَ مِنْ شَرَرِهِ ، وَالْخَازِنُ الْأَمِينُ الَّذِي يُؤَدِّي مَا أُمِرَ بِهِ مُؤْتَجِرًا أَحَدُ الْمُتَصَدِّقِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لئے عمارت کی طرح ہوتا ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔ اور اچھے ہم نشین کی مثال عطار کی سی ہے کہ اگر وہ اپنے عطر کی شیشی تمہارے قریب بھی نہ لائے تو اس کی مہک تم تک پہنچے گی اور برے ہم نشین کی مثال بھٹی کی سی ہے کہ اگر وہ تمہیں نہ بھی جلائے تب بھی اس کی گرمی اور شعلے تو تم تک پہنچیں گے۔ اور امانت دار خزانچی وہ ہوتا ہے کہ اسے جس چیز کا حکم دیا جائے وہ اسے مکمل، پورا اور دل کی خوشی کے ساتھ ادا کردے تاکہ صدقہ کرنے والوں نے جسے دینے کا حکم دیا ہے اس تک وہ چیز پہنچ جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19624
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، أخرجه الشيخان منقطعا
حدیث نمبر: 19625
حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَن بُرَيْدٍ ، عَن جَدِّهِ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ ، يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لئے عمارت کی طرح ہوتا ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19625
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2585
حدیث نمبر: 19626
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَن إِبْرَاهِيمَ ، عَن سَهْمِ ابْنِ مِنْجَابٍ ، عَن الْقَرْثَعِ ، قَالَ : لَمَّا ثَقُلَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ صَاحَتْ امْرَأَتُهُ ، فَقَالَ لَهَا : أَمَا عَلِمْتِ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ : بَلَى ، ثُمَّ سَكَتَتْ ، فَلَمَّا مَاتَ ، قِيل لَهَا : أَيُّ شَيْءٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ : قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَعَنَ مَنْ حَلَقَ ، أَوْ خَرَقَ ، أَوْ سَلَقَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ ان پر بیہوشی طاری ہوئی تو ان کی بیوی رونے لگی جب انہیں افاقہ ہوا تو فرمایا میں کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے ؟ اس نے کہا کیوں نہیں پھر وہ خاموش ہوگئی ان کے انتقال کے بعد کسی نے ان سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو واویلا کرے، بال نوچے اور گریبان چاک کرے اس پر لعنت ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19626
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 104، تكلم فى القرثع الضبي، وقد توبع
حدیث نمبر: 19627
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَن قَتَادَةَ ، عَن يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَن حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ ، عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَنَا وَسُنَّتَنَا ، فَقَالَ : " إِنَّمَا الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ ، فَإِذَا كَبَّرَ ، فَكَبِّرُوا ، وَإِذَا قَالَ : غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 ، فَقُولُوا : آمِينَ ، يُجِبْكُمْ اللَّهُ تَعَالَى ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا ، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا ، وَإِذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، فَقُولُوا : اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ، يَسْمَعْ اللَّهُ لَكُمْ ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا ، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا ، فَإِنَّ الْإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ ، وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ " ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تِلْكَ بِتِلْكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز اور اس کا طریقہ سکھایا اور فرمایا کہ امام کو تو مقررہیاقتداء کے لئے کیا جاتا ہے اس لئے جب وہ تکبیرک ہے تو تم بھی تکبیرکہو اور جب وہ غیرالمغضوب علیہم ولا الضالین کہے تو آمین کہو اللہ اسے قبول کرلے گا جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنالک الحمد کہو اللہ تمہاری ضرور سنے گا جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو، جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ کیونکہ امام تم سے پہلے سجدہ کرے گا اور سر اٹھائے گا یہ اس کے بدلے میں ہوجائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19627
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 404
حدیث نمبر: 19628
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَن الْأَعْمَشِ ، عَن شَقِيقٍ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا أَحَبَّ قَوْمًا ، وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ " . وَكَذَا حَدَّثَنَاهُ وَكِيعٌ ، عَن سُفْيَانَ ، عَن الْأَعْمَشِ ، عَن شَقِيقٍ ، عَن أَبِي مُوسَى . وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ أَيْضًا ، عَن أَبِي مُوسَى .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ سوال پوچھا کہ اگر کوئی آدمی کسی قوم سے محبت کرتا ہے لیکن ان تک پہنچ نہیں پاتا تو کیا حکم ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19628
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6170، م: 1641
حدیث نمبر: 19629
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَن سُلَيْمَانَ ، عَن أَبِي وَائِلٍ ، عَن عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19629
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6170، م: 1641
حدیث نمبر: 19630
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَن الْأَعْمَشِ ، عَن شَقِيقٍ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ أَيَّامًا ، يَنْزِلُ فِيهَا الْجَهْلُ ، وَيُرْفَعُ فِيهَا الْعِلْمُ ، وَيَكْثُرُ فِيهَا الْهَرْجُ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا الْهَرْجُ ؟ قَالَ : " الْقَتْلُ " .
مولانا ظفر اقبال
شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے حدیث کا مذاکرہ کررہے تھے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت سے پہلے جو زمانہ آئے گا اس میں علم اٹھالیا جائے گا اور جہالت اترنے لگے گی اور " ہرج " کی کثرت ہوگی جس کا معنی قتل ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19630
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7065، م: 2672
حدیث نمبر: 19631
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَن شَقِيقٍ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يُقَاتِلُ شَجَاعَةً ، وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً ، وَيَقْتُلُ رِيَاءً ، فَأَيُّ ذَلِكَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا ، فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ بتائیے کہ آدمی اپنے آپ کو بہادر ثابت کرنے کے لئے لڑتا ہے ایک آدمی قومی غیرت کے جذبے سے قتال کرتا ہے اور ایک آدمی ریاکاری کے لئے قتال کرتا ہے ان میں سے اللہ کے راستے میں قتال کرنے والا کون ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اس لئے قتال کرتا ہے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہوجائے وہی اللہ کے راستہ میں قتال کرنے والا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19631
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 123، م: 1904
حدیث نمبر: 19632
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَن عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَن أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَا يَنَامُ ، وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ ، وَلَكِنَّهُ يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَيَرْفَعُهُ ، يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ اللَّيْلِ قَبْلَ عَمَلِ النَّهَارِ ، وَعَمَلُ النَّهَارِ قَبْلَ عَمَلِ اللَّيْلِ ، حِجَابُهُ النُّورُ ، لَوْ كَشَفَهُ لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ مَا انْتَهَى إِلَيْهِ بَصَرُهُ مِنْ خَلْقِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور پانچ باتیں بیان فرمائیں اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کو نیند نہیں آتی اور نہ ہی نیند ان کی شایان شان ہے وہ ترازو کو جھکاتے اور اونچا کرتے ہیں رات کے اعمال دن کے وقت اور دن کے اعمال رات کے وقت ان کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں، اس کا حجاب نور ہے جو اگر وہ ہٹادے تو تاحد نگاہ ساری مخلوق جل جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19632
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 179
حدیث نمبر: 19633
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَن سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَن أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا أَحَدَ أَصْبَرُ عَلَى أَذًى يَسْمَعُهُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، إِنَّهُ يُشْرَكُ بِهِ ، وَيُجْعَلُ لَهُ وَلَدٌ ، وَهُوَ يُعَافِيهِمْ ، وَيَدْفَعُ عَنْهُمْ ، وَيَرْزُقُهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی تکلیف دہ بات کو سن کر اللہ سے زیادہ اس پر صبر کرنے والا کوئی نہیں ہے اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرایا جاتا ہے لیکن وہ پھر بھی انہیں عافیت اور رزق دیتا ہے، اس کی مصیبتیں دور کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19633
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7378، م: 2804
حدیث نمبر: 19634
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَن فِرَاسٍ ، عَن الشَّعْبِيِّ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثَةٌ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ : رَجُلٌ آمَنَ بِالْكِتَابِ الْأَوَّلِ وَالْكِتَابِ الْآخِرِ ، وَرَجُلٌ لَهُ أَمَةٌ فَأَدَّبَهَا ، فَأَحْسَنَ تَأْدِيبَهَا ، ثُمَّ أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا ، وَعَبْدٌ مَمْلُوكٌ أَحْسَنَ عِبَادَةَ رَبِّهِ ، وَنَصَحَ لِسَيِّدِهِ " ، أَوْ كَمَا قَالَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین قسم کے لوگوں کو دہرا اجر ملتا ہے وہ آدمی جس کے پاس کوئی باندی ہو اور وہ اسے عمدہ دلائے بہترین ادب سکھائے، پھر اسے آزاد کرکے اس سے نکاح کرلے تو اسے دہرا اجر ملے گا، اسی طرح وہ غلام جو اپنے اللہ کا حق بھی ادا کرتا ہو اور اپنے آقا کا حق بھی ادا کرتا ہو یا اہل کتاب میں سے وہ آدمی جو اپنی شریعت پر بھی ایمان لایا ہو اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر بھی ایمان لایا ہو، اسے بھی دہرا اجر ملے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19634
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 97، م: 154
حدیث نمبر: 19635
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَن بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِيهِ ، عَن جَدِّهِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَاسٍ مِنْ قَوْمِي ، بَعْدَ مَا فَتَحَ خَيْبَرَ بِثَلَاثٍ ، فَأَسْهَمَ لَنَا ، وَلَمْ يَقْسِمْ لِأَحَدٍ لَمْ يَشْهَدْ الْفَتْحَ غَيْرِنَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں اپنی قوم کے کچھ لوگوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوا تھا جب فتح خیبر کو ابھی صرف تین دن گذرے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بھی اس میں سے حصہ دیا اور ہمارے علاوہ کسی ایسے آدمی کو مال غنیمت میں سے حصہ نہیں دیا جو اس غزوے میں شریک نہیں ہوا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19635
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3136، م: 2502
حدیث نمبر: 19636
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَن يُونُسَ ، عَن الْحَسَنِ ، أَنَّ أَسِيدَ بْنَ الْمُتَشَمِّسِ قَالَ : أَقْبَلْنَا مَعَ أَبِي مُوسَى مِنْ أَصْبَهَانَ ، فَتَعَجَّلْنَا ، وَجَاءَتْ عُقَيْلَةُ ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : أَلَا فَتًى يُنْزِلُ كَنَّتَهُ ؟ قَالَ : يَعْنِي : أَمَةٌ الْأَشْعَرِيَّ ، فَقُلْتُ : بَلَى ، فَأَدْنَيْتُهَا مِنْ شَجَرَةٍ ، فَأَنْزَلْتُهَا ، ثُمَّ جِئْتُ ، فَقَعَدْتُ مَعَ الْقَوْمِ ، فَقَالَ : أَلَا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُنَاهُ ، فَقُلْنَا : بَلَى ، يَرْحَمُكَ اللَّهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُنَا : " أَنَّ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ الْهَرْجَ " ، قِيلَ : وَمَا الْهَرْجُ ؟ قَالَ : " الْكَذِبُ وَالْقَتْلُ " ، قَالُوا : أَكْثَرُ مِمَّا نَقْتُلُ الْآنَ ؟ قَالَ : " إِنَّهُ لَيْسَ بِقَتْلِكُمْ الْكُفَّارَ ، وَلَكِنَّهُ قَتْلُ بَعْضِكُمْ بَعْضًا ، حَتَّى يَقْتُلَ الرَّجُلُ جَارَهُ ، وَيَقْتُلَ أَخَاهُ ، وَيَقْتُلَ عَمَّهُ ، وَيَقْتُلَ ابْنَ عَمِّهِ " ، قَالُوا : سُبْحَانَ اللَّهِ ! وَمَعَنَا عُقُولُنَا ؟ قَالَ : " لَا ، إِلَّا أَنَّهُ يَنْزِعُ عُقُولَ أَهْلِ ذَاكُمِ الزَّمَانِ حَتَّى يَحْسَبَ أَحَدُكُمْ أَنَّهُ عَلَى شَيْءٍ ، وَلَيْسَ عَلَى شَيْءٍ " . وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ تُدْرِكَنِي وَإِيَّاكُمْ تِلْكَ الْأُمُورُ ، وَمَا أَجِدُ لِي وَلَكُمْ مِنْهَا مَخْرَجًا ، فِيمَا عَهِدَ إِلَيْنَا نَبِيُّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِلَّا أَنْ نَخْرُجَ مِنْهَا كَمَا دَخَلْنَاهَا ، لَمْ نُحْدِثْ فِيهَا شَيْئًا . .
مولانا ظفر اقبال
اسید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم اصفہان سے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ واپس آرہے تھے ہم تیز رفتاری سفر کر رہے تھے کہ " عقیلہ " آگئی حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کوئی نوجوان ہے جوان کی باندی کو سواری سے اتارے میں نے کہا کیوں نہیں چناچہ میں نے اس کی سواری کو درخت کے قریب لے جا کر اسے اتارا پھر آکر لوگوں کے ساتھ بیٹھ گیا انہوں نے فرمایا کہ میں تمہیں ایک حدیث نہ سناؤں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سناتے تھے ؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں اللہ کی رحمتیں آپ پر نازل ہوں انہوں نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں بتاتے تھے کہ قامت سے پہلے " ہرج " واقع ہوگا لوگوں نے پوچھا کہ " ہرج " سے کیا مراد ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قتل، لوگوں نے پوچھا اس تعداد سے بھی زیادہ جتنے ہم قتل کردیتے ہیں ؟ ہم تو ہر سال ستر ہزار سے زیادہ لوگ قتل کردیتے تھے ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس سے مراد مشرکین کو قتل کرنا نہیں ہے بلکہ ایک دوسرے کو قتل کرنا مراد ہے حتیٰ کہ آدمی اپنے پڑوسی، چچا، بھائی اور چچازاد بھائی کو قتل کردے گا لوگوں نے پوچھا کیا اس موقع پر ہماری عقلیں ہمارے ساتھ ہوں گی ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس زمانے کے لوگوں کی عقلیں چھین لی جائیں گی اور ایسے بیوقوف لوگ رہ جائیں گے جو یہ سمجھیں گے وہ کسی دین پر قائم ہیں حالانکہ وہ کسی دین پر نہیں ہوں گے۔ حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر وہ زمانہ آگیا تو میں اپنے اور تمہارے لئے اس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں پاتا الاّ یہ کہ ہم اس سے اسی طرح نکل جائیں جیسے داخل ہوئے تھے اور کسی کے قتل یا مال میں ملوث نہ ہوں
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19636
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19637
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَن الْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ ، عَن زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى ، فَقَدَّمَ طَعَامَهُ . . . فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ زَهْدَمٍ . .
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19637
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3133، م: 1649
حدیث نمبر: 19638
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَن أَيُّوبَ ، عَن أَبِي قِلَابَةَ ، عَن زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ، قَالَ أَيُّوبُ : وَحَدَّثَنِيهِ الْقَاسِمُ الْكَلْبِيُّ ، عَن زَهْدَمٍ قَالَ : فَأَنَا لِحَدِيثِ الْقَاسِمِ أَحْفَظُ قَالَ كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى ، فَقَدَّمَ طَعَامَهُ . . . فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ زَهْدَمٍ . .
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19638
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3133، م: 1649
حدیث نمبر: 19639
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَن أَيُّوبَ ، عَن أَبِي قِلَابَةَ ، عَن زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ، قَالَ أَيُّوبُ وَحَدَّثَنِيهِ الْقَاسِمُ الْكَلْبِيُّ ، عَن زَهْدَمٍ ، قَالَ : فَأَنَا لِحَدِيثِ الْقَاسِمِ أَحْفَظُ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى ، فَدَعَا بِمَائِدَتِهِ ، فَجِيءَ بِهَا وَعَلَيْهَا لَحْمُ دَجَاجٍ . . . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19639
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3133، م: 1649
حدیث نمبر: 19640
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَن أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ : مَرَّتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِنَازَةٌ ، تُمْخَضُ مَخْضَ الزِّقِّ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَيْكُمْ الْقَصْدَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ تیزی سے لے کر گذرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سکون کو اپنے اوپر لازم کرلو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19640
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف ليث
حدیث نمبر: 19641
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَن سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَن أَبِي وَائِلٍ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فُكُّوا الْعَانِيَ ، وَأَطْعِمُوا الْجَائِعَ ، وَعُودُوا الْمَرِيضَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بھوکے کو کھانا کھلایا کرو، قیدیوں کو چھڑایا کرو اور بیماروں کی عیادت کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19641
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5174
حدیث نمبر: 19642
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، حَدَّثَنَا قَسَامَةُ بْنُ زُهَيْرٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وحَدَّثَنَاه هَوْذَةُ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَن قَسَامَةَ ، قَالَ سَمِعْتُ الْأَشْعَرِيَّ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ آدَمَ مِنْ قَبْضَةٍ قَبَضَهَا مِنْ جَمِيعِ الْأَرْضِ ، فَجَاءَ بَنُو آدَمَ عَلَى قَدْرِ الْأَرْضِ ، جَعَلَ مِنْهُمْ الْأَحْمَرَ ، وَالْأَبْيَضَ ، وَالْأَسْوَدَ ، وَبَيْنَ ذَلِكَ ، وَالسَّهْلَ وَالْحَزْنَ ، وَبَيْنَ ذَلِكَ ، وَالْخَبِيثَ وَالطَّيِّبَ ، وَبَيْنَ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو ایک مٹھی مٹی سے پیدا کیا تھا جو اس نے ساری زمین سے اکٹھی کی تھی یہی وجہ سے کہ بنو آدم زمین ہی کی طرح ہیں چناچہ کچھ سفید ہیں، کچھ سرخ ہیں کچھ سیاہ فام ہیں اور کچھ اس کے درمیان، اسی طرح کچھ گندے ہیں اور کچھ عمدہ، کچھ نرم ہیں اور کچھ غمگین وغیرہ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19642
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19643
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَن عُثْمَانَ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ ، عَن أَبِي مُوسَى : أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ ، وَبِيَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُودٌ يَضْرِبُ بِهِ بَيْنَ الْمَاءِ وَالطِّينِ ، فَجَاءَ رَجُلٌ يَسْتَفْتِحُ ، فَقَالَ : " افْتَحْ لَهُ ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " ، فَإِذَا هُوَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : فَفَتَحْتُ لَهُ ، وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ ، ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ يَسْتَفْتِحُ ، فَقَالَ : " افْتَحْ لَهُ ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " ، فَإِذَا هُوَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَفَتَحْتُ لَهُ ، وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ ، ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ ، فَاسْتَفْتَحَ ، فَقَالَ : " افْتَحْ لَهُ ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى تُصِيبُهُ ، أَوْ بَلْوَى تَكُونُ " ، قَالَ فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَفَتَحْتُ لَهُ ، وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ ، وَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : " اللَّهُ الْمُسْتَعَانُ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی باغ میں تھا ایک آدمی آیا اور اس نے سلام کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ اسے اجازت دے دو اور جنت کی خوشخبری بھی سنادو میں گیا تو وہ حضرت ابوبکرصدق رضی اللہ عنہ تھے میں نے ان سے کہا کہ اندر تشریف لے آئیے اور جنت کی خوشخبری قبول کیجئے وہ مسلسل اللہ کی تعریف کرتے ہوئے ایک جگہ پر بیٹھ گئے پھر دوسرا آدمی آیا اس نے بھی سلام کیا نبی کریم نے فرمایا اسے بھی اجازت اور خوشخبری دے دو میں گیا تو وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے میں نے ان سے کہا کہ اندر تشریف لے آئیے اور جنت کی خوشخبری قبول کیجئے وہ مسلسل اللہ کی تعریف کرتے ہوئے ایک جگہ پر بیٹھ گئے پھر تیسرا آدمی آیا اس نے بھی سلام کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جا کر اسے بھی اجازت دے دو اور ایک امتحان کے ساتھ جنت کی خوشخبری سنا دو میں گیا تو وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے میں نے ان سے کہا کہ اندر تشریف لے آئیے اور ایک سخت امتحان کے ساتھ جنت کی خوشخبری قبول کیجئے وہ یہ کہتے ہوئے کہ " اے اللہ ! ثابت قدم رکھنا " آکر بیٹھ گئے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19643
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3674، م: 2403
حدیث نمبر: 19644
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ ، عَن أَبِي عُثْمَانَ ، عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ ، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ يَحْيَى ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي قَوْلِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : اللَّهُ الْمُسْتَعَانُ ، اللَّهُمَّ صَبْرًا ، وَعَلَى اللَّهِ التُّكْلَانُ.
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19644
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3674، م: 2403