حدیث نمبر: 19565
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو ، عَنِ الْمُطَّلِبِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ عَمِلَ حَسَنَةً ، فَسُرَّ بِهَا ، وَعَمِلَ سَيِّئَةً ، فَسَاءَتْهُ ، فَهُوَ مُؤْمِنٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص کوئی نیکی کرے اور اس پر اسے خوشی ہو اور کوئی گناہ ہونے پر غم ہو تو وہ مؤمن ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19565
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، المطلب لا يعرف له سماع من الصحابة
حدیث نمبر: 19566
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ مُجَمِّعِ بْنِ يَحْيَى بْنِ زَيْدِ بْنِ جَارِيَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ يَذْكُرُهُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : صَلَّيْنَا الْمَغْرِبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قُلْنَا : لَوِ انْتَظَرْنَا حَتَّى نُصَلِّيَ مَعَهُ الْعِشَاءَ ، قَالَ : فَانْتَظَرْنَا ، فَخَرَجَ إِلَيْنَا ، فَقَالَ : " مَا زِلْتُمْ هَاهُنَا ؟ " ، قُلْنَا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قُلْنَا : نُصَلِّي مَعَكَ الْعِشَاءَ ، قَالَ : " أَحْسَنْتُمْ أَوْ أَصَبْتُمْ " ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ ، قَالَ : وَكَانَ كَثِيرًا مِمَّا يَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ ، فَقَالَ : " النُّجُومُ أَمَنَةٌ لِلسَّمَاءِ ، فَإِذَا ذَهَبَتْ النُّجُومُ ، أَتَى السَّمَاءَ مَا تُوعَدُ ، وَأَنَا أَمَنَةٌ لِأَصْحَابِي ، فَإِذَا ذَهَبْتُ ، أَتَى أَصْحَابِي مَا يُوعَدُونَ ، وَأَصْحَابِي أَمَنَةٌ لِأُمَّتِي ، فَإِذَا ذَهَبَ أَصْحَابِي ، أَتَى أُمَّتِي مَا يُوعَدُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کہ ایک مرتبہ ہم لوگوں نے نماز مغرب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ادا کی پھر سوچا کہ تھوڑی دیر انتظار کرلیتے ہیں اور عشاء کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھیں گے چناچہ ہم انتظار کرتے رہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لائے تو پوچھا کہ تم اس وقت یہیں پر ہو ؟ ہم نے عرض کیا جی ہاں ! یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے سوچا کہ عشاء کی نماز آپ کے ساتھ ہی پڑھیں گے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت خوب پھر آسمان کی طرف سر اٹھایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر آسمان کی طرف سر اٹھا کر دیکھتے ہی تھے اور فرمایا ستارے آسمان میں امن کے علامت ہیں جب ستارے ختم ہوجائیں گے تو آسمان پر وہ قیامت آجائے گی جس کا وعدہ کیا گیا ہے اور میں اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے لئے امن کی علامت ہوں جب میں چلا جاؤں گا تو میرے صحابہ رضی اللہ عنہ پر وہ آفت آجائے گی جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے اور میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ میری امت کے لئے امن کی علامت ہیں جو وہ بھی ختم ہوجائیں گے تو میری امت پر وہ آزمائش آجائے گی جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19566
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2531
حدیث نمبر: 19567
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْأُرْدُنِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُعَيْمٍ الْقَيْنِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَرْزَبٍ الْأَشْعَرِيُّ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى حَدَّثَهُمْ ، قَالَ : لَمَّا هَزَمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَوَازِنَ بِحُنَيْنٍ ، عَقَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي عَامِرٍ الْأَشْعَرِيِّ عَلَى خَيْلِ الطَّلَبِ ، فَطَلَبَ ، فَكُنْتُ فِيمَنْ طَلَبَهُمْ ، فَأَسْرَعَ بِهِ فَرَسُهُ ، فَأَدْرَكَ ابْنَ دُرَيْدِ بْنِ الصِّمَّةِ ، فَقَتَلَ أَبَا عَامِرٍ ، وَأَخَذَ اللِّوَاءَ ، وَشَدَدْتُ عَلَى ابْنِ دُرَيْدٍ ، فَقَتَلْتُهُ ، وَأَخَذْتُ اللِّوَاءَ ، وَانْصَرَفْتُ بِالنَّاسِ ، فَلَمَّا رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْمِلُ اللِّوَاءَ ، قَالَ : " يَا أَبَا مُوسَى ، قُتِلَ أَبُو عَامِرٍ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَيْهِ ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ عُبَيْدَكَ عُبَيْدًا أَبَا عَامِرٍ ، اجْعَلْهُ مِنَ الْأَكْثَرِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حنین میں بنو ہوازن کو شکست سے ہمکنار کردیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا پیچھا کرنے کے لئے سواروں کا ایک دستہ ابوعامر اشعری رضی اللہ عنہ کی زیرقیادت جھنڈے کے ساتھ روانہ کیا وہ روانہ ہوگئے ان کے ساتھ جانے والوں میں میں بھی شامل تھا انہوں نے اپنا گھوڑا برق رفتاری سے دوڑانا شروع کردیا راستے میں ابن ورید بن صمہ سے آمنا سامنا ہوا تو اس نے حضرت ابوعامر رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا اور جھنڈے کو اپنے قبضے میں کرلیا یہ دیکھ کر میں نے ابن ورید پر انتہائی سخت حملہ کیا اور اسے قتل کرکے جھنڈا حاصل کرلیا اور لوگوں کے ساتھ واپس آگیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19567
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بغير هذه السياقة، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله بن نعيم، ولا نقطاعه، رواية الضحاك عن أبى موسى مرسلة الوليد بن مسلم يدلس ويسوي لكنه توبع
حدیث نمبر: 19568
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ ، عَنْ شَيْخٍ لَهُمْ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : مَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى دَمْثٍ إِلَى جَنْبِ حَائِطٍ ، فَبَالَ ، قَالَ شُعْبَةُ : فَقُلْتُ لِأَبِى التَّيَّاحِ : جَالِسًا ؟ قَالَ : لَا أَدْرِي ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانُوا إِذَا أَصَابَهُمْ الْبَوْلُ ، قَرَضُوهُ بِالْمِقْرَاضَيْنِ ، فَإِذَا بَالَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيَرْتَدْ لِبَوْلِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ جارہے تھے کہ ایک باغ کے پہلو میں نرم زمین کے قریب پہنچ کر پیشاب کیا اور فرمایا بنی اسرائیل میں جب کوئی شخص پیشاب کرتا اور اس کے جسم پر معمولی سا پیشاب لگ جاتا تو وہ اس جگہ کو قینچی سے کاٹ دیا کرتا تھا اور فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص پیشاب کا ارادہ کرے تو اس کے لئے نرم زمین تلاش کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19568
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون قوله: إذا أراد أحدكم أن يبول فليرتد لبوله، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل الراوي عنه أبوالتياح
حدیث نمبر: 19569
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى الْفُضَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ حَدِيثِ أَبِي حَرِيزٍ ، أَنَّ أَبَا بُرْدَةَ حَدَّثَهُ ، عَنْ حَدِيثِ أَبِي مُوسَى ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " ثَلَاثَةٌ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ : مُدْمِنُ خَمْرٍ ، وَقَاطِعُ رَحِمٍ ، وَمُصَدِّقٌ بِالسِّحْرِ ، وَمَنْ مَاتَ مُدْمِنًا لِلْخَمْرِ ، سَقَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ نَهْرِ الْغُوطَةِ " ، قِيلَ : وَمَا نَهْرُ الْغُوطَةِ ؟ قَالَ : " نَهْرٌ يَجْرِي مِنْ فُرُوجِ الْمُومِسَاتِ ، يُؤْذِي أَهْلَ النَّارِ رِيحُ فُرُوجِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین قسم کے لوگ جنت میں داخل نہ ہوسکیں گے عادی شرابی، قطع رحمی کرنے والا اور جادو کی تصدق کرنے والا اور جو شخص عادی شرابی ہونے کی حالت میں مرجائے، اللہ اسے " نہر غوطہ " کا پانی پلائے گا ! کسی نے پوچھا نہر غوطہ سے کیا مراد ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ نہر جو فاحشہ عورتوں کی شرمگاہوں سے جاری ہوگی اور ان کی شرمگاہوں کی بدبو تمام اہل جہنم کو اذیت پہنچائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19569
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: قوله منه :ثلالثة…ومصدق بالسحر،حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى جرير
حدیث نمبر: 19570
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ عَبْدُ اللهِ : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : وُلِدَ لِي غُلَامٌ ، فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَمَّاهُ إِبْرَاهِيمَ ، وَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا میں اسے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے " ابراہیم " اس کا نام رکھا اور کھجور سے اسے گھٹی دی
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19570
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5467، م: 2154
حدیث نمبر: 19571
وَقَالَ : احْتَرَقَ بَيْتٌ بِالْمَدِينَةِ عَلَى أَهْلِهِ ، فَحُدِّثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَأْنِهِمْ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا هَذِهِ النَّارُ عَدُوٌّ لَكُمْ ، فَإِذَا نِمْتُمْ ، فَأَطْفِئُوهَا عَنْكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
اور کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ کے کسی گھر میں آگ لگ گئی اور تمام اہل خانہ جل گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ بات بتائی گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ آگ تمہاری دشمن ہے جب تم سویا کرو تو اسے بجھادیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19571
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6294، م: 2016
حدیث نمبر: 19572
قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِهِ فِي بَعْضِ أَمْرِهِ ، قَالَ : " بَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا ، وَيَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی اپنے کسی صحابی رضی اللہ عنہ کو کسی کام کے حوالے سے کہیں بھیجتے تو فرماتے خوشخبری دیا کرو نفرت نہ پھیلایا کرو، آسانیاں پیدا کیا کرو، مشکلات پیدانہ کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19572
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6124، م: 1732
حدیث نمبر: 19573
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مَثَلَ مَا بَعَثَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ مِنَ الْهُدَى وَالْعِلْمِ ، كَمَثَلِ غَيْثٍ أَصَابَ الْأَرْضَ ، فَكَانَتْ مِنْهُ طَائِفَةٌ قَبِلَتْ ، فَأَنْبَتَتْ الْكَلَأَ وَالْعُشْبَ الْكَثِيرَ ، وَكَانَتْ مِنْهَا أَجَادِبُ أَمْسَكَتْ الْمَاءَ ، فَنَفَعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا نَاسًا ، فَشَرِبُوا ، فَرَعَوْا ، وَسَقَوْا وَزَرَعُوا وَأَسْقَوْا ، وَأَصَابَتْ طَائِفَةً مِنْهَا أُخْرَى ، إِنَّمَا هِيَ قِيعَانٌ لَا تُمْسِكُ مَاءً ، وَلَا تُنْبِتُ كَلَأً ، فَذَلِكَ مَثَلُ مَنْ فَقُهَ فِي دِينِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَنَفَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِمَا بَعَثَنِي بِهِ ، وَنَفَعَ بِهِ ، فَعَلِمَ وَعَلَّمَ ، وَمَثَلُ مَنْ لَمْ يَرْفَعْ بِذَلِكَ رَأْسًا ، وَلَمْ يَقْبَلْ هُدَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ الَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جو ہدایت اور علم دے کر بھیجا ہے اس کی مثال اس بارش کی سی ہے جو زمین پر بر سے اب زمین کا کچھ حصہ تو اسے قبول کرلیتا ہے اور اس سے گھاس اور چارہ کثیر مقدار میں اگتا ہے کچھ حصہ قحط زدہ ہوتا ہے جو پانی کو روک لیتا ہے اور جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے چناچہ لوگ اسے پیتے ہیں اور سیراب ہوتے ہیں جانوروں کو پلاتے ہیں کھیتی باڑی میں استعمال کرتے ہیں اور دوسروں کو پلاتے ہیں اور کچھ حصہ بالکل چٹیل میدان ہوتا ہے جو پانی کو روکتا ہے اور نہ ہی چارہ اگاتا ہے یہی مثال ہے اس شخص کی جو اللہ کے دین کی سمجھ حاصل کرتا ہے اور اللہ اس کو اس سے فائدہ پہنچاتا ہے جو اس نے مجھے دے کر بھیجا ہے لوگوں کو بھی اس سے فائدہ پہنچتا ہے اور وہ علم حاصل کرتا اور اسے پھیلاتا ہے اور یہی مثال ہے اس شخص کی جو اس کے لئے سرتک نہیں اٹھاتا اور اللہ کی اس ہدایت کو قبول نہیں کرتا جو مجھے دے کر بھیجا گیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19573
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 79، م: 2282
حدیث نمبر: 19574
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبَّادٍ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوءٍ ، فَتَوَضَّأَ ، وَصَلَّى ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِي ، وَوَسِّعْ عَلَيَّ فِي ذَاتِي ، وَبَارِكْ لِي فِي رِزْقِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو کا پانی لے کر آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور دعاء پڑھتے ہوئے فرمایا اے اللہ ! میرے دین کی اصلاح فرما، مجھ پر کشادگی فرما اور میرے رزق میں برکت عطاء فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19574
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، فى إسناده نظر، سماع أبى مجلز من أبى موسى فيه نظر، وهو يرسل عمن لم يلقه
حدیث نمبر: 19575
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، وَعَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، وَالْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ : " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ ؟ " قَالَ : وَمَا هُوَ ؟ قَالَ : " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں جنت کے ایک خزانے کے متعلق نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں فرمایا لاحول ولاقوۃ الاباللہ (جنت کا ایک خزانہ ہے )
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19575
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19576
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ الْأَشْعَرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْخَيْمَةُ دُرَّةٌ مُجَوَّفَةٌ ، طُولُهَا فِي السَّمَاءِ سِتُّونَ مِيلًا ، فِي كُلِّ زَاوِيَةٍ مِنْهَا لِلْمُؤْمِنِ أَهْلٌ لَا يَرَاهُمْ الْآخَرُونَ " ، وَرُبَّمَا قَالَ عَفَّانُ : " لِكُلِّ زَاوِيَةٍ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت کا ایک خیمہ ایک جوف دارموتی سے بنا ہوگا آسمان میں جس کی لمبائی ساٹھ میل ہوگی اور اس کے ہر کونے میں ایک مسلمان کے جو اہل خانہ ہوں گے، دوسرے کونے والے انہیں دیکھ نہ سکیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19576
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3243، م: 2838
حدیث نمبر: 19577
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا مَرَّ أَحَدُكُمْ فِي مَسْجِدٍ ، أَوْ سُوقٍ ، أَوْ مَجْلِسٍ ، وَبِيَدِهِ نِبَالٌ ، فَلْيَأْخُذْ بِنِصَالِهَا " . قَالَ أَبُو مُوسَى : فَوَاللَّهِ مَا مِتْنَا حَتَّى سَدَّدَهَا بَعْضُنَا فِي وُجُوهِ بَعْضٍ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن قیس سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم مسلمانوں کی مسجدوں اور بازاروں میں جایا کرو اور تمہارے پاس تیر ہوں تو ان کا پھل قابو میں رکھا کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کسی کو لگ جائے اور تم کسی کو اذیت پہنچاؤ یا زخمی کردو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19577
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2615
حدیث نمبر: 19578
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ يَعْنِي ابْنَ عُمَارَةَ ، عَنْ غُنَيْمٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا اسْتَعْطَرَتْ الْمَرْأَةُ ، فَخَرَجَتْ عَلَى الْقَوْمِ لِيَجِدُوا رِيحَهَا ، فَهِيَ كَذَا وَكَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی عورت عطر لگا کر کچھ لوگوں کے پاس سے گذرتی ہے تاکہ وہ اس کی خوشبو سونگھیں تو وہ ایسی ایسی ہے (بدکا رہے)
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19578
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده جيد
حدیث نمبر: 19579
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ " ، أَو " مَا تَدْرِي مَا كَنْزٌ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ ؟ " قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں جنت کے ایک خزانے کے متعلق نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں فرمایا لاحول ولاقوۃ الاباللہ (جنت کا ایک خزانہ ہے )
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19579
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2992، م: 2704
حدیث نمبر: 19580
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ . وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ ابْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدِ ، فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص نردشیر (بارہ ٹانی) کے ساتھ کھیلتا ہے وہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19580
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن، وهذا إسناد منقطع، سعيد بن أبى هند لم يلق أبا موسى الأشعري
حدیث نمبر: 19581
حَدَّثَنَا يَحْيَى هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى اسْتَأْذَنَ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَلَمْ يَأْذَنْ لَهُ ، فَرَجَعَ ، فَقَالَ : أَلَمْ أَسْمَعْ صَوْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ آنِفًا ؟ قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : فَاطْلُبُوهُ ، قَالَ : فَطَلَبُوهُ ، فَدُعِيَ ، فَقَالَ : مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ ؟ قَالَ : اسْتَأْذَنْتُ ثَلَاثًا ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي ، فَرَجَعْتُ ، كُنَّا نُؤْمَرُ بِهَذَا ، فَقَالَ : لَتَأْتِيَنَّ عَلَيْهِ بِالْبَيِّنَةِ ، أَوْ لَأَفْعَلَنَّ ، قَالَ : فَأَتَى مَسْجِدًا ، أَوْ مَجْلِسًا لِلْأَنْصَارِ ، فَقَالُوا : لَا يَشْهَدُ لَكَ إِلَّا أَصْغَرُنَا ، فَقَامَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، فَشَهِدَ لَهُ ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : خَفِيَ هَذَا عَلَيَّ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَلْهَانِي عَنْهُ الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ ".
مولانا ظفر اقبال
عبید بن عمیررحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو تین مرتبہ سلام کیا، انہیں اجازت نہیں ملی تو وہ واپس چلے گئے تھوڑی دیر بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ابھی میں نے عبداللہ بن قیس کی آواز نہیں سنی تھی ؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے پیچھے قاصد کو بھیجا کہ واپس کیوں چلے گئے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے تین مرتبہ اجازت لی تھی جب مجھے اجازت نہیں ملی تو میں واپس چلا گیا ہمیں اسی کا حکم دیا جاتا تھا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس پر گواہ پیش کرو ورنہ میں تمہیں سزادوں گا، حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ انصار کی ایک مجلس میں پہنچے وہ لوگ کہنے لگے کہ اس بات کی شہادت تو ہم میں سب سے چھوٹا بھی دے سکتا ہے چناچہ حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ چلے گئے اور اس کی شہادت دے دی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم مجھ پر مخفی رہا مجھے بازاروں کے معاملات نے اس سے غفلت میں رکھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19581
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7353، م: 2153
حدیث نمبر: 19582
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي قَسَامَةُ بْنُ زُهَيْرٍ . قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ : عَنْ قَسَامَةَ بْنِ زُهَيْرٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ آدَمَ مِنْ قَبْضَةٍ قَبَضَهَا مِنْ جَمِيعِ الْأَرْضِ ، فَجَاءَ بَنُو آدَمَ عَلَى قَدْرِ الْأَرْضِ ، جَاءَ مِنْهُمْ الْأَبْيَضُ ، وَالْأَحْمَرُ ، وَالْأَسْوَدُ ، وَبَيْنَ ذَلِكَ ، وَالْخَبِيثُ وَالطَّيِّبُ ، وَالسَّهْلُ وَالْحَزْنُ ، وَبَيْنَ ذَلِكَ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو ایک مٹھی مٹی سے پیدا کیا تھا جو اس نے ساری زمین سے اکٹھی کی تھی یہی وجہ سے کہ بنو آدم زمین ہی کی طرح ہیں چناچہ کچھ سفید ہیں، کچھ سرخ ہیں کچھ سیاہ فام ہیں اور کچھ اس کے درمیان، اسی طرح کچھ گندے ہیں اور کچھ عمدہ، کچھ نرم ہیں اور کچھ غمگین وغیرہ۔ گذشہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19582
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19583
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ قَسَامَةَ بْنِ زُهَيْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْأَشْعَرِيَّ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19583
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19584
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِنَّهُ سَأَلَهُ سَائِلٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اشْفَعُوا تُؤْجَرُوا ، وَلْيَقْضِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ مَا أَحَبَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ایک آدمی نے کچھ مانگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس کی سفارش کرو، تمہیں اجر ملے گا اور اللہ اپنے نبی کی زبان پر وہی فیصلہ جاری فرمائے گا جو اسے محبوب ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19584
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6028
حدیث نمبر: 19585
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ابْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ : لَقَدْ ذَكَّرَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَلَاةً صَلَّيْنَاهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَسِينَاهَا ، وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ تَرَكْنَاهَا عَمْدًا ، يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَكَعَ ، وَإِذَا سَجَدَ ، وَإِذَا رَفَعَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز یاددلادی ہے جو ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتے تھے جسے ہم بھلاچکے تھے یا عمداً چھوڑ چکے تھے وہ ہر مرتبہ رکوع کرتے وقت، سر اٹھاتے وقت اور سجدے میں جاتے ہوئے اللہ اکبر کہتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19585
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على أبى إسحاق
حدیث نمبر: 19586
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ دَيْلَمٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَتْ اليهود يَتَعَاطَسُونَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَاءَ أَنْ يَقُولَ لَهُمْ : يَرْحَمُكُمْ اللَّهُ ، فَكَانَ يَقُولُ لَهُمْ : " يَهْدِيكُمُ اللَّهُ ، وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہودی لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر چھینکیں مارتے تھے تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں جواب میں یہ کہہ دیں کہ اللہ تم پر رحم فرمائے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں چھینک کے جواب میں یوں فرماتے کہ اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارے احوال کی اصلاح فرمائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19586
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19587
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنَامُ ، وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ ، يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَيَرْفَعُهُ ، حِجَابُهُ النَّارُ ، لَوْ كَشَفَهَا لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ كُلَّ شَيْءٍ أَدْرَكَهُ بَصَرُهُ " ، ثُمَّ قَرَأَ أَبُو عُبَيْدَةَ : نُودِيَ أَنْ بُورِكَ مَنْ فِي النَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا وَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة النمل آية 8.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کو نیند نہیں آتی اور نہ ہی نیندان کی شایان شان ہے وہ ترازو کو جھکاتے اور اونچا کرتے ہیں اس کا حجاب آگ ہے اگر وہ اپناحجاب اٹھادے تو تاحد نگاہ ہر چیز جل جائے پھر ابوعبیدہ نے یہ آیت تلاوت کی " آواز لگائی گئی کہ آگ اور اس کے اردگردجو کچھ ہے اس سب میں برکت دی گئی ہے اور اللہ رب العالمین ہر عیب سے پاک ہے۔ "
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19587
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2759
حدیث نمبر: 19588
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، قَالَ : قَالَ أَبُو مُوسَى : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا أَرَى أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ ، أَوْ : مَا ذَكَرَ مِنْ هَذَا.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے ان کے گھر میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا اتنا آنا جانا دیکھا کہ میں انہیں اس گھر کا ایک فرد سمجھتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19588
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3763، م: 2460
حدیث نمبر: 19589
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَعِيدِ ابْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا أَحَدٌ أَصْبَرَ عَلَى أَذًى يَسْمَعُهُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، يَدْعُونَ لَهُ وَلَدًا ، وَيُعَافِيهِمْ ، وَيَرْزُقُهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی تکلیف دہ بات کو سن کر اللہ سے زیادہ اس پر صبر کرنے والا کوئی نہیں ہے اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرایا جاتا ہے لیکن وہ پھر بھی انہیں عافیت اور رزق دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19589
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6099، م: 2804
حدیث نمبر: 19590
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّ أَخًا لِأَبِي مُوسَى كَانَ يَتَسَرَّعُ فِي الْفِتْنَةِ ، فَجَعَلَ يَنْهَاهُ ، وَلَا يَنْتَهِي ، فَقَالَ : إِنْ كُنْتُ أَرَى أَنَّهُ سَيَكْفِيكَ مِنِّي الْيَسِيرُ ، أَوْ قَالَ : مِنَ الْمَوْعِظَةِ دُونَ مَا أَرَى ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا ، فَقَتَلَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ ، فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ " ، فَقِيلَ : هَذَا الْقَاتِلُ ، فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ ؟ قَالَ : " إِنَّهُ أَرَادَ قَتْلَ صَاحِبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
خواجہ حسن رحمہ اللہ کہتے ہیں حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کا ایک بھائی تھا جو بڑھ چڑھ کر فتنے کے کاموں میں حصہ لیتا تھا وہ اسے منع کرتے لیکن وہ باز نہ آتا وہ اس سے فرماتے اگر میں یہ سمجھتا کہ تمہیں سی نصیحت بھی کافی ہوسکتی ہے جو میری رائے میں اس سے کم ہوتی (تب بھی میں تمہیں نصیحت کرتا) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب دو مسلمان تلواریں لے کر ایک دوسرے کے سامنے آجائیں اور ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کردے تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ قاتل کی بات تو سمجھ میں آجاتی ہے مقتول کا کیا معاملہ ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنا چاہتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19590
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من أبى موسي
حدیث نمبر: 19591
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنِ الْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى ، فَقَدَّمَ فِي طَعَامِهِ لَحْمَ دَجَاجٍ ، وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ أَحْمَرُ ، كَأَنَّهُ مَوْلًى ، فَلَمْ يَدْنُ ، قَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى : ادْنُ ، فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مِنْهُ ، قَالَ : إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ شَيْئًا ، فَقَذِرْتُهُ ، فَحَلَفْتُ أَنْ لَا أَطْعَمَهُ أَبَدًا . فَقَالَ : ادْنُ ، أُخْبِرْكَ عَنْ ذَلِكَ ، إِنِّي أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنَ الْأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ ، وَهُوَ يَقْسِمُ نَعَمًا مِنْ نَعَمْ الصَّدَقَةِ قَالَ أَيُّوبُ : أَحْسِبُهُ وَهُوَ غَضْبَانُ فَقَالَ : لَا وَاللَّهِ ، مَا أَحْمِلُكُمْ ، وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ ، فَانْطَلَقْنَا ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَهْبِ إِبِلٍ ، فَقَالَ : " أَيْنَ هَؤُلَاءِ الْأَشْعَرِيُّونَ ؟ " فَأَتَيْنَا ، فَأَمَرَ لَنَا بِخَمْسِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَى ، فَانْدَفَعْنَا ، فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي : أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ ، فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْنَا ، فَحَمَلَنَا ، فَقُلْتُ : نَسِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينَهُ ، وَاللَّهِ لَئِنْ تَغَفَّلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينَهُ ، لَا نُفْلِحُ أَبَدًا ، ارْجِعُوا بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلْنُذَكِّرْهُ يَمِينَهُ ، فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَيْنَاكَ نَسْتَحْمِلُكَ ، فَحَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنَا ، ثُمَّ حَمَلْتَنَا ، فَعَرَفْنَا ، أَوْ : ظَنَنَّا أَنَّكَ نَسِيتَ يَمِينَكَ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " انْطَلِقُوا ، فَإِنَّمَا حَمَلَكُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، وَإِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ ، فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا ، إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ، وَتَحَلَّلْتُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا وہ اس وقت مرغی کھا رہے تھے وہ آدمی ایک طرف کو ہو کر بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ میں نے قسم کھا رکھی ہے کہ اسے نہیں کھاؤں گا کیونکہ میں مرغیوں کو گندکھاتے ہوئے دیکھتا ہوں، انہوں نے فرمایا قریب آجاؤ کیونکہ میں تمہیں اس کے متعلق بتاتاہوں۔ ایک مرتبہ میں اشعریین کے ایک گروہ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کے لئے جانوروں کی درخواست کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بخدا ! میں تمہیں سوار نہیں کرسکوں گا کیونکہ میرے پاس تمہیں سوار کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے ؟ ہم کچھ دیر " جب تک اللہ کو منظور ہوا " رکے رہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لئے روشن پیشانی کے تین اونٹوں کا حکم دے دیا جب ہم واپس جانے لگے تو ہم میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواری کے جانور کی درخواست لے کر آئے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی تھی کہ وہ ہمیں سواری کا جانور نہیں دیں گے واپس چلو تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی قسم یاد دلادیں۔ چناچہ ہم دوبارہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم آپ کے پاس سواری کے جانور کی درخواست لے کر آئے تھے اور آپ نے قسم کھائی تھی کہ ہمیں سواری کا جانور نہیں دیں گے، پھر آپ نے ہمیں جانور دے دیا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں سوار نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے بخدا ! اگر اللہ کو منظور ہوا تو میں جب بھی کوئی قسم کھاؤں گا اور کسی دوسری چیز میں خیر دیکھوں گا تو اسی کو اختیار کر کے اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا۔ گذشہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19591
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6721 ، م: 1649
حدیث نمبر: 19592
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ أَبِي مُوسَى ، فَقُرِّبَ لَهُ طَعَامٌ فِيهِ دَجَاجٌ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19592
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3133، م: 1649
حدیث نمبر: 19593
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ يُقَالُ لَهُ : زَهْدَمٌ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى ، فَأُتِيَ بِلَحْمِ دَجَاجٍ فَذَكَرَهُ.
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19593
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3133، م: 1649، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 19594
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، وَعَنْ الْقَاسِمِ التميمي ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ، قَالَ : كَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْأَشْعَرِيِّ إخاء فذكر الحديث ومعناه.
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19594
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3133، م: 1649
حدیث نمبر: 19595
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَنَا ، وَسُنَّتَنَا ، فَقَالَ : " إِنَّمَا الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا ، وَإِذَا قَالَ : غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 ، فَقُولُوا : آمِينَ ، يُجِبْكُمْ اللَّهُ تَعَالَى ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا ، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا ، وَإِذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، فَقُولُوا : رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ، يَسْمَعْ اللَّهُ لَكُمْ ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا ، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا ، فَإِنَّ الْإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ ، وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ " ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَتِلْكَ بِتِلْكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز اور اس کا طریقہ سکھایا اور فرمایا کہ امام کو تو مقرر ہی اقتداء کے لئے کیا جاتا ہے اس لئے وہ تکبیر جب کہے تو تم بھی تکبیر کہو اور جب وہ غیرالمغضوب علیہم ولا الضالین کہے تو آمین کہو اللہ اسے قبول کرلے گا جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنالک الحمد کہو اللہ تمہاری ضرور سنے گا جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو، جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ کیونکہ امام تم سے پہلے سجدہ کرے گا اور سر اٹھائے گا یہ اس کے بدلے میں ہوجائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19595
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 408
حدیث نمبر: 19596
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو ابْنِ مُرَّةَ ، قَالَ عَفَّانُ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِلْمَغْنَمِ ، وَالرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِيُذْكَرَ ، وَالرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِيُرَى مَكَانُهُ ، فَمَنْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا ، فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ بتائیے کہ ایک آدمی مال غنیمت کے لئے لڑتا ہے دوسرا آدمی اپنے آپ کو بہادرثابت کرنے کے لئے لڑتا ہے اور ایک آدمی ریاکاری کے لئے قتال کرتا ہے ان میں سے اللہ کے راستے میں قتال کرنے والا کون ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اس لئے قتال کرتا ہے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہوجائے وہی اللہ کے راستہ میں قتال کرنے والا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19596
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3126، م: 1904
حدیث نمبر: 19597
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِي نَفَرٌ مِنْ قَوْمِي ، فَقَالَ : " أَبْشِرُوا ، وَبَشِّرُوا مَنْ وَرَاءَكُمْ ، أَنَّهُ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ صَادِقًا بِهَا ، دَخَلَ الْجَنَّةَ " ، فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نُبَشِّرُ النَّاسَ ، فَاسْتَقْبَلَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَرَجَعَ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِذًَا يَتَّكِلَ النَّاسُ ؟ قَالَ : فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میرے ساتھ میری قوم کے کچھ لوگ بھی تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خوشخبری قبول کرو اور اپنے پیچھے رہ جانے والوں کو سنا دو کہ جو شخص صدق دل کے ساتھ لا الہ الا اللہ کی گواہی دیتا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں سے نکل کر لوگوں کو یہ خوشخبری سنانے لگے اچانک سامنے سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ آگئے وہ ہمیں لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس طرح تو لوگ اسی بات پر بھروسہ کرکے بیٹھ جائیں گے اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19597
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، مؤمل سييء الحفظ لكنه توبع
حدیث نمبر: 19598
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ ، حَدَّثَنَا الْأَجْلَحُ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ ، فَقُلْتُ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ بِهَا أَشْرِبَةً ، فَمَا أَشْرَبُ وَمَا أَدَعُ ؟ قَالَ : " وَمَا هِيَ ؟ " ، قُلْتُ : الْبِتْعُ وَالْمِزْرُ ، فَلَمْ يَدْرِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا هُوَ ، فَقَالَ : " مَا الْبِتْعُ وَمَا الْمِزْرُ ؟ " ، قَالَ : أَمَّا الْبِتْعُ ، فَنَبِيذُ الذُّرَةِ يُطْبَخُ حَتَّى يَعُودَ بِتْعًا ، وَأَمَّا الْمِزْرُ ، فَنَبِيذُ الْعَسَلِ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَشْرَبَنَّ مُسْكِرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن کی طرف بھیجا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہاں کچھ مشروبات رائج ہیں میں ان میں سے کون سا مشروب پیوں اور کون ساچھوڑوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مشروبات کے نام پوچھے میں نے بتایا " تبع اور مزر " لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ نہیں پائے کہ یہ کیسے مشروبات ہوتے ہیں اس لئے پوچھا کہ تبع اور مزر کسے کہتے ہیں ؟ میں نے عرض کیا کہ تبع تو جو کی اس نبیذ کو کہتے جسے خوب پکایا جاتا ہے اور مزر شہد کی نبیذ کو کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی نشہ آور چیز مت پینا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19598
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: قوله: لا تشربن مسكرا صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف مصعب بن سلام. أخطأ الأجلح فى تفسير البتع والمزر
حدیث نمبر: 19599
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ أَبُو مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ ، فَجَعَلْنَا لَا نَصْعَدُ شَرَفًا ، وَلَا نَعْلُو شَرَفًا ، وَلَا نَهْبِطُ فِي وَادٍ ، إِلَّا رَفَعْنَا أَصْوَاتَنَا بِالتَّكْبِيرِ ، قَالَ : فَدَنَا مِنَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ ، فَإِنَّكُمْ مَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا ، إِنَّمَا تَدْعُونَ سَمِيعًا بَصِيرًا ، إِنَّ الَّذِي تَدْعُونَ أَقْرَبُ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنْ عُنُقِ رَاحِلَتِهِ ، يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ ، أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَةً مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ ؟ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی جہاد کے سفر میں تھے جس ٹیلے یا بلند جگہ پر چڑھتے یا کسی نشیب میں اترتے تو بلند آواز سے تکبیر کہتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے قریب آکر فرمایا لوگو ! اپنے ساتھ نرمی کرو، تم کسی بہرے یا غائب اللہ کو نہیں پکار رہے، تم سمیع وبصیر کو پکار رہے ہو جو تمہاری سواری کی گردن سے بھی زیادہ تمہارے قریب ہے، اے عبداللہ بن قیس کیا میں تمہیں جنت کے ایک خزانے کے متعلق نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں فرمایا لاحول ولاقوۃ الاباللہ (جنت کا ایک خزانہ ہے )
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19599
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2992، م: 2704
حدیث نمبر: 19600
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ وَهُوَ النَّضْرُ بن إسماعيل يعني القاص ، حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ ، لَمْ يَبْقَ مُؤْمِنٌ إِلَّا أُتِيَ بِيَهُودِيٍّ ، أَوْ نَصْرَانِيٍّ ، حَتَّى يُدْفَعَ إِلَيْهِ ، يُقَالُ لَهُ : هَذَا فِدَاؤُكَ مِنَ النَّارِ " ، قَالَ أَبُو بُرْدَةَ : فَاسْتَحْلَفَنِي عُمَرُ ابْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ : أَسَمِعْتَ أَبَا مُوسَى يَذْكُرُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، فَسُرَّ بِذَلِكَ عُمَرُ.
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ ابوبردہ نے حضرت عمربن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کو اپنے والد صاحب کے حوالے سے یہ حدیث سنائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو مسلمان بھی فوت ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی جگہ کسی یہودی یا عیسائی کو جہنم میں داخل کردیتا ہے، ابوبردہ نے گزشتہ حدیث حضرت عمرعبدالعزیز رحمہ اللہ کو سنائی تو انہوں نے ابوبردہ سے اس اللہ کے نام کی قسم کھانے کے لئے کہا جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں کہ یہ حدیث ان کے والد صاحب نے بیان کی ہے اور انہوں نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اور سعید بن ابی بردہ، عوف کی اس بات کی تردید نہیں کرتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19600
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، م: 2767، وهذا إسناد ضعيف لضعف النضر بن إسماعيل، وللاختلاف فيه على أبى بردة
حدیث نمبر: 19601
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّهُ كَانَ يُنَفِّلُ فِي مَغَازِيهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوات میں انعامات بھی دیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19601
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالعزيز بن عبيدالله
حدیث نمبر: 19602
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " ثَلَاثَةٌ يُؤْتَوْنَ أُجُورَهُمْ مَرَّتَيْنِ : رَجُلٌ كَانَتْ لَهُ أَمَةٌ ، فَأَدَّبَهَا ، فَأَحْسَنَ تَأْدِيبَهَا ، وَعَلَّمَهَا ، فَأَحْسَنَ تَعْلِيمَهَا ، ثُمَّ أَعْتَقَهَا ، فَتَزَوَّجَهَا ، وَمَمْلُوكٌ أَعْطَى حَقَّ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَحَقَّ مَوَالِيهِ ، وَرَجُلٌ آمَنَ بِكِتَابِهِ ، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، قَالَ : قَالَ لِي الشَّعْبِيُّ : خُذْهَا بِغَيْرِ شَيْءٍ ، وَلَوْ سِرْتَ فِيهَا إِلَى كَرْمَانَ ، لَكَانَ ذَلِكَ يَسِيرًا.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین قسم کے لوگوں کو دہرا اجر ملتا ہے وہ آدمی جس کے پاس کوئی باندی ہو اور وہ اسے عمدہ دلائے بہترین ادب سکھائے، پھر اسے آزاد کرکے اس سے نکاح کرلے تو اسے دہرا اجر ملے گا، اسی طرح وہ غلام جو اپنے اللہ کا حق بھی ادا کرتا ہو اور اپنے آقا کا حق بھی ادا کرتا ہو یا اہل کتاب میں سے وہ آدمی جو اپنی شریعت پر بھی ایمان لایا ہو اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر بھی ایمان لایا ہو، اسے بھی دہرا اجرملے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19602
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 97، م: 154
حدیث نمبر: 19603
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَابَّةٍ ، لَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ ، فَجَعَلَهُ بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دو آدمی کسی جانور کا جھگڑا لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان میں میں سے کسی کے پاس بھی گواہ نہیں تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ان دونوں کے درمیان نصف نصف مشترک قرار دے دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19603
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: هو حديث معلول مع الاختلاف فى إسناده على قتاده
حدیث نمبر: 19604
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ تَدْرِي " ، أَوْ : " هَلْ أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ ؟ " قَالَ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں جنت کے ایک خزانے کے متعلق نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں فرمایا لاحول ولاقوۃ الاباللہ (جنت کا ایک خزانہ ہے )
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19604
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2992، م: 2704