حدیث نمبر: 19525
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ الْمَسْعُودِيِّ . وَيَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : سَمَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْسَهُ أَسْمَاءً ، مِنْهَا مَا حَفِظْنَا ، فَقَالَ : : " أَنَا مُحَمَّدٌ ، وَأَحْمَدُ ، وَالْمُقَفِّي ، وَالْحَاشِرُ ، وَنَبِيُّ الرَّحْمَةِ " ، قَالَ يَزِيدُ : " وَنَبِيُّ التَّوْبَةِ ، وَنَبِيُّ الْمَلْحَمَةِ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے کچھ نام بتائے جو ہمیں پہلے سے یاد اور معلوم نہ تھے چناچہ فرمایا کہ میں محمد ہوں، احمد، مقفی، حاشر اور نبی الرحمۃ ہوں صلی اللہ علیہ وسلم ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19525
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2355
حدیث نمبر: 19526
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ : رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَجُلٌ أَحَبَّ قَوْمًا وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ ؟ قَالَ : " الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ سوال پوچھا کہ اگر کوئی آدمی کسی قوم سے محبت کرتا ہے لیکن ان تک پہنچ نہیں پاتا تو کیا حکم ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19526
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6170، م: 2641
حدیث نمبر: 19527
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا أَحَدَ أَصْبَرُ عَلَى أَذًى يَسْمَعُهُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، إِنَّهُ يُشْرَكُ بِهِ وَهُوَ يَرْزُقُهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی تکلیف دہ بات کو سن کر اللہ سے زیادہ اس پر صبر کرنے والا کوئی نہیں ہے اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرایا جاتا ہے لیکن وہ پھر بھی انہیں رزق دیتا ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19527
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7378، م: 2804
حدیث نمبر: 19528
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَنَاءُ أُمَّتِي بِالطَّعْنِ وَالطَّاعُونِ " ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا الطَّعْنُ قَدْ عَرَفْنَاهُ ، فَمَا الطَّاعُونُ ؟ قَالَ : " وَخْزُ أَعْدَائِكُمْ مِنَ الْجِنِّ ، وَفِي كُلٍّ شُهَدَاءُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت " طعن اور طاعون " سے فناء ہوگی کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! طعن کا معنی تو ہم نے سمجھ لیا (کہ نیزوں سے مارنا) طاعون سے کیا مراد ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے دشمن جنات کے کچوکے اور دونوں صورتوں میں شہادت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19528
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: وهذا إسناد اختلف فيه على زياد بن علا قة
حدیث نمبر: 19529
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَابْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى . قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فِي حَدِيثِهِ : سَمِعْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَبْسُطُ يَدَهُ بِاللَّيْلِ لِيَتُوبَ مُسِيءُ النَّهَارِ ، وَيَبْسُطُ يَدَهُ بِالنَّهَارِ لِيَتُوبَ مُسِيءُ اللَّيْلِ ، حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا رات کے وقت اللہ تعالیٰ اپنے ہاتھ پھیلاتے ہیں تاکہ دن میں گناہ کرنے والا توبہ کرلے اور دن میں اپنے ہاتھ پھیلاتے ہیں تاکہ رات میں گناہ کرنے والا توبہ کرلے یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہے گا جب تک سورج مغرب سے طلوع نہیں ہوجاتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19529
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2759
حدیث نمبر: 19530
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْبَعٍ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنَامُ ، وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ ، يَخْفِضُ الْقِسْطَ ، وَيَرْفَعُهُ ، يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ اللَّيْلِ بِالنَّهَارِ ، وَعَمَلُ النَّهَارِ بِاللَّيْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور چارباتیں بیان فرمائیں اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کو نیند نہیں آتی اور نہ ہی نیند ان کی شایان شان ہے وہ ترازو کو جھکاتے اور اونچا کرتے ہیں رات کے اعمال دن کے وقت اور دن کے اعمال رات کے وقت ان کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19530
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 179
حدیث نمبر: 19531
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ " ، قَالَ : أَفَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَجِدْ ؟ قَالَ : " يَعْمَلُ بِيَدِهِ ، فَيَنْفَعُ نَفْسَهُ ، وَيَتَصَدَّقُ " ، قَالَ : أَفَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَفْعَلَ ؟ قَالَ : " يُعِينُ ذَا الْحَاجَةِ الْمَلْهُوفَ " ، قَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَفْعَلْ ؟ قَالَ : " يَأْمُرُ بِالْخَيْرِ ، أَوْ : بِالْعَدْلِ " ، قَالَ : أَفَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَفْعَلَ ؟ قَالَ : " يُمْسِكُ عَنِ الشَّرِّ ، فَإِنَّهُ لَهُ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر مسلمان پر صدقہ کرنا واجب ہے کسی نے پوچھا یہ بتائیے کہ اگر کسی کے پاس کچھ نہ ہو تو ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے ہاتھ سے محنت کرے، اپنا بھی فائدہ کرے اور صدقہ بھی کرے، سائل نے پوچھا یہ بتائیے کہ اگر وہ اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی ضرورت مند، فریادی کی مدد کر دے سائل نے پوچھا اگر کوئی شخص یہ بھی نہ کرسکے تو ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خیر یا عدل کا حکم دے سائل نے پوچھا اگر یہ بھی نہ کرسکے تو ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر کسی کو تکلیف پہنچانے سے اپنے آپ کو روک کر رکھے اس کے لئے یہی صدقہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19531
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1445، م: 1008
حدیث نمبر: 19532
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ صَالِحٍ الثَّوْرِيِّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَمَةٌ فَعَلَّمَهَا ، فَأَحْسَنَ تَعْلِيمَهَا ، وَأَدَّبَهَا ، فَأَحْسَنَ تَأْدِيبَهَا ، وَأَعْتَقَهَا ، فَتَزَوَّجَهَا ، فَلَهُ أَجْرَانِ ، وَعَبْدٌ أَدَّى حَقَّ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَحَقَّ مَوَالِيهِ ، وَرَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمَنَ بِمَا جَاءَ بِهِ عِيسَى ، وَمَا جَاءَ بِهِ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَهُ أَجْرَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کے پاس کوئی باندی ہو اور وہ اسے عمدہ تعلیم دلائے بہترین ادب سکھائے پھر اسے آزاد کرکے اس سے نکاح کرلے تو اسے دہرا اجر ملے گا، اسی طرح وہ غلام جو اپنے اللہ کا حق بھی ادا کرتا ہو اور اپنے آقا کا حق بھی ادا کرتا ہو یا اہل کتاب میں سے وہ آدمی جو حضرت عیسیٰ کی شریعت پر بھی ایمان لایا ہو اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر بھی ایمان لایا ہو اسے بھی دہرا اجرملے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19532
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 97، م: 154
حدیث نمبر: 19533
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19533
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6170، م: 2641
حدیث نمبر: 19534
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُنِيخٌ بِالْأَبْطَحِ ، فَقَالَ لِي : " أَحَجَجْتَ ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَبِمَ أَهْلَلْتَ ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : لَبَّيْكَ بِإِهْلَالٍ كَإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " قَدْ أَحْسَنْتَ " ، قَالَ : " طُفْ بِالْبَيْتِ ، وَبِالصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ ، ثُمَّ أَحِلَّ " ، قَالَ : فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ ، وَبِالصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ ، ثُمَّ أَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ بَنِي قَيْسٍ ، فَفَلَّتْ رَأْسِي ، ثُمَّ أَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ ، قَالَ : فَكُنْتُ أُفْتِي بِهِ النَّاسَ ، حَتَّى كَانَ خِلَافَةُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا أَبَا مُوسَى ، أَوْ : يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ ، رُوَيْدَكَ بَعْضَ فُتْيَاكَ ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي شَأْنِ النُّسُكِ بَعْدَكَ ، قَالَ : فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، مَنْ كُنَّا أَفْتَيْنَاهُ فُتْيَا ، فَلْيَتَّئِدْ ، فَإِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَادِمٌ عَلَيْكُمْ ، فَبِهِ فَأْتَمُّوا ، قَالَ : فَقَدِمَ عُمَرُ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : إِنْ نَأْخُذْ بِكِتَابِ اللَّهِ ، فَإِنَّ كِتَابَ اللَّهِ تَعَالَى يَأْمُرُنَا بِالتَّمَامِ ، وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَحِلَّ ، حَتَّى بَلَغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی قوم کے علاقے میں بھیج دیا، جب حج کاموسم قریب آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حج کے لئے تشریف لے گئے میں نے بھی حج کی سعادت حاصل کی، میں جب حاضر خدمت میں ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابطح میں پڑاؤ کئے ہوئے تھے مجھ سے پوچھا کہ اے عبداللہ بن قیس ! تم نے کس نیت سے احرام باندھا ؟ میں نے عرض کیا " لبیک بحج باہلال کا ھلال النبی صلی اللہ علیہ وسلم کہہ کر، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت اچھایہ بتاؤ کہ کیا اپنے ساتھ ہدی کا جانور لائے ہو ؟ میں نے کہا نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جا کر بیت اللہ کا طواف کرو، صفا مروہ کے درمیان سعی کرو اور حلال ہوجاؤ۔ چناچہ میں چلا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق کرلیا پھر اپنی قوم کی ایک عورت کے پاس آیا، اس نے " خطمی " سے میرا سر دھویا اور میرے سر کی جوئیں دیکھیں، پھر میں نے آٹھ دی الحج کو حج کا احرام باندھ لیا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال تک لوگوں کو یہی فتویٰ دیتا رہا جس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بھی یہی صورت حال رہی جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو ایک دن میں حجر اسود کے قریب کھڑا ہوا تھا اور لوگوں کو یہی مسئلہ بتارہا تھا جس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا کہ اچانک ایک آدمی آیا اور سرگوشی میں مجھ سے کہنے لگا کہ یہ فتویٰ دینے میں جلدی سے کام مت لیجئے کیونکہ امیرالمؤمنین نے مناسک حج کے حوالے سے کچھ نئے احکام جاری کئے ہیں۔ میں نے لوگوں سے کہا کہ اے لوگو ! جسے ہم نے مناسک حج کے حوالے سے کوئی فتویٰ دیا ہو وہ انتظار کرے کیونکہ امیرالمؤمنین آنے والے ہیں آپ ان ہی کی اقتداء کریں، پھر جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے تو میں نے ان سے پوچھا اے امیرالمؤمنین ! کیا مناسک حج کے حوالے سے آپ نے کچھ نئے احکام جاری کئے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! اگر ہم کتاب اللہ کو لیتے ہیں تو وہ ہمیں اتمام کا حکم دیتی ہے اور اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو لیتے ہیں تو انہوں نے قربانی کرنے تک احرام نہیں کھولا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19534
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1565، م: 1221
حدیث نمبر: 19535
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، أَنَّهُ أُغْمِيَ عَلَيْهِ ، فَبَكَتْ عَلَيْهِ أُمُّ وَلَدِهِ ، فَلَمَّا أَفَاقَ ، قَالَ لَهَا : أَمَا بَلَغَكِ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : فَسَأَلْتُهَا ، فَقَالَتْ : قَالَ : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ سَلَقَ ، وَحَلَقَ ، وَخَرَقَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ ان پر بیہوشی طاری ہوئی تو ان کی ام ولدہ رونے لگی جب انہیں افاقہ ہوا تو اس سے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے ؟ اس نے پوچھا کیا فرمایا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ وہ شخص ہم میں سے نہیں جو واویلا کرے، بال نوچے اور گریبان چاک کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19535
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 104، يزيد بن أوس مجهول لكنه توبع
حدیث نمبر: 19536
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ سَمِعَ بِي مِنْ أُمَّتِي ، أَوْ : يَهُودِيٌّ ، أَوْ : نَصْرَانِيٌّ ، فَلَمْ يُؤْمِنْ بِي ، لَمْ يَدْخُلْ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میرے متعلق سنے خواہ میرا امتی ہو، یہودی ہو یا عیسائی ہو اور مجھ پر ایمان نہ لائے وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19536
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، سعيد بن جبير لم يسمع أبا موسى الأشعري
حدیث نمبر: 19537
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ أَسْوَدُ طَوِيلٌ ، قَالَ : جَعَلَ أَبُو التَّيَّاحِ يَنْعَتُهُ ، أَنَّهُ قَدِمَ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ الْبَصْرَةَ ، فَكَتَبَ إِلَى أَبِي مُوسَى ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ أَبُو مُوسَى ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْشِي ، فَمَالَ إِلَى دَمْثٍ فِي جَنْبِ حَائِطٍ ، فَبَالَ ، ثُمَّ قَالَ : " كَانَ بَنَو إِسْرَائِيلَ إِذَا بَالَ أَحَدُهُمْ ، فَأَصَابَهُ شَيْءٌ مِنْ بَوْلِهِ ، يَتْبَعُهُ ، فَقَرَضَهُ بِالْمِقْرَاضَيْنِ " ، وَقَالَ : " إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَبُولَ ، فَلْيَرْتَدْ لِبَوْلِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالتیاح کے طویل سیاہ فام آدمی سے نقل کرتے ہیں کہ وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ بصرہ آیا انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا، حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے انہیں جواب میں لکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ جارہے تھے کہ ایک باغ کے پہلو میں نرم زمین کے قریب پہنچ کر پیشاب کیا اور فرمایا بنی اسرائیل میں جب کوئی شخص پیشاب کرتا اور اس کے جسم پر معمولی سا پیشاب لگ جاتا تو وہ اس جگہ کو قینچی سے کاٹ دیا کرتا تھا اور فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص پیشاب کا ارادہ کرے تو اس کے لئے نرم زمین تلاش کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19537
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون قوله: إذا أراد أحدكم أن يبول فليرتد لبوله، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل الراوي عنه أبو التياح
حدیث نمبر: 19538
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي وَهُوَ بِحَضْرَةِ الْعَدُوِّ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ " إِنَّ أَبْوَابَ الْجَنَّةِ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ " ، قَالَ : فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ رَثُّ الْهَيْئَةِ ، فَقَالَ : يَا أَبَا مُوسَى ، آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَرَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : أَقْرَأُ عَلَيْكُمْ السَّلَامَ ، ثُمَّ كَسَرَ جَفْنَ سَيْفِهِ ، فَأَلْقَاهُ ، ثُمَّ مَشَى بِسَيْفِهِ ، فَضَرَبَ بِهِ حَتَّى قُتِلَ .
مولانا ظفر اقبال
ابوبکربن عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ دشمن کے لشکرکے سامنے میں نے اپنے والد کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جنت کے دروازے تلواروں کے سائے تلے میں ہیں یہ سن کر ایک پراگندہ ہیئت آدمی لوگوں میں سے کھڑا ہو اور کہنے لگا اے ابوموسیٰ ! کیا یہ حدیث آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خود سنی ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! وہ اپنے ساتھیوں کے پاس واپس پہنچا اور انہیں آخری مرتبہ سلام کیا اپنی تلوار کی نیام توڑ کر پھینکی اور تلوار لے کر چل پڑا اور اس شدت کے ساتھ لڑا کہ بالآخر شہید ہوگیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19538
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1902
حدیث نمبر: 19539
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ : أُغْمِيَ عَلَى أَبِي مُوسَى ، فَبَكَوْا عَلَيْهِ ، فَقَالَ : إِنِّي بَرِيءٌ مِمَّنْ بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلُوا عَنْ ذَلِكَ امْرَأَتَهُ ، فَقَالَتْ : مَنْ حَلَقَ ، أَوْ خَرَقَ ، أَوْ سَلَقَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ ان پر بیہوشی طاری ہوئی تو ان کی ام ولدہ رونے لگی جب انہیں افاقہ ہوا تو اس سے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے ؟ اس نے پوچھا کیا فرمایا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ وہ شخص ہم میں سے نہیں جو واویلا کرے، بال نوچے اور گریبان چاک کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19539
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 106، يزيد بن أوس مجهول لكنه توبع
حدیث نمبر: 19540
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ خَالِدٍ الْأَحْدَبِ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ، قَالَ : أُغْمِيَ عَلَى أَبِي مُوسَى ، فَبَكَوْا عَلَيْهِ ، فَأَفَاقَ ، فَقَالَ : إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكُمْ مِمَّنْ بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مِمَّنْ حَلَقَ ، أَوْ خَرَقَ ، أَوْ سَلَقَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ ان پر بیہوشی طاری ہوئی تو ان کی ام ولدہ رونے لگی جب انہیں افاقہ ہوا تو اس سے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے ؟ اس نے پوچھا کیا فرمایا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ وہ شخص ہم میں سے نہیں جو واویلا کرے، بال نوچے اور گریبان چاک کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19540
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 104
حدیث نمبر: 19541
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ . وَحَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، حَدَّثَنِي عَوْفٌ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ مِخْرَاقٍ ، عَنْ أَبِي كِنَانَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَابِ بَيْتٍ فِيهِ نَفَرٌ مِنْ قُرَيْشٍ ، فَقَالَ وَأَخَذَ بِعِضَادَتَيْ الْبَابِ ، ثُمَّ قَالَ : " هَلْ فِي الْبَيْتِ إِلَّا قُرَشِيٌّ ؟ " ، قَالَ : فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، غَيْرُ فُلَانٍ ابْنِ أُخْتِنَا ، فَقَالَ : " ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ " ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ فِي قُرَيْشٍ مَا دَامُوا إِذَا اسْتُرْحِمُوا رَحِمُوا ، وَإِذَا حَكَمُوا عَدَلُوا ، وَإِذَا قَسَمُوا أَقْسَطُوا ، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھرکے دروازے پر پہنچے جہاں کچھ قریشی جمع تھے اور دروازے کے دونوں کواڑ پکڑ کر پوچھا کہ کیا اس گھر میں قریشیوں کے علاوہ بھی کوئی ہے ؟ کسی نے جواب دیا ہمارا فلاں بھانجا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قوم کا بھانجا ان ہی میں شمار ہوتا ہے پھر فرمایا حکومت قریش ہی میں رہے گی جب تک ان سے رحم کی درخواست کی جائے تو وہ رحم کرتے رہیں فیصلہ کریں تو انصاف کریں تقسیم کریں تو عدل سے کام لیں جو شخص ایسا نہ کرے اس پر اللہ کی فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اس کا کوئی فرض یا نفل قبول نہیں ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19541
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون قوله: فمن لم يفعل ذلك منهم….. إلى آخر الحديث، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى كنانة
حدیث نمبر: 19542
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي مُوسَى ، وَعَبْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : أَلَمْ تَسْمَعْ لِقَوْلِ عَمَّارٍ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ ، فَأَجْنَبْتُ ، فَلَمْ أَجِدْ الْمَاءَ ، فَتَمَرَّغْتُ فِي الصَّعِيدِ كَمَا تَمَرَّغُ الدَّابَّةُ ، ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ ، وَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى الْأَرْضِ ، ثُمَّ مَسَحَ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا بِصَاحِبَتِهَا ، ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ " ، لَمْ يُجِزْ الْأَعْمَشُ الْكَفَّيْنِ.
مولانا ظفر اقبال
شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کیا آپ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی یہ بات نہیں سنی کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی کام سے بھیجا مجھ پر دوران سفر غسل واجب ہوگیا مجھے پانی نہیں ملا تو میں اسی طرح مٹی میں لوٹ پوٹ ہوگیا جیسے چوپائے ہوتے ہیں پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس واقعے کا بھی ذکر کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے لئے تو صرف یہی کافی تھا یہ کہہ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر اپنا ہاتھ مارا پھر دونوں ہاتھوں کو ایک دوسرے پر ملا اور چہرے پر مسح کرلیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19542
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 347، م: 368
حدیث نمبر: 19543
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يُقَاتِلُ شَجَاعَةً ، وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً ، وَيُقَاتِلُ رِيَاءً ، فَأَيُّ ذَلِكَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ هِيَ الْعُلْيَا ، فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ بتائیے کہ آدمی اپنے آپ کو بہادر ثابت کرنے کے لئے لڑتا ہے ایک آدمی قومی غیرت کے جذبے سے قتال کرتا ہے اور ایک آدمی ریاکاری کے لئے قتال کرتا ہے ان میں سے اللہ کے راستے میں قتال کرنے والا کون ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اس لئے قتال کرتا ہے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہوجائے وہی اللہ کے راستہ میں قتال کرنے والا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19543
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 123، م: 1904
حدیث نمبر: 19544
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا ، وَأَبَا مُوسَى إِلَى الْيَمَنِ ، فَأَمَرَهُمَا أَنْ يُعَلِّمَا النَّاسَ الْقُرْآنَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا اور انہیں حکم کہ لوگوں کو قرآن سکھائیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19544
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 19545
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : إِذَا مَرَّ أَحَدُكُمْ بِالنَّبْلِ فِي مَسَاجِدِنَا ، أَوْ أَسْوَاقِنَا ، فَلْيُمْسِكْ بِيَدِهِ عَلَى مَشَاقِصِهَا ، لَا يَعْقِرْ أَحَدًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن قیس سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم مسلمانوں کی مسجدوں اور بازاروں میں جایا کرو اور تمہارے پاس تیر ہوں تو ان کا پھل قابو میں رکھا کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کسی کو لگ جائے اور تم کسی کو اذیت پہنچاؤ یا زخمی کردو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19545
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 452، م: 2615
حدیث نمبر: 19546
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : " تَعَاهَدُوا هَذَا الْقُرْآنَ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَهُوَ أَشَدُّ تَفَلُّتًا مِنْ أَحَدِكُمْ مِنَ الْإِبِلِ مِنْ عُقُلِهِ . قَالَ أَبُو أَحْمَدَ : قُلْتُ لِبُرَيْدٍ : هَذِهِ الْأَحَادِيثُ الَّتِي حَدَّثْتَنِي عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : هِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَكِنْ لَا أَقُولُ لَكَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس قرآن کی حفاظت کیا کرو اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے یہ اپنی رسی چھڑا کر بھاگ جانے والے اونٹ سے زیادہ تم میں سے کسی کے سینے سے جلدی نکل جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19546
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5033، م: 791
حدیث نمبر: 19547
حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيُّ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى الْفُضَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، فِي حَدِيثِ أَبِي حَرِيزٍ ، أَنَّ أَبَا بُرْدَةَ حَدَّثَهُ ، قَالَ : أَوْصَى أَبُو مُوسَى حِينَ حَضَرَهُ الْمَوْتُ ، فَقَالَ : إِذَا انْطَلَقْتُمْ بِجِنَازَتِي ، فَأَسْرِعُوا الْمَشْيَ ، وَلَا يَتَّبِعُنِي مُجَمَّرٌ ، وَلَا تَجْعَلُوا فِي لَحْدِي شَيْئًا يَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ التُّرَابِ ، وَلَا تَجْعَلُوا عَلَى قَبْرِي بِنَاءً ، وَأُشْهِدُكُمْ أَنِّي بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ حَالِقَةٍ ، أَوْ سَالِقَةٍ ، أَوْ خَارِقَةٍ ، قَالُوا : أَوَسَمِعْتَ فِيهِ شَيْئًا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
ابوبردہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اپنے مرض الوفات میں حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے وصیت کرتے ہوئے فرمایا جب تم لوگ میرے جنازے کو لے روانہ ہو تو تیزی سے چلنا، انگیٹھی ساتھ لے کر نہ جانامیری قبر میں کوئی ایسی چیز نہ رکھنا جو میرے اور مٹی کے درمیان حائل ہو، میری قبر پر کچھ تعمیر نہ کرنا اور میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں ہر اس شخص سے بری ہوں جو بال نوچے، واویلا کرے اور گریبان چاک کرے لوگوں نے پوچھا کیا آپ نے اس حوالے سے کچھ سن رکھا ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19547
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، م: 104
حدیث نمبر: 19548
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ بِالْبَطْحَاءِ ، فَقَالَ : " بِمَ أَهْلَلْتَ ؟ " ، فَقُلْتُ : بِإِهْلَالٍ كَإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " هَلْ سُقْتَ مِنْ هَدْيٍ ؟ " ، قُلْتُ : لَا ، قَالَ : " طُفْ بِالْبَيْتِ ، وَبِالصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ ، ثُمَّ حِلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں جب حاضرخدمت میں ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابطح میں پڑاؤ کئے ہوئے تھے مجھ سے پوچھا کہ اے عبداللہ بن قیس ! تم نے کس نیت سے احرام باندھا ؟ میں نے عرض کیا " لبیک بحج باہلال کأہلال النبی صلی اللہ علیہ وسلم کہہ کر، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت اچھا یہ بتاؤ کہ کیا اپنے ساتھ ہدی کا جانور لائے ہو ؟ میں نے کہا نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جا کر بیت اللہ کا طواف کرو، صفا مروہ کے درمیان سعی کرو اور حلال ہوجاؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19548
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1559، م: 1221
حدیث نمبر: 19549
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الْأُتْرُجَّةِ ، طَعْمُهَا طَيِّبٌ ، وَرِيحُهَا طَيِّبٌ ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ ، طَعْمُهَا طَيِّبٌ ، وَلَا رِيحَ لَهَا ، وَمَثَلُ الْفَاجِرِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ ، كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ ، مُرٌّ طَعْمُهَا ، وَطَيِّبٌ رِيحُهَا ، وَمَثَلُ الْفَاجِرِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ ، كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ ، مُرٌّ طَعْمُهَا ، وَلَا رِيحَ لَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس مسلمان کی مثال جو قرآن کریم پڑھتا ہے اترج کی سی ہے جس کا ذائقہ بھی عمدہ ہوتا ہے اور اس کی مہک بھی عمدہ ہوتی ہے، اس مسلمان کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا کھجور کی سی ہے جس کا ذائقہ تو عمدہ ہوتا ہے لیکن اس کی مہک نہیں ہوتی، اس گنہگار کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے ریحان کی سی ہے جس کا ذائقہ تو کڑوا ہوتا ہے لیکن مہک عمدہ ہوتی ہے۔ اور اس فاجر کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا اندرائن کی سی ہے جس کا ذائقہ بھی کڑوا ہوتا ہے اور اس کی مہک بھی نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19549
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5427، م: 797
حدیث نمبر: 19550
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ غَالِبٍ التَّمَّارِ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَسْرُوقَ بْنَ أَوْسٍ ، أَوْ : أَوْسَ بْنَ مَسْرُوقٍ ، رَجُلًا مِنْ بَنِي يَرْبُوعٍ ، يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْأَصَابِعُ سَوَاءٌ " ، فَقُلْتُ لِغَالِبٍ : عَشْرٌ عَشْرٌ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمام انگلیاں برابر ہوتی ہیں (دیت کے حوالے سے) یعنی ہر انگلی کی دیت دس اونٹ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19550
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مسروق بن أوس، وقد اختلف فيه على غالب التمار
حدیث نمبر: 19551
حَدَّثَنَا أَبُو نُوحٍ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَن سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدِ ، فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص نردشیر (بارہ ٹانی) کے ساتھ کھیلتا ہے وہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19551
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد منقطع، سعيد بن أبى هند لم يلق أبا موسي الأشعري
حدیث نمبر: 19552
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " تَوَضَّئُوا مِمَّا غَيَّرَتْ النَّارُ لَوْنَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جس چیز کا رنگ آگ نے بدل ڈالا ہو اسے کھانے کے بعد وضو کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19552
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده فيه ضعف وانقطاع، المبارك بن فضالة يدلس ويسوي، وقد عنعن، والحسن لم يسمع من أبى موسى
حدیث نمبر: 19553
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ . وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ ابْن سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ . قَالَ عَفَّانُ : أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَحْرُسُهُ أَصْحَابُهُ ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہ کی نگہداشت کرتے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔ اور مکمل حدیث ذکر کی
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19553
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: بعضه صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 19554
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ زَهْدَمٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، أَنَّهُ جَاءَ رَجُلٌ وَهُوَ يَأْكُلُ دَجَاجًا ، فَتَنَحَّى ، فَقَالَ : إِنِّي حَلَفْتُ أَنْ لَا آكُلَهُ ، إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ شَيْئًا قَذِرًا ، فَقَالَ : ادْنُهُ ، فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا وہ اس وقت مرغی کھا رہے تھے وہ آدمی ایک طرف کو ہو کر بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ میں نے قسم کھا رکھی ہے کہ اسے نہیں کھاؤں گا کیونکہ میں مرغیوں کو گند کھاتے ہوئے دیکھتا ہوں، انہوں نے فرمایا قریب آجاؤ کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے تناول فرماتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19554
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3133، م: 1649
حدیث نمبر: 19555
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ ، وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ ؟ قَالَ : " الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ سوال پوچھا کہ اگر کوئی آدمی کسی قوم سے محبت کرتا ہے لیکن ان تک پہنچ نہیں پاتا تو کیا حکم ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19555
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6170، م: 2641
حدیث نمبر: 19556
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لِيَسْتَأْذِنْ أَحَدُكُمْ ثَلَاثًا ، فَإِنْ أُذِنَ لَهُ ، وَإِلَّا فَلْيَرْجِعْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے تمہیں تین مرتبہ اجازت مانگنی چاہئے مل جائے تو بہت اچھا اور اگر تم میں سے کوئی شخص تین مرتبہ اجازت طلب کرچکے اور اسے جواب نہ ملے تو اسے واپس لوٹ جانا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19556
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2026، م: 2153
حدیث نمبر: 19557
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ غَالِبٍ ، عَنْ أَوْسِ ابْنِ مَسْرُوقٍ ، أَوْ : مَسْرُوقِ بْنِ أَوْسٍ الْيَرْبُوعِيِّ ، مِنْ بَنِي تَمِيمٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْأَصَابِعُ سَوَاءٌ " ، قَالَ شُعْبَةُ : قُلْتُ لَهُ : عَشْرًا عَشْرًا ؟ قَالَ : " نَعَمْ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمام انگلیاں برابر ہوتی ہیں (دیت کے حوالے سے) یعنی ہر انگلی کی دیت دس اونٹ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19557
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مسروق بن أوس، وقد اختلف فيه على غالب التمار
حدیث نمبر: 19558
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنِي غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنَ الْأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ ، فَقَالَ : " لَا ، وَاللَّهِ مَا أَحْمِلُكُمْ ، وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ " ، فَلَبِثْنَا مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ أَمَرَ لَنَا بِثَلَاثِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَى ، فَلَمَّا انْطَلَقْنَا ، قَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ : أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ ، فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا ، ارْجِعُوا بِنَا ، أَيْ : حَتَّى نُذَكِّرَهُ ، قَالَ : فَأَتَيْنَاهُ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا أَتَيْنَاكَ نَسْتَحْمِلُكَ ، فَحَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنَا ، ثُمَّ حَمَلْتَنَا ! فَقَالَ : " مَا أَنَا حَمَلْتُكُمْ ، بَلْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَمَلَكُمْ ، إِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ ، فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا ، إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ، وَكَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي " ، أَوْ قَالَ : " إِلَّا كَفَّرْتُ يَمِينِي ، وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اشعریین کے ایک گروہ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کے لئے جانوروں کی درخواست کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بخدا ! میں تمہیں سوار نہیں کرسکوں گا کیونکہ میرے پاس تمہیں سوار کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے ؟ ہم کچھ دیر " جب تک اللہ کو منظور ہوا " رکے رہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لئے روشن پیشانی کے تین اونٹوں کا حکم دے دیا جب ہم واپس جانے لگے تو ہم میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواری کے جانور کی درخواست لے کر آئے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی تھی کہ وہ ہمیں سواری کا جانور نہیں دیں گے واپس چلو تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی قسم یاد دلادیں۔ چناچہ ہم دوبارہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم آپ کے پاس سواری کے جانور کی درخواست لے کر آئے تھے اور آپ نے قسم کھائی تھی کہ ہمیں سواری کا جانور نہیں دیں گے، پھر آپ نے ہمیں جانور دے دیا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں سوار نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے بخدا ! اگر اللہ کو منظور ہوا تو میں جب بھی کوئی قسم کھاؤں گا اور کسی دوسری چیز میں خیر دیکھوں گا تو اسی کو اختیار کر کے اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19558
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6623، م: 1649
حدیث نمبر: 19559
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَفِظَ مَا بَيْنَ فُقْمَيْهِ وَفَرْجَهُ ، دَخَلَ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اس چیز کی حفاظت کرلے جو اس کے منہ میں ہے (زبان) اور شرمگاہ تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19559
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله بن محمد ولاضطرابه فيه ولابهام شيخه فى الإسناد
حدیث نمبر: 19560
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، أَنَّ عَوْنًا ، وَسَعِيد بن أبي بردةَ حَدَّثَاهُ ، أَنَّهُمَا شَهِدَا أَبَا بُرْدَةَ يُحَدِّثُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَمُوتُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ إِلَّا أَدْخَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَكَانَهُ النَّارَ يَهُودِيًّا ، أَوْ نَصْرَانِيًّا " ، قَالَ : فَاسْتَحْلَفَهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، قَالَ : فَحَلَفَ لَهُ ، قَالَ : فَلَمْ يُحَدِّثْنِي سَعِيدٌ أَنَّهُ اسْتَحْلَفَهُ ، وَلَمْ يُنْكِرْ عَلَى عَوْنٍ قَوْلَهُ.
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ ابوبردہ نے حضرت عمربن عبدالعزیزرضی اللہ عنہ کو اپنے والد صاحب کے حوالے سے یہ حدیث سنائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو مسلمان بھی فوت ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی جگہ کسی یہودی یا عیسائی کو جہنم میں داخل کردیتا ہے، ابوبردہ نے گزشتہ حدیث حضرت عمرعبدالعزیز رحمہ اللہ کو سنائی تو انہوں نے ابوبردہ سے اس اللہ کے نام کی قسم کھانے کے لئے کہا جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں کہ یہ حدیث ان کے والد صاحب نے بیان کی ہے اور انہوں نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اور سعید بن ابی بردہ، عوف کی اس بات کی تردید نہیں کرتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19560
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2767
حدیث نمبر: 19561
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ غَالِبٍ التَّمَّارِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَوْسَ بْنَ مَسْرُوقٍ رَجُلًا مِنَّا ، كَانَ أَخَذَ الدِّرْهَمَيْنِ عَلَى عَهْدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَغَزَا فِي خِلَافَتِهِ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْأَصَابِعُ سَوَاءٌ " ، قَالَ شُعْبَةُ : فَقُلْتُ : عَشْرٌ عَشْرٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمام انگلیاں برابر ہوتی ہیں (دیت کے حوالے سے) یعنی ہر انگلی کی دیت دس اونٹ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19561
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أوس بن مسروق، وقد اختلف فيه على غالب التمار
حدیث نمبر: 19562
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي أَبُو بِشْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ سَمِعَ بِي مِنْ أُمَّتِي ، أَوْ : يَهُودِيٌّ ، أَوْ : نَصْرَانِيٌّ ، ثُمَّ لَمْ يُؤْمِنْ بِي ، دَخَلَ النَّارَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میرے متعلق سنے خواہ میرا امتی ہو، یہودی ہو یا عیسائی ہو اور مجھ پر ایمان نہ لائے وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19562
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، سعيد بن جبير لم يسمع أبا موسى الأشعري
حدیث نمبر: 19563
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ، أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يُكْثِرُ زِيَارَةَ الْأَنْصَارِ خَاصَّةً وَعَامَّةً ، فَكَانَ إِذَا زَارَ خَاصَّةً ، أَتَى الرَّجُلَ فِي مَنْزِلِهِ ، وَإِذَا زَارَ عَامَّةً ، أَتَى الْمَسْجِدَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خصوصیت اور عمومیت دونوں طریقوں پر انصار کے ساتھ کثرت سے ملاقات فرماتے تھے اگر خصوصیت کے ساتھ ملنا ہوتا تو متعلقہ آدمی کے گھر تشریف لے جاتے اور عمومی طور پر ملنا ہوتا تو مسجد میں تشریف لے جاتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19563
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لإبهام الرجل الراوي عن أبى بكر بن أبى موسى
حدیث نمبر: 19564
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو زُبَيْدٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ جَارِيَةٌ ، فَأَعْتَقَهَا ، وَتَزَوَّجَهَا ، كَانَ لَهُ أَجْرَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کے پاس کوئی باندی ہو اور وہ اسے آزاد کرکے اس سے نکاح کرلے تو اسے دہرا اجر ملے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19564
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 97، م: 154