حدیث نمبر: 19485
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَمُوتُ مُسْلِمٌ إِلَّا أَدْخَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَكَانَهُ النَّارَ يَهُودِيًّا ، أَوْ نَصْرَانِيًّا " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمایا جو مسلمان بھی فوت ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی جگہ کسی یہودی یا عیسائی کو جہنم میں داخل کردیتا ہے۔ ابوبردہ نے گزشتہ حدیث حضرت عمرعبدالعزیز رحمہ اللہ کو سنائی تو انہوں نے ابوبردہ سے اس اللہ کے نام کی قسم کھانے کے لئے کہا جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں کہ یہ حدیث ان کے والد صاحب نے بیان کی ہے اور انہوں نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اور سعید بن ابی بردہ، عوف کی اس بات کی تردید نہیں کرتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19485
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2767
حدیث نمبر: 19486
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، وَعَوْنِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّهُمَا شَهِدَا أَبَا بُرْدَةَ ، يُحَدِّثُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَ عَوْنٌ : فَاسْتَحْلَفَهُ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ سَعِيدٌ عَلَى عَوْنٍ أَنَّهُ اسْتَحْلَفَهُ.
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19486
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2797
حدیث نمبر: 19487
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، إِنَّ الْمَعْرُوفَ وَالْمُنْكَرَ خَلِيقَتَانِ يُنْصَبَانِ لِلنَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَأَمَّا الْمَعْرُوفُ فَيُبَشِّرُ أَصْحَابَهُ ، وَيُوعِدُهُمْ الْخَيْرَ ، وَأَمَّا الْمُنْكَرُ ، فَيَقُولُ : إِلَيْكُمْ إِلَيْكُمْ ، وَمَا يَسْتَطِيعُونَ لَهُ إِلَّا لُزُومًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے نیکی اور برائی دو مخلوق ہیں جنہیں قیامت کے دن لوگوں کے سامنے کھڑا کیا جائے گا نیکی اپنے ساتھیوں کو خوشخبری دے گی اور ان سے خیر کا وعدہ کرے گی اور برائی کہے گی کہ مجھ سے دور رہو مجھ سے دور رہو لیکن وہ اس سے چمٹے بغیر نہ رہ سکیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19487
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: هذا إسناده ضعيف، الحسن البصري لم يسمع من أبى موسي
حدیث نمبر: 19488
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً ، ثُمَّ قَالَ : " عَلَى مَكَانِكُمْ اثْبُتُوا " ، ثُمَّ أَتَى الرِّجَالَ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُنِي أَنْ آمُرَكُمْ أَنْ تَتَّقُوا اللَّهَ تَعَالَى ، وَأَنْ تَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا " ، ثُمَّ تَخَلَّلَ إِلَى النِّسَاءِ ، فَقَالَ لَهُنَّ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُنِي أَنْ آمُرَكُنَّ أَنْ تَتَّقُوا اللَّهَ ، وَأَنْ تَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا " ، قَالَ : ثُمَّ رَجَعَ حَتَّى أَتَى الرِّجَالَ ، فَقَالَ : " إِذَا دَخَلْتُمْ مَسَاجِدَ الْمُسْلِمِينَ وَأَسْوَاقَهُمْ وَمَعَكُمْ النَّبْلُ ، فَخُذُوا بِنُصُولِهَا ، لَا تُصِيبُوا بِهَا أَحَدًا ، فَتُؤْذُوهُ أَوْ تَجْرَحُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن قیس سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی اور نماز کے بعد فرمایا اپنی جگہ پر ہی رکو پھر پہلے مردوں کے پاس آکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہیں اللہ سے ڈرنے اور درست بات کہنے کا حکم دوں، پھر خواتین کے پاس جا کر ان سے بھی یہی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہیں اللہ سے ڈرنے اور درست بات کہنے کا حکم دوں، پھر واپس مردوں کے پاس آکر فرمایا جب تم مسلمانوں کی مسجدوں اور بازاروں میں جایا کرو اور تمہارے پاس تیر ہوں تو ان کا پھل قابو میں رکھا کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کسی کو لگ جائے اور تم کسی کو اذیت پہنچاؤ یا زخمی کردو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19488
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: قوله منه:إذا دخلتم مساجد المسلمين إلى آخر الحديث، صحيح، وهذا إسناد ضعيف، لضعف ليث من أبى سليم
حدیث نمبر: 19489
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حِدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، قَالَ : حُدِّثْتُ عَنِ الْأَشْعَرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَغْفِرُكَ لِمَا قَدَّمْتُ ، وَمَا أَخَّرْتُ ، وَمَا أَسْرَرْتُ ، وَمَا أَعْلَنْتُ ، إِنَّكَ أَنْتَ الْمُقَدِّمُ ، وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ ، وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعاء کرتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ ! میں ان گناہوں سے معافی چاہتا ہوں جو میں نے پہلے کئے یا بعد میں ہوں گے جو چھپ کر کئے یا علانیہ طور پر کئے بیشک آگے اور پیچھے کرنے والے تو آپ ہی ہیں اور آپ ہر چیز پر قادر ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19489
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 6398، م: 2719، شيخ ابن بريدة مبهم لكنه متابع
حدیث نمبر: 19490
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : كَتَبَ عُمَرُ فِي وَصِيَّتِهِ : أَنْ لَا يُقَرَّ لِي عَامِلٌ أَكْثَرَ مِنْ سَنَةٍ ، وَأَقِرُّوا الْأَشْعَرِيَّ يَعْنِي : أَبَا مُوسَى أَرْبَعَ سِنِينَ .
مولانا ظفر اقبال
امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی وصیت میں لکھا تھا کہ میرے کسی عامل کو ایک سال سے زیادہ دیرتک برقرار نہ رکھا جائے البتہ ابوموسیٰ اشعری کو چار سال تک برقرار رکھنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19490
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: أثر ضعيف الاسناد لضعف مجالد، وهشيم مدلس، وقد عنعن، والشعبي لم يدرك عمر
حدیث نمبر: 19491
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا مَرَّتْ بِكُمْ جِنَازَةُ يَهُودِيٍّ ، أَوْ نَصْرَانِيٍّ ، أَوْ مُسْلِمٍ ، فَقُومُوا لَهَا ، فَلَسْتُمْ لَهَا تَقُومُونَ ، إِنَّمَا تَقُومُونَ لِمَنْ مَعَهَا مِنَ الْمَلَائِكَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تمہارے سامنے سے کی یہودی، عیسائی یا مسلمان کا جنازہ گذرے تو تم کھڑے ہوجایا کرو، کیونکہ تم جنازے کی خاطر کھڑے نہیں ہوگے، ان فرشتوں کی وجہ سے کھڑے ہوگے جو جنازے کے ساتھ ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19491
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث، واختلف عليه فيه
حدیث نمبر: 19492
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ ، عَنِ الْأَشْعَرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ الْهَرْجَ " ، قَالُوا : وَمَا الْهَرْجُ ؟ قَالَ : " الْقَتْلُ " ، قَالُوا : أَكْثَرُ مِمَّا نَقْتُلُ ؟ إِنَّا لَنَقْتُلُ كُلَّ عَامٍ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِينَ أَلْفًا ، قَالَ : " إِنَّهُ لَيْسَ بِقَتْلِكُمْ الْمُشْرِكِينَ ، وَلَكِنْ قَتْلُ بَعْضِكُمْ بَعْضًا " ، قَالُوا : وَمَعَنَا عُقُولُنَا يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : " إِنَّهُ لَتُنْزَعُ عُقُولُ أَهْلِ ذَلِكَ الزَّمَانِ ، وَيُخَلَّفُ لَهُ هَبَاءٌ مِنَ النَّاسِ ، يَحْسِبُ أَكْثَرُهُمْ أَنَّهُمْ عَلَى شَيْءٍ ، وَلَيْسُوا عَلَى شَيْءٍ " ، قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ أَبُو مُوسَى : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا أَجِدُ لِي وَلَكُمْ مِنْهَا مَخْرَجًا إِنْ أَدْرَكَتْنِي وَإِيَّاكُمْ ، إِلَّا أَنْ نَخْرُجَ مِنْهَا كَمَا دَخَلْنَا فِيهَا ، لَمْ نُصِبْ مِنْهَا دَمًا وَلَا مَالًا.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت سے پہلے " ہرج " واقع ہوگا لوگوں نے پوچھا کہ " ہرج " سے کیا مراد ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قتل، لوگوں نے پوچھا اس تعداد سے بھی زیادہ جتنے ہم قتل کردیتے ہیں ؟ ہم تو ہر سال ستر ہزار سے زیادہ لوگ قتل کردیتے تھے ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس سے مراد مشرکین کو قتل کرنا نہیں ہے بلکہ ایک دوسرے کو قتل کرنا مراد ہے لوگوں نے پوچھا کیا اس موقع پر ہماری عقلیں ہمارے ساتھ ہوں گی ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس زمانے کے لوگوں کی عقلیں چھین لی جائیں گی اور ایسے بیوقوف لوگ رہ جائیں گے جو یہ سمجھیں گے وہ کسی دین پر قائم ہیں حالانکہ وہ کسی دین پر نہیں ہوں گے۔ حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر وہ زمانہ آگیا تو میں اپنے اور تمہارے لئے اس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں پاتا الاّ یہ کہ ہم اس سے اسی طرح نکل جائیں جیسے داخل ہوئے تھے اور کسی کے قتل یا مال میں ملوث نہ ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19492
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: مرفوعه صحيح، وهذا اسناد ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 19493
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا ، فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اعلاء کلمتہ اللہ کی خاطر قتال کرتا ہے درحقیقت وہی اللہ کے راستے میں قتال کرنے والا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19493
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 123، م: 1904
حدیث نمبر: 19494
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، قَالَ : قَالَ أَبُو مُوسَى : لَقَدْ ذَكَّرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ صَلَاةً كُنَّا نُصَلِّيهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِمَّا نَسِينَاهَا ، وَإِمَّا تَرَكْنَاهَا عَمْدًا ، يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَكَعَ ، وَكُلَّمَا رَفَعَ ، وَكُلَّمَا سَجَدَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز یاد دلادی ہے جو ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتے تھے جسے ہم بھلا چکے تھے یا عمداً چھوڑ چکے تھے وہ ہر مرتبہ رکوع کرتے وقت، سر اٹھاتے وقت اور سجدے میں جاتے ہوئے اللہ اکبر کہتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19494
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على أبى إسحاق
حدیث نمبر: 19495
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ ، يُقَالُ لَهُ : أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ، كَانَ يُجَالِسُ جَعْفَرَ بْنَ رَبِيعَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَةَ الْأَشْعَرِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ أَعْظَمَ الذُّنُوبِ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَلْقَاهُ عَبْدٌ بِهَا بَعْدَ الْكَبَائِرِ الَّتِي نَهَى عَنْهَا ، أَنْ يَمُوتَ الرَّجُلُ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ لَا يَدَعُ قَضَاءً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ " ان کبیرہ گناہوں کے بعد جن کی ممانعت کی گئی ہے " یہ ہے کہ انسان اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے کہ مرتے وقت اس پر اتنا قرض ہو جسے ادا کرنے کے لئے اس نے کچھ نہ چھوڑا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19495
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف الجهالة حال أبى عبد الله القرشي
حدیث نمبر: 19496
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : الرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ ، وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ ، فَقَالَ : " الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ سوال پوچھا کہ اگر کوئی آدمی کسی قوم سے محبت کرتا ہے لیکن ان تک پہنچ نہیں پاتا تو کیا حکم ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19496
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6170، م: 2641
حدیث نمبر: 19497
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ ، وَأَبُو مُوسَى جَالِسَيْنِ ، وَهُمَا يَتَذَاكَرَانِ الْحَدِيثَ ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ أَيَّامٌ يُرْفَعُ فِيهَا الْعِلْمُ ، وَيَنْزِلُ فِيهَا الْجَهْلُ ، وَيَكْثُرُ فِيهَا الْهَرْجُ " ، وَالْهَرْجُ : الْقَتْلُ.
مولانا ظفر اقبال
شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے حدیث کا مذاکرہ کررہے تھے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت سے پہلے جو زمانہ آئے گا اس میں علم اٹھالیا جائے گا اور جہالت اترنے لگے گی اور " ہرج " کی کثرت ہوگی جس کا معنی قتل ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19497
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7065، م: 2672
حدیث نمبر: 19498
حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ آدَمَ ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنِ الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : لَقَدْ ذَكَّرَنَا ابْنُ أَبِي طَالِبٍ وَنَحْنُ بِالْبَصْرَةِ صَلَاةً كُنَّا نُصَلِّيهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُكَبِّرُ إِذَا سَجَدَ ، وَإِذَا قَامَ ، فَلَا أَدْرِي أَنَسِينَاهَا ، أَمْ تَرَكْنَاهَا عَمْدًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز یاد دلا دی ہے جو ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتے تھے جسے ہم بھلاچکے تھے یا عمداً چھوڑ چکے تھے وہ ہر مرتبہ رکوع کرتے وقت، سر اٹھاتے وقت اور سجدے میں جاتے ہوئے اللہ اکبر کہتے تھے۔ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت سے پہلے " ہرج " واقع ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر وہ زمانہ آگیا تو میں اپنے اور تمہارے لئے اس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں پاتا الاّ یہ کہ ہم اس سے اسی طرح نکل جائیں جیسے داخل ہوئے تھے اور کسی کے قتل یا مال میں ملوث نہ ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19498
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على أبى إسحاق
حدیث نمبر: 19499
19010 حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ يُونُسَ ، وَثَابِتٍ ، وَحُمَيْدٍ ، وَحَبِيبٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ " فَذَكَرَ نَحْوًا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الصَّمَدِ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : قَالَ أَبُو مُوسَى : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَا أَجِدُ لِي وَلَكُمْ إِنْ أَدْرَكْتُهُنَّ ، إِلَّا أَنْ نَخْرُجَ مِنْهَا كَمَا دَخَلْنَاهَا ، لَمْ نُصِبْ فِيهَا دَمًا وَلَا مَالًا .
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19499
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات
حدیث نمبر: 19500
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا مَرَرْتُمْ بِالسِّهَامِ فِي أَسْوَاقِ الْمُسْلِمِينَ ، أَوْ فِي مَسَاجِدِهِمْ ، فَأَمْسِكُوا بِالْأَنْصَالِ ، لَا تَجْرَحُوا بِهَا أَحَدًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن قیس سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم مسلمانوں کی مسجدوں اور بازاروں میں جایا کرو اور تمہارے پاس تیر ہوں تو ان کا پھل قابو میں رکھا کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کسی کو لگ جائے اور تم کسی کو اذیت پہنچاؤ یا زخمی کردو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19500
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث
حدیث نمبر: 19501
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ لَعِبَ بِالْكِعَابِ ، فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص گوٹیوں کے ساتھ کھیلتا ہے وہ اللہ اور اس کے رسول اللہ کی نافرمانی کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19501
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد اختلف فيه على سعيد بن أبى هند
حدیث نمبر: 19502
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرِيرًا بِيَمِينِهِ ، وَذَهَبًا بِشِمَالِهِ ، فَقَالَ : " أُحِلَّ لِإِنَاثِ أُمَّتِي ، وَحُرِّمَ عَلَى ذُكُورِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا کہ سونا اور ریشم دونوں میری امت کی عورتوں کے لئے حلال اور مردوں کے لئے حرام ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19502
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بشواهده، وهذا إسناد اختلف فيه على عبد الله بن سعيد
حدیث نمبر: 19503
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُحِلَّ الذَّهَبُ وَالْحَرِيرُ لِلْإِنَاثِ مِنْ أُمَّتِي ، وَحُرِّمَ عَلَى ذُكُورِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنے دائیں ہاتھ میں ریشم اور بائیں ہاتھ میں سونا بلند کیا اور فرمایا یہ دونوں میری امت کی عورتوں کے لئے حلال اور مردوں کے لئے حرام ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19503
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بشواهده، وهذا إسناد اختلف فيه على نافع
حدیث نمبر: 19504
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ صَلَّى بِأَصْحَابِهِ صَلَاةً ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، فَقَالَ : إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا ، فَبَيَّنَ لَنَا سُنَّتَنَا ، وَعَلَّمَنَا صَلَاتَنَا ، فَقَالَ : " إِذَا صَلَّيْتُمْ ، فَأَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ ، ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی پھر ایک حدیث ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور سنتوں کی وضاحت کرتے ہوئے ہمیں نماز کا طریقہ سکھایا اور فرمایا جب تم نماز پڑھو تو اپنی صفیں سیدھی کرلیا کرو اور تم میں سے ایک آدمی کو امام بن جانا چاہئے۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19504
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 404
حدیث نمبر: 19505
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَرْضِ قَوْمِي ، فَلَمَّا حَضَرَ الْحَجُّ ، حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَجَجْتُ ، فَقَدِمْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ نَازِلٌ بِالْأَبْطَحِ ، فَقَالَ لِي : " بِمَ أَهْلَلْتَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : لَبَّيْكَ بِحَجٍّ كَحَجِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَحْسَنْتَ " ، ثُمَّ قَالَ : " هَلْ سُقْتَ هَدْيًا ؟ " ، فَقُلْتُ : مَا فَعَلْتُ ، فَقَالَ لِي : " اذْهَبْ ، فَطُفْ بِالْبَيْتِ ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، ثُمَّ احْلِلْ " ، فَانْطَلَقْتُ ، فَفَعَلْتُ مَا أَمَرَنِي ، وَأَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ قَوْمِي ، فَغَسَلَتْ رَأْسِي بِالْخِطْمِيِّ ، وَفَلَّتْهُ ، ثُمَّ أَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ ، فَمَا زِلْتُ أُفْتِي النَّاسَ بِالَّذِي أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تُوُفِّيَ ، ثُمَّ زَمَنَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، ثُمَّ زَمَنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَبَيْنَا أَنَا قَائِمٌ عِنْدَ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ ، أَوْ الْمَقَامِ ، أُفْتِ النَّاسَ بِالَّذِي أَمَرَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ أَتَانِي رَجُلٌ ، فَسَارَّنِي ، فَقَالَ : لَا تَعْجَلْ بِفُتْيَاكَ ، فَإِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَدْ أَحْدَثَ فِي الْمَنَاسِكِ شَيْئًا ، فَقُلْتُ : أَيُّهَا النَّاسُ ، مَنْ كُنَّا أَفْتَيْنَاهُ فِي الْمَنَاسِكِ شَيْئًا ، فَلْيَتَّئِدْ ، فَإِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَادِمٌ ، فَبِهِ فَأْتَمُّوا ، قَالَ : فَقَدِمَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقُلْتُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، هَلْ أَحْدَثْتَ فِي الْمَنَاسِكِ شَيْئًا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَنْ نَأْخُذَ بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَإِنَّهُ يَأْمُرُ بِالتَّمَامِ ، وَأَنْ نَأْخُذَ بِسُنَّةِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِنَّهُ لَمْ يَحْلِلْ ، حَتَّى نَحَرَ الْهَدْيَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی قوم کے علاقے میں بھیج دیا، جب حج کاموسم قریب آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حج کے لئے تشریف لے گئے میں نے بھی حج کی سعادت حاصل کی، میں جب حاضرخدمت میں ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابطح میں پڑاؤ کئے ہوئے تھے مجھ سے پوچھا کہ اے عبداللہ بن قیس ! تم نے کس نیت سے احرام باندھا ؟ میں نے عرض کیا " لبیک بحج کحج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ کر، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت اچھا یہ بتاؤ کہ کیا اپنے ساتھ ہدی کا جانور لائے ہو ؟ میں نے کہا نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جا کر بیت اللہ کا طواف کرو، صفا مروہ کے درمیان سعی کرو اور حلال ہوجاؤ۔ چناچہ میں چلا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق کرلیا پھر اپنی قوم کی ایک عورت کے پاس آیا، اس نے " خطمی " سے میرا سر دھویا اور میرے سر کی جوئیں دیکھیں، پھر میں نے آٹھ ذی الحج کو حج کا احرام باندھ لیا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال تک لوگوں کو یہی فتویٰ دیتا رہا جس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بھی یہی صورت حال رہی جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو ایک دن میں حجر اسود کے قریب کھڑا ہوا تھا اور لوگوں کو یہی مسئلہ بتارہا تھا جس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا کہ اچانک ایک آدمی آیا اور سرگوشی میں مجھ سے کہنے لگا کہ یہ فتویٰ دینے میں جلدی سے کام مت لیجئے کیونکہ امیرالمؤمنین نے مناسک حج کے حوالے سے کچھ نئے احکام جاری کئے ہیں۔ میں نے لوگوں سے کہا کہ اے لوگو ! جسے ہم نے مناسک حج کے حوالے سے کوئی فتویٰ دیا ہو وہ انتظار کرے کیونکہ امیرالمؤمنین آنے والے ہیں آپ ان ہی کی اقتداء کریں، پھر جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے تو میں نے ان سے پوچھا اے امیرالمؤمنین ! کیا مناسک حج کے حوالے سے آپ نے کچھ نئے احکام جاری کئے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! اگر ہم کتاب اللہ کو لیتے ہیں تو وہ ہمیں اتمام کا حکم دیتی ہے اور اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو لیتے ہیں تو انہوں نے قربانی کرنے تک احرام نہیں کھولا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19505
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1559، م: 1221، 1222
حدیث نمبر: 19506
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : أَمَانَانِ كَانَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رُفِعَ أَحَدُهُمَا ، وَبَقِيَ الْآخَرُ : وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ سورة الأنفال آية 33 .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں دو طرح کی امان تھی جن میں سے ایک اٹھ چکی ہے اور دوسری باقی ہے، (١) اللہ تعالیٰ انہیں آپ کی موجودگی میں عذاب نہیں دے گا (٢) اللہ انہیں اس وقت تک عذاب نہیں دے گا جب تک یہ استغفار کرتے رہیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19506
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة محمد بن أبى أيوب
حدیث نمبر: 19507
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي الْعُمَرِيَّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُحِلَّ لِإِنَاثِ أُمَّتِي الْحَرِيرُ وَالذَّهَبُ ، وَحُرِّمَ عَلَى ذُكُورِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنے دائیں ہاتھ میں ریشم اور بائیں ہاتھ میں سونا بلند کیا اور فرمایا یہ دونوں میری امت کی عورتوں کے لئے حلال اور مردوں کے لئے حرام ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19507
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بشواهده، وهذا إسناد اختلف فيه على نافع
حدیث نمبر: 19508
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ أَخِيهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : قَدِمَ رَجُلَانِ مَعِي مِنْ قَوْمِي ، قَالَ : فَأَتَيْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَخَطَبَا ، وَتَكَلَّمَا ، فَجَعَلَا يُعَرِّضَانِ بِالْعَمَلِ ، فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ : رُئِيَ فِي وَجْهِهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِنَّ أَخْوَنَكُمْ عِنْدِي مَنْ يَطْلُبُهُ ، فَعَلَيْكُمَا بِتَقْوَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " ، قَالَ فَمَا اسْتَعَانَ بِهِمَا عَلَى شَيْءٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے ساتھ میری قوم کے دو آدمی بھی آئے تھے ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ان دونوں نے دوران گفتگو کوئی عہدہ طلب کیا جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا اور فرمایا میرے نزدیک تم میں سب سے بڑا خائن وہ ہے جو کسی عہدے کا طلب گار ہوتا ہے لہٰذا تم دونوں تقویٰ کو لازم پکڑو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کوئی خدمت نہیں لی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19508
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لإبهام أخي إسماعيل بن أبى خالد
حدیث نمبر: 19509
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَسِبْتُهُ قَالَ : فِي حَائِطٍ فَجَاءَ رَجُلٌ ، فَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اذْهَبْ ، فَأْذَنْ لَهُ ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " ، فَذَهَبْتُ ، فَإِذَا هُوَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقُلْتُ : ادْخُلْ ، وَأَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ ، فَمَا زَالَ يَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، حَتَّى جَلَسَ ، ثُمَّ جَاءَ آخَرُ ، فَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " ، فَانْطَلَقْتُ ، فَإِذَا هُوَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقُلْتُ : ادْخُلْ ، وَأَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ ، فَمَا زَالَ يَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى جَلَسَ ، ثُمَّ جَاءَ آخَرُ ، فَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " اذْهَبْ ، فَأْذَنْ لَهُ ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى شَدِيدَةٍ " ، قَالَ : فَانْطَلَقْتُ ، فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ ، فَقُلْتُ : ادْخُلْ ، وَأَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى شَدِيدَةٍ ، قَالَ : فَجَعَلَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ صَبْرًا ، حَتَّى جَلَسَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی باغ میں تھا ایک آدمی آیا اور اس نے سلام کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ اسے اجازت دے دو اور جنت کی خوشخبری بھی سنادو میں گیا تو وہ حضرت ابوبکرصدق رضی اللہ عنہ تھے میں نے ان سے کہا کہ اندر تشریف لے آئیے اور جنت کی خوشخبری قبول کیجئے وہ مسلسل اللہ کی تعریف کرتے ہوئے ایک جگہ پر بیٹھ گئے پھر دوسرا آدمی آیا اس نے بھی سلام کیا نبی کریم نے فرمایا اسے بھی اجازت اور خوشخبری دے دو میں گیا تو وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے میں نے ان سے کہا کہ اندر تشریف لے آئیے اور جنت کی خوشخبری قبول کیجئے وہ مسلسل اللہ کی تعریف کرتے ہوئے ایک جگہ پر بیٹھ گئے پھر تیسرا آدمی آیا اس نے بھی سلام کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جا کر اسے بھی اجازت دے دو اور ایک امتحان کے ساتھ جنت کی خوشخبری سنا دو میں گیا تو وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے میں نے ان سے کہا کہ اندر تشریف لے آئیے اور ایک سخت امتحان کے ساتھ جنت کی خوشخبری قبول کیجئے وہ یہ کہتے ہوئے کہ " اے اللہ ! ثابت قدم رکھنا " آکر بیٹھ گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19509
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3695، م: 2403
حدیث نمبر: 19510
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ سَعِيدِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : سَلَّمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ثَلَاثَ مِرَارٍ ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ ، فَرَجَعَ ، فَأَرْسَلَ عُمَرُ فِي إِثْرِهِ : لِمَ رَجَعْتَ ؟ قَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا سَلَّمَ أَحَدُكُمْ ثَلَاثًا ، فَلَمْ يُجَبْ ، فَلْيَرْجِعْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو تین مرتبہ سلام کیا، انہیں اجازت نہیں ملی تو وہ واپس چلے گئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے پیچھے قاصد کو بھیجا کہ واپس کیوں چلے گئے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جب تم میں سے کوئی شخص تین مرتبہ سلام کرچکے اور اسے جواب نہ ملے تو اسے واپس لوٹ جانا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19510
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2062، م: 2153
حدیث نمبر: 19511
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا قَالَ الْإِمَامُ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، فَقُولُوا : رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ، يَسْمَعْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَكُمْ ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَضَى عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب امام سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنا لک الحمد کہو اللہ تمہاری سنے گا کیونکہ اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ جو اللہ کی تعریف کرتا ہے اللہ اس کی سن لیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19511
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 404
حدیث نمبر: 19512
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْخَازِنَ الْأَمِينَ الَّذِي يُعْطِي مَا أُمِرَ بِهِ كَامِلًا مُوَفَّرًا طَيِّبَةً بِهِ نَفْسُهُ ، حَتَّى يَدْفَعَهُ إِلَى الَّذِي أُمِرَ لَهُ بِهِ أَحَدُ الْمُتَصَدِّقِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امانت دار خزانچی وہ ہوتا ہے کہ اسے جس چیز کا حکم دیا جائے وہ اسے مکمل، پورا اور دل کی خوشی کے ساتھ ادا کردے تاکہ صدقہ کرنے والے نے جسے دینے کا حکم دیا ہے اس تک وہ چیز پہنچ جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19512
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1438، م: 1023
حدیث نمبر: 19513
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ الْحَنَفِيُّ ، عَنْ غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنِ الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ عَيْنٍ زَانِيَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر آنکھ بدکاری کرتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19513
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده جيد
حدیث نمبر: 19514
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : اخْتَصَمَ رَجُلَانِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَرْضٍ ، أَحَدُهُمَا مِنْ أَهْلِ حَضْرَمَوْتَ ، قَالَ : فَجَعَلَ يَمِينَ أَحَدِهِمَا ، قَالَ : فَضَجَّ الْآخَرُ ، وَقَالَ : إِنَّهُ إِذًا يَذْهَبُ بِأَرْضِي ، فَقَالَ : " إِنْ هُوَ اقْتَطَعَهَا بِيَمِينِهِ ظُلْمًا ، كَانَ مِمَّنْ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَلَا يُزَكِّيهِ ، وَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ " ، قَالَ : وَوَرِعَ الْآخَرُ ، فَرَدَّهَا.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو آدمی ایک زمین کا مقدمہ لے کر آئے جن میں سے ایک تعلق حضرموت سے تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے کو قسم اٹھانے کا کہہ دیا دوسرا فریق یہ سن کر چیخ پڑا اور کہنے لگا کہ اس طرح تو یہ میری زمین لے جائے گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ قسم کھاکر ظلماً اسے اپنی ملکیت میں لے لیتا ہے تو یہ ان لوگوں میں سے ہوگا جنہیں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ دیکھے گا اور نہ ہی اس کا تزکیہ کرے گا اور اس کے لئے دردناک عذاب ہوگا پھر دوسرے شخص کو تقویٰ کی ترغیب دی تو اس نے وہ زمین واپس کردی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19514
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19515
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ سَعِيدِ ابْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَرِيرُ وَالذَّهَبُ حَرَامٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي ، وَحِلٌّ لِإِنَاثِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا کہ سونا اور ریشم دونوں میری امت کی عورتوں کے لئے حلال اور مردوں کے لئے حرام ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19515
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بشواهده، وهذا إسناد منقطع، سعيد بن أبى هند لم يلق أبا موسي
حدیث نمبر: 19516
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ . وَإِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا يَونُسَ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا ، فَإِنْ سَكَتَتْ ، فَقَدْ أَذِنَتْ ، وَإِنْ أَبَتْ ، لَمْ تُكْرَهْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بالغ لڑکی سے اس کے نکاح کی اجازت لی جائے گی، اگر وہ خاموش رہے تو گویا اس نے اجازت دے دی اور اگر وہ انکار کردے تو اسے اس رشتے پر مجبور نہ کیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19516
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح الغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 19517
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَطْعِمُوا الْجَائِعَ ، وَفُكُّوا الْعَانِيَ ، وَعُودُوا الْمَرِيضَ " ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : " الْمَرْضَى ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بھوکے کو کھانا کھلایا کرو، قیدیوں کو چھڑایا کرو اور بیماروں کی عیادت کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19517
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5373
حدیث نمبر: 19518
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19518
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على أبى إسحاق فى وصله وإرساله، ووصله أصح
حدیث نمبر: 19519
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَأْكُلُ دَجَاجًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مرغی کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19519
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5517، م: 1649
حدیث نمبر: 19520
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ يَعْنِي الْأَحْوَلَ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَأَشْرَفْنَا عَلَى وَادٍ ، فَذَكَرَ مِنْ هَوْلِهِ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يُكَبِّرُونَ ، وَيُهَلِّلُونَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ " ، وَرَفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ ، فَقَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا ، إِنَّهُ مَعَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے ہم ایک وادی پر چڑھے، انہوں نے اس کی ہولناکی بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ لوگ تکبیر و تہلیل کہنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو ! اپنے ساتھ نرمی کرو، کیونکہ لوگوں نے آوازیں بلند کر رکھی تھیں، لوگو ! تم کسی بہرے یا غائب اللہ کو نہیں پکار رہے ہو وہ ہر لمحہ تمہارے ساتھ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19520
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2992، م: 2704
حدیث نمبر: 19521
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدِ ، فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص نردشیر (بارہ ٹانی) کے ساتھ کھیلتا ہے وہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19521
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن، وهذا إسناد منقطع، سعيد لم يلق أبا موسي، وقد اختلف فيه على سعيد
حدیث نمبر: 19522
حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلٍ فِيمَا أَعْلَمُ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدِ ، فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص نردشیر (بارہ ٹانی) کے ساتھ کھیلتا ہے وہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19522
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن، وهذا إسناد اختلف فيه على أسامة بن زيد
حدیث نمبر: 19523
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرٍو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مُرَّة الْهَمْدَانِيِّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَمُلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ ، وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا آسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ ، وَمَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ ، وَإِنَّ فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ ، كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مردوں میں سے کامل افراد تو بہت گذرے ہیں لیکن عورتوں میں کامل عورتیں صرف حضرت آسیہ رضی اللہ عنہ " جو فرعون کی بیوی تھیں " اور حضرت مریم (علیہا السلام) گذری ہیں اور تمام عورتوں پر عائشہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت ایسی ہے جیسے تمام کھانوں پر ثرید کو فضیلت حاصل ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19523
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3411، م: 2431
حدیث نمبر: 19524
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، أَنَّ أَسْمَاءَ لَمَّا قَدِمَتْ لَقِيَهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ ، فَقَالَ : آلْحَبَشِيَّةُ هِيَ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، فَقَالَ : نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ ، لَوْلَا أَنَّكُمْ سَبَقْتُمْ بِالْهِجْرَةِ ، فَقَالَتْ هِيَ لِعُمَرَ : كُنْتُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُ رَاجِلَكُمْ ، وَيُعَلِّمُ جَاهِلَكُمْ ، وَفَرَرْنَا بِدِينِنَا ، أَمَا إِنِّي لَا أَرْجِعُ حَتَّى أَذْكُرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَجَعَتْ إِلَيْهِ ، فَقَالَتْ لَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَلْ لَكُمْ الْهِجْرَةُ مَرَّتَيْنِ : هِجْرَتُكُمْ إِلَى الْمَدِينَةِ ، وَهِجْرَتُكُمْ إِلَى الْحَبَشَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت اسماء رضی اللہ عنہ حبشہ سے واپس آئیں تو مدینہ منورہ کے کسی راستے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ان کا آمنا سامنا ہوگیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا حبشہ جانے والی ہو ؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم لوگ بہترین قوم تھے اگر تم سے ہجرت مدینہ نہ چھوٹتی انہوں نے فرمایا کہ تم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے وہ تمہارے پیدل چلنے والوں کو سواری دیتے تمہارے جاہل کو علم سکھاتے اور ہم لوگ اس وقت اپنے دین کو بچانے کے لئے نکلے تھے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ذکر کئے بغیر اپنے گھر واپس نہ جاؤں گی چناچہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر ساری بات بتادی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری دوہجرتیں ہوئیں ایک مدینہ منورہ کی طرف اور دوسری ہجرت حبشہ کی جانب۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19524
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4230، م: 2503