حدیث نمبر: 19479
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ حَدِيدٍ ، عَنْ صَخْرٍ الْغَامِدِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا " ، قَالَ : وَكَانَ إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً ، أَوْ جَيْشًا ، بَعَثَهُمْ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ ، قَالَ : وَكَانَ صَخْرٌ رَجُلًا تَاجِرًا ، فَكَانَ يَبْعَثُ تِجَارَتَهُ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ ، قَالَ : فَأَثْرَى وَكَثُرَ مَالُهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت صخر غامدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء فرماتے تھے کہ اے اللہ میری امت کے پہلے اوقات میں برکت فرما خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی لشکر روانہ فرماتے تھے کہ اس لشکر کو دن کے ابتدائی حصے میں بھیجتے تھے اور راوی حدیث حضرت صخر رضی اللہ عنہ تاجر آدمی تھے یہ بھی اپنے نوکروں کو صبح سویرے ہی بھیجتے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے پاس مال و دولت کی اتنی کثرت ہوگئی کہ انہیں یہ سمجھ نہیں آتا تھا کہ اپنا مال و دولت کہاں رکھیں ؟
حدیث نمبر: 19480
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ أَنْبَأَنِي ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ حَدِيدٍ ، رَجُلًا مِنْ بَجِيلَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ صَخْرًا الْغَامِدِيَّ رَجُلًا مِنَ الْأَزْدِ ، يَقُولُ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا " ، قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً ، بَعَثَهُمْ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ ، وَكَانَ صَخْرٌ رَجُلًا تَاجِرًا ، وَكَانَ لَهُ غِلْمَانٌ ، فَكَانَ يَبْعَثُ غِلْمَانَهُ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ ، قَالَ : فَكَثُرَ مَالُهُ ، حَتَّى كَانَ لَا يَدْرِي أَيْنَ يَضَعُهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت صخر غامدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء فرماتے تھے کہ اے اللہ میری امت کے پہلے اوقات میں برکت فرما خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی لشکر روانہ فرماتے تھے کہ اس لشکر کو دن کے ابتدائی حصے میں بھیجتے تھے اور راوی حدیث حضرت صخر رضی اللہ عنہ تاجر آدمی تھے یہ بھی اپنے نوکروں کو صبح سویرے ہی بھیجتے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے پاس مال و دولت کی اتنی کثرت ہوگئی کہ انہیں یہ سمجھ نہیں آتا تھا کہ اپنا مال و دولت کہاں رکھیں ؟
حدیث نمبر: 19481
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ حَدِيدٍ الْبَجَلِيِّ ، عَنْ صَخْرٍ الْغَامِدِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا " ، قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً ، بَعَثَهَا أَوَّلَ النَّهَارِ ، وَكَانَ صَخْرٌ تَاجِرًا ، فَكَانَ لَا يَبْعَثُ غِلْمَانَهُ إِلَّا مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ ، فَكَثُرَ مَالُهُ ، حَتَّى كَانَ لَا يَدْرِي أَيْنَ يَضَعُهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت صخر غامدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء فرماتے تھے کہ اے اللہ میری امت کے پہلے اوقات میں برکت فرما خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی لشکر روانہ فرماتے تھے کہ اس لشکر کو دن کے ابتدائی حصے میں بھیجتے تھے اور راوی حدیث حضرت صخر رضی اللہ عنہ تاجر آدمی تھے یہ بھی اپنے نوکروں کو صبح سویرے ہی بھیجتے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے پاس مال و دولت کی اتنی کثرت ہوگئی کہ انہیں یہ سمجھ نہیں آتا تھا کہ اپنا مال و دولت کہاں رکھیں ؟
حدیث نمبر: 19482
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ الْمَرْوَزِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْمَاجِشُونُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يَمُوتُ ، فَقُلْتُ : أَقْرِئْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي السَّلَامَ .
مولانا ظفر اقبال
محمد بن منکدر کہتے ہیں کہ میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے یہاں حاضر ہوا تو وہ قریب الوفات تھے، میں نے ان سے عرض کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میرا سلام کہہ دیجئے گا۔
حدیث نمبر: 19483
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ، أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ قَالَ : وَكَانَ ثِقَةً ، قَالَ : وَكَانَ الْحَكَمُ يَأْخُذُ عَنْهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سُئِلَ عَنْ أَلْبَانِ الْإِبِلِ ، فَقَالَ : " تَوَضَّئُوا مِنْ أَلْبَانِهَا " ، وَسُئِلَ عَنْ أَلْبَانِ الْغَنَمِ ؟ فَقَالَ : " لَا تَوَضَّئُوا مِنْ أَلْبَانِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے اونٹنی کے دودھ کا حکم پوچھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے پینے کے بعد وضو کیا کرو پھر بکری کے دودھ کا حکم پوچھا تو فرمایا اسے پینے کے بعد وضو مت کیا کرو۔
حدیث نمبر: 19484
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ : " الْبَوْلُ عِنْدَنَا بِمَنْزِلَةِ الدَّمِ ، مَا لَمْ يَكُنْ قَدْرَ الدِّرْهَمِ ، فَلَا بَأْسَ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حماد کہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک پیشاب خون کی طرح ہے کہ جب تک ایک درہم کے برابر نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔