حدیث نمبر: 19454
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَرِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ : مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا جَالِسٌ هَكَذَا ، وَقَدْ وَضَعْتُ يَدِي الْيُسْرَى خَلْفَ ظَهْرِي ، وَاتَّكَأْتُ عَلَى أَلْيَةِ يَدِي ، فَقَالَ : " أَتَقْعُدُ قَعْدَةَ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گذرے میں اس وقت اس طرح بیٹھا ہوا تھا کہ اپنا بایاں ہاتھ اپنی کمر کے پیچھے رکھ ہاتھ کے نچلے حصے پر ٹیک لگا رکھی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم ان لوگوں کی طرح بیٹھتے ہو جن پر اللہ کا غضب نازل ہوا۔
حدیث نمبر: 19455
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ الشَّرِيدِ ، أَنَّ أُمَّهُ أَوْصَتْ أَنْ يُعْتِقُوا عَنْهَا رَقَبَةً مُؤْمِنَةً ، فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : عِنْدِي جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ نُوبِيَّةٌ ، فَأُعْتِقُهَا عَنْهَا ؟ فَقَالَ : " ائْتِ بِهَا " ، فَدَعَوْتُهَا ، فَجَاءَتْ ، فَقَالَ لَهَا : " مَنْ رَبُّكِ ؟ " ، قَالَتْ : اللَّهُ ، قَالَ : " مَنْ أَنَا ؟ " قَالَتْ : رَسُولُ اللَّهِ ، قَالَ : " أَعْتِقْهَا ، فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہیں ان کی والدہ نے یہ وصیت کی کہ ان کی طرف سے ایک مسلمان غلام آزاد کردیں انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھتے ہوئے کہا کہ میرے پاس حبشہ کے ایک علاقے نوبیہ کی ایک باندی ہے کیا میں اسے آزاد کرسکتا ہوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے لے کر آؤ میں نے اسے بلایا وہ آگئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا تیرا رب کون ہے ؟ اس نے کہا اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا میں کون ہوں۔ ؟ اس نے جواب دیا آپ اللہ کے رسول ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے آزاد کردو یہ مسلمان ہے۔
حدیث نمبر: 19456
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا وَبْرُ بْنُ أَبِي دُلَيْلَةَ ، شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ ، عَنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَيْمُونِ بْنِ مُسَيْكَةَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا ، عَنْ عَمْرِو ابْنِ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيُّ الْوَاجِدِ يُحِلُّ عِرْضَهُ وَعُقُوبَتَهُ " . قَالَ وَكِيعٌ " عِرْضُهُ : شِكَايَتُهُ ، وَعُقُوبَتُهُ : حَبْسُهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مالدار کا ٹال مٹول کرنا اس کی شکایت اور اسے قید کرنے کو حلال کردیتا ہے۔
حدیث نمبر: 19457
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْلَى بْنِ كَعْبٍ الثَّقَفِيَّ الطَّائِفِيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الشَّرِيدِ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : اسْتَنْشَدَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ شِعْرِ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ ، فَأَنْشَدْتُهُ ، فَكُلَّمَا أَنْشَدْتُهُ بَيْتًا ، قَالَ : " هِيَ " ، حَتَّى أَنْشَدْتُهُ مِئَةَ قَافِيَةٍ ، فَقَالَ : " إِنْ كَادَ لَيُسْلِمُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے امیہ بن ابی صلت کے اشعار سنانے کو کہا میں اشعار سنانے لگا جب بھی ایک شعر سناتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے اور سناؤ حتیٰ کہ میں نے سو شعر سنا ڈالے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قریب تھا کہ امیہ مسلمان ہوجاتا۔
حدیث نمبر: 19458
حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَمْرٍو بْنِ الشَّرِيدِ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يُخْبِرُهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا وَجَدَ الرَّجُلَ رَاقِدًا عَلَى وَجْهِهِ ، لَيْسَ عَلَى عَجُزِهِ شَيْءٌ ، رَكَضَهُ بِرِجْلِهِ ، وَقَالَ : " هِيَ أَبْغَضُ الرِّقْدَةِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی آدمی کو چہرے کے بل اس طرح لیٹے ہوئے دیکھتے کہ اس کی سرین پر کچھ نہ ہوتا تو اسے پاؤں سے ٹھوکر مارتے اور فرماتے اللہ کے نزدیک لیٹنے کا یہ طریقہ سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہے۔
حدیث نمبر: 19459
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الثَّقَفِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " جَارُ الدَّارِ ، أَحَقُّ بِالدَّارِ مِنْ غَيْرِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھر کا پڑوسی دوسرے شخص کی نسبت مکان خریدنے کا زیادہ حقدار ہے۔
حدیث نمبر: 19460
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي عَاصِمِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيُّ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ الشَّرِيدِ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا شَرِبَ الرَّجُلُ فَاجْلِدُوهُ ، ثُمَّ إِذَا شَرِبَ فَاجْلِدُوهُ " أَرْبَعَ مِرَارٍ ، أَوْ خَمْسَ مِرَارٍ ، " ثُمَّ إِذَا شَرِبَ فَاقْتُلُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جب کوئی شخص شراب نوشی کرے اسے کوڑے مارو، دوبارہ پینے پر پھر کوڑے مارو سہ بارہ پینے پر پھر کوڑے مارو، چوتھی یا پانچویں مرتبہ فرمایا کہ پھر اگر پیئے تو اسے قتل کردو۔
حدیث نمبر: 19461
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، أَخْبَرَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرْضٌ لَيْسَ لِأَحَدٍ فِيهَا شِرْكٌ ، وَلَا قَسْمٌ إِلَّا الْجِوَارُ ؟ قَالَ : " الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ مَا كَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر کوئی زمین ایسی ہو جس میں کسی کی شرکت یا تقسیم نہ ہو سوائے پڑوسی کے تو کیا حکم ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پڑوسی شفعہ کا حق رکھتا ہے جب بھی ہو۔
حدیث نمبر: 19462
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، وَالْخَفَّافُ ، أَخْبَرَنَا حُسَيْنٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْخَفَّافُ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْضٌ لَيْسَ لِأَحَدٍ فِيهَا شِرْكٌ ، وَلَا قَسْمٌ ، إِلَّا الْجِوَارُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ مَا كَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر کوئی زمین ایسی ہو جس میں کسی کی شرکت یا تقسیم نہ ہو سوائے پڑوسی کے تو کیا حکم ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پڑوسی شفعہ کا حق رکھتا ہے جب بھی ہو۔
حدیث نمبر: 19463
حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، أَخْبَرَنِي وَبْرُ بْنُ أَبِي دُلَيْلَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَيْمُونِ بْنِ مُسَيْكَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الشَّرِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيُّ الْوَاجِدِ يُحِلُّ عِرْضَهُ وَعُقُوبَتَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مالدار کا ٹال مٹول کرنا اس کی شکایت اور اسے قید کرنے کو حلال کردیتا ہے۔
حدیث نمبر: 19464
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْلَى بْنِ كَعْبٍ الطَّائِفِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَنْشَدَهُ مِنْ شِعْرِ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ ، قَالَ : فَأَنْشَدَهُ مِئَةَ قَافِيَةٍ ، فَلَمْ أُنْشِدْهُ شَيْئًا إِلَّا قَالَ : " إِيهِ ، إِيهِ " ، حَتَّى إِذَا اسْتَفْرَغْتُ مِنْ مِئَةِ قَافِيَةٍ ، قَالَ : " كَادَ أَنْ يُسْلِمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے امیہ بن ابی صلت کے اشعار سنانے کو کہا میں اشعار سنانے لگا جب بھی ایک شعر سناتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے اور سناؤ حتیٰ کہ میں نے سو شعر سنا ڈالے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قریب تھا کہ امیہ مسلمان ہوجاتا۔
حدیث نمبر: 19465
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ يَعْقُوبَ بْنَ عَاصِمِ بْنِ عُرْوَةَ يَقُولُ : سَمِعْتُ الشَّرِيدَ يَقُولُ : أَشْهَدُ لَوَقَفْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ ، قَالَ : فَمَا مَسَّتْ قَدَمَاهُ الْأَرْضَ حَتَّى أَتَى جَمْعًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے گواہی دیتاہوں کہ میں نے عرفات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وقوف کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم زمین پر نہیں لگے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ پہنچ گئے۔
حدیث نمبر: 19466
حَدَّثَنَا مُهَنَّأُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، قَالَ عَبْدُ اللهِ : قَالَ أَبِي : كُنْيَتُهُ : أَبُو شِبْلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ الشَّرِيدِ ، أَنَّ أُمَّهُ أَوْصَتْ أَنْ يُعْتَقَ عَنْهَا رَقَبَةٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أُمِّي أَوْصَتْ أَنْ يُعْتَقَ عَنْهَا رَقَبَةٌ مُؤْمِنَةٌ ، وَعِنْدِي جَارِيَةٌ نُوبِيَّةٌ سَوْدَاءُ ، فَقَالَ : " ادْعُ بِهَا " ، فَجَاءَ بِهَا ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ رَبُّكِ ؟ " ، قَالَتْ : اللَّهُ ، قَالَ : " مَنْ أَنَا ؟ " ، قَالَتْ : أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ ، قَالَ : " أَعْتِقْهَا ، فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہیں ان کی والدہ نے یہ وصیت کی کہ ان کی طرف سے ایک مسلمان غلام آزاد کردیں انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھتے ہوئے کہا کہ میرے پاس حبشہ کے ایک علاقے نوبیہ کی ایک باندی ہے کیا میں اسے آزاد کرسکتا ہوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے لے کر آؤ میں نے اسے بلایا وہ آگئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا تیرا رب کون ہے ؟ اس نے کہا اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا میں کون ہوں۔ ؟ اس نے جواب دیا آپ اللہ کے رسول ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے آزاد کردو یہ مسلمان ہے۔
حدیث نمبر: 19467
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَمْرَو بْنَ الشَّرِيدِ يَقُولُ : قَالَ الشَّرِيدُ : كُنْتُ رِدْفًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِي : " أَمَعَكَ مِنْ شِعْرِ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ شَيْءٌ ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ ، فَقَالَ : " أَنْشِدْنِي " ، فَأَنْشَدْتُهُ بَيْتًا ، فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ لِي كُلَّمَا أَنْشَدْتُهُ : " إِيهِ " ، حَتَّى أَنْشَدْتُهُ مِئَةَ بَيْتٍ ، قَالَ : ثُمَّ سَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَسَكَتُّ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے امیہ بن ابی صلت کے اشعار سنانے کو کہا میں اشعار سنانے لگا جب بھی ایک شعر سناتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے اور سناؤ حتیٰ کہ میں نے سو شعر سنا ڈالے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قریب تھا کہ امیہ مسلمان ہوجاتا۔
حدیث نمبر: 19468
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مَجْذُومٌ مِنْ ثَقِيفٍ لِيُبَايِعَهُ ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : " ائْتِهِ فَأَخْبِرْهُ أَنِّي قَدْ بَايَعْتُهُ ، فَلْيَرْجِعْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبیلہ ثقیف کا ایک جذامی آدمی (کوڑھ کے مرض میں مبتلا) بیعت کرنے کے لئے آیا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر اس کا ذکر کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے پاس جا کر کہو کہ میں نے اسے بیعت کرلیا ہے اس لئے وہ واپس چلاجائے۔
حدیث نمبر: 19469
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَبُو يَعْلَى الطَّائِفِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَأَبُو عَامِرٍ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْلَى ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الشَّرِيدِ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ " ، قَالَ أَبُو عَامِرٍ فِي حَدِيثِهِ : " الْمَرْءُ أَحَقُّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھر کا پڑوسی دوسرے شخص کی نسبت شفعہ کرنے کا زیادہ حقدار ہے۔
حدیث نمبر: 19470
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ الْحَدَّادُ أَبُو عُبَيْدَةَ ، عَنْ خَلَفٍ يَعْنِي ابْنَ مِهْرَانَ ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، قَالَ : سَمِعْتُ الشَّرِيدَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ قَتَلَ عُصْفُورًا عَبَثًا ، عَجَّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْهُ ، يَقُولُ : يَا رَبِّ ، إِنَّ فُلَانًا قَتَلَنِي عَبَثًا ، وَلَمْ يَقْتُلْنِي لِمَنْفَعَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص ایک چڑیا کو بھی ناحق مارتا ہے تو وہ قیامت کے دن اللہ کے سامنے چیخ چیخ کر کہے گی کہ پروردگار ! فلاں شخص نے مجھے ناحق مارا تھا کسی فائدے کی خاطر نہیں مارا تھا۔
حدیث نمبر: 19471
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ يَعْقُوبَ بْنَ عَاصِمِ بْنِ عُرْوَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ الشَّرِيدَ قَالَ : أَشْهَدُ لَأَفَضْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَا مَسَّتْ قَدَمَاهُ الْأَرْضَ حَتَّى أَتَى جَمْعًا ، وَقَالَ مَرَّةً : لَوَقَفْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ ، فَمَا مَسَّتْ . . . . قَالَ عَبْدُ اللهِ : قَالَ أَبِي : حَيْثُ قَالَ رَوْحٌ : وَقَفْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَمْلَاهُ مِنْ كِتَابِهِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں گواہی دیتاہوں کہ میں نے عرفات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وقوف کیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم زمین پر نہیں لگے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ پہنچ گئے۔
حدیث نمبر: 19472
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَمْرَو بْنَ الشَّرِيدِ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبِعَ رَجُلًا مِنْ ثَقِيفٍ ، حَتَّى هَرْوَلَ فِي أَثَرِهِ ، حَتَّى أَخَذَ ثَوْبَهُ ، فَقَالَ : " ارْفَعْ إِزَارَكَ " ، قَالَ : فَكَشَفَ الرَّجُلُ عَنْ رُكْبَتَيْهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَحْنَفُ ، وَتَصْطَكُّ رُكْبَتَايَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ خَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَسَنٌ " ، قَالَ : وَلَمْ يُرَ ذَلِكَ الرَّجُلُ إِلَّا وَإِزَارُهُ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ ، حَتَّى مَاتَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ ثقیف کے ایک آدمی کے پیچھے چلے حتیٰ کہ اس کے پیچھے دوڑ پڑے اور اس کا کپڑا پکڑ کر فرمایا اپنا تہبند اوپر کرو، اس نے اپنے گھٹنوں سے کپڑا ہٹا کر عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے پاؤں ٹیڑھے ہیں اور چلتے ہوئے میرے گھٹنے ایک دوسرے سے رگڑ کھاتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی ہر تخلیق بہترین ہے، راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد مرتے دم تک اس شخص کو جب بھی دیکھا گیا اس کا تہبند نصف پنڈلی تک ہی رہا۔
حدیث نمبر: 19473
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَمْرَو بْنَ الشَّرِيدِ يَقُولُ : بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ رَاقِدٌ عَلَى وَجْهِهِ ، فَقَالَ : " هَذَا أَبْغَضُ الرُّقَادِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو چہرے کے بل لیٹے ہوئے دیکھا تو فرمایا اللہ کے نزدیک لیٹنے کا یہ طریقہ سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہے۔
حدیث نمبر: 19474
حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ رَجُلٌ مَجْذُومٌ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ارْجِعْ ، فَقَدْ بَايَعْتُكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبیلہ ثقیف کا ایک جذامی آدمی (کوڑھ کے مرض میں مبتلا) بیعت کرنے کے لئے آیا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر اس کا ذکر کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے پاس جا کر کہو کہ میں نے اسے بیعت کرلیا ہے اس لئے وہ واپس چلاجائے۔
حدیث نمبر: 19475
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَمْرِو ابْنِ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ أَوْ : عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَاصِمٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ الشَّرِيدَ يَقُولُ : أَبْصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَجُرُّ إِزَارَهُ ، فَأَسْرَعَ إِلَيْهِ أَوْ : هَرْوَلَ ، فَقَالَ : " ارْفَعْ إِزَارَكَ ، وَاتَّقِ اللَّهَ " ، قَالَ : إِنِّي أَحْنَفُ ، تَصْطَكُّ رُكْبَتَايَ ، فَقَالَ : " ارْفَعْ إِزَارَكَ ، فَإِنَّ كُلَّ خَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَسَنٌ " ، فَمَا رُئِيَ ذَلِكَ الرَّجُلُ بَعْدُ إِلَّا إِزَارُهُ يُصِيبُ أَنْصَافَ سَاقَيْهِ ، أَوْ : إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ ثقیف کے ایک آدمی کے پیچھے چلے حتیٰ کہ اس کے پیچھے دوڑ پڑے اور اس کا کپڑا پکڑ کر فرمایا اپنا تہبند اوپر کرو، اس نے اپنے گھٹنوں سے کپڑا ہٹا کر عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے پاؤں ٹیڑھے ہیں اور چلتے ہوئے میرے گھٹنے ایک دوسرے سے رگڑ کھاتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی ہر تخلیق بہترین ہے، راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد مرتے دم تک اس شخص کو جب بھی دیکھا گیا اس کا تہبند نصف پنڈلی تک ہی رہا۔
حدیث نمبر: 19476
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، عَن أَبِيهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَوْ : يَعْقُوبَ بْنِ عَاصِمٍ يَعْنِي عَنِ الشَّرِيدِ ، قَالَ عَبْدُ اللهِ : كَذَا حَدَّثَنَاهُ أَبِي ، قَالَ : أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ ، فَقَالَ : " هَلْ مَعَكَ مِنْ شِعْرِ أُمَيَّةَ شَيْءٌ ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " أَنْشِدْنِي " ، فَأَنْشَدْتُهُ بَيْتًا ، فَقَالَ : " هِيهْ " ، فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ : " هِيهْ " ، حَتَّى أَنْشَدْتُهُ مِئَةَ بَيْتٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے امیہ بن ابی صلت کے اشعار سنانے کو کہا میں اشعار سنانے لگا جب بھی ایک شعر سناتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے اور سناؤ حتیٰ کہ میں نے سو شعر سنا ڈالے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قریب تھا کہ امیہ مسلمان ہوجاتا۔
حدیث نمبر: 19477
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرْضٌ لَيْسَ لِأَحَدٍ فِيهَا شَرِيكٌ ، وَلَا قَسْمٌ ، إِلَّا الْجِوَارَ ؟ قَالَ : " الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ مَا كَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! اگر کوئی زمین ایسی ہو جس میں کسی کی شرکت یا تقسیم نہ ہو سوائے پڑوسی کے تو کیا حکم ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پڑوسی شفعہ کا حق رکھتا ہے جب بھی ہو۔