حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِيهَا الْخَيْرُ وَالْأَجْرُ وَالْمَغْنَمُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عروہ بارقی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گھوڑوں کی پیشانی میں قیامت تک کے لئے خیروبرکت، اجروثواب اور غنیمت باندھ دی گئی ہے۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، أَخْبَرَنَا الْبَارِقِيُّ شَبِيبٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ الْبَارِقِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ " ، وَرَأَيْتُ فِي دَارِهِ سَبْعِينَ فَرَسًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عروہ بارقی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گھوڑوں کی پیشانی میں قیامت تک کے لئے خیروبرکت، اجروثواب اور غنیمت باندھ دی گئی ہے۔ اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں ستر گھوڑے دیکھے ہیں۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ شَبِيبٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ الْحَيَّ يُخْبِرُونَ ، عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بَعَثَ مَعَهُ بِدِينَارٍ يَشْتَرِي لَهُ أُضْحِيَّةً ، وَقَالَ مَرَّةً : أَوْ شَاةً ، فَاشْتَرَى لَهُ اثْنَتَيْنِ ، فَبَاعَ وَاحِدَةً بِدِينَارٍ ، وَأَتَاهُ بِالْأُخْرَى ، فَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ فِي بَيْعِهِ ، فَكَانَ لَوِ اشْتَرَى التُّرَابَ لَرَبِحَ فِيهِ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عروہ بارقی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک دیناردے کر قربانی کا ایک جانورخریدنے کے لئے بھیجا انہوں نے ایک دینار کے دو جانورخریدے، پھر ان میں سے ایک جانور کو ایک دینار کے بدلے بیچا اور وہ ایک دیناربچا کر ایک جانور بھی لے آئے نبی کریم نے انہیں بیع میں برکت کی دعاء دی اس کے بعد اگر وہ مٹی بھی خریدتے تو اس میں بھی انہیں منافع ہوتا۔ حدیث نمبر (١٩٥٦٩) اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ حدیث نمبر (١٩٥٦٩) اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ حدیث نمبر (١٩٥٦٩) اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ زَكَرِيَّا ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ . وحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ . وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ . كُلُّهُمْ قَالَ : ابْنُ أَبِي الْجَعْدِ.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْجَعْدِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ : الْأَجْرُ ، وَالْمَغْنَمُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عروہ بارقی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گھوڑوں کی پیشانی میں قیامت تک کے لئے خیروبرکت، اجروثواب اور غنیمت باندھ دی گئی ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ زَكَرِيَّا . وَوَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، قَالَ يَحْيَى : ابْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْبَارِقِيُّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَقَالَ وَكِيعٌ فِي حَدِيثِهِ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ : الْأَجْرُ ، وَالْمَغْنَمُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عروہ بارقی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گھوڑوں کی پیشانی میں قیامت تک کے لئے خیروبرکت، اجروثواب اور غنیمت باندھ دی گئی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْعَيْزَارِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ جَعْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عروہ بارقی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گھوڑوں کی پیشانی میں قیامت تک کے لئے خیروبرکت، اجروثواب اور غنیمت باندھ دی گئی ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْبَارِقِي ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ : الْأَجْرُ ، وَالْمَغْنَمُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عروہ بارقی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گھوڑوں کی پیشانی میں قیامت تک کے لئے خیروبرکت، اجروثواب اور غنیمت باندھ دی گئی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ الْخِرِّيتِ ، حَدَّثَنَا أَبُو لَبِيدٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْبَارِقِيِّ ، قَالَ : عَرَضَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَبٌ ، فَأَعْطَانِي دِينَارًا ، وَقَالَ : " أَيْ عُرْوَةُ ، ائْتِ الْجَلَبَ ، فَاشْتَرِ لَنَا شَاةً ، فَأَتَيْتُ الْجَلَبَ ، فَسَاوَمْتُ صَاحِبَهُ ، فَاشْتَرَيْتُ مِنْهُ شَاتَيْنِ بِدِينَارٍ ، فَجِئْتُ أَسُوقُهُمَا أَوْ قَالَ : أَقُودُهُمَا ، فَلَقِيَنِي رَجُلٌ ، فَسَاوَمَنِي ، فَأَبِيعُهُ شَاةً بِدِينَارٍ ، فَجِئْتُ بِالدِّينَارِ ، وَجِئْتُ بِالشَّاةِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا دِينَارُكُمْ ، وَهَذِهِ شَاتُكُمْ ، قَالَ : وَصَنَعْتَ كَيْفَ ؟ قَالَ : فَحَدَّثْتُهُ الْحَدِيثَ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُ فِي صَفْقَةِ يَمِينِهِ " ، فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أَقِفُ بِكُنَاسَةِ الْكُوفَةِ ، فَأَرْبَحُ أَرْبَعِينَ أَلْفًا قَبْلَ أَنْ أَصِلَ إِلَى أَهْلِي ، وَكَانَ يَشْتَرِي الْجَوَارِيَ وَيَبِيعُ . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عروہ بارقی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بکریوں کے آنے کا پتہ چلا انہوں نے مجھے ایک دیناردے کر بکری خریدنے کے لئے بھیجا میں وہاں پہنچا اور بکریوں کے مالک سے بھاؤ تاؤ کیا اور ایک دینار کے عوض اس سے دو بکریاں خرید لیں، میں انہیں ہانکتا ہولے کرچلا راستے میں ایک آدمی ملا اور اس نے مجھ سے بھاؤ تاؤ کیا میں نے اسے ایک دینار میں ایک بکری دے دی اور وہ دینار اور ایک بکری لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ رہا آپ کا دینار اور یہ رہی آپ کی بکری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کیسے ہوگیا ؟ میں نے ساری بات بتادی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ اس کے دائیں ہاتھ کے معاملات میں برکت عطاء فرما اس کے بعد مجھ پر وہ وقت بھی آیا کہ میں کوفہ کے کوڑے دان پر کھڑا ہوا اور گھر پہنچنے سے پہلے چالیس ہزار کا نفع حاصل کرلیایاد رہے کہ حضرت عروہ رضی اللہ عنہ باندیوں کی خریدوفروخت کرتے تھے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
قَالَ عَبْدُ اللهِ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ الْخِرِّيتِ ، عَنْ أَبِي لَبِيدٍ وَهُوَ لُمَازَةُ بْنُ زَبَّارٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْبَارِقِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ.
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْعَيْزَارَ بْنَ حُرَيْثٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْجَعْدِ الْأَزْدِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عروہ بارقی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گھوڑوں کی پیشانی میں قیامت تک کے لئے خیروبرکت، اجروثواب اور غنیمت باندھ دی گئی ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي حُصَيْنٌ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ ، أنهما سمعا الشعبي ، سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الْجَعْدِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ : الْأَجْرُ ، وَالْمَغْنَمُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عروہ بارقی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گھوڑوں کی پیشانی میں قیامت تک کے لئے خیروبرکت، اجروثواب اور غنیمت باندھ دی گئی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ الْبَارِقِيُّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ : الْأَجْرُ ، وَالْمَغْنَمُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عروہ بارقی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گھوڑوں کی پیشانی میں قیامت تک کے لئے خیروبرکت، اجروثواب اور غنیمت باندھ دی گئی ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ الْخِرِّيتِ ، عَنْ أَبِي لَبِيدٍ ، قَالَ : كَانَ عُرْوَةُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ الْبَارِقِيُّ نَازِلًا بَيْنَ أَظْهُرِنَا ، فَحَدَّثَ عَنْهُ أَبُو لَبِيدٍ لُمَازَةُ بْنُ زَبَّارٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، قَالَ : عَرَضَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَبٌ ، فَأَعْطَانِي دِينَارًا ، فَقَالَ : " أَيْ عُرْوَةُ ، ائْتِ الْجَلَبَ ، فَاشْتَرِ لَنَا شَاةً " ، قَالَ : فَأَتَيْتُ الْجَلَبَ ، فَسَاوَمْتُ صَاحِبَهُ ، فَاشْتَرَيْتُ مِنْهُ شَاتَيْنِ بِدِينَارٍ ، فَجِئْتُ أَسُوقُهُمَا أَوْ قَالَ : أَقُودُهُمَا ، فَلَقِيَنِي رَجُلٌ ، فَسَاوَمَنِي ، فَأَبِيعُهُ شَاةً بِدِينَارٍ ، فَجِئْتُ بِالدِّينَارِ ، وَجِئْتُ بِالشَّاةِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا دِينَارُكُمْ ، وَهَذِهِ شَاتُكُمْ ، قَالَ : " وَصَنَعْتَ كَيْفَ ؟ " فَحَدَّثْتُهُ الْحَدِيثَ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُ فِي صَفْقِ يَمِينِهِ " ، فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أَقِفُ بِكُنَاسَةِ الْكُوفَةِ ، فَأَرْبَحُ أَرْبَعِينَ أَلْفًا قَبْلَ أَنْ أَصِلَ إِلَى أَهْلِي ، وَكَانَ يَشْتَرِي الْجَوَارِيَ وَيَبِيعُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عروہ بارقی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بکریوں کے آنے کا پتہ چلا انہوں نے مجھے ایک دیناردے کر بکری خریدنے کے لئے بھیجا میں وہاں پہنچا اور بکریوں کے مالک سے بھاؤ تاؤ کیا اور ایک دینار کے عوض اس سے دو بکریاں خرید لیں، میں انہیں ہانکتا ہوا لے کرچلا راستے میں ایک آدمی ملا اور اس نے مجھ سے بھاؤ تاؤ کیا میں نے اسے ایک دینار میں ایک بکری دے دی اور وہ دینار اور ایک بکری لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ رہا آپ کا دینار اور یہ رہی آپ کی بکری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کیسے ہوگیا ؟ میں نے ساری بات بتادی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ اس کے دائیں ہاتھ کے معاملات میں برکت عطاء فرما اس کے بعد مجھ پر وہ وقت بھی آیا کہ میں کوفہ کے کوڑے دان پر کھڑا ہوا اور گھر پہنچنے سے پہلے چالیس ہزار کا نفع حاصل کرلیا یاد رہے کہ حضرت عروہ رضی اللہ عنہ باندیوں کی خریدوفروخت کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الْجَعْدِ الْبَارِقِيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ : الْأَجْرُ ، وَالْمَغْنَمُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عروہ بارقی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گھوڑوں کی پیشانی میں قیامت تک کے لئے خیروبرکت، اجروثواب اور غنیمت باندھ دی گئی ہے۔