حدیث نمبر: 19263
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ صُهَيْبٍ . وَوَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عنه ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ لَمْ يَأْخُذْ مِنْ شَارِبِهِ ، فَلَيْسَ مِنَّا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنی مونچھیں نہیں تراشتاوہم میں سے نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19263
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19264
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ قُبَاءَ ، وَهُمْ يُصَلُّونَ الضُّحَى ، فَقَالَ : " صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ إِذَا رَمِضَتْ الْفِصَالُ مِنَ الضُّحَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اہل قباء کے پاس تشریف لے گئے وہ لوگ چاشت کے وقت نماز پڑھ رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کی طرف رجوع کرنے والوں کی یہ نماز اس وقت پڑھی جاتی ہے جب اونٹ کے بچوں کے پاؤں جلنے لگیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19264
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: هذا من صحيح حديث القاسم بن عوف، م: 748
حدیث نمبر: 19265
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ حَيَّانَ التَّيْمِيُّ ، قَالَ : انْطَلَقْتُ أَنَا ، وَحُصَيْنُ بْنُ سَبْرَةَ ، وَعُمَرُ بْنُ مُسْلِمٍ ، إلى زيد بن أرقم ، فلما جلسنا إليه ، قَالَ لَهُ حُصَيْنٌ : لَقَدْ لَقِيتَ يَا زَيْدُ خَيْرًا كَثِيرًا ، رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَسَمِعْتَ حَدِيثَهُ ، وَغَزَوْتَ مَعَهُ ، وَصَلَّيْتَ مَعَهُ ، لَقَدْ لَقِيتَ يَا زَيْدُ خَيْرًا كَثِيرًا ، حَدِّثْنَا يَا زَيْدُ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا ابْنَ أَخِي ، وَاللَّهِ لَقَدْ كَبُرَتْ سِنِّي ، وَقَدُمَ عَهْدِي ، وَنَسِيتُ بَعْضَ الَّذِي كُنْتُ أَعِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَا حَدَّثْتُكُمْ فَاقْبَلُوهُ ، وَمَا لَا فَلَا تُكَلِّفُونِيهِ ، ثُمَّ قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا خَطِيبًا فِينَا بِمَاءٍ يُدْعَى خُمًّا ، بَيْنَ مَكَّةَ ، وَالْمَدِينَةِ ، فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، وَوَعَظَ ، وَذَكَّرَ ، ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا بَعْدُ ، أَلَا يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَنِي رَسُولُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ ، فَأُجِيبُ ، وَإِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ ثَقَلَيْنِ ، أَوَّلُهُمَا : كِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فِيهِ الْهُدَى وَالنُّورُ ، فَخُذُوا بِكِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى ، وَاسْتَمْسِكُوا بِهِ ، فَحَثَّ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ ، وَرَغَّبَ فِيهِ ، قَالَ : وَأَهْلُ بَيْتِي ، أُذَكِّرُكُمْ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي ، أُذَكِّرُكُمْ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي ، أُذَكِّرُكُمْ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي " ، فَقَالَ لَهُ حُصَيْنٌ : وَمَنْ أَهْلُ بَيْتِهِ يَا زَيْدُ ؟ أَلَيْسَ نِسَاؤُهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ ؟ قَالَ : إِنَّ نِسَاءَهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ ، وَلَكِنَّ أَهْلَ بَيْتِهِ مَنْ حُرِمَ الصَّدَقَةَ بَعْدَهُ ، قَالَ : وَمَنْ هُمْ ؟ قَالَ : هُمْ : آلُ عَلِيٍّ ، وَآلُ عَقِيلٍ ، وَآلُ جَعْفَرٍ ، وَآلُ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَكُلُّ هَؤُلَاءِ حُرِمَ الصَّدَقَةَ ؟ قَالَ : نَعَمْ .
مولانا ظفر اقبال
یزید بن حیان تمیمی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حصین بن سبرہ اور عمربن مسلم کے ساتھ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا جب ہم لوگ بیٹھ چکے تو حصین نے عرض کیا کہ اے زید ! آپ کو تو خیر کثیر ملی ہے آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے ان کی احادیث سنی ہیں ان کے ساتھ جہاد میں شرکت کی ہے اور ان کی معیت میں نماز پڑھی ہے لہٰذا آپ کو تو خیر کثیر نصیب ہوگئی آپ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خود سنی ہو ؟ انہوں نے فرمایا بھتیجے ! میں بوڑھا ہوچکا، میرا زمانہ پرانا ہوچکا اور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے جو باتیں محفوظ رکھتا تھا، ان میں سے کچھ بھول بھی چکا، لہٰذا میں اپنے طور پر اگر کوئی حدیث بیان کردیا کروں تو اسے قبول کرلیا کرو ورنہ مجھے اس پر مجبور نہ کیا کرو پھر فرمایا کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ایک چشمے کے قریب جسے " خم " کہا جاتا ہے خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمدوثناء بیان کرکے کچھ وعظ و نصیحت کی، پھر، امابعد " کہہ کر فرمایا لوگو ! میں بھی ایک انسان ہی ہوں ہوسکتا ہے کہ جلدہی میرے رب کا قاصد مجھے بلانے کے لئے آپہنچے اور میں اس کی پکار پر لبیک کہہ دوں، یاد رکھو ! میں تمہارے درمیان دو مضبوط چھوڑ کر جارہاہوں پہلی چیز تو کتاب اللہ ہے جس میں ہدایت بھی ہے اور نور بھی، لہٰذا کتاب اللہ کو مضبوطی سے تھامو، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب اللہ پر عمل کرنے کی ترغیب دی اور توجہ دلائی اور فرمایا دوسری چیز میرے اہل بیت ہیں اور تین مرتبہ فرمایا میں اپنے اہل بیت کے حقوق کے متعلق تمہیں اللہ کے نام سے نصیحت کرتا ہوں۔ حصین نے پوچھا کہ اے زید ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت سے کون مراد ہیں ؟ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات اہل بیت میں داخل نہیں ہیں ؟ انہوں نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے ہیں لیکن یہاں مرادوہ لوگ ہیں جن پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعدصدقہ حرام ہو، حصین نے پوچھا وہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے فرمایا آل عقیل، آل علی، آل جعفر اور آل عباس، حصین نے پوچھا کہ ان سب پر صدقہ حرام ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں !
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19265
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2408
حدیث نمبر: 19266
قَالَ يَزِيدُ بْنُ حَيّان : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ فِي مَجْلِسِهِ ذَلِكَ ، قَالَ : بَعَثَ إِلَيَّ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ ، فَأَتَيْتُهُ ، فَقَالَ : مَا أَحَادِيثُ تُحَدِّثُهَا وَتَرْوِيهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَا نَجِدُهَا فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ? تُحَدِّثُ أَنَّ لَهُ حَوْضًا فِي الْجَنَّةِ ! قَالَ : قَدْ حَدَّثَنَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَعَدَنَاهُ ، قَالَ : كَذَبْتَ ، وَلَكِنَّكَ شَيْخٌ قَدْ خَرِفْتَ ، قَالَ : إِنِّي قَدْ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ ، وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ جَهَنَّمَ " ، وَمَا كَذَبْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَحَدَّثَنَا زَيْدٌ فِي مَجْلِسِهِ ، قَالَ : " إِنَّ الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ لَيَعْظُمُ لِلنَّارِ ، حَتَّى يَكُونَ الضِّرْسُ مِنْ أَضْرَاسِهِ كَأُحُدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
یزید بن حیان کہتے ہیں کہ اسی مجلس میں (جس کا تذکرہ پچھلی حدیث میں ہوا) حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ہمیں بتایا کہ ایک مرتبہ مجھے عبیداللہ بن زیادنے پیغام بھیج کر بلایا میں اس کے پاس پہنچا تو وہ کہنے لگا کہ یہ آپ کون سی احادیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے نقل کرتے رہتے ہیں جو ہمیں کتاب اللہ میں نہیں ملتیں ؟ آپ بیان کرتے ہیں کہ جنت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک حوض ہوگا ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ بات تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہم سے فرمائی تھی اور ہم سے اس کا وعدہ کیا تھا وہ کہنے لگا کہ آپ جھوٹ بولتے ہیں آپ بوڑھے ہوگئے ہیں اس لئے آپ کی عقل کام نہیں کررہی انہوں نے فرمایا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاداپنے کانوں سے سنا ہے اور دل میں محفوظ کیا ہے کہ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کسی جھوٹی بات کسی نسبت کرتا ہے اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالینا چاہئے اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کبھی جھوٹ نہیں باندھا۔ اور اسی مجلس میں حضرت زید رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بھی ہمارے سامنے بیان فرمائی کہ جہنم میں جہنمی آدمی کا جسم بھی بہت پھیل جائے گا حتی کہ اس کی ایک ڈاڑھ احد پہاڑ کے برابر ہو جائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19266
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19267
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ : سَحَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ ، قَالَ : فَاشْتَكَى لِذَلِكَ أَيَّامًا ، قَالَ : فَجَاءَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَقَالَ : إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْيَهُودِ سَحَرَكَ ، عَقَدَ لَكَ عُقَدًا فِي بِئْرِ كَذَا وَكَذَا ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا مَنْ يَجِيءُ بِهَا ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَاسْتَخْرَجَهَا ، فَجَاءَ بِهَا ، فَحَلَّهَا ، قَالَ : فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّمَا نُشِطَ مِنْ عِقَالٍ ، فَمَا ذَكَرَ لِذَلِكَ الْيَهُودِيِّ ، وَلَا رَآهُ فِي وَجْهِهِ قَطُّ ، حَتَّى مَاتَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی یہودی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سحر کردیا جس کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کئی دن بیمار رہے پھر حضرت جبرائیل آئے اور کہنے لگے کہ ایک یہودی شخص نے آپ پر سحر کردیا ہے اس نے فلاں کنوئیں میں کسی چیز پر کچھ گرہیں لگا رکھی ہیں آپ کسی کو بھیج کر وہ وہاں سے منگوالیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھیج کر وہ چیز نکلوالی، حضرت علی رضی اللہ عنہ اسے لے کر آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھولا جوں جوں وہ گرہیں کھلتی جاتی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح تندرست ہوتے جاتے تھے جیسے کسی رسی سے آپ کو کھول دیا گیا ہے ہو لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودی کا کوئی تذکرہ کیا اور نہ ہی وصال تک اس کا چہرہ دیکھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19267
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بغير هذه السياقة، وهذا إسناد ضعيف لتدليس الأعمش
حدیث نمبر: 19268
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ طَلْحَةَ مَوْلَى قَرَظَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَنْتُمْ بِجُزْءٍ مِنْ مِئَةِ أَلْفِ جُزْءٍ مِمَّنْ يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، قَالَ : فَقُلْنَا لِزَيْدٍ : وَكَمْ أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : فَقَالَ : بَيْنَ السِّتِّ مِئَةِ ، إِلَى السَّبْعِ مِئَةِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن میرے پاس حوض کوثر پر آنے والوں کا لاکھواں حصہ بھی نہیں ہو ہم نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اس وقت آپ لوگ کتنے تھے ؟ انہوں نے فرمایا چھ سے سات سو کے درمیان۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19268
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، طلحة مولي قرظة مجهول. وقول الحافظ ابن حجر: "وثقة النسائي" وهم
حدیث نمبر: 19269
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ ، فَقَالَ : يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، أَلَسْتَ تَزْعُمُ أَنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَأْكُلُونِ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ ؟ وَقَالَ لِأَصْحَابِهِ : إِنْ أَقَرَّ لِي بِهَذِهِ خَصَمْتُهُ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَلَى ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنَّ أَحَدَهُمْ لَيُعْطَى قُوَّةَ مِئَةِ رَجُلٍ فِي الْمَطْعَمِ ، وَالْمَشْرَبِ ، وَالشَّهْوَةِ ، وَالْجِمَاعِ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ الْيَهُودِيُّ : فَإِنَّ الَّذِي يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ تَكُونُ لَهُ الْحَاجَةُ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : حَاجَةُ أَحَدِهِمْ عَرَقٌ يَفِيضُ مِنْ جُلُودِهِمْ مِثْلُ رِيحِ الْمِسْكِ ، فَإِذَا الْبَطْنُ قَدْ ضَمُرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اے ابوالقاسم ! کیا آپ کا یہ خیال نہیں ہے کہ جنتی جنت میں کھائیں پئیں گے ؟ اس نے اپنے دوستوں سے پہلے ہی کہہ رکھا تھا کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا اقرار کرلیا تو میں ان پر غالب آکر دکھاؤں گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے کیوں نہیں ہر جنتی کو کھانے، پینے، خواہشات اور مباشرت کے حوالے سے سو آدمیوں کے برابرطاقت عطاء کی جائے گی، اس یہودی نے کہا کہ پھر اس کھانے پینے والے کو قضاء حاجت کا مسئلہ بھی پیش آئے گا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قضاء حاجت کا طریقہ یہ ہوگا کہ انہیں پسینہ آئے گا جوان کی کھال سے بہے گا اور اس سے مشک کی مہک آئے گی اور پیٹ ہلکا ہوجائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19269
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، لأن الأعمش مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 19270
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنِ الْقَاسِمِ الشَّيْبَانِيِّ ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَأَى قَوْمًا يُصَلُّونَ فِي مَسْجِدِ قُبَاءَ مِنَ الضُّحَى ، فَقَالَ : أَمَا لَقَدْ عَلِمُوا أَنَّ الصَّلَاةَ فِي غَيْرِ هَذِهِ السَّاعَةِ أَفْضَلُ ، إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ صَلَاةَ الْأَوَّابِينَ حِينَ تَرْمَضُ الْفِصَالُ ، وَقَالَ مَرَّةً : وَأُنَاسٌ يُصَلُّونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اہل قباء کے پاس تشریف لے گئے وہ لوگ چاشت کے وقت نماز پڑھ رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کی طرف رجوع کرنے والوں کی یہ نماز اس وقت پڑھی جاتی ہے جب اونٹ کے بچوں کے پاؤں جلنے لگیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19270
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: هذا من صحيح حديث القاسم بن عوف، م: 748
حدیث نمبر: 19271
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ : قَدِمَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَذْكِرُهُ : كَيْفَ أَخْبَرْتَنِي عَنْ لَحْمٍ أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ حَرَامٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَهْدَى لَهُ رَجُلٌ عُضْوًا مِنْ لَحْمِ صَيْدٍ ، فَرَدَّهُ ، وَقَالَ : " إِنَّا لَا نَأْكُلُهُ ، إِنَّا حُرُمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
طاؤس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ان سے کریدتے ہوئے پوچھا کہ آپ نے مجھے وہ بات کیسے بتائی تھی کہ حالت احرام میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ پیش کیا گیا ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! ایک آدمی نے کسی شکار کا ایک حصہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیۃ ًپیش کیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول نہ کیا اور فرمایا ہم اسے نہیں کھاسکتے کیونکہ ہم محرم ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19271
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1195
حدیث نمبر: 19272
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ كَانَ يُكَبِّرُ عَلَى جَنَائِزِنَا أَرْبَعًا ، وَأَنَّهُ كَبَّرَ عَلَى جِنَازَةٍ خَمْسًا ، فَسَأَلُوهُ ، فَقَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُهَا ، أَوْ : كَبَّرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
ابن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ ہمارے جنازوں پر چارتکبیرات کہتے تھے ایک مرتبہ کسی جنازے پر انہوں نے پانچ تکبیرات کہہ دیں لوگوں نے ان سے اس کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھارپانچ تکبیرات بھی کہہ لیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19272
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 957
حدیث نمبر: 19273
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ لَمْ يَأْخُذْ مِنْ شَارِبِهِ ، فَلَيْسَ مِنَّا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنی مونچھیں نہیں تراشتاوہ ہم میں سے نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19273
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19274
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حَبِيبٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، قَالَ : سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ، وَالْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، يقولان : نهى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ دَيْنًا . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ اور براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کے بدلے سونے کی ادھارخریدوفروخت سے منع کیا ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19274
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2180، م: 1589
حدیث نمبر: 19275
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . قَالَ بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ : حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْمِنْهَالِ رَجُلًا مِنْ بَنِي كِنَانَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ الْبَرَاءَ عَنِ الصَّرْفِ ، فَقَالَ : سَلْ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ، فَإِنَّهُ خَيْرٌ مِنِّي وَأَعْلَمُ ، قَالَ : سَأَلْتُ زَيْدًا . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . .
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19275
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2180، م: 1589
حدیث نمبر: 19276
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْحٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، وَعَامِرُ بْنُ مُصْعَبٍ ، سمعا أبا المنهال ، قَالَ : سَأَلْتُ الْبَرَاءَ ، وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ . .
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19276
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2180، م: 1589
حدیث نمبر: 19277
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْحَ ، أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، وَلَمْ يَسْمَعْهُ مِنْهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدًا ، وَالْبَرَاءَ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19277
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2180، م: 1589، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، حسن بن مسلم لم يسمعه من أبى المنهال
حدیث نمبر: 19278
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ شُبَيْلٍ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ : كَانَ الرَّجُلُ يُكَلِّمُ صَاحِبَهُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَاجَةِ فِي الصَّلَاةِ ، حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ سورة البقرة آية 238 ، فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی دور باسعادت میں لوگ اپنی ضرورت سے متعلق نماز کے دوران گفتگو کرلیتے تھے یہاں تک کہ پھر یہ آیت نازل ہوگئی وقومو اللہ قنتین " اور ہمیں خاموشیکا حکم دے دیا گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19278
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4534، م: 539
حدیث نمبر: 19279
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ، فَقُلْتُ لَهُ : إِنَّ خَتَنًا لِي حَدَّثَنِي عَنْكَ بِحَدِيثٍ فِي شَأْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ ، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْكَ ، فَقَالَ : إِنَّكُمْ مَعْشَرَ أَهْلِ الْعِرَاقِ فِيكُمْ مَا فِيكُمْ ، فَقُلْتُ لَهُ : لَيْسَ عَلَيْكَ مِنِّي بَأْسٌ ، فَقَالَ : نَعَمْ ، كُنَّا بِالْجُحْفَةِ ، فَخَرْجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا ظُهْرًا ، وَهُوَ آخِذٌ بِعَضُدِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ؟ قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : فَمَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ ، فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ " ، قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : هَلْ قَالَ : اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ ؟ قَالَ : إِنَّمَا أُخْبِرُكَ كَمَا سَمِعْتُ .
مولانا ظفر اقبال
عطیہ عوفی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے عرض کیا کہ میرے ایک دامادنے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں غدیرخم کے موقع کی حدیث آپ کے حوالے سے میرے سامنے بیان کی ہے، میں چاہتا ہوں کہ براہ راست آپ سے اس کی سماعت کروں ؟ انہوں نے فرمایا اے اہل عراق ! مجھے تم سے اندیشہ ہے میں نے عرض کیا کہ میری طرف سے آپ بےفکر رہیں انہوں نے کہا اچھا ایک مرتبہ ہم لوگ مقام جحفہ میں تھے کہ ظہر کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑے ہوئے ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا لوگو ! کیا تم لوگ نہیں جانتے کہ مجھے مسلمانوں پر ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ حق حاصل ہے ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کیوں نہیں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ دبا کر فرمایا جس کا میں محبوب ہوں علی بھی اس کے محبوب ہونے چاہئیں میں نے عرض کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا اے اللہ ! جو علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرتا ہے تو اس سے محبت فرما اور جو اس سے دشمنی کرتا ہے تو اس سے دشمنی فرما ؟ انہوں نے فرمایا میں نے جو سنا تھا وہ تمہیں بتادیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19279
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح بطرقه وشواهد، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية
حدیث نمبر: 19280
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، وَأَبُو الْمُنْذِرِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ صُهَيْبٍ ، قَالَ أَبُو الْمُنْذِرِ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ : حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ : لَقَدْ كُنَّا نَقْرَأُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ ذَهَبٍ وَفِضَّةٍ ، لَابْتَغَى إِلَيْهِمَا آخَرَ ، وَلَا يَمْلَأُ بَطْنَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی دور میں ہم اس کی تلاوت کرتے تھے ( جو بعد میں منسوخ ہوگئی) کہ اگر ابن آدم کے پاس سونے چاندی کی دو وادیاں بھی ہوں تو وہ ایک اور کی تمنا کرے گا اور ابن آدم کا پیٹ مٹی کے علاوہ کوئی چیز نہیں بھرسکتی البتہ جو توبہ کرلیتا ہے، اللہ اس پر متوجہ ہوجاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19280
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19281
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ مَوْلَى الْأَنْصَارِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ : أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ (بچوں میں) سب سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19281
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، أبو حمزة مولى الأنصار مجهول. وقول الحافظ ابن حجر: "وثقة النسائي" وهم
حدیث نمبر: 19282
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، وَأُبَيّْ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ : كَمْ غَزَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : تِسْعَ عَشْرَةَ ، وَغَزَوْتُ مَعَهُ سَبْعَ عَشْرَةَ ، وَسَبَقَنِي بِغَزَاتَيْنِ .
مولانا ظفر اقبال
ابواسحاق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے غزوات فرمائے ؟ انہوں نے جواب دیا انیس جن میں سے سترہ میں میں بھی شریک تھا لیکن دو غزوے مجھ سے رہ گئے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19282
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3949، م: 1254
حدیث نمبر: 19283
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ ، عَنْ عَائِذِ اللَّهِ الْمُجَاشِعِيِّ ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ : قُلْتُ : أَوْ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا هَذِهِ الْأَضَاحِيُّ ؟ قَالَ : " سُنَّةُ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالُوا : مَا لَنَا مِنْهَا ؟ قَالَ : بِكُلِّ شَعْرَةٍ حَسَنَةٌ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَالصُّوفُ ؟ قَالَ : بِكُلِّ شَعْرَةٍ مِنَ الصُّوفِ حَسَنَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ان قربانیوں کی کیا حقیقت ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تمہارے باپ حضرت ابراہیم کی سنت ہے انہوں نے پوچھا اس پر ہمیں کیا ملے گا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر بال کے بدلے ایک نیکی انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! اون کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا اون کے ہر بال کے عوض بھی ایک نیکی ملے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19283
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا، أبو داود نفيع بن الحارث متروك، وعائذ الله ضعيف
حدیث نمبر: 19284
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا حَمْزَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ : أَوَّلُ مَنْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ عَمْرٌو : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ ، وَقَالَ : أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ (بچوں میں) سب سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19284
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، أبو حمزة مولى الأنصار مجهول. وقول الحافظ ابن حجر: "وثقة النسائي" وهم
حدیث نمبر: 19285
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ : لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ ، قَالَ : فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَحَلَفَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : فَلَامَنِي قَوْمِي ، وَقَالُوا : مَا أَرَدْتَ إِلَى هَذَا ؟ ! قَالَ : فَانْطَلَقْتُ ، فَنِمْتُ كَئِيبًا حَزِينًا ، قَالَ : فَأَرْسَلَ إِلَيَّ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَنْزَلَ عُذْرَكَ ، وَصَدَّقَكَ " ، قَالَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا حَتَّى بَلَغَ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ سورة المنافقون آية 7 - 8 .
مولانا ظفر اقبال
حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں کسی غزوے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھا (رئیس المنافقین) عبداللہ بن ابی کہنے لگا کہ اگر ہم مدینہ منورہ واپس گئے تو جو زیادہ باعزت ہوگا وہ زیادہ ذلیل کو وہاں سے باہر نکال دے گا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر آپ کو اس کی یہ بات بتائی، عبداللہ بن ابی نے قسم اٹھالی کہ ایسی کوئی بات نہیں ہوئی میری قوم کے لوگ مجھے ملامت کرنے لگے اور کہنے لگے کہ تمہارا اس سے کیا مقصد تھا ؟ میں وہاں سے واپس آکر غمزدہ سالیٹ کر سونے لگا تھوڑی ہی دیر بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قاصد کے ذریعے مجھے بلابھیجا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہارا عذرنازل کرکے تمہاری سچائی کو ثابت کردیا ہے اور یہ آیت نازل ہوئی ہے یہ لوگ کہتے ہیں کہ جو لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہیں ان پر کچھ خرچ نہ کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر ہم مدینہ منورہ واپس گئے تو جو زیادہ باعزت ہوگا وہ زیادہ ذلیل کو وہاں سے باہر نکال دے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19285
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4902، م: 2772
حدیث نمبر: 19286
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ هَذِهِ الْحُشُوشَ مُحْتَضَرَةٌ ، فَإِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيَقُلْ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ان بیت الخلاؤں میں جنات آتے رہتے ہیں اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص بیت الخلاء میں داخل ہو تو اسے یہ دعاء پڑھ لینی چاہئے کہ اے اللہ ! میں خبیث مذکر و مؤنث جنات سے آپ کی پناہ میں آتاہوں۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19286
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات، وهذا حديث تفرد به قتاده، ورواه عنه جماعة من تلاميذه، واختلفوا عليه فيه
حدیث نمبر: 19287
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ مَيْمُونٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ : كَانَ لِنَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْوَابٌ شَارِعَةٌ فِي الْمَسْجِدِ ، قَالَ : فَقَالَ يَوْمًا : " سُدُّوا هَذِهِ الْأَبْوَابَ إِلَّا بَابَ عَلِيٍّ ، قَالَ : فَتَكَلَّمَ فِي ذَلِكَ النَّاسُ ، قَالَ : فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ ؛ فَإِنِّي أَمَرْتُ بِسَدِّ هَذِهِ الْأَبْوَابِ إِلَّا بَابَ عَلِيٍّ ، وَقَالَ فِيهِ قَائِلُكُمْ ، وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا سَدَدْتُ شَيْئًا وَلَا فَتَحْتُهُ ، وَلَكِنِّي أُمِرْتُ بِشَيْءٍ فَاتَّبَعْتُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی صحابہ رضی اللہ عنہ کے دروازے مسجد نبوی کے طرف کھلتے تھے ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ علی کے دروازے کو چھوڑ کر باقی سب دروازے بند کردو، اس پر کچھ لوگوں نے باتیں کیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمدوثناء کی، پھر امابعد کہہ کر فرمایا کہ میں نے علی کا دروازہ چھوڑ کر باقی تمام دروازے بند کرنے کا جو حکم دیا ہے اس پر تم میں سے بعض لوگوں کو اعتراض ہے اللہ کی قسم ! میں اپنے طور پر کسی چیز کو کھول بند نہیں کرتا بلکہ مجھے تو حکم دیا گیا ہے اور میں اسی کی پیروی کرتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19287
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضيعف، ومتنه منكر، ميمون أبو عبدالله ضعيف
حدیث نمبر: 19288
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنِ الْحَجَّاجِ مَوْلَى بَنِي ثَعْلَبَةَ ، عَنْ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ عَمِّ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، قَالَ : نَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ مِنْ عَلِيٍّ ، فَقَالَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ : قَدْ عَلِمْتَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَى عَنْ سَبِّ الْمَوْتَى ، فَلِمَ تَسُبُّ عَلِيًّا وَقَدْ مَاتَ ؟ ! .
مولانا ظفر اقبال
حضرت قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی زبان سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں کوئی نامناسب جملہ نکل گیا تو حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ آپ جانتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو برابھلا کہنے سے منع فرمایا ہے پھر آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق ایسی بات کیوں کررہے ہیں جبکہ وہ فوت ہوچکے ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19288
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حجاج مولى بني ثعلبة
حدیث نمبر: 19289
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مَيْمُونًا يُحَدِّثُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُمْ أَنْ يَتَدَاوَوْا مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ بِالْعُودِ الْهِنْدِيِّ ، وَالزَّيْتِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا ہے کہ ذت الجنب کی بیماری میں عودہندی اور زیتون استعمال کیا کریں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19289
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: التداوي بالعود الهندي منه صحيح، وهذا إسناد ضعيف، و ميمون أبو عبدالله ضعيف
حدیث نمبر: 19290
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الشَّامِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ يَخْطُبُ ، يَقُولُ : يَا أَهْلَ الشَّامِ ، حَدَّثَنِي الْأَنْصَارِيُّ قَالَ شُعْبَةُ : يَعْنِي زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا هُمْ يَا أَهْلَ الشَّامِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابو عبداللہ شامی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو دوران خطبہ یہ کہتے ہوئے سنا کہ مجھے انصاری صحابی حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بتایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت میں ایک گروہ ہمیشہ حق پر غالب رہے گا اور مجھے امید ہے کہ اے اہل شام ! یہ تم ہی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19290
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: مرفوعه صحيح، وهذا اسناد ضعيف لجهالة ابي عبدالله الشامي
حدیث نمبر: 19291
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا حَمْزَةَ مَوْلَى الْأَنْصَارِ ، قَالَ : سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنْزِلٍ نَزَلُوهُ فِي مَسِيرِهِ ، فَقَالَ : " مَا أَنْتُمْ بِجُزْءٍ مِنْ مِئَةِ أَلْفِ جُزْءٍ مِمَّنْ يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ مِنْ أُمَّتِي " ، قَالَ : قُلْتُ : كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : كُنَّا سَبْعَ مِئَةٍ ، أَوْ ثَمَانِ مِئَةٍ ؟ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سفر میں ایک مقام پر پڑاؤ کرکے فرمایا تم لوگ قیامت کے دن میرے پاس حوض کوثر پر آنے والوں کا لاکھواں حصہ بھی نہیں ہو ہم نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اس وقت آپ لوگ کتنے تھے ؟ انہوں نے فرمایا چھ سے سات سو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19291
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، أبو حمزة مجهول، وقول الحافظ ابن حجر: «وثقه النسائي» وهم
حدیث نمبر: 19292
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّضْرَ بْنَ أَنَسٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ ، وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ ، وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ ! انصار کی، ان کی بیٹوں کی اور ان کی پوتوں کی مغفرت فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19292
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4906، م: 2506
حدیث نمبر: 19293
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ دَاوُدَ الطُّفَاوِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْبَجَلِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ : كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي دُبُرِ صَلَاتِهِ : " اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ ، أَنَا شَهِيدٌ أَنَّكَ أَنْتَ الرَّبُّ وَحْدَكَ ، لَا شَرِيكَ لَكَ ، قَالَهَا إِبْرَاهِيمُ مَرَّتَيْنِ : رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ ، أَنَا شَهِيدٌ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ ، رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ ، أَنَا شَهِيدٌ أَنَّ الْعِبَادَ كُلَّهُمْ إِخْوَةٌ ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ ، اجْعَلْنِي مُخْلِصًا لَكَ وَأَهْلِي فِي كُلِّ سَاعَةٍ مِنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، ذَا الْجِلَالِ وَالْإِكْرَامِ ، اسْمَعْ وَاسْتَجِبْ ، اللَّهُ الْأَكْبَرُ الْأَكْبَرُ ، اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، اللَّهُ الْأَكْبَرُ الْأَكْبَرُ ، حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ ، اللَّهُ الْأَكْبَرُ الْأَكْبَرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعدیوں کہتے تھے اے اللہ ! ہمارے اور ہر چیز کے رب ! میں گواہی دیتاہوں کہ آپ اکیلے رب ہیں آپ کا کوئی شریک نہیں اے ہمارے اور ہر چیز کے رب ! میں گواہی دیتاہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے بندے اور آپ کے رسول ہیں اے ہمارے اور ہر چیز کے رب ! میں گواہی دیتاہوں کہ سب بندے آپس میں بھائی بھائی ہیں اے اللہ ! اے ہمارے اور ہر چیز کے رب ! مجھے اور میرے گھروالوں کو دنیا و آخرت میں اپنے لئے مخلص بنادیجئے اے بزرگی اور عزت والے میری دعا کو سن لے اور قبول فرمالے اللہ سب سے بڑا ہے سب سے بڑا اللہ زمین و آسمان کا نور ہے اللہ سب سے بڑا ہے سب سے بڑا اللہ مجھے کافی ہے اور وہ بہترین کا رساز ہے اللہ سب سے بڑا ہے سب سے بڑا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19293
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف داود الطفاوي، ولجهالة أبى مسلم البجلي
حدیث نمبر: 19294
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَمُؤَمَّلٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ : يَا زَيْدُ بْنَ أَرْقَمَ ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَ لَهُ عُضْوُ صَيْدٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ ، فَلَمْ يَقْبَلْهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ مُؤَمَّلٌ : فَرَدَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " إِنَّا حُرُمٌ " ؟ قَالَ : نَعَمْ .
مولانا ظفر اقبال
عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ نے مجھے وہ بات کیسے بتائی تھی کہ حالت احرام میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ پیش کیا گیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول نہیں فرمایا ؟ انہوں نے کہا ہاں ! اسی طرح ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19294
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1195
حدیث نمبر: 19295
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ الْقُرَظِيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ، قَالَ : لَمَّا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ مَا قَالَ : لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ، قَالَ : لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ ، قَالَ : فَسَمِعْتُهُ ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، قَالَ : فَلَامَنِي نَاسٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ، قَالَ : وَجَاءَ هُوَ ، فَحَلَفَ مَا قَالَ ذَاكَ ، فَرَجَعْتُ إِلَى الْمَنْزِلِ ، فَنِمْتُ ، قَالَ : فَأَتَانِي رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ بَلَغَنِي ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ صَدَّقَكَ وَعَذَرَكَ " ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ سورة المنافقون آية 7 . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں (کسی غزوے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھا) ، (رئیس المنافقین) عبداللہ بن ابی کہنے لگا کہ اگر ہم مدینہ منورہ واپس گئے تو جو زیادہ باعزت ہوگا وہ زیادہ ذلیل کو وہاں سے باہر نکال دے گا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر آپ کو اس کی یہ بات بتائی، عبداللہ بن ابی نے قسم اٹھالی کہ ایسی کوئی بات نہیں ہوئی میری قوم کے لوگ مجھے ملامت کرنے لگے اور کہنے لگے کہ تمہارا اس سے کیا مقصد تھا ؟ میں وہاں سے واپس آکرغمزدہ سالیٹ کر سونے لگا تھوڑی ہی دیر بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قاصد کے ذریعے مجھے بلابھیجا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہارا عذر نازل کرکے تمہاری سچائی کو ثابت کردیا ہے اور یہ آیت نازل ہوئی ہے یہ لوگ کہتے ہیں کہ جو لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہیں ان پر کچھ خرچ نہ کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر ہم مدینہ منورہ واپس گئے تو جو زیادہ باعزت ہوگا وہ زیادہ ذلیل کو وہاں سے باہر نکال دے گا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19295
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4900، م: 2772
حدیث نمبر: 19296
قَالَ عَبْدُ اللهِ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ . .
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19296
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4900، م: 2772
حدیث نمبر: 19297
قَالَ عَبْدُ اللهِ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ.
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19297
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 4900، م: 2772، وهذا إسناد ضعيف من أجل أبى حمزة، لكنه توبع
حدیث نمبر: 19298
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ : كَمْ غَزَوْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : سَبْعَ عَشْرَةَ ، قَالَ : وَحَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَا تِسْعَ عَشْرَةَ ، وَأَنَّهُ حَجَّ بَعْدَ مَا هَاجَرَ حَجَّةً وَاحِدَةً حَجَّةَ الْوَدَاعِ ، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ : وَبِمَكَّةَ أُخْرَى .
مولانا ظفر اقبال
ابواسحاق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کتنے غزوات فرمائے ؟ انہوں نے جواب دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انیس غزوات فرمائے تھے جن میں سے سترہ میں میں بھی شریک تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19298
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4404، م: 1254
حدیث نمبر: 19299
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ كَتَبَ إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ زَمَنَ الْحَرَّةِ يُعَزِّيهِ فِيمَنْ قُتِلَ مِنْ وَلَدِهِ وَقَوْمِهِ ، وَقَالَ : أُبَشِّرُكَ بِبُشْرَى مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ ، وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ ، وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ ، وَاغْفِرْ لِنِسَاءِ الْأَنْصَارِ ، وَلِنِسَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ ، وَلِنِسَاءِ أَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ " .
مولانا ظفر اقبال
نضربن انس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ واقعہ حرہ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے جو بچے اور قوم کے لوگ شہید ہوگئے تھے ان کی تعزیت کرنے کے لئے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے انہیں خط لکھا اور کہا کہ میں آپ کو اللہ کی طرف سے ایک خوشخبری سناتاہوں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ ! انصار کی، ان کی بیٹوں کی اور ان کی پوتوں کی مغفرت فرما اور انصار کی عورتوں کی ان کے بیٹوں کی عورتوں کی اور ان کے پوتوں کی عورتوں کی مغفرت فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19299
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 4906، م:2506
حدیث نمبر: 19300
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ : صَلَّيْتُ خَلْفَ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ عَلَى جِنَازَةٍ ، فَكَبَّرَ خَمْسًا ، فَقَامَ إِلَيْهِ أَبُو عِيسَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، فَأَخَذَ بِيَدِهِ ، فَقَالَ : نَسِيتَ ؟ قَالَ : لَا ، وَلَكِنْ صَلَّيْتُ خَلْفَ أَبِي الْقَاسِمِ خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَبَّرَ خَمْسًا ، فَلَا أَتْرُكُهَا أَبَدًا .
مولانا ظفر اقبال
عبدالاعلی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی انہوں نے اس میں پانچ مرتبہ تکبیرکہی تو ابن ابی لیلیٰ نے کھڑے ہو کر ان کا ہاتھ پکڑا اور کہنے لگے کیا آپ بھول گئے ہیں ؟ انہوں نے کہا نہیں البتہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے " جو میرے خلیل اور ابوالقاسم تھے صلی اللہ علیہ وسلم " نماز جنازہ پڑھی ہے، انہوں نے پانچ مرتبہ تکبیرکہی تھی لہٰذا میں اسے کبھی ترک نہیں کروں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19300
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، عبدالأعلى ضعيف عند الجمهور، ثم إن فى قوله: «صليت خلف زيد بن أرقم» وقفة
حدیث نمبر: 19301
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي سَلْمَانَ الْمُؤَذِّنِ ، قَالَ : تُوُفِّيَ أَبُو سَرِيحَةَ ، فَصَلَّى عَلَيْهِ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ ، فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا ، وَقَالَ : كَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
ابوسلمان مؤذن کہتے ہیں کہ ابوسریحہ کا انتقال ہوا تو حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور چارتکبیرات کہیں اور فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19301
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف شريك، وجهالة حال أبى سلمان المؤذن، وللاختلاف عليه فيه
حدیث نمبر: 19302
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ ، المعنى ، قَالَا : حَدَّثَنَا فِطْرٌ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ : جَمَعَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ النَّاسَ فِي الرَّحَبَةِ ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ : أَنْشُدُ اللَّهَ كُلَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ مَا سَمِعَ ، لَمَّا قَامَ ، فَقَامَ ثَلَاثُونَ مِنَ النَّاسِ ، وَقَالَ أَبُو نُعَيْمٍ : فَقَامَ نَاسٌ كَثِيرٌ ، فَشَهِدُوا حِينَ أَخَذَهُ بِيَدِهِ ، فَقَالَ لِلنَّاسِ : أَتَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ؟ قَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ ، فَهَذَا مَوْلَاهُ ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ " ، قَالَ : فَخَرَجْتُ وَكَأَنَّ فِي نَفْسِي شَيْئًا ، فَلَقِيتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ، فَقُلْتُ لَهُ : إِنِّي سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ يَقُولُ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : فَمَا تُنْكِرُ ؟ قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ لَهُ .
مولانا ظفر اقبال
ابوالطفیل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے صحن کوفہ میں لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا جس مسلمان نے غدیرخم کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سناہو میں اسے قسم دے کر کہتاہوں کہ اپنی جگہ پر کھڑا ہوجائے چناچہ تیس آدمی کھڑے ہوگئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا کیا تم لوگ نہیں جانتے کہ مجھے مسلمانوں پر ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ حق حاصل ہے ؟ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کیوں نہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ دبا کر فرمایا جس کا میں محبوب ہوں علی بھی اس کے محبوب ہونے چاہئیں اے اللہ، اے اللہ ! جو علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرتا ہے تو اس سے محبت فرما اور جو اس سے دشمنی کرتا ہے تو اس سے دشمنی فرما میں وہاں سے نکلا تو میرے دل میں اس کے متعلق کچھ شکوک و شبہات تھے چناچہ میں حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے ملا اور عرض کیا کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس اس طرح کہتے ہوئے سنا ہے انہوں نے فرمایا تمہیں اس پر تعجب کیوں ہورہا ہے ؟ میں نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19302
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح