حدیث نمبر: 19192
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ قَوْمٍ يَعْمَلُونَ بِالْمَعَاصِي وَفِيهِمْ رَجُلٌ أَعَزُّ مِنْهُمْ وَأَمْنَعُ لَا يُغَيِّرُونَ إِلَّا عَمَّهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِعِقَابٍ " . أَوْ قَالَ : " أَصَابَهُمْ الْعِقَابُ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو قوم بھی کوئی گناہ کرتی ہے اور ان میں کوئی باعزت اور باوجاہت آدمی ہوتا ہے اگر وہ انہیں روکتا نہیں ہے تو اللہ کا عذاب ان سب پر آجاتا ہے۔
حدیث نمبر: 19193
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، قَالَ سَمِعْتُ جَرِيرًا ، يَقُولُ حِينَ مَاتَ الْمُغِيرَةُ وَاسْتَعْمَلَ قَرَابَتَهُ يَخْطُبُ ، فَقَامَ جَرِيرٌ ، فَقَالَ : أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَأَنْ تَسْمَعُوا وَتُطِيعُوا حَتَّى يَأْتِيَكُمْ أَمِيرٌ ، اسْتَغْفِرُوا لِلْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ غَفَرَ اللَّهُ تَعَالَى لَهُ ، فَإِنَّهُ كَانَ يُحِبُّ الْعَافِيَةَ ، أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنِّي أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُبَايِعُهُ بِيَدِي هَذِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ ، فَاشْتَرَطَ عَلَيَّ " والنُّصْحَ " فَوَرَبِّ هَذَا الْمَسْجِدِ إِنِّي لَكُمْ لَنَاصِحٌ .
مولانا ظفر اقبال
زیاد بن علاقہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جس دن حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو حضرت جریربن عبداللہ رضی اللہ عنہ خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم اللہ سے ڈرتے رہو اور جب تک تمہارا دوسرا امیر نہیں آجاتا اس وقت تک وقار اور سکون کو لازم پکڑو کیونکہ تمہارا امیرآتاہی ہوگا پھر فرمایا اپنے امیر کے سامنے سفارش کردیا کرو کیونکہ وہ درگذر کرنے کو پسند کرتا ہے اور امابعد " کہہ کر فرمایا کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں اسلام پر آپ کی بیعت کرتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سامنے ہر مسلمان کی خیرخواہی کی شرط رکھی میں نے اس شرط پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرلی اس مسجد کے رب کی قسم ! میں تم سب کا خیرخواہ ہوں۔ "
حدیث نمبر: 19194
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ ، قَالَ : كَانَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فِي بَعْثٍ بِأَرْمِينِيَّةَ ، قَالَ : فَأَصَابَتْهُمْ مَخْمَصَةٌ أَوْ مَجَاعَةٌ ، قَالَ : فَكَتَبَ جَرِيرٌ إِلَى مُعَاوِيَةَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ لَمْ يَرْحَمْ النَّاسَ لَا يَرْحَمْهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " قَالَ : فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ ، فَأَتَاهُ ، فَقَالَ : آنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَأَقْفَلَهُمْ وَمَتَّعَهُمْ . قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ : وَكَانَ أَبِي فِي ذَلِكَ الْجَيْشِ ، فَجَاءَ بِقَطِيفَةٍ مِمَّا مَتَّعَهُ مُعَاوِيَةُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ آرمینیہ کے لشکر میں شامل تھے اہل لشکر کو قحط سالی نے ستایا تو حضرت جریر رضی اللہ عنہ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو خط میں لکھا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ تعالیٰ اس پر رحم نہیں کرتا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں بلابھیجاوہ آئے تو پوچھا کہ کیا واقعی آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے ؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں ! حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ پھر انہیں جنگ میں شریک کیجئے اور انہیں فائدہ پہنچائیے۔ ابواسحاق کہتے ہیں کہ اس لشکر میں میرے والد بھی تھے اور وہ ایک چادرلے کر آئے تھے جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں دی تھی۔
حدیث نمبر: 19195
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سَيَّارٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ : بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ ، قَالَ : فَلَقَّنِّني ، فَقَالَ : " فِيمَا اسْتَطَعْتَ " وَالنُّصْحَ لِكُلِّ مُسْلِمٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات سننے اور ماننے کی شرط پر بیعت کی تھی لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس جملے کی تلقین کی " حسب استطاعت " نیزہر مسلمان کی خیرخواہی کی شرط بھی لگائی۔
حدیث نمبر: 19196
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عُمَرٍو ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتِلُ عُرْفَ فَرَسٍ بِأُصْبُعَيْهِ ، وَهُوَ يَقُولُ : " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِيهَا الْخَيْرُ الْأَجْرُ وَالْمَغْنَمُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی انگلیوں سے گھوڑے کی ایال بٹتے ہوئے دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ گھوڑوں کی پیشانی میں خیر، اجر اور غنیمت قیامت تک کے لئے باندھ دی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 19197
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَظْرَةِ الْفَجْأَةِ ، فَأَمَرَنِي ، فَقَالَ : " اصْرِفْ بَصَرَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نامحرم پر اچانک نظرپڑجانے کے متعلق سوال کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنی نگاہیں پھیرلیا کروں۔
حدیث نمبر: 19198
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَرِيرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لِيَصْدُرْ الْمُصَدِّقُ مِنْ عِنْدِكُمْ وَهُوَ رَاضٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زکوٰۃ لینے والاجب تمہارے یہاں سے نکلے تو اسے تم سے خوش ہو کر نکلنا چاہئے۔
حدیث نمبر: 19199
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَرِيرًا ، يَقُولُ : " بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ " . قَالَ مِسْعَرٌ ، عَنْ زِيَادٍ : فَإِنِّي لَكُمْ لَنَاصِحٌ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ہر مسلمان کی خیرخواہی کرنے کی شرط پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی ہے۔
حدیث نمبر: 19200
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، أَنَّ قَوْمًا أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَعْرَابِ مُجْتَابِي النِّمَارِ ، فَحَثَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ ، فَأَبْطَئُوا حَتَّى رُئِيَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بِقِطْعَةِ تِبْرٍ فَطَرَحَهَا ، فَتَتَابَعَ النَّاسُ حَتَّى عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ ، فَقَالَ : " مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً ، فَعُمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ ، كَانَ لَهُ أَجْرُهَا وَمِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يُنْتَقَصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ ، وَمَنْ سَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً عُمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا وَلَا يُنْقِصُ ذَلِكَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ لوگ آئے جو برہنہ پا، برہنہ جسم، چیتے کی کھالیں لپیٹے ہوئے اور تلواریں لٹکائے ہوئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو صدقہ کی ترغیب دی لوگوں نے اس میں تاخیر کی جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور کا رنگ اڑگیا، پھر ایک انصاری آدمی چاندی کا ایک ٹکڑا لے کر آیا اور ڈال دیا اس کے بعد لوگ مسلسل آنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ چمکنے لگا اور یوں محسوس ہوا جیسے وہ سونے کا ہو اور فرمایا جو شخص اسلام میں کوئی عمدہ طریقہ رائج کرتا ہے اسے اس کا اجر بھی ملتا ہے اور بعد میں اس پر عمل کرنے والوں کا بھی اور ان کے اجر میں کوئی کمی نہیں کی جاتی اور جو شخص اسلام میں کوئی براطریقہ رائج کرتا ہے اس میں اس کا بھی گناہ ملتا ہے اور اس پر عمل کرنے والوں کا بھی اور ان کے گناہ میں کوئی کمی نہیں کی جاتی۔
حدیث نمبر: 19201
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَتَوَضَّأُ مِنْ مِطْهَرَةٍ ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ، فَقَالُوا : أَتَمْسَحُ عَلَى خُفَّيْكَ ؟ فَقَالَ : إِنِّي " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ مَرَّةً : يَمْسَحُ عَلَى خُفَّيْهِ " . فَكَانَ هَذَا الْحَدِيثُ يُعْجِبُ أَصْحَابَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُونَ : إِنَّمَا كَانَ إِسْلَامُهُ بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ.
مولانا ظفر اقبال
ہمام کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت جریر رضی اللہ عنہ نے پیشاب کرکے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا کسی نے ان سے کہا کہ آپ موزوں پر مسح کیسے کررہے ہیں جبکہ ابھی تو آپ نے پیشاب کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی دیکھا ہے کہ انہوں نے پیشاب کرکے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح فرمایا۔ ابراہیم کہتے ہیں کہ محدثیین اس حدیث کو بہت اہمیت دیتے کیونکہ حضرت جریر رضی اللہ عنہ نے سورت امائدہ (میں آیت وضو) ' کے نزول کے بعد اسلام قبول کیا تھا۔
حدیث نمبر: 19202
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُسْلِمٍ يَعْنِي ابْنَ صُبَيْحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلَالٍ الْعَبْسِيِّ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَحَثَّنَا عَلَى الصَّدَقَةِ ، فَأَبْطَأَ النَّاسُ حَتَّى رُئِيَ فِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ ، وَقَالَ مَرَّةً : حَتَّى بَانَ ثُمَّ إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ بِصُرَّةٍ ، فَأَعْطَاهَا إِيَّاهُ ، ثُمَّ تَتَابَعَ النَّاسُ فَأَعْطَوْا حَتَّى رُئِيَ فِي وَجْهِهِ السُّرُورُ ، فَقَالَ : " مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً كَانَ لَهُ أَجْرُهَا وَمِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يُنْتَقَصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ ، وَمَنْ سَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَمِثْلُ وِزْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يُنْتَقَصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ " . قَالَ مَرَّةً يَعْنِي أَبَا مُعَاوِيَةَ : " مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ لوگ آئے جو برہنہ پا، برہنہ جسم، چیتے کی کھالیں لپیٹے ہوئے اور تلواریں لٹکائے ہوئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو صدقہ کی ترغیب دی لوگوں نے اس میں تاخیر کی جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور کا رنگ اڑگیا، پھر ایک انصاری آدمی چاندی کا ایک ٹکڑالے کر آیا اور ڈال دیا اس کے بعد لوگ مسلسل آنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ چمکنے لگا اور یوں محسوس ہوا جیسے وہ سونے کا ہو اور فرمایا جو شخص اسلام میں کوئی عمدہ طریقہ رائج کرتا ہے اسے اس کا اجر بھی ملتا ہے اور بعد میں اس پر عمل کرنے والوں کا بھی اور ان کے اجر میں کوئی کمی نہیں کی جاتی اور جو شخص اسلام میں کوئی براطریقہ رائج کرتا ہے اس میں اس کا بھی گناہ ملتا ہے اور اس پر عمل کرنے والوں کا بھی اور ان کے گناہ میں کوئی کمی نہیں کی جاتی۔
حدیث نمبر: 19203
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَهُوَ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَا يَرْحَمْ النَّاسَ لَا يَرْحَمْهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ تعالیٰ اس پر بھی رحم نہیں کرتا۔
حدیث نمبر: 19204
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي قَيْسٌ ، قَالَ قَالَ لِي جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ ؟ " وَكَانَ بَيْتًا فِي خَثْعَمَ يُسَمَّى كَعْبَةَ الْيَمَانِيَةِ . قَالَ : فَانْطَلَقْتُ فِي خَمْسِينَ وَمِئَةِ فَارِسٍ مِنْ أَحْمَسَ ، وَكَانُوا أَصْحَابَ خَيْلٍ ، فَأَخْبَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي لَا أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ ، فَضَرَبَ فِي صَدْرِي حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ أَصَابِعِهِ فِي صَدْرِي ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ ، وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا " ، فَانْطَلَقَ إِلَيْهَا ، فَكَسَّرَهَا وَحَرَّقَهَا ، فَأَرْسَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَشِّرُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ جَرِيرٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا جِئْتُكَ حَتَّى تَرَكْتُهَا كَأَنَّهَا جَمَلٌ أَجْرَبُ ، فَبَارَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خَيْلِ أَحْمَسَ وَرِجَالِهَا خَمْسَ مَرَّاتٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تم مجھے ذی الخلصہ سے راحت کیوں نہیں دلادیتے ؟ یہ قبیلہ خثعم میں ایک گرجا تھا جسے کعبہ یمانیہ کہا جاتا تھا چناچہ میں اپنے ساتھ ایک سو پچاس آدمی احمس کے لے کر روانہ ہوا وہ سب شہسوار تھے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں گھوڑے کی پشت پر جم کر نہیں بیٹھ سکتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر اپنا دست مبارک مارا یہاں تک کہ میں نے ان کی انگلیوں کے نشان اپنے سینے پر دیکھے اور دعاء کی کہ اے اللہ ! اسے مضبوطی اور جماؤعطاء فرما اور اسے ہدایت کرنے والا اور ہدایت یافتہ بنا پھر میں روانہ ہو اور وہاں پہنچ کر اسے آگ لگادی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک آدمی کو یہ خوشخبری سنانے کے لئے بھیج دیا اور اس نے کہ اس نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں آپ کے پاس اسے اس حال میں چھوڑ کر آیاہوں جیسے ایک خارشی اونٹ ہوتا ہے، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احمس اور اس کے شہسواروں کے لئے پانچ مرتبہ برکت کی دعاء فرمائی۔
حدیث نمبر: 19205
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ ، قَالَ : قَالَ لِي جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ نَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ، فَقَالَ : " أَمَا إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا ، لَا تُضَامُونَ أَوْ لَا تُضَارُّونَ " شَكَّ إِسْمَاعِيلُ " فِي رُؤْيَتِهِ ، فَإِنْ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا تُغْلَبُوا عَلَى صَلَاةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا ، فَافْعَلُوا " ثُمَّ قَالَ : وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا سورة طه آية 130 .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ چاند کی چود ہویں رات کو ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے عنقریب تم اپنے رب کو اس طرح دیکھوگے جیسے چاند کو دیکھتے ہو تمہیں اپنے رب کو دیکھنے میں کوئی مشقت نہیں ہوگی اس لئے اگر تم طلوع آفتاب سے پہلے اور غروب آفتاب سے پہلے والی نمازوں سے مغلوب نہ ہونے کی طاقت رکھتے ہو تو ایساہی کرو (ان نمازوں کا خوب اہتمام کرو) پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ " اپنے رب کی تعریف کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کیجئے سورج طلوع ہونے سے پہلے اور سورج غروب ہونے کے بعد۔ "
حدیث نمبر: 19206
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هِلَالٍ الْعَبْسِيُّ ، قَالَ : قَالَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَسُنُّ عَبْدٌ سُنَّةً صَالِحَةً يَعْمَلُ بِهَا مَنْ بَعْدَهُ إِلَّا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا لَا يُنْقَصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ ، وَلَا يَسُنُّ عَبْدٌ سُنَّةَ سُوءٍ يَعْمَلُ بِهَا مَنْ بَعْدَهُ إِلَّا كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا لَا يُنْقَصُ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اسلام میں کوئی اچھاطریقہ رائج کرے تو اسے اس عمل کا اور اس پر بعد میں عمل کرنے والوں کا ثواب بھی ملے گا اور ان کے اجروثواب میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی اور جو شخص اسلام میں کوئی براطریقہ رائج کرے، اسے اس کا گناہ بھی ہوگا اور اس پر عمل کرنے والوں کا گناہ بھی ہوگا اور ان گناہ میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی، راوی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ دیہاتی لوگ آئے اور کہنے لگے اے اللہ کے نبی ! ہمارے پاس آپ کی طرف سے جو لوگ زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے آتے ہیں وہ ہم پر ظلم کرتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے خوش کرکے بھیجا کرو، انہوں نے عرض کیا اگرچہ وہ ہم پر ظلم ہی کرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اسے خوش کرکے بھیجا کرو جب سے میں نے یہ حدیث سنی ہے میں نے اپنے پاس زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے آنے والے کو خوش کرکے ہی بھیجا ہے
حدیث نمبر: 19207
: قَالَ : وَأَتَاهُ نَاسٌ مِنَ الْأَعْرَابِ ، فَقَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، يَأْتِينَا نَاسٌ مِنْ مُصَدِّقِيكَ يَظْلِمُونَا . قَالَ : " أَرْضُوا مُصَدِّقَكُمْ " قالوا : وَإِنْ ظَلَمَ ؟ قَالَ " أَرْضُوا مُصَدِّقَكُمْ " . قَالَ جَرِيرٌ : فَمَا صَدَرَ عَنِّي مُصَدِّقٌ مُنْذُ سَمِعْتُهَا مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا وَهُوَ عَنِّي رَاضٍ.
حدیث نمبر: 19208
قَالَ : قَالَ : وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يُحْرَمْ الرِّفْقَ يُحْرَمْ الْخَيْرَ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ جو شخص نرمی سے محروم رہاوہ ساری بھلائی سے محروم رہا۔
حدیث نمبر: 19209
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ خَالُ الْمُنْذِرِ بْنُ جَرِيرٍ ، عَنْ مُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ أَبِي جَرِيرٍ بِالْبَوَارِيجِ فِي السَّوَادِ ، فَرَاحتُ الْبَقَرَ ، فَرَأَى بَقَرَةً أَنْكَرَهَا ، فَقَالَ : مَا هَذِهِ الْبَقَرَةُ ؟ قَالَ : بَقَرَةٌ لَحِقَتْ بِالْبَقَرِ ، فَأَمَرَ بِهَا فَطُرِدَتْ حَتَّى تَوَارَتْ ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يُؤْوِي الضَّالَّةَ إِلَّا ضَالٌّ " .
مولانا ظفر اقبال
منذربن جریررحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد حضرت جریر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بوازیج " نامی جگہ میں ایک ریوڑ میں تھا وہاں آگے پیچھے گائیں آجارہی تھیں انہوں نے ایک گائے دیکھی تو وہ انہیں نامانوس معلوم ہوئی انہوں نے پوچھا یہ گائے کیسی ہے ؟ چرواہے نے بتایا کہ یہ کسی کی ہے جو ہمارے جانوروں میں آکر مل گئی ہے ان کے حکم پر اسے وہاں سے نکال دیا گیا یہاں تک کہ وہ نظروں سے اوجھل ہوگئی پھر فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ گمشدہ چیز کو وہی آدمی ٹھکانہ دیتا ہے جو خود گمراہ ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 19210
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ : " مَا حَجَبَنِي عَنْهُ مُنْذُ أَسْلَمْتُ ، وَلَا رَآنِي إِلَّا تَبَسَّمَ فِي وَجْهِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے جب سے اسلام قبول کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی مجھ سے حجاب نہیں فرمایا اور جب بھی مجھے دیکھا تو مسکراکرہی دیکھا۔
حدیث نمبر: 19211
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شِبْلٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَبَقَ الْعَبْدُ ، بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو غلام بھی اپنے آقا کے پاس سے بھاگ جائے کسی پر اس کی ذمہ داری باقی نہیں رہتی ختم ہوجاتی ہے۔
حدیث نمبر: 19212
قَالَ عَبْد اللَّهِ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ ، حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي ابْنٌ لِجَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " كَانَتْ نَعْلُ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ طُولُهَا ذِرَاعٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے سے منقول ہے کہ حضرت جریر رضی اللہ عنہ کی جوتی ایک ہاتھ کے برابر تھی۔
حدیث نمبر: 19213
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ عُثْمَانَ بْنِ عُمَيْرٍ الْبَجَلِيِّ ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّحْدُ لَنَا ، وَالشَّقُّ لِأَهْلِ الْكِتَابِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لحد ہمارے لئے ہیں اور صندوقی قبراہل کتاب کے لئے ہے۔
حدیث نمبر: 19214
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ , وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ طَارِقٍ التَّمِيمِيِّ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ : قَالَ : حَدَّثَنِي رَجُلٌ ، عَنْ طَارِقٍ التَّمِيمِيِّ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ : " مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نِسْوَةٍ ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِنَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خواتین کے پاس سے گذرے تو انہیں سلام کیا۔
حدیث نمبر: 19215
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ أَوْلِيَاءُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ، وَالطُّلَقَاءُ مِنْ قُرَيْشٍ وَالْعُتَقَاءُ مِنْ ثَقِيفٍ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . قَالَ شَرِيكٌ : فَحَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مہاجرین اور انصار ایک دوسرے کے ولی ہیں طلقاء قریش میں سے ہیں عتقاء ثقیف میں سے ہیں اور سب قیامت تک ایک دوسرے کے ولی ہیں۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19216
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ قَوْمٍ يَكُونُ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ مَنْ يَعْمَلُ بِالْمَعَاصِي هُمْ أَعَزُّ مِنْهُ وَأَمْنَعُ لَمْ يُغَيِّرُوا عَلَيْهِ إِلَّا أَصَابَهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ بِعِقَابٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو قوم بھی گناہ کرتی ہے اور ان میں کوئی باعزت اور باوجاہت آدمی ہوتا ہے اگر وہ انہیں روکتا نہیں ہے تو اللہ کا عذاب ان سب پر آجاتا ہے۔
حدیث نمبر: 19217
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ بْنَ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ جَرِيرٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ لِجَرِيرٍ : " اسْتَنْصِتْ النَّاسَ " وَقَالَ : قَالَ : " لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں ان سے فرمایا اے جریر ! لوگوں کو خاموش کراؤ پھر اپنے خطبے کے دوران فرمایا میرے پیچھے کافر نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔
حدیث نمبر: 19218
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِلَالٍ الْعَبْسِيِّ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الطُّلَقَاءُ مِنْ قُرَيْشٍ وَالْعُتَقَاءُ مِنْ ثَقِيفٍ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، وَالْمُهَاجِرُونَ ، وَالْأَنْصَارُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مہاجرین اور انصار ایک دوسرے کے ولی ہیں طلقاء قریش میں سے ہیں عتقاء ثقیف میں سے ہیں اور سب قیامت تک ایک دوسرے کے ولی ہیں
حدیث نمبر: 19219
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اشْتَرِطْ عَلَيَّ ، قَالَ : " تَعْبُدُ اللَّهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ، وَتُصَلِّي الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ ، وَتُؤَدِّي الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ ، وَتَنْصَحُ لِلْمُسْلِمِ ، وَتَبْرَأُ مِنَ الْكَافِرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبول اسلام کے وقت میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! کوئی شرط ہو تو وہ مجھے بتادیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ فرض نماز پڑھو، فرض زکوٰۃ ادا کرو ہر مسلمان کی خیرخواہی کرو اور کافر سے بیزاری ظاہر کرو۔
حدیث نمبر: 19220
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ، وَحَجِّ الْبَيْتِ ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے، لا الہ الا اللہ کی گواہی دینا، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔
حدیث نمبر: 19221
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُلَاثَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ مَالِكٍ الْجَزْرِيِّ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ ، قَالَ : " أَنَا أَسْلَمْتُ بَعْدَ مَا أُنْزِلَتْ الْمَائِدَةُ ، وَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ بَعْدَمَا أَسْلَمْتُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے سورت مائدہ کے نزول کے بعد اسلام قبول کیا ہے اور میں نے اسلام قبول کرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 19222
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَا : حدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَخَاكُمْ النَّجَاشِيَّ قَدْ مَاتَ ، فَاسْتَغْفِرُوا لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا بھائی نجاشی فوت ہوگیا ہے تم لوگ اس کے لئے بخشش کی دعا کرو۔
حدیث نمبر: 19223
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّهُ كَانَ يَدْخُلُ الْمَخْرَجَ فِي خُفَّيْهِ ، ثُمَّ يَخْرُجُ فَيَتَوَضَّأُ ، وَيَمْسَحُ عَلَيْهِمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم موزے پہن کر بیت الخلاء میں داخل ہوتے تھے پھر باہر آکر وضو فرماتے اور ان ہی پر مسح کرلیتے۔
حدیث نمبر: 19224
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ : " بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ ، فَلَقِيتُ بِهَا رَجُلَيْنِ ذَا كَلَاعٍ ، وَذَا عَمْرٍو ، قَالَ : وَأَخْبَرْتُهُمَا شَيْئًا مِنْ خَبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ثُمَّ أَقْبَلْنَا ، فَإِذَا قَدْ رُفِعَ لَنَا رَكْبٌ مِنْ قِبَلِ الْمَدِينَةِ ، قَالَ : فَسَأَلْنَاهُمْ مَا الْخَبَرُ ؟ قَالَ : فَقَالُوا : قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَالنَّاسُ صَالِحُونَ ، قَالَ : فَقَالَ لِي : أَخْبِرْ صَاحِبَكَ . قَالَ : فَرَجَعنَا ، ثُمَّ لَقِيتُ ذَا عَمْرٍو ، فَقَالَ لِي : يَا جَرِيرُ ، إِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا بِخَيْرٍ مَا إِذَا هَلَكَ أَمِيرٌ ثُمَّ تَأَمَّرْتُمْ فِي آخَرَ ، فَإِذَا كَانَتْ بِالسَّيْفِ غَضِبْتُمْ غَضَبَ الْمُلُوكِ ، وَرَضِيتُمْ رِضَا الْمُلُوكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن بھیجا میں وہاں ذوالکلاع اور ذوعمرو دو آدمیوں سے ملا میں نے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کچھ باتیں بتائیں پھر ہم یمن سے واپس روانہ ہوئے تو راستے میں مدینہ منورہ سے سواروں کا ایک دستہ آتا ہوا ملاہم نے ان سے مدینہ منورہ کے حالات پوچھے انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوچکا ہے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر کردیا گیا ہے اور لوگ خیریت سے ہیں انہوں نے مجھ سے کہا کہ اپنے ساتھی کا متعلق بتاؤ۔ پھر واپسی پر میری ملاقات ذوعمرو سے ہوئی انہوں نے مجھ سے کہا کہ اے جریر ! تو لوگ اس وقت تک خیر پر قائم رہوگے جب تک ایک امیر کے فوت ہونے بعد دوسرے کو مقرر کر لوگے اور جب نوبت تلوار تک جاپہنچے گی تو تم بادشاہوں کی طرح ناراض اور بادشاہوں کی طرح خوش ہوا کرو گے۔
حدیث نمبر: 19225
حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ الْأَوْدِيَّ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ جرير ، عن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَبَقَ الْعَبْدُ ، فَلَحِقَ بِالْعَدُوِّ ، فَمَاتَ ، فَهُوَ كَافِرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی بھگوڑا ہو کر دشمن سے جاملے اور وی ہیں پر مرجائے تو وہ کافر ہے۔
حدیث نمبر: 19226
حَدَّثَنَا مَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ يَزِيدَ الْأَوْدِيُّ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ، وَحَجِّ الْبَيْتِ ، وَصِيَامِ رَمَضَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے، لا الہ الا اللہ کی گواہی دینا، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔
حدیث نمبر: 19227
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُبَيْلٍ ، قَالَ جَرِيرٌ : لَمَّا دَنَوْتُ مِنَ الْمَدِينَةِ ، أَنَخْتُ رَاحِلَتِي ، ثُمَّ حَلَلْتُ عَيْبَتِي ، ثُمَّ لَبِسْتُ حُلَّتِي ، ثُمَّ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ ، فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ، فَرَمَانِي النَّاسُ بِالْحَدَقِ ، قَالَ : فَقُلْتُ لِجَلِيسِي : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، هَلْ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَمْرِي شَيْئًا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، ذَكَرَكَ بِأَحْسَنِ الذِّكْرِ ، بَيْنَمَا هُوَ يَخْطُبُ إِذْ عَرَضَ لَهُ فِي خُطْبَتِهِ فَقَالَ : " إِنَّهُ سَيَدْخُلُ عَلَيْكُمْ مِنْ هَذَا الْفَجِّ مِنْ خَيْرِ ذِي يَمَنٍ ، أَلَا وَإِنَّ عَلَى وَجْهِهِ مَسْحَةُ مَلَكٍ " . قَالَ جَرِيرٌ : فَحَمِدْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب میں مدینہ منورہ کے قریب پہنچا تو میں نے اپنی سواری کو بٹھایا اپنے تہبند کو اتارا اور حلہ زیب تن کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت دے رہے تھے لوگ مجھے اپنی آنکھوں کے حلقوں سے دیکھنے لگے میں نے اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے آدمی سے پوچھا اے بندہ خدا ! کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ذکر کیا ہے ؟ اس نے جواب دیا جی ہاں ! ابھی ابھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کا عمدہ انداز میں ذکر کیا ہے اور خطبہ دیتے ہوئے درمیان میں فرمایا ہے کہ ابھی تمہارے پاس اس دروازے یاروشندان سے یمن کا ایک بہترین آدمی آئے گا اور اس کے چہرے پر کسی فرشتے کے ہاتھ پھیرنے کا اثر ہوگا اس پر میں نے اللہ کی اس نعمت کا شکرادا کیا۔
حدیث نمبر: 19228
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ : " بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى إِقَامِ الصَّلَاةِ ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ، وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نماز قائم کرنے، زکوٰۃ ادا کرنے، بات سننے اور ماننے، ہر مسلمان کی خیرخواہی کرنے کی شرائط پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی ہے۔
حدیث نمبر: 19229
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، قَالَ : قَالَ جَرِيرٌ : " بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ ، وَعَلَى أَنْ أَنْصَحَ لِكُلِّ مُسْلِمٍ " . قَالَ : وَكَانَ جَرِيرٌ إِذَا اشْتَرَى الشَّيْءَ وَكَانَ أَعْجَبَ إِلَيْهِ مِنْ ثَمَنِهِ ، قَالَ لِصَاحِبِهِ : تَعْلَمَنَّ وَاللَّهِ لَمَا أَخَذْنَا أَحَبُّ إِلَيْنَا مِمَّا أَعْطَيْنَاكَ ، كَأَنَّهُ يُرِيدُ بِذَلِكَ الْوَفَاءَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نماز قائم کرنے، زکوٰۃ ادا کرنے، بات سننے اور ماننے، ہر مسلمان کی خیرخواہی کرنے کی شرائط پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی ہے، راوی کہتے ہیں کہ حضرت جریر رضی اللہ عنہ جب کوئی ایسی چیزخریدتے جو انہیں اچھی لگتی تو وہ بائع (بچنے والا) سے کہتے یاد رکھو ! جو چیز ہم نے لی ہے ہماری نظروں میں اس سے زیادہ محبوب ہے جو ہم نے تمہیں دی ہے (قیمت) اور اس سے مراد پوری پوری قیمت کی ادائیگی تھی۔
حدیث نمبر: 19230
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا مِنْ قَوْمٍ يُعْمَلُ فِيهِمْ بِالْمَعَاصِي ، هُمْ أَعَزُّ وَأَكْثَرُ مِمَّنْ يَعْمَلُهُ ، لَمْ يُغَيِّرُوهُ إِلَّا عَمَّهُمْ اللَّهُ بِعِقَابٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو قوم بھی کوئی گناہ کرتی ہے اور ان میں کوئی باعزت اور باوجاہت آدمی ہوتا ہے اگر وہ انہیں روکتا نہیں ہے تو اللہ کا عذاب ان سب پر آجاتا ہے۔
حدیث نمبر: 19231
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ ، أَخْبَرَنَا الْمُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا جَاءَكُمْ الْمُصَدِّقُ ، فَلَا يُفَارِقُكُمْ إِلَّا عَنْ رِضًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زکوٰۃ لینے والاجب تمہارے یہاں سے نکلے تو اسے تم سے خوش ہو کر نکلنا چاہئے۔
…