حدیث نمبر: 19063
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ ابْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ ، فَإِذَا ارْتَفَعَتْ فَارَقَهَا ، فَإِذَا كَانَتْ فِي وَسَطِ السَّمَاءِ قَارَنَهَا ، فَإِذَا دَلَكَتْ " أَوْ قَالَ : " زَالَتْ فَارَقَهَا ، فَإِذَا دَنَتْ لِلْغُرُوبِ قَارَنَهَا ، فَإِذَا غَرُبَتْ فَارَقَهَا ، فَلَا تُصَلُّوا هَذِهِ الثَّلَاثَ سَاعَاتٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت صنابحی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سورج شیطان کے دوسینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے جب وہ بلند ہوجاتا ہے تو وہ اس سے جدا ہوجاتا ہے جب سورج وسط میں پہنچتا ہے تو پھر اس کے قریب آجاتا ہے اور زوال کے وقت جدا ہوجاتا ہے پھر جب سورج غروب ہوتا ہے تو وہ قریب آجاتا ہے اور غروب کے بعد پھر جدا ہوجاتا ہے اس لئے ان تین اوقات میں نماز مت پڑھا کرو۔
حدیث نمبر: 19064
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ أَبُو غَسَّانَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ، خَرَّتْ خَطَايَاهُ مِنْ فِيهِ وَأَنْفِهِ ، وَمَنْ غَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ أَشْفَارِ عَيْنَيْهِ ، وَمَنْ غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَتْ مِنْ أَظْفَارِهِ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِهِ ، وَمَنْ مَسَحَ رَأْسَهُ وَأُذُنَيْهِ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ رَأْسِهِ أَوْ شَعَرِ أُذُنَيْهِ ، وَمَنْ غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ أَظْفَارِهِ أَوْ تَحْتَ أَظْفَارِهِ ، ثُمَّ كَانَتْ خُطَاهُ إِلَى الْمَسْجِدِ نَافِلَةً " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت صنابحی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کلی کرتا اور ناک میں پانی ڈالتا ہے اس کے منہ اور ناک کے گناہ جھڑجاتے ہیں جو چہرے کو دھوتا ہے تو اس کی آنکھوں کی پلکوں کے گناہ تک جھڑجاتے ہیں جب ہاتھ دھوتا ہے تو ناخنوں کے نیچے سے گناہ نکل جاتے ہیں جب سر اور کانوں کا مسح کرتا ہے تو سر اور کانوں کے بالوں کے گناہ خارج ہوجاتے ہیں اور جب پاؤں دھوتا ہے تو پاؤں کے ناخنوں کے نیچے سے گناہ نکل جاتے ہیں پھر مسجد کی طرف اس کے جو قدم اٹھتے ہیں وہ زائد ہوتے ہیں۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19065
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ، خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ أَنْفِهِ وَفَمِهِ " ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
حدیث نمبر: 19066
حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُبَارَكٍ ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ الصُّنَابِحِيّ ، قَالَ : رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِبِلِ الصَّدَقَةِ نَاقَةً حَسَنَةً ، فَغَضِبَ وَقَالَ : " مَا هَذِهِ ؟ " فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي ارْتَجَعْتُهَا بِبَعِيرَيْنِ مِنْ حَاشِيَةِ الصَّدَقَةِ ، فَسَكَتَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت صنابحی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کے اونٹوں میں ایک بھرپور اونٹنی دیکھی تو غصے سے فرمایا یہ کیا ہے ؟ متعلقہ آدمی نے جواب دیا کہ میں صدقات کے کنارے سے دو اونٹوں کے بدلے میں اسے واپس لایا ہوں، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے۔
حدیث نمبر: 19067
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الصَّلْتُ يَعْنِي ابْنَ الْعَوَّامِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصُّنَابِحِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَنْ تَزَالَ أُمَّتِي فِي مَسَكَةٍ مَا لَمْ يَعْمَلُوا بِثَلَاثٍ : مَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْمَغْرِبَ بِانْتِظَارِ الْإِظْلَامِ مُضَاهَاةَ الْيَهُودِ ، وَمَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْفَجْرَ إِمْحَاقَ النُّجُومِ مُضَاهَاةَ النَّصْرَانِيَّةِ ، وَمَا لَمْ يَكِلُوا الْجَنَائِزَ إِلَى أَهْلِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت صنابحی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت اس وقت تک دین میں مضبوط رہے گی جب تک وہ تین کام نہ کرے (١) جب تک وہ مغرب کی نماز کو اندھیرے کے انتظار میں مؤخر نہ کرے جیسے یہودی کرتے ہیں (٢) جب تک وہ فجر کی نماز کو ستارے غروب ہونے کے انتظار میں مؤخر نہ کرے جیسے عیسائی کرتے ہیں (٣) اور جب تک وہ جنازوں کو ان اہل خانہ کے حوالے نہ کریں۔
حدیث نمبر: 19068
قَرَأْتُ عَلَى قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ . وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ , أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ ، قَالَ : " إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ فَمَضْمَضَ خَرَجَتْ الْخَطَايَا مِنْ أَنْفِهِ ، فَإِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَتْ الْخَطَايَا مِنْ وَجْهِهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَشْفَارِ عَيْنَيْهِ ، فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ يَدَيْهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ يَدَيْهِ ، فَإِذَا مَسَحَ رَأْسَهُ خَرَجَتْ الْخَطَايَا مِنْ رَأْسِهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ أُذُنَيْهِ ، وَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَجَتْ الْخَطَايَا مِنْ رِجْلَيْهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ رِجْلَيْهِ ، ثُمَّ كَانَ مَشْيُهُ إِلَى الْمَسْجِدِ وَصَلَاتُهُ نَافِلَةً لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت صنابحی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کلی کرتا اور ناک میں پانی ڈالتا ہے اس کے منہ اور ناک کے گناہ جھڑجاتے ہیں جو چہرے کو دھوتا ہے تو اس کی آنکھوں کی پلکوں کے گناہ تک جھڑ جاتے ہیں جب ہاتھ دھوتا ہے تو ناخنوں کے نیچے سے گناہ نکل جاتے ہیں جب سر اور کانوں کا مسح کرتا ہے تو سر اور کانوں کے بالوں کے گناہ خارج ہوجاتے ہیں اور جب پاؤں دھوتا ہے تو پاؤں کے ناخنوں کے نیچے سے گناہ نکل جاتے ہیں پھر مسجد کی طرف اس کے جو قدم اٹھتے ہیں وہ زائد ہوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 19069
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، أَنَّهُ سَمِعَ قَيْسًا ، يَقُولُ : سَمِعْتُ الصُّنَابِحِيَّ الْأَحْمَسِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أَلَا إِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ ، وَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمْ الْأُمَمَ ، فَلَا تَقْتَتِلُنَّ بَعْدِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت صنابحی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے یاد رکھو ! میں حوض کوثر پر تمہارا انتظار کروں گا اور تمہاری کثرت کے ذریعے دوسری امتوں پر فخر کروں گا لہٰذا میرے بعد ایک دوسرے کو قتل نہ کرنے لگ جانا۔
حدیث نمبر: 19070
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، وَزُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا : حدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ الصُّنَابِحِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ بَيْنَ بقَرْنَيْ شَيْطَانٍ ، فَإِذَا طَلَعَتْ قَارَنَهَا ، فَإِذَا ارْتَفَعَتْ فَارَقَهَا ، وَيُقَارِنُهَا حِينَ تَسْتَوِي ، فَإِذَا زَالَتْ فَارَقَهَا ، فَصَلُّوا غَيْرَ هَذِهِ السَّاعَاتِ الثَّلَاثِ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت صنابحی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سورج شیطان کے دوسینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے جب وہ بلند ہوجاتا ہے تو وہ اس سے جدا ہوجاتا ہے جب سورج وسط میں پہنچتا ہے تو پھر اس کے قریب آجاتا ہے اور زوال کے وقت جدا ہوجاتا ہے پھر جب سورج غروب ہوتا ہے تو وہ قریب آجاتا ہے اور غروب کے بعد پھر جدا ہوجاتا ہے اس لئے ان تین اوقات میں نماز مت پڑھا کرو۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19071
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، بِحَدِيثِ الشَّمْسِ.