حدیث نمبر: 19055
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةٍ لَيْسَتْ بِفَرِيضَةٍ ، فَمَرَّ بِذِكْرِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ ، فَقَالَ : " أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ ، وَيْحٌ أَوْ وَيْلٌ لِأَهْلِ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابولیلیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی نماز میں جو فرض نہ تھی " قرآن کریم پڑھتے ہوئے سنا جب جنت اور جہنم کا تذکرہ آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہنے لگے میں جہنم سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، اہل جہنم کے لئے ہلاکت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19055
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف ابن أبى ليلى، وقد اختلف عليه فيه
حدیث نمبر: 19056
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَخِيهِ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أبيه عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ يَحْبُو حَتَّى صَعِدَ عَلَى صَدْرِهِ ، فَبَالَ عَلَيْهِ ، قَالَ : فَابْتَدَرْنَاهُ لِنَأْخُذَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ابْنِي ابْنِي " قَالَ : ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ ، فَصَبَّهُ عَلَيْهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابولیلیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ (جوچھوٹے بچے تھے . گھٹنوں کے بل چلتے ہوئے آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ مبارک پر چڑھ گئے تھوڑی دیر بعد انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پیشاب کردیا ہم جلدی سے انہیں پکڑنے کے لئے آگے بڑھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بیٹے کو چھوڑ دو میرے بیٹے کو چھوڑ دو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر اس پر بہالیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19056
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن أبى ليلى
حدیث نمبر: 19057
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَبِي لَيْلَى : أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى بَطْنِهِ الْحَسَنُ أَوْ الْحُسَيْنُ شَكَّ زُهَيْرٌ ، قَالَ : فَبَالَ حَتَّى رَأَيْتُ بَوْلَهُ عَلَى بَطْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسَارِيعَ ، قَالَ : فَوَثَبْنَا إِلَيْهِ ، قَالَ : فَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ : " دَعُوا ابْنِي ، أَوْ لَا تُفْزِعُوا ابْنِي " قَالَ : ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ ، فَصَبَّهُ عَلَيْهِ ، قَالَ : فَأَخَذَ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ ، قَالَ : فَأَدْخَلَهَا فِي فِيهِ ، قَالَ : فَانْتَزَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ مِنْ فِيهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابولیلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ (جوچھوٹے بچے تھے) گھٹنوں کے بل چلتے ہوئے آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ مبارک پر چڑھ گئے تھوڑی دیر بعد انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پیشاب کردیا ہم جلدی سے انہیں پکڑنے کے لئے آگے بڑھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بیٹے کو چھوڑ دو میرے بیٹے کو چھوڑ دو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر اس پر بہالیا، تھوڑی دیر بعد انہوں نے صدقہ کی ایک کھجور پکڑ کر منہ میں ڈال لی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے منہ میں ہاتھ ڈال کر اسے نکال لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19057
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد سقط منه عبدالرحمن بن أبى ليلى بين عيسى وأبي ليلى، والظاهر أنه سقط قديم من نسخ المسند
حدیث نمبر: 19058
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتْحَ خَيْبَرَ ، فَلَمَّا انْهَزَمُوا ، وَقَعْنَا فِي رِحَالِهِمْ ، فَأَخَذَ النَّاسُ مَا وَجَدُوا مِنْ خُرْثِيٍّ ، فَلَمْ يَكُنْ أَسْرَعَ مِنْ أَنْ فَارَتْ الْقُدُورُ ، قَالَ : " فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقُدُورِ فَأُكْفِئَتْ ، وَقَسَمَ بَيْنَنَا ، فَجَعَلَ لِكُلِّ عَشَرَةٍ شَاةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابولیلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح خیبر کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا جب اہل خیبر شکست کھا کر بھاگ گئے تو ہم ان کے خیموں میں چلے گئے لوگوں نے جو معمولی چیزیں وہاں سے ملیں اٹھالیں اور اس میں سب سے جلدی جو کام ہوسکا وہ یہ تھا کہ ہنڈیاں چڑھ گئیں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو انہیں الٹادیا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے درمیان مال غنیمت تقسیم فرمایا تو ہر آدمی کو دس دس بکریاں عطاء فرمائیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19058
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على عبيدالله بن عمرو
حدیث نمبر: 19059
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى صَدْرِهِ أَوْ بَطْنِهِ الْحَسَنُ أَوْ الْحُسَيْنُ ، قَالَ : فَرَأَيْتُ بَوْلَهُ أَسَارِيعَ ، فَقُمْنَا إِلَيْهِ ، فَقَالَ : " دَعُوا ابْنِي ، لَا تُفْزِعُوهُ حَتَّى يَقْضِيَ بَوْلَهُ " ثُمَّ أَتْبَعَهُ الْمَاءَ . ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ بَيْتَ تَمْرِ الصَّدَقَةِ ، وَدَخَلَ مَعَهُ الْغُلَامُ ، فَأَخَذَ تَمْرَةً ، فَجَعَلَهَا فِي فِيهِ ، فَاسْتَخْرَجَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لَنَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابولیلیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ (جوچھوٹے بچے تھے) گھٹنوں کے بل چلتے ہوئے آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ مبارک پر چڑھ گئے تھوڑی دیر بعد انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پیشاب کردیا ہم جلدی سے انہیں پکڑنے کے لئے آگے بڑھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بیٹے کو چھوڑ دو میرے بیٹے کو چھوڑ دو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر اس پر بہالیا، تھوڑی دیر بعد انہوں نے صدقہ کی ایک کھجور پکڑ کر منہ میں ڈال لی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے منہ میں ہاتھ ڈال کر اسے نکال لیا اور فرمایا ہمارے لئے صدقے کا مال حلال نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19059
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19060
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قال عبد الله : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى فِي الْمَسْجِدِ ، فَأُتِيَ بِرَجُلٍ ضَخْمٍ ، فَقَالَ : يَا أَبَا عِيسَى ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ فِي الْفِرَاءِ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَى رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُصَلِّي فِي الْفِرَاءِ ؟ قَالَ : " فَأَيْنَ الدِّبَاغُ ؟ " فَلَمَّا وَلَّى ، قُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : " هَذَا سُوَيْدُ بْنُ غَفَلَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
ثابت کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مسجد میں عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ان کے پاس ایک بھاری بھرکم آدمی کو لایا گیا اس نے کہا اے ابوعیسیٰ ! انہوں نے فرمایا جی جناب ! اس نے کہا کہ پوستین کے بارے میں آپ نے جو حدیث سنی ہے وہ ہمیں بتائیے انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے والد کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! کیا میں پوستین میں نماز پڑھ سکتا ہوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو دباغت کہاں جائے گی ؟ جب وہ چلا گیا تو میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19060
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، ابن أبى ليلى: وهو محمد بن عبدالرحمن ضعيف، وقد تفرد به، واختلف عليه فيه، ومن أوهامه أنه سمي الرجل الذى سأل النبى صلى الله عليه وسلم سويد بن غفلة، والصحيح أن سويدا تابعي كبير
حدیث نمبر: 19061
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَابِسٍ ، عَنْ أَبِي فَزَارَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَبِيهِ فِيمَا أَعْلَمُ شَكَّ مُوسَى ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَكَفَ فِي قُبَّةٍ مِنْ خُوصٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابولیلیٰرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کے پتوں سے بنائے ہوئے خیمے میں اعتکاف فرمایا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19061
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف على بن عابس
حدیث نمبر: 19062
قال عبد الله بن أحمد : حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَأَبُو مَعْمَرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ السَّمْتِيُّ ، قَالُوا : حدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَابِسٍ ، عَنْ أَبِي فَزَارَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَكَفَ فِي قُبَّةٍ مِنْ خُوصٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابولیلیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کے پتوں سے بنائے ہوئے خیمے میں اعتکاف فرمایا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19062
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف على بن عابس