حدیث نمبر: 19042
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أُخْبِرْتُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، حَدَّثَنِي مُرَقِّعُ بْنُ صَيْفِيٍّ التَّمِيمِيُّ ، شَهِدَ عَلَى جَدِّهِ رِيَاحِ بْنِ رُبَيِّعٍ الْحَنْظَلِيِّ الْكَاتِبِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت رباع بن ربیع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی غزوے کے لئے روانہ ہوئے۔۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ حضرت رباع بن ربیع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی غزوے کے لئے روانہ ہوئے۔۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ حضرت رباع بن ربیع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی غزوے کے لئے روانہ ہوئے اس کے مقدمۃ المدمۃ الجیش پر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ مامور تھے۔۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19042
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، ابن جريج لم يسمع من أبى الزناد
حدیث نمبر: 19043
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الْمُرَقِّعُ بْنُ صَيْفِيٍّ ، عَنْ جَدِّهِ رِيَاحِ بْنِ رُبَيِّعٍ أَخِي حَنْظَلَةَ الْكَاتِبِ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . .
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19043
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 19044
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُرَقِّعُ بْنُ صَيْفِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي جَدِّي رِيَاحُ بْنُ رُبَيِّعٍ أَخِي حَنْظَلَةَ الْكَاتِبِ ، أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ ، عَلَى مُقَدِّمَتِهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، فَذَكَرَ رِبَاحًا وَأَصحاْبَهُ , فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19044
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 19045
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ حَنْظَلَةَ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا الْجَنَّةَ وَالنَّارَ حَتَّى كَانَا رَأْيَ عَيْنٍ ، فَقُمْتُ إِلَى أَهْلِي فَضَحِكْتُ وَلَعِبْتُ مَعَ أَهْلِي وَوَلَدِي ، فَذَكَرْتُ مَا كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجْتُ ، فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا بَكْرٍ ، نَافَقَ حَنْظَلَةُ ، قَالَ : وَمَا ذَاكَ ذَاكَ ؟ قُلْتُ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا الْجَنَّةَ وَالنَّارَ حَتَّى كَانَا رَأْيَ عَيْنٍ ، فَذَهَبْتُ إِلَى أَهْلِي ، فَضَحِكْتُ وَلَعِبْتُ مَعَ وَلَدِي وَأَهْلِي ، فَقَالَ : إِنَّا لَنَفْعَلُ ذَاكَ ، قَالَ : فَذَهَبْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ : " يَا حَنْظَلَةُ ، لَوْ كُنْتُمْ تَكُونُونَ فِي بُيُوتِكُمْ كَمَا تَكُونُونَ عِنْدِي لَصَافَحَتْكُمْ الْمَلَائِكَةُ وَأَنْتُمْ عَلَى فُرُشِكُمْ وَبِالطُّرُقِ ، يَا حَنْظَلَةُ سَاعَةً وَسَاعَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے وہاں ہم جنت اور جہنم کا تذکرہ کرنے لگے اور ایسا محسوس ہوا کہ ہم انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں پھر جب میں اپنے اہل خانہ اور بچوں کے پاس آیا تو ہنسنے اور دل لگی کرنے لگا اچانک مجھے یاد آیا کہ ابھی ہم کیا تذکرہ کر رہے تھے ؟ چناچہ میں گھر سے نکل آیا راستے میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو میں کہنے لگا کہ میں تو منافق ہوگیا ہوں انہوں نے پوچھا کیا ہوا ؟ میں نے انہیں ساری بات بتائی انہوں نے فرمایا کہ یہ تو ہم بھی کرتے ہیں پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی کیفیت ذکر کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حنظلہ ! اگر تم ہمیشہ اسی کیفیت میں رہنے لگو جس کیفیت میں تم میرے پاس ہوتے ہو تو تمہارے بستروں اور راستوں میں فرشتے تم سے مصافحہ کرنے لگیں حنظلہ ! وقت وقت کی بات ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19045
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2750
حدیث نمبر: 19046
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ يَعْنِي الْقَطَّانَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ حَنْظَلَةَ الْأُسَيِّدِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا إِذَا كُنَّا عِنْدَكَ كُنَّا ، فَإِذَا فَارَقْنَاكَ كُنَّا عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ كُنْتُمْ تَكُونُونَ عَلَى الْحَالِ الَّذِي تَكُونُونَ عَلَيْهَا عِنْدِي لَصَافَحَتْكُمْ الْمَلَائِكَةُ ، وَلَأَظَلَّتْكُمْ بِأَجْنِحَتِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جب ہم آپ کے پاس ہوتے ہیں تو ہماری کیفیت کچھ ہوتی ہے اور جب آپ سے جدا ہوتے ہیں تو وہ کیفیت بدل جاتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر تم ہمیشہ اسی کیفیت میں رہنے لگو جس کیفیت میں تم میرے پاس ہوتے ہو تو تمہارے بستروں اور راستوں میں فرشتے تم سے مصافحہ کرنے لگیں اور وہ تم پر اپنے پروں سے سایہ کرنے لگیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 19046
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، عمران القطان ضعيف يعتبر به فى المتابعات والشواهد، وقد خولف، ويزيد بن عبد الله لم يسمع من حنظلة