حدیث نمبر: 18979
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ابْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ حُلَّتَانِ مِنْ حُلَلِ الْيَمَنِ ، فَقَالَ : " يَا ضَمْرَةُ ، أَتَرَى ثَوْبَيْكَ هَذَيْنِ مُدْخِلَيْكَ الْجَنَّةَ ؟ " فَقَالَ : لَئِنْ اسْتَغْفَرْتَ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا أَقْعُدُ حَتَّى أَنْزَعَهُمَا عَنِّي ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِضَمْرَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ " . فَانْطَلَقَ سَرِيعًا حَتَّى نَزَعَهُمَا عَنْهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ضمرہ بن ثعلبہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کی خدمت میں ایک مرتبہ حاضر ہوئے تو یمن کے دو حلے پہن رکھے تھے، نبی نے فرمایا ضمرہ، ! کیا تم سمجھتے ہو کہ تمہارے یہ کپڑے تمہیں جنت میں داخل کروا دیں گے ؟ عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر آپ میرے لئے استغفار کریں تو میں اس وقت تک نہیں بیٹھوں گا جب تک انہیں اتار نہ دوں، چناچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاء فرمادی کہ اے اللہ ! ضمرہ بن ثعلبہ کو معاف فرمادے، پھر وہ جلدی سے واپس چلے گئے اور انہیں اتار دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18979
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف بقية بن الوليد. يحيى بن جابر كثير الإرسال