حدیث نمبر: 18974
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي الْمُعَلِّمَ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، حَدَّثَنِي حَنْظَلَةُ بْنُ عَلِيٍّ ، أَنَّ مِحْجَنَ بْنَ الْأَدْرَعِ حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ ، فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ قَدْ قَضَى صَلَاتَهُ وَهُوَ يَتَشَهَّدُ ، وَهُوَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِاللَّهِ الْوَاحِدِ الْأَحَدِ الصَّمَدِ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ أَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي ، إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ، قَالَ : فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ غُفِرَ لَهُ ، قَدْ غُفِرَ لَهُ ، قَدْ غُفِرَ لَهُ " ثَلَاثَ مَرَّار .
مولانا ظفر اقبال
حضرت محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک آدمی ہے جو نماز مکمل کرچکا ہے اور تشہد میں یہ کہہ رہا ہے اے اللہ ! میں تجھ سے تیرے نام، اللہ، واحد، احد، صمد، جس کی کوئی اولاد نہیں اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ اس کا کوئی ہمسر ہے، کی برکت سے سوال کرتا ہوں کہ تو میرے گناہوں کو معاف فرمادے، بیشک تو بڑا بخشنے والا، نہایت مہربان ہے، نبی نے یہ سن کر تین مرتبہ فرمایا اس کے گناہ معاف ہوگئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18974
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18975
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ مِحْجَنِ بْنِ الْأَدْرَعِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ ، فَقَالَ : " يَوْمُ الْخَلَاصِ وَمَا يَوْمُ الْخَلَاصِ ، يَوْمُ الْخَلَاصِ وَمَا يَوْمُ الْخَلَاصِ " ، ثَلَاثًا ، فَقِيلَ لَهُ : وَمَا يَوْمُ الْخَلَاصِ ؟ قَالَ : " يَجِيءُ الدَّجَّالُ ، فَيَصْعَدُ أُحُدًا فَيَنْظُرُ الْمَدِينَةَ ، فَيَقُولُ لِأَصْحَابِهِ : أَتَرَوْنَ هَذَا الْقَصْرَ الْأَبْيَضَ ؟ هَذَا مَسْجِدُ أَحْمَدَ ، ثُمَّ يَأْتِي الْمَدِينَةَ فَيَجِدُ بِكُلِّ نَقْبٍ مِنْهَا مَلَكًا مُصْلِتًا ، فَيَأْتِي سَبْخَةَ الْحَرْفِ ، فَيَضْرِبُ رُوَاقَهُ ثُمَّ تَرْجُفُ الْمَدِينَةُ ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ ، فَلَا يَبْقَى مُنَافِقٌ وَلَا مُنَافِقَةٌ وَلَا فَاسِقٌ وَلَا فَاسِقَةٌ إِلَّا خَرَجَ إِلَيْهِ ، فَذَلِكَ يَوْمُ الْخَلَاصِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت محجن سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی نے خطبہ دیتے ہوئے تین مرتبہ فرمایا یوم الخلاص آنے والا ہے اور یوم الخلاص کیسا دن ہوگا، ؟ کسی نے پوچھا کہ یوم الخلاص سے کیا مراد ہے، نبی نے فرمایا دجال آکر احد پہاڑ پر چڑھ جائے گا اور مدینہ منورہ کی طرف دیکھ کر اپنے ساتھیوں سے کہے گا کیا تم یہ سفید محل دیکھ رہے ہو ؟ یہ احمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد ہے، پھر وہ جرف نامی جگہ پر پہنچ کر اپنا خیمہ لگائے گا اور مدینہ منورہ میں تین مرتبہ زلزلہ آئے گا، جس سے گھبرا کر مدینہ میں کوئی منافق اور فاسق مرد و عورت ایسا نہیں رہے گا جو دجال کے پاس نہ چلا جائے، وہ دن یوم الخلاص ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18975
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، عبدالله بن شقيق لم يسمع محجن بن الأدرع
حدیث نمبر: 18976
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ أَبِي رَجَاءٍ ، قَالَ : كَانَ بُرَيْدَةُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ ، فَمَرَّ مِحْجَنٌ عَلَيْهِ وَسُكْبَةُ يُصَلِّي ، فَقَالَ بُرَيْدَةُ وَكَانَ فِيهِ مُرَاحٌ لِمِحْجَنٍ : أَلَا تُصَلِّي كَمَا يُصَلِّي هَذَا ، فَقَالَ مِحْجَنٌ : إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِي ، فَصَعِدَ عَلَى أُحُدٍ ، فَأَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ ، فَقَالَ : " وَيْلُ أُمِّهَا قَرْيَةً يَدَعُهَا أَهْلُهَا خَيْرَ مَا تَكُونُ أَوْ كَأَخْيَرِ مَا تَكُونُ فَيَأْتِيهَا الدَّجَّالُ ، فَيَجِدُ عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِهَا مَلَكًا مُصْلِتًا جَنَاحَيْهِ فَلَا يَدْخُلُهَا " قَالَ : ثُمَّ نَزَلَ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِي ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ ، وَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ يُصَلِّي ، فَقَالَ لِي : " مَنْ هَذَا ؟ " فَأَثْنَيْتُ عَلَيْهِ خَيْرًا فَقَالَ : " اسْكُتْ لَا تُسْمِعْهُ فَتُهْلِكَهُ " قَالَ : ثُمَّ أَتَى حُجْرَةَ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ ، فَنَفَضَ يَدَهُ مِنْ يَدِي ، قَالَ : " إِنَّ خَيْرَ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ ، إِنَّ خَيْرَ دِينِكُمْ أَيْسُرُهُ " . .
مولانا ظفر اقبال
رجاء بن ابو رجاء کہتے ہیں کہ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ مسجد کے دروازے پر کھڑے تھے کہ وہاں سے حضرت محجن کا گذر ہوا، سکبہ نماز پڑھ رہے تھے، حضرت بریدہ جن کی طبیعت میں حس مزاح کا غلبہ تھا، حضرت محجن سے کہنے لگے کہ جس طرح یہ نماز پڑھ رہے ہیں تم کیوں نہیں پڑھ رہے ؟ انہوں نے کہا ایک مرتبہ نبی نے میرا ہاتھ پکڑا اور احد پہاڑ پر چڑھ گئے، پھر مدینہ منورہ کی طرف جھانک کر فرمایا ہائے افسوس ! اس بہترین شہر کو بہترین حالت میں چھوڑ کر یہاں رہنے والے چلے جائیں گے، پھر دجال یہاں آئے گا تو اس کے ہر دروازے پر ایک مسلح فرشتہ پہرہ دے رہا ہوگا، لہذا دجال اس شہر میں داخل نہیں ہوسکے گا، پھر نبی میرا ہاتھ پکڑے پکڑے نیچے اترے اور چلتے چلتے مسجد میں داخل ہوگئے، وہاں ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا، نبی نے مجھ سے پوچھا یہ کون ہے ؟ میں نے اس کی تعریف کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آہستہ بولو، اسے مت سناؤ، ورنہ تم اسے ہلاک کردو گے، پھر اپنی کسی زوجہ محترمہ کے حجرے کے قریب پہنچ کر میرا ہاتھ چھوڑ دیا اور دو مرتبہ فرمایا تمہارا سب سے بہترین دین وہ ہے جو سب سے زیادہ آسان ہو۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18976
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة رجاء بن أبى رجاء. وقوله: إن خير دينكم أيسره حسن لغيره
حدیث نمبر: 18977
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَقِيقٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ أَبِي رَجَاءٍ الْبَاهِلِيِّ ، عَنْ مِحْجَنٍ رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ، وَلَمْ يَقُلْ حَجَّاجٌ وَلَا أَبُو النَّضْرِ بِجَنَاحِهِ.
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18977
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة رجاء بن أبى رجاء